M. Hameed Shahid
Home / کتابیں / پیکرجمیل

پیکرجمیل

پیکر جمیل ﷺ | محمد حمید شاہد | دو رنگ میں خوبصورت طباعت
صفحات 320 | بڑا سائز | دنیا کے بہترین کاغذ پر اشاعت | قیمت 1200 روپے
ناشر: بک کارنر، جہلم، پاکستان | رابطہ 0544621953

افتخار عارف لکھتے ہیں:

صاحب نصیب ہیں محمد حمید شاہد کہ اللہ کریم نے انہیں توفیق عطا فرمائی کہ وہ سرور دو عالم نبی آخر الزماں احمد مجتبیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ کو قلم بند کرنے کا شرف اور سعادت حاصل کریں۔ اُردو، اسلامی دُنیا کی زبانوں میں سب سے کم عمر زبان ہے مگر اس کا اعزاز ہے کہ قرآن حکیم کے تراجم و تفسیر اور سیرت طیبہ پر جتنا اور جیسا معیاری کام ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہ کسی دوسری زبان سے کم نہیں ہے۔ ’’پیکر جمیل‘‘ محمد حمید شاہد کی پہلی کتاب ہے مگر اپنے معیار و نگارش و مواد کے اعتبار سے کتب سیرت میں ایک لائق اعتبار و استناد حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ سادہ، رواں اندازِ بیان اور نیاز و اخلاص کے پیرائے میں ڈوبا ہوا اسلوب قاری کو اپنی جانب منہمک اور متوجہ رکھتا ہے۔ خیر سے اس کتاب کی اشاعت کو کئی برس گزر چکے ہیں اور اب جبکہ وہ افسانوں اور تنقیدی کتابیوں کے مصنف کے طور پر ساری دُنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں اور حال ہی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو یومِ پاکستان کے موقع پر قومی اعزاز سے بھی نوازا گیا، ’’پیکر جمیل‘‘ کا نیا ایڈیشن شائع ہو رہا ہے۔ یقین کیا جانا چاہیے کہ ان کی یہ خدمت دُنیا و آخرت میں ان کی سربلندی اور سرفرازی کی ضامن ہو گی۔

IMG-20170527-WA0014 (1)

بک کارنر جہلم
اشاعت :2017

 

پروفیسر شوکت واسطی لکھتے ہیں:

اللہ اللہ وہ مقتدر و ارفع ہستی کہ ان ﷺ کی ذات کے حوالے سے بات ہو تو کلام خود بہ خود بلیغ بنے۔ کہنے والے کی عقیدت اور محبت والہانہ پن کے تناسب سے اس میں بیان کی اثریت کا سماں الگ باندھے! حضورسرورکونین ﷺ کی ذات مقدس سے شیفتگی و عشق ہمارا جزو ایمان ہے، آپ ﷺ کا ذکر پاک ہمارا ضامن سعادت اور اسوئہ حسنہ کی تقلید اور پیروی نصیبہ بنے تو کونین میں سرفرازی و سرخ روئی کی سند!!
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم… کا اعلان کر کے اس شاعر معجزبیاں نے حضور نبی کریم ﷺ کے شایان شان اظہار کلام میں جس عجز کا اظہار کیا، یہ سب کا معاملہ ہے…کسی قلم کو قدرت نہیں کہ آپ ﷺ کی بات پوری پوری بیان کر سکے۔ اب دیکھنا یہ رہ جاتا ہے کہ اگر فرط شوق میں اس حوالے سے خامہ رواں ہو تو اس کی کیفیت کا کیا عالم رہا۔
’’پیکرِ جمیل ﷺ‘‘ اس اعتبار سے سادہ و دلنشیں پیرائے میں لکھی ہوئی ایسی کتاب ہے، جس کا ہنر جامعیت ہے۔ سیرت و حیات طیبہ پر لاتعداد مستند ضخیم عظیم تصنیفات اور تالیفات دنیا کی ہر معلوم زبان میں موجود ہیں اور پھر بھی اس موضوع پر کہنے لکھنے کو اتنا ہی موجود ہے…… بالکل ایسا معلوم ہو ایک بہرناپیداکنار سے باہمہ مساعی چند پیالہ پانی اپنی اپنی بساط و بضاعت کے مطابق اکٹھا کیا جا سکا ہے…
محمد حمید شاہد نے بھی اس قلزم شفاف سے چند چمکتے ہوئے قطرے سمیٹے ہیں اور انہیں سلیقہ کے ساتھ کاغذ کے طشت پر یوں سجایا ہے کہ بڑے بھلے لگتے ہیں اور ان سے آنکھوں کو بہ یک وقت روشنی اور تازگی ملتی ہے اور یہ دل و ذہن کو خوب سیراب کر جاتے ہیں۔
اس مختصر کتاب میں حیات طیبہ کے تمام اہم پہلوئوں کو دقیقہ دقیقہ، ثقہ ثقہ، عمیق وبسیط حوالوں کے ساتھ، قرآن مجید و صحاح ستہ کے تناظر میں بڑی صلابت فکر و اصابت ذکر سے عام فہم اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ تاریخ مگر اس میں صنف تاریخ نویسی کا ٹکا بندھا پیرایہ نہیں در آیا، حقیقت پر افسانوی چھاپ نہیں لگنے پائی۔ ادب کی تمام تر چاشنی کا وصف تحریر میں اجاگر ہے اور حقیقت بیانی کی دلچسپی آخر تک برقرار رہتی ہے۔ مصنف کو اظہار پر پوری قدرت ہے زبان برجستہ استعمال میں لاتا ہے۔ کہیں محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کتاب اس نے بن کر لکھی ہے جو ہمارے آج کے ادب نگاروں و قلم کاروں کا شیوہ ہو گیا ہے یہ تصنیف قدرتی انداز میں بڑی خوب صورت بنا سنوار کر لکھی گئی ہے جو مطالعہ کو معلومات کے ساتھ ساتھ روحانی خوشگواری بہم پہنچاتی ہے۔

_____________

سیّد اسعد گیلانی لکھتے ہیں:

عزیزم محمد حمید شاہد کی معنوی لحاظ سے انتہائی حسین و جمیل کتاب میرے سامنے ہے جِسے مَیں نے بہت دلچسپی اور غور و فکر سے دیکھا ہے۔ یوں تو جس پاک ہستی ﷺ کی سیرت کے بارے میں یہ کتاب لکھی گئی ہے اگر لکھنے والے میں خلوص اور عمل کی صلاحیت موجود ہوتو یہ موضوع اپنی بے پایاں تاثیر آفرینی کے سبب ہر دل کی دھڑکن اور ہر آنکھ کی پُرمحبت نمی بن جاتا ہے۔ پھر کِسی کے پُر خلوص اور صالح فطرت ہونے کے لیے اس سے بڑا ثبو ت کیا ہو سکتا ہے کہ اسے حضور اکرم ﷺ کی سیرت کے بارے میں اظہارِ عقیدت کے طور پر کچھ لکھنے کی توفیق میسر آجائے اور شاہد صاحب تو اپنی تصنیفی زندگی کا آغاز ہی ذکر رسول ﷺ سے کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ صالح فطرتی اور کیا ہوسکتی ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی سیرت کا موضوع محض دینی علمی اور ادبی ہی نہیں ہے بلکہ رُوحانی، رومانی اور جذباتی بھی ہے۔ محبت کے مارے ایسے لوگ بھی تو ہیں جو حضور اکرم ﷺ کے نام کے ساتھ اپنی آنکھوں کے امنڈ آتے آنسوئوں کو ضبط کرنے سے قاصر رہتے ہیںاور ان کے سینے کی دھڑکنیں بڑھ جاتیں ہیں۔ اور ان کے تنفس کی رفتار تیز ترہو جاتی ہے۔ حمید شاہد انہیں لوگوں میں سے ہیں اور انہوں نے ایسے ہی لوگوں کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔ وہ لوگ جن کے بارے میں سرکار ﷺ نے فرمایا تھا کہ بعد کے آنے والوں میں ایسے ہوں گے جو مجھے دیکھنے اور ملنے کے لیے اپنے گھر بار لٹا نے کو تیا رہوں گے۔ وہ جاں نثار ہر دَور میں موجود رہے ہیں جو سرکار ﷺ کی ایک جھلک پالینے کے لیے اپنی جانیں نثار کر نے کو تیار رہتے ہیں آخر اس سرکار رحمت اللعالمین خاتم النّبیین ﷺ سے کیوں نہ محبت کی جائے جو ساری دُنیا کے غم گسار ہیں اور ان سے کیوں نہ عشق کیا جائے جو رحمت اللعالمین خاتم النّبیین ﷺ ہیں اور جن کے قدموں میں جان دینے سے ایمان ثابت ہوتا ہے اور جان مالکِ کائنات کے سامنے سرخرو ہوجاتی ہے۔
یہ کتاب انہیں کے ذکر کا صحیفہ اور انہیں کی دعوت کی رودادِ محبت ہے۔ یہ رواجی کتاب نگاری کے انداز سے ہٹ کر لکھی گئی ہے۔ اس میں مولانا مناظر احسن گیلانی والا والہانہ پن ہے جو ان کی کتاب ’’النبی الخاتم ﷺ‘‘ میں پایا جاتا ہے۔ اسی میں علم و تحقیق کی شان بھی ہے جو قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی کتاب ’’رحمۃللعالمین ﷺ‘‘ میں پائی جاتی ہے۔ اس میں دعوت دین کا رنگ بھی غالب ہے جو مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’سیرت سرورعالم ﷺ ‘‘ میں پایا جاتا ہے۔ عزیزم حمید شاہدنے سرکار ﷺ کی خدمت میں پیش کر نے کے لیے چمن چمن کے گلہائے رنگا رنگ سے استفادہ کیاہے اور انہیں بہترین گلدستہ خوش رنگ کی صورت دے دی ہے۔
کتاب کی ترتیب اور واقعاتِ سیرت کو جذبہ انگیز ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کاڈھنگ بھی نرالا اور دِلربا ہے۔ قاری سیرت کے طویل دعوتی سفر میں کہیں بھی تکان محسوس نہیں کرتا۔ پیدائش کے حالات سے بات چلتی ہے اور مکہ کی وادیوں۔ طائف کے صبر آزما کوچوں اور بدر اور اُحد کے میدانوں اور حنین و تبوک کے صحراؤں میں سے گزرتی ہوئی کاشانۂ نبوی کے ان جاں گداز لمحات تک پہنچتی ہے جہاں حضور ﷺ اپنے رفیق اعلیٰ سے ملنے کے لیے مضطرب ہیں اور پھر بات اور آگے چلی جاتی ہے۔ دعوتی مکاتیب جذبہ انگیز خطبات۔ جامع تعلیمات۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مختصر حالات۔ دشمنانِ دین کے کوائف۔ واقعات و احوال کا سال بہ سال گوشوارہ۔ نسب نامہ اور خلفاء راشدین کا حضوراکرم ﷺ سے نسبی تعلق معر کہ ہائے کفر و اِسلام میں دوطرفہ لشکروں کی عددی نوعیت۔ نتائج اور کیفیت۔ حضور ﷺ کی پُر مغز دعوتی تقاریر کے منتخب اقتباسات۔بادشاہوں اور حکام کے نام دعوتِ اسلام پر مشتمل مکتوبات۔ حضور ﷺ کی اسلامی تعلیمات کی بنیادی باتیں قرآن و حدیث کی روشنی میں اور قرآن کے آئینے میں سیرت نبوی ﷺ کی جھلکیاں۔ غرض ایک چمنِ آرزو ہے جو سیرت پاک کے مختلف زاویوں کی صورت میں مہکتا ہوا اس کتاب میں سامنے آجاتا ہے اور تھوڑی دیر کے لیے قاری یہ محسوس کرتاہے کہ وہ ان احوال سے خود دو چار ہے جن احوال کے منظر میں سے حضوراکرم ﷺ کی سیرت طیبہ گزر رہی ہے۔ قاری اپنے آپ کر رسولِ اکرم ﷺ کے قافلہ ہدایت میں ہم رکاب محسوس کرنے لگتا ہے۔ بہت سی دوسری خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ خوبی اس کتاب کی بنیادی خوبی ہے اور اسی خوبی کی بنا پر میں اس منفرد کتاب کو مطالعہ کے لیے ہر اس نوجوان کے سامنے پیش کرتا ہوں جو راہ حق کا متلاشی اور رسولِ اکرم ﷺ کاشیدائی ہے۔
یہ کتاب نوجوانوں خصوصاً طلبا کے لیے لکھی گئی ہے اور مصنف نے طلبا کے ذہن ، ذوق ، عمر اور افتادِ طبع کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ نوجوانوں کے لیے لکھی گئی، اب تک کی سیرت کی کتب میں یہ کامیاب ترین کوشش ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور نوجوانوں میں اس کی مقبولیت کو عام کرے۔
_____________

ڈاکٹراحسان اکبر لکھتے ہیں:

بیسویں صدی کے اواخر کی بات ہے۔ آج کے احمدشہریار شہید سے ونگ کمانڈر عتیق احمد تک میرے چاروں بچے جب اوّل اوّل کتابیں پڑھنے کے لائق اور شائق ہوئے تو مجھے یہ تلاش ہوئی کہ ان سب کو سیرت النبی ﷺ کی تاریخیت بہت محکم ہے، مگر اس کی عربی نہاد اور عالمانہ افتاد نوعمروں کے لیے شاید دلچسپی کا باعث نہ بن پاتی۔ چوہدری افضل حق کی ’’محبوبِ خدا ﷺ‘‘ کا لہجہ بلاشبہ حُبِّ نبی ﷺ میں حرف حرف ڈوبا ہوا ملتا ہے مگر حضورنبی کریم ﷺ کی حیات مطہرہ جس طرح واقعات اور سانحات سے گزرتی رہی اس کی تدریج بھی نوجوانوں کے لیے مطلوب تھی کہ ان کے رسول ﷺ تاریخ کے لکھے جانے کے زمانے کی شخصیت ہیں، سو اُن ﷺ کے کوائف ساری لطافتوں کے ساتھ ملنے چاہیے تھے۔ مجھے کتابیں دیکھتے ہوئے محمدحمیدشاہد نام کے کسی مصنف کی کتاب ’’پیکرِ جمیل ﷺ‘‘ پسند آ گئی، سو میرے چاروں بچوں نے اسی سے اوّل اوّل فیض پایا۔
’’پیکرِ جمیل ﷺ‘‘ کتاب یوں پسند کی کہ اس کی زبان سادہ اور سہل ہے۔ تحریر رواں اور بیان اس دلچسپی کا حامل ہے جو کسی مسلمان کو اپنے محبوب رسولﷺ کی بات کو محبوب بنانا سکھا دیتا ہے۔ اس کتاب کا ایک اضافی حُسن یہ ہے کہ اس نے تھوڑے لفظوں میں یہ سعی بھی کی ہے کہ آج کے مغرب زدہ ذہن کو اپنی تہذیب اور اپنے دین کے قریب ہونے کے قابل بنائے، بعض اُلجھنوں اور بعض سوالوں کے بڑے واضح حل بھی مصنف کی عطائے خصوصی ہیں۔
آج کا نوجوان جو اپنی بعض الجھنیں رفع کرنا چاہتا ہے اور جو حضورنبی کریمﷺ کی ذات مبارک کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتا ہے، اسے ایسی میٹھی زبان اور ایسے ہی ہلکے پھلکے انداز میں لکھی سیرت النبیﷺ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے محبوب رسولﷺ کے نقوش پا یوں ہی قدم بہ قدم دیکھتا جائے جیسے کہ آپﷺ کی زندگی کے ارتقائی مطالعہ میں محمدحمیدشاہد نے دکھانے کی سعی کی ہے۔ یہاں وضاحت مل جاتی ہے تفصیل اور مباحث نہیں اور نوجوانوں کو، نئے ذہن کو یہی مطلوب ہے۔
آج اگر محمدحمیدشاہد ہمارے محبوب ناموں میں ہیں تو اس کے پیچھے شخصی وصفی بنیادیں ہیں، طویل زمانے کی رفاقت ہے، جو بولتی ہے مگر اُس زمانے کے محمدحمیدشاہد سے آشنائی صرف اس تخلیقِ جمیل کے صدقے ہوئی تھی جس کا نام ’’پیکرِجمیلﷺ‘‘ کے نامِ نامی پر رکھا گیا تھا۔
خدا اور محبوبِ خداﷺ ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں۔ آمین!!
_____________

پرو فیسرجلیل عالی لکھتے ہیں:

’’پیکرِ جمیلﷺ ‘‘محمد حمید شاہد کی منظرِ عام پر آنے والی پہلی کتاب تھی ۔یہ کتنی سعادت کی بات ہے کہ اس کے تصنیفی سفر کا آغاز ایسے مبارک موضوع سے ہوا۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ اسے آج بھی پڑھیں تو معیار و تاثیر کے اعتبار سے یہ بہت آگے کے کسی بھید کا احساس دلاتی ہے۔ اس میں ایک گونہ خوش اسلوبی سے جذبہ اور تاریخ ہمرکاب ہو گئے ہیں۔یوں کہ مرکزی بیانیے میں حیاتِ طیبہ کے واقعات کوسازِ عشق اور سوز ِ دل کے ساتھ اس طرح سامنے لایا گیا ہے کہ حاشیوں میں ٹھوس تاریخی حوالے اور مستند توضیحات بھی درج کر دی گئی ہیں۔ چنانچہ جذب و مستی اور علم و شعور کا سفر قدم بہ قدم آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
جس استغراق اور وارفتگی سے حمید شاہد نے اپنی اس اولین کاوش کو زیبِ قرطاس کیا ہے اس کے اثرات اس کی آئندہ کی تخلیقی ادبی تحریروں میں کیمیا کا کام کر گئے ہیں۔اللہ کی حکمتیں اسی طرح انسان کو اپنی رحمتوں سے نوازتی ہیں۔ اقبال نے اس ناتے اپنے ایک خوبصورت شعر میں کیسی نکتے کی بات کہی ہے۔
مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی
قدرت نے آغاز ہی میں حمید شاہد کی نثرکو ایک خاص اور منفرد آہنگ پر استوار کرنے کا اہتمام فرما دیا تھا۔اس کے نثری آہنگ ہی نہیں اس کی فکشن اور تنقید کے موضوعات و معیارات کی لطافتوں کے پیچھے بھی سیرِ سیرت کے اس مراقبے کی برکتیں جھلملاتی ہیں۔ اس نے سرچشمۂ خلقِ عظیم کی سرمدی قدروںاور روشن تہذیبی حوالوں کی پاسداری سے اپنی ادبی و تنقیدی نگارشات کی ایسی سر بہ فلک عمارتیں اٹھائی ہیںکہ ملک اور ملک سے باہر اس کے فکرو فن کا وسیع و وقیع اعتراف کیا جاتا ہے۔بے شک قدرت کے انعامِ خاص کے بغیریہ اعزاز ممکن نہیں ۔ اللہ اس کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور اعلیٰ و امتیازی شان سے زندہ و تابندہ رکھے!


PAIKER-E – JAMILpaiker

(PBUH)

BY

MOHAMMAD HAMEED SHAHID

Pages 400

1983,Lahore

A Scenario on the Life of the Holy Prophet (PBUH)

Hameed Shahid was written a life of the Holy Prophet Mohammad (PBUH) in an innovative manner PAIKAR-I-JAMIL; the very name of the book is a kind of expression, of the unbounded love that we have for the one man who has provided guidance to the whole of humanity. The few pages, in the beginning, are an attempt to describe the person and the personality of the Holy Prophet (PBUH)  and then comes the main book. It is divided into 87 “scenes” that read like a screenplay of a biopic.

The style, therefore is vivid and at place rather graphic, with details of the locale and the people who follow or those who opposed the Great Messenger. The information that could not be made a part of the scene, has been given in the footnotes below, and the bibliography of the book shows that the author has through with his facts. This is a book especially recommended for the youth who do not have patience of going through the tomes of Mohammad Hussain Haikal and Allama Shibli Naumani.

The last part of the book “Almukhtasar” gives in brief the dates of the life of the Holy Prophet (PBUH), the family tree of the Caliphs, the names of the ten holy men, the dates of the great battles fought by the Holy Prophet (PBUH), the wives, the near relatives, the names of freed slaves, the weapons worn by Him. Then there are famous speeches by the Holy Prophet (PBUH), His letters to other rulers, the verses from the Holy Qur’an addressed to Him, and finally the bibliography. This portion is valuable for quick reference and research for the youth. Mr. Hameed Shahid deserve our gratitude for his work. 

Sajjad Haider Malik

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد کا مران شہزاد|فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب

کتاب : فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب مصنف : محمدکامران شہزاد صفحات: 352 قیمت …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *