M. Hameed Shahid

Daily Archives: ديسمبر 27, 2015

Urdu Literature 2015|Dawn

Dawn Iftikhar Arif PABLO Neruda’s protégé, the Chilean poet Nicanor Parra, once told the younger poets of his region not to write poems if they’re not able to “improve the blank page”. Unfortunately, the present literary scene in Pakistan is not encouraging. A lot is been written these days, but …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد | تازگی اور توانائی کہاں سے آئے گی؟

ہر تخلیق کار کو زندگی میں کم از کم ایک بار اس سوال کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے کہ اس کے ہاں تازگی اور توانائی کہاں سے آئے گی۔ یہ جو اُس کا زمانہ بعد میں پڑتا ہے، کئی زمانوں کے گزر جانے کے بعد؛ تو یہ اُس کے …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہدlعلینہ : نئی اوڈیسی

چوبیس اجزاء اور ۹۹۹ مصرعوں پر مشتمل ایک شاہکار جدید نظم علی محمد فرشی کی طویل نظم ’’علینہ‘‘ جب ٹکڑے ٹکڑے سامنے آ رہی تھی ‘ وقفے وقفے سے اور اپنے لیے مخصوص عنوانات پا کر ‘ تو یوں لگتا تھا یہ عشق مزاج نظمو ں کا ایک سلسلہ سا …

» مزید پڑھئیے

اسلم سراج الدین|مٹی آدم کھاتی ہے کے حوالے سے

اسلم سراج الدین

نالہ گرم :آہِ سرد محمدحمیدشاہد کے ناول ”مٹی آدم کھاتی ہے“ کے حوالے سے چند باتیں کوئی پونے چودہ اَرب برس قبل یہ کائنات اپنے فکشن سے برآمد ہوئی، تب سے یہ اپنا فکشن بُھگت رہی ہے اَور اتنے ہی برس مزید بھگتنے کے بعد یہ آخر الامر پھر فکشن …

» مزید پڑھئیے

علی محمد فرشی|مٹی اور آدمی کی ڈائکاٹمی

 مٹی اور آدمی کی ڈائکاٹمی ’نادمی‘ کی بہ یک وقت کئی زندانوں میں کٹتی ہوئی زندگی ہی اس عہد کا عذاب ہے۔آج کا آدمی مینڈکوں اور چوہوں کے عذاب سے نہیں ڈرتا، کوڑھ بھی اس کے لیے لاعلاج مرض نہیں رہا،چیچک جیسی موذی بیماریوں سے بھی زمین پاک ہو گئی …

» مزید پڑھئیے

دہشت میں محبت”|اسلام آباد ادبی فورم میں”

محمد حمید شاہد کے منتخب افسانوں کا مجموعہ دہشت میں محبت پر اسلام آباد ادبی فورم میں ادیبوں کی گفتگو : رپورٹ عابدہ تقی Daily Jehan Pakistan: Dehshat Maen Mohabbat -Report Abida Taqi دہشت میں محبت|محمد غالب نشتر دہشت میں محبت دہشت میں محبت: اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں تقریب …

» مزید پڑھئیے

اقبال خورشید|شہر اقتدار سے ایک تحفہ

شہر اقتدار سے ایک تحفہ اقبال خورشید شہر اقتدار میرے لیے اجنبی ہے! کبھی طاقت کا محور تصور کی جانے والی عمارتوں کے روبرو نہیں ہوا۔ کبھی وہ راہداریاں عبور نہیں کیں، جہاں فیصلہ سازوں کے قدم پڑتے ہیں۔ میں اُس سرسبز شہر کو، اُس خاموش دارالحکومت کو نہیں جانتا۔ …

» مزید پڑھئیے