M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد عارف |الحمرا لاہور: ادبی و ثقافتی میلہ

محمد عارف |الحمرا لاہور: ادبی و ثقافتی میلہ

hameed shahid-mustansar tarrar
مستنصر حسین تارڑ، محمد حمید شاہد:کہانی کا شناور

کہانی کا شناور

محمد عارف کی مفصل رپورٹ سے مقتبس

آج کا دوسرا سیشن جو ہم نے سنا اس کا عنوان، کہانی کا شناور، تھا اور مستنصر حسین تارڑ صاحب مہمان کے طور پر اپنی لکھی ہوئی کہانی پر بات کرنے کے لیے موجود تھے، میزبان جناب آصف فرخی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہمارے دوست جناب حمید شاہد کو میزبانی کے فرائض انجام دینے کے لیے چنا گیا تھا۔ حمید شاہد پیشے کے اعتبار سے تو بنکر ہیں لیکن اردو ادب میں افسانہ نگاری کی صنف میں اونچا مقام رکھتے ہیں، بہت ہی اچھے اور شفیق انسان ہیں، جب بھی ملیں بہت خوش دلی اور محبت سے ملتے ہیں، ہمشہ گلے سے لگاتے ہیں، باتیں کرتے کرتے وقتاً فوقتاً آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ہلکا سا دبانا ان کے پیار کا خوبصورت اظہار ہے، اور اپنے اس اظہار کو وہ اس وقت، اسٹیج پر، تارڑ صاحب سے مکالمہ کرتے ہوئے بہ مشکل روک پا رہے تھے، سامنے سامعین میں بیٹھا ،میں ان کی اس نیم کامیاب کوشش کو دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا، حمید شاہد صاحب نے تارڑ صاحب کے لکھے شروع کے سفرناموں اور کچھ ٹی وی پروگراموں کا ذکر کرنے کے بعد جب ان سے یہ کہا کہ
’’ تارڑ صاحب جب آپ ان سفرناموں کے بعد، سنجیدہ تحریروں کی طرف آئے اور ناول اور کہانی لکھی تو آپ کے قاری نے اسے کیسا پایا؟‘‘
تارڑ صاحب نے فوراًکہا، ’’میں ہمیشہ ہی سے سنجیدہ لکھاری تھا، ہاں آپ کے ہاں ایک ایسا وقت ضرور تھا جب آپ لوگ سفرنامے کو اردو ادب میں جگہ دینے کو تیار نہیں تھے، حالانکہ یہ اس وقت بھی ادب کی اتنی ہی اہم صنف تھا جتنا کہ آج اسے مقام حاصل ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ لکھنے والا کون ہے، کس کے قلم سے یہ سطریں لکھی گئی ہیں، اگر قرۃ العین حیدر اپنی ڈائری میں دھوبی کا حساب بھی لکھے گی تو وہ ادب ہو گا، ظاہر ہے وہ ایک اچھی مصنفہ ہے اور وہ روز مرہ کی تحریر میں بھی تحریر کے خدوخال کا اتنا ہی خیال رکھے گی کہ وہ تحریر ادب کا حصہ ہو گی۔
تارڑ صاحب آپ کی کہانی کا ایک کردار ہے، سکوٹر کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی ایک لڑکی۔۔۔۔
جی ہے۔۔۔
پھر وہ لڑکی یکدم مسکراتی ہے۔۔
جی۔۔۔
کیوں۔۔؟
حمید شاہد صاحب نے، کیوں، کو ذرا کھنچتے ہوئے کہا۔۔
حمید شاہدصاحب! بات یہ ہے کہ میں اپنی سب کہانیوں کے کردار اپنے ارد گرد کی حقیقی زندگی سے ہی لیتا ہوں، یہ کردار بھی ایسا ہی ایک کردار ہے، ایک روز میں ریگل چوک پر کھڑا تھا کہ ایک اسکوٹر پاس آ کر رکا جسے ایک لڑکا چلا رہا تھا، اسکوٹر کی پچھلی سیٹ پر ایک لڑکی بیٹھی تھی، پھر اس لڑکی نے اپنا منہ لڑکے کے کان کے پاس لیجا کر کچھ کہا اور مسکراتے ہوئے پیچھے ہوئی، اس کی اس مسکان میں وہ گہری محبت چھپی تھی جسے میری آنکھ کے کیمرے نے میرے دماغ کے کینوس پر محفوظ کر لیا اور میں نے سوچا کہ میں اس محبت پر پورا ایک ناول لکھوں گا۔ میری کہانی کے کردار مجھ میں جیتے اور مرتے ہیں اور میں ان میں جیتا اور مرتا ہوں۔

جینے اور مرنے کی بات آئی تو حمید شاہد صاحب نے تارڑ صاحب کی پچھلے دنوں اس انتہائی بیماری کا ذکر بھی کیا جب تارڑ صاحب کی زندگی موت کی دہلیز پر جا کھڑی ہوئی تھی۔ الحمدللہ اب تارڑ صاحب مکمل صحتمند تھے اور ہمارے سامنے بیٹھے ہم سے باتیں کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحت اور خوشیوں بھری زندگی عطا کرے۔
تارڑ صاحب بتانے لگے کہ اس بیماری کے دوران ایک ایسا وقت بھی آ گیا تھا جب میں سمجھا تھا ، دس از ایٹ، اور وہ لمحے میں آپ سے شیئر نہیں کرونگا، نجیبہ اور کچھ سامعین نے اصرار کیا ، پلیز آپ ضرور شیئر کریں۔۔۔
’’یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب آپ صرف آپ ہوتے ہیں، اس لمحے مجھے کسی کا خیال نہیں آیا۔۔ کوئی والدین نہیں ، کوئی بھائی نہیں، کوئی بہن نہیں، کوئی بیٹا نہیں، کوئی بیٹی نہیں، کوئی آخرت یا دینا داری نہیں حتیٰ کہ کوئی عقیدہ بھی نہیں، مکمل طور پر بلینک۔ بس ،،،صرف ایک سانس اور۔۔۔۔ ایک سانس۔۔۔ ‘‘
جب میں ڈاکٹرز کا تختہ مشق بنا ہوا تھا، آپریشن تھیٹر میں بےہوش پڑا تھا، تب ایک کلیئر وژن دیکھا، ایک بہت بڑا صحرا ہے اور اس کے بیچوں بیچ میری امی کھڑی ہیں، عام گھریلو کپڑے پہن رکھے ہیں، چہرے پر کسی طرح کے کوئی تاثرات نہیں ہیں، میں پوچھتا ہوں ،’’امی! آپ کہاں، آپ یہاں کیا کر رہی ہیں‘‘، تو کہتی ہیں ’’میں تمہیں دیکھنے آئی ہوں‘‘۔ مجھے اسی لمحے پتہ چل گیا تھا کہ ابھی مجھے مرنا نہیں ہے، اگر امّی یہ کہتیں کہ میں تمہیں لینے آئی ہوں تب بات اور تھی اور مجھے ان کے ساتھ ہی جانا تھا لیکن وہ تو مجھے دیکھنے اور دعا دینے آئی تھیں۔

حمیدشاہد صاحب کمال مہارت سے تارڑ صاحب کو زیادہ سے زیادہ بولنے کا موقع دے رہے تھے، مختصر سوال کرتے اور تارڑ صاحب کے مائیک کی ریڈ لائٹ آن ہی رہتی۔

ایک سوال کے جواب میں تارڑ صاحب نے کہا۔’’ میری زندگی کے دو بڑے دکھ ہیں جو ہیں اور ابھی بھی ہیں میرے اندر پل رہے ہیں مجھے کھوکھلا کر رہے ہیں ، میرا اندر کھا رہے ہیں۔ اور عجب اتفاق ہے یہ دونوں دکھ ایک ہی دن میں نے سہے ہیں، ایک ۴۴ سال پہلے، جس روز سقوط ڈھاکہ ہوا اور دوسرا اسی روز ایک سال پہلے، ۱۶ دسمبر کا دن، جب میرے اسکول کے بچوں کو کس بے دردی سے مارا گیا، یہ دو ایسے دکھ ہیں جو مجھے لمحہ لمحہ مار رہے ہیں، مجھے کسی پل بھی چین نہیں، ہاں شاید میرے اس دکھ میں کوئی کمی آ جائے اور میں کچھ گھڑیاں چین کی گزار سکوں اگر اس جرم کے مرتکب افراد ۔۔ آخر کوئی تو ہو گا ناجو اس سب کی وجہ ہو گا۔۔ ان افراد میں سے کچھ لوگوں کو ہی پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو میرے دکھوں کا کچھ مداوا ہو۔ دیکھیں کب میرے دکھ میں کچھ کمی ہوتی ہے۔
یہ دونوں سانحے جو اس ملک میں ہوئےاس کا گلٹ میں اپنے اندر بھی محسوس کرتا ہوں اس گلٹ کے ساتھ رات دن گزارتا ہوں، ان کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے میں ان کے ساتھ وقت گزارتا ہوں، ہم رائٹرز میں یہ بات بھی تو ہے نا ! ہم بس کسی بھی واقعے پر کوئی کہانی یا کالم لکھ کر فارغ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں، سمجھتے ہیں ہم نے اپنا کام تو کر لیا ، ہمارا کام ختم ! اب اور کیا کریں، اس لیے کہانی لکھنے سے پہلے میں اس گلٹ کو دوست کرتا ہوں ،کہانی کے کرداروں کو اپنے اندر سینچتا ہوں ان کے ساتھ روتا ہوں ساتھ مرتا ہوں۔
یہ کہانی جو آپ مجھے پڑھنے کے لیے کہ رہے ہیں ، میں پڑھ نہیں سکوں گا ، میں اپنے جذبات اپنے قابو میں نہ رکھ سکوں گا، میں آپ کو مختصر اس کہانی کے بارے میں بتا دیتا ہوں، اس کہانی میں ایک ترکھان ہے، جس کے پاس ایک شخص بچوں کے کھیلنے کےلیے لکڑی کےکھلونے بنوانے آتا رہتا ہے، کبھی وہ اس سے لٹو بنواتا ہے اور کبھی گلی ڈنڈا، آج یہ شخص اس کے پاس بچوں کے لیے لکڑی کے جھولے بنوانے آیا ہے جو اصل میں تابوت ہیں، اور ایک کہانی کی طرح تھوڑا تھوڑا کر کے اسے بتا رہا ہے تاکہ اسے یہ کام زیادہ نہ لگے، وہ کہتا ہے بس سیدھے سیدھے لکڑی کے پھٹے ہی تو کاٹنے ہیں اور آپس میں جوڑ دینے ہیں، اور یہ جھولے تو ہیں بھی چھوٹے سائز کے،اگر تم ان کے اوپر بھی ایک آدھ پھٹا لگا دو گے تو یہ تابوت کی صورت لگیں گے لیکن تم ان کو جھولنے کی مانند بنانا کیونکہ ان کو بس جھولتے ہوئے ہی جانا ہے، لیکن یہ جھولتے جھولنے ۱۴۴ کی تعداد میں ہیں۔
تارڑ صاحب نے جنت میں بی بی زینب کو ۱۴۴ بھائیوں کے آنے کی اطلاع دیے جانے کا بھی ذکر کیا اور زینب کی معصوم حیرانگی کا بھی، کہ وہ تو صرف دو ہی تھے، میرے پاس تو اتنے بستر بھی نہیں ہیں، اورمیرے گھر میں اتنی جگہ بھی نہیں۔۔ ‘‘
یہ کہانی سناتے ہوئے، حمید شاہد صاحب نے شاید تارڑ صاحب کی آنکھوں میں چھپے وہ آنسو دیکھ لیے تھے جو باہر چھلکنے کی بجائے ان کے اندر ہی گر رہے تھے، اسی لیے انھوں نے اختتامی فقرے کہتے ہوئے اور تارڑ صاحب کی صحت کی دعا کے ساتھ ہم سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس پروگرام کو ختم کیا۔ پروگرام تو ختم ہو گیا لیکن دلوں میں سوز و دکھ کے دروازے کھول گیا۔


12342399_10153050444121157_7064319572444354456_n
ڈاکٹر کامران،امجد طفیل،محمد حمید شاہد،انتظار حسین، مسعود اشعر اور ناصر عباس نیر:اردو افسانے کے سو سال

اردو افسانے کے سو سال

۱۳ دسمبر ۲۰۱۵ اتوار کا دن اور سردیوں کی چمکتی دھوپ ، اس سال کی ادبی اور ثقافتی کانفرنس کا آخری دن، ہم گھر سے خداحافظ کہ کر، نجیبہ کی دوست عظمہ سے ملتے ہوئے دن گیارہ بجے کے قریب الحمرا آرٹس کونسل پہنچے، باہر لان میں ہی دھوپ میں بیٹھے ،حمید شاہد صاحب سے ملاقات ہو گئی، انھوں نے بتایا کہ صبح کا سیشن ’’اردو افسانے کے سو سال‘‘ جس میں انھوں نے بھی حصہ لیا تھا، ہو چکا ہے اور اب وہ فارغ ہیں کسی اور سیشن کو اٹینڈ کرنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے۔ حمیدشاہد کو ہم نے اپنے ساتھ واپس اسلام آباد جانے کی دعوت دی تھی اور ہم راستے میں دھند کے ڈر سے دن دن میں ہی سفر کرنا چاہتے تھے۔ عکسی صاحب کو بھی دعوت تھی لیکن میرے خیال میں وہ آج رات ہونے والی محفل موسیقی میں شرکت کرنے کے بعد کل صبح واپسی کا ارادہ رکھتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کا ایک بڑا فائدہ، جہاں چاہو چلے جاؤ ،جتنا چاہو قیام کرو، کوئی دفتر نہیں، کوئی دفتر کے جھنجھٹ نہیں، اور عکسی صاحب اس کا بھرپور مزہ لے رہے تھے۔


12369262_1010903378953428_3955519576798043208_n
نجیبہ عارف، ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد، عکسی مفتی

واپسی کا سفر

12346600_1075199042544366_1019137585932608595_n
ظہیر بدر، عاصم بٹ، طارق نعیم، محمد حمید شاہد، سرفراز شاہد

سیشن ختم ہونے کے بعد ہم نے لوگوں سے الوداعی ملاقاتیں کیں، کچھ تصویریں لیں، عطاالحق قاسمی صاحب کو ایسی کامیاب کانفرنس منعقد کروانے پر مبارکباد دی اور عکسی صاحب کو رات کے موسیقی شو سے لطف اندوز ہونے کے لیے وہیں چھوڑتے ہوئے گاڑی میں آ بیٹھے۔ حمید شاہد صاحب ہمارے ساتھ ہی تھے اور نجیبہ سے اصرار کے ساتھ یہ نصحت کرتے ہوئے پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے کہ آپ کو کبھی بھی یوں اپنی نشست کسی کے لیے بھی نہیں چھوڑنی چاہیے۔ حمید شاہد کو ہوٹل سے جہاں وہ اس کانفرنس کے دوران ٹھہرے ہوے تھے اپنا سامان لینا تھا اور پھر ہماری منزل اسلام آباد تھی۔
جیسا کہ میں پہلے بھی اس بات کا ذکر کر چکا ہوں کہ حمید شاہد افسانہ نگاری کے منجھے ہوے کلاکار ہیں، اپنے افسانے میں کہانی کو کتنا سلو یا تیز کرنا ہے، کب ،کس طرف، اور کتنے زاویے پر موڑنا ہے، یہ ان کے بایئں ہاتھ کا اور دن رات کا کام ہے، لیکن وہ اپنی یہ صلاحیت واپس ہوٹل پہنچنے کے لیے ان سڑکوں پر مجھ پر آزمائیں گے اس کا اندازہ مجھے بالکل بھی نہیں تھا۔ مال روڈ پر آتے ہی کہنے لگے ’پہلی ٹریفک لائٹ کراس کرنے کے بعد دوسری ٹریفک لائٹ سے سیدھے ہاتھ مڑ جائیں‘ دوسری ٹریفک لائٹ پر پہنچا تو وہ ریڈ تھی میں رُک گیا اور بولا،
شاہد صاحب دیکھ لیں یہی سے سیدھے ہاتھ مڑنا ہے، آپ جگہ پہچان رہے ہیں نہ۔
’ہاں ہاں بس یہاں سے اندر مڑ جائیں، ہم نے پی سی کے پیچھے جانا ہے، آپ کو ہوٹل ون لکھا ہوا نظر آ جائے گا، یہ بس ساتھ ہی ہے ، دور نہیں ہے، ‘
جس موڑ سے میں سیدھے ہاتھ مڑا وہ سڑک جناح گارڈن کے ساتھ اندر مڑتی تھی اس پر آتے ہی شاہد صاحب نے مجھے اُلٹے ہاتھ گاڑی موڑ لینے کو کہا اور جب ہم وہاں چنبہ ہاؤس کے سامنے پہنچے تو کہنے لگے کہ ’یار وہ اتنا بھی دور نہیں تھا، پی سی کی بیک سائیڈ پر تھا، یہاں کسی سے پوچھ لیتے ہیں، میری وجہ سے آپ کو بھی پریشانی اٹھانا پڑی‘
نہیں شاہد صاحب اس میں پریشانی کیسی، اچھا ہے میری کہانی کا مواد اکٹھا ہو رہا ہے، یہ سننا تھا کہ نجیبہ اور حمید شاہد نے زور کا قہقہہ لگایا ، نجیبہ کہنے لگی جب سے عارف نے لکھنا شروع کیا ہے یہ لوگوں میں ہی اپنی کہانی ڈھونڈتے ہیں، اب تو لوگ بھی ذرا دیکھ کر بات کرتے ہیں کہ اس نے لکھ دینا ہے، حمید شاہد صاحب نے کچھ ہنستے اور کچھ ڈرتے ہوئے کہا، یار پھر تو کام خراب ہو گیا ہے، اور یوں ہنستے ہنستے ہم ، یہ ہی کوئی سات آٹھ موڑ مڑنے کے بعد دوبارہ باہر مال روڈ پر آئے اور کینال روڈ موڑ سے یو ٹرن لے کر مال روڈ کے اوپر ہی واقع ہوٹل ون میں پہنچے، جو کہ مال روڈ پر ہی پی سی کے پہلو میں ہی تھا ۔شاہد صاحب مجھ سے کہنے لگے میرا خیال ہے ہم راستے سے زیادہ تو نہیں بھٹکے آپ کی کہانی کے دوسرے صفحے تک تو ہم ہوٹل پہنچ ہی گئے ہیں اور پھر خود ہی قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ حمید شاہد نے اپنا سامان لیا ہوٹل سے چیک آؤٹ ہوئے اور ہم اپنی اگلی منزل اسلام آباد کے طرف چل پڑے۔
موٹر وے پر کراچی اور لاہور میں سجی ان اُردو کانفرنس کے بارے میں بات کرتے ہم اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھے، یہ کانفرنسز اُردو ادب کا تو شاید اتنا بھلا نہیں کرتی ہونگیں لیکن اتنے بڑے پیمانے پر ان ادیبوں اور شاعروں کو ایک جگہ مل بیٹھنے کو پلیٹ فارم ضرور مہیا کر دیتی ہیں ، جس سے یہ لوگ ایک دوسرے کے کام کے بارے میں بہتر طور پر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں ، ان کانفرنسز میں پڑھے جانے والے مقالے اور شاعری، بعد کے ریفرینس کے لیے اگر ڈوکیومینٹ بھی ہونے لگے اور ہر کانفرنس کا ایک جریدہ بھی آنے لگے جس میں یہاں پڑھے سب مقالے اور شاعری شامل کیے جاہیں، تو یہ اُردو ادب کا بھی بھلا ہو گا، ورنہ سُنی ہوئی باتیں تو ہم چند دنوں میں ہی بھُول جاتے ہیں۔

راستے میں سروس ایریا پر پٹرول لینے اور کچھ آرام کے لیے رُکے تو حمید شاہد صاحب نے یہاں سے اپنے اور میرے لیے بھٹو اسٹائل کی دو کیپ لیں، اس ٹھنڈ میں باہر سروس ایریا میں کھڑے شاید ان کی ضرورت بھی تھی۔ میں نے حمید شاہد صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، الحمرا سے آپکے ہوٹل تک تو ہم دو صفحوں میں پہنچ گئے تھے اور ہوٹل سے یہاں تک دو اور ہو چکے ہیں ، میں کہانی کے آٹھویں یا نوویں صفحے تک اسلام آباد پہنچنا چاہتا ہوں۔ گاڑی دوبارہ چلی تو حمیدشاہد صاحب مسکراتے ہوئے کہنے لگے، ’’ تو آپ ابھی بھی کہانی سوچ رہے ہیں ، آپ کی کہانی جب مجھ تک آئے تو بھائی ذرا ہتھ ہولا رکھنا،‘‘ حمید شاہد صاحب کہانی کے بارے میں تو خیر میں سوچ ہی رہا تھا ، لیکن اب مجھے لگتا ہے جب میں کہانی کے اس پوائینٹ پر پہنچوں گا، جہاں آپ نے فرمایا ہے ’’ذرا ہتھ ہولا رکھنا‘‘ یہاں آپ پھنسیں گے۔ او تیری خیر، زیر لب کہتے ہوئے حمید شاہد نے زور کا قہقہہ لگایا اور ہم دوبارہ موٹر وے پر تھے۔


محمد عارف کی مفصل رپورٹ کے لیے

https://www.facebook.com/groups/Taqreeb/permalink/750151151796302/


آہا، ہم نے ادبی میلہ دیکھا

12369143_10153050444461157_1143560973194883288_n
مکالمہ:اردو افسانے کے سو سال

حسنین جمال کے کالم سے مقتبس

پچھلے دنوں ایک تحریر میں ادب کے مصنوعی ستارے کا لفظ دیکھا۔ مدعا یہ تھا کہ ان تمام ادبی کانفرنسوں میں شامل ہونے والے لوگ مصنوعی ستارے ہیں اور ادب کے تاجروں (کانفرنس کے منتظمین) کے لیے ان کا دم غنیمت ہے۔ اچھا بھئی، حیراں ہوں دل کو پیٹوں کہ رووں جگر کو میں، اب انتظار حسین، منو بھائی، انیس اشفاق، کیول دھیر، نورالہدی شاہ، آصف فرخی، مستنصر حسین تارڑ، حمید شاہد، اصغر ندیم سید، کمال احمد رضوی، (تقدیم و تاخیر کی معذرت)، سلیمہ ہاشمی، انور مسعود، اجمل کمال، عبداللہ حسین، مسعود اشعر اور دیگر تمام لوگ جو ہمارے اثاثے ہیں، جنہیں ان کانفرنسوں کے طفیل بار بار دیکھ کر اور سن کر بھی ہمارا جی نہیں بھرتا، یہ سب مصنوعی ستارے ہیں تو پیارے بھائی، اصلی ستارے تو گنوا دیجیے۔ کہاں ہیں وہ ستارے جن کی ضو ہم تک نہیں پہنچی اور ہم اپنے تئیں ’تخلیقی تنہائی‘ کا شکار ہوئے جاتے ہیں۔ تارڑ صاحب والی نشست بھی کمال تھی۔ آصف فرخی صاحب بوجوہ نہ آ سکے تو محمد حمید شاہد صاحب نے نظامت سنبھالی۔ تارڑ صاحب سے دوبدو گفت گو مشکل کام ہے یارو، اس دن اندازہ ہوا۔ بھائی، وہ پٹخنیاں دیں گے کہ آپ جانیں! کچھ ان کا گلہ یہ تھا کہ سنجیدہ ادب کے نقاد ان کے کام پر توجہ نہیں دیتے، تو وہ بالکل جائز تھا۔ سفرناموں کو ادب میں شمار ہی نہیں کیا جاتا، تو یہ بات بھی جائز تھی۔ دو تین دفعہ تارڑ صاحب نے گھمایا لیکن آفرین ہے حمید شاہد صاحب پر کہ انہوں نے بہ کمال دانش مندی نظامت کے فرائض بہ طریق احسن نبھائے۔ یہ کامیاب ترین نشستوں میں سے ایک اس لحاظ سے رہی کہ تارڑ صاحب کھل کے بولے اور شاہد صاحب نے انہیں بلوایا۔ اور موت کا جو تجربہ تارڑ صاحب نے بیان کیا وہ بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا، اگر آپ وہاں نہیں تھے تو اب ان سے پوچھیے۔ ہم تو چلے آگے۔۔۔ –


حسنین جمال کے مکمل کالم کے لیے

http://humshehrionline.com/?p=15507#sthash.ER61Sr0O.dpbs

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

                      شکریہ جنگ کراچی : http://e.jang.com.pk/08-09-2017/karachi/page14.asp …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *