M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / غالب نے ہماری زبان کی لکنت دور کر دی تھی

غالب نے ہماری زبان کی لکنت دور کر دی تھی

اوصاف کے لیےمحمد حمید شاہد کی گفتگو سے مقتبس

دیگرشرکا ءمکالمہۛ  رشید امجد، جلیل عالی ، مرزا حامد بیگ

اوصاف
اوصاف

اس پل پل بدلتے زمانے میں جمی جمائی تہذیب کے نوحہ خواں اورانیسویں صدی کے شاعر غالب کو آپ نے یاد کرنے کا یہ جو حیلہ کیا ہے، مجھے اچھا لگ رہا ہے ۔ بیسویں صدی کا ایک ایسا فرد جو بظاہر کسی منضبط فکر کا آدمی نہیں تھا حتی کہ اس نے ایسے اسلوب حیات کو چلن کیا تھا جس پر یار لوگ اب تک انگلیاں اٹھائے چلے آتے ہیں ۔ جس کے مالی معاملات الجھے ہوئے تھے انہیں سلجھانے کے لیے اسے شاعری سے بھی کبھی کبھار مدد مانگنا ہوتی تھی کہ بے شک آباءکا پیشہ سپاہ گری تھا مگر وہ تو کب کا چھوٹ چکا تھا ۔

غالب’ وظیفہ خوار ہو’ دو شاہ کو دعا

وہ دن گئے جو کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

سلجوقیوں سے نسبی تعلق پر فخر بھی تھا مگر یہ نسبی تعلق کسی لائق ہوتا تو پھنسی ہوئی پنشن بحال ہو جاتی جس کے لیے غالب کو مسلسل جتن کرنا پڑے ۔ کئی اور بھی دھندے تھے جن میں غالب اُلجھا۔ مثلاً اپنے قدر دان ریزیڈنٹ دہلی ولیم فریزر کے مارے جانے کے بعد غالب کا نواب شمس الدین کو اس قتل کے جرم میں پھانسنے اور پھانسی کے پھندے تک لے جانے میں سرگرمی دکھانا ۔محمد حسین قتیل دہلوی کی فارسی کو نیچا دکھانے کے لیے اس کی ذات پر بعد از موت شدید حملے۔ اسے فرید آباد کا کھتری بچہ کہہ کہہ کر تمسخر اڑانا اور جب دال نہ گلی اور اپنے ہی دوستوں کا فاصلہ کرنے لگے تو معذرت نامے لکھ لکھ کر انہیں منانا۔ مولوی عبدالقادر رام پوری’ مولوی کرم حسین بلگرامی اور مولوی نعمت علی عظیم آبادی جیسے فارسی کے اساتذہ کے سامنے سبکسار ہونا۔ درباری شاعر بننے کے لیے ملکہ وکٹوریہ کی خدمت میں درخواست گذارنا اس کے جواب کے انتظار میں بے قرار پھرنا ۔ ایک طرف ایمان ‘ عقیدے اور عقیدت کاایسا عمدہ اور اعلی معاملہ ہونا کہ زبان سے بے اختیار سبحان اللہ نکل جائے

ان کی اُمت میں ہوں میں’ میرے رہیں کیوں کام بند

واسطے جس شہ کے غالب’ گنبدِ بے در کھلا

اور دوسری طرف انا کا یہ معاملہ کہ اندر سے بلاوا نہ آئے تویہ حضرت در کعبہ سے بھی لوٹ آئے۔ جس بت کافر کو پوجنا آغاز کرے زمانہ چاہے مخالف ہو جائے اور اسے لاکھ کافر کہے مگر وہ اپنی لگن نہ چھوڑے ۔

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

ایک طرف اس کا ایمان تھا جو اسے روکتا تھا اور دوسری طرف کفر جس کی کشش اسے بیکل رکھتی تھی ۔بجا کہ کعبہ کی جانب اس کی پشت تھی مگر کلیسا کی جانب لپکنا بھی اسے کھلتا تھا۔ یہ اور اس طرح کے بیسیوں بکھیڑے تھے جو مرزانوشہ کی جان کو لگے ہوئے تھے ۔ ایسی الجھی ہوئی زندگی رکھنے والے شخص کا نصیب دیکھیے کہ دنیا کوبازیچہ اطفال سمجھنے والے اس شاعر کے قلم سے جو اشعار انیسویں صدی میںٹپکے تھے وہ آج کے زمانے میں زیادہ بامعنی ہو گئے ہیں ۔صاحب اگرچہ اس نئی تنقید کی روشنی میں ‘ کہ جس میں لکھنے والا لکھتے ہی مر مرا کر فارغ ہو جاتا ہے ‘ غالب کی زندگی کے حالات’ اس کے ذہنی الجھیڑے’ اس کے لسانی معرکے’ اور اس کے اشعار کا زمانی پس منظر کوئی معنی نہیں رکھتا مگر واقعہ یہ ہے کہ غالب تواپنے زمانے کو ساتھ لے کرچھاتی تانے ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔ اپنے پورے جاہ و جلال اور تخلیقی جمال کے ساتھ۔ وہ وقفے وقفے سے گوشہ چشم سے اس نئی تنقیدی تھیوری کو دیکھتا ہے اور اس پر طنزیہ مسکراہٹ یوں پھینکتا ہے جیسے اسے اپنے بساط لپیٹنے کو کہہ رہا ہو۔ یہ جو غالب کی شاعری نئے زمانے میں اندر تک گھسے چلے آتی ہے اور ساتھ ہی نہ صرف غالب کی اپنی شباہت کو اچھال رہی ہے’ اس کی نارسائیوں اور رسوائیوں کواس طرح نمایاں کر رہی ہے جیسے کہ یہ اس کی چھاتی کے تمغے ہوں ‘ تو ادب کو محض متن سمجھنے والے اے بھائی لوگو’ یہ تسلیم کرنا ہی ہوگا کہ اعلی ادب ادیب کو مارتا نہیں اسے اگلے زمانوں تک زندہ رکھتا ہے۔ہاں تومجھے بات غالب کے خطوط کی کرنا ہے اور بیچ میں تنقید کا معاملہ چھڑ گیااور اب آگے بڑھنے سے پہلے اس کی مقامیوں کے بدن میں سنسنی مچاتی غالب کی وہ تحریریں یاد آگئی ہیں جو بقول کسے وقتی ارتعاش کا نتیجہ تھیں یا پھر مصلحت کوشی ان کا جواز ہو گئی تھی۔ تاہم غالب کی ان تحریروں کو اس کے ذاتی حالات ‘جو بہت الجھے ہوئے تھے ‘ سے جوڑنے کی بجائے اپنے ہاں کے ایک فلسفی کامطلق فلسفہ ہندوستانیوں کے خلاف ایک چارج شیٹ کے طور پر استعمال کرنے لگا ہے ۔ یہ سب کچھ میری نظر میں ہے مگر مجھے اس ‘عافیت کے دشمن اور آوارگی کے آشنا ‘غالب کی شاعری میں تہذیبی سطح پر مزاحمت اور معاشرتی سطح پر بے اطمینانی اور بغاوت صاف صاف محسوس ہوتی ہے ۔اس کی تخلیقی انفرادیت کی ایک شان یہ بھی ہے کہ ایک طرف وہ تہذیبی آدمی تھا تو دوسری طرف فرسودہ اور جامد رویے بھی اسے بہت کھلتے تھے ۔ وہ جست لگا کر ان سے الگ ہونے کی للک رکھتااور یوں اپنی تمنا کے برتے پر دشت امکاں کو نقش پا بنا سکتا تھا۔

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب

ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا ‘پایا

ہمارے زمانے کے بہت اہم اور نمایاں شاعر ظفر اقبال کا خیال ہے کہ غالب کے وہ اشعار جو ضرب المثل ہوگئے ہیں اےک عرصہ تک گھسنے گھسانے کی وجہ سے ان میں سے تازگی ماند پڑ گئی ہے ۔ اجی ، کہیے تو، کیا ضرب المثل اپنی سرشت میں وہی نہیں ہوتی جو نئے زمانے والوں کے الجھاوﺅں کو سلجھانے کے لیے قدیم زمانوں سے لپک کرآتی ہے اور “نئے “کو تازہ معنی عطا کرکے قدیم اور جدید کی تفریق مٹا دیا کرتی ہے ۔ ظفر اقبال ہی نے شاید کہیں

یہ بھی لکھا تھا کہ کوئی صاحب ان سے دیوان غالب مانگ کر لے گئے تو انہوں نے اسے اپنے حق میں غنیمت جانا تھا ۔ خیر وہ اشعار جو غیر معروف ہونے کی وجہ سے گھسنے گھسانے سے بچ گئے ہیں ، اچھی بات یہ ہے کہ غالب کے دیوان سے مستقل رابطے کو ناروا سمجھنے والے ظفر اقبال کو وہ اشعار اچھے لگتے ہیں ۔ ظفر اقبال کا یہ اعتراف بھی کم اہم نہیں ہے کہ ” غالب کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اس کا جو شعر تازہ ہے ،وہ ہمیشہ تازہ ہے۔” اس تازہ تر شاعر کا کمال یہ ہے یہ اےک ہی وقت میں عرفی ، جا

می، سعدی ،بیدل اور میر سے متنی ربط استوار کرتا ہے ، اپنے عہد کی بپتا کہتا ہے اور جست لگا کر نئے زمانوں کو بھی اپنے معنیاتی سلسلے سے جوڑ لیتا ہے۔یادرہے کہ غالب نے اپنے آپ کو عندلیب گلشن نا آفریدہ کہا تھا۔نیا زمانہ جس میں ہم غالب کو یاد کر رہے ہیں بہت تبدیل شدہ سہی ‘ بہت آگے کا سہی’ مگر کون ظالم ہے جو اسے گلشن ناآفریدہ نہ کہے گا۔ اُدھر دلی اجڑتی تھی اور غالب کے دل پر چرکے لگتے تھے۔ ادھر گلوبل ولیج کے نام پر پورا گلوب دہشت کی زد پر ہے اور انسان کا دل سہما ہوا ہے ۔ وہ نسلی تفاخر جو غالب کو عزیز تھا اب مکمل طور پر مٹنے کو ہے۔ جس زمانے میں نسلوں کی نسلیں تیل اور قوت کے منابع کے حصول کے لیے کولہو میں پلوائی جارہی ہوں وہاں نسلی یا مذہبی تفاخر تو کیا انسان کا اپنا وجود ہی ہیچ ہو جاتا ہے ۔ وہ تہذیبی رویے جو غالب کو عزیز تھے اور ان میں ذرا سا بھی بگاڑ اسے برہم کر دیتا تھا اب مسلسل معدوم ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ اکانومی ہمیں مکمل طور پرصارف بنا ڈالنے کے درپئے ہے۔ بظاہرہم پر حکم رانی کا دعوی رکھنے والے دراصل اپنے معاشی مالکوں کا حق نمک ا

دا کرنے کے لیے ہمیں صارف ہونے کے آداب سکھانے میں جتے ہوئے ہیں۔ایک دنیا کے انہدام کا منظر غالب کے سامنے تھا اور ایک دنیا کے انہدام کا منظر ہمارے سامنے ہے۔ انیسویں صدی کو غالب مل گیا جس کے کلام میں وہ صدی سما گئی ہے یوں کہ

اب ہم گزرے حالات کو اپنے زمانے پر منطبق کرتے ہیں تو غالب ہمارے زمانے کا شاعر لگتا ہے۔ غالب نے ایک قدم اپنی صدی میں رکھا تھا اور دوسرا رکھنے کے لیے آنے والے زمانے بھی اس کے لیے چھوٹے پڑ گئے ۔ اب ہمارے عہد کے شاعر ہیں کہ انہیں کوئی نیا مضمون کم کم سوجھتا ہے ۔ پلٹ کر غالب کو دیکھتے ہیں مرعوبیت ان کے سینے جکڑ لیتی ہے۔غالب کا رنگ لانا چاہتے ہیں وہ گرفت میں نہیں آتا ۔ حالاں کہ غالب کا سا ہونے کے لیے غالب سے مرعوبیت کی نہیں اس کے جیسے تہذیبی شعور کی ضرورت ہے ۔ نئے عہد کے چرکے تہذیبی شعور کے ساتھ ہی وقار کے ساتھ سہے جا سکتے ہیں اور اس کے لیے غالب کی فقط زمینوں کو روندنے کی بجائے اسے تہذیبی اور حسی حوالوں کے ساتھ بلانا ہو تو اسے آنے میں کوئی عار نہیں ہے۔میں اس نئے زمانے میں بھی غالب کے بہت قریب ہوں ۔ غالب کے بھی اور غالب کے وسےلے سے غزل سے بھی ۔ مجھے غالب کو تلاشنے کے لیے گزرے وقت میں نہیں جانا پڑتا وہ خود چلتا ہوا کچھ اس ادا سے میرے پاس آجاتا ہے کہ وہ اپناکلام پڑھے جاتا ہے اور مجھ

پر طلسم روز و شب کے در کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اچھا شاعری میں جو اتنا کچھ کر رہا اپنی نثر میں بھی الگ راہ نکال تھی۔ غالب کی طبع اتنی شگفتہ تھی کہ حالی نے اسے حیوان ظریف کہہ ڈالا تھا۔ طبیعت کی شگفتگی اپنی جگہ ، خطوط غالب کی نثر بتاتی ہے کہ اس نے شاعری والے غالب کو بھی ایک نئے آھنگ میں ڈھال دیا تھا۔ اپنے قدموں کی مٹی سے جڑا ہوا اپنی ذلت اور رسوائی کو ہر آن ذہن میں حاظر اور نگاہ کے مقابل رکھتا ہوا۔ بے تکلف اتنا کہ جھٹ سے سب کچھ کہہ ڈالنے والا ۔حقیقت پسند اتنا کہ سب کچھ کھول کھول کر رکھ دینے والا۔غالب کے خطوط کو ازسر نو مرتب کیا جائے تو یہ ایک آپ بیتی اور ناول جیسی ہوکر ایک زمانے کے تہذیبی انہدام کا نوحہ ہو جاتی ہے۔حالی نے یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ غالب سے پہلے کسی نے اپنے خطوط میں اس ڈھب ک

ی نثر نہ لکھی تھی۔ القابات کا فرسودہ سلسلہ متروک ہوا ، سیدھے سبھاﺅ اور بڑے سفاک انداز میں بات بڑھانے کا قرینہ ہاتھ آگیا جس نے فکشن کی زبان کی راہ ہموار کی۔مراسلے مکالمہ ہوگئے، یہ بات بھی غالب نے کہی تھی جو محض دعوی نہ تھا حقیقت ہو گئی تھی ۔ یوسف مرزا کو خط لکھنا چاہا تو بے دھڑک لکھ دیا”کوئی ہے؟ذرا مرزا یوسف کو بلائیو” اورمیر مہدی نے خط کا جواب طلب کیا تھالکھا”مارڈالا میر مہدی تیری جواب طلبی نے” ہزار کوس سے بہ زبان قلم باتیں کرو/ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو۔ پانی حقے اورروٹی کے ٹکڑے سے رمضان میں اپنے روزے کو بہلانے والے غالب کے بارے میں یہ جو کہا جاتا ہے کہ اس نے اس ڈھنگ سے اپنے خطوط میں جدتیں پیدا نہ کی ہوتیں تو اس میں سو طرح کے رخنے رہ جاتے ۔ شاید یوں اردو زبان کو فکشن کی زبان بننے کے لیے کچھ اور صدیاں انتظار کرنا پڑتا ۔ آج کی شاعری اگر غالب کو محسن مانتی ہے تو مجھے بھی غالب کا یہ احسان مان لینے میں کوئی باک محسوس نہیں ہوتا کہ جدیداردو نثر ہو یااردوافسانہ اور ناول حتی کہ ڈرامہ بھی ،ان کی تخلیقی زبان کی بنیاد رکھنے والا بھی غالب ہی تھا، اس نئے زمانے میں ہم اپنے اس محسن کو بھلا کیسے بھول سکتے ہیں جس نے ہماری زبان کی لکنت دور کر دی تھی۔

27-06.2010
اوصاف

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

معاصر اردو افسانہ:حرف کدہ میں محمد حمید شاہد سے مکالمہ

23 اکتوبر 2017 کی شام حرف کدہ راولپنڈی میں محمد حمید شاہد سے معاصر اردو …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *