M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد کامران شہزاد،فرزانہ رمضان|محمد حمید شاہد سے مکالمہ

محمد کامران شہزاد،فرزانہ رمضان|محمد حمید شاہد سے مکالمہ

 “بہ شکریہ سہ “ماہی فن زاد

عصرِ حا ضر کے تخلیق کاروں میں ایک معتبر نام محمد حمید شاہد کا ہے جو ادب کی کا ئنات میں ناول نگار ، افسانہ نگار اور نقاد کی حیثیت سے شنا خت رکھتے ہیں۔حمید شاہد ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء کو پنڈی گھیب میں پید ا ہو ئے۔ میٹرک تک تعلیم وہیں سے حاصل کی اورایگری کلچر میں بی ایس سی آنرز کے لیے فیصل آباد زرعی یو نی ورسٹی میں داخلہ لیا ۔ طالب علمی کے عرصے میں ہی وہ ادب کی طرف متوجہ ہو چکے تھے ۔ یونیورسٹی کے زمانے میں ’’کشت نو ‘‘ کے مدیر اعلی رہے ، اسی زمانے میں پہلا افسانہ لکھا پہلی کتاب شائع ہوئی ۔ حمید شا ہد کا بنیادی حوالہ افسانہ ہے وہ گزشتہ صدی کی آٹھویں دہا ئی سے افسانہ لکھ رہے ہیں اور نویں دہائی میں انہوں نے اپنی شناخت مستحکم کی ۔ ان کے اب تک چار افسانوی مجمو عے ، بالترتیب ’’بند آنکھوں سے پر ے‘‘،’’ جنم جہنم‘‘، ’’مرگ زار‘‘ اور’’ آدمی‘‘ شا ئع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انھو ں نے ناول’’ مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ تحر یر کیا،جس کی بدو لت انھو ں نے جدید ناول نگاری میں بھی اپنی شناخت مستحکم کی ۔حمید شا ہد جہاں تخلیقی عمل سے وابستہ ہیں وہیں وہ اعلی درجے کی تنقیدی بصیرت بھی رکھتے ہیں۔ اس باب میں بھی انہیں نمایاں مقام دیا جاتا ہے بہ طور خاص فکشن پر ان کی تنقید بہت اہم ہے ۔ فکشن پر تنقیدی مضامین ان کی پہلی تنقیدی کتاب ’’ادبی تنازعات ‘‘ میں بھی شامل تھے تاہم بعد ازاں کتاب ’’اردو افسانہ: صورت و معنی‘‘، ’’کہانی اور یوسا سے معاملہ‘‘اور ’’سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘ جیسی کتابوں اور مضامین کے اس سلسلے کے سبب جو ’’فکشن میرے عہد کا‘‘ کے عنوان سے ’’ادبی دنیا‘‘ نامی بلاگ پر مسلسل سامنے آ رہے ہیں فکشن کی تنقید کا ایک اہم اور نمایاں ترین نام بن گئے ہیں ۔ ایم فل کی سطح کا تحقیقی و تنقیدی مقالہ تحریر کرنے کے دوران حمید شاہد کو توجہ سے پڑھنے کا اتفاق ہوا اور ان کے انٹرویو کا موقع نکلا تو ان کے تخلیقی عمل کے حوالے سے متعدد سوالات کیے ۔ یہاں مرتب کی جانے والی گفتگو میں میرے علاوہ محترمہ فرزانہ رمضان شریک رہیں ۔ جب ہم جناب حمید شاہد کے ہاں پہنچے تو مسکراتے ہو ئے چہرے والی اس شخصیت نے پر تپاک استقبا ل کیا ۔ تعارفی مرحلے کے بعد گفتگو کا سلسلہ شر وع ہوا وہ تحمل اور تفصیل سے ایک ایک سوال کا جواب دیتے رہے۔ میں نے سوالات کا آغاز ان کے ایسے افسانوں سے کیا جن میں زبان یا تیکنیک کے تجربات سے معنوی تہہ داری پیدا کر لی گئی تھی۔

xxxxxx

سہ ماہی فن زاد۔ بھیرہ :شمارہ 7
سہ ماہی فن زاد۔ بھیرہ :شمارہ 7

کامران: افسانہ ’’نرمل نیر‘‘ میں ہندی لفظیات کے ذریعے ماحو ل بنایا ہے آپ نے منفرد تکنیک سے افسانے کو کس تناظر میں لکھا ہے؟

حمید شا ہد: ہاں یہ درست ہے کہ ہندی لفظیات کی کوملتا سے اس افسانے کا مزاج بنایا گیا ہے ۔ ’’نرمل‘‘ کے معنی ہوتے ہیں ملائم جبکہ ’’ نیر‘‘ کا مطلب ہے آنسو، یوں زندگی اس جہت سے دیکھنے کی سعی کی گئی ہے جہاں انسان کا وجود ایک ملائم اور شفاف آنسو کا سا ہو جاتا ہے، زندگی کا ایک دائرہ ہے اور اس دائرے میں انسان اپنے وجود کے مختلف مراتب پر جیتا اور زندگی کو بھوگتا ہے مگر آخرکار اسے مقدر کی بارگاہ میں پیشی دینا ہوتی ہے ۔ اس افسانے میں انسانی مقدر کو گرفت میں لینے کی کو شش کی گئی ہے اور آنسوؤں کے گرنے اور ڈابک میں مل جانے سے زندگی کی تفہیم کی گئی ہے ۔

کامران: افسانہ ’’ نئی الیکٹرا‘‘ میں آپ نے اسا طیری فضا بنا ئی ہے ،کہانی بہت گہری ہے مگر لگتا ہے اس میں کچھ سیاسی معنی بھی داخل ہو گئے ہیں ۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

حمید شاہد: افسانے میں الیکٹرا کے معروف کردار کو مو جودہ عہد میں رکھ کر دیکھا گیا ہے۔ بجا کہ اس افسانے میں سیاسی معنی بھی پیدا ہو گئے ہیں مگر یہ سیاسی معنویت آج کے زمانے کی عورت کے وجود سے جڑ کر پیدا ہوئی ہے۔ عورت کا کردار کیا ہو ہمارے ہاں یہ ابھی تک طے ہی نہیں ہو پایا ہے ۔ اس عورت کا کہیں تو ہمارے سماج میں استحصال ہو رہا ہے اور کہیں سماجی استحصال کے لیے عورت کے وجود کو استعمال میں لایا جا رہا ہے ۔ اس افسانے کی عورت بھی ایک مہرہ ہے ، ایسا مہرہ جسے یقین ہے کہ وہ خود انحصاری کی مہم سر کر رہی ہے ۔ اس کوشش میں وہ اپنے مدار سے نکل جاتی ہے اور ایسا کردار ہو جاتی ہے جو الیکٹرا نہیں کلائٹمنسٹرا کا ہے ، جس کے پاس چالیس چوروں کی طاقت ، مرجینا کی چمکتی جلد اور اسی طرح کے دیگر اساطیری اور فکشن کے معروف کرداروں کے قرینے ہیں ۔ اس کردار میں قدیم عہد کی عورت اور جدید عہد کی تمام رکاوٹیں عبور کرکے آگے نکلنے کے جتن کرتی عورت کے فرق کو واضح کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔

کامران: ’’آئینے میں جھانکتی لکیریں‘‘ میں قومی زندگی کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں ایسا ہی ہے ؟

حمید شاہد: کامران آپ نے درست اشارہ کیا یہ۔ یہ افسانہ قومی زندگی کے ایک موڑ پر لکھا گیا ہے تاہم اس میں فرد کو قوم اور انسانیت کے نمایندے کے طور پر ایک کردار کی صورت میں دیکھا گیا ہے ۔ موضوع بہت نازک اور بہت اہم تھا لہذا خو دکلامی کی تکنیک سے بیانیہ کی ایک اور سطح کو تخلیق کیا گیا ہے ۔ انسان اپنی دونوں حیثیتوں میں ناکامی سے دوچار ہو رہا ہے ، اس کا سبب کیا ہے افسانہ اس پر مکالمہ قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔ یہاں فکر کو حسیات میں گوندھ کے کہانی کا بیانیہ بنا گیا ہے جس کے سبب کہانی معنی کی دونوں سطحوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلتی ہے ۔

فرزانہ : آپ نے عورت کے متعدد کردار لکھے ہیں ، افسانہ ’’گرفت‘‘ کی عو رت آدھی زمین میں دفن ہے، یہ کن معنوں میں آپ نے کہا ہے ؟

حمید شا ہد: فرزانہ، آپ کے سوال کے جواب کا ایک حصہ تو آپ کے سوال کے دوسرے حصے میں ہی موجود ہے ۔ اس افسانے میں عورت کو سماج اور معاشرے کے اندر رکھ کر اور اسے ان رشتوں کے حوالے سے دیکھا گیا ہے جو عورت کو توقیر بخش سکتے تھے مگر اس کی ذلتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ مرد عورت کا ہاتھ پکڑتا ہے تو وہ موم کی طرح پگھل جاتی ہے ، اس پگھل جانے والی عورت کو اگر ہمارا سماج دلدل کی طرف دھکیلتا رہے گا تو ایک صحت مند سماج کیسے تشکیل پائے گا؟ یہ سوال اس افسانے کے متن میں موجود ہے ۔ جس طرح کا ماحول ہمارے مرد عورت کے لیے فراہم کر رہے ہیں اس میں تو کھل کر سانس لینا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے ۔ مرد کی نام نہاد انا نے عورت کا آدھا وجود زمین می گاڑھ رکھا ہے ، افسانہ بتاتا ہے کہ یہ عورت ساری عمر دفن ہونے والے وجود کو مٹی کے اندر سے نکالتے نکالتے خود مٹی کا رزق ہو جاتی ہے ۔

کامران: آپ نے اپنے افسانے ’’ماخوذ تاثر کی کہانی‘‘ میں زندگی کو تصو ف کی سطح پر دیکھا ہے ؟آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

حمید شاہد: اس افسانے میں زندگی اخذ کرنے کے مختلف رُخ بتائے گئے ہیں۔ کلام کی سطح پر تصوف کی سطح پر زندگی کو جانچا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ طبیعاتی ماحول کے اندر رکھ کر انسان کے وجود کی مختلف سطحوں کو کھرچا گیا ہے ۔ بنیادی طور سوال جو اس افسانے میں میرے مقابل رہا وہ یہ تھا کہ ہم مصنوعی طریقوں سے تخلیقی عمل کے کمال کو نہیں پا سکتے ، زندگی فقط پہلے سے موجود کہانیوں کا چربہ نہیں ہے ، یہ ہر آن ایک نئی سطح پر تخلیق ہوتی ہے اسی کی تلاش سے انسانی وجود کا اعتبار قائم ہوتا ہے ۔ اچھا ہم جس نوع کی زندگی کی طلب میں ہوتے ہیں ، وہ زندگی عین مین ویسی ہمارے بخت میں آئے نہ آئے ہ،یہ طلب ہماری شخصیت کا ایک مزاج بنا رہی ہوتی ہے ۔ انسانی وجود کے اندر سے حیوان کی خصوصیات تلاش کرنے میں جتا ہوا شخص ، اس ریاض کی انتہا پر پہنچ کر خود کو انسان سے دور اور حیوان سے کہیں قریب پانے لگتا ہے ۔ اپنی ہستی کا یقین کیسے ہو؟ افسانہ اپنے قاری کو کچھ صورتیں سجھاتا ہے کہ وہ اس سوال کے مقابل ہو اور اپنے وجود کے مقابل بھی اور پھر خود سے اس راہ کاتعین کرے جہاں سے یقین کی اس دولت کو پایا جا سکتا ہے۔

کامران: افسانہ’’ جنم جہنم ‘‘کے تین حصے ہیں ۔ ایک کہانی میں تین کہانیاں یا پھر زندگی کے تین رخ۔مشکل اور بہت گہرا افسانہ ہے مگر بیانیہ دلچسپ اور توجہ گرفت میں رکھتا ہے کہ ہم آخر تک اسے پڑھتے ہیں۔ اور کچھ ایسے معنی اخذ کرتے ہیں جنہیں شاید ہم بیان نہ کر سکیں ۔ آپ کا اس افسانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

حمید شا ہد: ہاں کامران آپ نے درست کہا ۔زندگی کے کچھ معنی ایسے ہوتے ہیں جنہیں حسی سطح پر سمجھا جا سکتا مگر وہ کسی بیان میں نہیں سما سکتے ۔ فکشن کا یہ منصب ہے کہ وہ زندگی بیان نہ کرے اسے اپنے قاری کی محسوسات پر کھول کر رکھ دے ۔ ا س افسانے پر بات کرنے سے قبل میں یہ بتا دوں کہ اس افسانے کی کہانی گیارہ سا ل تک میرے ذہن میں پکتی رہی، جب اس کا خمیر مکمل طور پر ذہن میں تیار ہوگیا تو ایک رات میں تینوں کہانیاں کاغذ پر منتقل ہوگئی ۔ خیر افسانے لکھے گئے ، میں رات بھر کاغذ پر جھکا رہا تھا میری کمر درد سے سیدھی نہیں ہو پارہی تھی مگر مجھے اس کی پرواہ بھی نہیں تھے ۔ یوں جھکے جھکے میں نے کہانی کو صاف صاف لکھا ۔ تب میں کمپیوٹر پر براہ راست نہیں لکھتا تھا ، یہ تو بعد میں ہوا کہ میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں تو کی بورڈ پر انگلیاں جمالیتا ہوں ۔ تب کاغذ قلم تھامے میز پر بیٹھا رہتا  ۔ ہاں تو کہانی جب صاف صاف لکھ لی تو دماغ میں عجب سی دھند تھی اور بدن جیسے درد کی لذت میں ڈوبا ہوا تھا ۔ میں نے اپنے تئیں صاف لکھی کہانیوں کے پرچے ایک طرف رکھے اور ان رف کاغذات کو پھاڑتا چلا گیا جن پر کہانی ابتدائی طور پر لکھی گئی تھی ۔ اور جب میں ان کاغذوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر چکا اور بیگم کو خوشی سے پکارا کہ دیکھو میں نے کیسی زندگی کو کھولتی ہوئی کہانیاں لکھی ہے۔یاسمین ،میری بیوی دوڑتی ہوئی آئی ۔ جب میں لکھ لیتا ہوں تو میری خوشی سے یاسمین بہت لطف اندوز ہوتی ہے ۔ میں نے کہا سنو گی ، زرا طویل ہے ، وہ پاس بیٹھ گئی ، کہا سناؤ۔ میں نے کہا ایک نہیں تین کہانیاں ہیں ۔پھر پلٹ کر ان کاغذات کو دیکھتا ہوں جن پر کہانی کو صاف کرکے لکھا تھا مگر وہ وہاں نہیں تھے وہ کاغذات تو میں نے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کرکے نیچے فرش پر گرادیے تھے ۔ جنہیں میں نے بے دھیانی میں سنبھال کر ایک طرف رکھا تھا وہ تو کہانی کی وہ صورت تھی جو ابتداء میں ایک بہاؤ میں میں لکھتا چلا گیا تھا، خیر ، جو ہوا سو ہوا اور یہ الگ قصہ ہے کہ کیسے کہانیوں کا متن بحال ہوا ، ان کہانیوں میں جس زندگی کو سمجھنے کے جتن ملتے ہیں وہ ہم ایسے تخلیقی متن کی صورت میں سمجھ سکتے ہیں جسے ہم بے دھیانی میں خود ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں ، تباہ کرتے ہیں ۔ فتح محمد ملک نے کہا کہ فلسفہ لذتیت سے زندگی کو دیکھنے کی صورتیں ہیں مختلف جہتوں سے ۔ میں سمجھتا ہوں یہ بات درست ہے ، ایک اعتبار سے ایسا کہا جا سکتا ہے ۔ ایک فاحشہ کی طرح زندگی اور اس کی آسائشیں ہمارے آگے بھاگ رہی ہیں ۔ ننگی اور فاحشہ بدن میں لذت بھرتی ہے مگر آخر کار اسے ہمارے دل میں ایک کھٹکا رکھ دینا ہوتا ہے پشکن نے کہا تھا آہ ننگی حسین نہیں ہوتی کھٹکتی ہے ۔ یہی کھٹکا جب حاصل ہوتا ہے تو زندگی جہنم بن جاتی ہے ۔یہی ہمارے صو فیا کا بھی خیال میں ہے ۔

فرزانہ: آپ کا پہلی نظر میں ہو نے والی محبت کے بار ے میں کیا خیال ہے؟

حمید شاہد: میرے نزدیک پہلی نظر میں محبت نہیں ہو تی بل کہ وہ تو ہوس ہے کچھ پانے کی یا ملکیت میں لے لینے کی شدید خواہش ہوتی ہے جو انسان کے اندر جنم لیتی ہے کہ یہ چیز یا شخص میرا ہو جائے۔ ساتھ رہنے اور برداشت کرنے کے بعد جو بچ رہتی ہے دراصل وہ محبت ہوتی ہے خوبیوں اور خامیوں سمیت دل میں سمائے رہنے اور وہ جو دل میں سمایا ہوا ہے اس کے لیے اپنے حق سے دست بردار ہوتے چلے جانے کا نام محبت ہے اور اگریہ نہ بچے تو زندگی جہنم ہے ۔ لہذا جنم جہنم کے افسانوں میں رو حانی ، جسمانی، سماجی ہر سطح پر زندگی کی تفہیم کی کوشش کی گئی ہے ۔

کامران: طویل افسانے ’’کفن کہانی‘‘ میں ایک ڈاکو کی زندگی کو دکھایا گیا ہے اور اس کے مقابل ایک تخلیق کار کی زندگی کو بھی ، اس کہانی کے حوالے سے کچھ بتائیں ؟

حمید شا ہد: یہ افسانہ سندھ کی دیہی زندگی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ ٹھہری ہوئی اور سہمی ہوئی زندگی ، بلکہ یوں کہوں کہ ایسا سماج جس میں زندگی کا ہر آنے والے لمحے میں کوئی نہ کوئی جزو معدوم ہو جاتا ہے ، مر جاتا ہے یا ہم خود اسے تباہ کر دیتے ہیں ۔ عجب معاشرہ ہے کہ ہم جو بدلنا چاہتا ہے اسے بدلنے نہیں دیتے جو محبت سے اپنے دل کو آباد کرنا چاہتا ہے اس کی امیدوں کے چراغ بجھا دیتے ہیں ۔ یہ ہمارے ہاں منفی سطح پر رائج ہو جانے والے معاشرتی رویوں کی جراحی ہے ۔ پھر ایک تخلیق کار کی زندگی کو اس میں اس بدل جانے والے شخص کے ساتھ رکھ کر دیکھا گیا ہے ۔ تو یوں ہے کہ ہم زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ہمیں دفن ہونے کے لیے کفن بھی میسر نہیں ہو رہا ہے ۔ معاشرے کی موت دراصل تخلیقی سطح پر اس معاشرے کا مر جانا ہے ۔ تو یوں یہ افسانہ ایک سے زیادہ سطح پر زندگی کی تعبیر کرتا ہے ۔

کامران: افسانہ ’’ اپنا سکہ‘‘ میں سکے کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟

حمید شا ہد : ’’اپنا سکہ‘‘ جدید عہد میں اپنی قدیم اور مستحکم شناخت کے ساتھ موجود انسان کاا لمیہ ہے ۔ نیا عہد انسانی حوالے کا منصب سر انجام دیتی مثبت اقدار کا نہیں بلکہ ایسی اقدار کے بوسیدہ ہونے ، بوجھ بن جاتے اور شرمندگی کا باعث ہوجانے سے عبارت ہے۔سو یہ پرانی اخلاقیات پر تکیہ کرنے والی زندگی یملیحاہ کے ہاتھ میں موجود اس سکے جیسی ہو گئی ہے ،جو دفینوں میں تو ہو سکتا تھا مگر اس نئے دور میں نہیں چلتا تھا ۔ اب منڈی اپنی اخلاقیات خود بنا رہی تھیں ۔ بازار طے کر رہا تھا کہ آدمی کو کیسے جینا ہے ۔ سو انسان کی ظاہری زندگی کو اس کے باطن سے کٹی ہوئی زندگی کو سمجھنے کی کوشش ہے یہ افسانہ ۔

کامران : نائن الیون اور اس سے پہلے عراق کا منظر نامہ ،یہ بھی آپ کے افسانوں کا موضوع بنے ہیں ۔ ان افسانوں کو پڑھ کر موت بار بار سامنے آتی ہے۔ ’’ موت مند ی میں اکیلی مو ت کا قصہ‘‘ میں بھی موت نے ہی ڈیرے ڈال ہو ئے ہیں ۔ موت کو بار بار لکھنے کا سبب کیا ہے ؟

حمید شا ہد : مجھے زندگی میں جس لمحے بھی یا د آتا ہے کہ مرنا ہے تو میں اور شدت سے جینے کے جتن کرنے لگتا ہوں۔ میں موت کو نہیں بلکہ زندگی کو لکھتا ہوں مگر ان دنوں یہ ہو رہا ہے کہ موت کالی بلی کی طرح میرا راستہ کاٹ جاتی ہے ۔ میں وہیں رک کر زندگی کو مو ت کے مقابل رکھ کر دیکھنے لگتا ہوں ۔ جس طرح روشنی کو سمجھنے کے لیے تاریکی کو سمجھنا ہوتا ہے اور سچ کو سمجھنے کے لیے جھوٹ کو بھی تو یوں ہے کہ مجھے زندگی کو محسوس کرنے کے لیے اپنے وجود پر موت کا آرا چلتے ہوئے بھی دیکھنا پڑتا ہے ۔ ’’موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ‘‘ میں اجتماعی موت کے زمانے میں ایک شخص کی موت کا افسانہ ہے ایسی موت جو بے توقیر ہوگئی ہے ۔

فرزانہ: موت کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا ہے شاید ، کہ یہ آپ کے افسانوں میں بار بار سامنے آتی ہے؟

حمید شاہد: یہ میرے بھائی اور اور والد کی مو ت کے اثرات ہیں شاید(یہ کہتے ہو ئے آب دیدہ ہو گئے )اور اس کی جھلک افسانے ’’مر گ زار‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔

فرزانہ: مرگ زار ،گانٹھ، لوتھ، سورگ میں سور اور اس طرح کے دوسرے افسانے جہاں موجود زندگی کی حسیات کو سامنے لاتے ہیں وہیں ان میں کچھ تجربات بھی کئے گئے ہیں بیانیہ کی سطح پر اور تیکنیک کی سطح پر ۔ کیا ان موضوعات کو سیدھی کہانی میں بیان نہیں کیا جا سکتا تھا ؟

IMG_20160325_202808
حمید شاہد: شاید نہیں ، بلکہ مجھے کہنا چاہیے ، بالکل نہیں ۔ خبر سے جڑی ہوئی کہانی اگر ایک جمالیاتی بعد پیدا نہ کرے تو وہ اتھلی ہو جاتی ہے ۔ یہ کہانیاں اپنی تیکنیک اور اپنا بیانیہ ساتھ لے کر آئی ہیں ، میں اس تبدیل ہو جانے والے بیانیے کو بدل دیتا یا نئی سوجھنے والی تیکنیک سے کنی کاٹ کر کہانی لکھتا تو ان کہانیوں کے ڈیپ اسٹریکچر میں بچھتے چلے جانی والی معنیاتی تہوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ۔ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے تخلیقی عمل سے خیانت نہیں کی ، اس عمل کی عطا یہ ہے کہ ان افسانوں کو ادبی حلقوں میں بہت توجہ سے دیکھا گیا اور مجھے ان کے باعث وہ محبت ملی ہے کہ میں جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔

کامران : ’’ تکلے کا گھاؤ‘‘ آپ کا ایسا افسانہ ہے جس میں قدیم زبان اور مروج بدلتی ہوئی زبان کے استعمال سے تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کو گرفت میں لیا گیا ہے ۔ یہ خیال آپ کو کیسے سوجھا ۔؟

حمید شاہد: جی ہاں اس میں وقت جست لگاکر آگے نہیں نکلا ہماری تہذیبی زندگی کو لتاڑتا اور روندتا ہوا آگے بڑھا ہے۔ اس میں تین نسلیں ایک ساتھ کہانی میں ابھر کر سامنے آتی ہیں اور اور اس بھیانک خلا کو نشان زد کرتی ہیں جس میں ہماری زندگی کی ساری ہماہمی غائب ہو رہی ہے ۔ ایک طرف ہماری دیہی زندگی کی محرومیاں ہیں اور دوسری طرف شہری زندگی کے عذاب۔ نئی نسل اور طرح کی ہے اور پرانی نسل اور طرح سے سوچتی تھی ، زندگی کرنے کے قرینے بدل گئے ہیں اور ایسے میں وہ جو ہم ہر غم میں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں، محرومیوں میں اور رشتوں میں زندگی کا لطف تخلیق کر لیا کرتے تھے ، وہ اب ممکن نہیں ہو پارہا ۔ میں ماضی پرست نہیں ہوں مگر میں مشقت میں پڑے ہوئے اس آدمی سے بھی خوف زدہ ہوں جو اپنے ساتھ سے ہنس کر بات کرنا بھی بھول گیا ہے ۔ سو یہ افسانہ ہمیں ان جذبوں سے ملواتا ہے جو کبھی زندگی پر ہمارا اعتبار قائم کرتے تھے اور اب ہمارے ہاں سے اس طرح غائب ہوتے جارہے ہیں کہ ہمیں اس زیاں کا احساس تک نہیں ہے۔

کامران: افسانہ’’ شاخ اشتہا کی چٹک‘‘ جنسی مو ضوع پر افسانہ ہے اور یہ آپ نے کسی ناول سے متاثر ہو کر لکھا اور اس میں دو تہذیبوں کا امتزاج دکھایا گیا ہے آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ؟

حمیدشاہد: یہ افسانہ مارکیز کے ایک ناول کے ذکر سے شروع ہوتا ہے اور پھر ہماری اپنی معاشرت کے تعفن کو کھولتا چلا جاتا ہے ۔ اس افسانے میں انسانی وجود اور اس سے جڑے ہوئے رشتو ں پر بات کی گئی ہے ۔ اس افسانے کو لکھتے ہوئے مجھے موقع ملا کہ دومعاشروں کو سامنے رکھ کر اپنے ہاں کی زندگی کو محسوس کر سکوں ۔ یوں جو تضادات سامنے آئے چاہے وہ خاندان کے بکھرنے کے حوالے سے ہوں یا جنس کے برتنے کے حوالے سے ، وہ جس طرح ہماری زندگیوں کو گدلا کر رہے ہیں اسے سمجھنا ممکن ہوا ہے۔ محبت انسان کے وجود کے اندر چھپی ہوئی ایک قوت ہے ، بے پناہ قوت ۔ یہ اپنے وقت پر سامنے آتی ہے اور ہمیں بالکل مختلف کر دیتی ہے ۔ مگر یہ افسانہ محض یہی نہیں ہے اس میں بہت لطیف جذبوں او وجود کی بہت خفیف لرزشوں کو گرفت میں لیا گیا ہے جنہیں بیان نہیں کیا جا سکتا فقط محسوس کیا جا سکتا ہے۔

فرزانہ: کچھ اور افسانوں کے ۔۔۔۔۔؟

حمید شاہد: سارے افسانے اس نشست میں ہم کیسے زیر بحث لا سکتے ہیں ۔ایسا ممکن بھی نہیں ہے ۔ تاہم ایک بات میں آپ کے سامنے دہرانا چاہتا ہوں ، یہ بات میں اپنے آپ کو بھی یاد دلاتا رہتا ہوں کہ زندگی کا سچ عام زندگی کے سچ سے کہیں بڑا سچ ہوتا ہے۔ لکھتے ہوئے میں فقط زندگی کی تصویر کشی نہیں کرتا زندگی کو نئے سرے سے تلاشتا اور تراشتا ہوں ۔ آپ نے افسانے پڑھے اب ذرا غور سے ایک بار پھر پڑھیں گے تو میرے اس بیان کی تصدیق کریں گے ۔

فرزانہ۔ کامران: اس گفتگو کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

“رات گئے”|PTV

Raat Gaye: Ep 42 October24,2017 PTV HOME  Host: Ammar Masood Guests: M Hameed Shahid  Lubna …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *