M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد کامران شہزاد|کچھ محمد حمید شاہد کے بارے میں

محمد کامران شہزاد|کچھ محمد حمید شاہد کے بارے میں

M Hameed Shahid
محمدحمید شاہد کا تعلق پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) کے گاؤں “چکی”کے متوسط گھرانے سے تھا ۔ ان کے ننھیال اور دوھیال کا تعلق بھی ’’چکی ‘‘ سے ہی تھا ۔ حمید شاہد کے دادا(غلام نبی )گاؤں میں کاشت کاری کے پیشے سے وابستہ تھے بعدازاں اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے چکی سے پنڈی گھیب منتقل ہوگئے اوریہاں پنڈی گھیب کی اناج منڈی میں آڑھت کا کام شروع کردیا ۔
حمید شاہد ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء کو پنڈی گھیب میں پیدا ہوئے۔ باپ نے نام محمد حمید رکھا مگر شاہد کا اضافہ بعدازاں انھوں نے خود کرلیا۔ حمید شاہد نے تعلیم کا آغاز پنڈی گھیب کے پرائمری سکول سے کیا۔ اور میٹرک تک تعلیم پنڈی گھیب کے ہائی سکول میں حاصل کی ۔ایف ۔ایس ۔ سی اور گریجویشن زرعی یونی ورسٹی فیصل آباد سے کی۔ یونی ورسٹی میں دوران تعلیم طلبہ سیاست میں خوب حصہ لیااور اسی دوران اپنی پہلی تصانیف پیکرِ جمیل ۱۹۸۱ ء میں مکمل کی۔ ۱۹۸۳ ء میں بی۔ایس۔ سی آرنزز سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پنجا ب یونی ورسٹی میں شعبۂ قانون میں داخلہ لیا۔ ابھی کلاسز کا آغاز نہیں ہوتھا کہ والد کی بیماری کے سبب مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔
حمید شاہد نے عملی زندگی کا آغاز ۱۵ ستمبر۱۹۸۳ء میں زرعی ترقیاتی بنک کے ریجنل آفس میں بہ طور ایکسٹرا اسٹنٹ کیا۔ جہاں وہ تاحال ریکوری پالیسی کے ہیڈکے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ دوران ملازمت حمید شاید نے مختلف کورسنز بھی کیے جن میں موبائل کریڈت آفسیر ایگری ٹیکنالوجی کورس ، اور آئی ۔ ٹی ۔ ٹریننگ کورسزشامل ہیں دوران ملازمت بنک کی طر ف سے تھا ئی لینڈ ، متحدہ عرب امارات اور سری لنکا بھی گئے۔
حمید شاہد کی شادی یاسمین حمید سے ہوئی جو پہلے شعبۂ تدریس سے و ابستہ رہیں ۔ بعدازاں ملازمت ترک کر کے بچوں پر اپنی توجہ مبذول کردی ۔ حمید شاہد کو خداوند کریم نے چار بیٹیوں اورایک بیٹے سے نوازاہے
حمید شاہد نے اپنی پہلی تحریر میڑک کے زمانے میں لکھی جو کہ نظام تعلیم پر تھی اور نوائے وقت راولپنڈی کے ایڈیشن میں شائع ہوئیْ اِس کے بعد یونی ورسٹی میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے اور یونی ورسٹی کے مجلہ’’ کشتِ نو‘‘ کے مدیر اعلی بھی بنے اور اسی دوران حمید شاہد نے مختلف افسانہ نگاروں کو توجہ سے پڑھا اور فکشن سے تخلیقی رشتہ مستحکم کیا افسانے لکھنے سے قبل انشائیہ بھی لکھے۔ ان کا پہلا انشائیہ’’ کیفیوز ہونا‘‘ کے عنوان سے تھا جو کہ ایک اخبار’’امروز‘‘ کے ادبی صفحہ میں شائع ہوا تھا مگر بعدازاں وہ انشائیے لکھنے سے اکتا گئے اور افسانہ نگاری کو اپنی محبوب صنف بنالیا۔
حمید شاہد کا پہلا افسانہ ’’ماسٹر پیس‘‘ کے عنوان سے تھا جو کہ سیارہ ڈائجسٹ میں چھیا تھا ۔پہلی نثر ی نظم نثر لطیف کے عنوان سے ’’اوراق‘‘ میں شائع ہوئی۔ پہلا ادبی کالم’’ برسبیل تذکرہ‘‘ کے عنوان سے چٹان میں شائع ہوا ۔حمید شاہد نے تراجم بھی کیے اور کئی جرائد بھی مرتب کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف موضوعات پر مضامین بھی تحریر کیے ۔ وہ مضامین جن جرائد کی زینت بنے ان میں شب خون ، فنون ،اوراق ، اثبات، دنیا زار، مکالمہ، سمبل ،آفاق، نقاط ، مخزن، بنیاد، اسالیب، زیست، تسطیر وغیرہ شامل ہیں۔
حمید شاہد کے اب تک چار افسانوی مجموعے اورایک ناول شائع ہوا ہے ۔ پہلا مجموعہ’’ بند آنکھوں سے پرے‘‘ ،دوسرا’’ جنم جہنم ‘‘، تیسرا ’’مرگ زار‘‘ اور چوتھا ’’آدمی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا جب کہ ناول ’’مٹی آدمی کھاتی ہے‘‘ کو عوامی حلقوں میں پذیری مل چکی ہے ۔ فکشن اور شاعری کی تنقید کے حوالے سے پانچ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں’’ ادبی تنازعات‘‘، ’’اردو افسانہ: صورت و معنی‘‘،’’ کہانی اور یو ساسے معاملہ‘‘ ،’’ سعادت حسن منٹو: جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘ اور’’ راشد ، میراجی ، فیض :نایاب ہیں ہم‘‘ ،شامل ہیں۔ حمید شاہد نے افسانہ اور تنقید کے علاوہ ادب کی دیگر اصناف سخن میں بھی طبع آزمائی کی اس حوالے کی کتب میں ’’پیکرِ جمیل‘‘ ،’’ سمند اور سمند ر‘‘،’’ الف اسے اٹکھیلیاں‘‘،’’ اشفاق احمد شخصیت دفن‘‘ اور ’’پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت وفن‘‘ شامل ہیں۔
حمید شاہد کی افسانہ نگاری کا اگر جائزہ لیا جائے تو انداز ہوتا ہے کہ وہ صنف افسانہ کے حوالے سے خوب توجہ سے لکھا اور اس میں اپنی شناخت بنائی ہے۔bookss انھوں نے اپنے افسانوں میں نائن الیون اور اس کے بعد کی عالمی اور ملکی صورت حال، انسانی نفسیات ، جنس ، دفتری زندگی کو موضوع بنایا ان کے افسانوں کی پہلی کتاب’’ بند آنکھوں سے پرے ‘‘میں وہ دو الگ الگ اسالیب کا جادو جگارہے ہیں۔ چند افسانے سیدھے سادھے بیانیے میں تحریر کیے گئے ہیں جو کہ حقیقت نگاری کی عمدہ مثال ہیں جب کہ چند افسانوں میں علامتی تہہ داری موجود ہے اور ایسے افسانوں میں حمید شاہد کرداروں کی غیرمرئی وجودکو مجسم کرکے پیش کرتے ہیں۔ ان افسانوں کے کردار کبھی تو خود کلامی سے ابھارے جاتے ہیں اور کبھی اساطیری حوالوں کو کام میں لاتے ہیں ۔ حمید شاہد کے ہاں دوسرے مجموعے جنم جہنم تک آتے آتے ان کا انداز مستحکم ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اس مجموعے میں شامل افسانوں کے مطالعے سے انداز ا ہوتا ہے کہ مصنف عصری اور سیاسی شعور رکھتے ہیں اور طبقات کی غیر منصفانہ تقسیم کے علاوہ معاشرے کی تنگ نظری کو افسانوں کا موضوع بناتے ہیں ۔ وہ ان افسانوں میں روزمر ہ احوال ویسے ہی بیان نہیں کردیتے جیسا کہ ان سے قبل سماجی حقیقت نگاروں نے کیا تھا بل کہ وہ عصریت سے اسے جوڑدیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بعض افسانوں میں قاری کو خارج کے ساتھ ساتھ باطن کی سیر بھی کراتے ہیں لیکن ان افسانوں میں روایتی افسانے کی کو تاہ دستی اور تنگ دامانی سے انحراف کرتے ہیں اور اساطیر کی راز یافت کے ذریعے عہد حاضر میں کرداروں کو مجسم شکل میں پیش کرتے ہیں۔ ان افسانوں میں حمید شاہد نے انسانی نفسیات ، عصری حسیت اور معاشرتی مسائل کو موضوع بنایا۔
ان کے تیسر ے اور چوتھے افسانوی مجموعے کا اگر جائزہ لیا جائے تو افسانوں کے موضوعات میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے ان افسانوں میں جہاں نائن الیون اور اس کے بعد کی عالمی صورت حال جیسے موضوع پر قلم اٹھایا وہاں ساتھ اس واقع کے بعد انسانی نفسیاتی کیفیات پر بھی افسانے تحریر کیے اکیسویں صدی کے آغاز میں نائن الیون کے واقع نے پوری دنیا کو اپنی لیپٹ میں لے لیا بالخصوص پاکستا ن کو دشت گردی انتہاپسندی جیسے مسائل کا سامنا رہا ۔ اس موضوع پر تخلیقی سطح پر قلم اٹھانے والوں میں جنہیں اولیت حاصل ہے ان میں حمیدشاہد کا نام بھی شامل ہے ۔ اس موضوع پر ان کا پہلا افسانہ’’ سورگ میں سور‘‘ ہے تیسرے مجموعے میں شامل بیشتر افسانوں کا یہی موضوع ہے ان میں بتایا ہے کہ اس واقع کے بعد ایک عام شہری کس طرح عدم تحفظ کا شکار ہے ہر فرد بے یقینی کی کیفیت میں کیوں ہے کس طرح اجتماعی اموات کے آگے اکیلے فرد کی زندگی اور موت کی بے توقیری ہورہی ہے ۔ وہ بیرون ملک پاکستانیوں پر اعصابی دباؤں کو بھی نشان زد کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کو افسانے کا موضوع بناتے ہیں ۔ انہوں نے ان افسانوں میں بتایا ہے کہ کس طرح عالمی استعماری قوتیں اپنی چال چل رہی ہیں اور کس طرح ہم اپنی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں ۔ چوتھے مجموعے میں شامل افسانے اس بات کی ترجمان ہیں کہ موجود میکانکی دور میں انسان کی ترجیحات تبدیل ہوگیں ہیں۔ اور ان ساری ترجیحات کے سامنے انسان بے بس ہوکے رہ گیا ہے ۔آدمی کا ایک معاشرے میں رہتے ہوئے اکیلا ہو جانا اور مسلسل اپنی فناہ کی طرف لڑھکتے جانا ان کہانیوں کا موضوع ہے ۔
حمید شاہد کرداروں کی الگ سے سراپانگاری نہیں کرتے اور کرداروں کے حلیہ ااور ان کے خدوخال تفصیل سے بیان نہیں کرتے مگر کرداروں کے سراپے کو ان کے عمر،مزاج اورعمل کو متن کے ذریعے اس طرح ابھارتے ہیں کہ وہ اپنی شباہت قاری کے ذہن میں نقش کرتے چلے جاتے ہیں ۔ جہاں کہیں ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ نسائی کردار ہوں یا مرد ان کا سراپا اور وجاہت بھی بیان کردیتے ہیں۔
حمید شاہد کے کردار اپنے اپنے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں اوروہ ان کی شخصیت کو مکمل طور پر ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں ۔تعلیم یافتہ کردار موجودہ میکانکی اور تیز رفتا ر زندگی میں جس طرح کی زبان بول سکتے ہیں ، اسے نہایت احتیاط سے متن کا حصہ بناتے ہیں ۔ انگریزی زبان کے الفاظ ہوں یا مقامی زبانوں کے وہ سلیقے سے بیانیے میں استعمال کرتے ہیں ،جس سے متن جمالیاتی طور پر اور بھی قابل توجہ ہو جاتا ہے۔ حمید شاہد نے نسائی کرداروں کو بڑی احتیاط سے لکھا ہے۔ ایسے کردار کو لکھتے ہوئے وہ عورت کے وجود میں اترتے اور اس کا دکھ محسوس کرتے نظر آتے ہیں۔ محض سراپا نگاری ان کا مقصد نہیں ہوتا۔ جنس جیسے موضوعات کو انھوں کے بڑی چابک دستی اورقرینے سے لکھا ہے۔
حمید شاہد اپنے افسانوں کے متن میں تحرک رکھنے کے لیے منظرنگاری کا سہارا بھی لیتے ہیں ۔ ان کے زندہ اور متحرک مناظر کی عکاسی میں یہ خوبی شامل ہوتی ہے کہ وہ مناظر افسانے میں اضافی محسوس نہیں ہوتے بل کہ افسانے کی معنویت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ وہ افسانے جن کا کوئی کردارراوی ہوتا ہے وہاں مناظر کو راوی کی زبانی تشکیل دیتے ہیں اور یوں بنانے جائے والے مناظر میں کہانی بھی بہتی چلی جاتی ہے اور ایسے مناظر کثرت سے تشکیل دیے گئے ہیں اس کے علاوہ حمید شاہد نے اپنے افسانوں کی کہانی ایسے مناظر سے آگے بڑھاتی ہے جن میں کسی بھی علاقے یا صوبے کی زبوں حالی کا احوال بھی قاری کے مطالعے میں اضافہ کرتے ہیں مثلاََ افسانہ ’’بر شور‘‘ میں بلوچستا ن میں کئی برسوں کی خشک سالی کے بعد بلوچستان کے صحرائی علاقوں کی خستہ حالی کا نقشہ بڑی باریک بینی سے کھینچا ہے ۔اس کے علاوہ ’’کوئٹہ میں کچلاک‘‘ میں بلوچستا ن کی خشک سالی کے بجائے پشین کے سرسبز علاقے کا منظر دکھایا گیاہے۔حمید شاہد کے افسانوی سفرکا جائزہ واضح کرتا ہے کہ ان کے ہاں موضوعات کے تنوع کی طرح، پلاٹ تکنیک اور اسالیب میں بھی تنوع ملتاہے۔
حمید شاہد نے اپنے افسانوں کے پلاٹ سے کئی سطحوں پر کام لیا مثلاًوہ کہانی کو زبانی اعتبار سے قائم نہیں کرتے بل کہ پلاٹ کے تابع رکھتے ہیں ۔پلاٹ کے ذریعے وہ کہانی میں تنازعات کی مقدار اور بیانیے کی تہیں متعین کرکے کہانی کو ایک سے زائد سطحوں پر تحریک دیتے ہیں۔ پیچیدہ تکنیک والے افسانوں کے مطالعے سے گمان گزرتا ہے کہ شاید پلاٹ موجود نہیں ہے جب کہ وہ وہاں ایک سے زائد سطحوں پرہوتا ہے۔
محولابالا نکات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم انداز لگا سکتے ہیں کہ حمید شاہد کے افسانوں میں سادہ اور پیچیدہ دونوں قسم کے پلاٹ موجود ہیں۔ سادہ پلاٹ کے افسانوں میں خیال کی گہرائی اور معنویت کو آسان سطح پر برت لینے میں کامیا ب ہوتے ہیں اور پیچید ہ پلاٹ کے افسانوں میں وہ متن کی بالائی سطح سے ایک صورت حال کو بیان کررہے ہوتے ہیں مگراس کی تہہ میں دوسری صورت حال بھی سامنے آنے لگتی ہے۔ بعض افسانوں کے مطالعے سے ایسالگتا ہے کہ کہانی پلاٹ کے بغیر چل رہی ہے اور واقعات ایک ترتیب سے جڑ کر کہانی نہیں بناتے بل کہ احساس اور خیال کی ایک رو ایک کہانی میں ڈھلتی ہے اسی وجہ سے پلاٹ کا تصوربنتا ہے۔
حمید شاہد نے اپنے افسانوں میں تکنیک کے کئی تجریات کئے ، انھوں نے اپنے افسانوں میں ارتباطِ ماجرا،اساطیراور جدید تناظر کی تکنیک،پریزنٹیشن، ا متزاجِ موضوعات، رپورتاژکاافسانہ، مکالماتی تکنیک کو برتا ہے اور ان کے ادغام سے نیا بیانیہ بھی تشکیل دیا،تکنیک کا حسن یہ ہے کہ کہانی واقعات کا مجموعہ نہیں رہتی بل کہ انسانی صورت حال کی علامت بن جاتی ہے۔
حمید شاہد کے افسانوں میں کردار متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ان میں مرد اور خواتین دنوں شامل ہیں اور یہ کردار ہر طبقہ زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں ان میں متعدرافسانوں کے کردار یک رخ ہیں جو مستحکم رویوں کے حامل ہوتے ہیں افسانوں میں یہ کردار شروع سے لے کر اختتام تک ایک ہی مزاج کے حامل ہوتے ہیں اس کے علاوہ حمید شاہد کے بیشتر افسانے واحد متکلم یعنی راوی کردار میں کی زبانی بیان ہوتے ہیں اور یہ کردار متحرک کردار ہوتے ہیں ۔حمید شاہد کے چند افسانوں میں راوی اور کردار موجود ہوتا ہے مگر نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔
اسی طر ح دیہی زندگی خصو صاً کچے کے علاقوں کی زندگی کے منا ظر کو بڑی چا بک دستی سے بیان کیا ہے۔ حمید شاہد کھلی فضا کے منا ظر کے علاوہ گھر کے اند ر تک کے منا ظر کو اس خو ب صو رتی سے کہانی کا حصہ بنا لیتے ہیں کہ قاری کے لطف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حمید شاہد اپنے افسانو ں میں جزیا ت نگاری کے باریک کام کے ذریعے جما لیا تی نظام کی تعمیر اور کہانی میں معنی اتنے بناتے ہے جس سے افسانوی ما حول میں تحرک پید ا ہو تا ہے۔ ان کے ہاں منظر نگاری، جز یا ت نگاری کا اہتما م یوں محسوس ہو تا ہے کہ جیسے منظر کو بیان کرتے ہوئے وہ خو د بھی منظر کو محسوس کر رہے ہوں ۔ اسی سبب متن کی جمالیاتی قدر بڑھنے کے سا تھ ساتھ ان میں نئے نئے معنی پید ا ہو تے چلے جا تے ہیں۔
حمید شاہد کو زبان پر خاصی گر فت ہے اور اس کا ثبو ت اس امر سے ملتا ہے کہ انھوں نے اپنے لیے شعوری اسلو ب ڈھالنے کے بجا ئے اپنے تخلیقی عملی پر انحصار کیا ہے۔ اسی لیے کبھی وہ خو د یا اپنے کی کردار سے استعاراتی اور علامتی اند از میں گفت گو کرواتے ہیں ایسا کرتے ہو ئے عام طو ر پر ایک کے بعد دوسرا استعار ہ اور علامت استعمال کیے جا تے ہیں اس کے نتیجے میں ایک چھو ٹا سا جملہ معنی کی کئی جہت پر محیط ہو جا تا ہے جو کہانی کی تر سیل کے لیے ایسے بیانی کی تشکیل جو مختلف سطو ں پر کارکر دگی دکھا تے ہوئے ان کے مجمو عی اسلوب کی صورت گری کرتا ہے۔ تاہم اگر ہر اافسانے کو الگ سے پڑ ھیں تو پھر اسلوب میں بہت تنو ع نظرآتا ہے ۔وہ فکشن کی زبان کی تشکیل میں مقامی اور علا قائی ما حول سے جڑ ی ہو ئی زبانوں اور انگریزی الفا ظ کا استعمال اس قر ینے سے کرتے ہیں کہ یہ لفظ کرداروں کی ساخت مستحکم کر نے کے لیے متن کا حصہ بن جا تے ہیں اس کے علاوہ وہ اپنی تحریر کو ادبی وقار بحشنے کے لیے تشہبات اور دوسرے قر ینوں کا استعمال بر ملا کر تے ہیں ۔
حمید شاہد کے افسانو ں کا جما لیا تی سطح پر جا ئزہ لیا جا ئے تو انداز ہ ہو تا ہے کہ ان کے ہاں متحرک بیانیے اورزبان کی تازگی سے ایک جمالیاتی نظام بنتا ہے۔ ان کے چاروں افسانوی مجمو عوں میں متعدد افسانے جما لیا تی اعتبار سے خا صے قابل ذکر ہیں۔ ان افسانوں میں لطیف انسانی جذبات کی منظرکشی بھی کئی ہے اور خو ب صورت منا ظر ما حول کے مطابق تشکیل دیے ہیں۔ حمید شاہد نے عہد حاضر کی تلخ حقیقتوں کو مو ضوع بنا یا انھوں کے تلخ حقیقتوں کو اس سلیقے اور ڈھنگ نے بیان کیا کہ قاری کو حقیقت کا ادراک بھی ہو جا تے اور ساتھ ساتھ ذوقِ سلیم کی تشکیل بھی ہو جا ئے۔
اگر ان افسانوں کو عمرانی نقطہ نظر سے دیکھا جا تے تو حمید شاہد نے اپنے عہد کو سمجھنے کی کا میاب کو شش کی ہے اگر کوئی قاری ۱۹۹۰ء کے بعد ملکی صورت احوال جا ننا چاہے کہ لو گوں کا طر زِ زند گی کس طر ح کا تھا ان کے لباس رسم رواج، خو شی و غم کے اجتما عتی اور انفرادی رد عمل الغرض تمام ثقافتی مظا ہر کیا تھے تو حمید شاہد کے افسانے اپنے قاری کو ما یو س نہیں کر تے ان افسانوں میں اس دور کے انفرادی اور اجما عتی مسائل با لخصو ص نا ئن الیون کے بعد کے مسائل کی تصو یر کشی کر نے میں حمید شاہد ملکہ رکھتے ہیں ۔
حمید شاہد کے نا ول ’’ مٹی آدم کھا تی ہے‘‘ کا جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ نا ول سقو ط ڈھا کہ کے سا تھ ساتھ ہما رے سیاسی اور سماجی رویوں کی المنا ک تصو یر ہے۔ کہانی بڑ ے خان دلا ور خان چھو ٹے خان شہر وز خان اور کیپٹن سیلم کے گرد گھو متی ہے ۔ مصنف نے بڑے بھائی دلاور خان کے کردار کی تشکیل و تعمیر کو بڑی عمدگی سے کی ہے جو اپنے نرم دل، حسن پر ست اور فنکا رانہ مزاج کے بھائی کی جائیداد کو غضب کر لیتاہے۔ وہ اس قدر سفا ک ہے کہ با پ کے مر نے کے بعد چھو ٹے بھا ئی کو منہ تک دیکھنے نہیں دیتا ۔حمید شاہد نے یہ دیکھنے کی کو شش کی ہے کہ مطلق العنان باد شا ہت اور جا گیر داری کے آگے خونی رشتوں کی اہمیت بے معنی ہو گئی ہے۔ اور زر اور زمین پرست نظام میں ا نسانوں پر بیلو ں، گھوڑوں اور دیگر پا لتو جا نو روں کو بر تری حاصل ہو گئی ہے۔ ناول میں ۱۹۷۱ء میں سقو ط ڈھا کہ کے اثر ات اور اس کے اسباب کی تصویر کشی بھی کی گئی ہے۔ نا ول کے دو حصوں میں مشر قی اور مغربی پاکستان کے لو گو ں میں نظر یا تی فر ق کو اجا گر کیا گیا ہے اور ان واقعات کو پو ری شدت کے سا تھ نا ول کے با قی حصوں کے سا تھ انسلا ک کیا گیا ہے۔ یہاں قاری کو اند از ہو تاہے کہ مصنف نے دلا ور خان اور شہروز خان کو مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے لیے استعار ہ کے طو ر پر پیش کیا ہے۔ اس چھو ٹے سے ناول میں حمید شاہد نے کئی مرکزی کرداروں اور متعدد ضمنی کرداروں کے ذریعے کہانی کے بہاؤ کو اس قر ینے سے آگے بڑھا یا کہ کوئی کردار بھی اضافی محسوس نہیں ہو تا ہے ۔افسانوں کی طرح ناول میں بھی منظر اور پس منظر کی فضا بلندی کو بڑے سیلقے کے سا تھ متن کا حصہ بنا یا ہے جس سے کہانی زیا دہ سحر انگیز ہو گئی ہے۔
حمید شاہد نے افسانے کے سا تھ ساتھ تنقید میں بھی بھر پو رکام کیا ہے ۔اب تک تنقید پر پا نچ کتب شائع ہو چکی ہیں۔حمید شاہد کی کتب اور ان تنقیدی مضامین کے بغور مطا لعے سے انداز ہو تا ہے کہ ان کا فکشن کی تنقید کی طر ف زیا دہ رجحان رہا اور اس با ب میں افسانہ ان کی تو جہ کا مر کز رہا ۔ حمید شا ہد نے جب تنقید لکھنے کا آغا زکیا توانھوں نے نہ ہی سا خیتاتی تنقید کو اپنا یا اور نہ ہی تھیو ریوں کی تنقیدپر اپنا قلم اٹھا یا،ایک ایسے دور میں،کہ جس میں نئی تنقید کا بڑا چلن ہو گیا، حمید شا ہد کے لیے یہ بات تکلیف دہ رہی کہ ناقدین تخلیقی عمل کی تفہیم کے بجا ئے لسانی الجھنو ں اور تھیو ریو ں کی و ضا حتو ں میں لگے ہوئے ہیں ۔
حمید شاہد نے اپنے تنقیدی مضا مین میں نظر ی مباحث پر بھی با ت کی اس حوا لے سے تخلیقی عمل کے لو ازم پر با ت کی اس ضمن وہ کہتے ہیں کہ محض شوق کے لیے لکھنے کی طر ف متو جہ ہو نے سے متن میں تخلیقت پید ا نہیں ہو تی ۔ لکھنے والے کو اس سا ری صورت حا ل سے اپنی تمام حسو ں کی بید اری کے سا تھ جڑ نا ہو تا ہے ۔ حمید شا ہد تخلیقی عمل کو کس خا رجی سہا رے کی طر ف دیکھنے کو مسترد کر تے ہیں۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ لکھنے والا اکیلا ہو جا تا ہے اور جتنا اکیلا ہو گا اس کا فن پا رہ عمو میت سے بچتا چلا جا ئے گا ۔
اسلو ب اور تخلیقی عمل کے حو الے سے حمید شا ہد کا نقطۂ نظریہ ہے کہ جملو ں کی تکر ار اور شعری ومسائل کے استعمال سے فضا بند ی کے خا رجی وسیلوں کو اسلو ب قرار نہیں دیا جا سکتا ،ان کے مطا بق ایسے کر نے والے دراصل تخلیقی جو ہر کی کمی کے عارضے کا شکا ر ہو تے ہیں۔ حمید شاہد تخلیقی زبان کی کا رکر دگی کو بڑی اہمیت دیتے ہیں ان کے مطا بق تخلیقی عمل میں ایک خاص فضا سے پو ری قوت حاصل کر کے اسی متن کا حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لکھنے والے کو زبان پر دستر س ہو۔
حمید شاہدعلامت کو ادب کے محبوب قر ینو ں میں ایک قرینہ قرار دیتے ہیں۔ اس حوا لے سے وہ کہتے ہیں کہ تخلیق کار کے ہاں تجر بے کی پیچیدگی کو سادہ بیا نیے میں گر فت لینا ممکن نہیں رہتا تو علا مت اس کو گر فت میں لیتی ہے اور سا تھ اس کی معنو یت میں بھی اضا فہ کر تی ہے اس ضمن میں میرا جی کی مثال دیتے ہیں جن کے ہا ں جنس کا مو ضو ع محبو ب ہے اگر وہ اس کو سا دہ بیانیہ میں بیان کر دیتے تو وہ تحریر کی وہ لذت اور چٹخارہ نہیں رہتا تھا جو علا مت نگاری کے ذریعے ہے۔ ان کے مطا بق علامت نگاری شا عری میں ہو یا فکشن میں اسے اپنے تہذیبی اور ثقا فتی ورثے سے جڑا ہو نا چا ہے اور سا تھ سا تھ ان نا قدین پر کڑی تنقید کر تے ہیں جو علا مت کو محض فیشن کے طو ر پر استعمال کر تے ہیں۔
حمید شاہد ادب اور سما ج میں قائم ہو نے والے رشتوں پر بھی اپنی تنقید میں با ت کر تے ہوئے کہتے ہیں ادب کو ادب برائے ادب اور ادب برائے معا شرے کے سا تھ منسلک کر نا مغالطہ انگیز مو ضو ع قرار دیتے ہیں، وہ کہتے کہ تخلیق کے دورانیے میں ادیب کا ذاتی جو ہر مقدم رہنا ہے اور تخلیقی عمل شروع ہو نے پر جو رویہ اختیا ر کر تا ہے اس میں خارجی سہا رے بھی شامل ہو جا تے ہیں۔ ایسے بھی کوئی لسانی حیلہ سا تھ نہیں ہو تا جو اپنے تخلیق عمل سے مخلص ہو نے کے بجا ئے ان مطا لبہ کر نے والوں کے پیچھے ہو لیتا ہے اس لئے حمید شاہد کہتے ہیں کہ اس طر ح کے مبا حث اور امکانا ت کی تلا ش سے ادب کے آس پاس ایک شور شرابا پید ا ہو جا تا ہے یو ں کہا جا سکتا ہے کہ حمید شاہد ادیب اور ادب سے کسی مطا لبے کے بغیر ایک در مند ی اور خلوص والا رشتہ قائم کر تے ہیں جو تخلیقی عمل میں ایک تحر ک کے طو ر پر کا م کر تا ہے۔
حمید شا ہد کی مجمو عی تنقید کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو سب سے زیا دہ فکشن کی تنقید پر با ت کر تے ہیں ان میں کئی مضامین حمید شاہد کی تنقیدی کتا بو ں میں شامل ہیں کئی جرائدمیں بکھیرے ہیں اور تا حال غیر مدون ہیں۔ ان میں سے متعدد مضامین میں فکشن کے حوالے سے عملیا ت اور تعمیراتی بنا وٹ کی با ت کو بیان کیا ہے اس کے علا وہ مختلف افسانہ نگا روں اور ناول نگا روں کے فن کا عملی تجزیہ بھی حمید شاہد کے تنقیدی شعور کا حصہ رہے تنقید پر پہلی کتا ب ’’ادبی تنا زعات‘‘ کے عنوان سے شائع ہو ئی جس میں ادب کی تقر یبا تمام اصناف پر لکھے جا نے والے تنقیدی مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں نظری اور عملی مبا حث پر مضامین یکساں ہیں۔ تنقید پر دوسری کتاب ’’ اردو افسانہ: صورت و معنی‘‘ مکمل طو ر پر افسانے کی تنقیدپر ہے اس کے مضامین سے انداز لگا جا سکتا ہے کہ افسانے کے عملیات ، تکنیک اور لوازم سیر حا صل گفتگو کی گئی ہے اور شروع سے لے کر مو جو دہ دورتک کے افسانے کی صورت حال کو بیان کیا گیا ہے۔ ’’ کہانی اور یو سا سے معا ملہ ‘‘ حمید شاہد اور محمد عمر میمن کے درمیان ہو نے والے مکتو باتی مکا لمے پر مشتمل ہے اس کتاب کے مکا لمو ں کی تحریک ما ر یو بر گس یو سا کی کتاب بنی تھی۔ حمید شاہدنے ان مکتوبات میں افسانے اور نا ول کی صورت حال اور تخلیقی طر زِ عمل کو مو ضو ع بنا یا گیا ہے ’’ سعادت حسن منٹو: جا دوائی حقیقت نگار ی اور آج کا افسانہ ‘‘ منٹو پر لکھی گئی کتاب ہے ۔ جس کے ابتدائی حصے میں شمس الر حمن فاروقی کی کتاب ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اورفاروقی صاحب کے نقطۂ نظر اور افسانوں کے تجزیوں اور تعبیر کے حوالے سے بعض مقامات پر اختلا ف کیا گیا ہے۔
حمید شا ہد فکشن کی تنقیدکے ساتھ سا تھ شاعری کی تنقید کی طر ف بھی راغب رہے ہیں شاعری میں ان کی توجہ کا مر کز نظم رہی ہے شاعری پر کئی مضامین ان کی دو کتا بوں ادبی تنا زعات اور راشد، میرا حی، فیض، نا یا ب ہیں ہم‘‘ میں شامل ہیں اور متعدد مضامین مختلف جرائد میں شائع ہو ئے ہیں اور ابھی غیرمدون ہیں۔ آخر الذکر کتاب کے دیبا چے میں جہاں نظم کے ابتدائی نقوش واضح کیے گئے ہیں، وہیں وہ اس با ب میں اپنے مختلف نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہیں۔ان کے نز دیک نظم کے آثار غزل کی آمد سے قبل مو جو د تھے اور شا عری تد ریس کا ذریعہ سمجھی جا تی تھی۔ اس کتاب میں شامل مضامین جدید شاعری کے تین قد آور شعرا ن م راشد، میرا جی، اور فیض کے فکری اور تخلیقی تجر بے کا ا حا طہ مدلل انداز میں کرتے ہیں۔ حمید شاہد نے ان مضامین میں تخلیق کا روں کی تخلیقات کو متن کے ذریعے سمجھنے کی کو شش کی ہے۔
حمید شاہد نے شاعری اور فکشن کے علا وہ دیگر اصناف پر بھی تنقیدی مضامین بھی تحر یر کیے ہیں۔ مذہب سے ان کی دلی وابستگی کا ثبو ت ان کے مضامین’’ تصور خدا‘‘ او’’رقلزم شفاف ‘‘سے ملتا ہے ۔ اول الذکر مضمون میں خدا کی نفی کے حوا لے سے سامنے آنے والی دلیلوں کو بھر پور انداز میں ردکیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نئے سال کی پہلی دعا ‘‘ آد دانش کھلیں، شنا خت کیے ہو، مشکوک الفاظ، افتخا ر، با عث افتخار ، یو رپ میں چن چلا اور گہر کی تلا ش میں رانجھا ‘‘ کے عنوان سے مضامین حمید شاہد کی دیگر اصناف پر دستر س کا منہ بو لتا ثبو ت ہیں ۔
حمید شاہد بین الاقوامی ادب پر بھی عمیق نگاہ رکھتے ہیں اس کا انداز ان کے افسانوں کے ماحول ، تنقیدی مضامین اور مکالموں سے ہو تا ہے ۔ انہوں نے متعد د نظموں اور افسانوں کے انگریز ی سے اُردو میں تراجم کیے اس حوالے سے ان کی کتاب ’’سمندر اور سمندر ‘‘ شائع ہوئی۔ حمید شاہد نے صاف اور رواں مگر ادبی تقا ضوں کو پورا کر نے والی زبان میں ان کو تراجم کیا۔ حمید شاہد نے کئی افسانوں کے اردو میں تراجم بھی کئے ہیں ۔یہ افسانے ادبیات کے خاص نمبر’’ سارک ممالک :تخلیقی ادب‘‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔
حمید شاہد جہاں افسانہ نگار، تنقید نگار ہیں وہاں سیرت پر ’’ پیکرِ جمیل ‘‘ کے عنو ان سے زمانہ طالب علمی میں لکھی جو کہ سیرت النبیؐ کے مو ضو ع پر ہے۔ سیر ت کے مختلف پہلو ؤں کو مختلف حصو ں میں ایسے مدلل انداز میں بیان کیا ہے کہ قاری کی دلچسپی آخر تک بر قرار رہتی ہے۔ اس کتاب میں حمید شاہد نے تفصیل کی بجائے اجمال سے کام لیا۔ اس کتاب کی نما یاں خو بی اس کا اسلوب ہے۔اِس کتاب میں حمید شاہدسیرت کے واقعات کو کہانی کی طرح قاری پر کھولتے ہیں اور زبان کو سلیس رکھتے ہوئے واقعات مرحلہ وار آگے بڑھاتے ہیں ۔ خو ب صورت صاف ستھری زبان ، اور بیانیے کے قرینے کے ساتھ ساتھ عشق اور محبت میں گندھے ہوئے اسلوب کی وجہ سے قاری ایک ہی بیٹھک میں مطالعہ ختم کر کے اُٹھنے پر مجبو ر ہو جا تا ہے۔
حمید شاہد کی شگفتہ تحریروں پر مشتمل کتاب ’’الف سے اٹکھیلیاں ‘‘ ہے جس کے سرورق پر یہ بھی لکھ دیا گیا ہے ’’بچوں کا قاعدہ جسے بڑے ہی پڑھ سکتے ہیں‘‘ یہ اسلوب کے اعتبار سے بہ ظاہر بچو ں کا قا عدہ ہے لیکن اس میں معاشرے کے سلگتے مو ضو عات کو لطیف اورشگفتہ انداز میں بیا ن کیاگیا ہے۔
حمید شاہد نثری نظم کو نثم کہتے ہیں اور نثم سے مراد ہر اس شاعری کو لیا جاتا ہے جو نثر کے پیرائے میں لکھی گئی ہو۔اس حوالے سے ۴۸ نظموں پر مشتمل کتاب ’’لمحوں کا لمس‘‘ شائع ہو چکی ہے ۔یہ اس لحا ظ سے مختلف ہے کہ یہ ہمارے اردگرد کی دنیا کا احوال بیان کر کے ہمیں حسی سطح پر چو نکا تی اور خبر دار کرتی ہے ۔ شاعری کے حوالے سے حمید شاہد کا نقطۂ نظر ہے کہ یہ با طن میں گذار پیدا کرتی ، روح کے زخموں پر مر ہم رکھتی ہے۔ تخیل کو اڑان اور شعور کو عر فان عطا کر تی ہے۔ اپنی نثموں کی کتاب کے دیباچے میں حمید شاہد نے ایسے لمحوں کو گرفت میں لیا ہے جن کے لمس نے بہ قول ان کے، انہیں اندر سے اُدھیڑا بھی ہے اور سنبھالا بھی ہے ۔

متذ کرہ بالا تصانیف کے علا وہ محمد حمید شاہد نے اکادمی ادبیات پاکستان کے سلسلہ تصانیف’’پاکستانی ادب کے معمار‘‘ کے لیے اے۔ حمید سے مل کر ’’ اشفا ق احمد شخصیت اور فن ‘‘ کی تدوین کی، جب کہ’’ فتح محمد ملک شخصیت و فن ‘‘ کو مرتب کیا ۔ اکادمی کے لیے ہی سارک ممالک کے تخلیقی ادب پر مشتمل انتخاب مرتب کیا۔ اسی طرح کے دو اور انتخاب بھی حمید شاہد نے دیگر ادیبوں کی معاونت سے مرتب کئے۔ علاوہ ازیں شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی مضامین کا ایک انتخاب بھی ’’تخلیق ،تنقید اور نئے تصورات‘‘ کے نام سے مرتب کیا گیا ۔
حمید شاہد مکمل طور پر ایک ادبی شخصیت ہیں ۔ اگر چہ ان کی خاص دلچسپی کامحور فکشن ہے تاہم وہ ادب کی تمام اصناف کا مطالعہ اور اس پر بات کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ وہ اردو کی ادبی دنیا میں اہم مقام بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

*****

محمد کامران شہزاد کے مقالہ برائے ایم فل اردو”محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات”  سے مقتبس

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *