M. Hameed Shahid
Home / حدیث دیگراں / غلام عباس|”منٹو صاحب‘‘ شمس الرحمن فاروقی اور محمد حمید شاہد

غلام عباس|”منٹو صاحب‘‘ شمس الرحمن فاروقی اور محمد حمید شاہد

غلام عباس
غلام عباس
غلام عباس کی کتاب کا انتساب
غلام عباس کی کتاب کا انتساب

(غلام عباس کی کتاب”اردو افسانے کی تنقید اور شمس الرحمن فاروقی ” سے ایک باب)
شمس الرحمن فاروقی آج کے عہد کے بڑے اور منفرد نقاد ہیں۔ ان کی کہی گئی بات کو نہ صرف ہر طرف سے توجہ اور پذیرائی ملتی ہے، ان کی تحریریں مخالف نقطہ نظر رکھنے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ کہنے پر اکساتی ہیں ۔ فکشن کی تنقید کے ساتھ ساتھ وہ اب ایسے مرحلے میں ہیں کہ بہ طور افسانہ نگار اور ناول نگار بھی اپنا اہم مقام بنا چکے ہیں ۔ ایسے میں جب سعادت حسن منٹو پران کی تنقید سامنے آئی تو اسے بہت دلچسپی سے پڑھا گیا ۔ ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ کے نام سے منظر عام پر آنے والی یہ مختصر کتاب دراصل ہندوستان سے شائع ہونیوالے جریدے ’’اثبات‘‘ کے اشعر نجمی کے مرتب کردہ آٹھ سوالات پر ایک طویل خط ہے جو پہلے، ’’اثبات‘‘ میں چھپا اور یہاں پاکستان میں اسے ’’شہرزاد‘‘ کے آصف فرخی صاحب نے کتابی شکل میں شائع کرا کے افسانے کی تنقید سے شغف رکھنے والوں کے لیے دلچسپی کا سامان مہیا کردیا۔
۱۱۳صفحات پر مشتمل یہ مختصر کتاب شہر زاد کراچی سے ۲۰۱۳ء میں چھپی جس میں شمس الرحمن فاروقی کی سعادت حسن منٹو کے مختلف افسانوں کے حوالے سے ایک تنقیدی نقطہ نظر کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ وہ آغاز میں منٹو اور میرا جی دونوں کو ہمارے جدید ادب کے سب سے بڑے نام قرار دیتے ہیں اور دونوں میں ایک سا تنوع دیکھتے ہیں اور ان دونوں کایہ استحقاق اپنی گفتگو میں بیش از بیش قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
منٹو پربراہ راست آنے سے پہلے فاروقی صاحب واضح کرتے ہیں :
’’منٹو کو محض جنسی مضامین اور فحاشی پر مبنی تحریروں تک محدود سمجھنا منٹو کے ساتھ بددیانتی اور بے انصافی ہے۔ بددیانتی اس لیے کہ انھیں جنس اور فحش تک محدود سمجھ کر ہم منٹو کے ان ہزار صفحات کے وجود سے انکار کرتے ہیں جن میں جنس وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اور بے انصافی اس لیے کہ کسی بھی تخلیقی فن کار پر کوئی لیبل لگا کر (خواہ وہ کتنا ہی جچتا ہوا اور چبھتا ہوا کیوں نہ ہو) ہم اس کی وقعت کو ماچس کے لیبل، یا حد سے حد تک وہسکی یا برانڈی کی کی بوتل کے لیبل کی سطح پر لے آتے ہیں۔‘‘ (۱)
ان کا کہنا ہے کہ اس سے منٹو کا تو کچھ نہیں بگڑا، نقصان تو منٹو کی بعد کی نسلوں کا ہوا کہ انھوں نے منٹو کو صرف ایک آنکھ سے اور وہ بھی کانی آنکھ کے کونے سے دیکھا۔ اور آج تو ایسا افسانہ نگار کو ڈھونڈنا مشکل ہو رہا ہے جسے ہم منٹو کے مقابل نہ سہی، منٹو کے سائے میں قائم کر سکیں۔ ساتھ ہی فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ اگرچہ:
’’ وہ منٹو کے حلقہ بگوش نہیں تو معتقد ضرور ہیں(۲) ۔
گفتار دوم میں منٹو کے چچا سام کے نام خطوط میں منٹو کے سیاسی شعور اور ذہانت کی داد دیتے ہوئے ان کا دفاع کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:
’’ میرا خیال ہے منٹو کی اکثر تحریروں کی طرح ان خطوط کو بھی توجہ سے پڑھا نہیں گیا۔ ورنہ یہ ہمارے زمانے کے سیاسی اور سماجی موضوعات پر انتہائی بیدار مغز اور زندہ تحریریں ہیں۔‘‘(۳)
گفتار سوم میں منٹو کے یہاں ’’تحسین و ستائش‘‘ کی تمنا ’’خود پسندی کا جذبہ‘‘ کو بھی مثبت انداز سے لیتے ہوئے ان کو اس کاپورا حق دینے کے خواہاں ہیں۔جب افسانہ نگارمنٹو کی عظمت کی بات آئی تو وہ کھلے بندوں منٹو کو اردو افسانے میں گردن اٹھا کر چلنے کا پورا استحقاق دیتے ہیں اور صرف افسانے میں ہی نہیں بلکہ ان کو میر محمد تقی میر جس پرکے ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔ یاد رہے جناب فاروقی نے میر پر بہت اہم کام کر رکھا ہے ۔ ’’شعر شور انگیز‘‘ چار کتابوں کی صورت میں لکھی اور انھیں کم از کم اردو کا تو سب سے بڑا شاعر گردانا ہے اور ان کے پیش رو حسن عسکری (جنھیں فاروقی صاحب استاد کا درجہ دیتے ہیں) کو تو میر کے ہاں زندگی کا وہ شعور ملتا ہے جو اردو ادب میں تو کسی کے پاس نہیں۔ ذرا اس اقتباس پر غور کر لیتے ہیں:
’’اردو ادب میں میر کے سوا اگر کوئی شخص اور ہے جس کے یہاں زندگی کی رنگا رنگیاں ، دکھ درد ، وجد و شوق، غم اور مسرت، انسانی وجود کا احترام اور اس کی کمزوریوں کا احساس، یہ سب باتیں تخلیقی سطح پر بیان ہوئی ہیں تو وہ سعادت حسن منٹو ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ میر کا یہ قول منٹو پر بھی صادق آتا ہے ؂
اشعار میر پر ہے اب ہائے وائے ہر سو
کچھ سحر تو نہیں ہے لیکن ہوا تو دیکھو (۴)
گفتار چہارم میں فاروقی صاحب نے منٹو کے کچھ افسانوں پر عملی تنقید کی ہے ۔ ’’دھواں‘‘ منٹو کے چنیدہ اور مقبول افسانوں میں ایک ہے لیکن فاروقی صاحب اسے ناکام افسانہ سمجھتے ہیں کیونکہ بہ قول ان کے منٹو اس افسانہ میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور نئے کردار کو متعارف کرانے سے پہلے کوئی تیاری نہیں کرتے۔
’’منٹو نے حسبِ معمول جلدی سے کام لیتے ہوئے افسانے کے آخر میں بلا کسی تیاری کے کلثوم کی سہیلی کو داخل کردیا ہے۔ انھوں نے دونوں سہیلیوں سے ایک دو جملے بھی آپس میں نہیں کہلائے کہ انکا کردار قائم ہو سکے۔
۔۔۔ اب فطری بات ہے کہ ہمیں مایوسی یا ناتکمیل کا احساس ہو۔ جو افسانہ ایک بالکل تازہ، حواس خمسہ کی قوت سے بھرے مشاہدے سے شروع ہوا تھا، سیلی ہوئی آتش بازی کے طور پر ختم ہوجاتا ہے۔‘‘ (۵)
منٹو نے اپنے اس افسانے کی تعبیر ایک مضمون ’’لذت سنگ‘‘ میں بھی کی تھی جسے فاروقی صاحب سراہتے ہوئے کچھ یوں اعتراضات بھی وارد کرتے ہیں:
’’اپنے افسانے کی اتنی عمدہ تعبیر لکھنے والا سعادت حسن منٹو ہی ہو سکتا تھا ابھی انھوں نے آگے بھی لکھا ہے اور کلثوم کا ذکر کیا ہے۔ لیکن وہ اس بات سے صاف کنی کاٹ گئے کہ کلثوم کے ہم جنسی کے رجحان کو افسانے میں داخل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آغاز عمر میں اکثر لوگ ہم جنسی کی طرف ایک کشش محسوس کرتے ہیں‘ تو انھوں نے اس بات کو قائم کرنے کے لیے ایک دو صفحے کیوں نہ خرچ کیے۔ اس وقت تو افسانے کا انجام ہمیں مایوس کن لگتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ کہیں کچھ کم رہ گیا ہے، یا ہمارے ساتھ کچھ دھوکا ہوا ہے۔‘‘ (۶)
گفتار پنجم میں فاروقی صاحب نے منٹو صاحب کی دو خصوصیات (خامیوں؟) کا ذکر کیا ہے۔
(۱) زود نویسی
(۲) مختصر نویسی
وہ لکھتے ہیں کہ منٹو نے اپنی زود نویسی کے سبب اپنی مختصر زندگی میں اتنا لکھ ڈالا جس کے لیے دوسروں کو تین نہیں تو دو عمریں درکار ہوں گی۔ (۸) لیکن منٹو صاحب کی نثر درحقیقت زود نویسی اور بات کو جلد از جلد ختم کرنے کی مجبوری (یا ضرورت) کے باعث انجام اور استعارے کی چمک سے محروم رہ گئی اور فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ یہ چمک بیدی صاحب کی نثر میں بدرجہ اتم موجودہے ۔ فاروقی صاحب کے خیال میں افسانہ نگار کو کچھ تو میدان ملنا چاہئے کہ وہ واقعات کو اس طرح بیان کرے کہ ایک کے بعد ایک واقعہ آپ سے آپ نکلتا جائے۔ اور اگر افسانہ نگار اعلیٰ درجے کا فن کار ہو گا تو احساس بھی نہ ہوگا کہ کوئی باریک کام کیا جا رہا ہے۔ (۹) ’’سرکنڈوں کے پیچھے‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے کرداروں کی کچھ خامیاں نشان زد کی گئی ہیں کہ منٹو قاری کو کردار یا نئے واقعے کے لیے کچھ بھی تیار نہیں کرتے ۔ فاروقی صاحب کے خیال میں اس کے لیے منٹو کے پاس وقت ہی نہیں تھا:
’’سچ ہے، پیٹ 20150413-080407_p0بڑا بدکار ہے بابا۔ جیسے بھی ہو، افسانہ مکمل کرنا ہے اور کالا پانی حلق سے اتارنا ہے اور کچھ روپے بچ رہے تو بال بچوں کی روٹی کا بھی انتظام کرنا ہے۔ اور یہ سب مجبوریاں نہ بھی ہوں تو تیز نویسی کی مجبوری تو ہے ہی۔ ہلاکت جیسا کردار خلق کرنے اور قائم کرنے کے لیے اتنا کہنا کافی نہ تھا کہ ہیبت خان کے بارے میں ہمیں کئی بار بتایا گیا ہے کہ وہ سنسان سڑک پر (جس پر نواب کا مکان ہے) کوئی لاری یا موٹر بھی گزر جاتی ہے تو وہ خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ نواب اس سے وجہ پوچھتی ہے تو وہ اسے جھڑک دیتا ہے۔ معاف کیجئے گا منٹو صاحب، ہلاکت جیسے غیر معمولہ (غیر معمولی نہیں) کردار کو افسانے کے منظر میں لانے کے لیے کچھ محنت کرنا پڑتی ہے، کچھ تفصیل میں جا کر زمین تیار کرنا پڑتی ہے۔ میں یہ تو نہ کہوں گا کہ آپ میں صلاحیت نہیں، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ آپ کو اس کی فرصت نہیں یا آپ میں اتنا صبر نہیں۔‘‘ (۱۰)
’’ننگی آوازیں‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ ’’منٹو صاحب کے سب ٹریڈ مارک اس میں موجود ہیں ۔ افسانہ کے آغاز کو بہت خوب کہا اور اس کے مرکزی خیال کو انتہائی تازہ اور انسانی صورت حال کے مطابق قرار دیا لیکن بعد میں جب بھولو کے دل میں چھری پیوست ہو گئی تو فاروقی صاحب کو افسانہ قابل قبول نہیں رہا :
’’بڑے شہر کی زندگی، شریف لیکن مفلس لوگوں کے لیے جگہ کم اور خواہشیں وہی فوجیوں کو تو شرم و حیا نہیں ہوتی، انھیں سب کے سامنے مبازرت کرنے، کھلے عام زنا بالجبر کرنے،۔۔۔ وہاں پردہ وغیرہ کہاں، اور شرم وغیرہ کہاں، لیکن خدایا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں؟ انھیں تو ایسی چھت پر ٹاٹ کے پردوں کا کانا پردہ کر کے اپنی بیویوں کے ساتھ سونا پڑتا ہے۔ غور کرو کس قدر قوت مند موضوع تھا۔ لیکن منٹو صاحب کو افسانہ ختم کرنے کے بے حساب جلدی تھی۔ انھوں نے انجام ایسا سوچ لیا جو دھچکا پہنچائے اور یاد رہ جائے باقی رہی یہ بات کہ انھوں نے انجام کو وقوع پذیر کرنے کے لیے کچھ تیاری بھی کی ہے؟‘‘(۱۲)
ایک اور افسانہ ہے ’’پڑھیے کلمہ‘‘، اسے فاروقی صاحب سنسنی خیز افسانہ کہتے ہوئے اسے ’’سرکنڈوں کے پیچھے‘‘ کا تتمہ کہتے ہیں یہاں بھی عورت بڑی جابر ہے ۔ اس افسانے کے سب تار فاروقی صاحب کو مضبوط جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ ’’کھول دو‘‘ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ وغیرہ کے زور میں اس افسانے کو بھلا دیا گیا جب کہ تقسیم کے فسادات پر ’’پڑھیے کلمہ‘‘ سے بہتر افسانہ نہیں لکھا گیا(۱۴) :
’’کلمہ پڑھیے‘‘ جیسا ریڑھ کی ہڈی میں سرد‘‘ لہر دوڑا دینے والا افسانہ ڈھونڈنے ہی سے ملے گا۔ اس پر مستزاد افسانہ نگار کا بیانیہ، کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ معمولہ راوی کی بھی طرح نہیں۔ عبدالکریم اس افسانے کا راوی ہے اور اس کا شاید مصنف بھی وہی ہے۔‘‘(۱۵)
گفتار دہم میں فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ منٹو ان کی نظر میں کمزوریوں سے مبرا نہ تھا انھیں لکھنے اور بیچنے کی جلدی رہتی تھی، خواہ افسانہ کمزور ہی نکل جائے۔ اور دوسری مشکل یہ بھی تھی کہ وہ اپنی شہرت (یا بدنامی) کے قیدی ہو گئے تھے۔ لوگوں نے مشہور کر دیا کہ وہ فحش نگار ہیں اور انھیں رنڈیوں، زناکاریوں، اخلاقی اور سماجی طور پر پست لوگوں سے بہت دلچسپی ہے تو پھر انھوں نے سوچا ہو گا کہ یوں ہے تو یوں ہی سہی۔ انھوں نے کہنا شروع کر دیا کہ میں تو سماج کی تصویر کھینچتا ہوں۔ میرا کام تشخیص مرض ہے، تجویز علاج نہیں۔
’’بو‘‘ پر بات کرتے ہوئے فاروقی صاحب اسے عظیم افسانہ نہیں مانتے لیکن افسانہ نگارکو اپنے مقصد کی حد تک کامیاب ٹھہراتے ہیں۔ (۱۸)
فاروقی صاحب کا اعتراض ہے کہ منٹو صاحب نے بغل کے بالوں کا ذکر تو کیا، اور خوب کیا، لیکن وہ موے زہار تک پہنچنے کی ہمت نہ کر سکے۔ (۱۹) ۔ شاید منٹو صاحب ابھی عالمی ادیبوں کی مانند ’’حقیقت نگار‘‘ نہ تھے جو سب کچھ کھل کر لکھ دیتے تھے۔دوسری شکایت فاروقی صاحب کو ’’بو‘‘ سے یہ ہے کہ اس میں منٹو صاحب کے عام انداز کے بر خلاف گھاٹن (یعنی عورت) فاعل نہیں ہے بلکہ سراسر منفعل ہے۔ ان کی تیسری شکایت یہ ہے کہ شہر کی پلی، اسکول کالج میں پڑھی، عروسی لباس سے مزّین اور عروسی عطر سے معطر، کچھ اس نوبیاہتا کا بھی تو ردِ عمل ہونا چاہیئے تھا ۔ فاروقی صاحب کہتے ہیں ’’فطرت‘‘ اور ’’شہر‘‘ کی یہ تفریق مصنوعی اور فرضی ہے جبکہ منٹو صاحب خوش نصیب تھے کہ اتنے اوسط درجے کے افسانے کو اس قدر اہمیت ملی اور اس کے باعث انھیں شہرت ملی۔ (۲۰)
’’ٹھنڈا گوشت‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ جب افسانہ نگار کو فرصت کم ہو تو وہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ جیسے ہی افسانے لکھ سکتا ہے۔ اگر ’’بو‘‘ اوسط درجے کا افسانہ ہے تو ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اوسط سے فروتر ہے۔ اور یہاں بھی منٹو نے کسی خاص وقوعے کے لیے خاص کر انجام کے لیے زمین تیار نہیں کی ہے۔ فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ اگر ایشر سنگھ ذہنی طور پر (اور اس لیے جسمانی طور پر) نامرد ہو چکا ہے تو پھر افسانے میں منٹو صاحب اس کے جنسی افعال (چھوٹے موٹے لذت بھرے گول گپے) کس لیے ہیں۔؟
لیکن ساتھ ہی وہ مانتے ہیں کہ ایشر سنگھ کی نامردی بالکل فطری ہے لیکن یہ نامردی ناگزیر نہیں ہے۔ اور پھر افسانے کے اختتام کا خاصہ ٹکڑا متن کا دے کر وہ کہتے ہیں:
’’میں نے یہ سارا اختتام اس لیے نقل کیا کہ سب باتیں تمھارے سامنے آجائیں۔ اب یہ غور کرو کہ منٹو کو یہ انجام فنی طور پر قائم کرنے میں کتنی مشکل ہو رہی ہے۔ مکالمے کس قدر بے جان اور مصنوعی ہیں۔ مجبوراً منٹو صاحب نے بے شمار نقطے لگا لگا کر بات کو ادا کیا ہے۔۔۔ یہ انداز گھٹیا درجے کے افسانہ نگاروں کا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں جتنے زیادہ نقطے (یعنی۔۔۔کا نشان) لگائیں گے۔ مکالمہ اتنا ہی جاندار ہو گا حقیقت اس کے برعکس ہے اور منٹو اسے خوب جانتے ہیں، اسی لیے ان کے دوسرے افسانوں میں یہ علت بہت کم نظر آتی ہے۔‘‘ (۲۲)
فاروقی صاحب نے ’’گفتار یازدہم‘‘ میں ’’سیاہ حاشیے‘‘ کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔اپنے نتیجے میں وہ یوں کہتے سنائی دیتے ہیں
’’عسکری صاحب اور منٹو صاحب انسان سے مایوس نہیں تھے اور ’’سیاہ حاشیے‘‘ بہت بڑی کتاب ہے لیکن اگر ایسی دو چار کتابیں میں اور پڑھ لوں تو مجھے زندگی سے نفرت ہو جائے۔‘‘(۲۴)
’’گفتار دوازدہم‘‘ میں فاروقی صاحب نے اجمل کمال کے عسکری صاحب کے بارے میں خاص کر ان کی منٹو کے حوالے سے تنقید پر دو مضامین پر بھی بات کی اور لکھا کہ اجمل کمال کا قول ہے، ’’انسانی فطرت اور مروج اخلاقیات دو مختلف چیزیں اور منٹو کا فیصلہ واضح ہے کہ یہ دونوں متضاد ہیں۔‘‘ فاروقی صاحب اس سے بڑی حد تک درست سمجھتے ہوئے بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوتے کہ منٹو کو ترقی پسند افسانہ نگار قرار دے لیا جائے تو یہ منٹو کی عظمت میں اضافے کا باعث ہو گا کیونکہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ ’’کھول دو‘‘ ’’موذیل‘‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ اور ’’موتری‘‘ سے جو ’’سیاسی مؤقف‘‘ برآمد ہوتا ہے، وہ ترقی پسندوں کے مؤقف سے ’’بہت زیادہ مختلف نہیں‘‘ ہے۔ اس پر فاروقی صاحب کہتے ہیں اگر ایسا ہے تو اس کی بنا پر ترقی پسندی کے سیاسی مؤقف میں دو چار چاند ضرور لگ جائیں گے، منٹو صاحب کی تحریروں میں کسی چمک دمک کا اضافہ نہ ہوگا۔ کیونکہ :
’’اگر ٹھنڈا گوشت‘‘،’’کھول دو‘‘،’’موذیل‘‘، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ اور ’’موتری‘‘ کا ’’سیاسی مؤقف‘‘ (واضح نہ سہی، زیر متن سہی) ترقی پسندوں کے مؤقف سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ ’’مستند‘‘ یا ’’معتبر‘‘ ترقی پسند افسانہ نگاروں کے کسی بھی افسانے میں منٹو کے محولہ بالا افسانوں کی کمزور اور دھندلی سی بھی جھلک نہیں ہے؟ تو کیا یوں کہا جائے کہ کرشن چندر، یا احمد ندیم قاسمی، یارا مانند ساگر، ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ نہ سہی، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ یا ’’موتری‘‘ جیسا افسانہ لکھنے کی (فنی یا سیاسی یا اخلاقی) قدرت نہ رکھتے تھے؟ (۲۵)
فاروقی صاحب نے ’’گفتار سیزدہم‘‘ میں منٹو کے افسانہ ’’ہتک‘‘ پر بحث کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ منٹو کو اپنے پسندیدہ کرداروں میں ’’پست طبقے‘‘ والے مردوں اور عورتوں سے بہت دلچسپی ہے اور خاص طور پر عورتوں سے تو بہت ہی زیادہ ہے۔ فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ منٹو صاحب نے سوگندھی کو ایک طرح کے اقتدار کا حامل بنا دیا ہے۔ اور وہ اقتدار اس وقت مکمل ہوتا ہے جب مادھو کے دم دبا کر بھاگ نکلنے کے بعد سوگندھی اپنے کتے کو پہلو میں لٹا کر سوجاتی ہے۔ فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ جب سیٹھ نے سوگندھی کو مسترد کیا تو وہ اس کا بدلہ یوں لیتی ہے کہ مادھو کو دھتکار دیتی ہے اس کی ٹھکائی کرتی ہے اور اس کے دُم دبا کر بھاگ نکلنے کے بعد اپنے خارش زدہ کتے کو پہلو میں لٹا کر سوجاتی ہے۔
آخر میں فاروقی صاحب کا اصرار ہے کہ ’’ہمارے ادب میں منٹو پہلا آدمی ہے جسے کسی نقاد کی ضرورت نہیں ہے، خواہ وہ نقاد شمس الرحمن فاروقی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
۲
شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ نے منٹو پر نئے مباحث کو ہوا دی۔ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر۲۹ اگست ۲۰۱۳ کو انور سِن رائے کا تبصرہ اپ لوڈ کیا گیا اور عنوان جمایا گیا۔ ’’بڑے ادیب اور افسانہ نگار منٹو کی غلطیاں‘‘۔ یاد رہے کہ اگرچہ منٹو پر یہ مفصل خط ’’اثبات‘‘ کے لیے لکھا گیا تھا مگر اس جریدے میں چھپنے سے پہلے ہی کتابی صورت میں فراہم ہو گیا تھا جس کا ذکر اس تبصرے میں ہوا۔ تبصرہ نگار نے اعتراف کیا کہ:
’’ شمس الرحمٰن فاروقی ان نقادوں میں سے ہیں جنھیں اردو ادب کی تاریخ کے سرفہرست نقادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔‘‘
پھر انہوں نے منٹو پر فاروقی صاحب کے نقطہ نظر کی وضاحت کی اور اس پر تنقید بھی کی وہ لکھتے ہیں :
’’فاروقی پہلی وضاحت یہ کرتے ہیں: ’منٹو کو محض جنسی مضامین اور فحاشی پر مبنی تحریروں تک محدود سمجھنا منٹو کے ساتھ بددیانتی اور ناانصافی ہے۔‘ وہ اسے منٹو کی بد قسمتی ہم عصر تنقید کا شرمناک عجز قرار دیتے ہیں۔میرے خیال میں تو منٹو کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے افسانوں پر فحاشی کے مقدمات بنوانے والوں کو فاروقی صاحب جیسا وکیل میسر نہیں آیا، آتا تو کوئی بھی منصف منٹو کو جیل جانے سے نہ روک پاتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر منٹو کو یہ موقع بھی میسر آتا تو اردو کی گود قید اور قیدیوں کے بارے میں ایسی خالی نہ ہوتی جیسی ہے۔‘‘
آگے چل کر انور سن رائے نے لکھا:
’’اردو میں منٹو، عصمت اور واجدہ تبسم پر جنس نگاری اور فحاشی کے الزام لگانے والے اس معاشرتی ذہنیت کے نمائندے ہیں جو اب اوپر سے نیچے تک بند بٹنوں والی شیروانیوں اور چوڑی دار پائجاموں سے ہی باہر نہیں آ سکی۔ ان کے سگنل تو گاڑی چلنے سے پہلے گر جاتے ہیں تو کیسی جنس اور کہاں کی فحاشی۔ منٹو، عصمت اور واجدہ نے تو صرف اتنا ہی بتانے کی کوشش کی ہے کہ جنس بھی ہوتی ہے وہ بھی اشاروں اور کنایوں میں ورنہ تو اردو ادب نے ابھی اس لسانی آزادی تک میں قدم نہیں رکھا جو شرع کے شارحین کے استعمال میں رہتی ہے۔اگر فاروقی صاحب کو سلیم احمد کے اس مصرعے پر بات کرنا ہوتی ’گاڑی چلتی نہیں گر جاتا ہے پہلے سگنل‘ تو وہ ضرور یہ غلطی نکالتے کہ گاڑی تو چلتی ہی سگنل گرنے کے بعد ہے اور اس بارے میں کسی ریلوے ماہر کی سند بھی شامل کر دیتے۔ انھوں نے منٹو کی ایسی ہی بہت سی ’غلطیوں اور کم علمیوں‘ کی نشاندہی اس کتاب میں کی ہے اور اور تو اور ڈاکٹر انور سجاد کی رائے تک شامل کی ہے، اس کی وجہ انھوں نے منٹو کی ’حسبِ معمول جلد بازی‘ کو قرار دیا ہے ‘‘
انور سن رائے نے اس پر اضافہ کیا :
’’یعنی جلد بازی اور زود نویسی منٹو کی ضرورت بھی تھی اور مزاج کا حصہ بھی، منٹو افسانہ لکھ کر پڑھتے نہیں تھے اس لیے ’طے شدہ انجاموں‘ کے ماحول بنانے میں خامیاں ملتی ہیں۔یہ فاروقی صاحب کا گرائمرائی طرز عمل ہے اور اس سے اگر اور کچھ نہیں تو یہ قیاس ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود فکشن کیسے لکھتے ہیں۔ ویسے کئی لکھنے والوں نے ایسے انکشافات بھی کیے ہیں کہ وہ لکھنے کے لیے کیسے کیسے تحقیق و تردد کرتے ہیں۔ تو ضرور، یہ بھی ہو سکتا ہے ایک طریقہ، لیکن کیا اسے ہی واحد اور آخری طریقہ کہا جا سکتا ہے اور کیا یہی طریقہ دنیا بھر کے تمام فکشن لکھنے والوں کا ہے؟ ہو بھی، تو کیا یہ ’عدیم انظیر تجربے‘ اور ’عمیق ترین سطح‘ تک رسائی دے سکتا ہے؟‘‘
انور سن رائے نے لکھا کہ فاروقی صاحب کا طریقہ اس کتاب میں یہ لگتا ہے کہ جیسے سب الزام لگانے اور اعتراض اٹھانے والے اپنی علمی حیثیت کی بنا پر غلط ہیں ویسے ہی سب تعریف کرنے والے بھی، بس ایک وہ ہیں جو بتا سکتے ہیں کہ درست اعتراض کیا ہے اور اصل تعریف کیا ہو سکتی ہے۔
’’یہ تو انھوں نے شروع میں ہی طے کر دیا ہے: ہر چند کہ منٹو کے مقابلے میں میرا جی کے یہاں گہرائی زیادہ ہے، لیکن منٹو کی خوش نصیبی کہیے کہ ان کے یہاں ’سماجی معنویت‘، ’معاصر دنیا کے مسائل کی عکاسی‘ اور ’سماج کے گھناؤنے پہلوؤں کا شعور‘ دریافت کرنا آسان ہے اور یہ چیزیں ہماری تنقید، خاص کر فکشن کی تنقید کا من بھاتا کھاجا ہیں۔ افسانے کے پلاٹ کا خلاصہ، افسانے کے کرداروں کا سرسری بیان، اور افسانے میں مندرج ’سماجی‘ مسائل پر بحث، یہ باتیں بند کر دی جائیں تو فکشن کے ہمارے نقادوں کا دم بند ہو جائے۔‘‘
تبصرہ نگار کااس کتاب کے حوالے سے آخری تجزیہ یہ تھا۔
’’فاروقی صاحب کے اعتراضات سے منٹو کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا دل چاہتا ہے کہ کاش منٹو صاحب نے فاروقی صاحب کے اعتراضات کی گنجائش بھی نہ چھوڑی ہوتی۔‘‘
انور سن رائے صاحب کے اسی تبصرے میں اطلاع دی تھی کہاجمل کمال بھی اس کتاب پر ایک مضمون لکھ رہے ہیں ۔ اور یہ کہ :
’’ اجمل کمال اس کتاب کو ’رولر کوسٹر‘ قرار دیتے ہیں، یعنی یہ جھولا جب تک چل رہا ہوگا، آپ خود کو کوسوں دنیا جہان کا سفر کرتے اور اوپر نیچے آتا جاتا پائیں گے اور جب رکے گا تو آپ وہیں اتریں گے جہاں سے چلے تھے لیکن اگر آپ سرسری نہ گزریں تو اس رولر کوسٹر میں ہر جا اک جہاں دیگر بھی ہے۔‘‘
اجمل کمال صاحب کا اس کتاب کے بارے میں مضمون بہ عنوان ’’فاروقی صاحب کے لیے منٹو صاحب‘‘، ’’نقاط‘‘ کے جون ۲۰۱۴ء والے شمارے میں شائع ہوا جو قدرے سخت ردِ عمل کہا جا سکتا ہے تاہم وہ اس کتاب کے حوالے سے کم اور فاروقی صاحب کی مجموعی تنقید کے حوالے سے زیادہ ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہمارے لیے منٹو صاحب کے عنوان کی تحریر پڑھنے والے کے لیے اس لحاظ سے بے مصرف نکلتی ہے کہ اس کے پانچویں حصے میں منٹو کے جن اہم افسانوں کی فہرست ہے، اور جو بقول فاروقی، سب نہیں تو ان میں سے اکثر افسانے شاہکار ہیں (ان میں سے کم ہی افسانوں کا اس تحریر میں کوئی تفصیلی محاکمہ ملتا ہے اور جن کا ملتا بھی ہے انھیں بیشتر ناکام اور خراب افسانے ثابت کرنے کے لیے۔ یہ قطعی نہیں کھلتا کہ منٹو کے کون سے افسانے فاروقی کے نزدیک شاہکار ہیں اور کس صنعتی بنیاد پر)۔۔۔ تو پھر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ منٹو کے بعض کامیاب سمجھے جانے والے افسانوں کو ناکام اور ایک آدھ ناکام سمجھے جانے والے افسانے کو کامیاب ثابت کر کے اپنے وفورِ علم کی دھاک بٹھانا مقصود ہے۔ یہ کوشش تحصیل حاصل معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان کی علمیت کی جتنی دھاک پہلے سے بیٹھی ہوئی ہے اس میں اضافہ صرف اس پر بیٹھنے والی گرد کی شکل میں ہو سکتا ہے۔‘‘(۲۶)
اس کتاب کے حوالے سے سب سے بھرپور اور مفصل تنقیدی کام جو سامنے آیا وہ محمد حمید شاہد صاحب کا ہے۔ انہوں نے ان سارے نقاط پر بات کی ہے جو فاروقی صاحب کی کتاب ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ میں زیر بحث آئے ہیں ۔ شاہد صاحب کی کتاب ’’سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘ میں دو ایسے مضامین شامل ہیں جن میں فاروقی صاحب کی منٹو پر تنقید کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ ان دو مضامین کے عنوانات یوں ہیں:
۱۔ہمارے منٹو صاحب
۲۔ جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ
فاروقی صاحب کے خط ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ کے جواب میں شاہد صاحب نے بھی خط کا پیرایہ اختیار کیا۔ یہ خط فاروقی صاحب کے نام ہے اور اس پر عنوان جمایا گیا ہے’’ہمارے منٹو صاحب‘‘ ۔ اس عنوان سے لیے منٹو کے مطالعے کے زاویے کو بھی و اضح کردیا گیا ہے ۔
شاہد صاحب نے کتاب کے آغاز ہی میں فاروقی صاحب کے جارحانہ طرز عمل پر گرفت کی ہے تاہم اس کا اعتراف بھی کیا ہے کہ فاروقی صاحب اپنے قاری کو مشتعل کرکے کچھ کہنے پر اکساتے ہیں۔منٹو صاحب کے افسانے ’’کھول دو‘‘ کے اختتام پر کیے جانے والا اعتراض ہو یا ’’دھواں‘‘،’’بو‘‘،’’ ہتک‘‘ اور’’ ٹھنڈا گوشت ‘‘ پر قائم کیے جانے والے سوالات، شاہدصاحب نے منٹو کے افسانوں کے متن کو سامنے رکھ کر ان اعتراضات کو رد کیا ہے ۔ کتاب کے اس حصے میں منٹو کے جن افسانوں کا مطالعہ کیا گیا ہے ان میں ’’ کھول دو‘‘، ’’دھواں‘‘ ،’’ بو‘‘، ’’ہتک‘‘،’’ ٹھنڈا گوشت‘‘، ’’سرکنڈوں سے پیچھے‘‘ ،’’قیمے کے بجائے بوٹیاں‘‘،’’پڑھیے کلمہ‘‘،فرشتہ‘‘،’’پھندنے‘‘ ،’’باردہ شمالی‘‘ اور دوسرے افسانے شامل ہیں۔ شاہد صاحب نے متعد د افسانوں کے بارے میں فاروقی صاحب کے اس خیال کو تسلیم نہیں کیا کہ افسانہ مکمل کرنے کی عجلت میں منٹو نے انجام کے وقوع پذیر کرنے کی تیاری ہی نہ کی تھی ۔وہ فاروقی صاحب نے ’’دھواں‘‘ پر اعتراض کیا تو شاہد صاحب نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا :
’’جناب عالی، بے حد احترام کے ساتھ مجھے کہنا ہے کہ کلثوم کے ہم جنسی کے رجحان کو افسانے میں داخل کرنے کی بس اتنی ہی ضرورت تھی جتنی کہ اس کے کلیدی کردار کو، اس موضوع کے اعتبار سے، اس سے اکتساب اور انگیخت کی ضرورت تھی؟ کم نہ زیادہ، منٹو صاحب ان ضمنی کرداروں کو اتنا ہی لائے۔ دیکھیے ایسے معاشرے میں جہاں جنسی تعلیم اور تہذیب کا کوئی ذریعہ نہ ہو، وہاں کچی پکی جنس کی ایسی ہی جھلکیاں اور جھماکے ہوتے ہیں۔ ان ضمنی کرداروں پر صفحات خرچ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔‘‘ (۷)
حمید شاہد صاحب کا اس پر یہ بھی کہنا ہے کہ ثانوی کرداروں پر تفصیل سے لکھنے یا ان ضمنی کرداروں کو ضرورت سے زیادہ قائم کردینے سے مرکزی کردار دھندلا جایا کرتا ہے۔ اور اچھی بھلی کہانی برباد ہو جاتی ہے۔ منٹو صاحب بھی یہ جانتے تھے، لہٰذا انھوں نے اپنی کہانی کو برباد ہونے سے بچا لیا۔
افسانہ ’’پڑھیے کلمہ‘‘ کو فاروقی صاحب نے سنسنی خیز افسانہ کہا تھا اور اسے ’’سرکنڈوں کے پیچھے‘‘ کا تتمہ قرار دیا ۔فاروقی صاحب نے افسانہ کی خوبیاں بیان کیں تو حمید شاہد صاحب کو اس باب میں اختلاف کرنا ہی مناسب ٹھہرا وہ اس افسانہ کو فنی لحاظ سے کچھ یوں خیال کرتے ہیں:
’’محترم فاروقی صاحب!۔۔۔ آپ نے فرمایا ہے ’’اس (افسانے) کے سب تار مضبوط جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ یہ آپ کے نزدیک یہ ایک انتہائی کامیاب افسانہ رہا، بیانیے اور واقعاتی ترتیب کے اعتبار سے؟ مگر میں تو اس باب میں الجھا ہوں۔ یہ ایک جھوٹے کلمہ گو خونی کا افسانہ ہے، اور عبدالکریم/ عبدل ایسے کرداروں کا ہونا بعید از قیاس نہیں ہے۔ مردوں سے اپنے بدن کی مالش کروانے والی، سولہ نمبر کی مکین رکما بائی جیسی عورتوں کے بارے میں بھی گمان باندھا جا سکتا ہے اور لکڑی کے کھلونے بیچنے والے گردھاری جیسے مرد بھی ہماری سوسائٹی کا حصہ ہیں جو خود بھی لکڑی کی طرح کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ میری الجھن تو رکما بائی کی لاش کے حوالے سے ہے۔‘‘ (۱۶)
یہاں حمید شاہد صاحب کا اصرار ہے کہ ’’پڑھیے کلمہ‘‘ ایک کمزور افسانہ ہے۔ اور یہ بھی کہ یہ افسانہ فسادات پر نہیں، فسادات کے زمانے میں لکھا گیا ہے۔ اس میں ایک سفاک قاتل اور نام کا مسلمان عبدل جو ’’پڑھیے کلمہ‘‘ کو محض تکیہ کلام کے طور پر استعمال کرتا تھا، جو قرآن کی قسمیں کھا کر جھوٹ بولتا تھا، جس نے ہندو مسلم فسادات میں تین ہندو مارے تھے، مگر محض ان کمزور نشانیوں سے اسے ’’تقسیم کے فسادات‘‘ کا ’’بہترین افسانہ‘‘ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ جب کہ ہم صاف دیکھتے ہیں فسادات کا بیانیہ الگ پڑا ہے اور کہانی رکما بائی اور اس کے عاشقوں کے بیچ چل رہی ہے۔ حمید شاہد صاحب کا اصرار ہے کہ ’’فسادات کے زمانے میں فسادات سے کٹی ہوئی کہانی کا موازنہ ’’کھول دو‘‘ اور ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ جیسے افسانوں سے بنتا ہی نہیں ہے۔‘‘ (۱۷)
فاروقی صاحب نے ’’بو‘‘ کو اوسط درجے کا افسانہ کہا تو حمید شاہد نے جواب میں لکھا ، کمال یہ ہے کہ جب ’’بو‘‘ اوسط درجے کا افسانہ ہے تو فاروقی صاحب اس پر اتنی توجہ کیسے دے رہے ہیں کہ تقریباً نو صفحات اس پر خرچ کر دیے کہ حمید شاہد صاحب کو اس ’’اوسط درجے کے افسانے پر رشک آتاہے کہ اس نے فاروقی ایسے نقاد کی بھر پور توجہ پائی خوب خوب مصروف رکھا اور لگ بھگ نو جاندار صفحات لکھوائے۔(۲۱) تاہم حمید شاہد صاحب کا اصرار ہے کہ اس افسانے پرکچھ اور زاویوں سے بات ہونی چاہیے تھی۔ مثلاً
(الف) منٹو صاحب نے اس افسانے کا نام ’’بو‘‘ رکھا تھا اور ’’بو‘‘ ’’خوشبو‘‘ اور ’’بدبو‘‘ دونوں کے معنی دیتی ہے۔ جب کہ ہماری تنقید محض ’’بدبو‘‘ والی ’’بو‘‘ کو لے اڑی۔
(ب) افسانے کی زبان میں بھی دو سطحوں پر معاملہ کیا گیا ہے۔ ایک طرف گھاٹن اور اس کے تصور سے وابستہ بھیگی ہوئی میلی مہک ہے اور دوسری طرف کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے رات کے دودھیالے اندھیرے میں جھمکوں کی طرح تھر تھرا رہے ہیں اور نہا رہے ہیں اور وہ گھاٹن لونڈیا رندھیر کے ساتھ کپکپاہٹ بن کر چمٹی ہوئی ہے۔ دیکھیے منٹو صاحب نے منظر کی خوب صورتیاں بیان کی ہیں اور اس میں سے اور کپکپاہٹ بنی گھاٹن کے بدن سے خوش بو نکل کر بہنے لگی ہے۔
(ج) منٹو صاحب نے اس افسانے کے اندر ایک خاص ماحول بنا کر اپنے قاری کو در پیش صورت حال کے لیے تیار کیا ہے جنگِ عظیم دوم چھڑ چکی ہے اور اس باعث رندھیر کی زندگی میں بھی ایک تبدیلی وقوع پذیر ہو چکی ہے۔ وہ کئی دنوں سے تنہائی جھیل رہا ہے۔
(د) اسے بھی نگاہ میں رکھنا چاہیے کہ رندھیر ہیزل کو پٹانا چاہتا تھا جو ہر روز صبح صبح وردی پہن کر اور اپنے کٹے ہوئے بالوں پر خاکی ٹوپی ترچھی رکھ کر باہر یوں نکلتی تھی کہ فٹ پاتھ پر تمام جانے والے گویا اس کے قدموں کے آگے ٹاٹ کی طرح بچھ جایا کرتے تھے۔ اس نے تو ہیزل کی تازہ تازہ رعونت کا بدلہ لینے کے لیے گھاٹن لڑکی کو اشارہ کیا تھا۔
حمید شاہد صاحب کے خیال میں اگر یہ چاروں باتیں نگاہ میں رہیں تو باقی سارے شکوے خود بہ خود ہوا ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اس افسانے کو درست تناظر میں پڑھا جائے گا تو ہمارے تنقیدی فیصلے بھی درست ہو جائیں گے۔
’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کو فاروقی صاحب نے کم فرصتی میں لکھا ہوا افسانہ قرار دیا تھا، ایسا فسانہ جس کے انجام کے لیے زمین تیار نہیں کی گئی تھی اور یہ کہ بیانیہ خامیوں سے پُر تھا ۔حمید شاہد صاحب نے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ پر فاروقی صاحب کے خیالات سے اتفاق نہیں کیا ۔ وہ منٹو کے طرف دار ہوکر یوں کہتے ہیں:
’’جب ایشر سنگھ آٹھ دن پہلے کہ اس نے سات میں سے چھے کو مار دیا تھا اور ایک لڑکی کو کندھے پر ڈالا اور لاشوں سے دور نہر کی پٹڑی کے پاس تھوہر کی جھاڑی تلے اسے لٹا دیا تھا۔ منٹو صاحب نے کس سلیقے سے کلونت کور اور ایشر سنگھ کا مکالمہ قائم کیا اس کی داد دی جانی چاہیے تھی۔ ایشر سنگھ کو کلونت کے سامنے بات کرنا مشکل ہو رہی ہے قاری کے سامنے نہیں لہٰذا کہانی کے اس حصہ میں جملوں کا ٹوٹ ٹوٹ کر مکمل ہونا اور منٹو صاحب کا ان میں نقطے لگائے چلے جانا سمجھ میں آتا ہے۔ مگر آپ نے نہ جانے کیوں بیانیے کی خوبی کو خامی بنا ڈالا، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔‘‘ (۲۳)
حمید شاہد صاحب نے منٹو صاحب کے افسانے ’’ہتک‘‘ کے حوالے سے بھی فاروقی صاحب سے یوں اختلاف کیاہے:
’’ اس افسانے (ہتک) کے حوالے سے یہ ’’اقتدار‘‘ والی بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ یہاں خارش زدہ کتے کو پاس لٹا لینے کو آپ نے، خود سوگندھی کے اپنے دھتکارے جانے سے الگ کر کے محض مادھو کی معزولی سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ سوگندھی صرف طوائف نہیں تھی، عورت بھی تھی، اوروں کے دکھ درد سمجھنے والی، پریم کر سکنے کی اہلیت رکھنے والی، کریہہ صورت گاہک کے ساتھ، گھِن کو پرے دھکیل کر سوجانے والی اور مادھو جیسے نکٹھو سے جان بوجھ کر لٹتے چلے جانے والی عورت جس کا اپنا وجود اس کے لیے محترم تھا مگر جس کی رات دو بجے، سڑک کے بیچوں بیچ، ’’ٹارچ کی روشنی‘‘ کا جھپا کا اور ’’ہونہہ‘‘ کا طمانچہ مارتے ہوئے ’’ہتک‘‘ کی گئی تھی۔۔۔ اس افسانے میں منٹو صاحب نے مرد کی تذلیل ہوتے دکھانا چاہی ہے اور یوں کیا ہے کہ وہاں جہاں پر ایک مرد ہوا کرتا تھا، ایک خارش زدہ کتے کو لٹا دیا گیا ہے۔ یوں، یہ کسی (کتے) کو اقتدار دینے کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے اقتدار پر موجود مرد (جو عورت کی تذلیل اور ہتک کا مرتکب ہوا) کی ہتک آمیز معزولی کا افسانہ ہے۔‘‘(۲۷)
کتاب کے آغاز میں فاروقی صاحب نے منٹو کو میر اور شیکسپیئر کے ساتھ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں بتایا تھا لیکن جب منٹو کے افسانوں پر بات کی تو انھیں کئی ایک خامیاں تو نظر آگئیں اس پر حمید شاہد لکھتے ہیں:
’’آپ نے منٹو، میر اور شیکسپیئر کو ایک زنجیر کی کڑیاں کہا تھا تو بہت ذمہ داری سے یہاں اسے ثابت کیا جانا چاہیے تھا۔ جب کہ لگ بھگ آپ منٹو کے ہر اچھے افسانے کو رد کرتے آئے ہیں‘ انھیں عجلت میں اپنے افسانوں کے انجام کا ناس مارنے والا ثابت کرتے ہیں، ہاں کچھ کمزور افسانوں کو آپ نے بڑا بنانے کی کوشش کی مگر اس سے منٹو اور کمزور ہوا۔‘‘(۲۸)
فاروقی صاحب کی تنقیدی عظمت کے بھی حمید شاہد صاحب دل سے قائل ہیں اور منٹو صاحب تو خود ان کے تخلیقی عمل میں گھل مل گئے ہیں۔ خیر کسی کو تو ترجیح دینا پڑے گی نا؟ ’’افسانے کی حمایت میں‘‘تو حمید شاہد صاحب کا رد عمل بھی فاروقی صاحب کی حمایت محسوس ہوتا تھا مگر اب کے بار قدرے سخت ردِ عمل کا اظہار ہوا ہے شاید حمید شاہد صاحب منٹو پر ناکامی کا الزام سہہ ہی نہ سکتے ہوں۔ تو جناب شاہد صاحب کا اس سے متعلقہ اقتباس ہی دیکھ لیتے ہیں:
’’تو صاحب، اب یہ عالم ہے کہ وقت کے قدموں تلے روندے گئے ’’نئے افسانے‘‘ اور اس کے ہانپتے کانپتے جملہ پس ماندگان پر نظر پڑتی ہے تو کلیجہ منھ کو آتا ہے اور منٹو کو دیکھتے ہیں تو ہمت بندھتی ہے۔ ایسے میں منٹو کو یاد کیا جانا یقیناًافسانے کی بقا، ارتقا اور وجود کے لیے مسعود ہو سکتا ہے۔‘‘ (۲۹)
یہ تو صرف اشارہ دینے کے لیے چند اقتباس نقل کیے ورنہ تفصیل سے منٹو کے افسانوں کا تجزیہ اور فاروقی صاحب کے منٹو اور اس کے افسانوں پر الزامات پر مدلل باتیں خاصے کی چیزہیں جنھیں مذکورہ کتب سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور ہم ۔۔۔ تو دو دوستوں اور دو نقادوں کے درمیان فنی مجادلے کو کہاں تک سمجھ پائیں گے لہٰذا اگر فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ ’’ہمارے ادب میں منٹو پہلا آدمی ہے جسے کسی نقاد کی ضرورت نہیں ہے، خواہ وہ نقاد شمس الرحمن فاروقی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ تو ہمیں بالکل درست معلوم ہوئی کہ بڑے فن کار کی عظمت ثابت کرنے کے لیے خود اس کا فن ہی کافی ہے اور اگر حمید شاہد صاحب فرما ویں کہ ’’منٹو کو سنجیدہ نقاد کی ضرورت ہے‘‘ تو یہ بھی ہمیں بجا معلوم ہوئی کہ بڑے ادیب کا فن پہلو دار ہوتا ہے اور اس کے ہر زاویے کو واضح دکھانے کے لیے یقیناًسنجیدہ نقاد کی ضرورت رہے گی آخری بات کہ فاروقی صاحب کی تصنیف ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ ہو یا حمید شاہد صاحب کی’’ سعادت حسن منٹو: جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘ منٹو کی بازیافت اور تجدید کے لیے خاصے کی چیزیں ہیں اور منٹو کو معاصر افسانے میں لا کھڑا کرتی ہیں۔

حوالہ جات

۱ فاروقی، شمس الرحمن ، ہمارے لیے منٹو صاحب، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۳ء ، ص ۵۔۶
۲ ایضاً ،ص ۸۔۹
۳ ایضاً ،ص ۱۵
۴ ایضاً ، ص۱۸
۵ ایضاً ،ص۲۱
۶ ایضاً ، ص ۲۲
۷ ایضاً ، ص۲۶،۲۷
۸ ایضاً ، ص ۲۸
۹ ایضاً ، ص ۳۲
۱۰ ایضاً ، ص ۵۰
۱۱ ایضاً ، ص ۵۳،۵۴
۱۲ ایضاً ، ص ۶۵
۱۳ ایضاً ، ص ۶۸
۱۴ ایضاً ، ص ۷۲
۱۵ ایضاً ، ص ۷۵
۱۶ ایضاً ، ص ۸۸
۱۷ ایضاً ، ص ۸۹۔۹۰
۱۸ انور سن رائے، بڑے ادیب اور افسانہ نگار منٹوکی غلطیاں،www.bbc.com/urdu/29-aug-2013
۱۹ ایضاً
۲۰ ایضاً
۲۱ ایضاً
۲۲ ایضاً
۲۳ ایضاً
۲۴ اجمل کمال،فاروقی صاحب کے لیے منٹو صاحب،مشمولہ نقاط،شمارہ نمبر۱۱،جون۲۰۱۴،فیصل آباد،ص۲۰
۲۵ حمید شاہد، محمد، سعادت حسن منٹو: جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۳ء، ص ۴۴۔۴۵
۲۶ ایضاً ، ص ۵۴
۲۷ ایضاً ، ص ۵۷
۲۸ ایضاً ، ص ۶۸،۶۹
۲۹ ایضاً ، ص ۷۹۔۸۰
۳۰ فاروقی، شمس الرحمن ، ہمارے لیے منٹو صاحب، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۳ء ، ص۸۲
۳۱ حمید شاہد، محمد، سعادت حسن منٹو: جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۳ء، ص ۱۱

غلام عباس|فاروقی صاحب کی افسانے کی حمایت اور محمد حمید شاہد

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *