M. Hameed Shahid
Home / افسانے / وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی|محمد حمید شاہد

وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی|محمد حمید شاہد

verasat mein milnae wali neki

 

اماں کہتی ہیں‘ میرے پیدا ہونے کے بعد وہ چھلّہ ہی دھو پائی تھی کہ میرے ابا نے اسے سامان باندھنے کا حکم سنا دیا۔ ڈھورڈنگر بیچ ڈالے گئے‘ زمین ٹھیکے پر چڑھا دی گئی اور ابا نے اماں اور مجھ ننھی جان کو ساتھ لے شہر آکر دم لیا۔ ابا کا خیال تھا‘ ےوں میں ان تمام محرومیوں سے محفوظ رہوں گا جن کے ےخ بستہ گھنے سائے تلے وہ خود عمر بھر ٹھٹھرتے رہے۔
میرے نزدیک ابا مرحوم کا تب کا فیصلہ بروقت اور اِنتہائی دانشمندانہ تھا۔
اماں کہتی ہیں؛ تمہارے ابا آنے کو شہر آگئے تھے مگر جب تک زندہ رہے ان کی روح گاﺅں کی گرد آلود گلیوں میں ہی بھٹکتی رہی۔
دادی اماں تو تب ہی فوت ہو گئی تھیں جب میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ ہم گاﺅں سے شہر آ گئے تو دادا جان نے چپکے سے اَپنے اندر کو دُکھ کا گھن لگا لیا۔ اماں کہتی ہیں؛ دادا جان نے ابا کو شہر منتقل ہونے سے نہ روکا تھا البتہ جب شہر کے لےے روانہ ہونے لگے تھے‘ تو اُن آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے جنہیں کبھی کسی نے روتے نہ دیکھا تھا۔
جب دُکھ کے گھن نے دادا جان کو اندر ہی اندر سے چاٹ لیا تو وہ ایک رات چپکے سے مر گئے۔
ابا میری طرح دادا جان کے اکلوتے بیٹے تھے۔ دادا کا مرنا تھا کہ حویلی خالی ہو گئی۔ اماں کہتی ہیں ےہ وہ حویلی تھی جس کے ایک کمرے میں اسے نے کئی برس پہلے رات بھر زِندگی اور موت کی خوفناک جنگ کے بیچ میری پہلی چیخ سنی تھی۔ اسے وہ چیخ اب تک نہیں بھولتی‘ جو موت کی شکست اور ہم دونوںکی زِندگی کی فتح کا اعلان تھی۔ اسے وہ حویلی اس لےے بھی ےاد آتی تھی کہ اس نے شادی کے بعد وہیں قدم رکھا تھا اور میٹھی ےادوں کی ایک تسبیح تھی‘ جس کے موتی اس حویلی کے کونے کونے میں بکھرے پڑے تھے۔
مگر حویلی خالی ہو گئی تو خالی پن سے بوسیدگی کے وسوسے نے ابا کے کانوں میں ذیلداروں کی بات مان لینے کی سرگوشی انڈیلی‘ جو حویلی کی قیمت تھامے ابا کے سامنے بیٹھے تھے۔
اور ےوں حویلی بِک گئی۔
ابا کے پاﺅں تلے سے گاﺅں کی زمین اُسی روز کھسک گئی تھی جب وہ اماں اور مجھے لے کر شہر منتقل ہوے تھے۔ دادا جان کے مرنے اور حویلی کے بکنے کے بعد زمین ہاتھوں سے بھی کھسکنے لگی۔ ٹھیکیدار‘ کہ جن سے ٹھیکے کی رقم لینے ابا کو گاﺅں کے کئی کئی پھیرے لگانے پڑتے تھے‘ اب وہ زمین کا سودا کرنے خود ابا کے پاس آ رہے تھے۔ ابا کے نزدیک معاوضہ اچھا خاصا تھا۔ شہری زِندگی کی عمارت میں جگہ جگہ ضرورتوں کے شگاف پڑ گئے تھے۔ زمین بِک گئی تو ان شگافوں کو بھی کسی حد تک پاٹنے میں مدد ملی۔
بہ ظاہر گاﺅں سے تعلق کے سارے واسطے ایک ایک کر کے ٹوٹ چکے تھے مگر ابا اَپنی حیاتی کے آخری لمحے تک گاﺅں سے جڑے رہے۔ گاﺅں کے سادہ لوح دیہاتی اور عزیزواقارب شہر میں اپنے چھوٹے موٹے کاموں سے لے کر پیچیدہ سے پیچیدہ امور کے حل کے لےے ابا سے رابطہ کرتے تھے۔ اور جب میں چیزوں کو سمجھنے لگا تو محسوس کیا‘ ابا کی روح ان لوگوں میں اٹکی ہوئی تھی۔ گاﺅں سے لوگ آتے‘ پہروں مجلسیں جمتیں‘ احوال پوچھے جاتے‘ کبھی کسی کے ساتھ پٹوار خانے جاتے تو کبھی تھانے کچہری کا چکر لگاتے۔ شام گئے پلٹتے تو بدن تھکن سے چور ہوتا مگر ایک سرشاری چہرے پر بشاشت بن کر تیر رہی ہوتی۔
ابا مرے تو بھی کچھ عرصہ تک لوگ اپنے کاموں کے سلسلے میں‘ میرے پاس آتے رہے۔ وہ سب کچھ میرے بس میں نہ تھا جو ابا ان کے لےے کیا کرتے تھے۔ میرے پاس وقت نہ تھا کہ اُن کی باتیں سنوں‘ ہم دردی کے الفاظ نہ تھے کہ ان کے دُکھوں پر مرہم رکھ سکوں۔ بے ساختہ قہقہے نہ تھے کہ اُن کے غیر دلچسپ قصوں پر موقع بے موقع لگا سکوں۔ پٹوارےوں کے پاس جاتا‘ تحصیل اور کچہرےوں کے چکر لگاتا تو کیوں؟ کہ کئی اَہم کام کرنے کو پڑے تھے۔
تو یوں تھا کہ میرا رویہ خود بخود ایک دیوار گاﺅں اورمیرے بیچ بلند کرتا چلا گیا تھا۔
مگر وہ بوڑھا‘ کہ جسے میری بیٹی نے ماڈل بنا رکھا تھا‘ اسی دیوار میں اَپنی معصومیت اور اُمید کے تیشے سے اپنے لےے جگہ بنا کر مجھ تک آپہنچا تھا۔
بدن پر میلے چکّٹ بوسیدہ کپڑے‘ پاﺅں برہنہ‘ کمر خمیدہ‘ بال مسافت کی گرد سے اَٹے ہوئے۔ وہ لاٹھی ٹیکتا اندر داخل ہوا۔ مجھے لان میں بیٹھے دیکھا تو سیدھا وہیں آگیا۔ میری نگاہ اس کے چہرے پر پڑی …. وہاں جھرےوں نے جالا بن رکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ میری نظریں پھسلتے پھسلتے اس کے قدموں پر جا پڑیں جو تھکاوٹ سے لڑکھڑا رہے تھے۔ گرد سے پھٹی اِیڑیاں خُون میں لتھڑی ہوئی تھیں۔ وہ دَھم سے میرے قدموں میں ےوں بیٹھ گیا کہ چند ثانےے اور نہ بیٹھتا تو خود بخود گر پرتا۔ جب وہ اَپنی سانسیں بحال کر چکا تو کہنے لگا:
”میاں برخوردار!تُوچوہدری شہباز خان کا بیٹا طاہر خان ہے نا؟“
میری جانب سے اثبات پر اس نے ابا کے ساتھ اپنے تعلق خاص کا ذِکر کچھ ایسی محبت اور عقیدت سے کیا کہ میں اس تذکرے کی مہک سے مسحور ہوتا چلا گیا۔ باتوں سے اُس کا جی نہ بھرتا تھا اور اس کی باتوں کی کشش مجھے اَپنی گرفت میں لےے ہوے تھی۔ مگر مجھے چند ضروری امور انجام دینے تھے۔ اسے درمیان میں ہی ٹوک دیا۔ اور رواروی میں کہا:
”بابا جی کوئی میرے لائق خدمت؟“
اس کا چہرہ کھل اٹھا‘ کھسک کر میرے اور قریب ہو گیا‘ پھر ڈھیروں دعاﺅں کے بعد کہنے لگا:
”بیٹا سنا ہے تم بہت بڑے افسر لگے ہوے ہو‘ میرا بیٹا اکرم ہے نا وہ ایک عرصے سے بے روزگار پھر رہا ہے۔ اس کی ملازمت کا بندوبست کر دو۔ زمین کا جو ایک ٹکڑا تھا وہ بیچ باچ کر اس کے پڑھنے کا شوق پورا کیا۔ سوچا تھا‘پڑھ لکھ جائے گا تو اپنے جوگا بھی ہوگا اور ہمیں بھی بڑھاپے میں سہارا دے گا مگر ےونہی جوتیاں چٹخاتے چٹخاتے ماےوسی نے اسے چڑچڑا کر دیا ہے ۔ بیٹا تم ہی کچھ کرو نا۔ کرو گے نا کچھ اس کے لےے….؟“
میں نے اس کا دل رکھنے کو کَہ دیا:
”ہاں ہاں کیوں نہیں‘ اپنے بیٹے کو میرے پاس دفتر بھیج دینا“
وہ مجھے دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہونے کو اٹھا ہی تھا کہ میری بیٹی مدیحہ آ گئی۔ اُسے دیکھا‘ ٹھٹھک کر وہیں کھڑی ہو گئی۔ کہنے لگی:
”ونڈر فل…. مجھے ایسے ہی چہرے کی ضرورت تھی۔“
پھروہ مجھ سے اصرار کرنے لگی کہ بابا جی کو روک لوں تا کہ وہ اس کا پورٹریٹ بنا سکے۔
بوڑھا میری بات مان گیا۔
مدیحہ اپنے ضروری سامان کے ساتھ جھٹ لان میں پلٹی اور پوری ےکسوئی سے کینوس پر بوڑھے کے چہرے کی جھریاں منتقل کرنے لگی۔
میں انہیں وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔
ٍ
اماں کو دُکھ تھا کہ میرے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہ ہوئی تھی۔ اماں کے نزدیک دادا جان خُوش قسمت تھے جو ان کے ہاں میرے ابا پیدا ہوے تھے اور ابا مقدّروالے تھے کہ میں ان کے آنگن کا پھول بنا…. مگر میری قسمت کا ذکر کرتے ہوے اس کی آنکھیں ڈبڈبا جاتی تھیں۔ مجھے اماں کے اس روےے پر حیرت ہوتی۔ کیوں کہ مدےحہ مجھے بہت عزیز تھی۔ شایداگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو میں اس سے اتنا پیار نہ کر سکتا‘ جتنا میں اَپنی بیٹی کو کرتا ہوں۔ مدیحہ فائن آرٹس کی فائنل ائیر کی طالبہ ہے۔ مگر اس کم سنی میں ہی اس نے فن مصوری میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ اس کا نام اب ملک کے چوٹی کے چند فن کاروں میں ہونے لگا ہے۔
پچھلے دنوں جب وزارت ثقافت نے عالمی مقابلہ میں شرکت کے لےے پورٹریٹس طلب کیے تو مجھے حیرت ہوئی کہ مدیحہ اس کے لےے کوئی تیاری نہ کر رہی تھی۔ وجہ پوچھی۔ کہنے لگی:
”ابھی تک ایسا چہرہ ہی نہیں ملا جس کا پورٹریٹ بنا سکوں۔ وہ اَپنی مرضی اور سہولت کے مطابق کام کرنے کی عادی ہے۔ میں چاہتا تو اس کی گیلری سے کوئی بھی فن پارہ اٹھا کر مقابلے میں شرکت کے لےے وزارت کو بھجوا دیتا۔ سیکرٹری صاحب سے میری اتنی علیک سلیک تھی کہ وہ اس فن پارے کو دوسرے منتخبہ فن پاروں کے ساتھ بیرون ملک مقابلے میں بھیج دیتے…. مگر خدشہ تھا کہ اس طرح مدیحہ بپھر جائے گی کہ ایسا سب کچھ وہ پسند نہیں کرتی۔
جوں جوں مقابلے میں شرکت کی آخری تاریخ قریب آ رہی تھی‘ مدیحہ کی بے قراری بڑھتی چلی جاتی تھی۔ میرے پاس لان میں بیٹھے بوڑھے پر نظر پڑتے ہی وہ کھل اٹھی تھی۔ جب میں گھر سے نکل رہا تھا تو وہ بنیادی خاکہ بنا رہی تھی اور جب واپس پلٹا تو بوڑھا جا چکا تھا اور مدیحہ اپنے کمرے میں بند ہو چکی تھی۔
چند روز بعد ابھی میں دفتر نہ گیا تھا‘ مدیحہ خُوش خُوش میری راہ روک کر کھڑی ہو گئی۔ کہنے لگی:
”میں آج بہت خُوش ہوں“
حالاں کہ اُسے ےہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ مسرت اُس کے چہرے کے خلےے خلےے سے چھلک رہی تھی۔ مجھے کھینچتے کھینچتے اپنے کمرے میں لے گئی۔ میں دم بخود رہ گیا۔ مجھے کسی بھی فن پارے کے بارے میں فنی رائے دینے کا سلیقہ نہیں آتا مگر مدیحہ نے ایسا فن پارہ تخلیق کیا تھا کہ دِل پر ہاتھ پڑتا تھا۔ بوڑھا اپنے جھرےوں بھرے چہرے کے ساتھ مجھے ےوں دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہو:
”میرے بیٹے کو ملازمت دو گے نا؟“
میں نے مدیحہ کو دیکھا وہ خُوشی میں نہال تھی۔
جس نے میری بیٹی کو اتنی خُوشیاں دی تھیں میں اس کے لےے معمولی سا کام کیوں نہ کروںگا۔ دفتر میں ایک آسامی خالی تھی۔ کسی نہ کسی کو تو اُسے پر کرنا ہی تھا۔ دِل میں عہد کیا‘ کوئی اور کیوں؟ بوڑھے کا بیٹا ہی سہی۔
جب میں دفتر جانے لگا‘ تب تک مدیحہ پورٹریٹ کر فریم میں لگا کر پیک کر چکی تھی۔ کہنے لگی:
”آج مقابلے میں شرکت کے لےے فن پارے بھجوانے کی آخری تاریخ ہے۔ اگر وقت ہو تو اسے وزارت کے دفتر جمع کراتا چلوں۔“
میں نے کہا:
”کیوں نہیں….؟…. میرے پاس وقت نہ بھی ہو تو اَپنی پیاری سی بیٹی کے لےے ضرور نکال لوں گا“
ہنس کر کہنے لگی:
”ایک بات ےاد رکھیے گا کہ مجھے ےہ پورٹریٹ ہر قیمت پر واپس بھی چاہیے۔ اگر مقابلے کے بعد واپس مل سکے تو جمع کرائیں‘ ورنہ واپس لیتے آئیں کہ اس شاہکار کی تخلیق ہی میری سب سے بڑی خُوش بختی ہے۔“
میں سیدھا وزارت کے دفتر پہنچا۔ مطلوبہ معلومات حاصل کیں‘ کوائف لکھوائے‘ پورٹریٹ جمع کرایا اور ابھی واپس پلٹنا ہی چاہتا تھا کہ فصیح الدین سے سامنا ہو گیا۔ وہ مجھے دِیکھتے ہی خُوشی سے کِھل اُٹھا۔ اصرار کر کے مجھے چائے کے لےے روکا۔ میرے آنے کا مقصد جاننے کے بعد کہنے لگا:
”چیئرمین کمیٹی اپنا ےار ہے دوست‘ فکر نہ کرو تمہاری بیٹی کا پورٹریٹ مقابلے کے لےے ضرور بھیجا جائے گا۔“
میں مدیحہ کے لےے سفارش نہیں کرنا چاہتا تھا کہ سفارش کرنے پر وہ چڑ جاتی تھی مگر نہ چاہتے ہوے بھی اسے کَہ دِیا کہ وہ خیال رکھے…. حالاں کہ مجھے ےقین تھا مدیحہ کے بنائے ہوے پورٹریٹ کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میںاُٹھنے لگا تو فصیح الدین کہنے لگا:
”فاطاں میرے ہاں مُدّت سے گھریلو کام کرتی ہے۔ سچ پوچھو تو گھر کا سارا نظام اُسی نے سنبھال رکھا ہے۔ اس کے بیٹے کو ملازمت چاہےے۔ رکھنے کو تو میں اسے ےہاں رکھ لیتا لیکن مجھے کچھ آک ورڈ لگتا ہے۔ ایک اور جگہ اسے ملازمت ملی ہے اور اب وہ ماں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اس کے ساتھ منتقل ہو جائے جب کہ ہم فاطاں کا ےوں چلے جانا افورڈ نہیں کر سکتے ۔ اس طرح تو گھر کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اب آپ کو دیکھا ہے تو ایک خیال آیا ہے …. کیوں نہ آپ اسے دفتر میں ملازم رکھ لیں آپ کا دفتر تو ہمارے گھر کے قریب ہی ہے نا۔ اس طرح فاطاں کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ کوئی آسامی خالی ہو گی نا آپ کے دفتر میں؟“
”ہاں ہاں کیوں نہیں!“
میں نے کہا‘ پھر فاطاں کے بیٹے کو دفتر بھیجنے کا کَہ دیا۔ اگلے روز میں دفتر میں بیٹھا ہی تھا کہ فصیح الدین نے لڑکا دفتر بھیج دیا…. ضروری کارروائی مکمل ہوئی اور تقرر نامہ جاری کر دیا گیا۔
اُسی روز کہ جب فصیح الدین کی ملازمہ فاطاں کے بیٹے کی ملازمت کی چھٹی میرے دستخطوں سے جاری ہوئی تھی…. ہاں اسی روز میرے ابا کی خُوش گوار ےادوں کے سہارے مجھ تک پہنچنے والے بوڑھے کا بیٹا اکرم بھی دفتر آدھمکا۔ آسامی ایک تھی اور وہ پُر ہو چکی تھی۔ میں اکرم کو خُوش اَسلوبی سے ٹالنا چاہتا تھا کہ اس کے بوڑھے باپ کی وجہ سے میری بیٹی نے ایک شاہ کار پورٹریٹ تخلیق کیا تھا۔ لہٰذا اس کی تسلی کے لےے اس سے اسناد لیں‘ سٹینو سے کہا کہ جتنے محکمے اس کے ذہن میں آتے تھے سب کو اس کی ملازمت کے لےے درخواستیں بمعہ اسناد کی عکسی نقول بھیج دے۔
پھر اکرم سے کہافی الحال ہمارے ہاں کوئی آسامی خالی نہیں ہے‘ ہاں کوشش کروں گا کہ کہیں نہ کہیں اسے ملازمت مل جائے۔
وہ مطمئن ہوگیا تو میں نے اسے واپس چلے جانے اور انتظار کرنے کو کہا۔
اب میں بھی مطمئن تھا کہ نہ تو بوڑھا پلٹے گا اور نہ ہی اس کا بیٹا۔ میرے پاس وقت نہ تھا کہ میں مختلف محکموں میں اس کے لےے سفارش کرتا پھرتا…. لہٰذا بات آئی گئی ہو گئی۔
وقت دھیرے دھرے گزرتا رہا اور ایک روز ےوں ہوا کہ میری بیٹی خُوشی سے چیختی چلاتی داخل ہوئی‘ مجھے دیکھتے ہی کانگرچولیشن کا نعرہ لگایا اور مجھ سے چمٹ گئی۔ پوچھا:
”ارے ارے کس بات کی مبارکباد؟“
کہنے لگی:
”میرا پورٹریٹ بیرون ملک مقابلے میں شرکت کے لےے جانے والے فن پاروں میں شامل کر لیا گیا ہے۔“
میں نے خُوش ہو کر کہا:
”مجھے ےقین تھا بیٹی کہ ایسا ضرور ہو گا اس لےے کہ تم ڈیزرو کرتی ہو“
مدیحہ نے نفی میں سر ہلایا۔کہا:
”ہوں ہونہہ…. اس میں ان بابا جی کا کمال ہے جو باہر لان میں بیٹھے ہوے ہیں۔“
بابا جی؟…. “ میں بڑبڑایا۔
”ہاں بابا جی“…. اُس نے دہرایا۔
میں دَم بخود کھڑا تھا ۔ مدیحہ اصرار کرنے لگی کہ باہر لان میں بابا جی کے پاس چلتے ہیں۔ ندامت نے میرے قدم جکڑ رکھے تھے۔ اس نے میرا بازو چھوڑا اور سامنے کھڑی ہو گئی۔ کہنے لگی:
”مجھے آپ کا بھی شکرےہ ادا کرنا ہے“
”میرا شکرےہ؟“: میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”ہاں آپ شکرےہ“: وہ چہک کر بولی:
”اس لےے کہ آپ نے میرے محسن بابا جی کے بیٹے کو ملازمت دلوانے میں مدد کی ہے“
میں کچھ نہ سمجھ رہا تھا اور جب میں لان میں بوڑھے کے مقابل کھڑا تھا تو اس نے کہا:
”بیٹے تم نیکو کار کی اولاد ہو‘ اَپنی مٹی سے تعلق جوڑے رَکھنے والے کی اولاد۔ تم نے مجھ سے ےہ نیکی کر کے مجھے ساری حیاتی کے لےے خرید لیا ہے۔ تمہاری کوششوں سے میرے اکرم کو نوکری مل گئی ۔ لوگ بکواس کرتے ہیں کہ تم اپنوں کے کام نہیں کرتے ۔ تم تو بالکل اپنے باپ کی طرح نیک اور اپنوں کے کام آنے والے ہو۔“
وہ مسلسل مجھے دعائیں دے رہا تھا۔ میں نے مدیحہ کو دیکھا۔ وہ تحسین بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی…. اور میں دعاﺅں اور نظروں کی ٹکٹکی پر چڑھا وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی کو اپنے اندر ٹٹول رہا تھا۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *