M. Hameed Shahid
Home / حدیث دیگراں / معاصرین|نائن الیون اور محمد حمید شاہد کے افسانے

معاصرین|نائن الیون اور محمد حمید شاہد کے افسانے

 


Prof Fateh Muhammad Malik
پروفیسر فتح محمد ملک

پروفیسرفتح محمد ملک

نائن الیون کے پس منظر میں محمد حمید شاہد نے خوب صورت افسانے تخلیق کرکے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے ۔ میں ان کے افسانوں کا دیرینہ مداح ہوں اور ان کے افسانے محبت اور توجہ سے پڑھتا ہوں ۔ ” مرگ زار“ جیسی کہانیاں موجودہ عہد کا نوحہ ہیں ۔ ان کے ہاں تہذیبی شناخت کا رویہ بہت نمایاں اور قابل قدر ہے ۔

پروفیسر فتح محمد ملک|بند آنکھوں سے پرے‘ جنم جہنم اور مرگ زار

Hameed Shahid’s “Marg Zaar” launched|Prof.Fateh Muhammad Malik held that Hameed Shahid’s short stories are woven well. They remind one of Baidi and Manto as far as the questions of self and identity are concerned. He said Hameed Shahid has never lost touch with his soil and takes us back to days when values had certain place in our lives and people had an ear for a word of advice and goodness.


Iftekhar Arif
افتخار عارف

افتخار عارف

ان کی زیادہ مشہور کہانیوں کا خمیردُنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال اور اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی زندگی کی حقیقتوں کے ادراک کے خمیر سے اُٹھا ہے جس میں اظہار کے تمام جمالیاتی مطالبات خوش سلیقگی کے ساتھ بروئے کار لائے گئے ہیں۔

افتخار عارف|محمد حمید شاہد:بہت معتبر اور نہایت لائق توجہ افسانہ نگار

Reliving the past|Iftikhar Arif, former chairman, Pakistan Academy of Letters, has called this story as a portrayal of the after-effects of 9/11 on our social structure.

Hameed Shahid’s “Marg Zaar” launched|Iftakhar Arif said the use of the local vocabulary in Hameed Shahid is commendable. Though he looks at the word beyond him while his feet are firmly planted on earth. He called “Sovarg Mein Sour” (a pig in the paradise) his representative story and drew a comparison between him and other writes of short stories.


Prof. Jameel Aazar
پروفیسر جمیل آذر

پروفیسر جمیل آذر

محمد حمید شاہدکے افسانے پڑھنے میں بہت دلچسپ ہوتے ہیں ۔ ان کے ہاں سیاسی ‘سماجی اور معاشرتی شعور بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے ۔ان کے افسانے کا سفر ” برف کا گھونسلا “ سے شروع ہوتاہے اور ”سورگ میں سور“ جیسے بڑے افسانے تک پہنچتا ہے۔ بے شک اس افسانے کو ہم منٹو‘ بیدی اور انتظار حسین کے ایسے ہی افسانوں کے مقابلے میں رکھ سکتے ہیں ۔اس افسانے میں بھیڑ بکریوں‘ کتوں اور سوروں کی کہانی جس طرح آخر میں ایک علامت کا روپ دھارتی ہے اس سے پڑھنے والے کے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے۔ واقعی حمید شاہد بڑا فن کار ہے ۔

ادب ستارہ: محمد حمید شاہد 


Zia Jalandhry
ضیا جالندھری

ضیا ءجالندھری

قابیل کے ہاتھوں سے ہابیل کا قتل ہوا تھا۔ ہابیل تہذیب کے اولین حصے سے تعلق رکھتا تھا جب کہ قابیل ایڈوانس تھا ۔ وہ سبزیاں اگانے تک آگیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہابیل کی قربانی قبول کرلی ۔ ”سورگ میں سو ر “کا کمال یہ ہے کہ کہ اس میں ایک مقام پر آکر لوگوں کی ہڈیوں میں پانی پڑ گیا ہے۔  ٹالسٹائی اور داستوئفسکی کے لیے مشہور تھا کہ وہ جس چیز کو پکڑ لیتے تھے تفصیلات تک اور باریکیوں تک لے جاتے تھے۔ اس افسانے میں جس طرح زبان کا استعمال ہوا ہے اور جس طرح جزیات تک آئی ہیں‘ وہاں ہم خود موجود ہو جاتے ہیں ۔ مجھے ابوالفضل صدیقی یاد آگئے۔ اتنا پرسنل اور کلوز مشاہدہ ہے ۔ ان سب باتوں نے مل ملا کر اسے خوب صورت افسانہ بنا دیا ہے۔ بہت کا میاب اور دل آویز افسانہ ہے۔

تنقیدی مطالعہ: محمد حمید شاہد کا افسانہ”سورگ میں سور”|رابطہ‘ اسلام آباد


Masood Mufti
مسعود مفتی

مسعود مفتی

 ”پہلے اس کا تعین کر لیا جانا چاہیئے کہ افسانہ ”سورگ میں سور“ کس کی علامت ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک پروسس کی علامت ہے ‘ یہ سیاسی علامت بھی ہے ‘ سماجی اور معاشی بھی۔ یہ اس بات کی علامت بھی بنتی ہے کہ پرسکون اور تہذیبی زندگی کو مادی ترجیحات درہم برہم کر رہی ہیں۔ دوسرے اینگل سے دیکھا جائے تو اس میں ایک حقیقت پسند اسلوب بھی سامنے آتا ہے ۔ یہاں ایک ماحول کو مقامی اصطلاحات کے ذریعے بیان کیا گیا ہے ۔ جملوں کی ساخت بہت عمدہ ہے الفاظ کا چناﺅ خوب ہے ۔ افسانہ زمین اور زندگی کے بہت قریب ہے ۔ افسانے میں علامت اور اس کے لیے جو ماحول بنایا گیا ہے میں اس سے بہت متاثر ہوا ہوں۔’سورگ میں سو ر“ کے حوالے سے کہوں گا کہ اس جنت کو تباہ سو روں نے نہیں کیا بلکہ اُن لوگوں کے رویوں نے کیا ہے جن کی وجہ سے مادی ترغیبات نے رحمدلی کے جذبے کو معدوم کر دیا ہے ۔

تنقیدی مطالعہ: محمد حمید شاہد کا افسانہ”سورگ میں سور”|رابطہ‘ اسلام آباد


Aftab Iqbal Shamim
آفتاب اقبال شمیم

آفتاب اقبال شمیم

”سورگ میں سور“ افسانے کی نثر میں ایک میوزیکل ٹچ ہے خود عنوان ملاحظہ ہو ”سورگ“ اور ”سو ر“ ۔ حمید شاہد نے ا فسانہ پڑھنا شروع کیا تو یوں لگا وہ پوئیٹری پڑھ رہے ہیں ۔ جیسے انہوں نے جانوروں کے بارے میں لکھا ہے تو اسے تہذیبی حوالے سے دیکھایا۔ ایک  زرعی منظر نامہ ہے جو آگے بڑھ کر  امیجری میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔  سوروں کے ذکر سے افسانہ معنوی سطح پر بہت پھیلا دیا گیا ہے۔ اب جہاں کہیں بھی استحصال ہورہا ہے یہ ا فسانہ وہاں منطبق ہو جاتا ہے۔

 

تنقیدی مطالعہ: محمد حمید شاہد کا افسانہ”سورگ میں سور”|رابطہ‘ اسلام آباد


Mansha Yaad
منشایاد

منشایاد

جس کہانی پریہ مجموعہ’’مرگ زار” اور اس کامصنف بجاطورپرفخرکرسکیں گے وہ ان کی کہانی ”سورگ میں سور“ ہے۔اسکی کئی پرتیں ہیں ۔واقعاتی اورسامنے کی سطح پربھی اس کی ایک بھرپور معنویت موجودہے اوراس میں جس خوبصورتی سے جزیات نگاری کی گئی اور بنجرزمینوں کی ثقافت،معاملات ،بکریوں اوران کی بیماریوں اورروگوں کے بارے میں جوتفصیلات دی گئی ہیں وہ ان کے وسیع تجربے ،مشاہدے اورمعلومات کا بین ثبوت ہیں ۔پھرجس طریقے سے یہ کہانی ایک علامتی موڑ مڑتی او رسیاسی جبرکی ایک نئی معنویت سے ہمکنارہوجاتی ہے وہ ان کے فن کاکمال ہے۔

موضوعات کی سطح پرانہوں نے بہت سی نئی چیزیں لکھیں۔ وہ کہانی(مرگ زار) جس پرکتاب کانام رکھاگیا بہت مشکل موضوع تھا اور یہ کہانی نازک ٹریٹمنٹ کاتقاضاکرتی تھی ۔میرے خیال میںیہ کہانی لکھتے ہوئے انہیں بھی خاصی احتیاط اورمشکل کاسامناکرناپڑا ہوگا۔ مگر وہ اپنی بات اورموقف کوتجریدکی دھند سے نکالنے اور بیان کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ا س کہانی کاموضوع جہاداورشہادت جیسا نازک مسئلہ ہے جس کی کچھ عرصہ پہلے تک کچھ اورصورت تھی اب نائن الیون اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے کچھ اورصورت بن گئی ہے۔یہ ایک دہلادینے والی پراثر کہانی ہے ۔اپنے بھائی کی لاش کے ٹکڑے ۔پھراس کتاب میں انہوں نے موت کی اور کئی ایک شکلوں کامطالعہ کیااور اس کے جبر اور انسان کی بے بسی کی مختلف صورتیں دکھائیں ہیں۔

محمد منشایاد|رنگ رنگ کے رنگ

تنقیدی مطالعہ: محمد حمید شاہد کا افسانہ”سورگ میں سور”|رابطہ‘ اسلام آباد

محمد حمید شاہد کے افسانے سورگ میں سور کا تنقیدی مطالعہ|حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی

Reliving the past|Reviewed by Jonaid Iqbal

Hameed Shahid’s “Marg Zaar” launched|Mansha Yad said Hameed Shahid has experimented with dictions, plot and different techniques of the story. He called Hameed Shahid a promising young writer whose has found a place in the list of first rate writers.


 

Dr Nawazish Ali
ڈاکٹر نوازش علی

ڈاکٹر نوازش علی

”سورگ میں سور“ میں ساری بات علامتی سطح پر کی گئی تاہم اس کے لیے حمید شاہد نے کہانی کے بیانے کو خوبی سے استعمال کیا ہے ۔اس افسانے کے لیے چکوال کے علاقے کا لینڈ اسکیپ چنا گیا ہے ۔ اس علاقے میں جس طرح مختلف نسلیں آباد رہیں ۔ کاروبار تبدیل ہوتے رہے اسے گرفت میں لیا گیا ہے ۔ یہاں کے بڑوں کا پیشہ بھیڑبکریوں کی پرورش رہا ہے جب کہ نئی نسل اس پیغمبری پیشے سے دور ہوتی دکھائی گئی ہے۔ کاروبار بدلنے سے باہر سے استعماری قوتیں آتی ہیں ‘ساتھ ہی تھوتھنیوں والے بھی آجاتے ہیں۔ گویا جو ہمیں معیشت دے رہے ہیں وہ تھوتھنی والوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مقامی استعمار ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے ۔ حمید شاہد نے یہ افسانہ انتہائی خوبی سے بنا ہے۔

محمد حمید شاہد کے افسانے سورگ میں سور کا تنقیدی مطالعہ|حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی

تنقیدی مطالعہ: محمد حمید شاہد کا افسانہ”سورگ میں سور”|رابطہ‘ اسلام آباد

 


Prof Jalil Aali
جلیل عالی

جلیل عالی

(سورگ میں سور)بہت خوب صورت افسانہ ہے ۔ اس میں جانوروں کی بیماریوں کے بیان میں تناسب کا قرینہ موجود ہے ۔   یہ ا فسانہ علامتی سطح پر الیگری بن گیا ہے ۔

تنقیدی مطالعہ: محمد حمید شاہد کا افسانہ”سورگ میں سور”|رابطہ‘ اسلام آباد

محمد حمید شاہد کے افسانے سورگ میں سور کا تنقیدی مطالعہ|حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی

دہشت میں محبت: اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں تقریب اجراء۔


Ali Mohammad Farshi
علی محمد فرشی

علی محمد فرشی

”اندر ہی اندربہتی ہوئی گہری اذیت سے ہم اس وقت تو بہت شدت سے دوچار ہوتے ہیں جب حمید شاہد کی کہانی ” سورگ میں سو ر“ کو پڑھتے ہیں۔ ”سورگ میں سو ر“ اپنے ہی وطن میں زمینی وسائل اور تہذیبی اقدار سے اجتماعی بے دخلی کی کہانی ہے ۔ گیارہ ستمبر کے پس منظر میں سو روں کی آمد ‘ کتوں کی بہتات ‘ بکریوں کی اموات اور مونگ پھلی کی کا شت جیسی علامتوں سے حمید شاہد نے عالمی بساط پر کھیلے جانے والے اس مکروہ کھیل سے پردہ اٹھایا ہے جس میں موت اور مات ہمارے تہذیبی تشخص کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ اس افسانے نے اپنی اشاعت سے قبل ہی ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی اور اسلام آباد کے الگ الگ تنقیدی جلسوں میں اس افسانے کے مختلف پہلوو ں پر گھنٹوں بحث چلی ‘ اور حمید شاہد نے ڈھیروں داد سمیٹی ۔ میں بھی ان بحثوں میں پیش پیش رہا لیکن اب اس کے بارے میں لکھنے بیٹھا ہوں تو اس کے الگ مطالعہ کا قرض باقی رکھتے ہوئے قلم رکھ رہا ہوں ‘ کیوں ؟ شاید اس لیے کہ جہاں کہانی ختم ہوتی ہے وہاں سے اذیت کی دلدل شروع ہو گئی ہے ۔بلاشبہ اس کہانی کو اردو ادب کی بڑی کہانیوں میں اعتماد کی ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔

افسانہ ”گانٹھ“ کا مرکزی کردار ڈاکٹر توصیف ہے ۔ اس کی آنکھیں امریکی معاشرے کی ظاہری چکا چوند سے چندھا گئی تھیں ۔ انسان دوستی اور روشن خیالی کے رنگین اشتہار ات نے اسے اپنی ’فرسودہ‘ شناخت سے بر گشتہ کر دیا تھا اور اس نے اپنے نام کوتوصیف سے بدل کر طاو ژ کر لیا تھا ۔یوںخود ساختہ عالمی شہریت اختیار کر لی تھی۔ اسی دوران اس کی شادی کتھرائن سے ہوئی اور اس سے اُس کے دو بیٹے راجر اور ڈیوڈ…. اس کی پر امن روشن خیال اور انسان دوست شخصیت کے خواب شاید یو نہی پھولتے پھلتے رہتے ‘ لیکن گیارہ ستمبر کے دھماکوں میں جہاں ایک اندھی طاقت کو انگیخت لگی وہیں اس کے موہوم تصورات بھی بھک سے اڑ گئے…. وہ پاکستانی یا مسلمان ہونے کے سبب مشتبہ ٹھہرا تھا اور یوں اپنے خوابوں کی جنت سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ اس موقع پر جب اس کی روشن خیال بیوی کا اصلی چہرہ اس کے سامنے آیا تو وہ اسے جارح قوم کی ذلیل کتیا نظر آئی اور اپنے لخت جگر راجر اور ڈیوڈ اپنے بدلے ہوئے طرز عمل کے باعث اُس ذلیل کتیا کے ذلیل پلے۔زمین اور تہذیب سے اُکھڑی ہوئی نسل کایہ المیہ حمید شاہد نے محض بیانیہ واقعات کے تانے بانے سے نہیں بُنا‘ بلکہ فلیش بیک میں دور طالب علمی میں اس کے بنائے ہوئے ایک ادھورے سیلف پورٹریٹ کو گوگول کی ایک کہانی کی تصویر کے ساتھ اس فنی مہارت کے ساتھ جوڑا ہے کہ یہ کولاژ کاری اس کہانی کو فنی سطح پر کئی بلندیاں عطا کر گئی ہے ۔ پہلے وہ تصویر جسے توصیف نے بنایا اور وہ ادھوری رہ گئی تھی

”یہ اس کی اپنی تصویر تھی ‘ جو ادھوری رہ گئی تھی۔ کچے پن کی چغلی کھانے والی اس ادھوری تصویر میں کیا کشش ہو سکتی تھی کہ

اسے ابھی تک سنبھال کر رکھا گیا تھا…. اُس نے غور سے دیکھا …. شاید ‘ بلکہ یقیناً کوئی خوبی بھی ایسی نہ تھی کہ اس تصویر کو یوں سنبھال کر رکھا جاتا …. اسے یاد آیا جب وہ یہ تصویر بنا رہا تھا تو اس نے اپنے باپ سے کہا تھا ‘ کاش کبھی وہ دنیا کی حسین ترین تصویر بنا پائے۔ اُس کے باپ نے اس کی سمت محبت سے دیکھ کر کہا تھا ‘ تم بنا رہے ہو نا‘ اس لیے میرے نزدیک تو یہی دنیا کی خوبصورت ترین تصویر ہے ‘ ….وہ ہنس دیا تھا‘ تصویر دیکھ کر ‘اور وہ جملہ سن کر۔

یہ جو اپنے اپنائیت میں فیصلے کرتے ہیں‘ان کی منطق محبت کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی….

تصویر نامکمل رہ گئی کہ اس کا دل اوب گیا تھا مگر اس کے باپ کو اپنا کہا یاد رہا‘ لہذا اس نے اس ادھوری تصویر کو اس دیوار پر سجا دیا تھا۔ “

اور اب تصویر کا قصہ جو اس تصویر کا پیوند ہو گئی تھی اور یہ بھی نامکمل رہنے والی تصویر تھی تاہم اس نے ایک مرحلے پر توصیف کو تھام لیا تھا:

” تھامنے والے ہاتھ گوگول کے تھے ….گوگول کے نہیں ‘ اس تصویر کے ‘جو گوگول کے ہاں پہلے مرحلے میں نامکمل رہ گئی تھی…. شیطانی آنکھوں والی ادھوری تصویر۔مگر یہ بھی وہ تصویر نہ تھی جس نے اسے تھاما تھا کہ اُس کا چہرہ تو معصومیت لےے ہوئے تھا …. فرشتوں جیسا ملائم اور اُجلا۔ یہ اسی تصویر کا دوسرا مرحلہ تھا جبکہ وہ مکمل ہو گئی تھی۔ تصور ایک جگہ ٹھہر گیا تو اسے گوگول کے افسانے کا وہ پادری یاد آیا جس نے سب کا دھیان شیطانی تاثرات والی آنکھوں کی جانب موڑدیا تھا۔ اُسے ابکائی آنے لگی“

دونوں تصویریں اپنی اپنی جگہ ایک تکون بناتی ہیں ۔ دونوں تکونوں کے ایک زاویے پر نامکمل تصویر ہے ‘جو دوسرے پر مکمل ہو جاتی ہے جب کہ تیسرا زاویہ ‘معصیت اور شیطنت بدل بدل کر دکھاتا ہے ۔ یہ ایک مشکل تیکنیک ہے لیکن حمید شاہد کے ہاں یہ پسندیدہ تیکنیک ہے کہ اس طرح وہ متن کے اندر معنویت کا نیا جہاں آباد کر دیتا ہے ۔ اس سے پہلے وہ یہی تیکنیک ”نئی الیکٹرا“ میں کامیابی سے نبھا چکا ہے ۔ ”گانٹھ“ میں اس نے گوگول کے افسانے کی تھیم اور چیدہ چیدہ مناظرکو کہانی کے موضوعاتی فریم میںاس فنی سلیقے کے ساتھ پینٹ کیا ہے کہ یہ واقعہ اپنی تمام تر عصری صداقتوں پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہوا خیرو شر کے دائمی دیارتک جا پہنچتا ہے۔ وہ ادبیات عالیہ سے کوئی شہکار منتخب کرتا ہے اور اسے اپنے فن پارے میں یوںجڑدیتا ہے کہ اس کی روشنی سے معانی کا تناظر ابدیت کے کناروں تک پھیل جاتا ہے۔ یہ اس کے وسیع مطالعے کی دلیل اور اس مطالعے کا اس کے تخلیقی وجود میں حلول کر جانے کا مظہر بھی ہے۔ علاوہ ازیں یہ اس بات کی تصدیق بھی ہے کہ ہر بڑی تخلیق کا ماقبل کی بڑی تخلیقات کے ساتھ کوئی نہ کوئی رشتہ ضرور ہوتا ہے۔

Hameed Shahid’s “Marg Zaar” launched|Ali Muhammad Farshi said according to writer of Marg zaar the whole world after 9/11 has turned into a battlefield where people in confusion as to whom their real enemy is. The stories foretell that thus graveness of future days the world is going to face, he said.

محمد حمید شاہد کے افسانے سورگ میں سور کا تنقیدی مطالعہ|حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی

دہشت میں محبت: اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں تقریب اجراء۔


ڈاکٹر توصیف تبسم

Dr. Tauseef Tabssum
ڈاکٹر توصیف تبسم

سورگ میں سور“ محمد حمید شاہد کا ایسا افسانہ ہے جس پر مصنف بجا طور فخر کرسکتا ہے۔ ہم اس افسانے کو منٹو‘ بیدی اور انتظار حسین کے ایسے ہی افسانوں کے مقابلے میں رکھ سکتے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے پس منظر میں لکھی جانے والی یہ کہانی سو ¿روں کی آمد ‘ کتوں کی بہتات ‘ بکریوں کی اموات اور مونگ پھلی کی کا شت جیسی علامتوں سے محمد حمید شاہد نے عالمی استعمار کی اس مکروہ سازش سے پردہ اٹھایا ہے جس میں موت ہمارے تہذیبی تشخص کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ اس کہانی کی کئی پرتیں ہیں۔ واقعاتی اورسامنے کی سطح پربھی اس کی ایک بھرپور معنویت ہے ۔ پھر کہانی جس طریقہ سے ایک علامتی موڑ کاٹتی ہے او ر ہمیں سیاسی جبرکی ایک نئی معنویت سے ہمکنارکراتی ہے وہ افسانہ نگار کی فنی ہنر مندی کاکمال ہے۔اس کہانی میںبڑی خوبصورتی سے جزیات نگاری سے کام لیا گیا ہے ۔ بنجرزمینوں کی ثقافت،وہاں کے معاملات ،بکریوں کی اقسام اوران کی بیماریوں کی تفصیلات سے‘ لکھنے والے کے وسیع تجربے ،مشاہدہ اورمعلومات کاپتا چلتاہے ۔ اس کہانی کا پورا منظر نامہ دیہی ہے۔ اس اعلان کے بعد کہ آج کی دنیا ایک گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے‘ عالمی استعمار کو پیش کرنے کے لےے دیہی استعارے زیادہ بامعنی ہو گئے ہیں۔ ”سورگ میں سو ر“ اپنے موضوع ‘اپنی تیکنیک اور فنی ہنر مندی کے حوالے سے محمد حمید شاہد کا بہترین اور اُردو ادب کا اہم ترین افسانہ ہے ۔ یہ افسانہ زندگی کا حسی ادراک کرنے اور ادراک کو کسی واحد مفہوم کی قطعیت سے آزاد رکھنے کی ایک قابل رشک مثال ہے۔ اسے تمثیلی پیرائے میں لکھا گیا ہے ۔ بالائی سطح پر یہ بارانی زمین پر آباد سورگ ایسے گاﺅں اور اس کے محنت کش باسیوں کی جہد حیات کی داستان ہے ‘ مگر زیریں سطح پر یہ ایک طرف وطن عزیز کی سیاسی اور پھر ثقافتی تاریخ کا بیانیہ ہے تو دوسری طرف نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی عالمی صورت حال کا قصہ بھی ہے ۔ یہ افسانہ اپنے اندر محض ہنگامی واقعیت نہیں رکھتا ‘یہ ایک بڑی فوجی طاقت کی بے رحمانہ سرگرمیوں کو تمثیلی انداز میں ہی پیش نہیں کرتا ‘ بلکہ ایک ایسی علامتی جہت بھی رکھتا ہے ‘ جسے مجموعی انسانی تاریخ کے کئی ادوار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر اس افسانے کو انسانی تاریخ کی نئی اسطورہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔“

ڈاکٹر توصیف تبسم|اثبات


Fareeda Hafeez
فریدہ حفیظ

فریدہ حفیظ

 عالمی استعمار پر پہلے بھی بہت سے افسانے لکھے گئے ہیں مگر اس کا اسلوب مختلف ہے ۔ اس افسانے کی اٹھان بہت خوب صورت ہے ۔ اس افسانے میں بہت سی پرتیں ہیں اور سب ایک ایک کر کے کھلتی چلی جا تی ہیں۔

۔دہشت میں محبت: اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں تقریب اجراء۔

تنقیدی مطالعہ: محمد حمید شاہد کا افسانہ”سورگ میں سور”|رابطہ‘ اسلام آباد۔


asghar-abid
اصغر عابد

اصغر عابد

حمید شاہد اپنے اسلوب میں الگ اور اپنی لغت کے حوالے سے ایک انفرادی اساس بناتے ہیں۔ وہ مقامی ماحول سے اسلوب کے عناصر لیتے ہیںاور افسانے میں معاشی‘ معاشرتی ‘تہذیبی اور تمدنی حوالے لاتے ہیں۔ کہانی میں ’بابا‘ کا کردار بہت اہم ہے ۔ یہ تھرڈ ورلڈ کی کہانی ہے اور اس میں علامتوں کے ذریعے بین الاقوامی مسائل کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ اس میں اپنے دکھوں اور خوشیوں کا بیان بھی خوب ہے۔

محمد حمید شاہد کے افسانے سورگ میں سور کا تنقیدی مطالعہ|حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی


شعیب خالق
شعیب خالق

شعیب خالق

حمید شاہد کے اس افسانے نے  مجھے بہت ہانٹ کیا ہے۔ علامت کے استعمال اور  اپنے مواد اور تیکنیک کے حوالے سے بہت خوب صورت افسانہ ہے۔ بکریوں کی بیماریاں بہت خوبی سے آئیں مگر سو روں کی بیماری کا ذکر نہیں ہے ۔

محمد حمید شاہد کے افسانے سورگ میں سور کا تنقیدی مطالعہ|حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی


Nasir Abbas Nayyar
ناصر عباس نیر


ناصر عباس نیر

 ”ہر تمثیل دوہری سطح کی حامل ہوتی ہے۔ پہلی سطح پر یہ ایک حسی اظہار ہوتی ہے مگر دوسری سطح پر اس میں معنیاتی تجرید ہوتی ہے ‘ مگر حسیت اور تجریدیت میں گوشت اور ناخن کا رشتہ ہوتا ہے (یا ہونا چاہیئے ) ۔ ”سورگ میں سور“ میں بھی یہی صورت ہے۔بالائی سطح پر یہ بارانی زمین پر آباد سورگ ایسے گاﺅں اور اس کے محنت کش باسیوں کے جہد حیات کی کہانی ہے ‘ مگر زیریں سطحوں میں یہ ایک طرف وطن عزیز کی سیاسی اور پھر ثقافتی تاریخ کا بیانیہ ہے تو دوسری طرف نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی عالمی صورت حال کا قصہ ہے ۔ کہانی میں تھوتھنیوں والے اور کتے جن علامتی کرداروں میں آئے ہیں ‘ اُنہیں معاصر قومی اور عالمی منظرنامے میں پہچاننے میں قاری کو دیر نہیں لگتی۔ مگر واضح رہے کہ یہ افسانہ اپنے اندر محض ہنگامی واقعیت نہیں رکھتا‘ فقط ایک بڑی فوجی طاقت کی بے رحمانہ سرگرمیوں کو تمثیلی انداز میں پیش نہیں کرتا ‘ بلکہ ایک ایسی علامتی جہت بھی رکھتا ہے ‘ جسے مجموعی انسانی تاریخ کے کئی ادوار میں ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔ اگر اس افسانے کو انسانی تاریخ کی نئی اسطورہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ اور یہ ”اسطورہ“ اس جدید اساطیری افسانے سے مختلف اور ممتاز ہے کہ اسے محمد حمید شاہد نے تخلیق کیا ہے ۔

Hameed Shahid’s “Marg Zaar” launched|Nasir Abbas Nayyir (from jhang) high lighted different stages of self-reflexivity in Hameed Shahid and said his short stories are a good example of realism blended with creativity and folk wisdom.

ناصر عباس نیر|”مرگ زار“ کے مطالعے میں


Amjad Tufail
امجد طفیل

امجد طفیل

”سورگ میں سور“ میں عالمی معاصر صورت حال کے خلاف احتجاج کی لے تیز ہو جاتی ہے ۔ یہاں اپنی معاشرت کے ایک منفی استعارے کو جنت ارضی میں دکھا کر اس تضاد کو ابھارا گیا ہے جو نیکی اور بدی کی قوتوں میں موجود ہے ۔ اس کہانی کے لیے پورا منظر نامہ دیہی ماحول سے تیار کیا گیا ہے شاید اس اعلان کے بعد کہ آگ کی دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے عالمی استعمار کو پیش کرنے کے لےے دیہی استعارے زیادہ بامعنی ہو گئے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے اردو افسانے میں دیہی منظر ایک نئی معنویت کے ساتھ ابھرے گا۔ افسانہ نگار نے بکریون کی اقسام کو انسانی طبقات کے ساتھ خوب صورتی سے جوڑا ہے اور اس بات کی نشاندھی کی ہے کہ آج کے استعمار کے سامنے سب بے بس ہیں ۔

مرگ زار“ میں مری کا ماحول ایک بار پھر محمد حمید شاہد کے افسانوں میں نمودار ہوتا ہے ۔ ”برف کا گھونسلا“ کی طرح ”مرگ زار “ افسانے میں بھی موت ڈیرے ڈالے ہوئے ہے لیکن یہاں افسانہ نگار ایک اہم سوال اٹھاتا ہے کہ وطن کے لیے جان قربان کرنے کا عمل بھی بے معنی ہو چکا ہے کیوں کہ اس عمل کے ساتھ وابستہ تقدیس ختم ہو چکی ہے۔ موت حمید شاہد کے تخلیقی تجربے میں بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس کی بہت سی کہانیاں موت کے موٹیف کے ارد گرد بُنی گئی ہیں ۔ ”مرگ زار “ تک آتے آتے تو ایسے لگتا ہے کہ موت کے علاوہ سب سچائیاں اپنی اہمیت کھو چکی ہیں۔ ”مرگ زار“ اپنے قارئین کے ساتھ بہت دور تک چلتی ہے

 ” گانٹھ“ بھی گیارہ ستمبر کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے ۔ یہاں بھی معالج اپنا کردار درست انداز میں ادا نہیں کر رہا ہے ۔ عصبی ریشوں کے وسط میں پڑنے والی اضافی گانٹھیں مریض کو رفتہ رفتہ خاتمے کی طرف لیے جارہی ہیں ۔ اس افسانے کا توصیف ان لوگوں کی علامت ہے جو مغرب کی چکا چوند سے متاثر ہو کر اپنا نام تک بدل لیتے ہیں ۔ لیکن مغرب انہیں پھر بھی اپنے ساتھ شناخت نہیں کرتا ۔ وہ اپنی اصل شناخت کھو چکے ہیں لیکن جس چیز کو پانے کے لیے وہ اپنی اصل سے کٹتے ہیں وہ پھر بھی انہیں حاصل نہیں ہوتی۔ یہ وہ المیہ ہے جس کا سامنا آج مغرب زدہ مسلمان کو کرنا پڑ رہا ہے ۔

Hameed Shahid’s “Marg Zaar” launched

امجد طفیل|محمد حمیدشاہد کے افسانے


 

Dr Najeeba Arif
نجیبہ عارف

ڈاکٹر نجیبہ عارف

”مرگ زار“ تیزی سے رنگ بدلتی دنیا کے اس اضطراب کی نقش گری ہے جس میں ”تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا“وقت کے جبر میں الفاظ کیسے اپنا اعتبار ہی نہیں ، مفہوم بھی کھو بےٹھتے ہیں اور وقت کا جبر بھی کوئی صدیوں کی بات نہیں۔ چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے اقدار و روایات کا چہرہ کیا سے کیا ہو گیا ہے۔ واقعات جس عجلت سے رونما ہو رہے ہیں اس سے محسوس ہونے لگا ہے کہ کسی نہ کسی کا انجام قریب ہے۔ مگر کس کا انجام؟ شاید ایک عہد کا ، شاید ایک نظریے کا، شاید ایک دستورِ حیات کا، شاید ایک اندھی قوت کا۔ سب کے اپنے اپنے خواب ہیں اور اپنا اپنا خیال۔ مصنف کا خیال کیا ہے، کہانی سے یہ معلوم نہیں ہوتا مگر وہ بے قراری ضرور دکھائی دیتی ہے جو ہر انجام سے ذرا پہلے پھیل جایا کرتی ہے۔ وہ آثار ضرور نظر آتے ہیں جو بعد میں ایک واضح خیال اور پھر ایک خواب اور پھر ایک جوشِ جنوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ کہانی کے آخری جملے اس اندیشے کی تصدیق کرتے ہیں:

”ماں نے ماسی کے اٹھے ہوئے ہاتھ جھٹک کر گرا دیے اور اسے رونے سے منع کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہیدوں پر رویا نہیں کرتے۔ میں ماں کے حوصلے پر دنگ اور اس کی سادگی پر برہم تھا۔ ۔۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ میں اندر سے کافر ہوتے ہوئے بھی اسے ٹوک نہ پاتا تھا۔ ۔۔ مگر یہ تو تب کی بات ہے جب ایمان اور زمین کی کوئی وقعت تھی۔ اب تو ماں روتی ہے اور رلاتی بھی ہے۔اتنا زیادہ اور اتنے تسلسل سے کہ میں بھی رونے لگتا ہوں اور بچھڑے ہوو ¿ں کو یاد کرنے بیٹھ جاتا ہوں۔ میںبچھڑے ہووں کو اتنا یاد کرتا ہوں کہ اندر کا کافر دل پسیج کر ایمان اور زمین سے وابستہ ان جذبوں کو اپنے ہی اندر سے ڈھونڈ نکالتا ہے، جو وہاں کبھی تھے ہی نہیں۔“

کہانی کا یہ اختتامیہ دراصل اس کتاب کابھی اختتام ہے۔ یہ اختتام بالکل ویسا ہی ہے جیسے علامہ اقبال اپنی ہر نظم میں حضرت انسان یا مسلمانوں کو اچھا خاصا آئینہ دکھانے کے بعد اس کاانجام اس قدر رجائی انداز میں کرتے ہیں کہ پیشین گوئی کا سا لہجہ اپنا لیتے ہیں۔ محمد حمید شاہد ایک تخلیق کار ہے اور تخلیق کے لمحوں میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جو لکھنے والے کے ہاتھ سے ، قلم خود چھین لیتا ہے اور جو چاہتا ہے لکھ دیتا ہے۔ تخلیق کار خود ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ مجھ سے کیا لکھا گیا۔ ہوسکتا ہے محمد حمید شاہد کی اس کہانی کے یہ اختتامی جملے بالکل شعوری ہوں اور التزاماً لکھے گئے ہوں لیکن اس عہد بے اماں میں ایمان اور زمین سے وابستہ جذبوں کا اعتراف ایسی جرا ¿ت رندانہ ہے جسے صرف شک کا فائدہ دے کر ہی معاف کیا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ خیال ضرور پریشان کرتا ہے کہ اگر مصنف نے اس خیال کو واقعی عام کر دیا تو انجام اور بھی قریب آجائے گا۔ امید ہے مصنف کے احباب انہیں اس فعل سے روکے رکھیں گے۔

”سورگ میں سور“، عالمی گاو ں آباد کرنے کی خواہش میں بستی ہوئی بستیاں اجاڑ دینے والی مرگ آثار تھوتھنیوں کی کہانی ہے۔معاصر صورت حال کے بیان کے لیے مصنف نے بکریوں ، کتوں اور سوروں کے استعارے جس خوبی سے بیان کیے ہیں وہ اس کی فنی پختگی اور اظہار کے وسیلوں پر قدرت کا مظہر ہیں۔ ’ ’سورگ میں سور“ کا علامتی انداز اپنی جگہ نہایت مکمل اور بے ساختہ محسوس ہوتا ہے اور کہیں بھی تفہیم و ابلاغ میں رکاوٹ کھڑی نہیں کرتا۔ یہ ایک نسل کی کہانی ہے نہ ایک ملک یا قوم کی۔ یہ اس روئے زمین پر رونما ہونے والے ایک عہد ِ زیاں کی کہانی ہے۔یہ اعتراف شکست ہے یا صور ت احوال واقعی، اس بات سے قطع نظر اس تمثیل کا اطلاق کہاں کہاں نہیں ہوتا۔ حمید شاہد نے اس کہانی میں علامت سے معنویت ہی نہیں بلکہ ابلاغ کی ایک ایسی سطح بھی اخذ کی ہے جو ہر اعتبار سے قابل رشک ہے۔

 ”گانٹھ“ پرانی امیدوں اور خوابوں کی راکھ سے نیا جنم لینے والے آگ کے کیڑے کی داستان ہے جو ایک اجتماعی سانحے کی آتش میںدھل کر نکلا ہے۔ وہ ایک نیا انسان ہے جسے اپنی پہچان اور قیام کے قرینے نئے سرے سے طے کرنے پڑے ہیں۔ اس فکری زاویے کے حوالے سے اس کہانی کا ذائقہ ”مرگ زار“ سے ملتا جلتا ہے تاہم ایک ہی موضوع کو نہایت مختلف اور متنوع ٹریٹ منٹ کے ذریعے نیا رنگ دیا گیا ہے۔

Hameed Shahid’s “Marg Zaar” launched

ڈاکٹر نجیبہ عارف|مرگ زار کے افسانے

دہشت میں محبت: اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں تقریب اجراء


سید مظہر جمیل
سید مظہر جمیل

سید مظہر جمیل

حمید شاہد کی کہانیاں بالخصوص ”مرگ زار“ ، ” گانٹھ“ ،” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ ایسی کہانیاں ہیں جنہیں معاصر کہانی کے بند دروازے پر دی جانے والی ایسی دستکیں سمجھنا چاہیے جو بے حس ضمیروں پر جمی برف کو پگھلا سکتی ہوں یا نہیں لیکن حمید شاہد نے ان کہانیوںکے توسط سے زبوںحال انسانوںپر توڑے جانے والے ظلم‘ تشدد ‘جبر‘ سفاکیت‘ دہشت اور ہلاکت آفرینیوں کے خلاف تخلیق کے محضر نامے پر اپنا استغاثہ ‘ اپنی گواہی ‘ انحرافی رد ِعمل اور احتجاج ضرور رقم کر دیا ہے۔

” مرگ زار“ ایک ایسی کہانی ہے جو افغانستان کے چٹیل اور سخت کوش معاشرے میں گزشتہ تین عشروں سے جاری وحشت و بربریت ‘ خوں آشامی‘ قتال عظیم اور انسانیت کی تذلیل و شکستگی کی طا غوتی عملداری کے پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔ ایک دور وہ تھا جب افغانستان میں کفر اور اسلام کا جہاد فی سبیل اللہ بپا تھا‘ہلاکت و سفاکیت کا ایک آتشیں الاﺅ تھاجس نے نکبت کے شکار معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ روس کی بے دین فسطائیت پر خدائے واحد کی حاکمیت اور دین اسلام کی رحمتوں کا فروغ ہی وہ اعلی نصب العین تھے جو بیک وقت مجاہدین اسلام اور سرکارِ امریکہ کو عزیز تھے کہ وہی اس جہادِ فی الدین کا سب سے بڑا مربی اور حلیف تھا۔ اس آتشیں الاﺅ کو دہکائے رکھنے کے لیے عالم اسلام سے سرفروش مجاہدین کے غول کے غول تھے جو شہادت کی دولتِ بے بہا کی طلب میں قیمتی جانوں کا نذرانہ گزارتے نہ تھکتے تھے۔ یہ عالمی جہاد کا وہ کار زار تھا جو کشمیر ‘ افغانستان ‘ فلسطین ‘ چیچنیا اور بوسنیا جیسے دور دراز خطوں تک پھیلا ہوا تھا اور جہاں کھیتوں کھلیانوں تک مجاہدوں‘ فدائیوں اور حریت پسندوں کے لیے شہادت کی سبیلیں کھولی جا چکی تھیں ۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے موسم بدلا کہ جہاد کی عبادت گزاری کو دہشت گردی کی غلیظ گالی کا مترادف قرار دیا گیا۔ اور مغرب کے متمدن معاشروں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اکنافِ عالم میں ان دہشت گردوں کو ‘ جو کبھی فدائین‘ کبھی مجاہدین اور حریت پسند وں کے القابات سے پکارے جارہے تھے‘ چن چن کر قتل کیا جانے لگا۔ ان کی بستیاں ‘ ان کے شہر‘کھیت‘ کھلیان‘ کچے پکے جھونپڑے‘ عبادت گاہیں‘ اسکول‘ اسپتال غرض سب ٹھکانے نیست و نابود کر دیے گئے۔ عالمی سپر طاقت اور ان کے باج گزارحلیفوں نے افغانستان کے مفلوک الحال باشندوں کے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔

ظاہر ہے موضوعاتی سطح پر یہ ایک نہایت چیختا چنگھاڑتا موضوع ہے جس سے ہلاکت آفرینی کے بے شمار گوشے نکلتے ہیں ۔ اس خون آشام موضوع پر ایک بلند بانگ للکارتی ہوئی کہانی ہی لکھی جا سکتی تھی۔ جس میں نالہ و شیون کی اذیت ناک کراہیں بلند ہوتیں یا حز یمت خوردہ زخموں کی للکاریں ‘ لیکن محمد حمید شاہد نے انتہائی محتاط اسلوب سے کہانی کو فنی دائرے سے باہر نکلنے سے باز رکھا ہے اور کہانی ماجرائیت کی سطح سے لے کر اختتامی فقروں تک فطری اظہار کا زینہ طے کرتی دِکھائی دیتی ہے ۔ واقعاتی سطح پر تو کہانی میں کوئی ندرت نہیں ہے کہ اس زمانے میں ایسے سانحے معمول کی بات تھی۔ ایک نوجوان (مصعب) افغانستان میں بپا جہادی مورچے میں شہید ہوجاتا ہے اور مجاہد تنظیم کے لوگ اس کی لاش کے منتشر ٹکڑے اکٹھے کر کے پشاور لاتے ہیں اور کہانی کے راوی کو جو شہید کا بھائی ہے ‘ اس کی شہادت کی ”خوشخبری“ سناتے اور مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ وہ بھائی کی لاش حاصل کر نے مری سے پشاور تک کا سفر کرتا ہے لیکن جہادی تنظیم والے شہید کی وصیت کے مطابق اس کی لاش کے باقیات کو جلال آباد کے گنجِ شہیداں میں دفن کرنا چاہتے ہیں اور اس کام کے لیے اس کی اجازت چاہتے ہیں ۔ کہانی کا سارا تاروپود ایک بے حس میکانکیت کا اظہار ہے ۔ جہادیوں کے قول و عمل میں شہادت کی دولتِ بے بہا پر مبارکبادیاں ہی مبارکبادیاں ہیں۔ انسانی زندگی کے اتلاف پر دکھ اوررنج کی ہلکی سی لہر بھی نہیں ۔ ایک جیتا جاگتا پرجوش نوجوان جس کے سامنے عالمِ امکان پھیلا ہوا ہے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے لیکن اس کا کٹا پھٹا لاشہ بھی محترم ہے کہ وہ شہید کے ارفع وعالی مقام پر فائض ہو چکا تھا تو وہ ”شہادتیں“ جو نقل مقانی اور ہجرت کے دوران وقوع ہوئی تھیں اور جنہیں بھلانے میں ایک مدت لگی ہے‘ اس شہادت سے کیوں کر مختلف ہو سکتی ہیں ۔ اب وقت گزرنے کے بعد سب موتیں ایک ہی جیسا صدمہ بن کر رہ جاتی ہیں فرق صرف نکتہ  نظر کی تبدیلی کا ہوتا ہے اور اس عقیدے کا کٹر پن انسان سے دل گداختگی کی حرارت چھین لیتا ہے۔ کہانی میں جذباتیت اور سنسنی خیزیت کا احساس نہیں ہوتا۔ بس حزن و ملال کی اتنی ہی کیفیت طاری رہتی ہے جتنی ایک ایسے عمومی واقعے میں ہونا چاہیے تھی اور ایسا کیوں کر ممکن ہو سکا؟ یہ سوال بجائے خود کہانی کے ایک اہم پہلو کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ یہ کہ ”مرگ زار میں محمد حمید شاہد نے تکنیکی اعتبار سے ایک ذرا جداگانہ وتیرہ اختیار کیا ہے یعنی فکشن اور نان فکشن کے اختلاط سے فضا سازی کاکام لیا ہے ۔ جو باتیں کہانی میں بیان نہیں کی جاسکتی تھیں انھیں وضاحتوں کے زمرے میں بیان کر دیا گیا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ دونوں حصے ‘فکشن /نان فکشن ایک دوسرے سے مربوط ہو کر کہانی کے مجموعی تاثر کو مزید گہرا کرتے ہیں ۔ بے شک ” مرگ زار“ اس موضوع پر لکھی گئی اچھی کہانیوں میں ضرور شامل کی جائے گی اور اس میں برتی گئی تکنیکی تدبیر کاری کی افادیت اور تاثیریت پر متعلقہ حلقوں میں غور بھی کیا جائے گا۔

حمید شاہد کی کہانی ” گانٹھ“ 9/11 کے بعد پیدا ہونے والی عالمی صورت ِ حال سے جنم لیتی ہے جس میں ایک ایسے پاکستانی ڈاکٹر کی افتاد دکھائی گئی ہے جو کئی عشروں سے امریکا میں آباد چلا آتا ہے اور جس نے اپنے وجود ہی کو نہیںبلکہ جداگانہ شناخت‘ تصورات‘ خیالات اور احساس تک کو امریکی معاشرے میں مکمل طور پر ضم کر دیا ہے ۔ اس نے امریکی خاتون سے شادی کی اور اسے نہ صرف اپنے مذہب پر کاربند رہنے کی آزادی دی بلکہ بچوں تک کو مقامی طور طریقوں ہی پرپروان چڑھانے کی اجازت دی۔ یہاں تک کہ بیوی ہمیشہ ”کیتھرائن“ اور بیٹے ”راجر“ اور ”ڈیوڈ“ ہی رہے ۔ اس نے دنیا کی ہر آسائش اپنے امریکی خاندان کو فراہم کی ‘ اس کا ماضی نہ جانے کب سے فراموش گاری کی گرد میں اٹ چکا تھا کہ 9/11 کی ناگہانی افتاد نے اسے بھی بہت سے سابقہ ہم وطنوں کی طرح شک وشبہ کے خندق میں پھینک دیا اور بالآخر اسے بھی ”اون کنٹری“ میں ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ رشتے ناطے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ چکے تھے ۔ حد یہ کہ بیوی بچے تک مغائرت اور بیگانگیت کا شکار تھے۔ ان کے درمیان صرف ضرورت مندی کا ایک واسطہ رہ گیا تھاکہ بیوی بچوں کا اس سے مطالبہ تھا تو بس اتنا کہ وہ ڈی پورٹ ہونے سے قبل امریکا میں موجود اپنی تمام دولت سے دست برداری کے کا غذات پر دستخط کر دے کہ وہ اس کے بعد فارغ البالی کی زندگی بسر کر سکیں۔ پاکستان آنے کے بعد بھولی بسری بہن اور اس کے بچوں سے ٹوٹے ہوئے رشتے کی بحالی نئی حقیقت پسندیت کو اُبھارتی ہے ۔ بادی النظر میں دیکھیے تو یہ کہانی بھی عالمی سیاست کے تناظر میں لکھی گئی کہانی نظر آتی ہے لیکن بغور دیکھیں تو اس میں بھی انسانی رشتوں کی شکست و ریخت اور تہذیبی و ثقافتی قدروں کی پائمالی اور نامعتبری کا المیہ دکھائی دے گا اور دنیا کی مہذب ترین قوم جو دنیا بھر میں انسانی توقیر ‘ انصاف پسندیت‘ امن و امان کی بحالی‘ عالمی خوشحالی اور تہذیبی فروغ کی سب سے بڑی سرپرست‘ مربی اور وکیل ہے‘ وہی ایک ایسی قوت بن کر اُبھرتی ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ اور حصول کے لیے انتہائی درجہ کی پست ذہنیت‘ تکبر‘ جارحیت اور لاقانونیت کی پرچارک دکھائی دیتی ہے۔ اس کہانی کو بھی محمد حمید شاہد نے نہایت احتیاط اور التزام کے ساتھ لکھا ہے اور حالات و واقعات کی تیزوتند روانی کو قابو میں رکھنے کے لیے ایسی چھوٹے چھوٹے ٹچز کے ذریعے معنویت کے اسرارپیداکیے ہیںجو سیدھے سادے اسلوب میں مشکل ہو سکتے تھے۔ مثلاً قدیم گھر میں ٹنگی ہوئی مکمل اور نامکمل تصویروں کا ٹچ کتنی ہی ان کہی باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

سیّد مظہر جمیل|مرگ زار اور دوسری کہانیاں


Shahnaz Shoro
شہناز شورو

شہناز شورو

”مرگ زار “ پڑھ کر عجیب کیفیت ہو گئی …. ان کہانیوں نے محض کلیجہ ہی کیا‘ افسانہ نگار کو بھی چبا ڈالا ہو گا۔ بدلتے موسموں ‘ جذبوں ‘ڈرتے خوفزدہ ہوتے ‘ مرتے اور آدرشوں کی عظمت پر قربان ہوتے لوگوں کی کہانی …. جو The survival of the fittest کے جہان میں سب کچھ رول بیٹھے ۔ ہیرے پتھر ہو گئے ‘ مٹی ہوگئے ‘ پتھر گہر بن بیٹھے ۔ آنسو پانی ہوگئے ‘ جذبے حماقت بن گئے …. بچا کیا؟؟ یہ کہانیاں اس کڑوے سچ کے الاﺅ سے دھک کر ‘ پک کر باہر آئی ہیں جو صدیوں سے ابل رہا ہے اور جسے جنموں کے آنسو بھی نہیں شانت کر سکتے ۔ ادیب کے قلم کو سلام کہ وہ آگہی سارے خمیازے بھگت کر بھی زندگی زندگی کی سفاکیاں بیان کر رہا ہے ۔

نائن الیون اور محمد حمید شاہد کے افسانے

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *