M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / ساقی فاروقی کی نظم “خالی بورے میں زخمی بلا”:محمد حمید شاہد

ساقی فاروقی کی نظم “خالی بورے میں زخمی بلا”:محمد حمید شاہد

ساقی فاروقی کی نظم خالی بورے میں زخمی بلا
کے حوالے سے منعقدہ حاشیہ کے جلسے میں
 محمد حمید شاہد کاصدارتی خطبہ
    • احباب حاشیہ
      میں سب سے پہلے حاشیہ کے تمام اراکین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ ایک بار پھر وہ جان دار اور پر از معنی مکالمہ قائم کرنے میں کامیاب رہے ۔ مجھے یقین ہے کہ جناب ساقی فاروقی کی نظم” خالی بورے میں زخمی بلا” پر ہونے والی یہ گفتگو جدید نظم کی تفہیم میں ایک اہم باب کی حیثیت سے یاد رکھی جائے گی۔ اب مجھے بہ طور صدر کچھ کہنا ہے کہ حاشیہ کی یہی روایت ہے ، اور یہ جانتے ہوئے ،کہ نظم پر بہت کچھ کہا گیا ؛ اتنا کچھ کہ کہنے کو شاید ہی کچھ بچا ہو، مگر پھر بھی ایک عدد صدارتی خطبہ” عطا ” کرنا ہے ۔ سو اس باب میں اس “اطائی ” کی گزارشات قبول فرمائیے ۔

      اپنی بات کہنے سے پہلے مجھے صدر کی حیثیت سے اس مکالمہ کے فاضل شرکا کی کاوشوں کو سراہنا ہے اور بہ طور خاص ان مقامات کو نشان زد کرنا ہے جنہیں بہت اہم سمجھتا ہوں ۔ میں اعتراف کر چکا ہوں کہ نظم پر مکالمہ کے ابتدائیہ ہی میں ایک سلیقے سے گنجائشیں رکھ دیں گئیں کہ بات کسی ایک رخ پر ہی نہ چلے ، تفہیم کے تمام امکانات کو دیکھا جائے۔ یوں جو معنیاتی سطح پر متن کی جو پرتیں ہمارے سامنے آتی ہیں انہیں اس طرح مقتبس کیا جا سکتا ہے۔

      یہاں خالی بورا قید خانہ ہو جانے والی دنیا کا سا ہو گیا ہے۔ ایسی دنیا جس میں ہر نفس کا انجام بورے میں بند بلے کی طرح موت ہے ۔ گویا نظم بتانا چاہتی ہے کہ ہر انسان کا مقسوم یہی موت ہے۔ اس طرح یہ مضمون اردو اورفارسی شاعری کی عظیم روایت سے جڑ جاتا ہے۔

      نظم کی تفہیم کی ایک صورت تصوف اور ویدانت سے جوڑ کر بھی نکالی گئی۔ بہ طور خاص جب تصوف سے جڑے ہوئے معنی سجھائے جارہے تھے تو میں نے گزارش کی تھی کہ اس رُخ سے نظم کو شاید پہلی بار دیکھا جا رہا تھا، نظم کو بھی اور اس کے کردار جان محمد خان کو بھی۔ ساقی فاروقی کا بھی کہنا ہے کہ یہ والی توجیہ خود ان کے لیےبھی انکشاف سے کم نہیں تھی ۔ خیر شاعر پر اپنی نظم کے سارے معنی منکشف ہو جائیں یہ لازم بھی نہیں ہے۔ تاہم یہ شاعر نے مانا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ’یہ تمام باتیں شاعر کے خون، اس کی نشو ونما، اس کے لا شعور اور شعور میں کہیں نہ کہیں موجود رہی ہوں گی۔‘

      آدمی اور انسان ہو جانے کی بابت خود شاعر نے اشارہ کیا اور لگ بھگ اس سے جڑی ہوئی ہوئی تفہیم میں آدمی کے انسان ہونے کے لیے اس کے عابد، زاہد اور عارف ہو نے کو اس باب میں ایک اہم منزل کے طور پر شناخت کیا گیا ہے ۔ میں کہہ آیا ہوں کہ اس طرح خالی بورے کا تابوت بن جانا اور زخمی بلے کااس تابوت کی تنہائی سے لپٹ کر سو جانا اور پانی پانی ہو جانا، محض خان محمد جان کی ننگی پیٹھ پرآگ جلانے اور انگارے دہکانےاور جدوجہد کے خونیں پھول کھلانے والے کی کہانی نہیں رہتی ۔ اب جان محمد خان نامی کردار پر منکشف ہو چکا ہے کہ حیاتِ انسانی بنفسہ اپنا تحفظ محض جسم اور وجود کے سہارے نہیں کر پائے گی، اسے وہ علم اور معرفت درکار ہے جس سے زندگی کی اذیت سے معنی چھلک پڑیں ۔ جان محمد خان اپنے پہچان میں نہ آنے والے خالی بورے کی پہچان اسی قرینے سے ہوتی ہے اور اس سفر کی بھی جو ہر گز آسان نہیں ہے۔

      جان محمد خان اور زخمی بلے کو ایک ہی ہستی کے دو روپ بنا کر بھی نظم کو سمجھا گیا،نیک طینت اوراس کی ہمزاد گھناؤنی روح کی صورت میں۔ اور پھر سگمنڈ فروئڈ کی اِڈ، ایگو اور سپر ایگو کے ساتھ بھی جوڑاگیا ۔ایسے میں جان محمد خان سپر ایگو کا نمائندہ ہوا اور بورے میں بند زخمی بلا اڈ کا۔

      ایک اور جہت سے نظم کے پگڈنڈی پر تالاب کی جانب رواں کردار جان محمد خان کا سفر انسانی ارتقا کا سفر ہو جاتا ہے وہ اپنی جبلت سے نبرد آزما ہے۔ اور یہ اس کردار کا مثبت روپ ہے کہ وہ روسو کا ’’دی سیوج مین‘‘ بننے نکلا ہے گویا بورا اور اس میں بند بلا روح کا ایسا نقاب ہو جاتے ہیں جسے نوچ کر پھینک دینے کے بعد ہی اپنی اصل کو پا سکتا ہے۔

      جب ہمارے ایک فاضل دوست نے، اس نظم کو اس کہانی کی صورت دیکھا جس میں برا کرنے والے کا انجام بھی برے نتیجے کی صورت لازم ہو جاتا ہے ۔ ایک متکلم کی نظر سےجان محمد خان اور زخمی بلے کے کردار کو دیکھا جائے تو نظم کی اخلاقی اور نظریاتی جہت اور نمایاں ہو جاتی ہے ۔ ایسے میں، چاہے نظم نگار اپنی عام زندگی میں خود کو کتنا ہی شوخ ، چنچل ، ریاکار ، پاپی ظاہر کرے، نظم کے متن میں ایک پختہ ایمان اور ایقان والے کی صورت نشان زد ہو تا ہے۔ سو اس رخ سے دیکھیں تو یہ بات بہ جا لگتی ہے کہ ” قدرت نے اچھائی اور برائی کا شعور پیدائشی طور پر ہر انسان کو الہام کر رکھا ہے۔” یہاں زخمی بلے کی شکل میں جان محمد خان کے ضمیر کی آوازہو گئی ہے اور نظم کا آخری حصہ انسان کی اسی اخلاقی انسانی فیکلٹی کی نشان دہی۔ وجود اور روح کو بھی یہاں شناخت کیا گیا اور نظم کو اس دنیا اور آخرت سے جوڑ دیا گیا ، جو یقیناً ایسا سفر ہے جسے کسی صورت آسان سفر نہیں کہا جا سکتا ۔ (جاری ہے)

       جب ایک ظلم سہتے اور تباہی کے مقابل ہوتے ہوئے غلام کی طرح زخمی بلے کو دیکھا جا رہا تھا تو اس کی جدوجہد اور اذیت سے ترقی پسندوں کو محبوب ہو جانے والے معنی چھلک پڑے تھے ۔ یہ معنی بھی نظم کے مرکز کی کشش سے آزاد ہوئے بغیر ایک دائرہ بنا لیتے ہیں لہذا اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ نظم کے کردار کا مزاحمتی ہو جانا ،اور زندگی کوایک مزاحمتی کے نقطہ نظر کی توسیع ہے ۔

      نظم کی سیاسی توجیہ بھی نظم کے متن کے اندر پھوٹی ہے اور ان نشانات کو لے کر چلتی ہے جو متن فراہم کرتا ہے مثلاً دھان، پٹ سن، خالی بورا ۔ جب یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ’’پٹ سن‘‘ اور ’’سبز پانی‘‘ کو استعارہ مان کر بات کی جائے تو میں انہیں زندہ استعارے کی صورت دیکھ رہا تھا ایسے میں خالی بورے والا زخمی بلّا مشرقی پاکستان کے عوام کے شعور کی تیز رفتار نمو، ان کا مثالی نظم و ضبط اور ان کے سینوں پر سیلاب بن کر بہنے والا سرکاری استحصالی سبز نظریہ سے جڑ گیا تھا اور نظم کے باطن میں پڑے اس طوفان کی خبر سے بھی جس کی پیش گوئی آخری سطر کررہی تھی۔

      ایسے میں شاعر کی اپنی زندگی کو نظم سے جوڑا گیا۔ گورکھپور میں آنکھ کھولنے والے اس شاعر کی زندگی کو جس نے بچپن میں اپنے گھریلو ملازم کو ایک بلّے کو بورے میں بند کر کے تالاب تک لے جاتے اور اسے ڈبو کر مار ڈالنے کا منظردیکھ رکھا تھا ۔ جس نے ہجرت کی اور لڑکپن بنگال کے بورڈنگ سکولز کی دیواروں کے پیچھے گزارنا پڑا ۔ ملک تقسیم ہوا تو جو پھرہجرت کر رہا تھا، کراچی آنے اور بعد میں لندن پہنچ کر زندگی کی آسودگی سے بغل گیر ہونے والے اس شاعر کی زندگی کا قصہ بھی اسی مطالعے کے دوران نظم سے چھلک پڑا۔ پٹ سن، دھان ، خالی بورا ، بلا، تابوت ، گندا تالاب ، اس سب کے معنی نظم کی کلیت کے اندر سے نکلتے رہے اور لطف دیتے رہے۔ اور ہماری سماعتوں سے یہ آواز ٹکراتی رہی “جان محمد خان/سفر آسان نہیں”

      نظم کا ایک معتبر حوالہ جنس بھی بنا۔ اور جب بتایا جارہا تھا کہ “ہم سب کے اندر ایک بلا ہے،لیکن ہم سب ہی جان محمد خان نہیں ہیں تو بات اپیل کر رہی تھی۔ لبیڈو کے فطری مطالبوں کو یہاں دبانا ایک طرح سے بلے کو زخمی کرنے اور بند بورے میں بند کرنے اور اذیتیں دینے کے مترادف ہو گیا تھا ۔ جب جنس کے بلے کی مدہم “میاؤں” پر دھیان نہ دھرا جائے تو اس کا سر کش ہونا اس نقطۂ نظر میں نشان زد ہوتا ہے ۔ یہی نفس ہے اور یہی اشتہا ۔ سو سارے جان محمد خان اس کو دباتے یا مار ڈالنا چاہتے ہیں ۔ جب کہ اس کا مرنا خود آدمی کا مرنا بھی ہے ۔ اچھا اسی جنسی رخ کی ایک اور طرح سے تفہیم بھی ممکن تھی کہ بلا اور گندا تالاب دونوں جنس کے مظہر ہو جاتے ، بلا خالی بورے میں رہتا ہے تو اسی کی دی ہوئی ایذا سہنے پر مجبور ہے ، جس کی دسترس میں ہے، مگر جوں ہی کسی دوسرے وجود کے گندے تالاب میں اس بلے کو ڈبو دیا جاتا ہے، زندگی جاگ اٹھتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک اور زندگی یا مشکل سفر کی ابتدا ہو جاتی ہے۔ جنس کے حوالے سے یہ معنی بھی نظم کے نیوکلس کو متن سے بے دخل کیے بغیر برآمد ہوتے ہیں ۔ لہٰذا توجہ پاتے ہیں۔

      یہیں بتاتا چلوں کہ اس نظم میں تخلیقی قرینوں کو جس طرح بروئے کار لایا گیاہے، اسے بجا طور پر احباب نےنشان زد کیا ہے۔ مثلاً دیکھئےعنوان میں “بورے” کے ساتھ لفظ “خالی” کتنے جواز کے ساتھ آیا ہے، حالاں کہ اسی بورے میں بلا موجود ہے اور وہ خالی نہیں ہے۔ دھان اور پٹ سن کے لفظوں سے معنویت کے ایک علاقہ کی تعمیر، خالی بورے میں جان کا الجھنا کہہ کر بورے کے خالی پن کوشدت سے ظاہر کرنا، پھر زخمی وجود سے رگڑ کھاتا بورا، اس الجھن کی شدت کو بھی بڑھانے والا۔ بورے کے اندر سے باہر کا منظر جیسے کوئی بندی خانے سے باہر ایک محدود منظر کو دیکھتا ہے۔ بورے کی بنائی کو پٹ سن کی مضبوط سلاخیں بتانا۔ تو یوں ہے کہ یہ سلاخیں اب آہنی ہو گئی ہیں۔ نیزوں جیسی، جو ماس کاٹتی، کچ کڑچ کرتی، دل میں گڑ جاتی ہیں۔ نظم میں پٹ سن کے خالی بورے کا تابوت ہو جانا، اس معنی کا متن میں خود بہ خود ایزاد کر لیتا ہے کہ زخمی بلا بورے میں بند گندے تالاب کے پانیوں کی نذر ہو نے والا ہے۔ بورے میں بند بلےاور پگڈنڈی کا گندے تالاب میں گرنا ایک سا ہوکر پڑھنے والے کے بدن میں سنسنی اچھال دیتا ہے۔ دھان کے بورے کی دیواروں سے چھن چھن کر اندر آنے والا منظر اور چاند کے چھن چھن سکے جو آنکھ کے کٹوروں سےساتھ صوتی تصویر بناتا ہے۔

      بجا کہا گیا کہ فنی اعتبار سے نظم بہت گتھی ہوئی ہے۔ سطریں یا تو بولتی ہوئی ہیں یا تصویریں بناتی ہیں ۔ پھر قوافی کا اہتمام بھی خاص مگر مانوس صوتیات کے ساتھ موجود ہے، جان الجھتی ہے کا جان،قبل ازیں سطر کے آسان اور دھان کی صدا معدوم نہیں ہونے دیتا۔ ” آگ جلائے کون”، “انگارے دہکائے کون” اور”پھول کھلائے کون” بھی اسی طرح کے صوتی قرینے ہیں ۔ “سفر آسان نہیں” اورپھر”آج سفر آسان نہیں” اور آخر میں ایک بار پھر” سفر آسان نہیں ” کی تکرار جہاں معنوی سطح پر بہت اہم ہے وہیں اس صوتی آہنگ میں ایک حسن کی صورت بھی ہوجاتی ہے۔ سو انہی لسانی حیلوں نے متن کے اندر محض معنی کے کثیر دھارے ہی رواں نہیں کیے، ان کے اندر ایک چکاچوند بھی جگا دی ہے جو خارجی اسٹرکچر میں نظم نگار کے اپنے مزاج سے ہم آہنگ ہو گئی ہے۔

    •  یہیں مجھے ان سب احباب کا شکریہ ادا کرنا ہے جو اس فورم پر آئے ، اور نظم کی تفہیم میں اپنا حصہ ڈالا ، ظفر سید، علی محمد فرشی ، زکریا شاذ ، محمد یامین ، جلیل عالی ، الیاس ملک ، تصنیف حیدر ، علی ارمان ، ارشد لطیف، یشب تمنا، تسنیم عابدی، ضیا ترک ، نسیم سید، حمیدہ شاہین اور ان دوستوں کا بھی کہ جو مکالمہ پڑھتے رہے ، اسے لائیک کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے ۔ باقی رہے اپنے محترم ستیہ پال آنند جنہیں میں نے محبت سے نظم پر بات کرنے کی استدعا کی تھی مگر بہ قول ساقی ’ظالم نےنظم پر کم اور دوسری چیزوں پر زیادہ بات کی ہے۔‘ اس باب میں زکریا شاذنے جو کہا وہی درست ہے:” جناب آنند صاحب کی فکر انگیز گفتگو اول و آخر پڑھ کر یہ احساس شدت کے ساتھ ہوا کہ آپ نے نظم پر براہ راست اور سنجیدگی سے کچھ بھی نہیں کہا ۔۔حالانکہ وہ اس محفل میں موضوع ہی کے توسط سے تشریف لائے تھے ۔۔۔ مگر افسوس کہ ہمیں وہ اس سعادت سے بہرہ مند نہ کر سکے ۔۔ ”

      مجموعی طور پر دوستوں نے بہت کا رآمد باتیں کیں ۔ جس کے لیے میں ان کا ممنون ہوں۔

      احباب گرامی،آخر میں ایک بات اور، یہ بات ایسی ہے کہ تخلیقی عمل کے دوران ہمارے تجربے کا حصہ بنتی آئی ہے ، تخلیقی عمل کے دورانیے میں لکھنے والا ڈھنگ سے گمان بھی نہیں باندھ سکتا کہ وہ مظاہر،سانحات یا محسوسات جنہوں نے اس کے باطن میں ابال پیدا کیا اور ہیجان اٹھایا تھا، جب فن پارے میں ڈھلیں گے تو کیا صورت اختیار کریں گے۔ پھر لکھتے سمے وہ تو ویسا ہوتا ہی نہیں ہے ، جیسا کہ عام زندگی میں ہمارے مشاہدے میں آتا ہے۔ ایسے میں تجربہ امیج میں ڈھل رہا ہو یا ردھم پوئٹک پیٹرن ڈھال رہا ہو، وہ بہت زیادہ ریشنل ہو کر سوچ رہا ہوتا ہے نہ عالم فاضل اور محقق بن کر۔ تاہم اس سارے عمل میں فن پارہ مکمل اور بامعنی تب ہی ہوتا ہے کہ تخلیق کے اس جادوئی عمل میں کہ جب شاعر کا شعور، تحت الشعوراور لاشعور ایک حیلے کا جال بن رہے ہوتے ہیں،تو اسی جال کے تانے بانے میں دیکھے بھالے مظاہر، سہے برتے سانحات اور علم و فضل اور تحقیقی اثاثے کے “جن” کو” مکھی” بنا کربُن دیتا ہے۔ یوں کہ ایک غیر متحرک مرکز کے گرد سیال اور لازمانی معرفت کو وجود میں لانے والا گہرا ربط وجود میں آ جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی فن پارے میں یہی ربط نامیاتی وحدت کی صورتیں بناتا ہے اور بہ ظاہر عام سی لسانی تراکیب کی مدد سے متن کے افق پرجمالیات کی دھنک اچھالنے کی سکت رکھتا ہے۔ مجھے اس بات کی جانب یوں آنا پڑا کہ جب ساقی کی نظم اور اس کے شخصی تجربے کا قصہ طول کھینچ رہا تھا توایک طرف اسے سرے سے لائق اعتنا نہیں جانا جا رہا تھا تو دوسری طرف اسے تخلیقی تجربے کی تفہیم کے واحد ٹول کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تخلیق کار کی شخصی زندگی اور اس کے عمومی تجربے اور تخلیقی تجربے کے بیچ جو لطیف تعلق ہوتا ہے نہ تو اس سے انکار کیا جاسکتا ہے نہ کلی طور پر اس پر انحصار کیا جانا چاہیے۔ یوں دیکھیں تو خالی بورے والازخمی بلا، نظم کے اندر بعنیہ ویسا نہیں رہتا جیسا کہ ساقی فاروقی نے نظم کے باہر، اپنے ملنے والوں کو بتا رکھا ہے۔ اور اس کے اندر وہ سارے معنی ، کہیں مکمل اور کہیں جزوی ظاہر ہوتے رہے ہیں جو اس مکالمہ کے دوران نشان زد ہوئے ۔ ساقی فاروقی کے شکریہ کے ساتھ میں اس اجلاس کے ختم ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ اگلے اجلاس کے بارے میں جلد اطلاع دے دی جائے گی۔

      تمام شد

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد| احمدفراز کے عشق

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں احمد فراز کی یاد میں تقریب ہوئی تو …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *