M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

12524079_943851262318901_6688427226863750272_n
سید محمد علی

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد کی دعوت پر ایک تقریب میں پہنچے۔اس تقریب کا کارڈ ہمیں حمید شاہدصاحب نے فیس بک پر پوسٹ کیا تھا۔ کارڈ مجھے بہت دلچسپ لگا تھا اور میں نے طے کیا تھا کہ تقریب میں ضرور جاؤں گا۔ تقریب والے دن میں اپنی بیٹی رمشا کے ساتھ راول ڈیم کے قریب واقع اُس ہوٹل پہنچا ، اندر ھال میں داخل ہوا تو اوپر کی منزل سے ایک بڑی پُر اعتماد نوجوان نسوانی آواز آ رہی تھی، اُس کی تقریر کے کچھ جملوں نے جو نیچے تک سنائی دے رہے تھے میرا رُخ آواز کی جانب موڑ دیا۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہ تقریر میری مطلوبہ تقریب میں نہیں بھی ہو رہی تو بھی میں یہ تقریر تو ضرور سنو گا۔ اوپری منزل کے چھوٹے سے ھال میں پہنچا تو دیکھا ڈائس کے پیچھے ’’داستان ‘‘ کا بینر لگا ہے اور ڈائس پر کھڑی ایک نوجوان لڑکی وہی تقریر کر رہی ہے جس کی آواز نیچے تک سنائی دے رہی تھی۔ اچھا محسوس ہوا کہ صحیح جگہ پہنچ گئے۔ گرمیوں کی عین دوپہر میں اتنی دور آنا بے کار نہیں گیا۔ یہ تقریب نوجوانوں کی قائم کردہ ایک تنظیم ’’ داستان‘‘ نے برپا کی تھی جس کے مہمانِ خصوصی معروف لکھاری محمد حمید شاہد تھے۔ حمید شاہد صاحب اپنی بیگم کے ہمراہ موجود تھے۔ ھال میں نظر دوڑائی تو سب نوجوان لڑکے لڑکیاں بیٹھے نظر آئے۔ کوئی شناسا ادبی یا غیر ادبی چہرہ نظر نہیں آیاسوائے محمد حمید شاہد کے۔ مجھے اُس وقت حمید شاہد پر بہت پیار آیا، میرے نظروں کے سامنے تیس برس قبل کے واقعات گھوم گئے جب جی ایٹ مرکز میں واقع ایک ہوٹل کے ڈائننگ ھال میں ایک شخص سر جھکائے بیٹھا ہوتا تھااُس کی نظریں داخلی دروازے اور سامنے لگے شیشوں کے پار پارکنگ کی طرف لگی ہوتیں۔ میں کسی دوست کے ہمراہ وہاں پہنچتا تو اُس کا چہرہ کھل اٹھتا، مسکرا کر اپنے مخصوص گرم جوش انداز میں استقبال کرتا۔ مناسب نشست پر بٹھا کر پھر دروازے کی جانب متوجہ ہو جاتا۔میرے ساتھ کبھی حمید قیصر ہوتا تھا کبھی ناصر عقیل یا پھر ایسے دوست جنہیں شعر و ادب سے کوئی علاقہ نہ ہوتا۔ رفتہ رفتہ ہمارے وہاں جانے کے اسباب میں اُس شخص سے انسیت بھی شامل ہو گئی۔کچھ لوگ اکھٹے ہو جاتے تو ادب پر گفتگو ہوتی، افسانہ پڑھا جاتا، شعر و شاعری ہوتی، کوئی مضمون پڑھا جاتا۔چائے پی جاتی ۔اسلام آباد جو آج بھی پردیسوں کا شہر ہے اُس وقت کچھ زیادہ ہی پردیسوں کا شہر ہوتا تھا۔ مجھے اُس دور میں قطعی کوئی آئیڈیا نہیں تھا اُس کام کی مشکلات کا، مگر آج احساس ہوتا ہے کہ اُس وقت پردیسی شاعر ادیبوں کو کہیں اکٹھا کر کے ادب کشید کرنا کتنے جان جوکھوں کا کام تھامگر وہ شخص یہ کر رہا تھا۔لوگوں سے رابطے کے بہت محدود ذرائع تھے۔ بالمشافہ ملاقات یا لے دے کر فکس لائن ٹیلی فون ، وہ بھی ہر ایک کو میسر نہیں تھا۔ وہ بھلا وقت تھا ، جھوٹ بولنے کی بھی اتنی سہولیات میسر نہیں تھیں کہ آپ بستر پر لیٹے لیٹے کہہ دیں کہ ابھی تو میں ہائی وے پر کار چلا رہا ہوں۔ مطلب یہ کہ اگر آپ نے فون اٹھا لیا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ گھر پر ہیں۔ یہ تو صرف خدا جانتا ہے یا وہ شخص جانتا ہو گا جس کی ہم بات کر رہے ہیں کہ اُس زمانے میں ادب کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کرنا کتنا بڑا جہاد تھا۔اُس وقت آج کی سی ترغیبات بھی موجود نہیں تھیں جو لوگوں کو کسی تقریب میں جانے پر راغب کرتیں یعنی ٹھنڈا ھال، ہائی ٹی یا ٹی وی اسکرین پر نظر آ جانے کی آس۔
میں آج بھی جب کبھی اُس دور کی دھندلی یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو میرے ذہن کے دریچوں میں ایک ہوٹل کا بڑا سا ھال جہاں بے شمار خالی میزیں کرسیاں پڑی ہوتیں ، گھوم جاتا ہے۔جب کچھ لوگ اکٹھے ہو جاتے بات چیت شروع ہوتی تو ہوٹل کے چند ملازمین آنکھوں میں تجسس لئے مجسم سوال بنے حیرت سے کبھی قریب آتے کچھ دیر کھڑے باتیں سنتے پھر چلے جاتے وہ سب میرے لئے بڑا دلچسپ تھا۔کچھ عرصے بعد ہماری فطری لاابالی طبعیت نے ہمیں کسی اور جانب متوجہ کر دیا، وہ محفلیں چھوٹ گئیں ، یادیں دھندلا گئیں مگر ایک شخص کی شخصیت کے نقوش ذہن پر نقش ہو گئے جو بھلائے نہیں بھول پایا، حمید شاہد کی شخصیت کے نقوش، اُن ادبی تقریبات کے روحِ رواں۔ پھر کبھی چھ ماہ ، سال بعد جب بھی اُن سے کسی محفل میں ملاقات ہوتی تو اُسی پرانے پوسچر میں ہونٹوں پردھیمی مسکان سجائے کسی گلے شکوے کے بغیر حال احوال پوچھ کر ایک سوال ضرور پوچھتے، ’’کیا لکھ رہے ہو‘‘؟ میں نے اوپر لکھا ہے کہ ’’مجھے اُس وقت حمید شاہد پر بہت پیار آیا‘‘۔جس کی ایک بڑی معقول وجہ ہے اور ماضی بعید کا یہ قصہ بھی خامخواہ یاد نہیں آیا اس کا بھی بڑا قریبی تعلق ہے ہماری اس بات سے جو ہم کہنا چاہتے ہیں۔ پیار یوں آیا کہ ’’ داستان ‘‘ کی طرف سے برپا اُس تقریب میں سب نوجوان طالب علم لڑکے لڑکیاں تھے شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے مگر سب غیر معروف اور نو آموز۔ تقریب میں نہ پریس نہ کیمرے، نہ اُس کا احوال لکھنے والا کوئی اور۔ ایسے میں ادب کی اس قد آور شخصیت نے نہ صرف صدارت قبول کی بلکہ جب کھڑے ہو کر اُن طفلانِ مکتب کے سامنے بڑے سادہ اور آسان پیرائے میں لکھنے کی اہمیت اور ادب کے حوالے سے اُن کی کاوشوں کو سراہنا شروع کیا تو ہمارے تخیل کی پرواز کا ۸۰ کی دہائی میں جی ایٹ مرکز کے اُس ہوٹل میں پہنچ جانا بڑی فطری تھا جس کا ابھی تذکرہ کیا۔مجھے حمید شاہد کی مستقل مزاجی اور سادگی پر پھر بہت پیار آیاکہ یہ شخص تو آج تیس سال بعدبھی اپنا نفع نقصان دیکھے بغیر اُسی تبلیغی کام سے جڑا ہوا نوجوان نسل کو لکھنے اور بامقصد زندگی گزارنے کی تلقین کر رہا ہے ابھی تک تھکا نہیں، مایوس نہیں ہوا۔میرا یقین ہے کہ اُس تقریب میں شامل سب طلبہ و طالبات اپنے ذہنوں میں حمید شاہد کی شخصیت اور اُس کی باتوں کا دائمی نقش لے کر گئے ہوں گے ۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اُن میں شامل کچھ ایسے جن کے اندر موجود ادب کی چنگاری آج سے بیس سال بعد بھی بھڑکی تو اُن کی تحریر میں اس تقریب کا ذکر ضرور ہو گا کہ وہاں ایک شخص سے مجھے Inspiration ملی تھی جس نے کہا تھا ۔۔۔۔
وہ چائے سموسوں والی بہت ہی سادہ سی تقریب تھی مگر حمید شاہد اپنی بیگم سمیت پوری توانائیوں کے ساتھ آخر تک وہاں موجود رہے۔باتیں سنتے رہے، باتیں کرتے رہے۔ میں اُس تقریب سے نکلا تو میرے ہمراہ اُن کے افسانوں کی کتاب ’’آدمی ‘‘ تھی جو انہوں نے بڑے خلوص سے میری بیٹی رمشا کو دستخط کر کے دی۔گھر آ کر میں نے اُس تقریب کی کچھ یاداشتیں لکھیں اور انہیں کمپیوٹر کے حوالے کر کے پھر اپنی دنیا میں مگن ہو گیا۔ پھر ایک لمبے وقفے کے بعد ایک دن زرعی ترقیاتی بنک اُن کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا ۔ بہت خلوص سے ملے، خبر نامہ شبخون عنایت کیا۔ پھر لمبا وقفہ، ایک دن بڑی محبت سے میرے دفتر شکر پڑیاں تشریف لائے۔ چائے کے دوران گپ شپ، جاتے ہوئے اپنی ایک اور کتاب ’’ دہشت میں محبت‘‘ ہماری نذر کی۔
پھر لمبا وقفہ۔کچھ دن پہلے کی بات ہے محترمہ نعیم فاطمہ علوی صاحبہ کا فون آیا۔ انہوں نے بہت خلوص سے اپنے گھر میں منعقد ہونے والی ایک محفل میں شرکت کی دعوت دی۔ تقریب کے دن اُن کے گھر ڈنر کرتے ہوئے میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ محمد حمید شاہد میرے لئے ایک اور کتاب لئے جی۔۱۴ سے روانہ ہو چکے ہیں۔کھانے کے دوران ہی وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ پہنچ گئے۔ ساتھ ہی بیٹھ کر کھانا کھایا۔ پھر محفل موسیقی کا لمبا پروگرام چلا۔ رات ساڑھے بارہ بجے دمِ رخصت اپنی گاڑی کی عقبی نشست سے دوکتابیں اور خبر نامہ شبخون نمبر ۳۰ اٹھاکر مجھے اور ایک سیٹ حمید قیصر کو عنایت کیا۔خبر نامہ شبخون نمبر ۳۰ کا آغاز ہی حمید شاہد کے نام سے تھا، لکھا تھا ’’حمید شاہد صاحب کی معرفت خبر نامہ شب خون نمبر ۲۸ ملا۔ اس عنایت کے لئے مشکور ہوں۔ ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ خط مسعود مفتی کا تھا۔یہ پڑھ کر ہمیں ایک بار پھر احساس ہوا کہ کچھ لوگ ہوتے ہی مجسمِ خیر ہیں اُن کے وجود کی برکتوں سے صرف اُن کے متعلقین ہی مستفید نہیں ہوتے بلکہ اس سے اُن کے قریب آنے والا ہر شخص ہی مستفید ہوتا ہے۔ محمد حمید شاہد بلا شبہ بہت اعلیٰ لکھاری اور تنقید نگار ہیں مگر مجھے ان خصوصیات سے بھی زیادہ اُن کا انکسار، ادب کے لئے اُن کی بے لوث تبلیغ چاہے وہ کتابیں بانٹ کر ہو ، چاہے ادبی تقریبات برپا کرنے، اُن میں شرکت کرنے سے ہو ، چاہے اس کا کوئی اور میڈیم ہو اس حوالے سے مجھے حمید شاہد ہر دم متحرک اور باعمل نظرآتے ہیں۔میری یادداشت بہت کمزور ہے مگر اچھی بات دماغ کے کسی نہاں خانے میں محفوظ ضرور رہتی ہے مجھے یاد آ رہا ہے انہوں نے اپنے دفتر میں لکھنے کے حوالے سے ایک بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ لکھنے کے لئے انسان کے اندر کی پاکیزگی بہت ضروری ہے‘‘۔یہ پاکیزگی محمد حمید شاہد میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ میری بڑی خواہش ہے میں ان کی شخصیت اور ان کے فن پر لکھوں، مگر شایدمیں ابھی پاکیزگی کے اُس مقام تک نہیں پہنچا۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

                      شکریہ جنگ کراچی : http://e.jang.com.pk/08-09-2017/karachi/page14.asp …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *