M. Hameed Shahid
Home / کتابیں / تخلیق ،تنقید اور نئے تصورات

تخلیق ،تنقید اور نئے تصورات

FB_IMG_1437053330462

 

تخلیق، تنقید اور نئے تصورات
(شمس الرحمن فاروقی کے منتخب تنقیدی مضامین)
انتخاب ،ترتیب ، مقدمہ: محمد حمید شاہد
۲۰۱۱ ،پُورب اکادمی ، اسلام آباد

اس کی ترتیب اور مضامین کا انتخاب محمد حمید شاہد نے فاروقی کے مشورہ سے کیا۔ ۱۰ صفحات کا ابتدائیہ حمید شاہد نے”اک اور زاویے سے آسمان لگتا ہے”کے عنوان سے لکھا اور فاروقی کے باقی درج ذیل مضامین شامل ہیں:۔
۱۔ شاعری کی جمالیات:
(ا)۔ ہماری کلاسیکی غزل (ب)۔شعریات اور نئی شعریات (ج)۔ جدید شعری جمالیات
۲۔ تعبیر اور تنقید:
(ا)۔ ارسطو کا نظریہ ادب (ب)۔قرات، تعبیر، تنقید (ج)۔تعبیر کی شرح (د) ۔ ادبی تخلیق اور ادبی تنقید
۳۔ادب اور ادبی معیار:
(ا)۔ کیا نظریاتی تنقید ممکن ہے؟ (ب)۔ادب کے غیر ادبی معیار (ج) ۔ نئی تخلیق کی الجھنیں اور تخلیقی عمل
(د)۔جدیدیت……آج اور کل۔
۴۔فکشن کے باب میں:
(ا)۔آج کا مغربی ناول (ب)۔افسانے میں کہانی پن کا مسئلہ (ج) ۔ افسانے کی حمایت میں
(د)۔ افسانے کی حمایت میں (ر)۔ افسانے کی حمایت میں
۵۔اہم نشانات:
(ا)۔یے ٹس،اقبال اور الیٹ (ب)۔ن م راشد: صورت و معنی کا کشا کش
اس کتاب کی خصوصیت تو یہ ہے کہ اس میں مرتب نے ادب کے مختلف پہلوؤں پر لکھے ہوئے مضامین کا انتخاب کیا۔ وہ فاروقی جوجدیدیت کا علمبردار ہیں اور اپنی تنقید میں وہ جدیدیت کے فروغ کی پرچار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھر جب خود تخلیقِ کار بنتے ہیں تو وہ اپنی تہذیب،ماضی اور روایت کا امین بن کر سامنے آتے ہیں اور بقول فاروقی یہی اس کا فطری ارتقا تھا۔ محمد حمید شاہد نے ان مضامین کا انتخاب و ترتیب میں یہ بات پیش نظر رکھی کہ دونوں طرح کے مضامین منتخب کرکے ان کے تخلیقی مزاج کو سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ اب شاعری کی جمالیات کے ذیل میں دیکھیں، ایک مضمون “ہماری کلاسیکی غزل”تو دوسرے دو “شعریات اور نئی شعریات”اور”جدید شعری جمالیات”شامل کر کے مرتِب نے فاروقی کے اسی ذہن کی عکاسی کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ نے کلاسیکی غزل کی جمالیات سے لے کر جدید تر شعری جمالیات کی تفہیم کو ایک لڑی میں پرویا ہوا اور ان میں موجود تسلسل کو سمجھ سکیں کیونکہ فاروقی کا پختہ یقین ہے کہ روایت سے کٹ کر جدیدیت کچھ نہیں ہے بلکہ روایت کو جدیدیت سے جوڑتے ہوئے اس کی توسیع ممکن ہے۔
اس کے ساتھ ہی”ارسطو کا نظریہ ادب”، “تعبیر کی شرح”،”ادبی تخلیق”اور”ادبی تنقید”جیسے بھر پور مضامین اس کتاب کا حصہ ہیں۔ یہ مضامین فاروقی کی تنقید کے بنیادی خد و خال کے حامل ہیں۔ ان میں فاروقی نے مشرق اور مغرب کے تناظر میں اُردو تنقید پر بحث کی ہے۔”تعبیر اورتنقید:وجودیاتی اور علمیاتی بیانات”میں تنقیدی تحریروں میں تنقیدی نظریے کے نہ ہونے کا رونا روتے ہیں کہ”تنقید کے نام سے جو تحریریں عموماً سامنے آتی ہیں، انھیں پڑھ کر اُلجھن یا مایوسی کا احساس زیادہ تر اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ تنقیدی تحریر میں تنقیدی نظریہ بہت کم دکھائی دیتا ہے”۔
آگے وہ تعبیر کے معنی بتاتے ہیں کی یہ”کسی فن پارے کے معنی بیان کرنا “جبکہ تنقید سے مراد ہے:۔
(۱)۔ کسی فن پارے کی خوبیاں یا کمزوریاں بیان کرنا یعنی اس کی فنی قدر یا مرتبہ مقرر کرنا اور
(۲)۔ فن پاروں کے بارے میں ایسے بیانات وضع کرنا جن کا عمومی اطلاق ان فن پاروں پر ہو سکے جو ایک ہی نوعیت کے ہیں یا ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں۔ دراصل تنقید اور تعبیر باہم الجھے ہوئے دھاگے کی مانند ہیں اور عموماً نقاد تنقید کے نام سے تعبیر کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔
اسی کتاب کے ابتدائیے میں محمد حمید شاہد نے فکشن کے باب میں اپنی کتاب ’’اردو افسانہ:صورت و معنی‘‘ میں سامنے آنے والے فاروقی سے اپنے اس اختلافی نقطہ نظر کی جانب اشارہ کیا ہے ،اور اپنے نام فاروقی کے ایک خط کو متن کا حصہ بنایا ہے جس میں فاروقی نے لکھا تھا کہ ’’اور لطف یہ کہ تمہارا لہجہ بھی نہایت شگفتہ۔ خوب، بہت خوب۔ کم ہی لوگوں نے ’’افسانے کی حمایت میں‘‘ پر اتنی عمدہ گفتگو کی ہے‘‘ ۔ اسی مقام پر محمد حمید شاہد کا یہ اعتراف بھی ملتا ہے کہ:
’’ بس اکیلا فاروقی ہی ہے جس نے اردو افسانے پر فنی مباحث کا سنجیدگی اور سلیقے سے در وا کیا ۔ ‘‘

(غلام عباس کی کتاب :اردو افسانے کی تنقید اورشمس الرحمن فاروقی سے مقتبس)


A twice-born critic: Shamsur Rahman Faruqi |Asif Farrukhi

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد کا مران شہزاد|فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب

کتاب : فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب مصنف : محمدکامران شہزاد صفحات: 352 قیمت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *