M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / آہ ذکا ء الرحمن|محمد حمید شاہد

آہ ذکا ء الرحمن|محمد حمید شاہد

zaka
05 07 2016 DUNYA

پچھلے کچھ عرصہ سے ادبی اور علمی دنیا سے ایسی شخصیات تواتر سے رخصت ہو رہی ہیں جن کی اس دنیا میں اپنے کام کی وجہ سے بہت تکریم تھی اور تکریم رہے گی ۔ افسانہ نگاذکاء الرحمن بھی ایسے ہی محبوب لوگوں میں سے ایک ہیں ۔ میرے لیے ذکا ء کی موت کی خبر اس لحاظ سے بھی بہت تکلیف دہ رہی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں ہم اتنے قریب آ گئے تھے کہ اپنے تخلیقی کام پر پہروں بات کر سکیں ۔ ’’درد آئے گا دبے پاؤں‘‘ ، ‘‘میں اور زمین‘‘ ،’’ خواب سنگین ‘‘اور’’ ذات کے اندر‘‘، جیسے اہم مجموعوں میں اُن کے افسانوں کی کائنات سمٹی ہوئی ہے؛ ایک الگ دھج اور قرینہ رکھنے والی کائنات ۔
مجھے یاد ہے کوئی پانچ چھ سال پہلے ذکاء الرحمن کے افسانوں کی کتاب یکجا چھپی تو یہاں اسلام آباد میں ایک بھر پور تقریب ہوئی تھی جس میں اُن کے فن کا اعتراف کرنے والوں میں منشایاد بھی شامل تھے اور میں بھی ۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ذکاء الرحمن کے فن پر جس طرح کامکالمہ قائم ہونا چاہیے تھا وہ ابھی تک قائم نہیں ہوسکا ہے ۔اس میں خود ذکاء کے مزاج کا بھی دخل ہے ۔ ایک مدت تک ان کی کتابیں عام قاری کو میسر ہی نہ رہی تھیں ۔ خیر، کہنا یہ ہے کہ ذکاء الرحمن محض ماجرا نویس نہیں تھے وہ اس باب میں ایک الگ جمالیات کی تخلیق پر اصرار کیا کرتے تھے۔ اُن کا اسلوب کہیں سیدھا سادا اور کہیں شعریت لیے ہوتا ، عجب طرح کی گھمبیرتا کو شعار کیے ہوئے تھے وہ ۔ کہیں کہیں تو افسانے کا بیانیہ ایک فقیہہ کا خطبہ ہو جاتا اور کہیں طبیعیات اور مابعد الطبیعیات کے بیچ کے بھورے علاقوں کو کھوجنے نکل جاتے۔ بہ قول ذکاء اُن کے فکشن کا نظام فکر ’’اصول جانکاریہ ‘‘پر تعمیر ہوا تھا۔
کچھ عرصہ پہلے جب میں لاہور میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے گیا تو وہ اپنی طبیعت کی ناسازی کے باوجودوہاں ٹھہرے رہے اور اصرار کرکے مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے ۔ وہ اپنے بیڈ روم میں لے گئے ۔ بستر پر ہر طرف کتابیں بکھری ہوئی تھی ۔ کتابیں ایک طرف دھکیل کر انہوں نے اپنے لیے اور میرے لیے بیٹھنے کی جگہ بنائی ۔ہم دونوں پھسکڑا مار کر بیٹھ گئے۔اس روز ہم ساری رات جاگے تھے ۔ انہوں نے اپنے زیر تکمیل ناول کے ابواب سنائے ۔ میں آنکھیں بند کرکے سنتا رہا آواز کا زیر و بم محسوس کرتا رہا ، اور تصور میں تصویریں بناتا ہے ۔ میںآنکھیں بند کرکے ان کی آواز اب بھی سن سکتا ہوں۔ ایک فقیہہ کی آواز ۔

mansha_zaka_Shahid
محمد حمید شاہد، ذکاء الرحمن، محمد منشایاد

اگلے روز بھی میں صبح اسلام آباد کے لیے نہ نکل پایا تھاکہ ذکا ء نے مجھے روک لیا ۔وہ اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتے تھے ۔ اگلا پورا دن ہمارا ساتھ رہا ۔ ہم باہر نکلے پھولوں کی دکان سے دو گلدستے خریدے ۔ ذکا ء نے پوچھا یہ کس لیے میں نے کہا چلیں مستنصر حسین تارڑ بیماری سے اُٹھے ہیں اُن کی عیادت کو چلتے ہیں ۔ ہم وہاں گئے، میں نے دونوں کی بے تکلفی کا لطف لیا ۔ بہت دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ تارڑ صاحب کے ہاں سے نکلے توذکاء نے کہا یہ پھولوں کا دوسرا گلدستہ ؟ میں نے کہا آپ کے لیے ۔
یہی وہ دن تھا ہم دیر تک ادھر ادھر گھومتے رہے ۔ لارنس گارڈن میں ہم پیدل چل رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے ۔ یوں ہی چلتے چلتے میری نظر ان کے چہرے پر پڑی ،مجھے لگا اُن کا رنگ پیلا پڑنے لگا تھا اورسانسوں کا معاملہ یوں تھا جیسے وہ انہیں بہ مشکل کھینچ کر حلقوم سے نیچے پھیپھڑوں کی طرف دھکیل رہے تھے ۔ میں نے پریشان ہو کر کہا خیریت ؟ کہنے لگے ،لگتا ہے خیریت نہیں ہے ۔ ہم جہاں تھے وہیں بیٹھ گئے اور تب تک بیٹھے رہے جب تک ذکا ء کی سانسیں بحال نہیں ہو گئی تھیں ۔ جب سانسیں ہموار ہو گئیں تو پھر سے وہ میرے ساتھ چلنے اور اپنی زندگی کی کتاب کے اوراق الٹنے کے لیے تیار تھے ۔
اُسی روز جب ہم اپنے ہمدم دیرینہ عالم خان سے ملے وہیں غافر شہزاد بھی آ گئے تو ذکاء الرحمن کو میں نے حلقہ ارباب ذوق کی تقسیم پر بہت متفکر پایا تھاوہ بار بار کہہ رہے تھے کہ کوئی صورت نکلے اور دونوں دھڑے ایک ہو جائیں ۔
اس کے بعد بھی ہماری کئی ملاقاتیں ہوئیں، یہاں اسلام آباد میں بھی ۔ وہ جب آئے انہوں نے فون کرکے اس ملاقات کی صورت نکالی ۔ میں نے انہیں ہر بار اپنے کام کے حوالے سے اسے متفکر پایا۔کام جو وہ اب سمیٹنا چاہتے تھے مگر سمٹنے میں نہ آتا تھا ۔
تو یہ تھے ذکاء الرحمن، پھولوں جیسے وجود والا شخص ، اخلاص سے بھرا ہوا ،لفظ کے تخلیقی روشن کناروں سے جڑا ہوا۔ یہی سبب ہے مجھے ذکاء کے چل بسنے کی خبر سن کر یوں لگتا ہے کہ میرا یہ دوست نہیں مرا، میرے اپنے وجود کا ایک حصہ مر گیا ہے ۔ اور اس مرچکے وجود پر میں پھولوں کا وہی گلدستہ سجا چکا ہوں جو میں ذکا ء کی گاڑی کی پچھلی نشست پرچھوڑ آیا تھا ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

2 تعليقان

  1. رفاقت حیات

    بہت عمدہ تحریر ہے حمید شاہد صاحب۔ منتظر ہوں کہ آپ ذکا صاحب کے فکشن پر کب خامہ فرسائی کریں گے؟

  2. محمد حمید شاہد

    بہت شکریہ رفاقت حیات ، ذکاء کے افسانے پر میں نے ایک مضمون 2010 میں لکھا تھا مگر اب ڈھونڈھ رہا ہون تو نہیں مل رہا ، شاید وہ میں نے تب ہی ذکاء کو دے دیا تھا ، خیر ارادہ ہے کہ ذکاء کے فکشن پر کچھ اور لکھ سکوں

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *