M. Hameed Shahid

Daily Archives: أكتوبر 31, 2015

محمد حمید شاہد|انجیر کے پھول-بلوچستان سے افسانے

بلوچستان سے افسانےـانجیر کے پھول کہتے ہیں ، بابلی سلطنت کا پہلا بادشاہ نمرود نسبی لحاظ سے بلو ص تھا۔ شام اور حلب کے وہ لوگ جو اوپر جاکر اسی سلسلہ نسب سے جڑجاتے ہیں ۔ بلوصی کہلائے ۔ یہ لوگ رومیوں کی دراز دستیوں سے تنگ آکر ایک وسیع …

» مزید پڑھئیے

تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہد

  کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے: ”ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے- جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی- پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی …

» مزید پڑھئیے

تماش بین|محمد حمید شاہد

عورت اور خُوشبو ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں۔ شاید مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ عورت اور اس کی خُوشبو میری کمزوری رہے ہیں۔ یہ جو‘ اَب میں عورت کو بہ غور دیکھنے یا نظر سے نظر ملا کر بات کرنے سے کتراتا ہوں تو میں شروع سے ایسا …

» مزید پڑھئیے

وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی|محمد حمید شاہد

  اماں کہتی ہیں‘ میرے پیدا ہونے کے بعد وہ چھلّہ ہی دھو پائی تھی کہ میرے ابا نے اسے سامان باندھنے کا حکم سنا دیا۔ ڈھورڈنگر بیچ ڈالے گئے‘ زمین ٹھیکے پر چڑھا دی گئی اور ابا نے اماں اور مجھ ننھی جان کو ساتھ لے شہر آکر دم …

» مزید پڑھئیے

گانٹھ|محمد حمید شاہد

عَصبی رِیشوں کے وسط میں کچھ اِضافی گانٹھیں پڑ گئیں۔ یا پھر  پہلے سے پڑی گِرہیں ڈِھیلی ہو گئی تھیں کہ اِضمحلال اُس پر چڑھ دوڑا تھا۔ بدن ٹوٹنے اور دِل ڈوبنے کا مستقل اِحساس ایسا تھا کہ ٹلتا ہی نہ تھا۔ کوئی بھی معالج جب خود ایسی کیفیت سے …

» مزید پڑھئیے

کشور ناہید|مستنصراورحمید شاہد کے افسانوں میں

روزنامہ جنگ 31 جولائی 2015 “خود کش جیکٹس:مستنصر اور حمید شاہد کے افسانوں میں” اقتباس “ میں نے ایسی ہی سسکیاں لیتے ہوئے حمید شاہد کے افسانوں کی کتاب “دہشت میں محبت” کو پڑھا ۔ چاہے خروٹ آباد کا سانحہ ہو کہ کوئٹہ کا یا “تربت کا جہاں لوگوں کو …

» مزید پڑھئیے