M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / خولہ احمد|ایک مکالمہ انتظار حسین کے بارے میں

خولہ احمد|ایک مکالمہ انتظار حسین کے بارے میں

91217389

۱ ۔ آپ انتطار حسین کو کیسے جانتے تھے؟

محمد حمید شاہد:اردو دنیا میں انتظار حسین کی قامت اتنی بلند ہے کہ وہ ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کی ہمیشہ نظر میں رہے ۔ مجھے طالب علمی کے زمانے سے انتظار حسین کی تحریروں کو پڑھنے کا موقع ملتا رہا،  اور جب ملاقاتیں ہونے لگیں، تب تک میں ان کے لگ بھگ سارے کام سے آگاہ ہو چکا تھا لہذا ان کی قدرو منزلت میری نگاہ میں تھی ۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ مجھے انتظار حسین سے بہت سی ملاقاتوں کے مواقع ملے ، ان سے مختلف مباحث میں شریک رہا ان سے کئی مقامات پر نہایت ادب اور عاجزی کے ساتھ اختلاف بھی کیا، جس کی تحریک اکثر انہی کی طرف سے ہوئی ۔ مجھے موقع ملا ہے کہ میں نے ان کے تخلیقی کام پر مضامین لکھے ، جو مختلف ادبی جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ میں جس تقریب میں بھی گفتگو کر رہا ہوتا اور انتظار حسین اس میں موجود ہوتے تو مجھے ہمیشہ یوں لگتا کہ وہ بہت توجہ سے ایک ایک لفظ سن رہے ہیں ۔ کئی سال پہلے کہ جب  افتخار عارف اکادمی ادبیات پاکستان کے صدر نشیں تھے ، اور انہوں نے اسلام آباد میں ایک بھرپور پروگرام انتظار حسین کے اعزاز میں رکھا تھا، پہلی مرتبہ مجھے ان کی موجودگی میں مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا ، ایک موقع آیا کہ مضمون کے مندرجات پر تقریب میں موجود فہمیدہ ریاض نے کھڑے ہوکر یوں اعتراض کیا جیسے احتجاج کر رہی ہوں مگر تقریب ختم ہونے کے بعد ، انتظار حسین بہت شفقت سے ملے جیسے ،جو میں نے کہا اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ وہ اختلاف بھی بہت سلیقے سے کرتے ۔ سچ پوچھیں تو ایک تہذیب کا عملی نمونہ تھے ۔ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں ادبی میلوں میں فکشن پر مباحث والے سیشنز میں مجھے کئی بار شریک گفتگو ہونے کا موقع ملا ، اور ہر بار سب سے خوب صورت جامع اور جچی تلی گفتگو انہوں نے ہی کی ۔ کچھ عرصہ پہلے لاہور میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام راجندر سنگھ بیدی کے حوالے سے صد سالہ تقریب منعقد ہوئی تو اس کی صدارت انتظار حسین نے کی، میں بھی اسلام آباد سے شرکت کے وہاں گیاتھا ۔ اس تقریب کے حوالے سے جو کالم انتظار حسین نے ایکسپریس میں لکھا ۔اس میں میرے حوالے سے ایک آدھ جملہ ایسا مزے لے لے کر لکھا تھا کہ میں اس کا مزہ زندگی بھر بھول نہ پائوں گا۔ وہ جملہ کچھ یوں تھا : ” ۔۔خیر سیکرٹری صاحب نے ہمارا خیر مقدم کیا ۔کرسی صدارت پر بٹھایا۔ برابر بیٹھے نظر آئے حمید شاہد، نئے افسانے کی آبرو۔” تو یوں ہے کہ اپنے سے بعد آنے والوں کو انہوں نے توجہ دی اور ماضی کے برسوں کو بھی یاد رکھا تو ایسی بلند قامت، اور تہذیبی شخصیت تھی ان کی ۔

۲۔وہ بطور تنقید نگار کیسے تھے اور بطور افسانہ نگار اور ناول نگار کیسے تھے؟

محمد حمید شاہد: ایک تخلیق کار کے طور پر ان کی شخصیت بہت مستحکم ہے ان کی تنقید اسی شخصیت کی چھائوں میں رہتی ہے ۔ ایک تخلیق کاراور وہ بھی افسانہ نگار اور ناول نگار کے طور پر وہ خود کو پیش کرتے تھے ، کسی گفتگو میں انہوں نے یہی کہہ بھی رکھا ہے۔ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ۵ ۱۹۳ میں یوپی کے ضلع بلند شہر کے گاؤں ڈبائی میں پیدا ہونے والے انتظارحسین کو تقسیم کے بعد ہجرت کرکے ادھر اٹھ آنا پڑا تھا ۔  ان کے خاندان والے ادھر تھے ، مگر تب حسن عسکری پاکستان آگئے تھے ، انتظار حسین ان کے پیغام ملنے پر لاہور آگئے ۔ جس عمر میں وہ ہجرت کے تجربے سے گزرے تھے اس عمر کا مشاہدہ اور تجربہ، یوں لگتا ہے بہت توانا اور گہرا تھا،کہ اس عہد کی یادیں بعد ازاں تخلیقی صورت میں ڈھلتے ہوئے کچھ اور اجلی ہو گئی تھیں ۔ تاہم انتظارحسین کا اپنے افسانوں اور ناولوں میں ماضی کی یاد سے وابستہ ہونا محض کہانی کہنے کے لیے مڑنا اور عقب سے بھاگتے ہوئے آکر اگلی سمت جست لگانا نہیں ہے۔ وہ پیچھے مڑ کر زمانے کے کسی خاص وصف کو دیکھتے ہیں ، اس خاص وصف کو جو نئے زمانے میں کہیں نہیں ہے ۔ انتظار حسین کے مطابق پرانے والے زمانے میں چیزوں کے رشتے مضبوط تھے اور زندگی خانوں میں بٹی ہوئی نہیں تھی ۔ اس زمانے میں پیٹ پالنے کا مشغلہ مشقت نہیں تھا اور تفریح کے اوقات کام کاج کے اوقات سے الگ نہیں تھے۔ وہاں کسی گھر میں املی یا نیم کا پیڑ تھا،کسی چھت پر کبوتروں کی چھتری تھی ، کہیں امام باڑہ تھا اور کوئی گھر خالی تھا کہ اس میں جن رہتے تھے ، یہ گھر، یہ محلے، یہ گلیاں ، یہ درخت سب زندہ انسانوں کی طرح سانس لیتے تھے ۔ اسی شہر کی سانسوں میں ایک تہذیب کروٹ لیتی تھی جو پیچھے جا کر الف لیلہ سے، مذہبی حکایات سے ، کربلا والوں سے اور اپنی زمین کی بھولی بسری کہانیوں سے جاکر مل جاتی تھی۔

اپنی تنقید میں بھی وہ اسی تہذیب کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں ۔جی میں’’آخری آدمی‘‘،’’زرد کتا‘‘ اور ’’شہر افسوس ‘‘ والی تہذیب کی بات کر رہاہوں ۔ انتظار حسین کو ۱۹۵۲ ء میں چھپنے والے افسانوں کے مجموعہ ’’گلی کوچے ‘‘ سے پڑھا جانا چاہیے اور پھر منزل بہ منزل ان افسانوں تک پہنچنا چاہیے جو انہیں اوروں سے مختلف اور ممتاز کر دیتے ہیں ۔ اور ان کی تنقید کو بھی انہی حوالوں سے دیکھا جانا چاہیے ۔

اچھا جس طرح کا افسانہ وہ لکھ رہے تھے ، اس تعبیر اردو افسانے کی اس روایت میں ممکن نہ تھی جس کی ہمارے ہاں پیروی کا چلن ہو چلا تھا۔ سو انہوں نے ایک تخلیقی شخص کی طرح اپنے تخلیقی عمل کو مسلسل بیان کیا۔  اچھا وہ محض چند کرداروں کی کہانیاں ہی نہیں لکھتے تھے ، اور اگر انسانوں کو ، پرندوں کو ، جانوروں کو گلیوں اور شہروں کو کردار بناتے تھے تویوں کہ ایک تہذیب کے نقش اجاگر ہوتے چلیں ۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس تہذیب کے وہ آخری آدمی تھے ، اس تہذیب کی کلی دانش ان کی تحریروں سے متشکل ہو جاتی ہے ، یہ تحریریں تنقیدی ہوں یا تخلیقی، حتی کہ وہ گفتگو بھی کر رہے ہوتے تو لگتا ایک تہذیبی دانش مکالمہ کرتی ہے۔

۳۔آپ کو وہ بطور تنقید نگار زیادہ پسند تھے یا بطور مصنف؟

محمد حمید شاہد: میں نے کہا نا کہ انہیں ایک تخلیق کار کی حیثیت سے بہت اونچا مقام دیتا ہوں ، میں کیا دیے سکتا ہوں ،وہ تھے ہی اس حوالے سے سب سے الگ اور نمایاں ۔ اتنے نمایاں اور الگ کہ ان کی باقی حثیتیں اسی حوالے سے دیکھی جاتی ہیں ۔ تاہم انتظار حسین کے پاس جو بات کہنے کا سلیقہ تھا ، گفتگو کی جو تہذیب تھی ، وہ تنقید ہو یا یاد نگاری اور کالم نگاری ، ہر کہیں جادو جگاتی تھی۔ یہ جادو ایسا ہے کہ آپ ان کی کوئی بھی تحریر پڑھ رہے ہوں وہ آپ کو اسیر کر لیتی ہے۔

اچھا ، یاد آتا ہے ، جب انتظار حسین نے سماعی روایت  اور افسانے کے حوالے سے ایک مضمون لکھا تو اس میں دیکھتے الائو اور اس کے اردگرد گہری راتوں میں مجلس جماتے لوگوں کو یاد کیا جو کہانی کہا کرتے تھے ،قدیم زمانے سے یہ سنی سنائی جانے والی کہانی انتظار حسین کے مطابق ان کی نانی اماں تک آپہنچتی ہے اور انتظارحسین اسے بالکل اپنے ڈھنگ سے برتنے لگتے ہیں  اور اپنے تخلیقی عمل کو سجھانے کے لیے مغرب سے لی گئی روایت کی بہ جائے ، اسی اپنی زمین کی روایت سے اس کا رشتہ جوڑتے ہیں ۔ مجھے یاد ہے ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ افسانہ لکھنے لگے تومنٹو ، کرشن چندر ،راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی جیسے معروف لکھنے والے لکھ رہے تھے۔ قیوما سے آخری آدمی تک ، اور پھر نئی پرانی کہانیاں تک انتظار حسین مختلف منازل سے گزرے ہیں اور ان کا یہ سفر محض اور صرف ماضی میں نہیں ہے ، آپ کہہ سکتے ہیں کہ بظاہر وہ لمحہ موجود کو لائق اعتنا نہیں سمجھتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ جب تک واقعہ پرانا نہیں ہوتا اس کی تخلیقی جہتیں بھی سامنے نہیں آتیں تاہم ایسا نہیں ہے کہ حال کا رواں وقت ان کی تحریر سے نئی تعبیر بھی نہیں پاتا تھا ، بلکہ میں کہوں گا کہ وہ ماضی لکھتے ہوئے حال کو مستقبل کے آئینے کے مقابل کر لیا کرتے تھے یو ں کہ موجود کے منظر نامے میں کہانی کا وجود اکتشافات کی جادوئی تختی ہو جایا کرتا تھا ۔

۴۔ انکی کوئی خاص بات یا انکے ساتھ گزارا ہوا کوئی لمحہ  جو آپ کو یاد ہو؟

محمد حمید شاہد: اب وہ نہیں رہے تو ایک ایک لمحہ جو ان کے ساتھ گزرا یاد آتا ہے ۔ کراچی کی آرٹس کونسل کی عالمی اردو کانفرنس کے منتظمین نے ہمیں بیچ لیگزری ہوٹل میں ٹھہرایا تھا ۔ کھلے میں سمندر بیچ ناشتے کا اہتمام ہوتا اور وہاں تک چل کر جانا ہوتا ۔ انتظار حسین کا کچھ عرصہ پہلے گرنے سے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ، وہ جڑ گئی ، مگر ڈاکٹر کے کہنے پر وہ ہاتھ میں لاٹھی رکھتے اور اسے ٹیک کر چلنے لگے تھے ، میں اور شمیم حنفی ناشتہ کرکے واپس آرہے تھے ، اونچی نیچی جگہوں پر میرا ہاتھ تھا م لیتے اور احتیاط سے قدم آگے بڑھاتے ، ایک بار ٹانگ میں لچک سی آئی وہ لڑکھڑائے ، میرا سہارا لیا اور سنبھل کر کھڑے ہو گئے ۔ میں نے  تشویش سے انہیں دیکھا ، مگر وہ مسکرا دیے ، کہا ذرا فاصلہ زیادہ ہے نا، شاید اس لیے ایسا ہوا ہے ۔ اس عمر میں اتنا حوصلہ ، سچ پوچھیں تو مجھے ان کے حوصلے پر رشک آیا تھا ۔ زندگی کے آخری برسوں میں انہیں ملک کے اندر اور باہر تقاریب میں شرکت کرنا ہوتی ،کراچی لاہور، اسلام آباد میں مجھے بھی کئی تقاریب اور ادبی میلوں میں ان کے ساتھ رہنے گفتگو کرنے ، ڈائیلاگ میں شریک ہونے کا موقع ملتا رہا ، جس جوش جذبے سے وہ ان میں شریک رہتے ، اس سے ادب سے ان کی محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اچھا وہ زندگی سے بھی بہت محبت کرتے تھے ،زندگی سے اور زندگی کے مظاہر سے بھی ۔  ہاں یاد آتا ہے ، اسی روز ناشتے سے پہلے، وہ سمندر کے اوپر اڑنے والے پرندوں کو دیکھ رہے تھے ، ناشتہ آیا تو اس میں سے ایک توش اٹھایا، اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا ، اپنی کرسی سے اٹھے ، اورآسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سمندر میں پھینکنے لگے ، پرندے فضا میں جیسے ٹھہر سے گئے تھے اور پھر یوں اترےجیسے انہوں نے فضا میں غوطہ لگادیا ہو۔ وہ اپنی خوراک پاکر خوش تھے اور انتظار حسین انہیں چوگا ڈال کر کسی معصوم بچے کی طرح خوش ہو رہے تھے ۔ دور تک نیلے پانی کی لہریں لیتی چادر ، اوپر صاف نیلا آسمان  ، اوپر سے پرندوں کا اترنا اور انتظار حسین کے چہرے پر ایک معصوم مسکراہٹ ، اس منظر کو بھلا کون کافر بھول سکتا ہے، اب بھی ،انہیں یاد کرتے ہوئے آنکھوں میں آنسو اور یہی منظر تیر رہا ہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

معاصر اردو افسانہ:حرف کدہ میں محمد حمید شاہد سے مکالمہ

23 اکتوبر 2017 کی شام حرف کدہ راولپنڈی میں محمد حمید شاہد سے معاصر اردو …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *