M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / عابدہ تقی|عکسی مفتی کے ڈیرے پر فورم برادری کاجلسہ ، دعوتِ شیرازاور چٹنیاں

عابدہ تقی|عکسی مفتی کے ڈیرے پر فورم برادری کاجلسہ ، دعوتِ شیرازاور چٹنیاں

اسلام آباد ادبی فورم کے اجلاس کی دلچسپ رودادعابدہ تقی کے شوخ قلم سے

12368987_1006171582738994_4218810433199635552_n
اسلام آباد ادبی فورم کے اجلاس میں محمد حمید شاہد نے اپنا افسانہ پارہ دوز پڑھا

دسمبر کی ایک انتہائی سرد شام کے سرمئی دھندلکے نے ہمیں اپنے سحر میں گھیر رکھا تھا۔ گرمیوں کو الوداع نہ کہتے ہوئے جاڑے نے جب مارگلہ کے دامن میں آباد،اسلام آباد میں انگڑائی لی تو وہ پرانے شعراء کے محبوب کی انگڑائی سے زیادہ قیامت خیز نکلی۔ شام کو باہر نکلنے پر یخ ہوا پیار سے گلے ملتی تو بدن کے ساتھ روح تک کو تیز دھار خنجر کی طرح کاٹ دارمحسوس ہوتی۔ لیکن آج ہمیں باہر نکلنا اور اس ستمگر سردی کا ہر وار سہنا اچھا لگ رہا تھاکیونکہ کافی مدت کے بعد آج ہمیں عکسی مفتی کے دولت کدے پر حاضر ہونا تھا۔ عکسی مفتی کی مہمان نوازی، دلچسپ گفتگو سے کھانوں تک میں ثقافت کی ست رنگی جھلک کا کون شیدئی نہیں؟ ( اورجو نہیں وہ ہاتھ کھڑا نہ کرے)۔ خیر عکسی صاحب کے گھر کے پچھلے اجلاس کا منظر آنکھوں میں گھوم گیا۔جب موسم برفاب اور حدت کمیاب تھی توکمرے کے عین بیچوں بیچ سرخ دیکتے کوئلوں کی بڑی سی انگیٹھی کے گرد ہم سب بیٹھے ہاتھ بھی تاپتے رہے ۔ ہر محفل میں ثقافتی رنگ جمانا تو کوئی عکسی مفتی سے سیکھے جن کا ڈرائینگ روم بھی اپنی مخصوص آرائیش میں ایک  مِنی لوک ورثہ دکھائی دیتا ہے۔
ہاں تو ہوا یوں کہ پچھلے سیشن میں اگرچہ عکسی مفتی شریک نہ ہو سکے تھے لیکن مجھے پوری اتھارٹی دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کی جانب سے اعلان کروں کہ اگلے سیشن کے میزبان وہ ہوں گے اور میں نے سیشن کے اختتام پر اس بات کا اعلان کر دیا تھا۔ اب اللہ بھلاکرے ثروت محی الدین کا۔ مجھے اور عکسی سے فون پر بولیں ’’دسمبر میں کون آ ئے گا سب کہیں نہ کہیں مصروف ہوتے ہیں۔اس لیے دسمبر کا سیشن اسکپ کر دیں‘‘۔ اس بات پر عکسی مفتی کنفیوز ہو گئے اور یہ کنفیوز ہونا جائز بھی تھا کہ اگر وہ دیگیں پکوا کر بیٹھ گئے اور باراتی نہ آئے تو کیا ہو گا۔ اب مجھے دوسرا فون انہی کا آیا ’’ عابدہ اس ماہ کا سیشن منسوخ کر دیتے ہیں کوئی نہیں آئے گا‘‘۔ لیکن میں جو ماضی قریب میں حلقہء اربابِ ذوق اسلام آباد کی سیکرٹری رہ چکنے کے باعث اجلاس بپا کرنے کے معاملے میں خاصی ڈھیٹ ہو چکی تھی، ڈٹ گئی۔ اور ان کے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا ’’ حضور اجلاس ہر حال میں ہو گا اورممبران بھی آئیں گے۔ البتہ ایک دو ممبران کے نہ آنے کا صدمہ ہم ان کے حصے کا کھانا کھا کر اٹھا لیں گے‘‘۔ عکسی مفتی نے جب دیکھا کہ یہ بلاء ٹلنے والی نہیں تو بولے ’’ ٹھیک ہے سیکرٹری صاحبہ، مجھے قبول ہے لیکن اجلاس کامیاب ہونا چاہیے‘‘۔ افوہ یہ سب لوگ اتنی شرطیں کیوں رکھتے ہیں بھئی ؟ خیر میں نے بھی ادبی بڑک مار دی ‘‘ میں کوئی سیاسی پارٹیوں کی منتظم ہوں کہ ناکام اجلاس منعقد کراؤں؟ دراصل عکسی مفتی پچھلے کئی ماہ سے پاکستان کے ٹور پر نکلے ہوئے تھے۔ کبھی کے ٹو کی چوٹیوں پر اور کبھی درویشوں کے ڈیرے، کبھی لاہور میں کانفرنس اور کبھی سلطان باہو کے دربار کے پھیرے، فورم کے سیشنز کے لئے پکڑائی ہی نہ دے رہے تھے اور میں چاہتی تھی کہ اس سے قبل کہ دسمبر ان پر کسی اور جگہ کی اڑان کا طلسم پھونکے، اس سیشن کی میزبانی کروا لی جائے۔اور یوں تاریخ اور وقت طے کرنے کے بعد سب ممبران کو مختصر برقی دعوت نامے ارسال کر دیے۔
آج شام میں نے جلدی اور سب سے پہلے آ کر پچھلے تمام جلسوں میں پہلے آنے والے ’’ عالیان اور نجیبانِ عارفانہ‘‘ کا ریکارڈ تڑک کر کے توڑ دیا۔ ویسے چھناکے سے بھی ٹوٹ سکتا تھا لیکن جب سے طفیل نیازی نے بے قدراں دی یاری کو تڑک کر کے توڑا ہے مجھے ٹوٹنے کی یہ آواز بہت پسند آ گئی ہے۔ عکسی مفتی میرے اتنی جلدی آنے پر گڑبڑا گئے کیونکہ وہ اور بیگم ابھی تیار نہیں ہوئے تھے۔ بولے‘‘ میں اور سحری ابھی آتے ہیں تب تک آپ ذرا میوزک سے دل بہلائیں‘‘۔ میں ایک کرسی پر براجمان ہو گئی اور عکسی مفتی ’’کوک اسٹوڈیو کی ایک ہزار سی۔ ڈیز میں سے کچھ اچھی تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ جب ایک عدد مل گءئی تو وہ ان کے ساؤنڈ سسٹم میں چلی نہیں۔ انہیں اپنے لئے اتنا دکھ اٹھاتا دیکھ کر میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ کوئی آنسو میری آنکھ سے ٹپکتا۔ باہر ڈور بیل بجی مجھے بہت خوبصورت کمپنی مل گئی۔ عائشہ اوران کی بیٹی بیاؔ آ گئیں اور ان کے آنے سے عکسی کو یقین ہو گیا کہ مہمانان واقعی آ رہے ہیں انہیں تیار ہو جانا چاہیے۔ عکسی کے غائب ہوتے ہی ایک ایک کر کے سب اکٹھے ہونا شروع ہو گئے۔ فریدہ اور بیٹی بشریٰ کی اینٹری کے ساتھ ہی مزید احباب بھی آنا شروع ہو گئے۔
ان میں سے زیادہ افراد ’’الحمرا کانفرنس لاہور‘‘ کے متاثرین تھے۔ ’’ عالی صاحب بمع بیگم کے آئے تو مجھے بہت اطمینان ہواکیونکہ میں انہیں بغیر بتائے آج کے سیشن کا صدر منتخب کر چکی تھی۔ انہوں نے سرسری سے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ شاید انہیں کوئی مشاعرہ در پیش ہولیکن میں نے اس پر بہت شور مچایا ’’ساڈا جلیل عالی آوے ہی آوے‘‘ اور ’’ آگیا شعر چھا گیا شعر‘‘ وغیرہ۔ دراصل بلدیاتی انتخابات ہیں کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آ رہے اورکچھ نعرے ہیں کہ جو ایلیکشن کے علاوہ بھی ہر موقع پر لگانے کو دل چاہتا ہے اور ہم ایک ہی شیر کو جانتے ہیں جو کہا جاتا ہے اور وہ ’’شعر‘‘ ہوتا ہے۔ عالی صاحب کے آتے ہی سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ ’’سر آپ لاہور ادبی کانفرنس کے مشاعرے میں کیوں نہیں تھے‘‘۔ جلیل عالی صاحب نے اصل جواب اپنی مسکراہٹ کے پیچھے چھپایا اور باقی ماندہ نذرِ محفل کیا ’’بہت زیادہ شعراء تھے مشاعرہ کہیں رات گئے ختم ہونا تھا‘‘۔کیونکہ عالی صاحب ’’استاد‘‘ بھی ہیں اور ’’بڑے‘‘ بھی۔ اس لئے عارف نے تائید میں اپنے چہرے کو ’’بناکا سمائیل ‘‘ (کولگیٹ اسمائل میں وہ مزہ نہیں جو بناکا میں ہے ) سے سجاتے ہوئے کہا،’’جی ہاں کچھ ایسا ہی معاملہ تھا‘‘ ۔ عارف کے اس آدھے جملے اور آدھی مسکراہٹ میں ان کا پورا طویل مضمون بول رہا تھا جو انہوں نے بعد میں ’’کچھ یاد رہا اور کچھ بھول گئے‘‘ کے عنوان سے لکھا۔
عالی صاحب کے ساتھ ہی علی محمد فرشی اور بیگم فرشی بھی مہمان خانے میں آئے۔ علی محمد فرشی گرے سوٹ بوٹ میں خاصے چمک رہے تھے اور چہرے کے آثار اورآنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ آج تنقید کامیدان وہ جیتنے والے ہیں۔ اب پانچوں اطراف میں کب کے بچھڑے ہوئے یہاں آ کر ایک دوسرے سے ملنے کے لئے ڈراینگ روم کے صوفے، کرسیاں اور فرشی کشنز پھلانگنے لگے۔ عید کا سا سماں بن گیا اور عکسی مفتی درمیان میں نہایت مقبول اور پسندیدہ میزبان کی حیثیت سے ادھر ادھر پکارے جانے لگے۔ حمید شاہد دوسرے اہم ممبر تھے جو الحمرا کانفرنس میں اردو افسانہ کی صورت و معانیٰ کو خوبصورت منوا کر آئے تھے اور آج انہوں نے ہی افسانہ پیش بھی کرنا تھا۔ لیکن انہیں عارف کی بھٹو اسٹائل کیپ پسند آ گئی اور انہوں نے اس کی شان میں کچھ تعریفی کلمات کہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ انہوں نے ہی عارف بھائی کو لاہور ثقافتی میلے سے خرید کر دی تھی۔ ہوں ہوں۔اب سمجھ میں آیاکہ نقاد اور تعریف؟ یقیناََ پیسہ بول رہا تھا ٹوپی کی تعریف میں۔
حسن عباس رضا کلاسیکل مہان کلاکاروں کے بھیس میں آئے تھے بس کمی تھی تو تانپورے کی ورنہ قریب تھاکہ لوگ انہیں مہارج تان سین سمجھنے لگتے۔ کسی من چلے نے کہہ بھی دیا ’’اج تے تسی استاد سلامت علی خان لگ رہے ہو‘‘۔ حسن عباس فطرتاََ خوش مزاج ہیں اسی کوپلیمینٹ پر خوش ہو گئے اور پاس پڑے ہوئے فرشی کشن پر ’’خان صاحب’’کی ادا سے بیٹھ گئے۔ؑ عکسی مفتی بھی سامنے ایک چئیر پر آن بیٹھے اور سحری نے بڑی محبت سے لارنس پور کی بڑی گرم چادر لا کر انہیں اوڑھائی۔ عالی صاحب کسی سے مخاطب تھے اورمیں نے ان کے کان میں کہا ’’سر میں آپ کو پریزیڈینٹ بنانے والی ہوں‘‘ وہ نہایت حاضر جوابی سے بولے ’’ یعنی میں صدر بننے کے لئے سنجیدہ ہو جاؤں‘‘ اور ہم دونوں ہی ہنس دیے۔
خوش گپیوں کی آواز اتنی اونچی تھی کہ اجلاس شروع کرنے کے لئے مجھے کھڑے ہو کر ’’خواتین و حضرات ایک ضروری اعلان سنیے۔ فورم کی فلائیٹ میں آپ کو خوش آمدید اورہمارا سفر ایک افسانے، ایک مضمون اور کچھ شاعری سے ہوتا ہوا ٹھیک ڈھائی گھنٹے بعد اپنی منز ل یعنی کھانے کی میز پر پہنچے گا۔ ا س دوران آپ جلسے کی کارروائی سے محظوظ ہوتے رہیں گے‘‘ کہنا پڑا۔ اب تو سب نے سیٹ بیلٹس باندھ لیں اور کان بند کر لئے۔صاحبِ صدارت جلیل عالی صاحب نے کہا ’’ خواتین و حضرات عابدہ تقی کامضمون ہے اور حمید شاہد کا افسانہ۔ پہلے عابدہ تقی سے نجیبہ کے شعری مجموعے ’’معانی سے زیادہ‘‘ پر مضمون سنتے ہیں‘‘۔
نجیبہ عارف نے ھیٹر کو پشت دکھاتے ہوئے بہت توجہ سے اچھا مضمون سننے کی امید بھری نظروں سے مجھے دیکھا میں نے مضمون کی طرف دیکھنے کی بجائے کمرے میں بیٹھے نقد و نظر کے سارے چیمپئینز کی طرف دیکھ کر اپنی کوتاہ قامتی کودیکھا اور کہا کہ اسے اپنے معیار پر نہ سنیں تو عالی صاحب بولے ’’ عابدہ کا مطلب ہے اپنا معیار بلند کر کے سنیں‘‘ جس پر سب مسکرا دیے اور میں نے اللہ کا نام لے کر سب ادبی بابوں اور نقد و نظر کے سقراطوں کے سامنے لب کشائی کر ڈالی۔ مضمون ختم ہوا تو خلافِ توقع سامعین نے بے ساختہ اور یک زبان اسے’’بہت اچھا‘‘ کہا تو میں نے اطمینان کا سانس لیا۔
عالی صاحب نے حاضرین کو دعوتِ گفتگو دی جس کا آغاز علی محمد فرشی نے کیا اور انہوں نے نجیبہ کی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے میرے مضمون کے مختلف حصوں پر بھی بات کی۔ ان کے بعد محمد حمید شاہد، عائشہ مسعود، فریدہ حفیظ، نیلوفر اقبال،بینا حسن، حسن عباس رضا، عکسی مفتی، مسعود مفتی اور جلیل عالی نے مضمون کی روشنی میں بھی اور اس سے باہر بھی نجیبہ کی کتاب ’’معانی سے زیادہ‘‘ اوران کی شاعری پر بہت حوصلہ افزا اور سیر حاصل گفتگو کی۔عائشہ مسعود نے کہا کہ عابدہ کامضمون بہت اچھا ہے۔ جب مجھے یہ کتاب ملی تو میں نے بھی اس پر ایک مضمون لکھ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رکیں تو اس دوران فورم کے سب ممبران نے ان کی طرف امید افزا نظروں سے دیکھا اور میں نے سوچا کہ چلو آج کی محفل میں دو خواتین کی جانب سے دو مضامین پڑھے جائیں وہ بھی ایک خاتون کی کتاب پر تو یہ تو صاف صاف ’’تین عورتیں تین کہانیاں‘‘ جیسا پر لطف سیشن ہو گا۔’چھوٹے سے وقفے کے بعد عائشہ بولیں ’’ لکھنا شروع کیالیکن پھر میں نے نجیبہ کی کتاب ایک نظم کی اشاعت کے لئے نوائے وقت کے پرنٹنگ سیکشن میں بھیج دی اور آج تک وہ مجھے ملی ہی نہیں تو مضمون پورا نہیں ہو سکا۔ اب میں نجیبہ سے دوسری کتاب کی درخواست کرتی ہوں‘‘ اس انجام پر سب کھلکھلا کر ہنس دیے اور نجیبہ نے دوسری کتاب دینے کا وعدہ کر لیا۔ڈاکٹر نوازش علی کی باری آئی تو بولے’’میری معذرت کہ مجھ تک کتاب نہیں پہنچی‘‘ ڈاکٹر صاحب بڑے ہیں سومیں تو نہیں کہہ سکی کہ حضور مضمون تو آپ تک صوتی لہروں پر پرواز کرتے ہوئے پہنچا ہے سو ’’کچھ تو کہیے کہ لوگ کہتے ہیں۔۔آج غالب غزل سرا نہ ہوا‘‘ لیکن وہ پھر بھی غزل سرا نہیں ہوئے ۔
اس بار صاحبِ صدارت نے عکسی مفتی کو بھی دعوتِ اظہارِ رایے دی جس پر عکسی صاحب نے اپنی مخصوص مسکراہٹ میں اور انکساری میں بات کو ٹالنے کی کوشش کی ’’ سر جی میرا کام نہیں ہے یہ تنقید وغیرہ بس آپ لوگ‘‘ لیکن ہمارے شور کے آگے ان کی نہیں چلی۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ بس جی عابدہ کابہت اچھا مضمون ہے اور نجیبہ ہماری دوست ہیں اور بہت اچھی شاعری کرتی ہیں‘‘۔ آخر میں نجیبہ کے ’’میں ایک میاں ہوں‘‘ سے کہا گیا کہ کچھ کہیں جس پر بولے ’’جی میں نے تو ان کی کوئی کتاب پڑھی ہی نہیں بس یہ کہ میں شوہرہوں انہیں دکھ دیتا رہتا ہوں جو کہ شوہروں کا کام ہے تاکہ یہ دکھی ہو کر لکھتی رہیں‘‘۔ میں نے اور بینا حسن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اورکہنا چاہا ’لکھنا تو آپ نے بھی شروع کر دیا ہے محمد عارف صاحب تویہ کس دکھ کا نتیجہ ہے؟لیکن بعدمیں جب نجیبہ سے فرمائش ہوئی کہ اپنی کتاب سے کچھ سنائیں اور مسعود مفتی صاحب نے ایک نظم کا خاص طور سے کہا تو عارف بھائی بولے ’’نجیبہ وہ نظم صفحہ نمبر 132 پر ہے۔’’ ہائیں یہ کیا اب تو سب بولے کہ اچھا خاصہ شک پڑ گیا ہے کہ کتاب اصل میں کس نے لکھی ہے؟ ۔ اور اس پر نجیبان کی طرف دوستانہ اورخوشگوار اعتراضات کے کافی جملے اچھالے گئے جس کا انہوں نے ہر گز دفاع نہیں کیا ۔
پروگرام کا دوسرا حصہ حمید شاہد کا افسانہ تھا جسے پیش کرنے کی دعوت صاحبِ صدر نے انہیں دی۔ میری نگاہیں یاسمین بھابی کی طرف مڑ گئیں کہ ابھی پرس سے یا کسی سنبھالی ہوئی فائل سے افسانہ کھول کر حمید شاہد کے سامنے رکھیں گی۔ عام طور پر ان کی ایسی خدمات ان کی بیگم یاسمین انجام دیتی ہیں۔ کچھ لکھنا چاہیں تو قلم پرس سے نکال ڈھکن کھول کر انہیں پکڑانا، ذرا سا ان کے کھنگارنے پر پانی کے جگ کی طرف لپکنا اور الہ دین کے جن کی طرح ان کا کھنگورا پورا ہونے سے قبل پانی پیش کرنا اور اس پر زور دے کر کہنا ’’حمید جی پہلے پانی پی لیں‘‘۔ ان کے کھانے کی پلیٹ میں کھنا نکال کر دینا اور پھر بار بار دیکھنا کہ ان کے ’’حمید جی‘‘ نے کوئی مزیدار کھانامس تو نہیں کر دیا ہے۔
لیکن آج یاسمین بھابی دور بیٹھے ہونے کے سبب بالکل متحرک نہیں ہوئیں اور اس کمک کو دستیاب نہ پا کر حمید شاہد نے اپنی جیب سے یا فائل سے افسانے کے کاغذ نکالے اور کھنک دار آواز میں کہا۔ افسانے کا عنوان ہے’’ بارہ دوز، تین پارچے ایک کہانی‘‘ ’ اور یہ تین حصوں پرمشتمل ہے’’پہلا پارچہ‘‘ کہا ا اور پڑھنا شروع کر دیا جس میں مرکزی کردار معظم جسے اس کی محبوب بیوی پیار سے’’ موظی‘‘ کہتی ہے اس کے آنکھوں میں شدید درد سے شروع ہوا۔حمید شاہد کی جزئیات نگاری کا جواب نہیں۔ آنکھوں کے درد کی جن کیفیات سے ہیرو گزرہا تھا انہوں نے لفظوں کے چناؤ اورجملوں کی بنت سے ہم سامعین تک یوں منتقل کیا جب وہ حصہ ختم ہوا تو سب کو لگا کہ ہماری آنکھوں کا دردتھم گیا ہو۔ کہانی دو کردواروں کے گرد گھومتی تھی ’موذی‘ جو سرجن تھا اور ’نافی‘ جو بیگم تھی اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی خاطراس سرجن کا کسی ناپسندیدہ شخص کے ہسپتال میں اپنی خدمات سر انجام دینا اور اس پیسے کی دوڑ میں زندگی سے محبت کا بے معنی ہو جانا۔ انجامِ کار اس کا اس زندگی سے سمجھوتہ کر لینا۔افسانہ ختم ہواتو اس پر دعوتِ گفتگو دی گئی جس کاپھر آغاز علی محمد فرشی نے کیا اور تفصیل سے اس افسانے کے تمام پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ لیا ۔ میرا کہا سچ نکلا آج تنقیدکامیدان علی محمد فرشی نے مار لیا۔اس کے بعد حسن عباس رضا،مسعود مفتی،نجیبہ عارف،نیلوفر اقبال، مسعود مفتی، ڈاکٹر نوازش علی اور صدارتی گفتگو جلیل عالی صاحب نے کی۔ مجموعی طور پر سب نے افسانے کو اچھا افسانہ قرار دیا اور ظاہر ہے کہ حمید شاہد جو اب تک آدھے ’’بابائے افسانہ‘‘ بن چکے ہیں ان کے لکھے ہوئے افسانے میں بیشی تو نظر آ سکتی ہے کمی نہیں۔ شاعری کے حصے کو حسن عباس رضانے اپنی ایک تازہ غزل پیش کر کے داد سمیٹ کر کیا پھر رُخ نجیبہ عارف کی طرف پھر گیا اور ان کی شاعری سنی گئی۔ آخرمیں جلیل عالی صاحب سے ان کی تازہ نظم سنی گئی جس میں ’’شاعری سے ملاقات ہوتی نہیں‘‘ نے میلہ لوٹ لیا۔
’’عکسی صاحب ھنڑ تسی اپنڑاآئیٹم پیش کرو‘‘ عالی صاحب کی آواز پر سب ہنس دیے۔ عکسی اور سحری اٹھ کر ڈائیننگ روم کو چل دیے۔ میں پھر سے کیمرہ ورک کرنے لگ گئی۔ اسی دوران خبر آئی کہ کھانے میں کچھ دیر ہے یہ سنتے ہی سب نے حسن عباس رضا کو گھیر لیا کہ وہ حسبِ حُلیہ کچھ سنائیں اور میں نے سوچا کہیں خدا نخواستہ یہ ’’مائے نی‘‘ نہ گا دیں اور وہی ہوا۔ حسن عباس نے اس بھوک کے عالم میں دعوتِ شیراز
سے پہلے’’دکھاں دی روٹی کرماں دا سالن‘‘ کھلا کر چھوڑا لیکن چونکہ گائیکی سریلی تھی سو اس نے ایپی ٹائیزر کا کام کیا۔ پھرعکسی مفتی سین میں نمودار ہوئے اور کہا کہ سب لوگ کھانے کے لیے آ جائیں۔ میں ڈائیننگ روم کی طرف بڑھی تو راستے میں مسعود مفتی کو ایک طرف کھڑے پایا۔ ’’سر آپ کھانا نہیں کھا رہے؟ میں نے پوچھا۔ ’’جی ضرور کھاؤں گا لیکن چاہتا ہوں پہلے خواتین کھانا لے آئیں پھر ہم مرد حضرات جائیں گے‘‘ میں بہت متاثر ہوئی،کمرے میں پہنچی تو معاملہ الٹ تھا۔حضرات خواتین پر سبقت لے جا رہے تھے پلیٹیں بھرنے میں۔ درمیان میں بڑے سے میز پر انواع و اقسام کے کھانے، سائیڈ ٹیبلز پر چٹنیاں اور اچار اور دوسری طرف سوئیٹ ڈش اور کولڈ ڈرنکس۔ عکسی مفتی کے سلیقے کی داد نہ دینا زیادتی تھی۔ ۔ عکسی مفتی بھی اندر سے زبیدہ آپا ہیں اور کئی اچاروں اور چٹنیوں کی اپنی دیسی ریسیپیرکھتے ہیں جو ہر بار کھانوں پر سبقت لے جاتی ہیں لیکن آپ عکسی مفتی سے کوئی بھی راز اگلوا سکتے ہیں لیکن چٹنیوں کی ترکیب۔۔۔ہر گز ہر گز نہیں۔
میں نے اب فورم پر اپنا مجاہدہ و مشاہدہ بند کر دیا کیونکہ کھانا مجھے بھی کھانا تھا اور بعدمیں فریدہ سے لفٹ لے کرگھربھی جانا تھا۔


1458429_10207932614534211_2311107404459102374_n
عکسی مفتی کے سلیقے کی داد نہ دینا زیادتی تھی۔ ۔ عکسی مفتی بھی اندر سے زبیدہ آپا ہیں اور کئی اچاروں اور چٹنیوں کی اپنی دیسی ریسیپی رکھتے ہیں جو ہر بار کھانوں پر سبقت لے جاتی ہیں لیکن آپ عکسی مفتی سے کوئی بھی راز اگلوا سکتے ہیں لیکن چٹنیوں کی ترکیب۔۔۔ہر گز ہر گز نہیں۔
10487286_10207932611734141_539421966913988712_n
عائشہ مسعود نے کہا کہ عابدہ کامضمون بہت اچھا ہے۔ جب مجھے یہ کتاب ملی تو میں نے بھی اس پر ایک مضمون لکھ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رکیں تو اس دوران فورم کے سب ممبران نے ان کی طرف امید افزا نظروں سے دیکھا اور میں نے سوچا کہ چلو آج کی محفل میں دو خواتین کی جانب سے دو مضامین پڑھے جائیں وہ بھی ایک خاتون کی کتاب پر تو یہ تو صاف صاف ’’تین عورتیں تین کہانیاں‘‘ جیسا پر لطف سیشن ہو گا۔’چھوٹے سے وقفے کے بعد عائشہ بولیں ’’ لکھنا شروع کیالیکن پھر میں نے نجیبہ کی کتاب ایک نظم کی اشاعت کے لئے نوائے وقت کے پرنٹنگ سیکشن میں بھیج دی اور آج تک وہ مجھے ملی ہی نہیں تو مضمون پورا نہیں ہو سکا۔ اب میں نجیبہ سے دوسری کتاب کی درخواست کرتی ہوں‘‘ اس انجام پر سب کھلکھلا کر ہنس دیے اور نجیبہ نے دوسری کتاب دینے کا وعدہ کر لیا۔
12369173_10207932613934196_3627153364125997267_n
علی محمد فرشی نے نجیبہ کی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے میرے مضمون کے مختلف حصوں پر بھی بات کی۔ ان کے بعد محمد حمید شاہد، عائشہ مسعود، فریدہ حفیظ، نیلوفر اقبال،بینا حسن، حسن عباس رضا، عکسی مفتی، مسعود مفتی اور جلیل عالی نے مضمون کی روشنی میں بھی اور اس سے باہر بھی نجیبہ کی کتاب ’’معانی سے زیادہ‘‘ اوران کی شاعری پر بہت حوصلہ افزا اور سیر حاصل گفتگو کی۔
12392061_10207932610014098_7314894418417912078_n
صاحبِ صدارت جلیل عالی صاحب نے کہا ’’ خواتین و حضرات عابدہ تقی کامضمون ہے اور حمید شاہد کا افسانہ۔ پہلے عابدہ تقی سے نجیبہ کے شعری مجموعے ’’معانی سے زیادہ‘‘ پر مضمون سنتے ہیں‘‘۔ نجیبہ عارف نے ھیٹر کو پشت دکھاتے ہوئے بہت توجہ سے اچھا مضمون سننے کی امید بھری نظروں سے مجھے دیکھا میں نے مضمون کی طرف دیکھنے کی بجائے کمرے میں بیٹھے نقد و نظر کے سارے چیمپئینز کی طرف دیکھ کر اپنی کوتاہ قامتی کودیکھا اور کہا کہ اسے اپنے معیار پر نہ سنیں تو عالی صاحب بولے ’’ عابدہ کا مطلب ہے اپنا معیار بلند کر کے سنیں‘‘ جس پر سب مسکرا دیے اور میں نے اللہ کا نام لے کر سب ادبی بابوں اور نقد و نظر کے سقراطوں کے سامنے لب کشائی کر ڈالی۔ مضمون ختم ہوا تو خلافِ توقع سامعین نے بے ساختہ اور یک زبان اسے’’بہت اچھا‘‘ کہا تو میں نے اطمینان کا سانس لیا۔
12391990_10207932612294155_5974759075973761768_n
میری نگاہیں یاسمین بھابی کی طرف مڑ گئیں کہ ابھی پرس سے یا کسی سنبھالی ہوئی فائل سے افسانہ کھول کر حمید شاہد کے سامنے رکھیں گی۔ عام طور پر ان کی ایسی خدمات ان کی بیگم یاسمین انجام دیتی ہیں۔ کچھ لکھنا چاہیں تو قلم پرس سے نکال ڈھکن کھول کر انہیں پکڑانا، ذرا سا ان کے کھنگارنے پر پانی کے جگ کی طرف لپکنا اور الہ دین کے جن کی طرح ان کا کھنگورا پورا ہونے سے قبل پانی پیش کرنا اور اس پر زور دے کر کہنا ’’حمید جی پہلے پانی پی لیں‘‘۔ ان کے کھانے کی پلیٹ میں کھنا نکال کر دینا اور پھر بار بار دیکھنا کہ ان کے ’’حمید جی‘‘ نے کوئی مزیدار کھانامس تو نہیں کر دیا ہے۔
12391095_10207932620774367_7435694711200280171_n
عائشہ اوران کی بیٹی بیاؔ آ گئیں اور ان کے آنے سے عکسی کو یقین ہو گیا کہ مہمانان واقعی آ رہے ہیں انہیں تیار ہو جانا چاہیے۔ عکسی کے غائب ہوتے ہی ایک ایک کر کے سب اکٹھے ہونا شروع ہو گئے۔ فریدہ اور بیٹی بشریٰ کی اینٹری کے ساتھ ہی مزید احباب بھی آنا شروع ہو گئے۔
12359913_1006168422739310_8859217622285136039_n
علی محمد فرشی گرے سوٹ بوٹ میں خاصے چمک رہے تھے اور چہرے کے آثار اورآنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ آج تنقید کامیدان وہ جیتنے والے ہیں۔ اب پانچوں اطراف میں کب کے بچھڑے ہوئے یہاں آ کر ایک دوسرے سے ملنے کے لئے ڈراینگ روم کے صوفے، کرسیاں اور فرشی کشنز پھلانگنے لگے۔ عید کا سا سماں بن گیا اور عکسی مفتی درمیان میں نہایت مقبول اور پسندیدہ میزبان کی حیثیت سے ادھر ادھر پکارے جانے لگے۔ حمید شاہد دوسرے اہم ممبر تھے جو الحمرا کانفرنس میں اردو افسانہ کی صورت و معانیٰ کو خوبصورت منوا کر آئے تھے اور آج انہوں نے ہی افسانہ پیش بھی کرنا تھا۔ لیکن انہیں عارف کی بھٹو اسٹائل کیپ پسند آ گئی اور انہوں نے اس کی شان میں کچھ تعریفی کلمات کہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

فاروق سرور|شاندار ماڈرن ادیب محمد حمید شاہد چاہتے کیا ہیں؟

ادب سیر فاروق سرور قصہ ایک افسانہ نگار اور ان کی افسانوی دنیا کا میکسم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *