M. Hameed Shahid
Home / حدیث دیگراں / افتخار عارف|محمد حمید شاہد کا ناول مٹی آدم کھاتی ہے

افتخار عارف|محمد حمید شاہد کا ناول مٹی آدم کھاتی ہے

ifhtikhar-arif-1

تقریب اجرا۔۔۔”مٹی آدم کھاتی ہے”|ناول:محمد حمید شاہد

میزبان ، اہتمام : افتخار عارف

مقام : اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد

مورخہ: 17 مارچ 2003

 

افتخار عارف :

یہ تقریب مٹی آدم کھاتی ہے کی تقسیم کے حوالے سے ہے ۔عام طور پر تقاریب کا اہتمام تعارف اور تقسیم کے لیے ہوتا ہے اور دوستوں تک کتابیں پہنچائی جاتی ہے- جب حمید نے یہ کتاب مجھے دی تو میں نے ان سے گزارش کی تھی ، کہ میری ذاتی رائے ہے کہ اس کتاب کو مناسب طریقے سے تقسیم کیا جانا چاہئے اور ایک ساتھ سب دوستوں تک پہنچنا چاہیے، تو جن دوستوں تک یہ کتاب اب تک نہ پہنچی ہو اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے کہ میں نے ان کو روک رکھا تھا ۔ پھر دو تین بزرگ رخصت ہوئے اور اس کی تقسیم میں تاخیر ہوئی۔

یہ بہت خوشی کی بات ہے اور اچھی کتاب کو سیلی بریٹ کیا جانا چاہیے، اور اسی لیے ہم یہاں موجود ہیں ۔ ہمارے محترم اور ہمارے کرم فرما پروفیسر فتح محمد ملک صاحب یہاں تشریف فرما ہیں۔

جو آج کی اس غیر رسمی تقریب کی باضابطہ صدارت کریں گے۔ ہمارے ملک کا بڑا نام ،فکشن کے حوالے سے، منشایاد صاحب اظہار خیال فرمائیں گے ۔

2

حمیدشاہد کے افسانے آپ کی نظر سے گزرے، پھر افسانے اورفکشن کے سلسلے میں ان کو جو تنقیدی کتاب آئی اس پر بہت گفتگو ہوئی،ان کے افسانوں پر بہت گفتگو ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو ہمارے۔۔۔اب ان کو نیا لکھنے والا بھی نہیں کہنا چاہیئے کہ آخر کب تک یہ نئے رہیں گے، کسی وقت تو انہیں بڑا ماننا ہوگا ، اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرتی ہے ۔اس پر اصل میں دو ایک باتیں کہنے کی ہیں ۔ شہر سے باہر تو یہ کتاب انہوں نے بھجوا دی تھی۔ جو کالم اس پر چھپے وہ آپ نے دیکھے ہوں گے۔اس میں دو چار باتیں شمس الرحمن(فاروقی) کے حوالے سے ہوئی ہیں ، آصف(فرخی)نے کیں ،ابرار(احمد)نے اچھا مضمون لکھا ہے۔اصل میں ، میں نے پہلے بھی شاید کسی وقت بات کی تھی کہ 80 کی دہائی میں ایک کتاب دیکھی تھی ہولوکاسٹ ایکسپیرنس اینڈ فائن آرٹس ، ساڑھے آٹھ سو صفحے کی کتاب تھی، جس میں انہوں نے ایک تھیسسز ڈیولپ کیا تھا ۔ کہ کیا ایک واقعہ ، تاریخ کا ایک سبق، ایک باب کس حد تک فنون لطیفہ کو متاثر کرتا ہے اس میں پھر انہوں نے تردید کی تھی کہ ہولو کاسٹ کا جو واقعہ تھا یہودیوں کی کانسنٹریشن کیمپ کا،اس نے کتنے فکشن پر اثرات مرتب کیے ، کتنے شاعری پر اثرات مرتب کیے، کتنی فلمیں اس حوالے سے بنیں کتنے ڈرامے لکھے گئے۔ فائن آرٹس میں جو اور شعبے ہیں ان میں کیا کیا اثرات مرتب ہوئے۔ تو مجھے یاد ہے کہ میں نےاس زمانے میں بی بی سی سے ایک پروگرام کرتا تھا ، میں نے اس میں کہا کہ ہماری تاریخ میں جو واقعات ہوئے اس پر رد عمل کس کس طرح کا آیا۔ بلاشبہ قیام پاکستان سے لے کر اور آج تک جو ہمارے بڑے تاریخی واقعات ہوئے ان کے ردعمل سامنے آئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اتنے تسلی بخش نہیں کہے جاسکتے جتنا کام ہونا چاہیئے تھا۔ قیام پاکستان اور تقسیم پاکستان کے مرحلے میں فسادات پر جو کچھ لکھا گیا اس میں بھی معیار کے حوالے سے نسبتاًاور واقعات کے حوالے سے زیادہ لکھا گیا۔ مگر آپ جنہیں کہیں خالصتا،اس میں ترقی پسند تحریک کے حوالے سے خالص طرح کی تحریریں تو سامنے آئیں مگر قیام پاکستان کے حوالے سے جیسی معیار کی چیزیں جتنی تعداد میں آنی چاہئیں تھی وہ دیکھنے میں نہیں آئیں ۔یہ بھی کہا گیا کہ یہ بہت جلدی ہے، جلدی میں اس پر صحافتی اظہار تو ہو سکتا ہے مگر تخلیقی سطح پرکام شاید ابھی ہونا ہے ۔ انیس سو پینسٹھ کا واقعہ ہوا اور اس پر لکھا گیا وقتی طور پر ابلاغ عامہ کی ضرورتوں کے تحت اور تخلیقی سطح پر نغمے افسانے آئے ضرور ، مگر وہ کتنے آئے وہ آپ سب جانتے ہیں اور کتنے ہیں جو ادب کا حصہ بن سکے ہیں یہ بھی دیکھنے کی بات ہے ۔  سقوط مشرقی پاکستان بھی ایک ہماری تاریخ کا، صرف برصغیر کی تاریخ کا نہیں، مسلمانوں کی تاریخ کا ہی نہیں، اسلامی تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے، اس میں بہت سی تحریریں آتی رہیں اور ہمارے ہاں بھی شعر میں بھی اور فکشن میں بھی لکھا گیامگر سچی بات یہ ہے کہ مستثنیات تو ہیں مگر اس بات کی ضرورت تھی کہ اس کو پوری طرح سے سمیٹتے ہو ئے لکھا جاتا انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں وہ تحریریں ، جن میں مشرقی پاکستان کے حوالے سے ، خاص طور پر نثر میں لکھی گئی تحریریں ہیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ میٹریل بھی اویلیبل نہیں ہے ، ہمارے ہاں جو ایک خاص نقطہ نظر سے مشرقی پاکستان میں لکھا گیا ، وہ میٹریل بھی اویلیبل نہیں ہے جو ہندوستان میں لکھا گیا ہمارے ہاں جس نقطہ نظر سے لکھا گیا اس میں بھی یک رُخا پن بہت پاورفل ہو جاتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے سب غلطی کسی ایک طرف کی تھی ۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ کوئی ایک، کسی ایک شخص کو یا کسی واحد ملک کو، گروہ کو اس کا ذمہ دار شاید نہ قرار دیا جاسکے اس میں سبھی لوگ ذمہ دار ہیں۔ اس میں ہندوستان کا بھی اتنا ہی رول ہے ، بین الاقوامی بڑی طاقتوں کا بھی رول ہے،اس میں بنگلہ دیش کی علیحدگی پسند ،جو تحریکیں تھیں،ان کا بھی رول ہے ۔ کچھ ان کی قوم کا، جو ہم نے ان کے ساتھ کیا ، اس کا بھی رول ہے، ہم سے مراد ہمارے ارباب حل و عقد نے جو غلطیاں کیں، بے تحاشہ لغزشیں ہوئیں اس کا بھی رول ہے، مجموعی طور پر جتنی چیزیں آتی ہیں ، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،اس لیے کہ ہرشخص اپنے نقطہ نظر سے لکھتا ہے اور   صورتحال سے گویا کوئی شکل بن پاتی ہے ۔

3

کوئی شخص چاہے بھی کہ وہ اپنی مٹی سے آزاد ہوکر زندگی گزار سکے ، گزارنا چاہے بھی ، وہ کامیاب نہیں ہوگا ۔ اور اینگزائٹی، ڈپریشن،فرسٹریشن ، یہ وہ سارے خمیازے ہیں جو اپنی مٹی سے باہر رہنے کے یا جدا رہنے کے ہوتے ہیں ۔ اس نقطہ نظر سے بھی اس کتاب کو دیکھا جانا چاہیئے۔ پھر جو بات انہوں نے خلق خدا کے حوالے سے اور خلق خدا سے مٹی کے رابطے کے حوالے سے کی ہے کہیں ان میں ان کے اپنے نظریات متصادم تو نہیں ہیں ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس نظریے کو ہم پیش کرنا چاہتے ہیں ، اسی کے بطن میں یا اس کے ساتھ ساتھ ایک رو ایسی ہوتی ہے کہ جو بہت خط باریک سا ہوتا ہے، مجھے اس میں کہیں کہیں وہ نظرآتا ہے۔ سب سے بڑی بات ، جو شاہد کی، اگر کوئی تحریر چھوٹی ہو ، بڑی ہو کسی پڑھنے والے کو سوچنے پر مجبور کر دے، اس کی قدر کی جانی چاہیئے ، اسے سنجیدگی سے پڑھا جانا چاہیئے ۔ میں شاہد کو اس کتاب پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *