M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / اقبال خورشید|شہر اقتدار سے ایک تحفہ

اقبال خورشید|شہر اقتدار سے ایک تحفہ

iqbal

شہر اقتدار سے ایک تحفہ
اقبال خورشید

شہر اقتدار میرے لیے اجنبی ہے!
کبھی طاقت کا محور تصور کی جانے والی عمارتوں کے روبرو نہیں ہوا۔ کبھی وہ راہداریاں عبور نہیں کیں، جہاں فیصلہ سازوں کے قدم پڑتے ہیں۔ میں اُس سرسبز شہر کو، اُس خاموش دارالحکومت کو نہیں جانتا۔ اس شہر سے میرے تعلق کا اکلوتا سبب تووہ تحفہ ہے، جو کچھ روز قبل موصول ہوا، اور دل شاد کر گیا۔ وہ ایک کتاب تھی!
تو اسلام آباد سے میرے ناتے کا سبب ایک فکشن نگار ہے، جسے میں پوری طرح تو نہیں جانتا کہ میں نے ویسی زندگی نہیں گزاری، جیسی وہ جی رہا ہے۔ البتہ میں اُس کی تحریروں کے وسیلے اُس کی پیش کردہ حقیقت تک ضرور رسائی رکھتا ہوں۔ حقیقت، جو ایک سطح پر روشنی سی بے رنگ ہوتی ہے ۔اور جس طرح روشنی منشور سے گزر کر اپنے رنگ عیاں کر دیتی ہے، اسی طرح ایک سچے کہانی کار تک پہنچنے والی، اس کے تجربے میں آنے والی تباہ حال حقیقت اُس کے تخلیقی منشور سے گزر کر زیادہ وسیع، زیادہ بڑا روپ دھار لیتی ہے۔
ممتاز لاطینی امریکی ادیب، ماریو برگس یوسا، جسے نوبیل انعام ملا، تو عظیم گیبرئیل گارسیا مارکیز نے کہا تھا:’’ہاں، اب وہ اور میں برابر ہیں!‘‘، تو اس ماریو برگس یوسا کے ساتھ کچھ یوں ہوا کہ دوران سفر جب ہوائی جہازبلندیوں پر پہنچتا، تو اُسے ایک بے نام اضطراب گھیر لیتا ۔ اس اضطراب پر قابو پانے کے لیے کئی جتن کیے، مگر ناکام رہا۔ پھر اُس کے ہاتھ ایک نسخہ لگا۔ جونہی جہاز بلندی پرپہنچتا، وہ خود کو کسی کتاب، کسی ناول کے حوالے کر دیتا۔ اِس ضمن میں جس ناول کو اُس نے سب سے اثر انگیز پایا، وہ تھا، میکسیکن ادیب، حوان رولفو کا، Pedro Paramo، (اردو ترجمہ: بنجر میدان، احمد مشتاق) جسے بورخیس نے دنیا کی بہترین تخلیقات میں شمار کیا، اور مارکیز نے دعویٰ کیا: ’’یہ ناول مجھے پورے کا پورا یاد ہے۔‘‘
اضطراب کے لیے مجھے پرواز کی ضرورت نہیں، وہ روشنیوں کے تاریک شہر میں بے حساب ملتا ہے۔ اورخوشی قسمتی سے میرے پاس بھی ایک ایسا مختصر ناول ہے، جس کی طرف میں بار بار پلٹتا ہوں، ہر بار ایک بے نام تجسس کے ساتھ اٹھاتا ہوں، اورپھر اُسے ختم کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔
یہ ہے محمد حمید شاہد کا ناول: مٹی آدم کھاتی ہے،ایک متاثر کن تخلیق۔ اُن ہی صاحب کا تازہ افسانوی مجموعہ جب اپریل کی ایک گرم دوپہر موصول ہوا، تو گھٹن کچھ کم ہوئی، اور شہر کچھ قابل برداشت لگنے لگا۔
’’دہشت میں محبت‘‘ کے زیر عنوان شایع ہونے والا یہ مجموعہ گیارہ افسانوں پر مشتمل ہے۔ پیش لفظ محمد غالب نشتر کے قلم سے نکلا ہے۔ انتساب، سانحۂ پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کے نام۔کتاب میں شامل چند افسانے پہلے ہی ادبی جراید میں شایع ہو کر ناقدین و قارئین سے داد سمیٹ چکے ہیں(اور اِس کے حق دار بھی ہیں)۔یہ افسانے جنگ اور بارود میں سانس لیتی زندگی کی بپتا ہیں۔
آپ میرے نیم سرخ خیالات کے قائل نہ ہوں، میری ہر کہانی رد کر دیں، مگر اس رائے کو تبدیل نہیں کرسکتے کہ ہم مابعد نو گیارہ کے عہد میں زندہ ہیں۔ ایسا عہد، جس نے جڑواں ٹاورز کے ملبے سے جنم لیا۔ ایسا عہد… جو جھلسا ہوا تھا۔
بلوچستان کا دانیال طریر، جس کے رواں قلم میں اردو تنقید کا مستقبل ہمکتا تھا، جو آج سخت بیمار ہے، زور دے کر کہا کرتا تھا: اس عہد کی ترجمانی صرف وہ نسل کر سکتی ہے، جو اس کے کرب سے گزر رہی ہے۔
محمد حمید شاہد بھی اس کرب سے گزرے ہوں گے کہ اس مجموعے میں موجود کہانیاں اسی ظالم اور لایعنی عہد کی کرب ناک تفہیم ہیں۔ ایک تلخ احساس اجاگر کرتی ہیں۔ چھید ڈالتی ہیں۔
یہ صاحب اسلوب فکشن نگار تعارف کا محتاج نہیں، مگر یہ فریضہ یوں انجام دیتے ہیں کہ ہمارے اردگرد ایسے کتنے ہی ہوں گے، جنھوں نے شاید منٹو جیسے ممتاز ادیب کا بھی نام نہ سنا ہوا۔ ’’برشور‘‘،’’ سورگ میں سور‘‘ اور’’ مرگ زار‘‘ جیسے یادگار افسانے لکھنے والے محمد حمید شاہدمارچ 1957 میں ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں وہ ایک بینکار۔ رہایش اسلام آباد میں۔ ’’بند آنکھوں سے پرے‘‘، ’’جنم جہنم‘‘، ’’مرگ زار‘‘، ’’آدمی‘‘ افسانوی مجموعے۔ ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ کا تذکرہ تو ہم کر ہی چکے ہیں۔ زمین سے جوڑے موضوعات اُن کے ہاں گتھی ہوئی زبان اور جدید تکنیک میں اظہار پاتے ہیں۔ بہ قول احمد ندیم قاسمی، وہ کہانی کہنے کے فن پر حیرت انگیز طور پر حاوی ہیں۔ تنقید بھی خوب لکھتے ہیں۔ اردو افسانے کے علاوہ منٹو، اشفاق احمد، راشد، میرا جی، فیض پر قلم اٹھایا۔
آفاقی ادب کے موضوع پر دفتر کے دفتر سیاہ ہوجائیں، پر یہ دانش وروں کاوظیفہ۔ ہم تو فقط یہ جانتے ہیں کہ مختلف خطوں میں بسنے والے انسان نظریاتی یا مذہبی طور پر توالگ ہوسکتے ہیں، ان کی ثقافت اور طرز عمل جدا ہوسکتا ہے، مگر احساس کی سطح پر وہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ خوشی اور غم کے اسباب چاہے جدا ہوں، مگر مشرق و مغرب میں بسنے والوں پر یہ احساسات ایک سا اثر رکھتے ہیں۔ کانٹا چبھ جائے، تو آج کا انسان وہی درد محسوس کرے گا، جو دو ہزار سال پہلے کا انسان محسوس کیا کرتا تھا۔ بھوک کل بھی ویسی تھی، جیسے اب ہے۔ تو احساس یک ساں ہے۔
کام یاب ادیب وہ، جو قاری میں وہ احساس اجاگر کر دے، جس سے خود گزرا ہو۔ اور بڑا ادیب وہ، جو اپنی فکر کو بھی اس احساس میں گوندھ دے کہ جب پڑھنے والے تک احساس پہنچے، تو فکر بنا کسی شعوری کوشش کے، اس میں اتر جائے۔ جب فکر احساس میں گندھی ہو، تو گیلی مٹی بن جاتی ہے۔ کارآمد ہوجاتی ہے۔ جس ڈھب کا چاہے برتن بنا لیں۔
صاحب، محمد حمید شاہد کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جس حقیقت سے گزرے ہوتے ہیں، اسے اپنے تخلیقی عمل سے گزار کر، اُجلا کرکے قاری میں اُس جیسااحساس اجاگر کردینے پر قادر ۔ اور یوں اُن کی فکر، جو انسانیت کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنے کی متمنی ہے، ہم تک پہنچ جاتی ہے۔دل میں اتر جاتی ہے۔
عزیزو، یہ عمدہ کتاب ہے۔ قابل مطالعہ۔ وقت کا بہترین مصرف۔ بک کارنز، جہلم نے معیاری کاغذ پر، بڑے اچھے ڈھب پر شایع کی ہے۔
اپنے کسی مضمون میں محمد حمید شاہد نے لکھا تھا: ’’ایک سچی تخلیق، تخلیق کار کو مارتی نہیں، اسے اگلے زمانوں تک زندہ رکھتی ہے۔‘‘ پیش گوئی سے اجتناب، مگر یوں لگتا ہے کہ ان کے قلم سے نکلے کچھ افسانے اُن کے لیے یہ فریضہ انجام دے چکے ہیں۔

www.express.com.pk

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *