M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|جشن ریختہ-2016

محمد حمید شاہد|جشن ریختہ-2016

دِل والوں کی دِلی میں اردو زبان سے محبت کا حیرت انگیز مظاہرہ
دِل والوں کی دِلی میں اردو زبان سے محبت کا حیرت انگیز مظاہرہ
جشن ریختہ2016:راجندر سنگھ بیدی،انسانی رشتوں کا رزداں کے موضوع پر مکالمہ میں محمد حمید شاہد، الابیدی دتا، شمع زیدی۔ میزبان رحمن عباس تھے
جشن ریختہ2016:راجندر سنگھ بیدی،انسانی رشتوں کا رزداں کے موضوع پر مکالمہ میں محمد حمید شاہد، الابیدی دتا، شمع زیدی۔ میزبان رحمن عباس تھے

بھارت کے دِل ، نئی دِلی میں جشن ریختہ ، میں ہمیں شرکت کا موقع ملا اور وہاں اُردو زبان سے محبت کا ایسا مظاہرہ دیکھنے کو ملا کہ اس سے محبت کا دَم بھرنے والے ہمیں بھی محبوب ہو گئے ہیں ۔اس جشن میں لوگوں کی بے پناہ دلچسپی ، اور بہت بڑی تعداد میں شرکت سے اُردو ایک ایسی زبان کے طور پر سامنے آئی ہے، جو روداری اور محبت کی تہذیب کو فروغ دِے سکتی ہے ۔ اس زبان کا جادو تھا کہ اندرا گاندھی نیشنل آرٹ سنٹر میں اس زباں سے عشق کرنے والے ستاروں کی ایک کہکشاں اُتر آئی تھی۔ شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ ، شمیم حنفی، انور مسعود، گلزار، جاوید اختر، شبانہ اعظمی، نندیتا داس، انور مقصود، زاہد حنا ، اسد محمد خاں، آصف فرخی، عباس تابش، فاضل جمیلی ، سیدکاشف رضا، سرمد کھوسٹ، شاہد رسام،ثانیہ سعید، شمع زیدی، اِلا بیدی دَتا، عرفان خان، کنول جیت سنگھ، لبنی سلیم ، نعمان شوق،شارق کیفی ، خالد جاوید، شمس الحق عثمانی ، اظہار احمد ندیم ، عرشیہ اظہار، انور مقصود، حسینہ مقصود،صابری برادران، استاد رفاقت علی خان،ودِھا لال ،ابھیمینو لال،ٹیگمنشو ڈھلیا،امتیاز علی ،پرادیپ شرما،اور بہت سارے ،سب ہی اس میلے میں محبت کی ڈوری سے بندھے چلے آئے تھے ۔

نوائے وقت، راول پنڈی 2 مارچ 2016
نوائے وقت، راول پنڈی 2 مارچ 2016
محمد حمید شاہد، الا بیدی دتا
محمد حمید شاہد، الا بیدی دتا

شاعری ، فکشن، فلم ، موسیقی، مصوری ،خطاطی، ناٹک، کتاب غرضاُردو کا جادو ہر رنگ میں بول رہا تھا ۔
بھارت سے مجھے اورمیری بیگم یاسمین حمید کو جشن ریختہ میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ مجھے جشن کے آخری روزاُردو کے نامور افسانہ نگار راجندرسنگھ بیدی کے حوالے سے ہونے والے سیشن میں گفتگو کرنے کی دعوت دی گئی تھی، یہ میرے لیے یوں اہم تھی کہ بیدی ہو یا منٹو، کرشن چندر ہو یا عصمت چغتائی ، انہوں نے اردو افسانے کا ایک عہد زریں تشکیل دیا تھا اور اسی سبب میں ان سب کو اپنی زبان کے محسنوں میں شمار کرتا ہوں۔دعوت نامہ ملا تو یقین نہیں تھا کہ ہم دونوں وہاں جا پائیں گے ، مگرکبھی زمرد مغل کافون آجاتا توکبھی فرحت احساس کا اور کبھی دھرمندرا ساہا، ترونا اور پرییانکا کے ای میلز ، بس پھر کیا تھا تمام مراحل طے ہو گئے۔ کوئی اتنی محبت سے بلائے تو مشکل نظر آنے والے مراحل بھی طے ہو جاتے ہیں ۔پھرہمارے لیے کشور ناہید بھی تومدد کے لیے موجود تھیں ۔ تاہم ایک اور مشکل ابھی باقی تھی، ریختہ والوں نے پی آئی اے کے ٹکٹ بھجوائے تھے، اور پی آئی والوں کا جھگڑا طول پکڑتا جا رہا تھا ۔ جھٹ انہوں نے امرتسر سے فلائٹ پکڑنے کا انتظام کردیا ۔ واہگہ بارڈر پار کیا تو ریختہ والے استقبال کو موجود تھے ۔ امرتسر ائر پورٹ پر دلی جانے کے لیے اسد محمد خاں اور فاضل جمیلی بھی پہنچ گئے تھے ۔
دلی میں ہماری ملاقات اُردو کے ایک اور محسن سے ہوئی۔ جی بہ قول زاہدہ حنا پہلے محسن نول کشور تھے۔ ایک سو اسی برس پہلے پیدا ہونے والے اور ۱۸۵۷ء کے ہنگاموں اور علمی و ادبی سرمائے کی تباہی کے بعد، اس کی یکجائی اور بحالی کے جتن کرنے اور زبان و ادب کے علما کو ایک مرکز پر جمع کرنے والے نولکشوراگراردو کے محسن تھے تو انہی جیسے اردو کے ایک اور محسن سے دلی میں ہماری ملاقات ہورہی تھی۔ اس نام ہے؛ سنجیو صراف ۔ عین ایسے زمانے میں کہ جب بھارت میں اُردو کو ایک مذہب سے منسوب کرکے اس کی راہیں مسدود کرنے کے جتن ہونے لگے ہیں ، ریختہ جیسی تنظیم کی بنیاد ڈالنے والا، اور اپنی کوششوں سے وہاں کے عام آدمی کے سامنے اردو کا خوب صورت چہرہ کچھ اس طرح لے آنے والا ، کہ سب اس کی محبت کے گن گانے لگیں، ایسا کام ہے جس کا ہر سطح پر اعتراف کیا جانا چاہیے۔ سنجیو صراف کو اردو زبان اور شاعری سے عشق ہے ، اور اس عشق کا مظاہرہ اول اول یوں ہوا کہ انہوں نے’’ ریختہ ‘‘کے نام سے ادارہ بناکر اردو کی ایک بہت بڑی ویب سائٹ بنوائی ۔ اس ویب پر ہزاروں کتابوں کو اپ لوڈ کیا گیا جنہیں ہر کہیں سے مفت پڑھا جا سکتا ہے ۔ یوں اُردو کا علمی اور ادبی سرمایہ یکجا کر دیا گیا ہے ۔ پھر اس پررُک نہیں گئے ،وہاں یونی کوڈ میں لگ بھگ اردو کے ہر قابل ذکر شاعر کا کلام فراہم کر دیا گیاہے ۔ ادیبوں سے انٹرویوز لے کر ان کی فلمیں ویب پر ڈال دی گئیں، وہیں ہم شاعروں کا کلام ان ہی کی زبانیں سن سکتے ہیں۔ہر سال دلی میں ریختہ کے زیر اہتمام ایک بھرپور جشن کا اہتمام ہونے لگا ہے جس میں ہندی والے بھی اُردو کی محبت چلے آتے ہیں ۔
یہ جو کہا جارہا ہے کہ ہندوستان میں اردو پر منفی دباؤ بڑھانے والوں کو اس جشن نے پیچھے دھکیل دیا ہے ، تو یہ ایک لحاظ سے سچ ہی تو ہے ۔ افتتاہی اجلاس میں دہلی کے لفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کہا تھا کہ انگریزوں سے آزادی کے بعد اردو ہر عہد کی امین بنی ہے،اور یہ ایسی زبان ہے جسے اس خطے کی تہذیب سے جدا کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اسی موقع پر نجیب جنگ نے جشن ریختہ کو اردو کی نشاۃ نو کا عصری آہنگ قرار دیا۔ جب ہم جلسہ گاہ پہنچے تو جاوید اختر اور شبانہ اعظمی ، کیفی اعظمی کو یاد کر رہے تھے ۔ لوگوں کا جم غفیر تھا جواردو کے ایک انقلابی شاعر کی داستان حیات کو بہت محبت اور توجہ سے سن رہا تھا ۔ فرحت احساس، زمرد مغل، خالد جاوید، نجمہ رحمانی، رحمان عباس، فاضل جمیلی ، ثانیہ سعید، سرمد کھوسٹ ، فیاض احمد ،فیاض احمدوجیہہ، سالم سلیم ،الیاس شوقی،پہلی بار یہیں ملے جاوید اختر اور شبانہ اعظمی کی پر لطف باتوں کو سنتے ہوئے ۔
اگلے روز صبح ہی صبح ہم نے دیکھا ، بھارت کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار گلزار اردو سے محبت کرنے والوں سے ملنے لی میریڈین ہوٹل پہنچ گئے، اپنا روایتی سفید جامہ زیب تن کیے۔ اسی ہوٹل میں سب مہمان ٹھہرے ہوئے تھے ۔ اسی کی لابی میں ، ناشتے کی میز پر یا پھر عشائیے میں مختلف علوم اور فنون میں نام کمانے والوں کے بیچ خوب مکالمہ چلتا۔ ہوٹل ہی میں تصنیف حیدر، معید رشیدی اور خالد اشرف سے ملاقات رہی دوسرے روز دیوان عام میں گلزار کی گفتگو نے رنگ جمایا، کہا :’’جن لوگوں کو گماں ہے کہ اُردو ختم ہو رہی ہے یاآ نے والے وقتوں میں ختم ہو سکتی ہے ، انہیں جانناچاہیے کہ اردو زبان نہ صرف زندہ ہے بلکہ پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے، زندہ رہے گی اور اسی طرح لوگوں کی محبت پاتی رہے گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اردو مکمل زبان ہے اور اس کے اپنے سکرپٹ کو ہی رواج دیا جانا چاہیے کہ اسی میں اس زبان کی خوب صورتیاں ہیں۔دیوان خاص میں ’’عصمت چغتائی:روایت شکن عورت کی آواز‘‘ کے موضوع پر مکالمہ ہوا اور خوب ہوا ۔ انامیکا نے اس پروگرام میں میزبانی کی اور حق ادا کیا۔گفتگو زاہد حنا اور جیلانی بانو نے کی اور عصمت چغتائی کے افسانوں اوردوسری تحریروں پر بات کی۔ وہاں ایک کنج سخن بھی تھا ایک بھرویں پٹر تلے ، جس پر جھولتی بے شمار گھنٹیاں اور نقرئی کلیاں عجب سماں باندھ رہی تھیں ۔جہاں بچوں کے پروگرام ہوا کرتے ،اور کبھی کتابوں کی رونمائی ۔ ایک طرف فوڈ فیسٹول چل رہا تھا تو وہیں کچھ آگے کتابوں کی نمائش تھی اور اردو بازار کی رونقیں ۔’’زندگی کی صور ت گری‘‘ کے عنوان سے ٹی وی ڈرامے پر مکالمہ بھی خوب رہا ۔ ماضی کے پاکستانی ڈرامے کو بار بار یاد کیا گیا اور اس پر تاسف کا اظہار بھی ہوا کہ اب ڈرامہ اشتہار سے مات کھا رہا ہے ۔ٹی ڈراموں کے ذریعے اُردو سے مخصوص وہ الفاظ جو ہندی والوں کے ہاں مقبول ہوئے یا ہندی کے وہ الفاظ جو اردو والوں نے قبول کر لیے ان کا ذکر ہوا ۔ وہاں کے چینل ‘‘زندگی‘‘ پر بھی بات ہوئی جس پر پاکستانی ڈارمے دکھائے جاتے ہیں اور بہت مقبول ہیں ۔ اس مکالمے کی میزبان این ڈی ٹی وی کی مقبول اینکر نغمانہ سحر تھیں، خوب صورت اور چٹک پٹک اردو بولنے والی، جبکہ شرکاء گفتگو میں سرمد کھوسٹ، ثانیہ سعید، لبنی سلیم اور کنول جیت سنگھ شامل تھے۔ گوپی چند نارنگ نے دیوان خاص میں غالب کو یاد کیا ۔ گوپی چند نارنگ غالب شناسی کے حوالے سے بھی بہت اہم نام ہیں ۔ان کی کتاب ’’غالب:معنی آفرینی،جدلیاتی وضع،شونیتا اور شعریات ‘‘ آئی تو غالب شناسوں کی توجہ کا مرکز ہوگئی تھی۔ ’’آئینہ خانے میں لفظ ‘‘ کے عنوان سے انور مقصود نے محفل سجائی، بلکہ یوں کہنا چاہیے محفل لوٹ ہی لی ۔وہ فاطمہ ثریا بجیا کی رحلت کے غم میں تھے ، مگر ریختہ والوں سے وعدہ نبھانے دلی پہنچے تو انہیں سننے والوں کی بھیڑدیوان وام میں جمع ہوگئی۔
اخترالایمان کی نظم پر بات کرنے کے لیے پروگرام ’’ نورانی گھنٹیاں سی بجتی ہیں‘‘ کے عنوان سے ہوا ۔ اس نشست میں دوسروں کے علاوہ جاوید صدیقی اورسید کاشف رضا بھی شامل تھے ۔ یادرہے جاوید صدیقی کے لکھے ہوئے خاکوں کی کتاب’’ لنگر خانہ‘‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔’’ منٹو اب تک ہمکلام‘‘ میں سرمد کھوسٹ کے ساتھ ، نندیتاداس بھی گفتگو کرنے والوں میں شامل تھیں ۔سرحد کے دونوں طرف کے فنکاروں نے منٹو کو ایک سی محبت کے ساتھ یاد کیا ۔ نندیتا داس نے بتایا کہ وہ آج کل سعادت حسن منٹو کے حوالے سے ایک فلم پر کام کر رہی ہیں ۔ دیوان عام میں صابری برادران نے قوالی سے رنگ جمایا اور اس کے بعد مشاعرہ ہوا ۔ ان دونوں پروگرواموں میں لوگوں نے بھر پور دلچسپی لی ۔ مشاعرے میں گنے چنے شاعر تھے ۔ عباس تابش، انور مسعود، فاضل جمیلی، خوشبیر سنگھ شاد، سید کاشف رضا، راجیش ریڈی،شارق کیفی اور محمد علوی ۔ میں نے دیکھا سنجیو صراف سب سے پیچھے بیٹھے مشاعرہ سن رہے تھے ، فرحت احساس کو ہم بہت توجہ سے سنتے ہیں مگر وہ بھی مشاعرہ سننے والوں میں تھے ، یہ ایسی روایت ہے جس کی یہاں بھی تقلید ہونی چاہیے۔
تیسرے اور آخری روز کے پروگراموں کا آغاز دیوان عام میں جاوید اختر نے کیا ، ’’زندگی ، عاشقی اور شاعری‘‘ کے عنوان سے جاوید اختر نے اپنی شاعری سنائی اور گفتگو سے عجب سماں باندھا ۔ ادھر دیوان خاص میں ’’اردو ہندی ادب:مختلف لفظوں میں مشترک خواب ‘‘ کے موضوع پر مکالمہ ہوا ، اس نشست میں شمیم حنفی نے ایسی بہت سی صورتیں سجھائیں کہ کیسے اردو اور ہندی کے فاصلوں کو پاٹااورلسانی رابطوں کوبامعنی بنایا جاسکتا ہے ۔
اُردو کے جید نقاد شمس الرحمن فاروقی نے ’’میر تقی میر: مت سہل ہمیں جانو‘‘ کے عنوان سے گفتگو کی ۔ شمس الرحمن فاروقی محو گفتگو ہوں تو سامعین کی ساری توجہ کھینچ لیتے ہیں ۔ پھر میر اُن کا محبوب موضوع تھا جس کی مظہر ’’ شعرشورانگیز‘‘ کی چار جلدیں ہیں ۔ کچھ علیل سے دکھائی دیتے تھے پھر بھی بہت سلیقے سے بولے اور کئی دلچسپ نکات اُٹھاکر اس سیشن کو یاد گار بنا دیا ۔ ’’راجندر سنگھ بیدی : انسانی رشتوں کا رازداں‘‘ کے عنوان سے مکالمے میں میرے ساتھ، اِلا بیدی اور شمع زیدی تھیں جبکہ میزبان رحمن عباس، جن کے ناول ’’روحزن‘‘ کا اجراء بھی ہم نے اسی جشن میں کیا تھا۔ اِلا بیدی دَتا، راجندر سنگھ بیدی کے بیٹے نریندا بیدی کی دختر اور بالی وڈکی معروف اسکرین پلے رائیٹرہیں۔پروگرام کے بعد وہ بہت دیر اپنے دادا کے بارے میں بات کرتی رہیں ۔ انہیں خوشی تھی کہ پاکستان میں بیدی کا افسانہ پڑھا جاتا تھا۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ لاہور میں راجندر سنگھ بیدی کو صدی کی شخصیت پر یاد کرنے کی ایک تقریب لاہور میں بھی ہوئی تھی ، جس کی صدارت انتظار حسین نے کی تو ان کا چہرہ تمتما اٹھا اور بولیں کہ پاکستان میں اگر منٹو پر بنائی گئی فلم کی طرح بیدی پر بھی فلم بنا لی گئی تو ہمارے لیے کتنی شرم کی بات ہو گئی۔ الا بیدی دتا نے بیدی کے افسانوں کی ڈرامائی تشکیل بھی کی ہے۔ برصغیر کا افسانہ کے عنوان سے مکالمے میں انتظار حسین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ اس نشست کی میزبانی آصف فرخی کر رہے تھے ، جب کہ گفتگو میں اسد محمد خاں اور شمیم حنفی شامل تھے ۔ یادرہے انتظار حسین کو بھی اس جشن میں شریک ہونا تھا اور ریختہ والوں نے اس کی خوب خوب تشہیر کی تھی ، مگرکچھ دن پہلے ان کا انتقال ہو گیاتھا ۔ افسانے کی اس نشست میں انہیں جی بھر کر خراج تحسین پیش کیا گیا بہ طور خاص شمیم حنفی کی باتیں بہت مربوط اور انتظار حسین کی شخصیت اور فن کے حوالے سے بہت اہم تھیں ۔
کئی کتابوں کا اجراء بھی جشن کے دوران ہوا جن میں احمد مشتاق کی ’’اوراق خزانی‘‘، ژولیان کے’’تین ناول‘‘اور فرحت احساس کی مرتب کردہ’’غزل اس نے چھیڑی ‘‘ شامل ہیں۔ رات گئے، موسیقی کے پروگرام میں رفاقت علی خان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور لوگوں کے دل جیت لیے ۔اس سے قبل ایک اختتامی اجلاس میں ریختہ کے بانی،سنجیو صراف نے چند سطروں کا خطاب کیا جس میں مہمانوں کاشکریہ تھا اور لوگوں کا بھی جنہوں نے جشن ریختہ میں بھرپور شرکت کرکے اسے کامیاب بنایا تھا ۔ صراف نے یہ بھی کہا کہ جشن ختم نہیں ہوا ، اگلے سال پھر سے اردو کے ایک اور جشن میں ملنے کے لیے یہان بس ایک وقفہ ہو رہا ہے۔
اگلے روز پاکستان ہاؤس نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنرجناب عبدالباسط نے جشن ریختہ میں شرکت کرنے والے پاکستانی ادیبوں اور فنکاروں کے اعزاز میں ظہرانہ دینا تھا ۔ ہمارے پاس اتنا وقت تھا کہ دلی گھوم پھر کر دیکھ لیں، خالد اشرف ہمیں برطانوی عہد کی سندر نرسری، ہمایوں کا مقبرہ، قطب مینار ،غالب کا مزار، اور سلطان العارفین نظام الدین اولیا کے دربار لے گئے ۔مجھے نئی دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہونے والے دو روزہ بین الاقوامی سیمینار سے بھی خطاب کرنا تھا ، جو بیسویں صدی کے اہم ادبی رجحانات کے موضوع پر ہو رہا تھا، سو اس کا موقع بھی نکلا۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس میں کسی منچلے نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا توسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیاکمار پر غداری کا مقدمہ قائم کر دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی میں جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے تھے ، پولیس بھی بھاری تعداد میں موجود تھی اور اسی ہنگامے میں میزبان ہمیں کانفرنس ہال میں لے کر پہنچے تھے ۔ وہیں پروفیسر انور پاشا، پروفیسر عتیق احمد، خلیل طوق آر(ترکی)، صدیق الرحمن قدوئی،ڈاکٹر شفیع ایوب اور پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کے علاوہ اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والے سو کے لگ بھگ طالب علموں سے ملاقات ہوئی۔ ایک ایرانی طالبہ نے ہمیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے ۔ اس کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں، اردو افسانے کی صورت حال پراپنا مقالہ پڑھنے کے بعد ہم پاکستان ہاؤس میں تھے ۔ ظہرانے میں ریختہ کے بانی سنجیو صراف بھی مدعو تھے ۔ وہیں کسی نے سنجیو صراف سے سوال کیا تھا کہ اردو کے لیے ریختہ کا قیام کا خیال ان کے ذہن میں کیسے آیا تھا توانہوں نے کہاتھا، اُردو شاعری سے محبت ،اس ادارے کا جواز بنی ، اور اب لوگوں کی اردو سے بے پناہ محبت کے مظاہرے دیکھتا ہوں جی چاہتا ہے کہ لوگ اس میٹھی زبان کی طرف آئیں لہذا عام لوگوں کی رسائی میں اردو کا شعری اور ادبی ذخیرہ لانے کے لیے ویب سائٹ قائم کی گئی۔ اب انٹر نیٹ کے ذریعے اردو کی ہزاروں کتابیں لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں ۔ ریختہ پر ۱۸۰۰ سے زائد شعرا کا کلام موجود ہے اور ایک اندازے کے مطابق ایک سال میں ۴۰ لاکھ سے زائد لوگ دنیا کی سب سے بڑی اردو ادبی ویب سائٹ کو دیکھتے ہیں۔

rek3
جشن ریختہ2016:راجندر سنگھ بیدی،انسانی رشتوں کا رزداں کے موضوع پر مکالمہ میں محمد حمید شاہد، الابیدی دتا، شمع زیدی۔ میزبان رحمن عباس تھے
rek5
حاضرین
12805742_10153189489231157_7524503521737282455_n
انور مسعود، سید کاشف رضا، محمد حمید شاہد، یاسمین حمید، اور عرفان خان
12688106_10153166028551157_436417328991634022_n
ژولیان ، رحمن عباس، محمد حمید شاہد، یاسمین حمید
12715338_10153160176436157_2184219482263645386_n
محمد حمید شاہد،نعمان شوق، الا بیدی دتا
12744619_10153160569401157_6656192070129962089_n
یاسمین حمید، گلزار ، محمد حمید شاہد
12743860_10153162173696157_8644105285392653546_n
مزار غالب پر:محمد حمید شاہد
12733637_10153160568236157_1790491455567157795_n
شمس الرحمن فاروقی، آصف فرخی، محمد حمید شاہد
12733379_10153168600861157_1413201454110053471_n
سنجیو صراف، اسد محمد خاں، محمد حمید شاہد
12717526_10153160569191157_7106795821614399913_n
ثانیہ سعید، یاسمین حمید
12687879_10153162017876157_3969943100691048515_n
یاسمین حمید ، محمد حمید شاہد
1464747_10153162053781157_3263513401278211168_n
شمیم حنفی، نغمانہ سحر،یاسمین حمید
12744224_1241782272518040_1549752937580831493_n
لوگوں کا جوش و خروش : ایک منظر
12745525_470635746462819_4288895825597202648_n
استاد رفاقت علی خان، انور مقصود، زمرد مغل

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *