M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|پورا منٹو فلم سے باہر پڑا تھا

محمد حمید شاہد|پورا منٹو فلم سے باہر پڑا تھا

Manto-the-film-1
منٹونے ’’کسوٹی‘‘ میں لکھا تھا :’’ یہ نئی چیزوں کا زمانہ ہے۔ نئے جوتے، نئی ٹھوکریں، نئے قانون، نئے جرائم ، نئی گھڑیاں ، نئی بے وقتیاں ، نئے آقا، نئے غلام اور لطف یہ ہے کہ ان نئے غلاموں کی کھال بھی نئی ہے جو ادھڑ ادھڑ کر جدت پسند ہو گئی ہے ۔ اب ان کے لیے نئے کوڑے اور نئے چابک تیار ہو رہے ہیں ۔‘‘ اور منٹو نے یہ بھی کہا تھا :’’ادب لاش نہیں جسے ڈاکٹر اور اس کے چند شاگرد پتھر کے میز پر لٹا کر پوسٹ مارٹم شروع کر دیں ۔ ادب بیماری نہیں،بل کہ بیماری کا ردعمل ہے۔دوا بھی نہیں جس کے استعمال کے لیے اوقات اور مقدار کی پابندی عائد کی جاتی ہے۔ادب درجہ حرارت ہے ، اپنے ملک کا، اپنی قوم کا۔ وہ اس کی صحت اور علالت کی خبر دیتا ہے۔‘‘ منٹو پر فلم دیکھ کر باہر نکلا تو میرے ذہن میں منٹو کا کہا گونج رہا تھا ۔ منٹو ادب کی قدیم جدید،فحش اخلاقی، ترقی پسندی اور رجعت پسندی والی تقسیم کو ناواجب کہتا رہا کہ ادب یا تو ہوتا تھا یا نہیں ہوتا تھا اور اس کا ایک منصب یہ بھی تھا کہ وہ اپنی قوم سے ، اپنے ملک سے اور اپنے لوگوں سے کٹ کر ہوا میں تخلیق نہ ہو؛ صاحب ہوتابھی کہاں ہے، مچھلی پانی میں رہے اور گیلی بھی نہ ہو ۔ منٹو کے اپنے افسانوں کا مطالعہ بھی انہی حوالوں سے ہونے لگا تو خوب خوب دُھول اُڑائی گئی۔اس کے افسانوں کی نئی نئی تعبیریں ہوئیں ؛ کہیں چونکانے کے لیے اور کہیں سنجیدگی سے ۔ میں نے منٹو پر لکھتے ہوئے کہیں یہ بھی لکھا تھا کہ بڑے پیمانے پر اپنی عظمت کی دھاک بٹھا لینے والے ادیبوں کا المیہ رہا ہے کہ ان کا لکھا ہوا لفظ بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور اُن کی شخصیت اور اس کے قصے آگے نکل جاتے ہیں ۔ منٹو کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے ۔
مگر میں خوش ہوں کہ ایک ایسی فلم بنی جس میں منٹو ،بہ طور سماجی شخص اور ادبی شخصیت ، موضوع بناہے اور منٹو کی اپنی زندگی اور اس کا فن ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک ایسا آمیزہ بن گئے ہیں کہ اس شیرے کو چاٹنے اور اذیت کی لہو بھری ابکائیاں دیکھنے کے بعد بھی، نئی نسل کو لطف آیا ۔ اذیت میں لطف ؟ جی ہاں، میں نے دیکھا تھا کہ عورتوں ، جواں سال لڑکیوں اور لڑکوں سے ہال بھرا ہوا تھا اور وہ سب دم سادھے فلم کا ایک ایک منظر دیکھ رہے تھے ۔ فلم ختم ہوگئی، اسکرین سیاہ ہوگئی ، اس پرانگریزی میں منٹو کے مختصر کوائف دے دیے گئے، وہ سانسیں روکے دیکھتے رہے، حتی کہ روشنیا ں جل اٹھیں،میں نے دیکھا تب وہ ایک دم چونکے تھے اور ہال تالیوں سے گونجنے لگاتھا ۔
یہ تالیاں منٹو کے لیے تھیں یا فلم کے لیے ۔
جب میں یاسمین کے ساتھ فلم دیکھنے پہنچا تو صباح مفتی بھی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ وہاں پہلے سے موجود تھا ۔ ممتاز مفتی کے گھرانے کے ان لوگوں کو بھی قدرت اللہ شہاب کے منہ پر برف کے کارخانے کا پر مٹ مار کر چلے آنے والے منٹوکا فلم کا موضوع بن جانا اچھا لگا تھا۔ میں نے صباح کے بیٹے کو دیکھا، تو کہنے لگا؛’’اچھی ہے، مگر‘‘۔۔۔ مجھے یادآیا عکسی مفتی کی کتاب ’’پاکستانی ثقافت‘‘ کی تقریب میں، حاضرین کے اندر سے اس نوجوان نے کھڑے ہوکر کہا تھا : ’’پاکستانی ثقافت ہے کہاں ؟‘‘۔۔۔ اسٹیج سے میں نے اسے بہ مشکل بہلا پھسلا کر بیٹھنے اور بات سننے پر مجبور کیا تھا۔ جب وہ منٹو کی فلم پر بات کرتے ہوئے ’’مگر‘‘ تک پہنچا تو اس نے کندھے اچکائے اور مٹھیاں بھینچ لی تھیں ایسے میں نہ جانے مجھے کیوں لگنے لگا تھا ، کہ جیسے وہ کہنے لگا ہو ،’’ اس میں منٹو ہے کہاں ؟‘‘
منٹو تو اس فلم میں تھا : منٹو بھی اور اس کا گلیمر بھی۔
یہ الگ بات کہ پورے کا پورا منٹو فلم سے باہر بھی پڑا ہوا تھا۔
فلم میں دکھانے کی بجائے بتایا جا رہا تھا کہ منٹو ایک ایسی عورت کے ہاں پیدا ہوا جو اس کے والد کی دوسری بیوی تھی۔ وہ حالات اسکرین پر دکھائے جا سکتے تھے کہ منٹو کیوں کر بگڑتا چلا گیا۔ میں نے کہیں لکھا تھا کہ منٹو کے اس بگڑنے میں ایسا سنورنا تھا کہ بگڑنا اور سنورنا بھی یہاں اضافی ہو جاتا ہے، تو اس کا ایک سبب تھا۔اچھا، کیا یہ فلم میں نہیں دکھایا جا سکتا تھا کہ منٹو نے کامریڈ باری علیگ کو گرو بنایا، آسکر وائلڈ کے ڈرامے ’ ویرا‘ کاترجمہ کیا، اس کی مشہوری کے لیے راتوں کو شہر بھر کی دیواروں پر پوسٹر لگائے اور یہ کہ انگریز حکمرانوں نے اس پر پابندی لگا دی تھی کہ اس ڈرامے میں مستبد اور جابر حکمرانوں کے لیے عبرت ناک انجام کی وعید تھی ۔ دسویں جماعت والاو ہ منٹو فلمایا جاتا جو نیا نیا باغی بنا تھا اور دنیا کا نقشہ نکال کر کئی بار خشکی کے راستے روس پہنچنے کے منصوبے بنا چکا تھا ۔ یا وہ منٹو جو اپنے دوستوں کے ساتھ امرتسر کو ہی ماسکو بنا لینا چاہتا تھا تو کتنا اچھا ہوتا ۔ مجھے یقین ہے’افسانہ نگار منٹو کا بننا‘ دکھانے سے ، فلم کی کہانی کو مربوط اور مستحکم کیا جا سکتا تھا ۔ منٹو کے لچھن اچھے نہ تھے ، یہ تو فلم میں گلیمرائز ہوا مگریہ کیوں اچھے نہ تھے ، اسے لائق اعتنا نہیں جانا گیا ۔ اگر فلم میں وہ حالات بھی حصہ ہو جاتے جو منٹو کو اس طرف دھکیل رہے تھے ، یا والد کی طرف سے منٹو کی ’اصلاح‘ کی کوششیں بھی سامنے آ جاتیں ، یعنی علی گڑھ بھیجا جانا تو اسی بہانے منٹو کاوہاں سردار جعفری، جذبی ، مجاز، سبط حسن ،جان نثار اختر اور اختر حسین رائے پوری جیسے لوگوں سے ملنا بھی دکھایا جاسکتا تھاکہ وہیں سے منٹو کی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتاتھا۔ علی گڑھ ، پھر امرتسر اور بمبئی منٹو کی زندگی میں کیسے آئے ۔ بمبئی میں ’مصور‘ کی ادارت کا زمانہ ، امپیریل فلم کمپنی کے لیے فلموں کے مکالمے لکھنے کاکام ، اور ہاں منٹو کی صفیہ سے شادی کیا کم اہم واقعہ تھا کہ اسے فلمایا ہی نہ جا سکتاتھا۔ ’’میری شادی‘‘ کے عنوان سے منٹو نے اپنی شادی کی جو تفصیلات مہیا کر رکھی ہیں ، اس میں فلم بنانے والوں کے لیے بہت کچھ تھا۔ اپنے افسانوں کے مجموعے ’’یزید‘‘ میں شامل ایک مضمون میں منٹو نے اس اضمحلال اور افسردگی کا ذکرکیاتھا جو بمبئی چھوڑتے ہوئے اس پر طاری ہوگئی تھی ۔اور بتایا تھا کہ وہاں اُس نے اپنی زندگی کے بڑے مشقت والے دِن گزارے تھے۔اور اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ بمبئی نے ایک آوارہ اور خاندان کے دھتکارے ہوئے انسان کو اپنے دامن میں جگہ دی تھی اور وہ بھی یوں کہ وہاں دوپیسے روزانہ پر بھی خوش رہا جا سکتا تھا اور ہزار دس ہزار روپے روزانہ پر بھی۔ منٹو وہاں گزرے ہوئے اپنے بارہ برسوں کو کبھی نہ بھولا مگر منٹو پر فلم بناتے ہوئے ان بارہ برسوں کو بھلادیا گیا ۔ فلم میں تقسیم کے بعد بھارت سے ہجرت کرکے لاہور آبسنے والے منٹوکو یہاں جنس ، مذہبی تنگ نظری اور فحاشی کے مقدموں سے پیار پیکار یا پھر شراب پی پی کر جدل میں مصروف تو دکھایا گیا ہے مگر وہ باتیں جو اس کی ادبی قامت بڑھانے کا سبب تھیں اور فلم میں بطور کہانی بھی حصہ ڈال سکتی تھیں ،کہیں نہیں ہیں ۔
حلقہ ارباب ذوق میں منٹو کے افسانے ’’کھول دو‘‘ پر تنقید تو فلم کا حصہ ہو گئی مگرانجمن ترقی پسندکی کانفرنس(منعقدہ نومبر۱۹۴۹ء، لاہور) کو کیوں نظر949523-ef-1441265881-950-640x480 انداز کر دیا گیا جس میں منظور کی جانے والی قرارداد کے مطابق منٹو ، راشد اور قرۃ العین حیدرکوچھاپنا جرم ہو گیا تھا۔ فلم میں ایک موقع پر شیام کا ذکر آتا ہے ، مگر شیام کے حوالے سے جو واقعہ فلم میں منٹو کی شخصیت کودرست تناظر میں سمجھا سکتا تھا، اسے لائق اعتنا نہ جانا گیا ۔ میں تقسیم کے زمانے والے شیام کی بات کر رہا ہوں، جی وہی ، جس کی دوستی پر منٹو کو ناز تھا عین اس زمانے میں کہ جب فسادات میں طرفین کے ہزاروں آدمی مارے جا رہے تھے، منٹو نے اپنے اس جگری دوست سے کہ جو راولپنڈی سے بھارت پہنچنے والے ایک لٹے پٹے سکھ خاندان کے پاس بیٹھا تھا ، پوچھاتھا:’’میں مسلمان ہوں ، کیا تمہارا جی نہیں چاہتا کہ مجھے قتل کردو‘‘۔ تو اُس نے ترت کہا تھا :’’اِس وقت نہیں ،ہاں اُس وقت جب کہ مسلمانوں کے ڈھائے ہوئے مظالم کی داستان سن رہا تھا، میں تمہیں قتل کر سکتا تھا‘‘۔ یہ جملے ایک دوست کے منہ سے ادا ہوتے دکھائے جاتے ۔ ’’میں تمہیں قتل کر سکتا تھا‘‘؛ یہ جملہ اور وہ سیاق بھی جو شیام کو اس جملے تک لے آیا تھا فلم کا حصہ ہو جاتا حتی کہ وہ مکالمہ بھی کہ جس میں شیام نے منٹو کو ’’سور کہیں کے ‘‘ کہا ، اور منٹو نے جواب دیا تھا ’’پاکستان کے‘‘ تو منٹو کے اپنے محبوب شہر کو چھوڑ کر پاکستان اٹھ آنے کا درست تناظر فلم بینوں کوفراہم کیا جا سکتا تھا۔
میں نے کہیں یہ بھی لکھ رکھا ہے کہ یہ’’ مرلی کی دھن ‘‘میں روایت کیا جانے والا ’’ قتل کر سکتا تھا‘‘ والا جملہ بھی بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ’’ کھول دو ‘‘والاجملہ ہے، اپنے سیاق سے کٹ جانے والا اور کاٹ کر رکھ دینے والا۔ منٹو نے اس نئے ملک میں آکر قومی رضاکاروں کے ہاتھوں جب اپنے نئے ملک کی،’’کھول دو‘‘ کی سکینہ کی طرح عصمت لٹتے دیکھی تو اپنے افسانے کواحتجاج کا ایک انوکھاآہنگ دے دیا تھا۔ اس افسانے کو بھی کسی حد تک اس فلم کا حصہ بنایا جا سکا ہے ۔
منٹو کی زندگی کو ، اور اس کے کھول دو، ہتک ، لائسنس ،ٹوبہ ٹیک سنگھ، پشاور سے لاہو،اوپر نیچے درمیان جیسے افسانوں، نورجہاں،سرور جہاں جیسے خاکے اور دوسری تحریروں اور مجید امجد کی نظم والے ’’گستاخ منٹو‘‘ کو باہم گوندھ کر پیش کیا گیا ہے وہ بھی کوئی کم اہم نہیں ہے ۔مجھے کہنے دیجئے کہ اس سب کے باوجود، جو میں اوپر کہہ آیا ہوں فلم مایوس نہیں کرتی۔ اپنی تیکنیک ، کیمرہ ورک ، لائٹس اور کاسٹیوم اور آوازوں کے استعمال، برمحل موسیقی یہ سب مل کر اس فلم میں ایسی خوبی رکھ دیتے ہیں کہ اسکرین پر توجہ مرکوز رہتی ہے۔ سرمد کھوسٹ نے منٹو کا کردار بہت خوبی سے نبھایا ہے ، یہ الگ بات کہ فلم کا آہنگ بلند رکھنے کے لیے کچھ مقامات پر وہ کچھ زیادہ ہی بلند آہنگ بھی ہوا۔ عرفان کھوسٹ نے ’’کھول دو‘‘ کی سکینہ کے باپ سراج الدین کے کردار کے ساتھ انصاف کیا ہے تاہم ہسپتال میں ڈاکٹر کا’’ کھول دو‘‘والا ڈائیلاگ اور سکینہ کے ردعمل پرڈاکٹر کا حق دق دیکھنا پھسپھسا رہا ، کم از کم اُس کے ماتھے سے پسینہ ہی اُبلتے دکھا دیا جاتا، خیر یہاں بھی عرفان کھوسٹ نے سین کو سنبھالا دیا ہے۔ ثانیہ سعید نے منٹو کی بیوی صفیہ کا کردار ادا کیا اور حق ادا کیا ۔ جب ثانیہ نے صفیہ بن کر ، بستر پر کمزور ی سے دوہرے ہو کر پڑے شوہر کے لیے اپنے ہونٹوں میں سگریٹ لے کر سلگایا تو میں نے یاسمین کی طرف دیکھا ، اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھی، اور جب منٹو مونجھ کی کوچی ہاتھ میں لیے گھرکی دیواروں پر چونا کر رہا تھا اورتینوں بیٹیاں نگہت،نزہت اور نصرت imagesاس کی مدد کر رہی تھیں تو تب میں نے یاسمین کی سرگوشی سنی تھی،’’ کتنا پیار تھا، منٹو کو بچیوں سے ‘‘ایسا کہتے ہوئے اُس کی آواز رندھی ہوئی تھی ۔ ایسے میں مجھے یاد آتا ہے کہ منٹو کا ایک بیٹا بھی تھا ، عارف ،جو پہلی سال گرہ سے پہلے ہی مر گیا تھا اور جس کے حوالے سے منٹو نے ’’خالد میاں ‘‘ کے نام سے ایک افسانہ بھی لکھا تھا ، اس کا ذکر فلم میں جگہ نہ پا سکا ۔ فلم میں ایک سالگرہ کا پرلطف منظر تو ہے، جسے نوری کا بوسہ لیتے لڑکے نے اور پرلطف بنا دیا مگر وہ جو منٹو نے اپنی بچیوں کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’ بعض منحوس سال ایسے بھی آئے کہ بچی کی سالگرہ تھی اور جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی ۔‘‘ اس کی جھلک کہیں نہیں ہے۔نمونیے میں جلتی بلتی بچی کی دوا کی بجائے شراب کی بوتل لے آنے والے منٹو کے پچھتاوے کو دکھایا گیا ہے مگراپنی بچوں کی سالگرہ پر اس تڑپنے کو بھی دکھایا جاتا تواسکرین پر منٹوکے خستہ دل کی اجلی تصویر بن جاتی۔ خیر جو دکھایا گیا اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے کہ اکثر مقامات پر سلیقے سے دکھایا گیا ہے۔ اور ہاں جس قدرصبا قمر نور جہاں بن سکتی تھی، وہ بنی، مگر جب جب اور جہاں جہاں وہ نورجہاں بننے کے لیے کوشش کرتی نظر آتی ہے، ناک اوپر کھینچتے ہوئے یا کندھے اچکاتے ہوئے، وہ ’ہم سب امید سے ہیں‘ میں سوانگ بھرنے والی صبا قمر ہو جاتی تھی، ایسا ہی وہاں ہم نے اوروں کو بھی کہتے ہوئے سنا۔ تانگے والی کے کردار میں سویرا ندیم بھی خوب رہی، گٹ اپ بھی اچھا تھا اور مکالموں کی ادائی بھی عمدہ ۔ یہ الگ بات کہ تانگے والی کا لائسنس ضبط کیے جانے والا سین بہت کمزور اور مکالمے اکھڑے ہوئے تھا۔ جاندار مکالمے ٹھنڈا گوشت کے باب میں رہے ، ایشر سنگھ اور کلونت کو ر کو فلمانے پر بھی بہت توجہ دی گئی ہے ۔ منٹو کی ہمزاد کا کردار ادا کرنے والی نمرہ بچہ نے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیاہے، سوائے اس مقام کے جہاں وہ سرمد کے کان کے قریب منہ کرکے وہ اونچی آواز میں مکالمے ادا کرکے منظر سے غائب ہوجاتی ہے ۔
مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے ، تو یہ فلم اپنی تمام نارسائیوں کے باوجود کامیاب رہی اور اسے توجہ کھینچ لینے والی فلم کہا جاسکتا ہے ۔ شاہد محمود ندیم نے سکرپٹ لکھا اورمنٹو کی جتنی بھی زندگی کو موضوع بنایا اسے ڈرامہ بنانے کے کامیاب جتن کیے ۔ اس سکرپٹ کی خوبی ہے کہ جس نے منٹو کو پڑھ رکھا ہے ، وہ میری طرح اُلجھنے اور ’’اے کاش، یہ ہوتا،وہ ہوتا‘‘ کرنے کے باوجود لطف اندوز ہواہے جب کہ وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں جنہوں نے منٹو کا ایک افسانہ بھی نہیں پڑھ رکھا وہ تو فلم دیکھ کر عش عش کر اُٹھے ہیں کہ بہ ہر حال یہ فلم ہے، اور بہت مختلف فلم ہے۔

————————————–

چند جھلکیاں|فیس بک پر سامنے آنے والا ردعمل

sarmad khosat
سرمد کھوسٹ نے فلم ریویو کو اپنی وال پر شیئر کیا ، جسے مزید پچیس لوگوں نے نے اپنی اپنی والز پر شیئرکیا ۔ سرمد کھوسٹ نے اپنی وال پرشیئر کرتے ہوئے پسندیدگی کے جملے بھی لکھے
sarmad khosat-1
سرمد کھوسٹ کی وال سے
sarmad khosat-2
سرمد کھوسٹ کی وال سے

  

aziz ibnulhasan
عزیز ابن الحسن نے اس ریویو کو اپنی فیس بک وال پر شیئر کرتے ہوئے جو لکھا وہ بھی بہت اہم ہے

 

aziz ibnulhasan-1
عزیز ابن الحسن کی وال پر قاسم یعقوب کا نوٹ

 

manto resp
محمد حمید شاہد کی فیس بک وال سے
manto resp-1
محمد حمید شاہد کی فیس بک وال سے
manto resp-2
محمد حمید شاہد کی فیس بک وال سے

liaqat ali

liaqat ali-1
لیاقت علی کا اپنی وال پر نوٹ
ghaferr
علی محمد فرشی کی فیس بک وال پر شیئر ہونے والے نوٹ کی ذیل میں غافر شہزاد کا تبصرہ
Page15-zuban-o-byan-3-Oct
منٹو فلم پر ریویو کی جہان پاکستان کی 3 اکتوبر 2015 میں اشاعت
manto aali wall
منٹو فلم کے ریویو کو جلیل عالی نے اپنی وال پر شیئر کیا :اس ضمن میں مزید کمنٹس

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …