M. Hameed Shahid
Home / حدیث دیگراں / مٹی آدم کھاتی ہے|شمس الرحمن فاروقی

مٹی آدم کھاتی ہے|شمس الرحمن فاروقی

10399896_113823346156_5359825_n

محمد حمید شاہد اپنے افسانوں میں ایک نہایت ذی ہوش اور حساس قصہ گو معلوم ہوتے ہیں۔ بظاہر پیچیدگی کے باوجود ان کے بیانیہ میں یہ وصف ہے کہ ہم قصہ گو سے دور نہیں ہوتے، حالانکہ جدید افسانے میں افسانہ نگار بالکل تنہا اپنی بات کہتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ محمد حمید شاہد کی دوسری بڑی صفت ان کے موضوعات کا تنوع ہے۔  محمد حمید شاہد کے سروکار سماجی سے زیادہ سیاسی ہیں، حتی کہ وہ اپنے ماحولیاتی افسانوں میں بھی کچھ سیاسی پہلو پیدا کر لیتے ہیں۔ ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش کی حقیقت سے آنکھ ملانے کی کوشش رومان اور تشدد کو یکجا کر دیتی ہے۔ اسے محمد حمید شاہد کی بہت بڑی کامیابی سمجھنا چاہئے کہ وہ ایسے موضوع کو بھی اپنے بیانیہ میں بے تکلف لے آتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگارگو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے۔ دکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے۔

دکھ انسانی صورت حال کا مستقل عنصر ہے۔ یہ ہمہ جہت اور ہمہ وقوع ہے۔ اولیاء اللہ کرام کو ہر باب میں نفس مطمئنہ حاصل ہوتا ہے لیکن دکھ سے خالی وہ بھی نہ تھے۔ حضرت نظام الحق والدین نظام الاولیا اکثر راتوں کو نہ سوتے اور اشکبار رہتے۔ ایک بار امیر خسرو نے ہمت کر کے اس کا سبب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ جب اس شہر میں ہزاروں بندگان خدا پر رات اس طرح گذرتی ہے کہ ان کے پیٹ میں روٹی نہیں اور تن پر چادر نہیں تو میں کیوںکہ سو سکتا ہوں۔ مشہور ہے کہ حضرت بابا نظام الدین صاحب رات کو استراحت کرنے کے پہلے گھر کا سب غلہ ، شکر، کھانا، حتی کہ پانی اور نمک بھی تقسیم فرمادیتے اور صرف اتنا پانی بچا رکھنے کا حکم دیتے جو تہجد اور فجر کے وضو کے لئے کافی ہو۔ میر کا شعراسی واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے-دیوان سوم-جب سے ملا اس آئینہ رو سے خوش کی ان نے نمد پوشی
پانی بھی دے ہے پھینک شبوں کو میرے فقیر قلندر ہے
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ جینا اور دکھ سہنا ایک ہی شے ہیں، یا یوں بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ جو دکھ سہتا ہے وہی جیتا ہے۔ اقبال نے اسی بات کو ایک اور رنگ میں ڈال کر انسان سے، یا شاید خدا سے، یا شاید دونوں ہی سے پوچھا تھا

یہ شب درد و سوز غم کہتے ہیں زندگی جسے
اس کی سحر ہے تو کہ میں اس کی اذاں ہے تو کہ میں

بظاہر اقبال کو کسی جواب کی توقع نہ تھی، اگر چہ ان کے کلام میں بعض ایسے بھی مقام آتے ہیں جہاں سوال سے زیادہ جواب کا وفور معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انسان ان کے یہاں بھی سرراہ بیٹھا ستم کش انتظار نظر آتا ہے۔ اجنبی اور غیر جنس کائنات میں انسانی وجود کا مقدر یہی ہے کہ وہ طرح طرح کے دکھ سہے۔ محمد حمید شاہد کے اس چھوٹے سے لیکن بقیمت بہت بہتر ناول میں دوراوی ہیں اور ان میں سے ایک اپنے باپ کے بارے میں بتاتا ہے:

وہ اس بات پر یقین رکھتا رہا کہ ایک روز وہ معمول کی طرح یوں ہی اپنے بدن کو خوب تھکا کر سوئے گا اور موت سے ہم کنار ہوجائے گا۔ اور ہوا بھی یہی… اس روز وہ پوری طرح خالی الذہن تھا۔ اس نے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالا کہ اس کا انگ انگ دکھنے لگا حتی کہ اس کا وہیں ایک کونے میں بچھی پرالی تک پہنچنا بھی ممکن نہ رہا۔ اس نے دوچار قدم جیسے عادتاً اٹھائے اور گھوڑوں کے عقب میں پہنچ کر ننگی زمین پر ہی ٹانگیں پسار کر ڈھیر ہوگیا۔ اگلے روز اس کا مردہ وہیں سے یوں اٹھایا گیا کہ اس کا بدن دوہرا ہوگیا تھا۔

جب زندگی خالی الذہن ہو کر گذرے تو ہم توقع کر سکتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھی محسوس نہ ہوگا۔ لیکن راوی کا باپ خالی الذہن ہونے کے باوجود احساس کی دولت (لعنت؟) سے عاری نہ تھا۔ ہمیں بتایا جا تا ہے کہ ’’چکرا کر گرتے وقت وہ زندہ تھا، اسے سوتے میں شدید سردی نے مار دیا تھا۔ ‘‘ یہ سردی شاید صرف موسم کی سردی نہ تھی، بلکہ بنی نوع انسان کے دلوں کی سردی تھی۔ ناول کا دوسرا واحد متکلم راوی اپنی محبوبہ کے بارے میں ہمیں بتاتا ہے:

یقین جانو یہ تو میرے گمان میں بھی نہ تھا وہ اپنی زمین چھوڑ نے کو تیار ہو جائے گی۔

ابھی تک ہم دونوں پانی میں کھڑے تھے۔ انھوں نے اسٹیمر چلا دیا۔ میں بوکھلا کر اسٹیمر کی طرف لپکا۔ اسی اثنا میں ادھر سے سنسناتی ہوئی گولی آئی اور میری ران چیرتی ہوئی نکل گئی۔ منیبہ سب کچھ بھول کر یوں میری جانب بڑھی جیسے پھر سے زندہ ہوگئی ہو۔ اس نے مجھے تھام لیا اور ایک لمحے کا توقف کئے بغیر مجھے اسٹیمر کی طرف ڈھکیلا اور اس پر چڑھنے میں مجھے مدد دی۔ اب اسٹیمر کا رخ گہرے پانیوں کی طرف تھا مگر وہ وہیں کھڑی رہی۔ میں نے صاف صاف دیکھا تھا کہ فوراً بعد اس کا جسم وہیں پانی کے اوپر تک اچھلا تھا۔ میں نے گولیوں کی آواز نہیں سنی تھی۔ محض اس کا اچھلتا ہوا وجود دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ جہاں سے پانی کے چھینٹے اوپر کو اٹھے تھے وہاں کوئی اور حرکت نہیںہوئی تھی۔

ایک شخص اپنے باپ سے محروم ہوجاتا ہے۔ دشمن کے ہاتھوں نہیں، یہ اس کے اپنے ہی ہیں جو اس کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ ایک عورت کو اس کے اپنے گولی مار دیتے ہیں، کیوںکہ وہ انھیں چھوڑ کر جانا چاہتی ہے۔ ایک شخص جسے بچ رہنے کا کوئی حق نہیں (کیوںکہ اس کی محبوبہ نے اس کی خاطر اپنا گھر، اپنا پہلا شوہر، اور اپنی زمین ہی نہیں چھوڑی، بلکہ ایک اصول حیات کو چھوڑا ہے)، وہ لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہوتے ہوتے بچ نکلتا ہے۔ دکھ کی چادر بیمار اور صحت مند قوی اور ضعیف، سب کو ڈھک لیتی ہے۔

لیکن جو بچ نکلا وہ بچا نہیں۔ اس کی منیبہ کو مکتی باہنی کے کسی بہادر نے گولی ماردی تو کسی خرم بھائی کی زر جان کا دامن اس سے باندھ دیا گیا اور زر جان کی ماں بیگم جان کو اس کامیاں اسے مار مار کر ادھ مرا کر دیتاہے اور کہتا ہے کہ تو ہی اس لونڈیا کو شہر میں پڑھنے کے لئے لائی تھی، یہ سب کرتوت تیرے ہیں۔ اور اس کے اگلے ہی روز زرجان کا خرم کسی ’’حاثے‘‘کا شکار ہوکر اسی بے بس دکھ کی آغوش میں جان دیتا ہے جس نے پہلے راوی کے باپ پر رات نہ گذرنے دی تھی۔ زرجان کو نکاح کے دھاگے میں باندھ دینے سے زندگیاں سدھر یں گی نہیں۔ دکھ نے منیبہ کے معشوق کیپٹین سلیم اور خرم کی معشوق زرجان دونوں کو کہیں اندر زخمی کر دیا ہے۔ زرجان کے باپ چہیتا گھوڑا سنہریا بھی اچانک زخمی ہوگیا تھا، لیکن اس کا زخم اس کے دائیں گھٹنے پر تھا۔ زرجان، سلیم، اور سنہریا کے زخموں میں مشابہت یہ ہے کہ ان میں سے کسی کا زخم مند مل نہیں ہوتا۔

دونالی سے شعلے نکلے اور سنہریا گر کر زمین پر تڑپنے لگا۔ خان جی پلٹے، کہا، ’’اب یہ ہمارے کام کا نہیں رہا۔‘‘ پھر دو نالی کو جھٹکے سے دوہرا کیا اور کارتوس کے خول نکال کر اچھالتے ہوئے کہا، ’’جو کام کا نہیں رہتا، کہیں کا نہیں رہتا۔‘‘

زرجان کا کپتان شوہر اسے آٹے کی عورت کہتا ہے، ایسی عورت جس سے بھوک تو مٹ سکتی ہے لیکن جو ’’روح پر دستک‘‘ نہیں دے سکتی۔ لیکن اس کا دکھ یہ نہیں ہے کہ اس کے پاس جو عورت ہے وہ آٹے کی عورت ہے۔ اس کا دکھ یہ ہے کہ وہ زمین کو کھر چتا رہتا ہے۔ پہلا راوی کہتا ہے، ’’نئے دکھ کی شدید باڑھ میں میرے قریب آنے والا ایک دم فاصلے پر ہوگیا تھا… دکھ نے تو ایک ہی ہلے میں ہمیں قریب کردیا تھا… وہ سنتا رہتا اور جب اسے دھیا ن بڑھانا ہوتا تو زمین کھرچنے لگتا تھا۔‘‘ وہ زمین کھرچتا ہے، شاید اس لئے کہ زمین ایک دن سونا اگل دے گی، یا شاید اس لئے کہ وہ زمین میں سوراخ کر کے پاتال تک پہنچ جائے گا جہاں منیبہ اس کا انتظار کررہی ہے۔ لیکن اسے پتہ چلتا ہے کہ ’’مٹی تو مٹی ہے، یہ اپنی کہاں رہتی ہے۔‘‘

محمد حمید شاہد اپنے افسانوں میں ایک نہایت ذی ہوش اور حساس قصہ گو معلوم ہوتے ہیں۔ بظاہر پیچیدگی کے باوجود (مثلاً ان کا زیر نظر ناول، اور ’’شب خون‘‘ ۳۹۲تا۹۹۲میں مطبوعہ ان کا افسانہ ’’بدن برزخ‘‘) ان کے بیانیہ میں یہ وصف ہے کہ ہم قصہ گو سے دور نہیں ہوتے، حالانکہ جدید افسانے میں افسانہ نگار بالکل تنہا اپنی بات کہتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ (اسی بات کو باختن نے یوں کہا تھا کہ فکشن نگار سے بڑھ کر دنیا میں کوئی تنہا نہیں، کیوںکہ اسے کچھ نہیں معلوم کہ اس کا افسانہ کون پڑھ رہا ہے اور کوئی اسے پڑھ بھی رہا ہے کہ نہیں۔) اسی وجہ سے جدید افسانہ نگار اپنے قاری کے لئے کتابی تو وجود رکھتا ہے لیکن زندہ وجود نہیں رکھتا۔ محمد حمید شاہد اس مخمصے سے نکلنا چاہتے ہیں اور شاید اسی لئے وہ اپنے بیانیے میں قصہ گوئی، یا کسی واقع شدہ بات کے بارے میں ہمیں مطلع کرنے کا انداز جگہ جگہ اختیار کرتے ہیں۔

محمد حمید شاہد کی دوسری بڑی صفت ان کے موضوعات کا تنوع ہے۔ اس لحاظ سے وہ منشا یاد سے کچھ کچھ مشابہ لگتے ہیں لیکن محمد حمید شاہد کے سروکار سماجی سے زیادہ سیاسی ہیں، حتی کہ وہ اپنے ماحولیاتی افسانوں میں بھی کچھ سیاسی پہلو پیدا کر لیتے ہیں۔ ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش کی حقیقت سے آنکھ ملانے کی کوشش رومان اور تشدد کو یکجا کر دیتی ہے۔ اسے محمد حمید شاہد کی بہت بڑی کامیابی سمجھنا چاہئے کہ وہ ایسے موضوع کو بھی اپنے بیانیہ میں بے تکلف لے آتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگارگو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے۔ دکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *