M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|ن م راشد کی ایک انحرافی نظم

محمد حمید شاہد|ن م راشد کی ایک انحرافی نظم

tft-35-p-20-e-600x400
فیض احمد فیض اور ن م راشد

03.25.13.001

گماں کا ممکن: جو تو ہے میں ہوں
03.25.13.001

guman ka mumkin
http://e.jang.com.pk ——- http://e.jang.com.pk

ن م راشد کی نظم’’گماں کا ممکن : جو تو ہے میں ہوں‘‘ میرے لیے یوں اہم ہو گئی ہے کہ اس کے وسیلے سے اگر کو ئی چاہے تو ان سارے مخمصوں کی بنیاد کو تلاش کرسکتا ہے جوراشد کی شاعری میں یہاں وہاں بکھرے ہو ئے ہیں۔ یہی مخمصے اس کے زندہ وجود ہونے پر دَال بھی ہیں جو سوچتا ہے، کئی سوالات اُٹھاتا ہے اور اپنے تئیں کسی نتیجہ پر پہنچنے کے جتن کرتا ہے ۔اچھا ،خود راشدکا اِس نظم کے بارے میں یہ کہنا کہ اس میں اس نے چند ذاتی اور اجتماعی یادوں کوآپس گوندھنے کے جتن کیے ہیں ، اورہمیں یہ سمجھانا چاہا ہے کہ انسان مسلسل گمانوں کا شکار ہے۔ صرف اس حد تک[حقیقت تک] پہنچ سکتا ہے جہاں تک یہ گمان اجازت دیں؛ یہیں راشد نے’’ یعنی‘‘ کے اضافے کے ساتھ ایک اور بات بھی کہنا چاہی ہے ، خود راشد کے الفاظ میں یہ بات (کہ جسے میں نے شاعر کے ہاں ایک اُلجھن کے طور پر شناخت کیا ہے)یوں ہے:
’’گماں کے ممکن اور حقیقت کا دراصل کوئی وجود نہیں ہے، ہے تو محض سیمیائی وجود ہے جو محض گمان کے ساتھ اضافی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘
ایک گفتگو کے دوران ہمارے دوست ظفر سیدنے راشد کااس ضمن میں ایک اور بیان بھی ہمیں فراہم کر دیا ؛میں وہ بھی ہو بہ ہو نقل کر دیتا ہوں:
’’ ہم انسان اور انسانوں کے رشتے گمان پر قائم ہیں اور اس میں جو جو ممکن ہوتا ہے وہ لے لیتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں، نہ ہم لے سکتے ہیں نہ ہمیں ملتا ہے۔‘‘
لیجیے، اب میں ان بیانات کو قریب قریب رَکھ کر دہرارہا ہوں ۔
بیان نمبر 1۔ انسان مسلسل گمانوں کا شکار ہے۔
بیان نمبر2۔صرف اس حد تک[حقیقت تک] پہنچ سکتا ہے جہاں تک یہ گمان اجازت دیں۔
بیان نمبر3۔گمان کے ممکن اور حقیقت کا دراصل کوئی وجود نہیں ہے۔
بیان نمبر4۔اگر[حقیقت کا وجود ]ہے تو محض سیمیائی وجود ہے جو محض گمان کے ساتھ اضافی حیثیت رکھتا ہے۔
بیان نمبر5۔ہم انسان اور انسانوں کے رشتے گمان پر قائم ہیں۔
بیان نمبر6۔اس میں[ گمان کی حد تک] جو جو ممکن ہوتا ہے وہ لے لیتے ہیں۔
بیان نمبر7۔ اس [گمان ]سے زیادہ نہیں، نہ ہم لے سکتے ہیں نہ ہمیں ملتا ہے۔
صاحب ،بیان نمبر 1 میں راشدانسان کی بے بسی کو نشان زد کر رہا ہے کہ اُس کے پاس یقین کی دولت نہیں فقط گمان ہیں ۔ دوسرے معنوں میں وہ گمان کو حقیقت کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ اس دوسرے بیان میں اس حقیقت کے وجود کوبھی تسلیم کیا جارہا ہے جسے گمان کے ذریعے شناخت کیا جا سکتا ہے ۔ اگر میں یہ کہوں کہ یوں گمان کے ذریعے شناخت ہونے والی حقیقت کے جزوی وجود کو ، جو بہ ہر حال ایک مطلق حقیقت کا مظہر کے طور پر سامنے آرہی ہے ،اس بیان میں تسلیم کر لیا گیا ہے، تو میرا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا۔ اب آئیے بیان نمبر 4کی جانب ،راشد نے اس حقیقت کو بھی جس میں اس کے گمان نے تسلیم کر لیا تھا محض سیمیائی وجودقرار دیا ہے جو گمان کے ساتھ اضافیت کے رشتے سے قائم ہے۔ گویا حقیقت کا کوئی وجود اتنا بھی نہیں، جتنا گمان نے دریافت کیا تھا کہ جسے گمان نشان زد کر رہا ہے وہ محض سیمیائی ہے۔ سیمیا ،یعنی رُوح کو ایک وجود سے دوسرے وجود میں داخل کرنے کا عمل، یہاں گمان انجام دے رہا ہے اور شئے موہوم کو یہاں حقیقت کے طور پر گمان نے تسلیم کیا وہ کچھ نہیں ہے۔ پانچویں سوال میں راشد نے اِنسان اوراِ نسان کے بیچ اور اِنسان اور کائنات کے مابین رشتے کو نشان زد کر تے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ سب گمان کا شاخسانہ ہے؛ حقیقت کچھ بھی نہیں ہے بس سب گمان ہی گمان ہے ۔ میں بھی تو بھی ، یہ کائنات بھی ، اس کا آغاز اور انجام بھی، انسان کا ان سے تعلق اور رشتہ بھی سب گمان ہے ۔ گویا انسان بھی ایک گمان ہے، سوال یہ ہے کہ کس کا۔ انسان کا؟ گویاگمان کا گمان ۔۔۔ میں اُلجھتا جا رہا ہوں اور ادبدا کر چھٹے بیان کی طرف دیکھنے لگتا ہوں جس کے مطابق گمان کی حد تک کچھ کچھ ممکن ہوجاتا ہے۔ اتنا کہ ہم اس میں سے وہ(گماں|حقیقت) لے سکتے ہیں۔ اوہ تو یوں ہے کہ اب پھر سیمیائی حقیقت گمان کی حد تک نہ صرف ممکن ہو گئی ہے وہاں سے ہمیں کچھ کچھ عطا بھی ہونے لگا ہے۔ آخری بیان میں ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ہمارا گمان محدود ہے اور حقیقت کا کچھ حصہ ہی پا سکتا ہے ۔ گو یا پھر وہی بات کہ حقیقت لا محدود ہے اور گمان کی نارسائی؛ کہ وہ اسے ایک حد تک ہی شناخت کر سکتا ہے۔ راشد کوآپ نے خود اس کے اپنے بیانات کی روشنی میں دیکھ لیا اور جان لیا کہ وہ حقیقت ، جسے راشد نے سیمیائی کہا ہے ، وہ اتنی بھی سیمیائی نہیں رہتی کہ وہ لا محدود ہے اور اس کا کچھ حصہ ہی گمان میں آسکتا ہے گویا اتنا ہی ممکن ہے جو گمان میں آیا۔
راشد کو اس روایتی موضوع کی طرف کیوں لپکنا پڑا،اس کو آنکنا میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔ مجھے تو یہاں یہ یاد دلانا ہے کہ اس طرح کے موضوعات کو شاعری میں برتنا راشد کو بہت کَھلتا رہا ہے۔ اُس نے ایک مصاحبہ (لا= انسان والے)میں میراور غالب کو دنیا کے عظیم ترین معلموں میں شمار کیا تھالیکن ساتھ ہی ساتھ میر اور غالب کے ہاں محبوب ہونے والے جن موضوعات کو کھوکھلے ستون کا سا قرار دیا اُن میں ایک یہ موضوع بھی شامل ہے، جو اس نظم میں برتا گیا ہے۔ میر اور غالب کا ذکر آگیا ہے تو ساتھ ہی اس موضوع کو برتنے والے اشعار بھی ذہن میں گونجنے لگے ہیں ۔ ایک شعر ہے میر کا، یہاں درج کیے دیتا ہوں :
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
غالب کا شعر جو مجھے یاد آتا ہے ، مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کے ذہن میں پہلے سے حاضر ہوگا۔
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ دام خیال ہے
یا پھر نوشہ جی کا ہی ایک اور شعر:
ہاں کھائیو مت فریب ہستی
ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
صاحب!عنوان کے حوالے سے اوپر والے نکات ذہن میں تازہ رکھ کر نظم کے متن میں اُترتے ہیں تو یوں دِکھتا ہے کہ شاعر اِنسانی باطن کے تناؤ اور ایک بنیادی سوال کو نشان زد کر رہا ہے یہی کہ کائنات کے مقابلے میں اور اس کائنات کے اندر آدمی کی حقیقت کیا ہے ؟ نظم کے اندر یہ تنا ؤ اور تلاش پوری طرح نشان زد ہو رہی ہے ۔ انسانی باطن پر ایک دریچہ طبیعیاتی کائنات کا کھل رہا ہے اور دوسرا مابعد الطبیعیاتی کائنات کا۔ اچھا یہ یاد دلا دوں کہ راشد نے اپنے بیانات میں ہی نہیں اپنی متعدد نظموں میں موخر الذکر طرز احساس کی نفی کی ہے۔ جس نئے انسان کا تصور راشد کے ہاں بہ اصرار ملتا ہے وہ تو دیوار کے اس طرف والی کائنات کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھنا چاہتا مگر یوں ہے کہ اس نے اس نظم میں دیکھا ہے ۔
نظم طبیعیات کے سب سے نمایاں، کریم اور روشن مظہرسورج کے ذکر سے شروع ہوتی ہے۔ وہ کریم سورج جو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائی اورہمواری دیتا ہے۔ بہتے پانیوں کی سرشاری ہو یا زمانے کی جھیل کا مانوس کنارا ، مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ یہ سب مظاہر انسانی شناخت کو اعتبار نہیں بخش رہے ہیں۔ یہیں اس گماں کا ذکر ہوتا ہے جس کے مطابق انسان یہ سمجھے بیٹھا کہ وہ اپنا ثبوت آپ ہے۔ حتی کہ اسے زمانے کی جھیل کے دوسرے کنارے سے اپنی ہی دھیمی صدا کی جانب متوجہ ہونا پڑتا ہے ۔ چوں کہ یہ زمانے کی جھیل ہے لہذا نظم یہ بھی نشان زد کر رہی ہے کہ اس کے اوپرہزاروں انسان اُفق کے متوازی چل رہے ہیں ؛اس تمنا کو لیے کہ وقت لہریں اچھال کر دوسرے کنارے پر اتاردیں ۔ اس مرحلے پر نظم اُن انسانوں کی بات کرتی ہے جنہیں سماوی خرام کی تمنا ہے اور جنہیں پاتال سے زمزموں کی صدا سنائی دے جاتی ہے۔انسان آگے بڑھتا ہے اور آگے ، وقت لہریں اُسے اُچھال کر دوسرے کنارے تک نہیں پہنچاتیں؛بل کہ بار بارڈبودیتی ہیں۔ تو یوں ہے کہ محض فزکس یا پھر میٹا فزکس انسان کو دوسرے کنارے تک لے جانے میں کامیاب نہیں ہو پاتی اور یہ میں اپنی جانب سے نہیں کہہ رہا راشد کی نظم یہ کہنے پر اُکسا رہی ہے۔
’’جنہیں تمنا، مگر، سماوی خرام کی ہو/انہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہے/وقت لہریں/انہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں!‘‘
نظم کے اگلے ٹکڑے میں راشد اُن ملاحوں کی جانب اشارہ کرتا ہے جو زمانے کی جھیل کے دوسرے کنارے سے آنے والی انسان کی اپنی صداسے سدا ہراساں اور گریزاں رہتے ہیں ۔ راشد کے ہاں آپ محسوس کریں گے کہ مناظر اپنی ایک الگ دھج سے سامنے آتے ہیں ۔ اس نظم کے انوکھے اور پرلطف منظر کا حصہ ہو جانے والی جھیل میں ایک عمود کا چور چھپ کر بیٹھا ہوا ہے۔ اب آپ یوں کیجیے کہ جھیل کو اُوندھا دیجیے ، جیسے آپ کے ہاتھ میں ایک پیالہ ہے اور آپ اُس کا پیندا جھٹ سے ہاتھ گھما کر اوپر کر دیتے ہیں ۔آپ ایسا کریں گے تو کشش ثقل سے آپ کے پیالے کی گرفت مات کھا جائے گی ، جو کچھ اس کے اندر ہو گا اُس سے نکل کر پیالہ خالی ہو جائے گا مگر راشد نے زمانے کے جس جھیل پیالے کو اوندھایا ہے اُس کا پانی اور لہریں اُسی طرح اپنا خرام جاری رکھتی ہیں ۔ اب آئیے اس عمود کے چور کی جانب جس کے گیسو اُفق کی چھت سے لٹکتے دکھائے گئے ہیں ۔ اور جو مسلسل پکار رہا ہے :
آؤ، آؤ/ازل سے میں منتظر تمہارا/۔۔۔۔/میں گنبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوں/درخت، مینار، برج، زینے مرے ہی ساتھی/مرے ہی متوازی چل رہے ہیں/میں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیرا/سمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارا/اب آؤ، آؤ/تمہارے جیسے کئی فسانوں کو میں نے ان کے/ابد کے آغوش میں اُتارا۔/تمام ملاح اس کی آواز سے گریزاں/افق کی شاہراہِ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماں۔۔۔۔
راشد جس اُفقی اور عمودی کشمکش کو انسانی حیات کے بنیادی مسئلے کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ عین اسی کے مرتبے کا اس نے منظر بنایا اور اس میں ایک اسی دھج کی تمثیل رواں کر دی ہے ۔ نظم کے اس حصہ میں ایک بار پھر سماوی خرام والوں کا ذکر ہوتا ہے جو پست و بالا کے آستاں پر جمے عمود کے طناب کو تھامے ہوئے بلندی پر چڑھ رہے ہیں۔ نظم وقت اور ماورا وقت کی بات کرکے انسانی وجود کی شناخت کے سوال کو بھی نشان زد کر رہی ہے جو محض اور صرف عمود سے جڑی ہوئی نہیں ہے۔
عمود کے طناب کو تھام کر چلنے اور بلندی کی طرف سفر کرنے والا انسان اسی نظم میں آگے چل کر ہانپتا اور مات کھاتا ہوا دکھایا گیا ہے تاہم نظم کے جس منظر کی یہاں بات ہو رہی ہے اس میں عمود کا یہ چور گنبدوں کے سارے راز جانتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ حیات کے سارے مظاہر اسی کے متوازی چل رہے ہیں اور دوسرے کنارے پر، کہ جہاں آخری بسیرا ہو سکتا ہے اور جسے نظم میں ابد کی آغوش کہا گیا ہے، اسے بھی اسی عمود سے شناخت کیا جا سکتا ہے اور بامعنی بھی بنایا جاسکتا ہے۔ نظم کے اسی حصے میں راشد نے ایک بار پھر ان ملاحوں کا ذکر کیا ہے جو پست و بالاکے آستاں سے جمے ہوئے ہیں اور ایک خوف اور سہم کو دل میں پالتے ہوئے عمود کے طناب کو تھامے بلندیاں چڑھنا چاہتے ہیں۔
یوں جیسے ایک کہانی لکھنے والا پہلے ایک ماحول بناتا ہے؛ کہانی کا لوکیل واضح کرتا ہے، اس کے زمانے کا تعین کرتا ہے ، بالکل اسی طرح یہ نظم بھی اپنا آغاز یہاں مکمل کر لیتی ہے۔ لہذا اسی مقام سے نظم کا واحدمتکلم نظم کہانی میں نمودار ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس گروہ کے ساتھ نشان زد کرتا ہے جو عمود کے طناب کو تھامے پار اُترنے کے جتن کرر ہا ہے ۔
’’۔۔۔/اسی طرح میں بھی ساتھ ان کے اتر گیا ہوں/۔۔۔‘‘
تو یوں ہے کہ راشد کا انسان جس خدا سے دامن کشاں ہو کرعمود کے طناب کے سہارے دوسرے کنارے پہنچنا چاہتا تھا ، وہ ادھر پہنچا بھی مگر کیا دیکھتا ہے کہ قدیم خدا کے نشان پا وہاں بھی موجود تھے اور اس کی ضعیف آنکھیں سلامت تھیں۔ ایسے میں نظم کا متکلم اپنے آپ سے سوال کرتا ہے:
’’۔۔۔/یہی سماوی خرام میرا نصیب نکلا/یہی سماوی خرام جو میری آرزو تھا/۔۔‘‘
راشد کی اس طویل مختصر نظم میں اب وہ مرحلہ آجاتا ہے کہ عمودی طناب سے جڑے سفر کا پچھتاواہر لائن سے چھلکنے لگتا ہے ۔
’’مگر نجانے/وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے/کہ جس پہ خود سے وصال تک کا گماں نہیں ہے؟/وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے/جو رک گیا ہے دلوں کے ابہام کے کنارے/وہی کنارا کہ جس کے آگے گماں کا ممکن/جو تو ہے میں ہوں!‘‘
نظم کا متکلم یہاں ایک بار پھرسے اپنی منزل کی تعیین کرتا ہے ۔ وہ اپنے باطن میں موجزن تمنا کے سچ کو کھنگالتا ہے اور خود کو یقین دلاتا ہے کہ :
’’مگر یہ سچ ہے،/میں تجھ کو پانے کی (خود کو پانے کی)آرزو میں/نکل پڑا تھا/اس ایک ممکن کی جستجو میں/جو تو ہے میں ہوں/میں ایسے چہرے کو ڈھونڈتا تھا/جو تو ہے میں ہوں/میں ایسی تصویر کے تعاقب میں گھومتا تھا/جو تو ہے میں ہوں!‘‘
اچھا، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس نے اپناگزشتہ سفر ناکارہ جان کر پھر سے آغاز لینے کا فیصلہ کیا ہو، نظم بتاتی ہے کہ ایسا بار بار ہوتا رہا ہے۔ اپنی حقیقت کو پانے کے تعاقب میں جتنے بھی آغازاب تک گنے جا چکے ہیں ان سب سے رستا ہوا ناکامی کا خوف شاعر کے بطن میں جھیل سا بنا گیا ہے ۔ اب وہ جس گلی سے اور جس چوک سے گزرتا ہے اس خوف اور سہم کو لے کر گزرتا ہے ۔ جن گونگے مجسموں کو دیکھتا یا جن باغوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے، شراب راتوں میں جن بانہوں کا آسرا لیتا ہے یا جن چاہت کے بپھرے سمندروں سے گزر گیاہے ، نارسائی اور ناکامی کا خوف اس کے قلب میں ہمیشہ رہتا ہے ۔ جی ،اور اس کا سبب اب تک کی مشقتوں کاوہ نتیجہ ہے جو نظم کی کھول کھول کر بیان کر رہی ہے :
’’میں کتنی ہوش و عمل کی شمعوں سے،/کتنے ایماں کے گنبدوں سے/گزر گیا ہوں/میں اِس تعاقب میں کتنے آغاز کتنے انجام گن چکا ہوں۔۔۔/اب اس تعاقب میں کوئی در ہے/نہ کوئی آتا ہوا زمانہ/ہر ایک منزل جو رہ گئی ہے/فقط گزرتا ہوا زمانہ/۔۔۔/تمام رستے، تمام بوجھے سوال، بے وزن ہو چکے ہیں/جواب، تاریخ روپ دھارے/بس اپنی تکرار کر رہے ہیں‘‘
گماں کا ممکن: جو تو ہے میں ہوں کی طرف نظم سہج سہج چلتی آرہی تھی مگر یہاں پہنچتے ہی، نظم یوں فیصلے سناتی ہے جیسے منزل سامنے آگئی ہو یا جیسے بند غار پر دہانہ کھل کر پورا آسمان روشن کر رہا ہو۔
’’جواب ہم ہیں۔۔۔ جواب ہم ہیں۔۔۔۔/ہمیں یقیں ہے جواب ہم ہیں۔۔۔۔‘‘
خیر ، ایسا ہے نہیں ، کہ یہ تو اس نظم کا قرینہ ہے ، انسان کے یقین کو جس طرح یہاں نظم کا حصہ بنایا گیا ہے وہ ایک ڈرامے کا سا لطف دیتا ہے اور قاری کو بھی ایک جوش بھرے یقین کے مقابل کر دیتا ہے ۔ تاہم اگلی ہی سطروں میں وہی مخمصہ ، جو راشد نے اس نظم کا بنیادی تنازع بنایا ہے پھر سے راہ روک کر آموجود ہوتا ہے۔
’’یقیں کو کیسے یقیں سے دہرا رہے ہیں کیسے/مگر وہ سب آپ اپنی ضد ہیں/تمام، جیسے گماں کا ممکن/جو تو ہے میں ہوں !‘‘
یہیں اس سوال کا جواب پانے کے لیے نظم ایک تمثیل کی صورت ایک اور سوال یا مخمصہ اُچھالتی ہے ؛سامنے وقت کا دریا بہہ رہا ہے جس میں درختوں کے کندے تیررہے ہیں ۔ ازل سے بہتے اس دریا کے ابد تک جاتے اس نامعلوم کنارے کا سفرہونی شدنی سے بندھا ہوا ہے (نظم کے متکلم ہی کے الفاظ میں)نہ ان کی تقدیر میں ہے پھر سے درخت بننا ۔ اچھا نظم یہاں یہ بھی بتا رہی ہے :
’’تمام کندوں کے سامنے بند واپسی کی/تمام راہیں/وہ سطحِ دریا پہ جبر سے تیرتے ہیں/اب ان کا انجام گھاٹ ہیں جو/سدا سے آغوش وا کیے ہیں‘‘
راشد کا معاملہ اپنے مثالی انسان سے ہے جسے بہ ہر حال اس طرح تقدیر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا لہذا نظم کا متکلم یہاں ایک اور حیلہ کرتا ہے اور ان کندوں کو بہتے پانیوں سے اچک کر سفینہ گر کے قیاس کی طرف لے جانا چاہتا ہے ۔ مگر میں نے کہا نا، راشد کو اس باب میں قلب مطمئن عطا نہیں ہوا :
’’اب اِن کا انجام وہ سفینے/ابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھی/اب ان کا انجام/ایسے اوراق جن پہ حرفِ سیہ چھپے گا/اب اِن کا انجام وہ کتابیں۔۔۔/کہ جن کے قاری نہیں، نہ ہوں گے/اب اِن کا انجام ایسے صورت گروں کے پردے/ابھی نہیں جن کے کوئی چہرے/کہ ان پہ آنسو کے رنگ اتریں،/اور ان میں آیندہ/ان کے رویا کے نقش بھر دے!‘‘
صاحب ، نظم فیصلہ سنا رہی ہے کہ غریب کندوں کے سامنے واپسی کی تمام راہیں بہ ہرحال بندہیں اور بقائے موہوم کے جو رستے کھلے ہوئے ہیں ان کے ہر سنگ میل پر بس یہی لکھاہواملتا ہے:
’’گماں کا ممکن، جو تو ہے میں ہوں !
جو تو ہے میں ہوں!‘‘
تو یوں ہے کہ بہ ظاہر اس نظم میں جس افق اور عمود کی کشمکش کو لایعنی بتایا گیا ہے وہی میٹا فزکس کو نظم کے حاشیہ سے اُٹھا کر اس کے مرکز میں لے آتی ہے ۔ جی ہاں وہی راشد کی متروک اور دھتکاری ہوئی میٹا فزکس اب فزکس کے ساتھ جڑ کر اس گونج کی طرف بڑھ رہی ہے :
’’گماں کا ممکن، جو تو ہے میں ہوں !
جو تو ہے میں ہوں!‘‘
*:*:*

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *