M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد |اُردو افسانے کا منظر نامہ

محمد حمید شاہد |اُردو افسانے کا منظر نامہ

DLSAIOU

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد میں 2 مارچ 2015 کو ایک خصوصی اجلاس میں محمد حمید شاہد نے “اردو افسانے کا منظر نامہ” کے موضوع پر گفتگو کی۔  اس گفتگو کا مکمل متن ،مبین مرزا کے ادبی جریدے “مکالمہ ” کی تازہ اشاعت(شمارہ نمبر 20) میں شائع ہو گیا ہے، مکالمہ20جسے آپ کے مطالعہ کے لیے یہاں فراہم کیا جا رہا ہے ۔

سب سے پہلے مجھے محترم وائس چانسلرصاحب آپ کا اور علامہ اقبال یونیورسٹی سے وابستہ تمام صاحبان علم و دانش، آپ سب کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے ’’اردو افسانے کامنظر نامہ‘‘ کو موضوع کو چنا اور مجھے اس وسیلے سے کچھ کہنے کا موقع میسر ہو رہا ہے ۔ میری محبت اور شکریہ ان سب کے لیے بھی ہے، جو آج کی گفتگو میں شرکت کے لیے بہ طور خاص تشریف لائے ہیں

محترم وائس چانسلر صاحب ، آپ نے ، اور آپ کے ساتھیوں نے میرے لیے ،جو موضوع تجویز فرمایا ’’ اُردو افسانے کا منظر نامہ‘‘ ، اُسے گرفت میں لانے کے لیے میرے پاس ایک سے زیادہ حیلے ہیں ، مثلاً ایک حیلہ تووہی ہے جو ہمارے ناقدین کو مرغوب رہا ہے ؛ گزرے ہوئے وقت کی ایک ڈیڑھ دہائی کے برابر پارچے بنا لیے اور ان پارچوں پر اپنے اپنے وقت کے نمایاں افسانہ نگاروں کی تصویریں چپکالیں ، اللہ اللہ خیر صلا۔ آغاز والے پارچے پر راشدالخیری، منشی پریم چند، خواجہ حسن نظامی، سجاد حیدر یلدرم کی تصویر لگائی جا سکتی تھی تو بعد والے پارچوں میں اوپند ر ناتھ اشک سے حیات اللہ انصاری تک، مجنوں گورکھ پوری سے میرزا ادیب تک، احمد علی سے سجاد ظہیر،عزیز احمد، عصمت چغتائی ،راجندر سنگھ بیدی،سعادت حسن منٹو، غلام عباس،حسن عسکری، قرۃ العین حیدر،احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد اور انتظار حسین تک۔ یہیں وقت کے ایک ٹکڑے پرسریند پرکاش ، انور سجاد سے لے کر منشایاد ،خالدہ حسین ، رشید امجد وغیرہ کی تصویریں سجیں گی تو ایک اور پر نیر مسعود، شمس الرحمن فاروقی سے لے کر اسلم سراج الدین، خالد طور، سید راشد اشرف، نیلوفر اقبال، آصف فرخی ، مبین مرزا ، نیلم احمد بشیر، اے خیام ،یعقوب شاہ غرشین ، اخلاق احمد ، آمنہ مفتی ، عرفان جاوید، زین سالک سے لے کر اس خاکسار تک کو بھی شاید ٹانک لیا جائے۔ اچھا، ایسے میں دوسرا حیلہ جسے اس باب میں بہت کارگر پایا گیا ،میرے سامنے بھی رہا ہے۔ یہی کہ تخلیقی عمل کے بھید بھنورایک طرف رہتے ہیں تو رہیں، کچھ رجحانات یا چند موضوعات کو سامنے رکھ کر اُنہیں ادبی تحریکوں کانام دے لیا جائے ۔ پھر انہی کی ذیل میں اُردو افسانے کو رکھ کر ایک منظر نامہ بنا لیا جائے ۔ داستان سے رومان پسندی تک، ترقی پسندی ، سیاسی سماجی نفسیاتی حقیقت نگاری ، علامت اور تجرید کاری اور ہاں رواں افسانے کو کیا نام دیا جائے ؛پہلے والا اگر جدید افسانہ تھا تو اسے مابعد جدید کہا جا سکتا تھا ۔ سیاسی سماجی صورت حال کو ان موضوعات کے ساتھ ڈھیلا ڈھالا جوڑ کر ایک منظر بن جاتا ہے ؛اردو افسانے کا منظر؛ ہماری تنقید کا گھوڑا اس میدان میں یوں بگٹٹ دوڑتا ہے کہ ہر افسانے میں موضوعات کو کسی مضمون کے موضوعات کی طرح برت لینا بہت آسان ہوجاتا ہے ۔ مگر ۔۔۔۔۔ جی ، اسی مگر کے بعد میری زبان کی لکنت بڑھ جاتی ہے ۔ میں ایسے طالب علموں سے مخاطب نہیں ہوں ، جو بس ڈگری کے حصول کے لیے اس قسم کے لیکچرز سننے کو مجبور ہوتے ہیں ؛ اپنی جیبھ اپنے اپنے تالو سے چپکائے ہوئے ، کہ آج کے طالب علموں کے ہاں مقصد، ادب سمجھنے سے کہیں زیادہ ڈگری کا حصول ہوتا ہے اور ایسے میں فارمولا تنقید بہت مدد کرتی ہے ۔ بلکہ یوں ہے کہ میرے سامنے آپ صاحبان علم و ذوق ہیں اور ظاہر ہے اگر میں پٹی پٹائی باتیں کروں گا تو میرے FB_IMG_1425383855475کہے کوآپ اُدھیڑ کر رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔
لائق صد احترام خواتین و حضرات!
اپنے موضوع پر آنے سے پہلے خود افسانے کے تخلیقی عمل کو سمجھنا بہت اہم ہے، کیوں کہ اسی سے اس کے اپنے منظر نامے کی دھج بنتی ہے ۔ شاعری کا منظر نامہ اپنے وقت اور اپنے مکاں کے اعتبار سے ایک التباس پیدا کرتا ہے ؛ دور سے دیکھو تو دہکتی ریت پر لہریں لیتا پانی، قریب جاؤ تو فقط سراب؛ جب کہ افسانے کو اپنا منظر یوں اُجالنا ہوتا ہے جیسے آسمانی نور زمین پر اُترتا ہے تو سب کچھ واضح ہوتا چلا جاتا ہے مکاں بھی وقت بھی اور اس سے بندھی ہوئی ساری زندگیاں بھی ؛ جسموں کے اندر مقید زندگیا ں ۔ ہاں کہا جاسکتا ہے کہ زندگی ایک دام ہے ، ایک پھندا ، مگر افسانے کو اس جسم میں قید آدمی کے امکانات کو جو جسم سے باہر بھی بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ، انہیں تلاش کرتا ہوتا ہے ۔ مانا کہ اس جسم میں قید ہونے پر ہمارا اختیار نہ تھا اور نہ ہی فنا سے دوچار ہونے کو ہم روک سکتے ہیں ، اس باب میں ہونی شدنی ہی ہمارا مقدر سہی مگروہ جو ایک چینی کہاوت ہے کہ ہم اپنے اوپرپرندوں کو منڈلانے سے نہیں روک سکتے مگر انہیں اپنے سروں میں گھونسلا بنانے سے تو روک سکتے ہیں؛ تو یوں ہے صاحب کہ افسانہ اسی کے امکانات سجھاتا ہے، ٹائم اور سپیس کے اندر آدمی کو، اور اس کی کہانی کو رکھ کر۔
احباب گرامی!
افسانے کے حوالے سے ہی دوسری اہم بات یہ ہے کہ کہانی سے باہر ہم پر سمجھنے سے پہلے حکم لگانے کی فطرت غالب رہتی ہے ۔ ہم ہمیشہ دعوے کی زمین پر کھڑا ہونا پسند کرتے ہیں ۔ دعوے جو مفروضے ہو جایاکرتے ہیں ۔ اور مفروضے، تھیوریاں یا فارمولے ۔ یہ ایسا وتیرہ ہے جس میں تصریح اور تحکیم پسندی کا مرغوب ہو جانا یقینی ہوتا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ افسانہ لکھنا ،واقعہ لکھنا یا چند واقعات کی تجمیع کا نام نہیں ہے یہ تو نادریافت کی دریافت ہے ۔ اُس کا تعاقب ہے جس کی شناخت کسی بیان سے ممکن نہیں ہے ۔ سو، اس کے لیے فکشن کا اپنا تخلیقی بیانیہ درکارہوتاہے ۔ جی ، بیان نہیں بیانیہ ؛ اورایسا بیانیہ وہاں سے تخلیقی اُڑان بھر ہی نہیں سکتا جہاں کچے پکے ایقان کی اور انقلابی نظریوں، یا پھرکاریگرانہ جبلت طے شدہ راستوں پرلکھنے والے کو لے اُڑتی ہے ۔ کاریگری ہویا اپنی شناخت بنانے کے لیے الگ سے اسلوب گھڑنے کی تاہنگ ، دونوں میں زبان یا پھر واقعہ ، تخلیقی عمل کو جگانے کی بجائے اسے سلانے کاکام کرتا ہے ۔ اس کھیل تماشے میں بھی ایک خاص نوع کے افسانے نکل آتے ہیں۔ لکھنے کو اگر میلان کنڈیرا نے تھیراپی کا عمل کہا تھا، تو تخلیقی عمل کو بیدار کیے بغیر لکھتے چلے جانے والوں کے لکھے ہوئے کو اُس نے ’’گرافو مینیا‘‘ کانام دے رکھا ہے ۔ تخلیق کا جھانسا دینے والی تحریروں کے لیے اس سے مناسب لفظ اور کیا ہو سکتاتھا ۔
سامعین محترم:
وقت بڑا ظالم ہے ،اُردو افسانے کے منظر نامے سے اس سارے افسانے کو خود بخود الگ کرتا آیا ہے ، جو، کسی مطالبے پر لکھا گیا، یافیشن میں لکھا گیا تھا۔ہم دور کیوں جائیں افسانے کا موجود منظر نامہ علامتی افسانہ نگاروں کے زمانے سے جڑا ہوا ہے اور اس سے پہلے ترقی پسندوں کا چرچا تھا ۔ وقت کی چھاننی سے بہت کچھ چھن چکا ۔ کھرا کھوٹا الگ ہوا۔ میرے ذہن کے فلک پر دو نام دوسرے ترقی پسند افسانہ نگاروں سے کہیں زیادہ جگمگاتے ہیں، راجندر سنگھ بیدی اور سعادت حسن منٹو کے نام ۔ میں کئی بار اعتراف کر چکا ہوں اور ایک بار پھر کہے دیتا ہوں کہ میں اُن کی سمت دیکھتا ہوں‘ مسلسل دیکھتا ہوں‘ اور تسلیم کرتا ہوں کہ اُردو اَفسانے کے ناتواں جسد میں جس طرح ان دونوں نے نئی روح پھونک دی تھی اسے ذہن میں رکھ کر خارج میں چلنے والی تحریکوں کا تصور باندھا ہی نہیں جا سکتا ۔ بیدی کو فارمولا کہانی لکھنے والوں پر طیش آتا تھا۔ اُس نے جب ہر طرف ایک جیسی فارمولا کہانیوں کا ڈھیر دیکھا تو کہا تھا’’ کہانی تو لکھی ہی نہیں جارہی ۔ وہی گھسی پٹی باتیں ‘ وہی سیاسی خیالات‘ کچھ امیر غریب کے جھگڑے ۔ بس یہی کچھ لے دے کر کہانی مکمل ہو جاتی ہے ۔ بہت ہوا تو کہانی کا پس منظر بدل دیا ۔ ‘‘ ہمارے ناقدین کہتے نہیں ہچکچاتے کہ ترقی پسند تحریک کی سب سے بڑی عطا یہ ہے کہ اُس نے اُردو ادب کو بیدی جیسا بڑا اَفسانہ نگار دیا ۔ بیدی بھی اس تحریک کو بہت مانتا تھا مگر نریش کمار شاد کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے کہا تھا: ’’ میرے نزدیک ترقی پسندی کا وہ مفہوم نہیں جو میرے چنددوستوں کا ہے ۔ میں کسی کو اِس بات کی اِجازت نہیں دے سکتا کہ وہ میرے لیے قانون وضع کرے یا کسی طرح سے میری حد بندی کرے۔ ‘‘اور منٹو کا قصہ یہ ہے کہ اسے تو خود ترقی پسندوں نے رجعت پرست قرار دیاڈالا تھا ۔ حالاں کہ منٹو شروع سے اِنقلابی حقیقت نگاری کی طرف ضرور متوجہ رہا تھا ۔ وہ بہت جلد زندگی کے سنگین حقائق کے مقابل ہو گیا اورپھر وہ وقت بھی آیا جب ترقی پسندوں نے منٹو کا بائیکاٹ کر دیا ۔ تو یہ ہے منٹو کی ترقی پسندی کا قصہ۔ مگر یوں ہے کہ منٹو صفِ اوّل کا اَفسانہ نگار تسلیم کیا جا چکا اور جب تک اُردو اَفسانے کا قصہ چلے گا کوئی منٹو کو اِس منصب سے الگ نہ کر پائے گا ۔ خیر میں نے اپنے تئیں فیصلہ کیا تھا کہ لکھنے والوں کے ناموں کی بجائے تخلیقی عمل کا منظر نامہ مرتب کروں گا تو اسی طرف آتا ہوں ۔ ترقی پسند افسانے کی پہلی نشانی یہ تھی کہ وہ خارج سے بہت مضبوطی سے جڑا ہوا ہوتا ۔ طبقاتی شعور کے پانیوں سے اس کی مٹی گوندھی جاتی ۔ اس کو انقلاب کا نعرہ عطا کیا جاتا ۔ ایسے میں لکھنے کا جو قرینہ بن سکتا تھا وہ بنا ۔ یہی کہ کرداروں کی زبان اس طبقے سے لی جائے ، جسے افسانہ نگاروں کا یہ گروہ نظریاتی سطح پر عزیز رکھنے کا دعویٰ رکھتا تھا ۔ زبان سے تہہ داری منہا ہوتی چلی گئی۔ افسانے کے اختتام میں عمل کی ترغیب ڈال لی جاتی لہذا قاری سے ممکنہ فیصلے کا انتخاب چھین لیا گیا ۔ یہ ایک لحاظ سے افسانے کی تخلیقی قرآت کے امکانات کا اتلاف تھا ۔ زندگی جس طرح موجود تھی اور جتنے رُخوں سے موجود تھی ، وہ اہم نہ رہی ،اس کی مقصدیت اہم ہو گئی۔ آدرش اہم ہو گیا توجذباتی اور نظریاتی حوالے تیکنیک اور تخلیقی عمل کی آزادی کو مجروح کرنے لگے۔ بیانہ اکہرا ہوکر محض بیان ہو گیا تو افسانے میں واقعہ اور واقعیت حاوی ہوئی اور تخلیقی زبان اپنے جوہر دکھانے سے کترانے لگی ۔ تخلیقی زبان سے اس افسانے میں گہرائی پیدا ہو سکتی تھی، جہاں اسے موقع دیا گیا اس میں گہرائی پیدا بھی ہوئی کہ یہ گہرائی انسانی بطون سے مکالمہ کر سکتی تھی مگر ترقی پسندوں پر جن عذابوں کو لکھنا فرض ہواتھا ، ان میں اس بھری کائنات میں اکیلے رہ جانے والا آدمی، طبقاتی ہجوم کے اندر کہیں گم ہو گیا تھا ۔
محترم احباب!FB_IMG_1425383807628
اب آئیے ، اسی ترقی پسند افسانے کے رد عمل میں سامنے آنے والے جدید افسانے کی طرف ؛جو فی الاصل بغاوت کا افسانہ تھا۔ میں اسے جدیدیت کے اس تصور سے الگ کرکے دیکھنے پر مجبور ہوں جو بیسویں صدی میں وجودیت یا موجودیت یعنی Existentialism سے جاکر جڑ جاتا ہے۔ وہاں کے انسان کو سائنسی ترقی، اقتصادی حالات اور سیاست نے اکیلا کر دیا تھا۔ وہاں کا فرد مشینیت کی ترویج کے زیر اثرخود بھی مشین کا پرزہ ہو کر بحیثیت فرد اپنی شناخت کھو بیٹھا تھا۔ ۱۹۲۹ ء کے اقتصادی بحران اور دوسری عالمی جنگ میں موت کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ انسانی اقدار پر کاری ضرب تھا ۔ وجودیت جسے آپ موجودیت بھی کہہ سکتے ہیں فی الاصل Philosophy of Crisis تھی ، انتشار کا فلسفہ ، ٹائم اور سپس کے حاشیے پر انسان کے دھکیلے جانے کا فلسفہ ۔ ہم نے یہ فلسفہ وہان سے لیا حالاں کہ ہمارے ہاں مشینیت کیا آتی مشین بھی پوری طرح نہ آپائی تھی۔ صنعت آنے سے پہلے ہمیں بتایا جانے لگا کہ تمہیں کچھ بنانے کی ضرورت نہیں ، سب ہم دیں گے ۔ سو، ہم صنعتیانے کے برزخ سے نکل کر صارف ہو گئے۔ خیراگر ہم پر ویسے حالات نہیں گزرے ،نہ سہی ہم ان جیسا فیشن تو اختیار کر سکتے تھے ، سو جدید افسانہ اس راستے سے ہمارے ہاں چلا آیا ۔ایسے میں اردو افسانے کا جو منظر نامہ بنتا ہے اس میں اپنے ہاں کے جدید افسانے کوشعور کی رو ، داخلی خود کلامی،،واحد متکلم کے صیغے کا استعمال، انشائی زبان ، اختصار کے لیے اشاریت جیسے بنیادی عناصر کو صاف صاف آنکا جا سکتا ہے ۔ اس افسانے میں اُس داخلی شخصیت کا بیان ہونے لگا جو اپنے خارج میں کہیں نہیں ہوتی تھی ، انتشار معنی یا معنویت کی معدومیت اسے یوں مرغوب تھی کہ کائنات کے اندر فرد اپنی معنویت کھو بیٹھا تھا ۔ یہ افسانہ کچھ زیادہ ہی سوچنے والا تھا لہذا اس میں سے مقامی اور ثقافتی رنگ غائب ہوگیا ، اجتماعی زندگی قابل ذکر نہ رہی ، فرد اہم ہوگیا اور اس کا وجود ۔ وجود نہ کہیں ، وجودیت کے عذاب کہہ لیں۔ اسلوب کاری کے لیے نثری حیلوں کا استعمال اس کا وصف خاص تھا ۔ گوپی چند نارنگ کے لفظوں میں علامت نگار رعایت لفظی و ایطائے جلی و خفی کے کلچر میں پڑ ے ہوئے تھے اور منشایاد کے لفظوں زوال آمادہ لکھنوی شاعری کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی، لفظی پتنگ بازی سے آسمان ڈھک گیا اور افسانہ زمین سے کٹ گیا۔ خیر ، کون کیا کہتا ہے ، اسے ایک طرف رکھیں اور علامت اور تجرید کے نام پر لکھے ہوئے افسانے کو خود دیکھیں تو اس افسانے کو لاحق ایک عارضے کی طرف فوری دھیان جاتا ہے اوروہ ہے تقلیل کا سرطان۔ یہ وہی عارضہ ہے جس نے افسانے کے قاری کو اس سے برگشتہ کر دیا تھا ۔ اس تقلیل سے میری مراد کہانی ، پلاٹ، کرداروں،اور منظر نامے کی کلی منہائی یا پھر اس کی قلت ہے ۔ افسانے کے ان عناصر کو مناسب اہمیت دے کر تخلیق پارے کو نامیاتی وحدت دی جا سکتی تھی مگر جدید افسانے کا مسئلہ کسی وحدت کی اکائی میں ڈھلنا نہیں تھا۔ ایک بار پھر میلان کنڈیراکا کہا یاد آتا ہے ۔ اس نے کہا تھا، ’’ذات کا مشاہدہ کرنے والی خورد بین کا عدسہ جتنا زیادہ طاقت ور ہوتا ہے ،اتنا ہی زیادہ ذات اور اس کی انفرادیت ہم سے بچ نکلتی ہے ،حتی کہ ہم ایک جیسے نکلتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ انفرادیت منہا ہوگئی ، نقطے رہ گئے ۔ الگ الگ پڑے ہوئے نقطے تو ایک جیسے ہوتے ہیں، تصویر تو تب بنتی ہے جب انہیں پاس پاس ایک قرینے سے رکھتے چلے جائیں ۔ ڈیکارت کا آدمی نقطہ نہیں تھا وہ تو فطرت کا آقا تھامگر جدید افسانے میں وہ شے بن گیا ، گہنائی ہوئی شے ، بلکہ شے سے بھی حد درجہ فرسودہ اور بے کار ۔ ہمارے ہاں چوں کہ جدیدیت والا تجربہ برائے تجربہ آیا تھا لہذا ابہام بھی بالارادہ آگیا ۔ ترقی پسند افسانہ ، بلکہ اس سے پہلے رومانوی ا ور سماجی حقیقت نگاری والا غیر ترقی پسند افسانہ وضاحتوں اور جزئیات میں تفریق کیے بغیر دونوں کو استعمال کیے چلا جاتا تھا۔ جدید افسانے نے بھی دونوں میں تفریق کیے بغیر دونوں کو رد کر دیا اور اپنے متن کی بنت کی اساس داخلی خود کلامی کو بنایا ۔ اگر ترقی پسند افسانہ عوام میں FB_IMG_1425383788501مقبول تھا تو جدید افسانہ اپنے قارئین میں نہ سہی لکھنے والوں کا فیشن بن گیا تھا ۔
خواتین و حضرات ، بجا کہ یہ دونوں انتہا پسندانہ رویے تھے اور آخرکار تیکنیکی جمود کا شکار ہو گئے، مگر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح سیلاب آتا ہے اور اپنے پیچھے زرخیز مٹی بچھائے چلا جاتا ہے ، ان انتہاپسندانہ رویوں سے آج کے افسانے نے بہت کچھ اخذ کیا ۔ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ تخلیقی تجربہ کسی تخلیقی کار کے اِنفرادی روّیے ‘رجحان اور اِنفرادی کارکردگی سے ہی معتبر ہوتا ہے۔ ایک بھیڑ یا جماعت سیاسی اور سماجی سطح پرکوئی تبدیلی تو لا سکتی ہے مگر اَدبی ہیئتوں‘ اسالیب اور روایتوں کو مستقل طور پرتبدیل نہیں کر سکتی۔ اب رہی یہ بات کہَ اَفسانے کی صورت اِس نئے زمانے میں کیا ہے ؟یا آگے چل کر کیا ہو گی؟ تو صاحب ‘اس باب میں متردد ہونے کی ضرورت نہیں ‘کہانی کی معنویت ‘کرداروں کی تشکیل کے لیے مطلوب لسانی آہنگ اور اس کے داخلی بھید بھنورجب کہانی کے ماحول سے جڑ جا تے ہیں تو خود ہی اس کا پیٹرن وضع ہو جاتاہے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ آج کا افسانہ نگار ماضی کے منفی ادبی رویوں اورمختلف تحریکوں کے نام پر انفرادی تخلیقی عمل پر شب خون مارنے والے مزاج کو رد کرنے کے باوجود ، افسانے کی صنف پر ان کے مثبت اثرات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔یوں یہ افسانہ پچھلے افسانے سے جڑتا ہے کہ یہ انحراف کا نہیں ، انجذاب اور امتزاج کا افسانہ ہے ۔ اس کے لیے کہانی اور ماجرائیت ممنوعہ علاقہ ہے نہ علامت۔ تاہم اب متن میں یہاں وہاں علامت کے پیوند لگانے کی بجائے ،پورے افسانے کواس میں موجود کہانی سمیت ، اس کی نامیاتی وحدت کے ساتھ علامت بنائی بنائی جاتی ہے ۔ آج ، اس کے لیے گروہی یا انفرادی فہم کی بجائے اجتماعی فہم اہم ہو گئی ہے ، آپ اسے عصری شعور بھی کہہ سکتے ہیں۔ گوناگونی میں بٹی ہوئی زندگی آج کے افسانے میں آخرکار ایک غیر منقسم کل میں ڈھلتی ہے۔ موجودہ عہد متفرق تہذیبوں کا ملغوبہ ہے اور المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپناماضی پگھلتا ہوا نظر آتا ہے ۔ جنگ گشتی طوائف جیسی ہو گئی ہے ، اور ہم اس کا ایسا شکار ہیں جسے عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہے ۔ ایسے میں نسیان وجود کا عارضہ کیسے لاحق ہو سکتا تھا تو یوں ہے کہ آج کے افسانے میں وجود تو موجود ہے مگر اس میں وجود ی ہذیان کی ابکائیاں ہیں نہ استفراغی جھٹکے ۔یہ افسانہ حقیقی دنیا(ہر چند کہیں کہ ہے؛ نہیں ہے) کے مقابل تخلیقی تیقین کے ساتھ فکشن کی دنیا کی تعمیرکر رہا ہے ؛بالکل اُسی جیسی مگر اس سے کہیں زیادہ سچی اور حقیقی ۔حقیقی دنیا تعقل کی دنیا ہے اور اسی کی تظہیرکی پابند بھی، جب کہ افسانے کی دنیا ، تعقل سے کہیں زیادہ ایک ذہنی کیفیت سے بنتی ہے اور ایک ذہنی کیفیت سے ہی اس کی تظہیر ممکن ہو رہی ہے ۔ حقیقی دنیا جذبات کی دنیا ہے، جب کہ آج کے افسانے کی دنیا جذبیت سے متشکل ہورہی ہے۔ اِسی جذبیت سے کہانی کی متھ بنتی ہے جو راست ابلاغ کی بجائے حسی تصویری بناتی ہے یا پھرحسوں کو مختلف سطحوں پر متحرک کرتی ہے۔ موجود منظر نامے کا افسانہ ہمیں بتاتا ہے کہ استحصال صرف ایک طبقے کا دوسرے طبقے پر نہیں ہوتا ،انسان اپنی سرشت میں استحصالی ہے اور مواقع کی تلاش میں رہتا ہے ، گروہ کی صورت میں ہو یا اکیلا بالقوت استحصالی روش پر قائم رہتا ہے اور یہ بھی کہ سیاسی آزادی محض فریب ہے، انقلاب ہمیشہ دھوکے کا نام ہے ۔ تخلیقی عمل کسی کلیہ سازی، ضابطہ بندی سے انکار کا نام ہے۔ یہ انتشار کو ایک کل میں مربوط کرتا اور معنی خیزی کے امکانات پیدا کرتا ہے ۔ آج کا افسانہ تخلیقی عمل کو اجتماعی عمل نہیں سمجھتا اس لیے کسی خاص اسلوب یا خاص موضوع پر زور نہیں دیتا تخلیقی عمل سے سچائی کے ساتھ وابستہ ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ یہ ایسا رویہ ہے کہ افسانے کا بیانیہ تاثراتی اور انشائی ساخت کی بجائے کہانی کی ساخت کو بحال کرتا چلا گیاہے ، اس میں لینڈ اسکیپ ہو یا کردار، واقعہ ہو یا ایک واقعہ کا دوسرے واقعات سے جڑ کر معنیاتی امکانات پیدا کرنا ، کتھا ،داستان،اساطیر یا علامت کو برتنا ہو یا وجود میں اتری ہوئی دہشت سے معاملہ ، کہانی کے خارج میں رخنے نہیں پڑتے ۔ آج کا افسانہ کسی نظریے اور فلسفے کی تصریح کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھاتا کہ یہ تو زندگی کی گہری معنویت کا امین ہے۔ یوں نہیں ہے کہ آج کا افسانہ دانش سے تہی ہے ، بلکہ یوں ہے کہ یہ عقل اور عقل کی جبریت کی بجائے تمثیلی حکمت کو مانتا ہے ۔ یہ باہر کی دنیا کی علت و معلول کو رد کیے بغیر اس کے مقابل کہانی کے اندر کے علت اور معلول کے نظام کو رکھ کر قاری پر انسانی توفیقات کے نئے امکانات رکھ دیتا ہے۔ انہی مکانات سے آج کے اردو افسانے کا منظر نامہ بن رہا ہے ۔ یقین نہ آئے تو ’’ سمر سامر‘‘(اسلم سراج الدین )،’’طاؤس چمن کی مینا‘‘(نیر مسعود )، ’’ سوار‘‘ (شمس الرحمن فاروقی)، ’’ہانکا‘‘(ساجد رشید )، ’’فزکس کیمسٹری الجبرا‘‘ (مشرف عالم ذوقی )،’’بن کے رہے گا‘‘(آصف فرخی )، ’’فورسیپس‘‘(صدیق عالم)، ’’برف ‘‘ (نیلو فر اقبال)،’’خالی ہاتھ‘‘ ( اے خیام ) ،’’تفریح کی ایک دوپہر‘‘(خالد جاوید ) ، ’’گم شدہ لوگ‘‘(مبین مرزا ) ، ’’مچھلیاں شکار کرتی ہیں‘‘ ( امجد طفیل )سے لے کر’’خونی لام ،ہوا قتلام بچوں کا‘‘(جو میں آج کی نشست میں پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہوں) ، ان سب افسانوں کو پڑھ جائے ، آپ کو خودہی یقین آ جائے گا۔
اور ہاں،یہودیوں کے ہاں ایک کہاوت یوں مشہور ہے ’’ آدمی سوچتا ہے اور خدا خندہ زن ہوتا ہے۔ ‘‘ اس کہاوت سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ آدمی سوچتا ہے مگر سچائی اس سے گریزاں رہتی ہے، ہر بار کنی کاٹ کر گزر جاتی ہے۔ کنڈیرا نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ’تازہ کھدی ہوئی قبر میں ٹھیک میت کے اوپر کسی کا ہیٹ گر جاتا ہے تو کفن دفن اپنی ساری معنویت کھو دیتا ہے اور قہقہہ وجود میں آ جاتا ہے۔ زندگی تازہ کھدی ہوئی قبر میں میت جیسی ہے ،جس پر موت بھی خندہ زن ہے۔ اِسے ہم پہلے سے مُرّتِبَہ اپنی سوچ کے دھاروں سے نہیں کہانی کے بیانیے سے سمجھ سکتے ہیں ۔ کہانی کی تجوری میں اس کی اپنی دانش ہوتی ہے اور آج کا افسانہ اس دانش سے مالا مال ہے۔

ؑ (علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد میں ۲ مارچ ۲۰۱۵ کو پڑھا گیا )

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *