M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|لوک ورثہ میں مادری زبانوں کا میلہ

محمد حمید شاہد|لوک ورثہ میں مادری زبانوں کا میلہ

12743753_10153177646656157_3933220464830557562_n
لوک ورثہ میں مادری زبانوں کا میلہ

عین ایسے دنوں میں کہ ادھر لاہور میں ایک نیم ولایتی لٹریری فیسٹول ہورہا تھا ادھر اسلام آباد کے لوک ورثہ میں دیسی زبانوں کا میلہ چل رہا تھا، دیسی نہ کہیں مادری زبانوں کا میلہ کہہ لیں۔ سندھی، پنجابی، ہندکو، پشتو، بلوچی، ہزارگی، بلتی، شینا ، بروششگی، گوجری، توروالی، داؤدی، براہوی، پہاڑی، پوٹھواری، سرائیکی اور وہ ساری زبانیں ، کہ جن میں اس دھرتی پر پیدا ہونے والوں نے اپنی ماؤں کا دودھ حلقوم میں اتارتے سمے لوریاں سنی تھیں ،یہ میلہ انہی زبانوں کا تھا لہذا ہر لحاظ سے اس کے رنگ ڈھنگ دیسی رہے مگر ایسی لپک والے کہ اثرسیدھا دل پر ہوتا تھا۔ اچھا ان زبانوں میں اردو بھی شانہ بشانہ تھی ۔ اس میلے میں ملک کے کونے کونے سے لوگ آئے تھے ،سو،اُردو نے آگے بڑھ کر رابطے کی زبان کا فریضہ بھی سنبھال رکھا تھا کہ یہ بھی ۔ اردو کچھ کی تو مادری زبان تھی ،اورایک بڑے طبقے کے بچوں میں مادری زبان ہو چکی تھی پھر جن کی مادری زبان نہ تھی، ان کی زبان سے یوں لین دین کر رہی تھی جیسے سب زبانوں کی ماں جائی ہو ۔ بتاتا چلوں کہ مادری زبانوں کا یہ شاندار میلہ انڈس کلچرل فورم نے ایس پی او اور لوک ورثہ کے تعاون سے کیا اور کوئی ڈیڑھ دو مہینے پہلے سے پاکستان بھر کے مختلف زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں سے نصرت زہرا نے، اس میں شرکت کے وعدے لے لیے تھے ، سو ایسے میں کسی اور پروگرام میں جانے کا سوچا بھی کیسے جاسکتا تھا۔ اورجب میں لوک ورثہ پہنچا تو جی خوش ہوا ، اپنے دیس کے سارے ثقافتی رنگ،وہاں ایک جادو سا جگا رہے ۔مادری زبانیں اپنی ثقافتی دھنک کی رنگ پچکاری سے اپنا کمال دکھارہی تھیں۔

10653311_10154620747307222_3547607606730114355_n
یاسمین حمید ، نجیبہ عارف
12742340_10153170904596157_2926442595749450250_n
حمزہ حسن شیخ سرائیکی اور اردو افسانوں کا انگریزی ترجمہ پیش کرتے ہوئے۔شوکت حسین شورو نے اس نشست میں سندھی سے انگریزی میں ترجمہ پیش کیا ۔میزبان اجمل کمال نے تاجم کی اہمیت پر گفتگو کی

وہاں پہنچتے ہی میری ملاقات اگر اجمل کمال، نجیبہ عارف، یاسمین حمید، فہمیدہ حسین، عرفان عرفی ،ارشدوحید، نورالہدی شاہ، رحمان طارق، پروین طاہر،آغا پیر محمد،قاسم بگھیو جیسے احباب سے ملاقات ہو رہی تھی جن سے کسی نہ کسی کانفرنس میں ملنا رہتا تھا تو وہاں کئی ایسے تھے جنہیں ملنا چاہتے تھے مگر لاہور ،کراچی اور اسلام آباد کے ادبی فیسٹولز میں مل نہیں پاتے تھے کہ ان کی زبانیں ابھی تک وہاں موضوع نہیں بنی تھیں ۔ نصرت زہرا بہت خوش تھیں کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جو خواب دیکھا تھا وہ تعبیر پا رہا تھا ، سب دور دراز کے علاقوں سے جوک در جوک آئے تھے اور اپنے اپنے علاقے کی مہک ساتھ لائے تھے۔ افتتاحی اجلاس میں نصیر میمن ، نور الہدی شاہ، فوزیہ سعید سب ہی کا کہنا تھا کہ ہماری پہچان ہماری زبانیں ہیں ، ہماری کوئی لسانی پالیسی ہونی چاہیے ، ان زبانوں کے ادبی سرمائے کا تحفظ کیسے ہو ، اس پر سوچا جانا چاہئے ،ایک علاقے کے ادب کو پاکستان کے سارے علاقوں میں پہنچانے کے لیے اسے اردو میں مستقل بنیادوں پر منتقل کرنے کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ طارق رحمن نے مرتی ہوئی زبانوں کی فہرست میں ہمارے پیارے وطن کی کئی میٹھی زبانیں گنو ادیں ، اور بہت سے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ۔
اس میلے میں اس کے ساتھ ہی مکالمے کے متعد د اجلاس ایک ساتھ شروع ہو گئے ۔میوزیم ہال میں روش ندیم کی میزبانی میں بلھے شاہ، شاہ عبدالطیف بھٹائی، امیر خسرو، خواجہ فرید، رحمان بابا، مست توکلی اور احمد علی سائیں کی آوازوں سے ایک پیغام کشید کیا جارہا تھا تو ڈاکٹر فوزیہ سعید کے ساتھ بیٹھے فاضل مقررین کانفرنس ہال میں سندھی،پنجابی،بلوچی،پشتو، براہوی ،پہاڑی ہندکو اور گلگت بلتستان کی زبانوں کے لوک ادب کو موضوع بنائے ہوئے تھے۔ میڈیا سنٹر میں ہونے والے اجلاس کے میزبان اجمل کمال تھے جس میں شوکت حسین شورو نے اپنے سندھی افسانے جب کہ حمزہ حسن شیخ نے حفیظ خان کے سرائیکی اور میرے اردو افسانوں  کے انگریزی تراجم پیش کیے ۔پاکستان میں خطرے سے دوچار زبانیں ، مادری زبانوں کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، بچوں کی ابتدائی تعلیم اور مادری زبان ، عالمی ادب کے مادری زبانوں میں تراجم ، پاکستانی ادب کے پاکستان میں تراجم ، مادری زبانوں کے احیا کے لیے اداروں کا کردار غرض ایک سے ایک اہم موضوع تھا جو میلے کا موضوع بن رہا تھا ، مجھے جس مکالمے میں شرکت کا موقع ملااس کا موضوع تھا پاکستانی زبانوں میں فکشن ،اس سیشن کی میزبانی نجیبہ عارف نے کی ۔ گزشتہ دنوں ان کے گھٹنے میں چوٹ لگی اور وہ چلنے میں دقت محسوس کر رہی تھیں مگر میں نے دیکھا وہ لاٹھی کے سہارے اجلاس میں آئیں اور بھرپور شرکت کی ۔ کتابوں کی رونمائی، ثقافتی نمائش ، علاقائی پکوان اور نہ جانے کیا کچھ ، گویا دلچسپی کا ہر سامان اس میلے میں موجود تھا، علاقائی زبان میں فلمیں دیکھیں اور ایک مشاعرے میں کئی زبانوں کے شاعروں کو سنا ۔میلے کا اختتام علاقائی موسیقی سے ہوا لوگ سندھی ، پنجابی، پشتو، سرائیکی ، بلوچی، پوٹھواری، ہندکو سے لے کر گلگت بلتستان کی زبانوں تک ، سب کے گیت سن رہے تھے ، زبانیں مختلف تھیں مگر بول سب کے لبوں پر محبت کے تھے ۔ اس میلے میں جو مجموعی طور پر سفارشات سامنے آئیں ان حکومت کو ایک لسانی پالیسی لانے کا کہا گیا تھا ، ایسی لسانی پالیسی جس میں اردو کے ساتھ ساتھ مادری زبانوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہو اور ان زبانوں کے علمی اور ادبی سرمائے کوپاکستان بھر کے دوسرے علاقوں میں متعارف کرانے کا اہتمام ہو۔


6885_10153183503066157_7988487987770051992_n
ایم این تنہا، محمد حمید شاہد، ارشد وحید
1918196_10153177646596157_1262326480633632301_n
حمزہ حسن شیخ، اجمل کمال، محمد حمید شاہد اور آغا پیر محمد۔ آغا پیر محمد نے بھی اس میلے کو کامیاب بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

12741891_811865605605686_8609353360837266470_n
حمزہ حسن شیخ، نصرت زیرا، محمد حمید شاہد، آغا پیر محمد، طاہر راٹھو ، پروین طاہر میلے میں
12743976_10153171366071157_2329575959135304649_n
مادری زبانوں میں فکشن: اجلاس شروع ہونے سے پہلے نجیبہ عارف، یاسمین حمید، محمد حمید شاہد

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *