M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|ضیا جالندھری کی ایک اہم نظم :بڑا شہر

محمد حمید شاہد|ضیا جالندھری کی ایک اہم نظم :بڑا شہر

جنگ کراچی
جنگ کراچی

مجھے ضیا جالندھری کی معروف نظم ’’بڑا شہر‘‘ پر بات کرنی ہے مگر نہ جانے کیوں رہ رہ اُن کی ایک نظم ’’انجام ‘‘ یاد آتی ہے۔ صاحب !کیا خوب صورتی اور سہولت سے ہمیں ہمارے اس محبوب شاعر نے زندگی اور اس سے جڑی ہوئی حقیقتوں کی حقیقت سجھا دی تھی:

اک شاخ پر کھلا تھا
اک پھول، تیرا پیماں
اور اس پہ ایک تتلی
وہ میرا سرخ ارماں

کچھ سرخ پتیاں ہیں
اب خاک پر پریشاں
اور ان کے پاس دو پر
بے حس ، شکستہ، بے جاں

’’ناممکن کی جستجو ‘‘ والے حمید نسیم نے پانچ جدید شاعروں پر ایک کتاب دی تھی تو فیض احمد فیض، ن م راشد، میراجی،اور عزیز حامد مدنی کے ساتھ ضیا جالندھری کو بھی اس میں شامل کیا تھا ۔ جس حوالے سے یہ فہرست مرتب کی گئی اس پر کئیوں کو اعتراض ہوا مگر وہ مجھے لگتا ہے کہ حمید نسیم نے یہ بجا طور پر کہا تھا کہ ’’ضیا جالندھری ‘‘ ان شاعروں میں سے ہیں جن کے کلام کا رنگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔جن کی شاعری نگاہوں کو خیرہ کرنے کے بجائے دل میں احساس و آگہی کی قندیل روشن کرتی ہے ۔ایک ایسی قندیل جس کی لو نرم و خوشتاب بھی ہے اور دائمی بھی۔‘‘ تاہم میں ضیاجالندھری کی جس نظم کو آج کی نشست میں زیر بحث لانا چاہتا ہوں، اس میں معاملہ کچھ اور لگتا ہے کہ اس کے عین آغاز میں ہی ایک غیر جمالیاتی اور بد ہئیت منظر آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے:

’’کراچی کسی دیو قد کیکڑے کی طرح
سمندر کے ساحل پہ پاؤں پسارے پڑا ہے
نسیں اس کی فولاد و آہن
بدن ۔۔۔ ریت سیمنٹ پتھر
بسیں ، ٹیکسیاں ، کاریں ، رکشا، رگوں میں لہو کی بہ جائے رواں
جسم پر جا بہ جا داغ دلدل نما
جہاں عنکبوت اپنے تاروں سے بُنتے ہیں بنکوں کے جال
کہ ان میں شمال اور مشرق سے آئے ہوئے
اشتہا اور خوابوں کے مارے مگس
پھڑ پھڑاتے رہیں
مستقل عالمِ جاں کنی میں رہیں ‘‘

انسان کی فطرت یہی ہے کہ جس مقام پر وہ مقیم رہے ، اس سے جد ا ہو کر بھی جدا نہیں ہو پاتا، کہ وہ مقام اچھی بری یادوں کے ساتھ اس کے دل میں اور لہو میں مقیم ہو جاتا ہے۔ کراچی شہر سے بھی ضیا جالندھری کا کچھ ایسا تلخ معاملہ رہا ہوگا کہ اُن کی نظم ’’ بڑا شہر‘‘ میں اس کی یاد بہت تلخ ہو گئی ہے۔ اتنی تلخ کہ جس فرد کی آنکھ تخلیقی انسان کی رسائیوں کو پرکھ نہیں سکتی اُس کے لیے’’ کیکڑا‘‘،’’ دلدل‘‘،’’ داغ‘‘،’’ نسیں‘‘ ہوں یا’’ فولاد و آہن‘‘، ’’ریت سیمنٹ پتھر‘‘،’’ بسیں ، ٹیکسیاں ، کاریں ، رکشا‘‘، وغیرہ اِنسانی ترقی کے نشان ہوکر نظم کے ڈیپ اسٹریکچر میں بہتے ہوئے معنیاتی اِمکانات کو معطل کر سکتے ہیں۔
کراچی شہر عجب وجود رکھتا ہے، ایک ہی لمحے میں ماں جیسا، محبوبہ سا اور طوائف کی طرح بھی۔ماں جیسا یوں ہے کہ یہ اپنے جنم زادوں کو پالنے کے ساتھ ساتھ ان پر بھی ممتا کا سام کرم نچھاور کر رہا ہے جنہوں نے اس کی آغوش میں پناہ لی تھی۔ محبوبہ کا سا یوں کہ جو اس میں ایک بار مقیم ہو جاتا ہے ، اسی کا ہو رہتا ہے، کہیں اور جانا ہو تو بھی لوٹ کر اسی جانب آتا ہے ۔جب کہ طوائف میں نے اس لیے لکھ دیا کہ جنہیں یہ آغوش میں لے لیتا ہے انہیں میں سے کچھ ایسے نامراد ہیں کہ اسے لوٹتے کھسوٹتے، بھنبھوڑتے اور اپنی ہوس مٹاتے رہتے ہیں، اس سے فیض اٹھاتے ہیں مگر اسے اپناتے نہیں ۔یہ نظم اسی شہر کراچی کے حوالے سے ہے ۔ اسے شاعر نے تب لکھا کہ جب وہ کراچی سے جدا ہو رہا تھا ،لہذا یہ ضروری ہو گیا ہے کہ نظم کے متن کی تفہیم اس کے تخلیق کار کے نقطہ نظر سے کی جائے ۔ مجھے یقین ہے کہ عین ایسے زمانے میں کہ جب شاعری حسیاتی اور معنیاتی سطح پر لطیف ہونے کے بجائے اپنے مضمون میں مضحک یا پھر گنجلک ہو نے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی، ضیا جالندھری کی اس نظم پر بات کرنا بہت پُر لطف ہو گا۔
یہیں واضح کر دوں کہ نظم کا اپنے مضمون میں ایک سے زیادہ سطحوں پر بامعنی اور مربوط ہونا، میرے لیے اس کی خوبی ہے اور ایک خاص حد تک تخلیقی سطح پر رکھے گئے ابہام کو بھی اس کی جمالیات کا ایک وصف سمجھتا ہوں مگر ساتھ ہی ساتھ میرا یہ بھی اصرار ہے کہ نظم کا اُتھلا ہونا ہو یا معنی کا کٹا پھٹا ہونا، مفہوم کا مفقود ہونا ہویا محض زبان کی سطح پر بازی گری کا اہتمام؛ یہ سب حیلے کسی بھی نظم کے حق میں نہیں جاتے، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ خیر ،یہ جملہ معترضہ تھامگر یہاں پہنچا ہوں تو رُک کر سوچنے لگا ہوں کہ ’’بڑا شہر‘‘ پر بات کرنے سے پہلے ایک دو باتیں ضیا جالندھری کی تخلیقی شخصیت پر کر لینی چاہئیں ۔ یہیں ضیا جالندھری کی زندگی کے آخری ایام اور ان سے ملاقاتیں یاد آتی ہیں اور ان کا فرد کی روحانی تشنگی کو اپنی شاعری کا موضوع بنا لینا بھی۔ اس باب میں ہمیں پروفیسر یوسف حسن کی اس بات سے اتفاق کرنا ہوگا جوانہوں نے ایک تقریب میں کہی تھی؛ یہی کہ اپنی زندگی کے آخری دور میں ضیاجالندھری نے اس تشنگی کو شدت سے محسوس کیا تھا اور مابعد الطبیعات کے مضامین برتنے لگے تھے ۔اچھا ، یوسف حسن کی بات درست، مگر میں نے ضیا صاحب کی غزل میں بھی یہ رنگ دیکھ رکھا ہے ۔ جانتا ہوں کہ غزل کبھی اُن کی تخلیقی ترجیح نہیں رہی مگر انہوں نے کئی ایسے اشعار کہہ رکھے ہیں جو اُن کے تخلیقی بھید پر کھلنے والا دروازہ ہو سکتے ہیں ۔ مثلاً ملاحظہ ہو:

میں ذرہ ہوں پہ خیال و نظر میں لامحدود
تو بے کنار، ترا عکسِ بے کراں میں ہوں
۔۔۔۔
عدم میں رکھ مجھے یا حیطہ وجود میں رکھ
یہ’’ہے‘‘،’’نہیں‘‘کی کشاکش نہ ہو جہاں میں ہوں
۔۔۔
تخیل میں ہر طلب ہے تحصیل
جو بات کہیں نہیں ، یہاں ہے
۔۔۔۔
یہ زیست ہے یا خواب
کہ ہے اور نہیں ہے
اک عکس سرِآب
کہ ہے اور نہیں ہے

ضیا جالندھری کی غزل میں ’’ہونے‘‘ اور’’ نہ ہونے‘‘ کے اس قضیے کو اگر خواب اور حقیقت کی صورت دیکھا جا سکتا ہے تو اس کی نظم میں اس کی کئی اور صورتیں بھی بنتی ہیں ۔ ایسی صورتیں جنہیں وجودی سطح پر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ یہ مزاحمت کی ایک صورت ہے جو زیر نظر نظم میں یوں ظاہر ہو رہی ہے:

’’اور اب جب میں اِس شہر سے جا رہا ہوں
تو اِس کی درانتی سی بانہوں کے دندانے
میرے رگ و پے میں اُترے ہوئے ہیں‘‘

شہر سے نکلنا مگر نکل نہ پانا یوں ہو گیا ہے گویا اس درانتی کے دندانوں کو رَگ و پے میں اُترتے ہوئے پایا ہو۔ تاہم ضیا صاحب کے ہاں مزاحمت کی یہ لہر پر شور نہیں ہے انہوں نے جا بجا نئی زندگی کی یخ بستگی اور جبر کو دکھا کر،اس کے مقابلے میں فرد سے فرد کے سماجی سطح پر رشتوں سے جڑی ہوئی قدیم زندگی کی شعلگی کو رکھا ہے اور اپنے قاری کے اندر ایک میزان قائم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہاں مجھے آپ کی توجہ ضیاء کی پہلی کتاب “سرشام ” کی ایک نظم “ابوالہول ” کی طرف چاہیے ۔ یہ اپنے مواد اور ٹریٹمنٹ کے اعتبار سے نہ صرف ن م راشد اور میرا جی کے تخلیقی ضابطوں سے الگ دھج اختیار کرتی ہے ان ترقی پسندوں جیسا چلن بھی نہیں رکھتی جو اکہری بات کہہ کر آگے چل دیا کرتے تھے ۔ کیا یہ بات اہم اور قابل توجہ نہیں ہے کہ ضیاء کی نظم میں تخاطب بھی جمالیاتی لہروں میں جذب ہو گیا ہے ۔ تو یوں ہے صاحب ،کہ یہ نظم انسان کی عظمت کی تلاش سے جڑنے کے دورانیے میں اس کے وجودی کرب کو ،کہ جو اپنی قامت اور جسامت میں ابوالہول سے کسی صورت کم نہیں ہے ، سے بھی پیوست رہتی ہے ۔
کون نہیں جانتا کہ ابوالہول عجائب عالم میں شمار ہوتا ہے اور ہم تو یہ بھی گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اس کائنات میں آدمی کا وجود بھی ابوالہول کی سی عظمت لیے ہوئے ہے ۔ ضیا صاحب کی نظم کا قضیہ انسان کی عظمت نہیں بلکہ وہ زندگی ہے جس میں حرکت اور حرارت کو ہونا چاہیے ۔ یہی سبب ہے کہ وہ نظم کے پہلے حصے میں ابوالہول کو خواب گراں سے جگانے کی کوشش کر رہا ہے ۔

جہانِ ریگ کے خوابِ گراں سے آج تو جاگ
ہزاروں قافلے آتے رہے، گزرتے رہے
تڑپ اٹھے ترے ہونٹوں پہ کاش اب کوئی راگ
جو تیرے دیدۂ سنگیں سے درد بن کے بہے
یہ تیری تیرہ شبی بجلیوں کے ناز سہے
یوں ہی سلگتی رہے ترے دل میں زیست کی آگ
(نظم:ابوالہول/سرشام)                                                   

اِنسانی تاریخ کا جو حوالہ اس نظم میں ہمارے شاعر کے سامنے ہے اس میں انسان نے بزعم خود اپنی عظمت کو اپنے وجود سے جوڑ رکھا ہے ۔ آدمی جس جھونک میں اپنی اصل سے الگ ہو گیا ہے اس میں اس نشہ کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ کئی سانحات انسانی وجود پر گزرے ہیں مگر یہ سنگی ابوالہول ایک خواب مسلسل کا اسیر ہے ،اور نہیں جانتا کہ وہ زندگی تو موت ہوا کرتی ہے جس میں لگن اور لاگ کا چلن نہ ہو۔ اِنسانی رشتوں کا یہ روپ خالص مشرق کی دین ہے اوریہ اپنی روایت سے جڑت کی عطا ہے ۔ جس گوں کے آدمی کا تصور ضیاجالندھری کی نظموں سے متشکل ہوتا ہے اس میں یہ عناصر انسانی وجود کا لازمی جزو ہو گئے ہیں ۔ تو یوں ہے کہ شاعر نے زندگی کواس سرمائے کی طرح نہیں دیکھا ہے جسے جمع کرتے کرتے اتنا بڑا ڈھیر بنا لیا جائے کہ دیکھنے میں وہ ابو الہول ہو جائے ۔ سرمائے اور اشیا کا بارودی ڈھیر، جس کی تہہ میں نئی زندگی کو چمک عطا کرنے والے کارکنوں اور سرمائے کو نمو دیے چلے جانے والے صارفین کی خواہشات کی لاشیں دفن ہوں ۔
کون نہیں جانتا کہ وہ ابوالہول جس کی عظمت دیکھنے والوں کے سینوں پر ہیبت بن کر چڑھ دوڑتی ہے کتنی انسانی لاشوں کے ڈھیر پر تعمیر ہوا تھا۔ ضیا کو اس ہیبت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے کہ اس کی نظر تو اس تیرہ شبی پر گڑھی ہوئی ہے جسے بجلیوں کے ناز سہنے چاہئیں اور اس کا معاملہ تو اس دل سے ہے جس میں زیست کی آگ سلگتی رہتی ہے ۔ ضیاجالندھری کی اس نظم کے دوسرے حصے میں عافیت والی زندگی کو اس زندگی کے مقابل رکھ کر دیکھا گیا ہے ، جس کی گھات میں فنا ہے ۔ دِل کا راز کہہ دینے کی تاہنگ میں مبتلا آدمی جن خطرات سے دوچار ہے ابوالہول کے دلِ سنگین کا وہ چوں کہ قضیہ نہیں بنتا لہذا خود اپنی آگ میں جل اُٹھنا بھی یہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ زندگی کے کئی روپ اس شاعرکے ہاں موضوع بنتے رہے ہیں ۔ عظمت، ہمیشگی ،تحرک، لاگ ، لگاؤ، بے ثباتی غرض جہاں جہاں سے انہوں نے زندگی کو دیکھا ہے اس کی بالکل الگ سی تصویریں بنا کر رکھ دی ہیں ۔ نظم “بے حسی ” میں زندگی کی لاش ایک سرد تودے کے سوا کچھ اور نہیں ہے تو “بہاگ ” میں شور ،ہنسی، باتیں ، گھومتے پہئیے ، ہلتے ہاتھ اور پھر خدا حافظ کہتے ہونٹوں کے دورانیے میں زندگی قضا ہو جاتی ہے ۔ خالی سونی راہیں ، سرد ہوا ، پڑتی پھوا ر اور خشک ہوتے پتے ،انتظار سے صورت پاتا شدید احساسِ تنہائی جو آج کے آدمی کا مقدر بنا دیا گیا ہے اس شاعر کی نظموں کا خاص موضوع ہے ۔ انسانی زندگی کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دینے والی یہ تنہائی اس کی آخری کتاب “دم صبح ” تک پھیلی ہوئی ہے ۔ تاہم یہاں تک پہنچتے پہنچتے ضیا جالندھری اپنی نظموں میں باقاعدہ اپنا سینہ کھول کر دکھانے اور یہ بتانے بھی لگے ہیں کہ آ دمی کو ایک ایسی روشنی چاہیے جو تاریکی کے اس خلا کو پاٹ دے ۔ ان کی نظر میں یہ روشنی انسان کے وجود کے اندر سے پھوٹ سکتی ہے ۔ بس اسے کرنا یہ ہو گا کہ فرد کو فرد کے قریب لانا ہو گا۔

’’۔ ۔۔اس قدر یاد ہے چاہا تھا کہ تجھ تک پہنچوں
مرے رستے میں مگر
دانش شہرِ ہوس حائل تھی
دانش شہر ہوس
تہ بہ تہ سیل کی مانند بڑھی آتی تھی
دل گھٹا جاتا تھا

کون جانے تو کہاں ہے لیکن
میں یہ سینے کا خلا ساتھ لیے پھرتا ہوں
کو بہ کو ، شہر بہ شہر
پوچھتا پھرتا ہوں کیا تم نے کہیں
روشنی دیکھی ہے اور اس کا خلا دیکھا ہے ۔‘‘
(نظم: خلا/دمِ صبح)                                                  

ضیا جالندھری کا شمار معروف معنوں ایک مفکر یا انقلابی شاعر کے طور پر نہیں ہوتا۔ایسا ہے کہ اِن کے ہاں تبدیلی کی خواہش کی شدت کٹاری کی تیز دھار بننے کی بجائے روایت ،جدت اور واردات کے بہم ہونے سے گہرے احساس کا روپ دھارلیتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ احساس کے ساتھ اس معاملے کے دوران بھی شاعر کا لاشعور بہت چوکس رہتا ہے ۔ بظاہر منظر سامنے کا ہوتا ہے جس میں مختلف علامتیں سیال ہو کر بہ رہی ہوتی ہیں مگر لاشعور اسے انسان کی تہذیبی اور فکری تاریخ سے جوڑتا رہتا ہے ۔ “بے حسی”، “بھول”، “آخرکار”، “غم گسار”، ” ویرانے “، “اجالا”، “بجھی ہوئی آگ”، ” دکھاوا”، “یہ بہار”، ” زمستان کی شام”، “ساملی”، “ٹائیپسٹ”غرض کوئی نظم اُٹھائیں بظاہر منظر سامنے کا ہے جس میں کہیں تو پتے پتے پر موتی مچل رہے ہیں اور کہیں ایسی سرخوشی ہے جو شگوفوں سے سنبھالے نہیں سنبھلتی مگر سرشاری ، سرمستی اور سرفرازی کے ان مناظر پر محیط ہو جانے والے غم کا تسلسل اور افراط میں ہر دم کچرا بنتی ہوئی زندگی کو کسی نہ کسی بسنتی کی بہر حال ضرورت رہتی ہے ۔

اور اب یوں ہے جیسے
ہمارے دلوں میں بھی کچرے کے انبار ہیں
ایسے انبار کوئی بھی جن کو اٹھاتا نہیں ۔
(نظم :کچرا/دم صبح)

زیر نظر نظم “بڑا شہر” کا موضوع بھی یہی ہے کہ ایک طرف اگر زندگی کرنے کی للک سے کٹ کر اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی جستجو میں بڑے شہر منتقل ہونے والا آدمی ایک اذیت کو محسوس کرتا ہے تو دوسری طرف جبر یہ ہے کہ وہ اس کی گرفت سے نکل ہی نہیں پا رہاہے۔ ضیاجالندھری نے کراچی کو سامنے رکھا، وہ کراچی جس کا المیہ روپ بدل بدل کر ہمارے سامنے آتا رہتا ہے ۔ کسی دیو قد کیکڑے کی طرح سمندر کے ساحل پہ پاؤں پسارے پڑا ہوا کراچی ہمارے شاعر کا موضوع ہے ۔ نظم نگار نے سمندر کے حوالے سے کیکڑے کی تشبیہ دی مگر فوراً بعد، اس کا دوسرا روپ بھی دکھا دیا، فولاد و آہن کے بدن والا، ریت سیمنٹ پتھر والا اور بسوں ، ٹیکسیوں ، کاروں ، رکشاؤں والا۔ ایسا جسیم کیکڑا جس کی رگوں میں لہو کی بہ جائے ایک ہنگامہ رواں ہے ۔ تو یوں ہے کہ اس طرح یہ کیکڑا دو رُخوں پر نظر آتا سمندر کنارے پڑا ہوا بے سدھ جسم ہے اور آدمی کے سامنے ایک بے ہنگم زندگی کی مصروفیت۔ آگے چل کر نظم میں فرد اور شہر کے جسم کو ایک سا دکھایا گیا ہے ۔ دونوں کے اندر مصروفیت کے باوجود زندگی کے معاملے میں تہی پن ہے ۔ معاشی سرگرمی کی علامت ہو جانے والے اداروں کا شہر کے جسم پر جا بہ جا داغ ہونا اور اشتہا اور خوابوں کو فروغ دینے والی زندگی کا فرد کے لیے موت کا سا داغ ہو جانا، ایسی دلدل کہ انسان ان کے شکنجے سے نکلنا چاہے تو پھڑپھڑا کر رہ جائے اور نکل نہ پائے ۔ یہ ایسا جبر ہے ، جو آدمی کے اپنے کیے کا شاخسانہ ہے فرد کو اس انداز سے دیکھنے کو شاعر نے اپنی شاعری کا مستقل موضوع بنایا ہے۔ فرد کی جان کنی اور شہر کی بظاہر عشوہ طرازی کی اس کہانی میں اگر شہر طوائف سا ہے تو فرد تماش بین اور انجام دونوں کے حق میں نہیں ہے کہ دونوں اصل اور خلوص والی زندگی سے کٹے ہوئے ہیں:

یہ وہ شہرِ خود مطمئن ہے
جو اپنے ہی دل کی شقاوت پہ شیدا رہا
میں چاہت کے پھولوں بھرے جنگلوں سے جب آیا
تو اس شہر کی پیٹھ محبس کی دیوار کی طرح میری طرف تھی
میں شدت کی تنہائی میں
آشنا حرف کا آرزو مند
پیہم تغافل سے رنجیدہ، بے دل
یہاں کے رسوم اور آداب سے بے خبر
ناخنوں سے زمیں کھود کر
آنسوؤں کی نمی سے اُسے سینچ کر
حرف کلیوں کی امید میں
درد بوتا رہا‘‘

ایک تخلیقی زندگی کا تصور، معاشی سطح پر اتنے متحرک اور سماجی سطح پر اتنے پیچیدہ شہر میں ممکن نہیں ہے ۔ آدمی کا مصروف ہو جانا اور اکیلا ہو جانا، تخلیقی بانجھ پن کو جنم دیتا ہے یا پھر ان ہنگاموں کا رزق ہو جانا جو زندگی کا تصور معدوم کر دیتے ہیں ۔ مذہب نے بھی شہروں کے ایک حد سے بڑھنے کو تحسین کی نظر سے نہیں دیکھا اور حکم ملتا ہے کہ جب شہر ایک حد سے بڑھنے لگیں تو نئی بستیاں بسائی جائیں ۔ اس حکم کی روح سمجھ میں آتی ہے اس نظم نے تو کراچی کو سامنے رکھ کر اس حکمت کو کھول کر بیان بھی کر دیا ہے ۔ ایسے شہروں میں کوئی حادثہ تو فرد کا فرد سے رشتہ ایک محدود وقت کے لیے بحال کر سکتا ہے مگر شاعر کا تجزیہ یہ ہے کہ یہ بھی محض التباس ہوتا ہے ۔

’’ کئی بار یوں بھی ہوا ہے
کہ میں اور یہ شہر اک مشترک دکھ کی زنجیر میں بندھ گئے
اور مجھے یہ گماں سا ہوا
کہ اب اجنبیت کی دیوار گرنے کوہے
ابھی اس کی نمناک آنکھیں کہیں گی کہ ہم ایک ہیں
لمحۂ درد کا ساتھ سب سے بڑا ساتھ ہے
مگر میں نے دیکھا کہ اُس وقت بھی
اِس کی پتھرائی آنکھوں میں
عکسِ شناسائی ناپید تھا‘‘

جس طرح ضیا جالندھری نے ایک نظم میں ابوالہول جیسے سنگی مجسمے کو آدمی کا سا دکھایا اس نظم میں بڑے شہر کو بھی ابوالہول سا دکھا دیا ہے ۔یہ ابوالہول آدمی ہو یا شہر دونوں روح سے خالی ہیں ۔ ایسے کہ جو اندر سے بھربھرے ہو گئے ہیں ۔ ایسے میں شاعر کی ایسی زندگی کی طرف مڑنے کی تاہنگ بھی بہت اہمیت کی حامل ہے جس سے ان کی شاعری کا مزاج بنتا تھا کسی نہ کسی” بسنتی” کے آ جانے کی تاہنگ جو ہمارے اندر کی بہ ظاہر ہیبت اور عظمت والی مگر فی الاصل مردہ ہو چکی اور کچرے کا ڈھیر بن چکی زندگی کو اُٹھا لے جائے یا پھر خود آدمی کے اندر ایسا حوصلہ پیدا ہونے کی امید، کہ وہ اس اذیت والی شہری زندگی سے نکلنے کے جتن کرے ،چاہے اس شہر کی درانتی کے دندانے فرد کے رگ و پے میں اُتر چکے ہوں۔ یوں دیکھیں تو یہ نظم فرد، سماجی زندگی اور شہر تینوں کو فرد کے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے ۔

***

جنگ کراچی میں پڑھنے کے لیے 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

فاروق سرور|شاندار ماڈرن ادیب محمد حمید شاہد چاہتے کیا ہیں؟

ادب سیر فاروق سرور قصہ ایک افسانہ نگار اور ان کی افسانوی دنیا کا میکسم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *