M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد| احسان اکبر کی نظم پر ایک مختصر نوٹ

محمد حمید شاہد| احسان اکبر کی نظم پر ایک مختصر نوٹ

pagsse5
http://e.jang.com.pk/06-01-2016/karachi/page5.asp#;

 

پچھلی صدی کی غالباً ساتویں کا آخر یاآٹھویں دہائی کا آغاز ہوگا کہ منیر نیازی نے کہہ دِیا تھا:
’’ کون جانتا ہے اگلی صدی میں آج کے لکھنے گئے ادب میں سے کیا سلامت رہ جائے۔تاہم جو جو کچھ زندہ رہ جائے گا ، اس میں احسان اکبر کی نظم ’’اک دَابی پور کماد کی‘‘ضرور شامل ہوگیااور یقیناًتب بھی اتنی ہی تازہ اور اتنی ہی مقبول ۔‘‘
حمید نسیم کو بھی یہ نظم بہت پسند تھی، انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا
’’اکیسویں صدی میں شاعری کی لفظیات اور اسلوب وہی ہوگا جو احسان اکبر کی اس نظم میں جلوہ گر ہے۔‘‘
منیر نیازی کی بات شاید احسان اکبر نے اپنے دھیان کی گرہ میں باندھ کر رکھ لی تھی، کہ باقی معاملوں میں وہ نچنت ہو گئے تھے۔ پھر وہی ہوا جو منیر نیازی نے کہا تھا ، احسان اکبرکی نظم ’’اک دابی پور کمادکی‘‘ کی شہرت جست لگا کر نئی صدی میں داخل ہو گئی۔ حمید نسیم کا کہا کب پورا ہوگا ، ہوگا بھی یا نہیں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا ، مگر خود احسان اکبر کا نام اس نظم یا پھر ’’شام کا نام سویر‘‘ یا ’’ہو اسے بات کرو‘‘ جیسی دو چار بار بار پڑھی جانے والی نظموں کے ساتھ تولیا جاتا رہا مگر اس شاعر کے مجموعی کام کا ذکر نئی نظم کی تنقید میں حاشیے پررہا ۔ وہ اپنے ساتھ کے لکھنے والوں میں گنے جارہے تھے نہ اُن کے ساتھ ، جن کے زمانے میں ان کی پہلی کتاب’’ہوا سے بات‘‘چھپی تھی ۔وہ اپنی مقبول نظموں کی معیت میں رہے مگر اپنے زمانے سے پچھڑے رہے اور کئی برسوں کے اِنتظار کے بعدچونکے ، ہمت باندھی اور اپنی شاعری کا پہلا مجموعہ کہیں ۲۰۰۲ ء میں دے ہی دیا۔ کہہ لیجئے کچھ مدوا ہوا۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور لکھا ہوا لفظ دونوں اپنا کام کیے بنا نہیں رُکتے ؛ تو ایسا ہے کہ ماضی کی لکھی ہوئی تنقید میں اب کانٹ پھانس کیسے ہو؟ پھر سانحہ یہ ہوا کہ جس زمانے میں شاعر نے کتاب دِی ، نئی تنقید تخلیق پاروں سے بے نیاز ہو کراپنے آپ میں اُلجھی ہوئی تھی، جتنی توجہ کا وہ تقاضا کرتی تھی ، اسے وہ نہ مل پائی۔
صاحب!بس یہی وہ حالات تھے جن میں اتنے خوب صورت ، اتنے اہم ، اور تخلیقیت سے کناروں تک بھرے ہوئے شاعر کا حوالہ مسلسل قضا ہوتا چلا گیا ہے ۔جی ہاں، اس کے باوجود کہ یہ شاعر نظم کہہ کر اسے بالکل الگ کر لینے کا قرینہ جانتاتھا اور جانتاہے ، اس قرینے کو اس نے خوب خوب برتا ہے، ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے اور ڈھنگ سے کہنے کا ہنر بھی، انہوں نے اپنی بات تخلیقی سلیقے کہی بھی ہے ۔ پھر یوں ہے کہ ان کی اپنی بات راشد ، میراجی، مجید امجد حتی کہ ان کے قریب ترین زمانے کے نظم نگاروں، ضیا جالندھری سے آفتاب اقبال شمیم تک ، سب سے الگ ہو گئی ہے۔ یہ ایسی توفیقات ہیں جس کا سب اعتراف کر تے آرہے ہیں۔ مصرع سازی کاجو جادو احسان اکبر کے پاس ہے ، وہ بس اِنہی کے پاس ہے ۔ایک عجب طرح کی موسیقیت،بے پناہ نرمی، اورسطر سطر اتنی تازہ کہ ہری شاخ کی سی لچک پڑھتے ہوئے محسوس بھی ہو۔
’’ساری کاسٹ
اس کی ساری کاسٹیوم
اس طرح محرابِ روایت سے گزاری
اک نرالی کہکشاں روکش ہوئی
سچ ہے
جہاں چاہو ،ستارے ٹانک سکتے ہو
کوئی معمول ہو
تم غیر معمولی کا ’ممکن‘ آنک سکتے ہو ‘‘
(روایت کی محراب)
تو یوں ہے کہ، احسان اکبر کو پڑھتے ہوئے ایسے مقامات آتے ہی چلے جاتے ہیں ، کہ ہم انہیں محض پڑھ نہیں رہے ہوتے،وہ جو سجھایا جا رہا ہوتا ہے وہ سب دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں ۔ کہا اور دکھا دیا؛ جی ہاں، سارا منظر اور وہ بھی جو ہے مگرمنظر میں سماتا نہیں ہے احسان اکبر کے ہاں مصرعے مصرعے میں سمایا ہواہے اورپڑھتے ہوئے قاری کی ساری حسوں پر پھوا ر کی طرح برستا ہے، اور اس کے دِل سے کلام کرتا ہے ۔
یوں ،پہلی بات جو مجھے احسان اکبر کی شاعری کو بہت توجہ سے دیکھنے پر مائل کرتی ہے وہ سحر انگیز کیفیت اور لطفِ کلام ہے ۔ یہ سطروں کے لوچ اورلفظوں کے بے پناہ گداز سے برآمد ہوتا ہے کچھ یوں کہ لفظ لفظ زندگانی کا استعارہ ہو کر ستاروں کی طرح لَو دِینے لگتا ہے۔
ہمارے خواب کا کہنا ہے
تارے (آنچ دیتے استعارے زندگانی کے)
کبھی کے سو گئے ہو ں گے
سمندر جب سیہ ہونے کو ہو
جب آسمانوں پر کسی کا خون لکھا جائے
جب سرما شمالی بادباں کھولے
وہ پل جب ہم
’نمازی کا فروں کا خوں شہیدوں پر ٹپکتا ہے‘
سنیں اور سر دُھنیں
اور شہر کی مصروف گلیوں میں
کسی قتالہِ عالم کا یار پھر جائے
وہ ساعت بھی فقط اشکوں کی اک تسبیب ہے
(آنسو ، کبھی باتیں نہیں کرتے)۔
(بیاباں وقت کا)
دوسری بات ، جو یہاں مجھے سوجھ رہی ہے وہ شاعر کی محبوب صنف ،نظم کی ساخت میں معنیاتی انسلاکات قائم کرنے کے قرینے کے باب میں ہے ۔ سیاسی ، سماجی اور نظریاتی میلان رکھنے والے تخلیق کار بالعموم راست بات کرنے کو ترجیح دیا کرتے ہیں ، اُنہیں تاہنگ رہتی ہے کہ جو اُنہیں سوجھ رہا ہوتاہے وہ عین مین قاری تک ترسیل ہو جائے۔ایسے میں جہاں کہیں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں وہ کرنے سے نہیں چوکتے ، جب کہ احسان اکبر فکری اور نظریاتی آدمی ہو کر بھی ایسے سمجھوتوں سے کنی کاٹ کر نکل جاتے ہیں ۔میں نے پوری توجہ سے ان کی نظمیں پڑھی ہیں اور لطف لے لے کر پڑھی ہیں مجھے یوں لگتا رہا ہے کہ محض موضوع سے جڑنا کبھی ا نہیں محبوب نہیں رہاہے، اپنی بات بتانے سے کہیں زیادہ وہ سُجھا دِیتے ہیں ، خیال کی ایک لکیر سی نظم میں چلتی ہے، یوں کہ کہیں کہیں وہ ہمارے دھیان سے اوجھل بھی ہو جاتی ہے مگر نظم جہاں سے چلتی ہے آگے چل کر کچھ بکھرتی ہے ۔ یہ بکھرنا بلاسبب نہیں ہے ۔نظم کے اِسی بکھراؤ والے علاقے میں جمالیاتی پیٹرن بنتے ہیں ۔ بکھرنا اور پھر سمٹنا اس موہوم سی لکیر کی طرف جو پوری نظم یا پھر یوں کہہ لیں کہ احسان اکبر کی پوری شاعری کو معنوی سطح پر بہم کر رہی ہوتی ہے۔ یہی چلن متن کو معنیاتی انسلاکات فراہم کرتا ہے۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ احسان اکبر اپنے عصر کے ساتھ پوری حسیات سے وابستہ ہیں ، روح عصر سے مکالمہ کرتے ہیں ، حتی کہ کہیں کہیں اپنے تشکیک کو وتیرہ کرنے والے ہم عصراور پیش رو نظم نگاروں کی طرح ایسی اُلجھنوں کو بھی پوری توجہ دے لیتے ہیں ، جن سے معاملہ کرنا ایقان کی رسی کو تھام تھام کر چلنے والے،کسرِ ایمان سمجھا کرتے ہیں ۔ یہاں مجھے نظم’’ اُلجھن‘‘ یاد آرہی ہے جس میں قدر کرنے والے سے شکوہ کیا گیاہے کہ ڈیانا، گل جی، بنت شرق، اور پروین شاکر کے بلاوے اتنے بے رحمانہ کیوں تھے۔یہ ایسا طرز عمل ہے جو اُن کی نظم کے مزاج کو نئی نظم والوں کے مجموعی مزاج سے فاصلے پر ہونے دیتاہے ، اور نہ ہی بوسیدہ نہیں ہونے دیتاہے۔
چوتھی بات، جو اس مختصر سے وقت میں کرنے کو مجھے سوجھ رہی ہے وہ ہے شاعر کا اپنا مزاج اور طرزِ اِحساس، جس میں وقت کا کوئی بھی ٹکرا کچرے کا ڈھیر نہیں بنتا ،ہر گزرا ہوا لمحہ ، لمحہ ءِ موجود کی زمین کی کھاد ہوکر تازہ بیج کو اپنا بیخچہ اور راس جنین نکالنے میں مدد گار ہوجاتاہے ۔ اس باب میں وہ مجھے اِبن خلدون کے ہم نوا لگتے ہیں ، جنہوں نے کہا تھا:
’’ گزرا ہوا زمانہ آنے والے زمانے سے اس قدر مشابہ ہے کہ ایک جگہ کا پانی ،دوسری جگہ کے پانی سے بھی اس قدر مشابہ نہ ہوگا۔‘‘
اس تاریخی تسلسل سے وہ اپنی دانش کشید کرتے ہیں۔ مظفر علی سید نے اپنے مضمون ’’اَدب اور تاریخی شعور‘‘ میں میکسیکو کے ایک شاعر کا ایک قول کچھ یوں مقتبس کیا ہے:
’’ انسان اور تاریخ کا باہمی رابطہ ، غلامی اور احتجاج کا رابطہ ہے ۔ اگر ہم تاریخ کے عامل کردار ہیں تو ہم ہی اس کا خام مواد اور ہم ہی اس کا شکار ہیں۔‘‘
آگے چل کر انہوں نے یہ بھی مقتبس کیا:
’’تاریخ سے بیگانہ رہ کر کسی قسم کی شاعری کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘‘
سو اپنی تہذیبی فکری تاریخ سے ، اُس کے خام مواد سے اور اُس کے’ شکار‘ سے احسان اکبر کا معاملہ ہے کہ یہ شاعر ہے، اپنے وجود میں پورے کا پورا شاعر ۔ اس کی شاعری اول تا آخر پڑھ جائیے ، یوں لگے گاجیسے شاعر کا اپنے وجود سے معاملہ ہے۔
احسان اکبر کی پہلی کتاب’’ہوا سے بات ‘‘ ہو یا دوسری اور اب تک کی آخری کتاب’’شائگان‘‘ ، جو کہیں ۲۰۰۹ میں جاکر چھپی تھی؛ یہ دو کتابیں بھی پورے احسان اکبر سے ملاقات نہیں کرا پاتیں کہ میری سماعتوں میں ابھی تک ’’باب علی باباپر خود کلامی‘‘ اور ’’شرقِ اوسط‘‘ جیسی طویل نظموں کی کئی کئی سطریں گونج رہیں ہیں ، جو ان کتابوں میں نہیں ہیں۔ خیر ، میں بات کر رہا تھا ، اس احساس کی ، جو احسان اکبر کو ،راشد سے لے کر آفتاب اقبال شمیم تک جیسے باکمال نظم نگاروں کے درمیان لاکھڑا کرتا ہے، انہیں نئی نظم کی روایت میں دیکھنے کا مطالبہ کرتا ہے اور ان سے مختلف بھی کر دیتا ہے ۔ اور اس باب میں مجھے یہ یہی اضافہ کرنا ہے کہ احسان اکبر نے نئی نظم کی روایت کو اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بناتے ہوئے ،اپنے ماضی ، اپنی روایات ، اپنی تہذیب ، اپنی تاریخ، اور اپنی اقدار کے روشن علاقوں کو نیا ہونے کی للک میں رَد نہیں کیا ، اُس سے ایک تخلیقی تعلق قائم کیا ہے۔ احسان اکبر کے لیے’ اِن بجھے حرفوں کے اندر روشنی کے باب زندہ‘ ہیں ۔اور اِسی طرز اِحساس نے ان کے اُن خوابوں کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے جو آج سے یا کہ مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں ۔ یوں دیکھیں توان کی شاعری ،اپنی جڑ سے کٹی ہوئی اور گملے میں اُگی ہوئی شاعری نہیں ہے اور یہ اُس عمل خیر کا سمبل ہو گئی ہے جس کی جڑیں بہت گہرائی میں زمین میں اُتری ہوئی ہیں اور شاخیں مستقبل کے فلک کو چوم رہی ہیں۔
منظر ایک آئینہ
یہاں اُن کی کلائی سے چٹخ کر چوڑیا ں ٹوٹیں
وہاں وہ الوداعی منحنی سی شاخِ مر مر اب بھی لہراتی ہے آنچل سی
بپھرتا آرہا ہے سیل اک بیتے زمانوں سے
مناظر سست رفتاری سے صدیوں میں بدلتے ہیں
(یہ عہدِ حال بھی ماضی کی اک توسیع ہے شاید)
میں کن آنات میں زندہ ہوں؟
لمحہ حال کیا ہے
میں صدیوں کی اگر توسیع ہوں تو میرا کلچر
میرا جی اٹھنا
مرا ،مر جانا
لمحہ بن کے کھِل جانا
زمانے کے افق آثار دشتِ نارسا پر
اپنے ہونے کی گواہی لکھتے رہنا
کیا نہیں ہے اور کیا ہے؟
تارے! میں کہاں پر ہوں؟
(روشنی کے خواب )
تو یوں ہے کہ احسان اکبر وقت کے جس قطعے پرہیں وہاں سارے زمانے بہم معانقہ کرتے ہیں ، نہیں شاید وہاں ان سارے زمانوں سے وہ خود معانقہ کرتے ہیں، یہی معانقہ دراصل اُن کے ہونے اور مختلف ہونے کی گواہی ہو گیا ہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

2 تعليقان

  1. خوب نقد کیا، اب یہ بھی بتلائئے کہ نظم ملے گی کہاں سے؟؟؟؟

  2. محمد حمید شاہد

    شاہد اعوان ، اس توجہ کے لیے شکریہ۔ احسان اکبر کی دونوں کتب بہ سہولت مل جاتی ہیں ، تاہم اگر مشکل پیش آئے تو شاعر بھی آپ کی دسترس میں ہے اور یہ خاکسار بھی

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *