M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات-مقالہ:ایم فل اردو |منظور احمد

محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات-مقالہ:ایم فل اردو |منظور احمد

منظور احمد
مقالہ نگار

مقالہ نگار: منظور احمد (علوی)

نگران مقالہ: ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد

سال 2015ء

فہرست ابواب

باب اوّل: سوانح و تخلیقی سفر
باب دوم: محمد حمید شاہد بطور افسانہ نگار
باب سوم: محمدحمید شاہد بطور ناول نگار
باب چہارم: محمدحمید شاہد بطور نقاد
باب پنجم: محمدحمیدشاہد کی دیگر ادبی جہات
۔ کتابیات


 

منظور احمد کے مقالہ کا پیش لفظ
IMG_20160509_210919———————————————

محمد حمید شاہد عصرِحاضرکے افسانہ نگاروں میں ممتاز اور منفرد نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اپنی انفرادیت سے قاری کے لئے زندگی کی تلخ حقیقتوں سے آشنائی کے راستے ہموار کئے ہیں۔ ان کے پاس اظہار کا سلیقہ بھی ہے اور اظہار کو موثر بنانے کے لئے خداداد ہنر بھی۔ اس بند کی بدولت افسانہ نگار اور قاری میں ایک مضبوط تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ محمد حمید شاہد کے افسانوں میں احساس بنیادی قوت کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی قوت کی بدولت وہ افسانے کو قاری کی حسیات کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ ان کا افسانہ اپنی زمین سے جڑا ہوا اور دیہی دانش سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیبی روایت کا آئینہ دار ہے۔ ان کی دلآویز اور انتہائی موثر نثر قاری کو افسانے کے آغاز سے اختتام تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ انھوں نے خالص تخلیقی رویے سے اپنے افسانے کو دوسروں سے ممتاز اور الگ کیا ہے ۔ ان کے افسانوں میں شہری اور دیہاتی زندگی کے تہذیبی اثرات نمایاں ہیں۔ وہ ہر رنگ کی کہانی لکھتے ہیں اور ان کی کہانیاں زمین سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں تہذیب ، ثقافت اور اقدار کا گہرا رنگ نظر آتا ہے ۔انھوں نے اپنے افسانوں میں نفسیاتی حقائق کو خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ان کے ہاں افسانہ لکھنا ایک باطنی تجربہ ہے۔یہ تجربہ ان کے باطن سے ظاہر کی طرف سفر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح ایک شعر یا مصرعہ یا کوئی نظم کسی شاعر کے اندر سے پھوٹتی ہے اور قرطاس پر اترتی ہے اسی طرح ان کی کہانی ان کے اندر سے جنم لیتی ہے۔ ان کے ہاں تخلیقی عمل کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور اسی میں ان کی انفرادیت ہے۔’’ بند آنکھوں سے پرے‘‘، ’’ جنم جہنم ‘‘ ، ’’ مرگ زار‘‘ اور ’’ آدمی‘‘ کے نام سے ان کے افسانوں کے اب تک چار مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔’’ مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ کے نام سے ایک ناول بھی منصہ شہود پر آ چکا ہے۔
محمد حمید شاہد پاکستان کے اہم افسانہ نگار کے طور پر شناخت رکھنے کے ساتھ ساتھ فکشن کے منفرد اور نمایاں ناقدین میں بھی شمار ہوتے ہیں۔وہ فکشن کو اپنے نقطۂ نظر اور تخلیقی زاویے سے پرکھنے کے لیے اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔ تنقید پر ان کی کئی کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ اردو فکشن کے حوالے سے منفرد اسلوب کی حامل تنقید بھی ان کی پہچان کا معتبر حوالہ ہے۔ ان کی تنقید کا ایک جدا گانہ اسلوب ہے جس میں بیک وقت تاثراتی اور مکالماتی اسلوبِ بیان کو بڑے اہتمام کے ساتھ برتا گیا ہے۔ محمد حمید شاہد نے اردو افسانے کی تشکیل ، عناصرِ ترکیبی ، اسلوب ، ہیئت ، افسانے کے بدلتے خد و خال اور افسانے کی روایت کے نظری اور معروضی جائزے کو ناقدانہ بصیرت کے ساتھ احاطۂ تحریر میں لانے کا جتن کیا ہے۔ محمد حمید شاہد کا تنقیدی اسلوبِ بیاں بھی تخلیقی عمل کا پرتو دکھائی دیتا ہے۔ ان کی زبان بھی سلیس اور رواں صورت میں سامنے آتی ہے۔ ان کی تنقیدی کاوش کا نمایاں وصف یہ ہے کہ انھوں نے اردو افسانے ، افسانے کی تنقید اور افسانہ نگار کی تخلیق کو نئے زاویے سے پرکھنے کا جتن کیا ہے اور کچھ نئے سوالات ناقدین کے سامنے رکھے ہیں جو ان کی تنقیدی بصارت کا ثبوت ہیں۔ محمد حمید شاہد غیر جانب دار رہتے ہوئے اور متاثر ہوئے بغیر فکشن اور فکشن کی تنقید کو نئے زاویے سے دیکھنے کی جرأت کرتے ہیں اس لیے ان کی تنقید میں فکشن کی نئی تعبیرات، نئے استفسارات اور نئے مباحث ملتے ہیں جو ان کے منفرد نقطۂ نظر کو نمایاں کرتے ہیں۔
محمد حمید شاہد فکشن اور شاعری کی تنقید میں متن کے ذریعے تخلیقی مراحل پر غور کرنے کے زیادہ قائل ہیں اور یہ رویہ ان کی تنقید میں واضح نظر آتا ہے۔ ان کی تنقید اصنافِ ادب پر ان کی گہری نظر کی عکاس ہے۔ ان کے تنقیدی مضامین سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ فکشن اور شاعری کو کتنی سنجیدگی سے اور تخلیقی سطح پر پرکھتے ہیں۔ ان کی تنقید کا انداز جدید عصری تقاضوں کے مطابق ہے۔اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی تنقید نئی تعبیروں اور امکانات کے در وا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ’’ اردو افسانہ، صورت و معنیٰ‘‘، ’’ کہانی اور یوسا سے معاملہ‘‘سعادت حسن منٹو: جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘ اور ’’ راشد۔ میرا جی۔ فیض: نایاب ہیں ہم‘‘ان کے تنقیدی مضامین پر مبنی کتابیں ہیں۔ان کی دیگر ادبی جہات میں مزاح نگاری،سیرت نگاری، تراجم اور شاعری بھی شامل ہیں۔ محمد حمید شاہد عصرِ حاضر کے وہ اہم ادیب ہیں جو اپنی الگ شناخت اور پہچان رکھتے ہیں ۔ افسانوی نثر اور تنقید میں ان کی خدمات قابلِ قدر اور ناقابلِ فراموش ہیں۔ان کی ادبی خدمات اس امر کی متقاضی تھیں کہ ان کا احاطہ کر کے ان کے ادبی مقام کا تعین کیا جائے۔’’ محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات‘‘ کے عنوان سے معنون زیرِ نظر مقالہ ان کی انھی ادبی خدمات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس مقالے کو درج ذیل پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے:
اول: سوانح اور تخلیقی سفر
دوم: محمد حمید شاہد، بطور افسانہ نگار
سوم: محمد حمید شاہد، بطور ناول نگار
چہارم: محمد حمید شاہد، بطور نقاد
پنجم: محمد حمید شاہد کی دیگر ادبی جہات
پہلے باب میں محمد حمید شاہد کے حالاتِ زندگی کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے تخلیقی سفر کے آغاز اور ارتقا ء کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں جدید اردو افسانے کے ارتقائی سفر کے ذکر کے بعد محمد حمید شاہد کی افسانہ نگاری کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے افسانوی مجموعوں ’’ بند آنکھوں سے پرے‘‘، ’’ جنم جہنم‘‘ ، ’’ مرگ زار‘‘ اور ’’ آدمی‘‘ کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس باب میں ان کے افسانوں کے موضوعات کو زیرِ بحث لانے کے ساتھ ساتھ فنی مباحث کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ باب سوم میں جدید ناول نگاری کے اجمالی جائزے کے بعد محمد حمید شاہد کی ناول نگاری کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے ناول ’’ مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ کے موضوع، اسلوب اور کرداروں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ باب چہارم میں محمد حمید شاہد کے تنقیدی مضامین کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس باب میں ان کی فکشن کی تنقید کے نظری مباحث، نظم کے تنقیدی مباحث اور غزل کے تنقیدی مباحث کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔پانچویں باب میں ان کی دیگر ادبی جہات پر بحث کی گئی ہے جن میں سیرت نگاری، شاعری، تراجم اور طنز و مزاح پر مبنی کام کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔
اللہ جل شانہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس نے نبی رحمت ﷺ کے صدقے مجھ ناچیز کو مقالہ ہذا کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائی۔جب میں اتنے وسیع موضوع کو سمیٹنے سے عاجز آ گیا تھا تومیرے کریم رب کے کرم نے ہی میرے دستِ ناتواں کو قوت عطا فرمائی تھی۔اللہ رب العزت کی عطا کردہ توفیق اور سرکارِ دو عالم ﷺ کے کرم کے بعد میرے والدین کی دعائیں مجھ پرہمیشہ سایہ فگن رہیں اور قدم قدم پر میری دست گیری کرتی رہیں۔ میں استادِ محترم ڈاکٹر عبد العزیز ساحرؔ صاحب کاتہ دل سے شکر گزار ہوں جنھوں نے ہمیشہ شفقت فرمائی اور اپنے محبت بھرے لہجے میں میری حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے شفیق استادِ محترم ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد ؔ صاحب کا شکر گزار ہوں جنھوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی فرمائی اور میری کوتاہیوں پر در گزر فرماتے رہے۔ ان کا دستِ شفقت اگر میرے سر پر نہ ہوتا تو یہ سب میرے بس میں کب تھا۔ مجھے محترم محمد حمید شاہد صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے کہ جن کی انتہائی مصروفیات میں بار بار مخل ہوتا رہا لیکن ان کی جبیں کبھی شکن آلود نہ ہوئی اور میری ضرورت کی ہر کتاب میرے حوالے کر کے میرے لیے سہولت پیدا کی۔ میں بھائی محبوب عالم کا شکریہ ادا کرناکیسے بھول سکتا ہوں کہ جن کی محبتوں نے مجھے کبھی بھی مقالے کے حوالے سے فکر مند نہ ہونے دیا اور ہمیشہ رہنمائی کرتے رہے۔ میں پنجاب کالج کے سینئر وائس پرنسپل سر معین الدین صاحب کابھی شکر گزار ہوں جنھوں نے ایم فل کے دوران میں قدم قدم پر میرے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ میں نواز شاہد صاحب، عامر آتش صاحب ، عامر ابراہیم صاحب اور دیگر احباب کا بھی احسان مند ہوں کہ وہ ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے رہے ۔آخر میں مجھے اپنی اہلیہ اور بچوں کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے کہ ان کے حصے کا وقت بھی میں نے اس کام کو دیا اور انھوں نے نہ صرف میرا ساتھ دیا بلکہ ہمت بھی بندھاتے رہے۔
                                                                                                                                                                                          منظور احمد

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *