M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / مکالمہ :نئی کہانی نیا زمانہ

مکالمہ :نئی کہانی نیا زمانہ

مکالمہ :نئی کہانی نیا زمانہ
محرک مکالمہ : محمد حمید شاہد
شرکاء مکالمہ: انتظار حسین، مسعود اشعر، زاہدہ حنا، مبین مرزا
مورخہ:۲۳ مارچ ۲۰۱۵

وقت: سہ پہرتین سے پانچ بجے 

کتاب میلہ: نیشنل بک فئونڈیشن مقام پاک چائنا سنٹراسلام آباد   

زاہدہ حنا، مسعود اشعر، انتظار حسین، محمد حمید شاہد
زاہدہ حنا، مسعود اشعر، انتظار حسین، محمد حمید شاہد
M Hameed Shahid, Intezar Hussain, Masood Ashaar, Zahida Hina, Mubeen Mirza
مبین مرزا، زاہدہ حنا، مسعود اشعر، انتظار حسین، محمد حمید شاہد

نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے فکشن کی کتابیں اپنے قارئین میں بہت مقبول ہو رہی ہیں ، اردو افسانے اور ناول میں نئے رجحانات پر ایک اہم مکالمے کا اہتمام کیا۔ اس سیشن میں بہت دلچسپی دیکھنے میں آئی ۔ پروگرام کے مطابق اردو فکشن کے نمایاں ترین تخلیق کاروں نے مکالمے میں حصہ لینا تھا۔ جناب انتظار حسین اردو کے سب سے اہم اور نمایاں ترین فکشن نگار ہیں ، انہوں نے اس سیشن کی صدارت کی ۔ جناب مسعود اشعر اردو افسانے کا بڑا نام ہیں ، وہ لاہور سے کتاب میلہ اور اس مکالمہ میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ وہ اس نشست کے مہمان خصوصی تھے۔ اردو افسانے کے دو اور اہم نام محترمہ زاہدہ حنا اور جناب مبین مرزا کراچی سے آئے ۔ یوں یہ محفل خوب جمی۔ اس پروگرام میں محرک گفتگو محمد حمید شاہد تھے۔ اردو افسانے، ناول اور فکشن کی تنقید کے حوالے سے اپنے قارئین میں اعتماد پانے والے محمد حمید شاہد نے ابتدائی گفتگو میں نئے عہد کے تخلیق کار پر نئے زمانے کے سانحات کے دباؤ کا ذکر کیا، اور بطور خاص اس عصری صورت حال کو سامنے رکھا جس کی بنیاد پر اس زمانی عرصے کو’’دی موسٹ وائیلنٹ اِرا ‘‘کہا گیا۔ ان کے مطابق اس صورت حال نے کہانی کہنے کے چلن کو بدلا ہے جس کا جائزہ لیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے اس صورت حال کو سامنے رکھ کر سوال اُٹھایا کہ نئے فکشن کا نقطہ انحراف کیا بنتا ہے؟
جناب مبین مرزا نے نئے موضوعات اور ان موضوعات کے حوالے سے تیکنیک کے تجربات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نیا افسانہ نگار پرانی نوع کی کہانی نہیں لکھنا چاہتا ہے۔ ہم سے پہلوں کے تجربات اورطرح کے تھے ہمارا تجربہ اپنے پیشروں سے مختلف ہو گیا ہے ۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ نئے زمانے میں، فکشن نے اپنا چلن بدلا اور تو اسے اس کا قاری بھی مل گیا ہے۔ مبین مرزا کے مطابق اس کا سبب یہ ہے کہ کہانی اپنے تخلیق آہنگ کو بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔
محترمہ زاہدہ حنا سیاسی سماجی صورت حال اور اس کے انسانی سائیکی پر اثرات کا ذکر کیا اور اصرار سے کہا کہ اب سیاسی سماجی موضوعات ادب کا مرکزی موضوع ہو گئے ہیں کیوں کہ سیاست ہماری زندگیوں میں بہت اندر تک دخیل ہو گئی ہے ۔ انہوں نے اس باب کے کئی افسانوں کا ذکر کیا جن میں فرد کی زندگی کے ساتھ اجتماعی زندگی کو کامیابی سے موضوع بنایا گیا تھا ۔
تقریب کے مہمان خصوصی جناب مسعود اشعرنے تشویش کا اظہار کیا کہ نئی نسل اردو سے دور ہو رہی ہے اور انگریزی میں اگرچہ قدرے زیادہ لکھنے کا چلن ہو رہا ہے مگر جس طرح کا فکشن کا سرمایہ اردو میں میسر ہے اس سے نئی نسل کا انگریزی میں لکھنے والا NAI KAHANI NAYA ZAMANAخاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھا رہا ۔ انہوں نے اضافہ کیا کہ اس طرح کے میلے نہ صرف اردو ادب کے قاری کی توجہ حاصل کریں گے ، دوسری زبانوں میں لکھنے والے نئی نسل کے تخلیق کاروں کو بھی یہاں کے مسائل کے ساتھ تخلیقی سطح پر جڑنے کی طرف راغب کریں گے ۔ مسعود اشعر نے نئے بنتے بگڑتے دیہات اور اس کی تبدیل ہوتی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے افسانہ نگار اور ناول نگار کو پرانے والا دیہات کے بجائے یہ تبدیلی کی زد میں آنے والے دیہات کو لکھنا ہوگا ۔
تقریب کے صدر نشین جناب انتظار حسین ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب میں یہ کہتا ہوں کہ جب کوئی واقعہ یا حادثہ ہو رہا ہوتا ہے تو میں اس وقت فوری طور پر لکھنے بیٹھ نہیں جاتا بلکہ انتظار کرتا ہوں کہ اس کے تاریکی میں ڈوبے ہوئے تخلیقی گوشے واضح ہوتے چلے جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کہانی لکھنے کا بس یہی ایک قرینہ ہے ۔ کہانی کو مختلف صورتوں میں اور مختلف طریقوں سے لکھا جا سکتا ہے اور لکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اضافہ کیا کہ علامت نگاروں کے زمانے میں قاری کہیں پیچھے رہ گیا تھا ۔ نئی کہانی نے اپنے قاری کو تلاش کر لیا ہے ، جو نہایت خوش آئند ہے۔
آخر میں محمد حمید شاہد نے تمام شرکاء گفتگو اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

                      شکریہ جنگ کراچی : http://e.jang.com.pk/08-09-2017/karachi/page14.asp …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *