M. Hameed Shahid
Home / حدیث دیگراں / محمد منشایاد|رنگ رنگ کے رنگ

محمد منشایاد|رنگ رنگ کے رنگ

mansharazvishahid.jpg.w300h225
محمد حمید شاہد، منشایاد،زبیر رضوی

حمید شاہد کے فن ِافسانہ نگاری کی اہم خوبی ہے کہ وہ کسی ایک خاص ڈکشن کے اسیر نہیں ہوئے اور صاحبِ اسلوب بننے کی کوشش میں خود کو محدود نہیں کیا۔ وہ خیال ،مواد اورموضوع کے ساتھ تکنیک اور اسلوب میں ضرورت کے مطابق تبدیلی پیدا کرلیتے ہیں۔ وہ ہررنگ کی کہانی لکھنے پرقادرہیں۔میںسمجھتاہوں کہ افسانے کی نئی اور موجودہ نسل میں حمیدشاہد کانام اورمقام بہت ہی معتبرہے

محمدحمید شا ہد افسانہ نگار ہیں اوران کی نثری نظموں بلکہ نثموں کی ایک کتاب بھی چھپ چکی ہے لیکن وہ کہانی کونثری نظم یانثم بناناپسند نہیں کرتے۔ یوں توان کی شاعر اورافسانہ نگار کے علاوہ بعض اور بھی ادبی حیثیات ہیں جیسے نقاد،تاریخ نگار اور کالم نویس وغیرہ بلکہ ان کی تخلیقی جہات پر اظہرسلیم مجوکہ کی مرتب کردہ ایک پوری کتاب شائع ہوچکی ہے۔اور اس میں شک نہیں کہ وہ زرخیز ذہن اور فعال طبیعت کے تخلیق کارہیں۔ ان کے سوچنے اورلکھنے کی رفتار بہت تیزہے ۔انہیں ملک اور دنیا کے نئے اورعصری معاملات اورمسائل سے پوری آگاہی ہے اوران کی فکر راست ہے ۔وہ ہنگامی اورسامنے کے موضوعات کوبھی کوفکشن بنانے کی صلاحیت سے بھی مالامال ہیں ہے ۔بلکہ اس سے ان کی تحریروں میں واقعیت ،اثرپذیری اورزور پیداہوجاتاہے۔ ان کے افسانوں کے تین مجموعے شا ئع ہو چکے ہیں ‘بند آنکھوں سے پرے ‘جنم جہنم اور اب نیا مجموعہ” مرگ زار“ جسے اکادمی بازیافت نے کراچی سے شائع کیا ہے ۔


میں نے ان کے دوسرے مجموعہ ”جنم جہنم“ کے بارے میں نے کہاتھاکہ حمید شاہد کے فن ِافسانہ نگاری کی اہم خوبی ہے کہ وہ کسی ایک خاص ڈکشن کے اسیر نہیں ہوئے اور صاحبِ اسلوب بننے کی کوشش میں خود کو محدود نہیں کیا ۔صاحبِ اسلوب اور صاحبِ طرز کہلانے کی خواہش نے اچھے اچھوں کو ضائع کر دیا ۔کوئی موضوع یا مواد خواہ کتنا ہی قیمتی ہوتا اگر ان کے پہلے سے بنائے گئے فنی سانچے میں فٹ نہ ہوتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے مگر اپنے اسلوب میں لچک برداشت نہ کرتے۔ انہیں کہانی سے زیادہ اسلوب عزیز ہوتا۔مگر حمیدشاہد کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ وہ خیال ،مواد اورموضوع کے ساتھ تکنیک اور اسلوب میں ضرورت کے مطابق تبدیلی پیدا کرلیتے ہیں۔ وہ ہررنگ کی کہانی لکھنے پرقادرہیںان کی کہانیاں زمین سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔اپنی تہذیب ،ثقافت اور اقدار کی خوشبولئے ہوئے اورافسانے کی روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے ۔لیکن تازگی اورندرت کی حامل اورایسی پراثرکہ پڑھ لیں تو پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔اندر حلول کرجاتی ہیں۔ خون میں شامل ہو جاتی ہیں۔
میں سمجھتاہوں یہ خوبیاںان کے موجود ہ افسانوں میں بھی موجود ہیں بلکہ انہوں نے کچھ نئے موضوعات اور تجربات بھی شامل کئے ہیں یاان میں اضافہ کیاہے۔ ہمارے ہاں دفتری زندگی پربہت کم لکھنے والوں نے توجہ دی ۔اس موضوع پرقدرت اللہ شہاب ، منیر احمد شیخ اوروقاربن الٰہی کے بعد حمیدشاہد کی کہانیاں قابل توجہ ہیں۔ مرگ زار میں شامل ان کی کہانی ” ادارہ اور آدمی “اس کی ایک عمدہ اور بھرپور مثا ل ہے ۔


موضوعات کی سطح پرانہوں نے بہت سی نئی چیزیں لکھیں۔ وہ کہانی جس پرکتاب کانام رکھاگیا بہت مشکل موضوع تھا اور یہ کہانی نازک ٹریٹمنٹ کاتقاضاکرتی تھی ۔میرے خیال میںیہ کہانی لکھتے ہوئے انہیں بھی خاصی احتیاط اورمشکل کاسامناکرناپڑا ہوگا۔ مگر وہ اپنی بات اورموقف کوتجریدکی دھند سے نکالنے اور بیان کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ا س کہانی کاموضوع جہاداورشہادت جیسا نازک مسئلہ ہے جس کی کچھ عرصہ پہلے تک کچھ اورصورت تھی اب نائن الیون اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے کچھ اورصورت بن گئی ہے۔یہ ایک دہلادینے والی پراثر کہانی ہے ۔اپنے بھائی کی لاش کے ٹکڑے ۔پھراس کتاب میںانہوںنے موت کی اور کئی ایک شکلوں کامطالعہ کیااور اس کے جبر اور انسان کی بے بسی کی مختلف صورتیں دکھائیں ہیں۔ ”موت منڈی میںاکیلی موت کاقصہ“ تومیںنے خود بنتے بھی دیکھی اوراس بات کاشاہدہوں کہ وہ اس کرب اور تکلیف کو ہوبہوگرفت میں لینے میں کامیاب ہوگئے جوکہانی کے جنم گھرمیں ہم سب کوپیش آئی تھی۔ موت کی منڈی کی اصطلاح پنجابی ایکسپریشن ”مویاں دی منڈی‘ ‘ کے قریب اوربہت خیال انگیز ہے ۔اسی طرح ان کی ایک کہانی ”موت کابوسہ“ بھی ایک حقیقی کردار کی کہانی ہے ۔’لوتھ ‘اور’دکھ کیسے مرتاہے‘ یہ سب صدموں او ر دکھوں کی کہانیاں ہیں لیکن آپ ان سب کہانیوں کوکھنگال کردیکھ لیں ان میںاصل نام کہیںنہیںملیں گے۔ یہی وصف ان کہانیوں کوسچی اورحقیقی ہونے کے باوجودفکشن بننے سے نہیںروکتا ۔


اگرچہ اس مجموعے میں مختلف ذائقے کی کچھ اور کہانیاں بھی ہیںجیسے ناہنجار،آٹھوں گانٹھ کمیت اوربرشور،تکلے کاگھاو ¿،رکی ہوئی زندگی اورمعزول نسل وغیرہ مگر اس کتاب کی کہانیوں کی زیادہ تعداد موت کے مختلف روپ پیش کرتی ہے۔اسی لئے مصنف کومحسوس ہوا کہ اس بار توکہانیاںاس کاکچاکلیجہ چباکرہی مسکرائیں۔لیکن جس کہانی پریہ مجموعہ اور اس کامصنف بجاطورپرفخرکرسکیںگے وہ ان کی کہانی ”سورگ میںسو ¿ر“ ہے۔اسکی کئی پرتیں ہیں ۔واقعاتی اورسامنے کی سطح پربھی اس کی ایک بھرپور معنویت موجودہے اوراس میںجس خوبصورتی سے جزیات نگاری کی گئی اور بنجرزمینوں کی ثقافت،معاملات ،بکریوں اوران کی بیماریوں اورروگوں کے بارے میں جوتفصیلات دی گئی ہیں وہ ان کے وسیع تجربے ،مشاہدے اورمعلومات کا بین ثبوت ہیں ۔پھرجس طریقے سے یہ کہانی ایک علامتی موڑ مڑتی او رسیاسی جبرکی ایک نئی معنویت سے ہمکنارہوجاتی ہے وہ ان کے فن کاکمال ہے۔انہوں نے اس کتاب میںتکنیک اور اسلوب کے کئی ایک نئے تجربات بھی کئے ہیں۔ جیسے راوی اورمتکلم کو ایک دوسرے سے ا لگ کرتے ہوئے کہانی کوروک کر کئی ایک جگہوںپر وضاحتی نوٹس کااضافہ کرنا۔میںسمجھتاہوں کہ افسانے کی نئی اور موجودہ نسل میں حمیدشاہد کانام اورمقام بہت ہی معتبرہے اور ’مرگ زار‘ کے افسانے اس کی بہترین اورخوبصورت مثال ہےں۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *