M. Hameed Shahid
Home / کتابیں / انتخاب نثر اردو

انتخاب نثر اردو

Book+for+HS

 

قومی کو نسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی کے ایک پراجیکٹ کے طور پر شمس الرحمن فاروقی نے’’انتخاب نثر اردو‘‘ مرتب کیاتو اردو زبان کی نمائندگی کے لیے جہاں ،اقبال کے بارے میں مہاتما گاندھی کے ایک خط اور پنڈت جواہر لال نہرو، نہال چند لاہوری، الطاف حسین حالی، کنہیا لال کپور، سید احتشام حسین، آل سرور احمد، شاہد احمد دہلوی، شبلی نعمانی،پریم چند،خواجہ حسن نظامی، سرسید احمد خاں، نذیر احمد،مولانا ابوالکلام آزاد، مرزا اسد اللہ غالب کے نثری تحریروں کے نمونوں کے ساتھ افسانوں سے انتخاب بھی شامل کیا۔ اس انتخاب میں کرشن چندر کا افسانہ’’چندرو کی دنیا‘‘انتظار حسین کا افسانہ’’بادل‘‘راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ’’بھولا‘‘اور محمد حمید شاہد کے افسانہ ’’لوتھ‘‘ کو اردو نثر کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا۔اردو نثر کا یہ انتخاب نصابی ضرورتوں کے پیش نظر مرتب کیا گیا تھا۔ قرۃ العین حیدر کے حوالے سے اسی انتخاب میں لکھا گیا ہے کہ’’ انہوں نے اپنے افسانوں، ناولوں ،تراجم اور مضامین سے پورے برصغیر کے ادب کو متمول بنایا‘‘ شمس الرحمن فاروقی نے خواجہ حسن نظامی کو اردو کا بہت بڑا نثر نگار قرار دیا جو چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے مطلب کی بات نکال لیتے تھے۔ کرشن چندر کے افسانے ’’چندروکی دنیا‘‘ پر بات کرنے سے پہلے شمس الرحمن فاروقی نے انہیں اپنے زمانے کا مقبول ترین افسانہ نگار قرار دیا تاہم ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ اب وہ ویسے مشہور نہیں رہے جیسا کہ اپنے زمانے میں تھے۔ فاروقی صاحب کے مطابق،ان کی تحریروں میں غریب ،پچھڑے ہوئے اور مظلوم طبقوں کے لوگوں کا ذکر بڑی ہمدردی سے اور امیر لوگوں ، مزدوروں کے مالکوں یا پچھڑے ہوئے طبقوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے کرداروں وغیرہ کا ذکر ذرا بے رحمی سے کیا جاتا ہے۔
فاروقی صاحب نے کرشن چندر کی نثر کی خوبی یہ بتائی ہے کہ:
’’کرشن چندر کی نثرنہایت سادہ،رواں ،شگفتہ،اور دل میں بیٹھ جانے والی ہے۔ اس کے باعث ان کے ہلکے پھلکے افسانے بھی یاد رہ جاتے ہیں۔ وہ افسانے کو دھیرے دھیرے اس طرح آگے بڑھاتے ہیں کہ واقعات کی تہیں آپ سے آپ کھلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ‘‘
فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ زبان کو بے تکلفی سے استعمال کرنے کی وجہ سے کرشن چندر ہلکے پھلکے انگریزی لفظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ الفاظ لوگوں کی زبان پر جاری ہیں لہذا برے معلوم نہیں ہوتے۔ کرشن چندر کے افسانے ’’چندروکی دنیا‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے فاروقی صاحب نے لکھا :
’’یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ کرشن چندر نے مالک (سدھو حلوائی) اور نوکر(چندرو) کی زندگی کو ذرا سرسری بیان کیا ، لیکن اندر بہت کچھ سچائی اور تھوڑی سی گہرائی بھی ہے۔ چندرو کو زندگی سے کچھ زیادہ نہ چاہیے۔لیکن جو کچھ وہ چاہتا ہے (پارو کی توجہ اور چندرو کے غریبانہ دھندے میں اسی کی دلچسپی)وہ بالکل فطری ہے اور اس کی کہانی ہمارے دل پر اثر کرتی ہے۔‘‘
ٖٓفاروقی صاحب نے انتظار حسین کو آج کے عہد کا سب سے بڑا افسانہ نگار لکھا اور اس پر یہ اضافہ کیا کہ افسانے کے میدان میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا ۔ انتظار حسین کی افسانہ نگاری کی بابت فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندو دیو مالا اور اسلامی روایات سے بہت کام لیا اور اپنے افسانوں کی دنیا کو وسعت دی۔ افسانہ ’’بادل‘‘، جسے اس انتخاب کا حصہ بنایا گیا، کے بارے میں فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ اس میں بھی کئی اور افسانوں کی طرح وہ ایسی بات اور چیز کا ذکر لے آئے ہیں جس کا بہت انتظار کیا جاتا ہے مگر وہ نہیں آتی، یا اگر آتی ہے تو انتظار کرنے والوں کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ انتظار حسین Book+index11کے افسانے کی زبان کی صفات گنواتے ہوئے فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ:
’’ انتظار حسین کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ زبان بھی اس کردار کی لکھتے ہیں جس کردار کی طرف سے افسانہ بیان ہوا ہے۔ یہاں افسانہ ایک دیہاتی لڑکے کی طرف سے بیان ہوا ہے لہذا انتظار حسین نے چھوٹے کوئیں کے معنی میں’’کوئیاں‘‘ نہ لکھ کر’’کوئیا‘‘ لکھا ہے جو مغربی یوپی کی مقامی زبان ہے۔’’تال ت؛یاں‘‘ بھی عام پڑھے لکھے شہری لوگوں کی زبان پر نہیں ہے۔’’بال اتنے امنڈ گھمنڈ آتے تھے‘‘ یہ فقرہ بھی گھریلو انداز کا ہے۔ انتظار حسین ایسی سادہ لیکن تازہ زبان لکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کا افسانہ یاد رکھنے کی چیز بن جاتا ہے۔‘‘
راجندر سنگھ بیدی کو فاروقی صاحب نے کرشن چندر کی طرح اردو کا ممتاز ترین افسانہ نگار وں میں سے ایک قرار دیا اور لکھا کہ وہ ترقی پسند افسانہ نگار تھے لیکن انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی راہ الگ نکال لی تھی۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں کے برخلاف دنیا انہیں پیچیدہ نظر آتی تھی۔ فاروقی صاحب نے بیدی کے افسانے کی زبان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ عام راستے سے ہٹ کر الفاظ استعمال کرتے تھے۔ افسانہ’’بھولا‘‘ کے تجزیے میں انہوں نے لکھا:
’’اس افسانے کی ایک خوبی یہ ہے کہ بیدی نے بھولا کی معصوم باتوں اور اس کے دادا کی محبت بھری باتوں اور سسر بہو کے آپسی رشتوں کے بیان کے ذریعہ ایک چھوٹے موٹے گھرانے کی پوری تصویر کھینچ دی ہے،اس گھرانے میں کچھ سکھ بھی ہیں اور کچھ دکھ بھی ہیں ۔‘‘
محمد حمید شاہد کے تعارف کے باب میں فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ وہ پاکستان نے نئے افسانہ نگاروں میں بہت مقبول ہیں۔ان کے افسانوں میں موجودہ زمانے کے انسان کی پریشانیاں اور مسائل اکثر اس طرح بیان ہوتے ہیں کہ ہم نہ صرف یہ کہ اپنے زمانے کی باتوں اور مسائل سے واقف ہوجاتے ہیں بلکہ یہ بھی کہ ان کے ہر افسانے میں کئی اور باتیں ہمارے سوچنے کے لیے ہوتی ہیں۔ فاروقی صاحب نے افسانہ’’لوتھ‘‘ کی زبان کے حوالے سے لکھا:
’’پہلی بات تو یہ غور کرنے کی ہے کہ افسانہ نگار نے جگہ جگہ انگریزی کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پریم چند نے بھی ایسا ہی کیا ہے، لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ پریم چند کے استعمال کیے ہوئے بہت سے انگریزی الفاظ کی جگہ اب اردو الفاظ رائج ہو گئے ہیں لیکن محمد حمید شاہد کے یہاں ایسا نہیں ہے۔ ان کے کچھ انگریزی الفاظ ایسے ہیں جو اب اردو میں پوری طرح کھپ گئے ہیں ، جیسے:ٹی وی،اسکرین،ملٹی نیشنل، ٹیم،ڈاکٹر۔ لہذا ان کے لیے کوئی اردو لفظ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ہم یہاں کچھ ایسے لفظ بھی دیکھتے ہیں ،جو اردو میں کھپے نہیں ہیں،جیسے پراجیکٹ ایریا، ایکوائر، پینل ۔لہذا یا تو ان کے لیے اردو الفاظ بنانے پڑیں گے یا پھر آہستہ آہستہ یہی لفظ اردو میں رائج ہو کر زبان کا حصہ بن جائیں گے۔ محمد حمید شاہد کا یہ افسانہ ہمارے لیے اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ اس میں زبان کی بدلتی ہوئی صارت حال کی طرف اشارے ملتے ہیں ۔ ‘‘
افسانہ’’لوتھ‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے فاروقی صاحب نے لکھا ہے :
’’افسانہ نگار نے اس چھوٹے سے افسانے میں دو افسانے کھپا دیے ہیں۔ ایک تو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں بے حد بلند میناروں کی تباہی، جن کو کچھ لوگوں نے اپنے ہوائی جہاز ٹکرا کر تباہ کر دیا تھا(۱۱ ستمبر۲۰۰۱) اور دوسرا افسانہ غالباً ۱۹۴۷ء کے زمانے کا ہے جب ملک کی تقسیم کے نتیجے میں سرحد کے دونوں طرف لوگ بھاگ رہے تھے اور ان پر غیر معمولی ظلم ، قتل اور اس سے بھی زیادہ تباہی روا رکھی گئی تھی۔ افسانہ نگار ہم سے یہ کہتا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ۔۔۔ انسان جہاں کا بھی ہو اس کا درد ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ افسانے میں بوڑھا شخص جس کے پاؤں میں تکلیف ہے وہ انسانی درد کا مریض ہے اور ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتے ،یہاں تک کہ اس کی دونوں ٹانگیں کاٹ دی گئیں تو بھی اس کادرد اس کے دل میں باقی رہا۔‘‘
(غلام عباس کی کتاب :اردو افسانے کی تنقید اورشمس الرحمن فاروقی سے مقتبس)

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد کا مران شہزاد|فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب

کتاب : فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب مصنف : محمدکامران شہزاد صفحات: 352 قیمت …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *