M. Hameed Shahid
Home / کتابیں / محمد کا مران شہزاد|فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب

محمد کا مران شہزاد|فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب

12573769_10207421334903954_8830372212082460322_n
Fiction Aur Tanqeed Ka Taza Asloob

کتاب : فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب
مصنف : محمدکامران شہزاد
صفحات: 352
قیمت : 600روپے

ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد

0412643841, 0412615359, 03006668284

سٹاکسٹ: مثال کتاب گھر

03157830996


مافی الضمیر کے اظہار کی ہر دو صورتوں ؛ تخلیق اور تنقید کا بہ یک وقت رمزشناس ہونا، کارِ دشوار ہے۔ بہت کم ادیب ایسے ہیں جو دونوں اہداف پر درست درست نشانے باندھ سکیں ۔ کچھ کے ہاں اگر زبان کا چٹخارہ حاوی رہا تو کچھ کے ہاں زبان کا ورتارا۔ محمدحسن عسکری ،ممتاز شیریں ، عزیز احمد، شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر سلیم اختر ،علی عباس حسینی ،ڈاکٹر اعجاز راہی، ڈاکٹر انیس ناگی، ڈاکٹر انوار احمداور ڈاکٹر مرزا حامد بیگ وغیرہ نے فِکشن میں تخلیقی تجربات کرنے کے ساتھ فِکشن کی تنقید کو بھی ثروت مند بنایا ۔محمدحمید شاہد کا نام بھی اس روایت کا سنگِ میل ہے ، انھوں نے فِکشن میں جدیدعصری حسیت کو اسلوب کے جدید رجحانات سے آشنا کیا۔ انھوں نے جہاں پیچیدہ سماج وسامراج کے پیچیدہ مسائل اور ہتھکنڈوں کو سادہ بیانیے اور جدید تکنیکوں کے روپ میں آسان بنایا، وہاں فِکشن کی تنقید کو کلیشے اور تقلیدی رویوں سے آزاد بھی کیا۔ شاعری کی تنقید میں نظم کے شعرا کا اختصاصی مطالعہ بھی ان کی پہچان بن چکا ہے
محمد کامران شہزاد کی کتاب ’’فکشن اور تنقید کاتازہ اسلوب‘‘ اکیسویں صدی کے افسانے ، افسانے ، ناول اور شاعری کی تنقید کے تناظر میں محمد حمید شاہد کی تخلیقی شخصیت اور تنقید ی بصیرت کے ساتھ عصری شعور کی دریافت کا عمدہ مطالعہ ہے ۔ یہ کتاب محض ایک فِکشن نگار اور نقاد کی تحسین کا ماڈل اور جامعاتی تحقیق کا روایتی مقالہ نہیں بلکہ افسانہ و ناول کے نئے اسالیب و رجحانات ،تنقیدی نظریہ سازی اورعملی اطلاق کے ساتھ فِکشن کے منفرد اور انوکھے اطوار کی تفہیم کا بھی و سیلہ ہے ۔
نسیم عباس احمرؔ                                                                                                                                                                                     
لیکچر ار شعبہ اُردو
یونی ورسٹی آف سرگودھا

|

|

تبصرہ :اقبال خورشید:ایکسپریس یکم مئی 2016

فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب

ااا

مصنف: محمد کامران شہزاد

صفحات: 351، قیمت: 600روپے

ناشر: مثال، فیصل آباد

شاعروں اور ادیبوں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے لکھنا احسن اقدام، مگر المیہ یہ کہ ان کی بڑی تعداد سطحی ہوتی ہے۔ معیار کم ہی نظر آتا ہے۔ اکثر مقالے تو تحقیق کے بنیادی اصولوں پر بھی پورے نہیں اترے۔ ہاں، اگر مقالہ نگار محمد کامران شہزاد جیسا نوجوان ہو، تو زیر تبصرہ کتاب جیسی کاوش سامنے آتی ہے۔

’’فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب‘‘ میں انھوں نے عہد حاضر کے معروف ادیب اور نقاد، محمد حمید شاہد کی تخلیقی و تنقیدی جہات کا تجزیاتی مطالعہ کیا ہے، اور خوب کیا ہے۔ اس سے قبل سے بھی حمید صاحب پر تحقیقی مقالہ لکھا گیا، مگر وہ ذرا محدود تھا۔

یہ کامران کے ایم فل کا مقالہ۔ موضوع انھیں یونیورسٹی آف سرگودھا سے منسلک، نسیم عباس احمر نے تجویز کیا۔ فلیپ بھی انھوں نے ہی لکھا۔ ان کے اپنے الفاظ میں: ’’یہ کتاب محض ایک فکشن نگار اور نقاد کی تحسین کا ماڈل اور جامعاتی تحقیقی کا روایتی مقالہ نہیں، بلکہ افسانہ و ناول کے نئے اسالیب و رجحانات، تنقیدی نظریہ سازی اور عملی اطلاق کے ساتھ فکشن کے منفرد اور انوکھے اطوار کی تفہیم کا بھی وسیلہ ہے۔‘‘

عام طور سے ادبی شخصیات پر لکھے مقالے فقط معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ایسے مقالے کم ہی نظر سے گزرتے ہیں، جو ادبیت کے حامل ہوں، موضوع کا جامع تجزیہ کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ایسا ہی مقالہ ہے۔ نقاد کی تنقیدی فکر ترقی پسندانہ ہے، مگر اس نے جدید اوزاروں سے بھی استفادہ کیا۔ محمد حمید شاہدکو ایسے فکشن نگار کے طور پیش کیا، جس نے عہد حاضر کے موضوعات کو جدید رجحانات کے مطابق پیش کیا۔ ساتھ ہی تنقید میں مروجہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے روایتی پسندی کے بجائے اپنے اصول وضع کیے۔ کامران کی یہ تصنیف یوں اہم کہ یہ حمید شاہد کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ کتاب اچھے ڈھب پر، سیلقے سے شایع کی گئی ہے۔

www.express.pk

Nawa i Waqat Rawalpindi 18.05.2016
Nawa i Waqat Rawalpindi 18.05.2016

www.nawaiwaqt.com.pk

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

پاکستانی ادب(نثر)-2002

مرتبط

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *