M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / اردو کتاب خوانی کی پہلی بھرپور نشست ۔ کتاب میلہ: نیشنل بک فائونڈیشن

اردو کتاب خوانی کی پہلی بھرپور نشست ۔ کتاب میلہ: نیشنل بک فائونڈیشن

بک ریڈنگ سیشن :اردوHameed Shahid
میزبان: محمد حمید شاہد
کتاب خواں:آغا ناصر، سحرانصاری،ریاض مجید،اسلم کمال،فرخ سہیل گوئندی ،رعنا سیرت،مبین مرزا
مورخہ:۲۲ اپریل ۲۰۱۵
وقت : سہ پہرتین سے پانچ بجے

کتاب میلہ: نیشنل بک فئونڈیشن مقام پاک چائنا سنٹراسلام آباد   

M Hameed Shahid, Sehar Ansari, Agha Nasir Hussain
محمد حمید شاہد، سحر انصاری ، آغا ناصر

اردو کتاب خوانی کی پہلی بھرپور نشست کے میزبان افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد محمد حمید شاہد تھے ۔اس پروگرام کے مہمان خصوصی کراچی سے کتاب میلہ میں شرکت کے لیے تشریف لانے والے سینئر بک ایمبیسڈر، ممتاز شاعر ،نقاداور زبان وادب کا نمایاں ترین نام جناب سحر انصاری تھے۔ اس نشست کی صدارت کا فریضہ معروف براڈ کاسٹر، ڈرامہ نگار ، پروڈیوسر اور فیض احمد فیض پر اپنی اہم کتاب دے کر شہرت پانے والے جناب آغا ناصر نے سرانجام دیا ۔
کتاب خوانی کی اس نشست میں ملک کے ممتاز ادیبوں ، شاعروں، فنکاروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ سیشن کے آغاز جناب خلیق احمد کی شگفتہ اور رواں دواں تحریر سے ہوا۔ خلیق احمدبولان کلچرل ایوارڈ کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، فلمیں پروڈیوس کیں، ٹی وی پر میزبانی کی ، کالم نگاری کی اور کتاب کے فروغ کے باب میں بہت کام کیا ۔ ان کی شگفتہ تحریر کو حاضرین نے بار بار تالیاں بجا کر داد دی۔
کراچی سے تشریف لائے ہوئے بک ایمبیسیڈر جناب مبین مرزا نے اپنی کتاب سے افسانہ سنایا ۔ جناب مبین مرزا اردو افسانے کا بہت اہم نام ہیں ۔ آپ نے تنقید اور شاعری کے حوالے سے بھی بہت کام کیا ہے ۔ معروف ادبی جریدہ مکالمہ بھی مبین مرزا کا ایک توانا حوالہ ہے۔ مبین مرزا کا افسانہ موجودہ صورت حال کے حوالے سے تھا جس میں دہشت اور خوف نے انسانی جذبوں کو مسخ کر دیا ہے ۔ افسانہ بہت دلچسپ تھا اور اسے خوب صورتی سے بنا گیا تھا۔ حاضرین کے لیے اس افسانے کا افسانہ نگار کی زبان سے سننے کا تجربہ بہت پرلطف رہا۔
مبین مرزا کے افسانے کے بعد لاہور سے کتاب میلے میں شرکت فرمانے والے معروف صحافی، ٹی وی اینکر، دانشور اور متعدد کتب کے مصنف جناب فرخ سہیل گوئندی نے اپنی ترکی کے سفرنامے سے سے اقتباسات پڑھ کر سنائے۔ فرخ سہیل کا انداز تحریر اور ان کے کتاب پڑھنے کے انداز کو حاضرین نے بہت پسند کیا ۔ ترکی کے لوگوں کی زندگیوں کو قریب سے دیکھنے والے فرخ سہیل گوئندی نے اسے لکھا بھی بہت خوب صورتی سے تھا اور ان کے ہاتھ میں موجود سرخ رنگ کے ٹائٹل والی یہ کتاب پڑھتے ہوئے کچھ اور بھی خوب صورت ہوگئی تھی۔
معروف اکانومسٹ ،دانشور اور بک ایمبیسیڈر محترمہ رعنا سیرت نے شہاب نامہ سے قدرت اللہ شہاب سے اقتباس پڑھ کر سنایا اور سماں باندھ دیا ۔ رعنا سیرت کے مطابق قدرت شہاب کی یہ کتاب انہیں بہت پسند تھی اور اس کے ان کی اپنی زندگی پر بہت اثرات مرتب ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ قدرت اللہ شہات واقعات کو اتنی خوبی اور خوب صورتی سے لکھتے ہیں کہ تحریر قاری کے دل پر اثر کرتی ہے۔ رعنا سیرت نے جس سلیقے سے یہ تحریر سنائی اس نے حاضرین کے دلوں پر بھی اثر کیا تھا ۔
لاہور سے تشریف لانے والے ممتاز مصور، خطاط، شاعر اورکئی کتب کے مصنف جناب اسلم کمال کو دعوت دی گئی تو انہوں سے اپنے مشہور سفرنامے’’اسلم کمال،اوسلومیں‘‘ سے اقتباسات پڑھ کر سنائے ۔ بک ایمبیسیڈر اسلم کمال کتاب سے اقتباسات سناتے ہوئے ، بیان ہونے والے اپنی زندگی کے تجربات کا پس منظر بھی بتاتے چلے جاتے تھے ۔ حاضرین نے اسلم کمال کے سفر نامے کو ایک کہانی کی طرح سنا ، ایک خوب صورت لڑکی کی کہانی ، جو اوسلو کی رہنے والی تھی اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے حسن کا ذکر سن کر یہاں چلی آئی تھی۔ اسلم کمال نے اپنی اس معروف تصنیف سے یہ حصہ بہ طور خاص اس نشست میں سنانے کے لیے چنا تھا ۔
جناب اسلم کمال کے بعد فیصل آباد سے کتاب میلے میں شرکت فرمانے والے ملک کے ممتاز شاعر، ماہر تعلیم، دانشور، محقق اور کئی کتب کے مصنف ڈاکٹر ریاض مجید کو کتاب خوانی کی دعوت دی گئی۔ ریاض مجید اردو غزل اور نعت کا نمایاں نام ہیں اور انہوں نے فیصل آباد میں ادبی فضا کو مسلسل بنائے رکھنے میں بہت اہم کام کیا ہے۔ ریاض مجید نے اپنی پہلی کتاب سے ایک معروف غزل، وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے‘ سنائی تو حاضرین بھی ان کی آواز سے آواز ملا کر پڑھتے جاتے تھے ۔ ریاض مجید کی غزلوں حاضرین نے بہت پسند کیااور خوب داد دی۔
مہمان خصوصی جناب سحر انصاری نے بھی اپنی غزلیں سنا کر سماں باندھ دیاجب کہ تقریب کے صدر جناب آغا ناصر نے اپنی زیر تحریر یادداشتوں سے اقتباسات پڑھ کر سنائے اور داد سمیٹی۔ کتاب خوانی کی اس بھرپور نشست کا اختتام محمد حمید شاہد نے اپنی کتاب’’آدمی‘‘ سے ایک اقتباس سنا کر کیا ۔ اس سیشن میں جناب انعام الحق جاوید، محترمہ زاہدہ حنا، جناب عکسی مفتی، جناب اصغرندیم سید، جناب جبار مرزا، ڈاکٹر آغا محمد ناصر، جناب ناصر علی سید، ڈاکٹرانور محمود خالد، ڈاکٹر فوزیہ چوہدری، جناب انور شعور، محترمہ نیلو فر اقبال ، جناب محمد عارف اور محترمہ عائشہ عظیم کے لیے علاوہ بہت سے ادیبوں شاعروں اور کتاب سے محبت رکھنے والوں نے شرکت کی۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *