M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|کچھ نئی نظم کے باب میں

محمد حمید شاہد|کچھ نئی نظم کے باب میں

 روزنامہ جنگ کراچی (بدھ 16 ستمبر )2015 سے بہ سہولت مطالعہ کے لیے

http://magazine.jang.com.pk

16-9-15 (1)

کچھ نئی نظم کے باب میں|محمد حمید شاہد

نئی نظم کے بارے میں ادبی ای گروپ ’’حاشیہ ‘‘ میں چل نکلنے والی گفتگو کے دوران جب نئی نظم کے جواز کو اپنی ادبی اور لسانی تہذیبی روایت سے کاٹ کر دیکھا جا رہا تھا، بالکل الگ سے اور کہیں اور جوڑ کر ، تو میں اُکتا کر اور جھنجھناتے سینے کے ساتھ اس سوال سے گتھم گتھا ہو رہا تھا کہ کیا ایک تخلیق کار /تجزیہ کار اِس طرح درست درست نتائج اخذ کر پائے گا ۔ شاید ابھی تک ناحق ہم یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ کوئی بھی تخلیقی تجربہ آناً فاناً کسی تخلیق کار کے ذہن /قلب پر اترتا ہے اور وہ اپنی روایت سے کٹ کر اسے کامیابی سے ہم کنار بھی کر لیا کرتا ہے ۔ میں اپنی دہی باتیں جو کچھ عرصہ پہلے اس باب میں یہاں وہاں کر چکا ہوں ایک بار پھردہر ا دینا چاہتا ہوں ۔ یہی کہ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اردو میں غزل کی بہ جائے نظم کی روایت زیادہ قدیم اور زیادہ با معنی نکلی ۔ دہلی اور اس کے نواح میں بارہویں صدی کے اواخر میں پیدا ہونے والی اُردو دکن کے علاقے میں پہنچی تو خوب پھلی پھولی تھی۔ تلنگی کنٹری اور مراٹھی کے اثرات قبول کرنے والی زبان نے اس علاقے کے صوفیا کے رنگ سے بھی اپنی چنری کو رنگا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں ہماری غزل نے آنکھ کھولی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں غزل کی آمد سے پہلے ہی نظم موجود تھی اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شاعری درس و تدریس کا بہتر ذریعہ سمجھی جاتی تھی جس کے لیے نظم کی صنف موزوں ترین تھی۔ مکمل بات،با معنی اور پُر اثر۔ لہذا مذاہب کی خوب خوب تبلیغ ہو رہی تھی اور نظم یہ فریضہ بہ خوبی سر انجام دے رہی تھی۔

خواجہ بندہ نواز گیسو دراز، نظامی اور آذری نے جس شاعری کو تصوف کی گھٹی پلائی تھی وہ سترہویں صدی عیسوی تک آتے آتے عشق مجازی میں انہماک کے سبب شراب کا پیالہ ہو گئی، غٹا غٹ پی لو، مست ہو جاؤ اور ارد گرد کا سارا منظر نامہ بھلا ڈالو۔عصر سے کٹ کر شاعری کن منزلوں کو چھو سکتی تھی؟لہذا وہ وقت کے دھارے سے بھی پیچھے پیچھے رہنے لگی۔ اچھا پھر یوں ہوا کہ غزل کی طرح اُردو نظم بھی فارسی نظم کی مقلد محض ہو کر رہ گئی ۔ فارسی سے تراجم ہوئے اور اُردو نظم کے طور پر ہو بہ ہو مقبول ہوئے۔ مانا کہ نظم داستان سے قربت کے باعث خارج کے نظارے میں منہمک ہو گئی تھی۔ جن دنوں اُردو اَدب نے دِلی کو رُخ کیا ادھر ادھر غزل کی چہل پہل تھی غدر کا زمانہ آ لگا تھا اور ہاں مانتا ہوں کہ عین غدر میں بھی نظم اوندھی پڑی رہی۔ جو کسی نے ٹہوکا دیا تو انگڑائی لی، باہر کا نظارہ کیا، جگانے والے کے لیے کوئی رخ روشن نظر آیا تو بلائیں لیں، امید بندھی تو مدح کی اللہ اللہ خیر صلا۔ مذہبی جذبات کا اظہار کرنا ہو یا حصول رزق کے لیے کسی چوکھٹ پر حاضری یا پھر کوئی قصہ کہنا ہو نظم کہہ لی جاتی تھی، غزل لطیف جذبوں کی زبان تھی، سو کافی تھی۔ لہذا غزل کے امکانات وسیع ہوتے چلے گئے۔ حتّی کہ غزل بھی اپنے امکانات کی انتہا کو پہنچی؛ وہاں، جہاں آگے تنگنائے کا سفر درپیش تھا۔ عین ایسے میں نظیر اکبر آبادی کا غنیمت وجود منظر نامے میں داخل ہوتا ہے اور نظم جھر جھری لے کر بیدار ہو جاتی ہے۔

کچھ اور بھی نام ہیں جن کا ذِکر نظیر سے پہلے ہونا چاہیے۔’’ سحرالبیان‘‘ والے میر حسن، ’’گلزار نسیم‘‘ والے پنڈت دیا شنکر نسیم،’’ قول غمیں‘‘ اور’’ زہر عشق‘‘ والے مومن اور مزرا شوق دہلوی۔ واللہ کیا خوب مثنویاں لکھی گئیں، پڑھیں تو لطف آتا ہے۔ پھر اِس باب میں مصحفی، جرات، ذوق، غالب اور داغ کو کون ظالم دَر گزر کر پائے گا۔ مگر میں نے فورا نظیر اکبر آبادی کا نام یوں لے لیا کہ غزل، مثنوی، واسوخت، قصیدہ، ہجو، رباعیات، قطعات اور مرثیہ کے اس عہد میں نظم نے اپنی الگ سے چھب اسی کے ہاں دکھائی تھی۔ نظیر کے قدم زمین پر سختی سے جمے ہوئے تھے یہی اُسے تخلیقی توانائی بہم کرتی تھی۔ اس نے روایت سے بہت کچھ قبول کیا، شعری روایت سے بھی اور زمین سے وابستہ اصل تہذیبی روایت سے بھی۔ پھر ان دونوں دھاروں کو عین قلب میں مل جانے دیا، تخلیقی وجود میں تحلیل کر لیا اور نظم پر نیا آسمان روشن کر دیا۔

وہ شوخ رنگیلا جب آیا یاں ہولی کی کر تیاری
پوشاک سنہری زیب بدن اور ہاتھ چمکتی پچکاری
کی رنگ چھڑکنے سے کیا کیا اس شوخ نے ہر دم عیاری
ہم نے بھی نظیر اس چنچل کو پھر خوب بھگویا ہر باری
پھر کیا کیا رنگ بہے اس دم کچھ ڈھلک ڈھلک کچھ چپک چپک

حالی تک آتے آتے نئی نظم اپنی شکل وشباہت نمایاں کرتی جا رہی تھی۔ جب حالی دلی میں تھے تو غالب کے خوشہ چین رہے۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد وہ نواب مصطفی خان شیفتہ کے قریب ہو گے۔ شیفتہ کا اردو فارسی کا اعلی درجے کا ذوق تھا۔ غالب اور شیفتہ سے حالی نے بہت کچھ قبول کیا۔ پھر جب پنجاب ڈپو گورنمنٹ لاہور میں ملازمت کی تو انگریزی ادب سے ربط ضبط بڑھا۔ ہوا یوں کہ حالی کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ شدہ عبارتوں کو دیکھنا ہوتا تھا۔ ادھر تحریریں درست ہوتی رہتیں، اُدھر اپنے ہاں کے شعری روّیوں کا دساوری شعر و ادب سے موازنہ مقابلہ ہوتا رہتا ۔ اُنہی دنوں کرنل ہالرائڈ کے ایما پرحالی نے ایسے مشاعروں کا اہتمام بھی کیا تھا جس میں طرح مصرع کی بہ جائے موضوع دیا جاتا۔ سر سید نے حالی کو انگیخت کیا اور مدّوجزرِ اِسلام لکھوائی۔ یہ وہ سارے عوامل تھے جنہوں نے حالی کے وجود کو نظم کے لئے مسعود بنا دیا تھا۔ نئے سماجی شعور اور گہرے طرز احساس کو نظم گرفت میں لینے کے قابل ہو رہی تھی۔ حالی نے غزل کے شیوے بھی بدلنے کی کوشش کی اور وہ وہ تدبیریں بتائیں جو کچھ تو اس کے دامن کو وسیع کر گئیں اور کچھ کے بے پناہ بوجھ کے سبب بادامی غزل کی آنکھوں کے ڈھیلے پھر گئے۔ تاہم نظم کے لئے یہ سب اچھا یوں ہوا کہ اس کی راہ کے کانٹے بڑی حد تک صاف ہو گئے تھے ۔ حالی کے علاوہ محمد حسین آزاد اور اسماعیل میرٹھی جیسے قادرالکلام شاعروں نے بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ فی الاصل حالی ہی کی کوششیں ایسی تھیں جو نئی نظم کی ترویج کے حوالے سے یاد رکھے جانے کے قابل ہیں۔

نئی نظم کا اگلا پڑا اقبال کے ہاں ہوتا ہے۔ نظم اِس منزل پر بہت کچھ اخذ کرتی ہے، اس کے اندر تحرک آتا ہے، وسعت آتی ہے اس میں معنی کا اسراع بڑھتا ہے، اس میں وقت پھیل کر سارے زمانوں پر حاوی ہوجاتا ہے، زمین ایک منور فکر کے تابع ہو جاتی ہے۔ مرعوبیت کی دھند ذہنوں سے چھٹنے لگتی ہے اور وہ جست لگا کر نئی منزلوں کی سمت بڑھنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ جامد کلاسیکی غزل کی روایت کے رسیا شاعروں کو اقبال سے یہ شکوہ ہے کہ اقبال کے اس انقلابی رویے کے سبب غزل کے گلے میں گھنگرو بولنے لگا تھا۔ غزل نظم کے قریب ہو گئی تو اس کی ریزہ خیالی میں جو حسن تھا وہ ریزہ ریزہ ہونے لگا۔کچھ ایسا ہی شکوہ غزل والوں کو حالی سے بھی تھا۔ بلاشبہ غزل کا داخلی بکھراؤ اس کا طرہ امتیاز سہی مگر اس بکھراؤ کو کسی نہ کسی سطح پر ایک نامیاتی وحدت میں جڑنا/ڈھلنا چاہیے۔ سچ تو یہ ہے کہ حالی اور اقبال کے وسیلے سے اردو ادب کی آنکھوں پر چڑھی چربی پگھلی اور وہ اِدھر ادھر دیکھنے کے لائق ہو گئی ۔ یوں عصری حسیت سے نہ صرف اس کا دامن بھرنے لگا یہ زندگی کی اصل حقیقتوں کو جاننے کی بھی متمنی ہو گئی۔ جب سینے تمناؤں سے بھر جائیں تو قدم خود بخود متحرک ہو جایا کرتے ہیں۔وہ نظم جس کے ذریعے بہ قول وزیر آغا شعر نے آسمان سے اُتر کر زمین کی باس سونگھنے کی طرف توجہ کی تھی اور اس پر تخیل محض کے بجائے تحلیل اور تجزیے کی روش روشن ہوئی تھی ۔ اقبال کی یہ دین ہے کہ ادب میں مضمحل کلاسیکیت اور ماضی کے مریضانہ رومان کا سحر ٹوٹ گیا تھا اور نظم نے اس بدلے ہوئے ماحول سے بہت کچھ حاصل کیا۔

اِقبال کے بعد جی چاہتا ہے ،میں فوراً آپ کو ن م راشد اور میرا جی کی طرف لے چلوں کہ اِدھر اُدھر دیکھا تو اُلجھنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ کیا تصدق حسین خالد کو چھوڑ دیں جنہیں آزاد نظم کی ہیئت سازی میں ن۔م۔راشد اور میرا جی پر بھی فوقیت حاصل ہے۔ تو کیا ترقی پسند تحریک کا ذکر نہ ہو۔ جوش ملیح آبادی کہاں جائیں گے اور وہ جو فیض تھے کیا اُن کا ذکر بھی نہ ہو گا۔ اُلجھنے سے جتنا بچنا چاہتا تھا؛ اُتنا ہی اُلجھے جاتا ہوں تو کیوں نہ ایک دوباتیں ترقی پسندوں کی ہو جائیں ۔ اِسی میں علی سردار جعفری، مخدوم محی الدین، اسرار الحق مجاز اور کیفی اعظمی کا قصہ بھی شامل سمجھیں کہ یہی ترقی پسندی کا اصل منشور پیش کرنے والے تھے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ترقی پسندوں کا سب سے معروف وسیلہ نظم ہی تھا۔ یہ شکوہ اپنی جگہ بجا کہ درآمدی دانش نے تہذیبی سطح پر خوب اکھاڑ پچھاڑ کی، اپنی اصل سے اکھاڑا۔ اپنی مٹی کی باس کو سانسوں کا حصہ بننے سے روکا اور نعرے کے زور پر اس جانب گامزن کرنے کی سعی کی؛ جہاں اپناکچھ بھی نہ تھا۔ اس شکوے کے باوجودترقی پسندوں کی یہ عطا تسلیم کی جانی چاہیے کہ نظم بلند آہنگ ہو کر بھی ایک سطح پر عام آدمی کے دُکھوں سے ، چاہے خارجی سطح پر ہی سہی، جڑتی ضرور تھی تاہم صرف فیض کی شاعری ہی نے پوری انجمن کا فرض کفایہ ادا کیا ۔
ایک وقت تھا ؛پطرس بخاری اِس مخمصے سے نکلتے نہ تھے کہ دیکھیں جدید شاعری کی شمع راشد کے سامنے رکھی جاتی ہے یا فیض کے اور اَب یہ عالم ہے کہ میں اَپنے طور پر مطمئن ہوں کہ شمع تو راشد کے سامنے تب ہی رکھی جا چکی تھی جب پطرس مخمصے میں تھے۔ اور خود فیض اختر شیرانی سے اخذ کردہ رُومان کو درآمدی اِنقلابی نعرے کا حصہ بنانے میں جتے ہوئے تھے۔’’ سحر‘‘،’’ رات‘‘، ’’ظلمت‘‘،’’ سویرا‘‘،’’ شفق‘‘،’’ پرچم‘‘،’’ مہتاب‘‘،’’ ستارے‘‘،’’ نور‘‘،’’ سیاہی‘‘،’’ نہر خون‘‘، ’’جنون‘‘،’’ قاتل‘‘،’’ مقتل‘‘،’’ منصف‘‘،’’ مسیحا‘‘،’’ شیشہ و جام‘‘،’’ قفس‘‘،’’ زنداں‘‘ جیسے استعاروں کے ذریعے کبھی اپنے محبوب کے سامنے’’ نقش فریادی‘‘ ہوتے تھے اور کبھی’’ زنداں نامہ‘‘ لکھتے تھے۔
اِس سے پہلے کہ حمید نسیم نے جن پانچ شاعروں کو جدید کہا ،اُن کی بابت بات کروں آپ کی توجہ جوش کے تصورِ اِنقلاب اور بلند آہنگی سے تشکیل پاتی نظم کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو اُن کا اختصاص بھی بنتا ہے اور انہدام کا باعث بھی۔ تاہم جوش کے اثرات کے چھینٹے اِدھر اُدھر بھی پڑتے رہے اور ہاں مجاز کو بھی ذہن میں رکھیئے کہ جن کی نظم بھی رومان اور انقلاب سے ترکیب پاتی رہی۔ اور اب ان پانچ شاعروں کا تذکرہ جنہیں حمید نسیم نے جدید قرار دیا اور ایک پوری کتاب اس باب میں لکھ ڈالی۔ اِن جدید شاعروں میں فیض کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ فیض اِنسانی روابط کے شاعر تھے اور ایسا کہنے سے پہلے اُنہوں نے دید اور شنید سے بات شروع کر کے جنس اور بلوغت کے جذبوں تک پہنچائی تھی اور ہمیں Sex basedشاعری سے اعلی درجے کی شاعری الگ کر کے کچھ اس طرح سمجھانے کے جتن کیے تھے کہ اس کام میں لگ بھگ اُن کے باریک حروف میں طبع شدہ سات آٹھ صفحات صرف ہو گئے ۔ یقیناوہ فیض کے ہاں پائی جانے والی دو آوازوں کو ایک کر کے دکھانے کے جتن کر رہے تھے اور جتنی وہ کوشش کرتے ،اُتنی ہی وہ اَلگ اَلگ سنائی دینے لگتی تھیں ۔ تاہم اِن دو آوازوں کو اگر مسئلہ نہ سمجھا جائے تو فیض کا یہ کمال بنتا ہے کہ دُکھ سہتے ہوئے بھی عالمِ نشاط کا سا نشہ چھایا رہتا ہے۔ عجب جادُو ہے کہ دِل پر دَستِ صبا سے دستک دیتا ہے؛ ایسی دستک کہ معنی پیچھے رہ جاتے ہیں اور اس کی جمالیاتی کشش اور لطف کہیں اور لے چلتا ہے۔ کچھ غم دوراں، کچھ غم جاناں کے اس مزاج کو احمد فراز نے اپنی غزل میں برتا یا پھر امجد اسلام امجد جیسے نظم گو نے جن کا لحن غزل اور نظم میں ایک سا رہتا ہے۔

میں نے اوپر حمید نسیم کی کتاب کاحوالہ دیا مگر فیض کے علاوہ وہ جدید شاعر جو اُنہوں نے شناخت کئے تھے اُن میں دو نام تو وہ ہیں جن کا ذکر میں نظم کے باب میں اقبال کے فوراً بعد کرنا چاہتا تھا؛جی، راشد اور میرا جی۔۔۔ باقی دو ضیا جالندھری اور عزیز حامد مدنی ہیں؛ لیکن میں اختصاص اور اصرار کے ساتھ راشد اور میرا جی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور اس میں مجید امجد کانام بھی ٹانکنا چاہتا ہوں تو اس لئے کہ فی الاصل یہی لوگ نئی نظم کو شناخت عطا کرنے والے ہیں۔ انہی کے سبب نہ صرف نئی ڈکشن متعارف ہوئی، فکر واحساس کے نئے نئے علاقے بھی نظم کے باطن پرکُھلتے چلے گئے۔

ن م راشد نے اپنی بے پناہ تخلیقی توفیق کے سبب جلد مقبول ہونے والے اسلوب کے بجائے ایک نئے راستے پر قدم بڑھائے تھے۔ راستہ کٹھن تھا جس استحصالی طبقے کو وہ رد کر رہا تھا اس کی جڑیں بہت گہری تھیں۔ جس معنیاتی دنیا سے وہ کلام کرنا چاہتا تھا اس کے لئے نئی لغت درکار تھی۔ نئے اسلوب کے لئے راہ ہموار کرنا تھی اور نئی فکر و احساس کے اجالے کے لئے منجمد تاریکی کو کاٹنا تھا۔ اسے جس معاشرتی گھٹن کا احساس شدّت سے تھا اور جن اِخلاقی قدروں کو وہ جھوٹا سمجھ رہا تھا وہ بڑا حوصلہ مانگتی تھیں۔ یہ حوصلہ راشد میں تھا۔ اس کے باوجود کہ میں راشد کے طرزِ اِحساس میں کئی رَخنے پاتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اُسے بہت سے مقامات پر صورت حال کی درست نشاندہی میں بہت ٹھوکریں لگیں لیکن تسلیم کرتا ہوں کہ وہ اَپنے طرزِ اِحساس کے لئے سچا تھا اور فکر کے ساتھ بہت سختی سے وابستہ تھا۔ وہ اصرار سے کہتا تھا کہ خواہ ماضی کسی بھی رنگ میں نمودار ہو، اس سے اُسے کوئی دلچسپی نہیں کیوں کہ اُس کے لئے گذشتہ ہزاروں سالوں کی بہ جائے اصل مسئلہ آئندہ ہزاروں سالوں کا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ ماضی کے اندر یا ماضی کے جمع کیے ہوئے تجربات کے اندر آئندہ مسائل کی کلید موجود نہیں تھی اور یہ کہ اس گریز پا حال میں ماضی کا کوئی تجربہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ماضی پرستوں کو وہ سہل انگاری کے طعنے دیتا تو اُس کے لہجے سے صاف محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس پر ایمان بھی رکھتا تھا۔ لیکن پر لطف تضاد ملاحظہ ہو کہ جس ماضی سے راشد دامن چھڑانا چاہتا تھا وہ اس کے تخلیقی وجود کا حصہ بن گیا تھا۔ جس ماضی کی وہ نفی کر رہا تھا وہ اس کے ہاں توانائی کا مظہر تھا۔ مغرب کی تیز رفتار زندگی سے وہ روشنی پاتا تھا اور اپنے ہاں کی سست رَوی اُسے کھٹکتی تھی ۔یہ وہی سست روی تھی جس کی بابت ساقی فاروقی کا کہنا تھا کہ اس کے بھی کوئی معنی بنتے ہیں۔ یہی معنی راشد کی نظم سے چھلک چھلک پڑتے تھے۔ اپنے تہذیبی ماضی سے بھلا کوئی کیسے کٹ سکتا ہے؟ راشد بھی جدا نہ ہو سکا اور یہ اس کی ناکامی نہیں اس کی نظم کی کامیابی بنتی ہے۔ جو اس کی شاعری کو ایک عجیب سی تازگی بھی عطا کرتی ہے۔

نئی نظم کا ذکر چھڑے تو ن م راشد اور میرا جی کا نام ایک ساتھ آتا ہے۔ دونوں کے ہاں جنس کی تندی موجود ہے۔ دونوں نے آزاد نظم کو اعتبار بخشا، تاہم دونوں کی تخلیقی کائنات الگ الگ محور پر گھوم رہی تھی۔ راشد میراجی کے فن کا معترف تھا لہذا ہمیشہ میرا جی کو اپنے زمانے کا قابل ذکر شاعر قرار دیا۔ اسے سب سے زیادہ جدت پرست کہا، سب سے زیادہ زرخیز ذہن کا مالک، سب سے منفرد اور یہ بھی کہ سب سے زیادہ بدنام۔ میرا جی کی بدنامی کا سبب بھی وہی جنس ہے جس کا تذکرہ راشد کے ہاں تواتر سے آتا ہے اور ایک نئے معنی دینے کے باوجود فوری ترسیل سے قاصر رہتا ہے۔ متعدد بار راشد نے میرا جی اور اپنے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے اصرار کیا تھا کہ یہ کوئی مریضانہ رویہ نہیں تھا، وہ دونوں انسانی جسم کو محض چشم و گوش سمجھتے تھے اور نہ ہمہ تن دِل۔
میرا جی کے ہاں راشد کے مقابلے میں فکری لپک کم سہی مگر داخلی سوزو گداز کہیں زیادہ تھا۔ ناقدین نے اِس کا سلسلہ میرا جی کی اپنی محرومیوں سے جوڑا ہے اور کسی حد تک یہ بات درست بھی معلوم ہوتی ہے ۔ تاہم مجھے کہنے دیجئے کہ میرا جی راشد کی طرح ماضی سے بگڑا ہوا نہیں تھا۔ لہذا ماضی کی زندہ روایات سے جڑنے کو عیب نہ گردانتا تھا۔ وہ تسلیم کرتا تھا کہ تاریخ اور نسلی یادیں مل کر گزرے ہوئے زمانے کو بھی اپنا تجربہ بنا دیا کرتی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ آدمی کا شعور ماضی، حال اور مستقبل سے مل کر متشکل ہوتا ہے۔

مجید امجد کو ذرا دیر بعدمانا گیا تاہم مان ہی لیا گیا اور درست مانا گیا کہ اس نے انسان کی حسی اور لاشعوری زندگی کو نظم میں سمو کر اسے عجب طرح کی ندرت سے ہمکنار کیا تھا۔ مجید امجد کے ہاں وقت زندہ بدن میں دل کی طرح دھڑکتا ہے۔ جہاں مجید امجد کی نظم ہے وہاں سے ماضی بھی جھلک دے جاتا ہے اور مستقبل کا چہرہ بھی درخشاں رہتا ہے۔ کہنہ وقت کی بوڑھی کبڑی دیواروں کے پاؤں چاٹتی گلیاں ہوں یا گزرے دنوں کے ملبے تلے ٹوٹتے فرش اور اُکھڑتی اینٹیں، اشکوں سے معمور شامیں ہوں یا پھر چلمنوں سے پرے کا منظر جو نظر نہیں آتا مگر نظر میں رہتا ہے؛ یہ سب مجید امجد کی نظم کا حصہ ہو گیا ہے۔
اب رہ گئی یہ بات کہ میرا جی اور راشد کا مغربی اثرات کے تحت پابند نظم کو آزاد نظم میں ڈھالنے والا کارنامہ؛ میں اسے بھی اپنے ہاں کی شعری اور تخلیقی ضرورت سے الگ کرکے نہیں دیکھ پاتا۔’’ ماورا‘‘ کے دیباچہ میں راشد نے کہا تھا کہ ’ ایک قوم کے ذہنی رجحانات دوسری قوموں کے ذہنی رجحانات سے مختلف ہوتے ہیں‘ تو اس کے بھی کچھ معنی بنتے ہیں اور جب اِس میں اُس نے یہ اضافہ کیا’’ بلکہ ایک ہی قوم مختلف زمانوں میں مختلف قسم کے ادبی مظاہرات پیش کرتی ہے‘‘ تو ایسے میں کیا اُسی قوم کے ذہنی رجحانات کے اندردَر آنے والی تبدیلیوں کے مطابق نئی نظم کو نہ دیکھا جائے؟ آخر کیوں نہ دیکھا جائے؟ خود راشد بھی جس شخص کو طرز احساس میں تبدیلی کے حوالے سے دیکھتے ہیں؛ وہ حالی تھا ۔ راشد نے حالی کو رسوم و قیود کا پہلا باغی قرار دیا تھا۔

یہیں راشد کی یہ بات دہرائے جانے کے لائق ہے کہ
قدیم اسالیب کا ادنی باغی ہونے کے باوجود میرے نزدیک یہ اعتراض قابل پذیرائی نہیں کہ بحروں کی پابندی شاعر کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے کیوں کہ بحوراور قوافی تواس تناسب اصوات کے محض معاون ہیں جو کسی اعلی شاعر کی روح میں قدرتاً موجود ہوتا ہے
تو یوں ہے کہ بہ قول راشد آزاد شاعری فقط قافیہ ردیف کی آزادی تھی نہ مصرعوں میں کمی بیشی کا نام ، اس کے ذریعے ایک تخلیقی جوہر کی طرف لپکنا اہم ہو گیا تھا اور راشد ہی کے مطابق اجتہاد کا جواز وہ خیالات اور افکار ہی مہیا کرتے ہیں جن کی خاطر نیا راستہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ نظیر اکبر آبادی ہو یا حالی اور اقبال اور پھر راشد اور میرا جی یا بعد میں نظم کو ایک باوقار تخلیقی صنف بنانے والے نظم گو، میرے لیے صرف تب اہم ہو جاتے ہیں کہ جب وہ نظم کو محض اوپر کی ساخت پر جمالیاتی بنانے میں نہیں جُتّے رہتے ،اِن معنوں میں تخلیقی بھی ہوتے ہیں کہ نظم کا خارج اور داخل دانش کی سطح پر بامعنی اور باثروت بھی ہو رہا ہو۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *