M. Hameed Shahid
Home / حدیث دیگراں / محمد کامران شہزاد|محمد حمید شاہد کاخاندان ،پس منظر اور سوانحی حالات

محمد کامران شہزاد|محمد حمید شاہد کاخاندان ،پس منظر اور سوانحی حالات

 محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات سے مقتبس
محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات سے مقتبس

محمد حمیدشاہد کے آباؤ اجداد کا تعلق پنجاب کے دو رافتادہ شہر اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب سے ہے ۔ پنڈی گھیب کے مغرب کی سمت تقریباً سات آٹھ کلومیڑکے فاصلے پر ایک گاؤں ’’چکی ‘‘ کے نام سے آباد ہے ۔ حمید شاہد کے ددھیال اور ننھیال یہیں کے رہنے والے ہیں ۔ حمید شاہد کا تعلق اعوان اجمال قبیلے سے ہے ۔ضلع اٹک پہلے کیمبل پورکہلاتا تھا۔ اس ضلع میں وادی سون سکیسر کے علاوہ سرگودھا اور گجرات تک کے علاقوں میں اعوان بستے ہیں ۔ اعوان اس دھرتی کے با سی نہیں تھے بل کہ عون قطب شاہ کی اولاد میں سے تھے ان میں زیادہ ترکا پیشہ کھیتی باڑی تھا۔ دریائے سیل کے اردگرد بسنے والے اعوان قبیلوں نے بھی کھیتی باڑی کو اپنا ذریعہ معاش بنالیا ۔محمدحمید شاہد کے داداکا نام غلام نبی ہے جو حافظ قرآن تھے ۔دریائے سیل کے کنارے آباد گاؤں ’’چکی ‘‘ میں پیدا ہوئے ۔حافظ غلام نبی گاؤں میں کاشت کاری کے پیشے سے وابستہ رہے۔۱۹۴۷ء میں پاکستان بننے سے پہلے حاٖفظ غلام نبی اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے’’ چکی‘‘ سے پنڈی گھیب منتقل ہوگئے تھے۔ کاشت کاری چھوڑ کر شہر میں منتقل ہوئے تو اپنے ہی عزیزواقارب کی سہولت کے لیے پنڈی گھیب کی اناج منڈی میں آڑھت کا کام شروع کردیا ۔ گاؤں سے اناج آتا ، وہاں سے آنے والے ان کے مہمان ہوتے اور لایا گیا اناج منڈی میں اچھے داموں نکل جانے کی صورت بھی نکل آتی۔(۱) اس نقل مکانی کے زمانے کا نقشہ حمید شاہد نے اپنے افسانہ ’’وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی ‘‘ میں کھینچا ہے۔ اس افسانے کا ایک اقتباس ملا حظہ ہو
’’مگر حویلی خالی ہو گئی تو خالی پن سے بوسیدگی کے وسوسے نے ابا کے کانوں میں ذیلداروں کی بات مان لینے کی سرگوشی انڈیلی‘ جو حویلی کی قیمت تھامے ابا کے سامنے بیٹھے تھے۔اور یوں حویلی بِک گئی۔ ابا کے پاؤں تلے سے گاؤں کی زمین اُسی روز کھسک گئی تھی جب وہ اماں اور مجھے لے کر شہر منتقل ہوے تھے۔ دادا جان کے مرنے اور حویلی کے بکنے کے بعد زمین ہاتھوں سے بھی کھسکنے لگی۔ ٹھیکیدار‘ کہ جن سے ٹھیکے کی رقم لینے ابا کو گاؤں کے کئی کئی پھیرے لگانے پڑتے تھے‘ اب وہ زمین کا سودا کرنے خود ابا کے پاس آ رہے تھے۔ابا کے نزدیک معاوضہ اچھا خاصا تھا۔ شہری زِندگی کی عمارت میں جگہ جگہ ضرورتوں کے شگاف پڑ گئے تھے۔ زمین بِک گئی تو ان شگافوں کو بھی کسی حد تک پاٹنے میں مدد ملی۔ بہ ظاہر گاؤں سے تعلق کے سارے واسطے ایک ایک کر کے ٹوٹ چکے تھے مگر ابا اَپنی حیاتی کے آخری لمحے تک گاؤں سے جڑے رہے۔ گاؤں کے سادہ لوح دیہاتی اور عزیزواقارب شہر میں اپنے چھوٹے موٹے کاموں سے لے کر پیچیدہ سے پیچیدہ امور کے حل کے لیے اباسے رابطہ کرتے تھے اور جب میں چیزوں کو سمجھنے لگا تو محسوس کیا‘ ابا کی روح ان لوگوں میں اٹکی ہوئی تھی۔ گاؤں سے لوگ آتے‘ پہروں مجلسیں جمتیں ‘ احوال پوچھے جاتے‘ کبھی کسی کے ساتھ پٹوار خانے جاتے تو کبھی تھانے کچہری کا چکر لگاتے۔ شام گئے پلٹتے تو بدن تھکن سے چور ہوتا مگر ایک سرشاری چہرے پر بشاشت بن کر تیر رہی ہوتی۔‘‘(۲)
حافظ غلام نبی کو خدا تعالیٰ نے تین بیٹوں سے نوازا ۔ سب سے بڑے بیٹے کا نام غلام محمد ، منجھلے سلطان محمد اور سب سے چھوٹے گل محمد تھے ۔ غلام محمد کے ہاں حمید شاہد نے جنم لیا۔ غلام محمد نے مڈل تک تعلیم حاصل کی اور بعدازاں ۱۹۴۲ء میں فوج میں بھرتی ہوگئے ۔ ۹سال فوج میں ملازمت کرنے کے بعد ۱۹۵۱ء میں فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی اور ایک سکول میں استاد کے فرائض سر انجام دینے شروع کردیے ۔ غلام محمد کی شادی فتح محمد کی بیٹی بخت بیگم سے۱۹۳۳ء میں ہوئی۔ (۳)
غلام محمد کو خداوندکریم نے سات بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا تھا جن کے نام بالترتیب محمد جاوید، زرینہ مشتاق ، محمد خورشید اعوان ، محمد حمید شاہد ، محمد وحید اختر ، محمد شاہد وقاص ، محمد نوید ملک ، محمد زاہد اور امینہ عارف ہیں ۔
محمد جاویدان کے سب سے بڑے بھائی ہیں اگرچہ وہ ایک بین الاقوای آئل کمپنی میں(جس کا صدر دفتر کراچی میں ہے) ایک عرصہ رہنے اور اعلی عہدہ پانے کے بعد ریٹائر ہوگئے تھے مگر اس کمپنی والوں کو پھر بھی ان کی ضرورت رہی۔ جب وہ اپنے بچوں کے ساتھ راولپنڈی میں مستقل طور پر مقیم ہو گئے تو انہیں اسی کمپنی سے کنسلٹنٹ ہونے کی آفر ہوئی ، جو انہوں نے قبول کر لی ۔ سو اَن کا کراچی اور اسلام آباد آنا جانا لگا رہتا ہے۔ محمد جاوید کا عقد خورشید بیگم سے ہوا تھا۔ اولاد میں ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
حمید شاہد کی بڑی بہن زرینہ مشتاق زوجہ مشتاق احمد کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے میاں، حافظ مشتاق احمد کا تعلق بھی’چکی‘ سے ہے تاہم واہ آرڈیننس فیکٹری میں ملازمت کرتے رہے ۔ ریٹائر منٹ کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ واہ میں ہی مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
محمد خورشید اعوان ابوظہبی میں ایک بین لاقوامی آئل کمپنی سے وابستہ رہے اور ایگزیکٹو کے عہدے پر پہنچ کر ریٹائر ہوئے تو کمپنی نے انہیں مزید تین سال کا کنٹریکٹ آفر کیا جسے انہوں نے پہلے تو قبول کیا مگر بعد میں مستعفی ہو کر ایک اور بین الاقوامی آئل کمپنی سے وابستہ ہوکر اسلام آباد میں ہی مقیم ہوگئے ہیں۔ ان کی شادی کلیم بانو سے ہوئی ۔خدا نے ان کو اولاد کی نعمت سے نہیں نوازا البتہ محمد حمید شاہد کی منجھلی بیٹی رمشا حمید کو انہوں نے بیٹی بنا لیا، اس کی پرورش انھوں نے کی اور اس کی شادی بھی انھوں نے کی ہے، جو اب لاہور میں مقیم ہے ۔
محمد حمید شاہد کے چھوٹے بھائی محمد وحیداخترپنڈی گھیب میں ہی اپنے آبائی گھر میں مقیم ہیں۔ ذاتی کاروبار کرتے ہیں۔ اُن کی شادی پروین اختر سے ہوئی اور ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
محمد شاہد وقاص واہ میں ملازمت کرتے تھے ، جوانی میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ حمید شاہد کے افسانے ’’ مرگ زار‘‘ میں اس بھائی کے خدوخال نمایاں نظر آتے ہیں ۔
محمد نویدملک ایم ۔بی۔ اے کے بعد شروع میں شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہوئے پھر ملازمت چھوڑ کر کے شارجہ منتقل ہو گئے۔ وہیں پر ذاتی کاروبار کرتے ہیں۔ ان کی زوجہ کا نام عابدہ نوید ہے جن کے بطن سے اللہ نے ان کو ایک بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا ہے۔
محمد زاہد بھی آئل فیلڈ سے وابستہ ہیں ملازمت کے سلسلہ میں کچھ عرصہ سعودی عرب رہے آج کل ایک ایسی کمپنی سے منسلک ہیں، جس کے تیل کے کنویں سندھ اور دوسرے علاقوں میں ہیں اور دفاتر کراچی اور اسلام آباد میں ۔ ان کی شادی ماموں زاد کوثر بانو سے ہوئی جن سے چار بیٹیاں اوردو بیٹے ہیں۔یہ آج کل راولپنڈی میں مقیم ہیں۔
سب سے چھوٹی بہن امینہ عارف ہیں ۔ ان کے شوہر محمد عارف ملک فوج میں بریگیڈیر ہیں ۔ یاد رہے کہ بریگیڈیر عارف حمید شاہد کی زوجہ یاسمین حمید کے چھوٹے بھائی ہیں ۔ آج کل راولپنڈی میں اقامت پذیر ہیں۔ اللہ نے انہیں تین بیٹوں سے نوازا ہے۔(۴)حمید شاہد نے اپنے دوسرے افسانوی مجموعے ’’جنم جہنم ‘‘ کا انتساب اپنے بھائیوں کے نام ان لفظوں میں کیا ہے:
’’جاوید ،خورشید
وحید،نوید اورزاہد کے نام
کہ جن کی محبت میرے لہو میں دوڑتی ہے ‘‘(۵)
محمد حمید شاہد ۲۳مارچ ۱۹۵۷ء کو پنڈی گھیب کے محلہ ملکاں میں پیدا ہوئے ۔باپ نے نام محمدحمید رکھا، حمید شاہد کی اسناد پر بھی یہی تاریخ پیدائش درج ہے ۔(۶)باپ نے نام تو محمد حمید رکھا مگرشاہد کا اضافہ بعدازاں انھوں نے خود کر لیا ۔ کیو ں کہ وہ سمجھتے تھے کہ شاہدکے اضافے سے نام زیادہ با معنی ہو جائے گا ۔اس حوالے سے وہ خود رقم طراز ہیں:
’’میڑک کا زمانہ تھا اور جو استادمکر م ہم سے امتحان کے لیے فارم پر کروارہے تھے ان کی تحریک بھی تھی۔۔۔۔نہ جانے کیوں مجھے یہ الجھن سی ہو چلی تھی کہ میرانام ایسا نہیں ہے جو میرے وجود کی شناخت بنے ۔ میں اُن دنو ں لفظوں کے لغوی معنوں سے چھری کٹاری کرنے لگا تھا اور جب میں اپنے نام پر غور کرنا تھا تو مجھے نام کا پہلا حصہ محض اسم صفت نہ لگتا ۔ جناب رسالت مآب ﷺ کا اسم پاک ہی لگتا اور نام کے دوسرے حصے سے جڑنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہونے لگتا جیسے ہرکہیں سے نبی پاک ﷺ پر دور بھیجا جارہا ہو ۔ جب سے مجھے پتہ چلا تھا کہ حمید خداوند کریم کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہے اور اس کے معنی کیا ہیں تو میں اپنے دو حرفی نام کا عجیب عجیب معنوی خاکہ بناتا تھا اور نہ جانے کیوں ان دو حرفوں کو محض نام کے طورپر بعینہ قبول کرتے ہوئے خود کو گنا ہ گار اور بے ادبی کا مرتکب سمجھنے لگتا تھا ۔ میڑک کے امتحان کے داخلے کے دوران جب ہمیں بتا یا گیا کہ اپنے نا م کے ساتھ کچھ بھی لگا سکتے ہیں تومیں نے شاہدکا اضافہ کرلیا ۔ شاہد میرے چھوٹے بھائی کا نام تھا مگر نہ جانے مجھے کیوں یہ احساس ہو چلا تھا کہ شاہد ہی وہ لفظ ہے جو میرے نام کے ساتھ جڑنے کے بعد اسے نئی معنویت دے سکتاتھا‘‘۔(۷)
محمدحمید شاہد کے بڑے بھائی محمد جاوید ’’چکی ‘‘ میں جب کہ باقی سب بہن بھائی پنڈی گھیب میں ہی پیدا ہوئے اور پنڈی گھیب میں پلے بڑھے۔ گھر کا ماحول دیہی رہا ۔ بچپن میں حمید شاہد باقی بہن بھائیوں کی نسبت شرارتی تھے ،جس کا اظہار وہ خود ان الفاظ میں کرتے ہیں :
’’جب میں بڑے بھائیوں کے ساتھ کھانے پر بیٹھتا تو ان سے چھڑ چھاڑ کے لیے ان کا دھیان ادھر ادھر کر کے ان کی پلیٹ سے اچھی اچھی بوٹیاں اٹھا لیتا تھا۔‘‘(۸)
بقول حمید شاہد ان کا بچپن بہت ہنگامہ خیز گزرا ہے ۔دیہاتی بچہ ہونے کے ناطے دیہی کھیل مثلاً گلی دنڈا ، پتنگ بازی ، وغیرہ ان کی دلچسپی کا مرکز بنے رہے ۔ انھوں نے اپنے بچپن کے زمانے اور آج کے زمانے کے بچوں کی مصروفیات کو افسانہ ’’ککلی کلیردی‘‘ میں ان الفاظ میں بیا ن کیا ہے:
’’وہ کھلکھلا کر ہنس دِی اور پھر ہنسے چلی گئی۔ حتّٰی کہ اس کا بدن دہرا ہوگیا اور آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ پھر وہ یکلخت یوں چپ ہو گئی‘ یوں کہ سارے میں سناٹا قہقہے لگانے لگا۔ میں اُس کے چہرے پر بدلتے رنگوں کو حیرت سے تک رہا تھا۔ اور جب سنجیدگی اس کے چہرے پر ککلی کھیل رہی تھی تو اس نے کہا: ’’تم نے اپنے بچوں کے چہروں کبھی غور سے دیکھا ہے؟‘‘
میں اس غیر متوقع سوال پر بھونچکا ہوکر اسے بٹر بٹر دیکھنے لگا۔ میں بہ ظاہر اسے دیکھ رہا تھا مگر بہت سُرعت سے یہ سوچنے کی جانب رَاغب بھی ہوگیا تھا کہ میں نے اپنے بچوں کے چہرے کب غور سے دیکھے تھے۔ جب میرے حیرت زدہ چہرے پر سوچ کی مکڑی نے جالا بُن دیا تو وہ کہنے لگی:
’’تمہیں کب فرصت ہے اس کی؟ تمہارا دفتر ہے‘کمپیوٹر ہے‘انٹرنیٹ ہے ‘بزنس میٹنگز ہیں‘ پارٹیاں اور آؤٹنگ ہے ۔ اور لکھنا لکھانا بھی تو ہے‘ ہونہہ۔ ہاں تو میں کَہ رہی تھی کہ تمہارے اپنے معمولات ہیں ۔ ایسے میں تمہارے پاس وقت کہاں کہ بچوں کے چہرے غور سے دیکھ سکو۔ تمہاری نظریں تو میرا چہرہ بھی ڈھنگ سے دیکھنا بھول گئی ہیں۔‘‘
میں شرمندہ ہوگیا۔ مجھے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی تھی کہ ایک مُدّت سے میں اُس کا چہرہ حیرت سے دیکھتا تھا یا بوکھلاہٹ میں ۔ محبت سے دیکھنا نہ جانے کب سے چھوٹ گیا تھا۔مجھے جھینپتے پاکر وہ ماضی کے ان لمحات میں اُتر گئی جب میری نظروں کی آنچ سے اُس کے گورے گال تمتما کر سرخ ہو جایا کرتے تھے۔ وہ ماضی سے جلد ہی لوٹ آئی اور میرے جھکے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہنے لگی:
’’شرمندگی کے بیج بو کر ہم نے پچھتاوے کی فصل کے سوا اَپنی آئندہ کی جنریشن کو برداشت کے لیے اور دِیا ہی کیا ہے؟‘‘
اب میں جس کیفیت میں تھا ‘اسے کوئی نام نہ دیا جا سکتا تھا۔ (۹)
اسی افسانے میں آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:
’’میں نے اسے روکنا چاہا۔ وہ خود ہی رُک گئی تھی۔ اُس کی آواز اب جیسے بہت دور سے آرہی تھی:
’’ٹیوشن‘ ہوم ورک‘ ٹی وی ڈرامے‘ فلمیں ‘انٹرنیٹ اور لمبے دِن کی بے پناہ تھکن۔ معصوم چہروں کو بے ڈھب معلومات کے اس عفریت نے چچوڑ کر بوڑھا کر دِیا ہے۔ اتنے تیزی سے گزرتے ہوے طویل دن کی کوئی شام ان کھیلوں کے لیے نہیں ہے جو ساری عمر انگلی تھامے رکھ سکتے ہیں۔ لکن میٹی نہ کانچ کی گولیاں۔ اینگن مینگن تلی تلینگن نہ کٹم کاٹا۔ گڑیا پٹولے نہ کھو کھو۔۔۔اور۔۔۔نہ ککلی۔ جب بچوں کے پاس بچپن ہی نہیں رہا تو ککلی کیسی؟‘‘
میں نے اُسے دیکھا ۔ اُسے بھی اور اس کی آنکھوں میں اُمنڈتے آنسووں کو بھی۔ اُس کی سانسیں پھولنے لگی تھیں ۔ میں نے تب قریب آتے بچوں کو دیکھا اور یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوگیا کہ اُن کے چہروں سے بچپنا رُخصت ہو چکا تھا۔ تب میں نے ذہن پر زور ڈالا مگر مجھے یاد نہ آرہا تھا کہ میرے بچوں نے یہ کھیل کبھی کھیلے بھی تھے یا نہیں‘‘۔(۱۰)
تعلیم
حمید شاہد نے ابتدائی تعلیم کا آغاز ۱۹۶۳ء میں پنڈی گھیب کے محلہ ملکاں کے گورنمنٹ پرائمری سکول سے کیا ۔(۱۱) یہی سکول بعد میں محلہ ملکاں کی عمارت میں رہا ،جب حمید شاہد پانچویں جماعت کے طالب علم تھے تو سکول میں ہونے والی ایک تقریب میں ایک ڈرامے میں حصہ لیا۔ یہ دراصل اردو کی کتاب کا ایک سبق تھا ،جس کو ڈرامائی تشکیل دی گئی تھی۔ پرائمری تعلیم کے دوران کا حمید شاہد ایک واقعہ سناتے ہیں کہ:
’’میرے ایک ہم جماعت لیاقت علی کے ابا جان اسی سکول میں تھے بلکہ ہماری کلاس کو پڑھایا کرتے تھے ۔ ایک بار انھوں نے تختی لکھنے کا مقابلہ کروایا ۔میرے ابا جی سر کنڈے سے بہت اچھا قلم بناتے تھے ۔ہم اسے کانی کہتے تھے قلم تراشنے کے بعد اس کا کٹ وہ اتنے سلیقے سے لگاتے کہ تختی پرلکھتے ہوئے عبارت خود بہ خود خوش خط ہوجاتی تھی ۔ میں نے تختی ابا جی کی بنائی ہوئی کانی سے لکھی تھی لہذا میں انعام جیت گیا۔‘‘(۱۲)
اپنے پرائمری تعلیم کے حوالہ سے حمید شاہد رقم طرا ز ہیں :
’’سلیٹ ، قاعدے ، تختی ، سکول کی پیتل کی گھنٹی ،چھٹی کے وقت زور دے دے کر پہاڑے یاد کرنا، اونچے شملے والے ہیڈ ماسٹر صاحب اور بہت کچھ جسے عمر بھر یاد رکھاجاسکتا ہے اور جس یاد کے سہارے بے پناہ توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔‘‘(۱۳)
حمید شاہد نے پرائمری کا امتحان ۱۹۶۸ء میں پاس کیا اور مڈل سکول میں داخلہ لے لیا،جو تحصیل کے دفاتر کے پاس تھا۔ مڈل ۱۹۷۲ء میں اور میڑک ۱۹۷۴ء میں گورنمنٹ ہائی سکول پنڈی گھیب سے کیااور یہ امتحان سرگودھا بورڈ سے پاس کیا۔
میڑک تک پنڈی گھیب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعدا ایف۔ ایس ۔سی اور گریجویشن زرعی یونی ورسٹی فیصل آباد سے کی ۔حمید شاہد گریجویشن اسلام آباد جیسے بڑے شہر کو چھوڑ کر فیصل آباد زرعی یونی ورسٹی سے کرنے کی وجہ یہ بتاتے ہیں :
’’میڑک کے زمانے میں بنگلہ دیش نامنظور تحریک چل رہی تھی ۔ فیصل آباد یونی ورسٹی سے کچھ طلبہ پنڈی گھیب آئے تھے وہاں ایک جلسہ ہوا اس میں ،میں نے بھی تقریر کی یہ طالب علم لیڈرحضرات واپس چلے گئے مگر جاتے ہوئے فیصل آباد یونی ورسٹی میں داخلے پر میرے ابا جان کو قائل کرگئے ‘‘۔(۱۴)
یونی ورسٹی میں طلبہ سیاست میں خوب حصہ لیا ۔ جنرل سیکرٹری کا الیکشن بھی لڑاجس میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ان ہی سرگرمیوں کی وجہ سے دیگر طالب علموں کی طرح ان کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ۔آئے دن کی ہڑتالوں اور یو نی ورسٹی بندش کے زمانے میں حمید شاہدنے اپنی پہلی کتاب ’’پیکرِٗ جمیل ‘‘مکمل کر لی ۔ یہی وہ زمانہ تھا کہ وہ طلبہ سیاست سے الگ ہو کر پڑھنے لکھنے کی طرف راغب ہو چکے تھے ۔’ پیکرِ جمیل‘ ۱۹۸۱ء میں مکمل ہوئی اور ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی ۔پیکرِ جمیل کا انتساب اپنے والدین کے نام کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’امی اور ابو کے نام
۔۔۔کہ وہ ساری کہانی
جومیرے سینے کے محسبس میں
کبوتربن کر پھڑپھڑاتی ہے
انہی سے معتبر ہے ۔۔۔‘‘(۱۵)
اسی زمانے میں حمید شاہد ریاض مجید، احسن زیدی،انور محمود خالدسے لے کر عالم خان،کاشف نعمانی، اشفاق کاشف، انجم سلیمی اور دوسرے احباب سے گھنٹہ گھر چوک کے قریب مختلف ہوٹلوں میں ہونے والے ادبی مباحث میں شرکت کرتے رہے ۔ ان مباحث اور مطالعے کی طرف رغبت نے ان کے ادبی ذوق کومزید پروان چڑھایا۔ محمد حمید شاہد زرعی یونی ورسٹی کے ادبی مجلہ’’کشتِ نو‘‘ ۸۱۔۱۹۸۰ء کے مدیر اعلی رہے۔ ان کے ساتھ انور سدید کے بیٹے مسعود انور اور غزالہ ارشد معاون جب کہ سید یونس جیلانی اور رفعت نسیم مجلس مشاورت میں تھے ۔ انھوں نے۱۹۸۳ء میں بی ۔ ایس ۔ سی آرنززسے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پنجاب یونی ورسٹی میں شعبۂ قانون میں داخلہ لیا۔ ابھی کلاسز کا آغاز نہیں ہوا تھا کہ والد کی بیماری کی خبر کے سبب مزید تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکے اور گھر واپس آگئے ۔ اس سلسلے میں حمید شاہد خود رقم طراز ہیں:
’’گریجوایشن کے بعد میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں قانون کی تعلیم کے لیے داخل ہوگیا۔میں چاہتا تھا کہ لاہور میں مجھے کوئی ایسی ملازمت مل جائے کہ ساتھ ساتھ میں تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھ سکوں مگر اسی عرصہ میں والد صاحب کی شدید علالت مجھے واپس پنڈی گھیب لے آئی‘‘۔(۱۶)
حمید شاہد کے والد فالج کے مرض کے سبب ۱۹۸۳ء میں رمضان المبارک کی ۲۷ تاریخ کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے ۔
عملی زندگی
حمید شاہد کے والد کاجب انتقال ہوا تو ان دنوں زرعی ترقیاتی بنک کو ایگریکلچر گریجوایٹس کی اشد ضرورت تھی ۔ بھرتیوں کا سلسلہ یوں تھا کہ بنک کے ہیڈ آفس میں نام لکھو ادیا جاتا اور جلد ہی ایک مخصوص دن انٹرویو کے لیے بلوا لیا جاتا۔ محمد حمید شاہد کے ایک دوست نے ان کا نام اس سلسلے میں دے کر انہیں مطلع کر دیا۔ یو ں انہوں نے ۱۵ستمبر ۱۹۸۳ء کوزرعی ترقیاتی بنک کے ریجنل آفس، راولپنڈی میں بہ طور ایکسٹرا اسسٹنٹ جوائن کیا ۔ اگلے روز انہیں بہ طور موبائل کریڈٹ آفیسر کے فتح جنگ میں زرعی ترقیاتی بنک میں پوسٹ کردیا گیا۔ وہاں سے حمید شاہد ۱۳نومبر ۱۹۸۴ء کو اپنے آبائی شہر پنڈی گھیب کی برانچ میں تعینات ہوئے ۔ ۱۶ `اکتوبر ۱۹۸۶ء تک وہ پنڈی گھیب میں ہی رہے پھر ان کا تبادلہ ضلع اٹک ہی کی جنڈ برانچ میں کر دیا گیا ۔ ۲۷ستمبر ۱۹۸۹ء میں ان کا تبادلہ بطور آپریشن آفیسر کہوٹہ برانچ میں ہوا جو ضلع راولپنڈی میں ہے ۔ یہاں یکم اگست ۱۹۹۱ء تک تعینات رہے ۔ انہوں نے بطور منیجر مری برانچ (ضلع راولپنڈی) میں ۲ اگست ۱۹۹۱ء کو چارج سنبھالا۔ اگلے سال ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ ء کو ریجنل ریکوری آفیسر کے طور پر ریجنل آفس اسلام آباد پوسٹ ہو گئے ۔ ۱۹ جولائی ۱۹۹۴ء کو ریجنل آپریشن آفیسر کے طور پر ۲۳ `اگست ۱۹۹۶ء تک کام کیا ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر (آپریشنز ) کے طور زونل ایگزیکٹوز آفس، اسلام آباد میں ۲۴ اگست ۱۹۹۶ء سے ۲۵ فروری ۱۹۹۷ء تک اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے رہے۔ اسی عہدے پر جنرل منیجرز آفس ، اسلام آباد میں ۸نومبر ۱۹۹۷ء تک تعینات رہے۔ حمید شاہد بطور انچارج ریکوری پالیسی ۹ نومبر ۱۹۹۷ء سے ۱۲` اکتوبر ۱۹۹۹ء تک رہے ۔ اس کے بعدسپیشل اسسٹنٹ ایگزیکٹوڈ ائریکٹر ریکوری ۱۳ `اکتوبر ۱۹۹۹ء سے ۳۱دسمبر ۱۹۹۹ء اور سپیشل اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرریکوری یکم جنوری ۲۰۰۰ ء سے ۱۰ جنوری ۲۰۰۱ء تک جب کہ سپیشل اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کریڈٹ ۱۱جنوری ۲۰۰۱ء سے ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ ء تک رہے۔ ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ ء سے تاحال ریکوری پالیسی کے ہیڈ کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔
دوران ملازمت حمید شاہد نے مختلف کورسسز بھی کیے جن میں موبائل کریڈٹ آفیسر ، ایگری ٹیکنالوجی کورس، اسلامک بینکنک سسٹم اینڈلون اپریزل کورسز، ریسورس موبلائزئیشن کورسز، اور آئی ۔ ٹی ٹریننگ کورسز شامل ہیں اس کے علاوہ بنک کے سٹاف کالج میں افسران اور دوسرے ملازمین کو مختلف موضوعات پر لیکچر دیتے ہیں ۔ بنک کی طر ف سے بیرون ملک بھی جانا ہوا جن میں تھائی لینڈ ، متحدہ عرب امارات اور سری لنکاشامل ہیں ۔
خانگی زندگی اورشخصیت
محمدحمید شاہد کی ازدواجی زندگی کا آغا ز ۱۱ستمبر ۱۹۸۵ء کو ہوا۔ اُن کی شادی پنڈی گھیب میں ہی یاسمین اختر سے ہوئی ۔ یاسمین اختر نائب صوبیدار (ر) فتح محمد کی بیٹی ہیں۔ فتح محمد نے دو شادیاں کی تھیں۔ اُن کی پہلی شادی تاج بی بی سے ہوئی جس کے بطن سے پچیس سال تک کوئی اولاد نہ ہوئی تو تاج بی بی کی رضا مندی سے زیب النساء سے دوسری شادی کی ۔ زیب النسا کا تعلق نوشہرہ (پنڈی گھیب )سے تھا ۔ ان کے بطن سے فتح محمد کی پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے ۔ یاسمین اختر کا عقد حمید شاہد سے ہوا تو اس وقت وہ راولپنڈی کے کالج میں بی ۔ اے کی طالبہ تھیں ۔ شادی کے بعد وہ تین سال تک تدریس کے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ بعد ازاں ملازمت ترک کرکے ساری توجہ بچوں پر مبذول کردی۔ حمید شاہد اپنی ازدواجی زندگی کے متعلق لکھتے ہیں :
’’محبت کچھ دینے کا نام ہے ۔۔۔۔۔۔اور میر اخیال ہے کہ ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہے اور بہت سے لوگوں سے زیادہ خود کو خوش خیال کرتے ہیں ‘‘(۱۷)
اولاد خداوند کریم کی نعمت ہوتی ہے ۔ خدا تعالیٰ نے حمید شاہد کو چار بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا ہے سب سے بڑی بیٹی کانام ثنا حمید ہے جو کہ اب ثنا شعیب ہیں ۔ثنا شعیب نے اسلام آباد انٹر نیشنل یونی ورسٹی ،اسلام آبادسے بی ۔بی ۔ اے اور ائیر یونی ورسٹی، اسلام آباد سے ایم ۔بی ۔ اے کیا ہے ۔ وہ آج کل ائیر یونی ورسٹی میں ہیومین ریسورس آفیسر ہیں ۔ اُن کی شادی شعیب یونس سے طے پائی جو کہ ایک بین الاقوامی فرم میں ملازم ہیں ۔ ان کو خدا تعالیٰ نے ایک بیٹے اورایک بیٹی سے نوازا ہے۔ بیٹے کا نام ریان ہے جب کہ بیٹی کا نام ایشال ہے ۔ حمید شاہد کا بچوں اور نواسوں سے محبت کا اظہار ہم اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ اپنے نواسے کی پہلی سالگرہ کے موقع پرنثم(نثر+نظم) تحریر کی:
’’ریان! ہمیں آپ سے محبت ہے
اس لیے کہ
آپ نے ہمیں زندہ رہنا سکھایا ہے
ہم نے سیکھا ، کہ زندگی لغت میں پڑا ہوا محض ایک لفظ نہیں ہے
ہم نے سیکھا کہ یہ عین مین ویسی نہیں ہے جیسی کتاب میں لکھ دِی جاتی ہے۔
آپ نے سکھایا کہ زندگی صرف سانسیں لینے کی بانجھ مشقت ہے نہ بے سبب جیے چلے جانے کا نام۔
آپ نے سکھایا کہ ، زندگی نہ تو بے روح بوسہ ہے اور نہ ہی بے کیف تعلق اور مجبوری کا رشتہ۔
زندگی کو سیکھنا پڑتا ہے؛اسے سہنا ہوتا ہے؛ اسے پینا پڑتا ہے
لمحہ لمحہ ، حیرت اور محبت سے ، وقت کی صراحی سے قطرہ قطرہ
آپ نے ہمیں زندہ رہنا سکھایا ۔
سال بھر پہلے کہ جب
زندگی ہمارے حلقوم میں پھانس ہو گئی تھی
اور موت میں گندھے ہمارے جسم
ہسپتال کی راہداری میں یوں ڈول رہے تھے
جیسے تندباڑھ کی زد میں آئی کاغذ کی کشتی ڈولتی ہے
کیا یہ وہی لمحہ تھاجس کا ہم سب نے دُعائیں مانگ مانگ کر انتظار کیا تھا؟
یہ لمحہ تو شدید دُکھ اُچھالتا آیا تھاہمارے اشتیاق اور تاہنگ کو قدموں تلے کچلتا ہوا
اور ہمارے یخ وجودوں کو تیز آرے کی طرح چیرتا ہوا
اور ہماری ہڈیوں میں تڑخ کر ٹوٹنے کی گونج بھرتا ہوا
اور ہماری روشن آنکھوں میں خاکستری دھول جھونکتا ہوا
صد شکر کہ آپ کے بدن نے شیشے کے مرتبان میں جھرجھری لی تھی
اورزندگی نے عجب بے اعتناہی سے ہمارے خستہ وجودوں کودیکھا تھا
یہی ایک ادا ہمارا زندگی سے پہلا مصافحہ تھا
ریان !
پیارے ریان!
لمحے گھنٹوں میں اور گھنٹے دنوں میں ڈھل گئے ہیں
اب آپ کے بدن پر ایک سال کی خوب صورت پوشاک ہے
مگر ہم نے اِس مدت میں صدیوں کی عمر پائی ہے ۔
عمر جوآپ کی محبت کی پھوار میں بھیگی ہوئی ہے
اس بھیگ میں آپ کے چہچہے ہیں
ان چہچہوں کے ساتھ ہمارے دِل کی توانائی پاتی دھڑکنیں ہیں
ہر دھڑکن میں آپ کی سلامتی کی دُعائیں ہیں
ریان !
پیارے ریان !
ہمارے ریان!
آپ نے ہمیں سکھایا کہ زندہ رہنا کیا ہوتا ہے۔
اِس عطا پر ہمارے دِل ہمیشہ آپ کے شکر گزار رہیں گے۔
اور تاعمر سات آسمانوں کے ہر دروازے پر
دعاؤں کے ہاتھوں سے آپ کی سلامتی کے لیے دستکیں دیتے رہیں گے۔‘‘ (۱۸)
دوسری بیٹی کی پیدائش ۲۲ستمبر ۱۹۸۸ء کو پنڈی گھیب میں ہوئی ۔ ان کا نام رمشا حمید ہے۔ رمشا حمید ک۰۹پرورش ان کے تایا محمد خورشید اعوان نے کی اور بیٹی بن کر مستقل سکونت بھی انہی کے ہاں اختیار کی ۔ رمشاحمید نے ایم ۔بی ۔بی۔ایس کیا اور آج کل سی ۔ ایم ۔ ایچ لاہور میں بطورمیڈیکل آفیسر اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کی شادی کیپٹن ڈاکٹر حامد اویس سے ہوئی اوران کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے نوازا ہے جس کا نام عبداللہ بن حامد رکھاگیا ہے۔ رمشا حمید کا حوالہ حمید شاہدکے افسانہ ’’منجھلی ‘‘ میں آیا ہے ۔ اس افسانے سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’اَب سوچتا ہوں کہ میں نے اِتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا تھا‘ تو حیرت ہوتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اِتنا بڑا فیصلہ میں نے نہیں کیا تھا‘ خود بخود ہو گیا تھا۔دراصل بھائی اور بھابی دونوں اِتنی محبت کرنے والے اور خیال رکھنے والے ہیں کہ اُن کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔بیگم نے بھی مخالفت نہ کی تھی۔بس ہکا بکا مجھے دِیکھتی رِہی تھی۔اگرچہ وہ کچھ نہ بولی تھی مگر اس کی آنکھیں نمی سے بھر گئی تھیں۔اور اَب جب کہ میرے اَندر بھیگی آنکھوں کی فصل اُگ آئی ہے‘ سوچتا ہوں؛میں نے اَپنا فیصلہ بدل کیوں نہ دیا تھا۔پھر یوں ہوا کہ اس نے میرا فیصلہ اَپنا فیصلہ بنا لیا۔سب کو کہتی پھرتی۔
’’دیکھو جی گڑیا ابھی دودھ پیتی ہے اور بڑی بھی تو ناسمجھ ہے‘ بات بے بات ضد کر بیٹھتی ہے توسنبھالے نہیں سنبھلتی۔ میں منجھلی کو کیسے سنبھالوں گی؟اَپنی دادی اور پھوپھی سے بہت مانوس ہے‘ بھابی اور بھائی بھی تو ماں باپ جیسے ہیں‘ پیچھے رہ لے گی۔‘‘
اور وہ پیچھے رہ گئی۔پہلی رات میں سو نہیں سکاتھا۔ننھی منی معصوم منجھلی آنکھوں کے سامنے گھومتی رہی۔میں نے بیگم کو دِیکھا‘ وہ بھی پہلو بدل رہی تھی۔ پوچھا:
’’نیند نہیں آرہی؟‘‘
’’جی ‘ نئی جگہ ہے نا!‘‘
پھر نئی جگہ پرانی ہوگئی۔ مگر‘ وہ حوصلہ نہ ہاری۔اور منجھلی بھائی اور بھابی کی بیٹی بن کر ان کے پاس رہتی رہی۔وہ اُنہیں ابو اور امی کہتی ہے جب کہ ہمیں بابا اور ماما۔شروع شروع میں جب ہم جاتے تھے تو وہ ہمارے ساتھ آنے کے لیے ضد کرتی۔ رو رو کر بے حال ہو جاتی مگر رَفتہ رَفتہ وہ چُپ چَاپ ہمیں دِیکھتی رِہتی۔اور جب حسرت سے یوں دِیکھتی تو میرا دِل کرتا ‘ کاش وہ کُھل کر رو لے۔بیگم کا خیال تھا: اُس کے آنسواُس کے اَندر پڑرَہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بیگم کو گاؤں سے واپسی پر چپ سی لگ جاتی۔بات یہ نہیں ہے کہ اُوپر تلے ہماری تین بچیاں ہوئی اور ایک بھائی بھابی کو دِے دِی۔ نہ ہی یہ درست ہے کہ ہمارا تبادلہ ہوگیا اور دوسرے شہر میں ان تینوں کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا کہ اَپنی اولاد کے لیے مشکلات سہنا ہی تو زِندگی کو پُر لطف بنا تا ہے۔اصل واقعہ یوں ہے کہ جب گڑیا پیدا ہوئی تھی تو بھابی اُسے گود میں اُٹھا کر دِیر تک دِیکھتی رہی تھی۔پھر اُس نے ہونٹوں سے گڑیا کے گال چوم لیے تھے اور اُس کے گالوں سے اَپنے گال رگڑتی رہی تھی۔ایساکرتے ہوے اُس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔اُس نے اپنے آنسوؤں کو بہہ جانے دِیا اور انگلی سے ہونٹوں کو سہلایا تھا ؛یوں جیسے محبت کے اِس لمس کو پوروں پر محسوس کرنا چاہتی ہو۔پھر بے اختیار اُسے اَپنے سینے سے لگا لیا اور کہا:
’’اوہ میری بچی‘‘۔
میں یہ سب کچھ دِیکھ رہا تھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا۔ کہا:
’’بھابی یہ آپ ہی کی بچی ہے۔‘‘
اس نے میری جانب دیکھا:
’’میری بچی ۔ کہیے نا؟ یہ میری ہی بچی ہے نا؟‘‘(۱۹)
رمشا حمید سے چھوٹی بیٹی ناعمہ حمیدہیں جو ۲۲ اکتوبر ۱۹۸۹ء کوپنڈی گھیب میں پیدا ہوئیں۔ناعمہ حمید نے قائداعظم یونی ورسٹی سے ایم ۔ ایس ۔ سی جیو فزکس کیا ہے۔ اپنی کلاس میں اول پوزیشن آنے پر بین الاقوامی آئل فرم میں ٹریننگ کا موقعہ ملا ۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات گئیں ۔ وہیں انہیں ملازمت کی آفر ہوئی جسے انہوں نے قبول کیا ۔ آج کل وہ اسی آئل کمپنی کی طرف سے ہیوسٹن امریکہ میں ہیں ۔
تین بیٹیوں کے بعد۰۳مارچ ۱۹۹۳ء کو اسلام آبادمیں حمید شاہد کو خداتعالیٰ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا جس کا نام محمد سعد حمید رکھاگیا۔ سعدحمیدنے حال ہیں میں کامسٹ یونی ورسٹی سے انجینئر نگ میں گریجویشن کی ہے اور ایم ۔ایس انجینئرنگ منیجمنٹ کے لیے نسٹ یونی ورسٹی اسلام آباد میں داخلہ لے لیا ہے۔ حمید شاہد نے اپنے افسانوں کی تیسرے مجموعے ’’مرگ زار ‘‘ کا انتساب اپنے بیٹے کے نام کیا ہے۔ انتساب کی عبارت ملاحظہ ہو:
’’سعد حمید کے نام
کہ وہ ساری کہانی
جوپرکھوں سے مجھ تک پہنچی
آنے والے دنوں میں
اس امانت کی کرامت کا وارثت ہونے ہے ‘‘۔(۲۰)
حمید شاہد کی سب سے چھوٹی بیٹی کا نام وشا حمید ہے ۔ وہ ۱۸جون ۱۹۹۷ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئیں ۔ پنجاب کالج راولپنڈی سے آئی ۔ کام کررہی ہیں اور ساتھ ساتھ ادبی ذوق بھی رکھتی ہیں اور آرٹ سے بھی دلچسپی ہے ۔ حمید شاہد کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب’ راشد میرا جی ، فیض نایاب ہیں ہم‘ کاسرورق بھی و شانے بنایا ہے ۔
محمد حمید شاہد پر اعتماد ، دراز قد اور نفیس شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ایک نرم مزا ج فراخ دل انسان ہیں۔ انسان دوستی ان کا شیوہ ہے۔ تہذیبی رکھ رکھاؤ ان کے گھرانے کا خاصا ہے ،مذہب سے لگاؤ اور مذہبی رواداری کی جس فضا میں حمید شاہد نے آنکھ کھولی اس نے انہیں تہذیبی آدمی بنا دیا ۔ مذہبی بصیرت ان کی گھٹی میں پڑی تھی اس لیے اپنی تصنیفی زندگی کا آغاز سیرتِ البنی پر اپنی کتاب ’’ پیکرِ جمیل ‘‘ سے کیا ۔ بچپن ایک بھرے پرے گھر میں گزرا،جہاں سات بھائی اور دو بہنیں ایک ساتھ رہ رہے تھے ۔ نوجوانی بھی ہنگاموں میں گزری، یونی ورسٹی کے زمانے میں الیکشن لڑا اور ہار گئے پھر لکھنے پڑھنے کی طرف راغب ہوئے اور ادب کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔ والد کی وفا ت سے ان کی زندگی پر گہرے اثرا ت مرتب ہوئے ۔ اپنے چھوٹے بھائی کے بچھڑنے کا دکھ بھی ہر دم تازہ رہتا ہے۔ آج بھی ان کے سا تھ گفت گو کے دوران بھائی کا ذکر ہو تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو جا تی ہیں۔یا سمین حمید ،بیگم محمد حمید شاہد اپنے شوہر کے حوالے سے کہتی ہیں :
’’ دوسروں کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے بچوں پر تو جان چھڑکتے ہیں ۔ بس ایک گلہ ہے کہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتے کی جستجو میں رہتے ہیں ،جس کی وجہ سے نیند بھی پوری نہیں کر پاتے ۔ جب لکھنے کے موڈ میں ہوتے ہیں تو گم صم ہو جاتے ہیں ۔ تاہم بہ طور خاص افسانہ لکھنے کے بعد بہت ہشاش بشاش نظر آتے ہیں ۔ ‘‘ (۲۱)
محمد حمید شاہد کی شخصیت ایسی ہے کہ ذات کی تما زت اور تخلیق کی تا زگی ہر قدم لطف اندوز کر تی نظر آتی ہے ۔ وہ چھوٹے چھو ٹے جملوں میں قدرے تیز رفتار گفتگو کرتے ہیں لیکن ان کی چال میں ٹھہراؤ ہے۔ حمید شاہد بنیادی طو ر پربنکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں یو ں وہ دن بھردفتری زندگی میں مشغول رہتے ہیں تاہم اس مصروفیت کے سا تھ ، گھر ، رشتہ داروں اوراحباب کے حقو ق کو بھی بخو بی پو را کر تے ہیں۔ حمید شاہد کے بیٹے سعد حمید اپنے والد گرامی کے متعلق اظہار خیال ان الفا ظ میں کر تے ہیں :
’’میں نے انہیں ہمیشہ مہرباں پایا ۔ ہمارا ہر دم خیال رکھا ۔ سچ بولنے اور صاف ستھری زندگی کی تلقین کی ۔ بہت محنتی ہیں ۔دفتر اور پھر پڑھنا لکھنا ،بہت مصروف ہوتے ہیں مگر ایسا نہیں کہ ہمیں وقت نہ دیں ۔‘‘(۲۲)
حمید شاہد کی بیٹیاں بھی اپنے باپ سے بہت محبت کرتی ہیں اور اس حوالے سے رطب اللسان ہیں کہ ان کے والد نے تعلیمی شعبہ ہو یا عملی زندگی ،ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔ راقم حمید شاہد سے ملنے ان کے آفس پہنچا تو گھر جاتے ہوئے ، انہوں نے کہا اجازت دو تو اپنی بیٹی سے ملتا جاؤں ۔ یوں ہم ثنا شعیب کے گھر سے ہوتے ہوئے حمید شاہد کے گھر پہنچے ۔ حمید شاہد کی بیٹی اور نواسے کے علاوہ ان کے داماد کی خوشی دیدنی تھی ۔ ثنا حمید ائیر یونی و رسٹی میں ایچ آر آفیسر ہیں ۔ وہ اپنے والد کے حوالے سے کہتی ہے:
’’جتنی محبت اور تکریم ہمیں والد صاحب نے دی ہے اتنی شاید ہی کسی والد نے اپنی بیٹی کو دی ہو ۔ یونیورسٹی کے زمانے میں ، اگریونیورسٹی کی گاڑی نہ ملتی تو خود پہنچ جاتے پہروں انتظار کرتے ہمیشہ حوصلہ دیا اور آگے بڑھنے کی تلقین کی ۔ میرے بیٹے ریان کو بہت چاہتے ہیں ۔ اس کی پہلی سالگرہ تھی، انہوں نے ایک نظم لکھی اسے ایک بڑے پوسٹر پر چھپوا کر گھر لے آئے تو اسے پڑھتے ہوئے ہمارے آنسو نکل آئے ۔ اتنی بے پناہ محبت کا اظہار آنسوؤں سے ہی کیا جاسکتا تھا ۔ شعیب سے بھی وہ بہت محبت کرتے ہیں ۔‘‘(۲۳)
ڈاکٹر رمشا حامد جو کہ لا ہور میں مقیم ہیں اپنے والد حمید شاہد کے متعلق راقم طراز ہیں:
میں جب بھی آتی ہوں ، وہ میری جاب کے حوالے سے پوچھتے ہیں اور اس شعبے میں اور زیادہ محنت کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ان کا دھیان ہمیشہ میری طرف رہتا ہے ۔ اگر میں مصروف ہو جاؤں اور فون نہ کرپاؤں تو ان کا فون آجاتا ہے ۔ مجھ سے ،میرے بیٹے عبداللہ سے اور میرے شوہرکپٹن ڈاکٹر حامد سے ان کی محبت ہمیشہ تازہ رہتی ہے اور ہمیں تازہ دم رکھتی ہے۔مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں ان سے دور تھی یا دور ہوں ہمیشہ ان کی بے ریا محبت میرے ساتھ رہتی ہے۔ اگر میں مصروف ہو جاؤں تو خود فون کرکے میرا حال پوچھتے ہیں میرے بیٹے عبداللہ بن حامدسے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘(۲۴)
نا عمہ حمید ،حال ہی میں امریکہ سے لوٹی ہیں ۔ انہوں نے کہا:
’’والد صاحب نے ہم میں اور بیٹے میں کوئی فرق نہیں کیا ۔ جب مجھے امریکہ جانا تھا ،انہوں نے مجھ پر اعتماد کا جس طرح اظہار کیا اس نے مجھے اندر سے مضبوط کیا ۔ یونی ورسٹی کے زمانے سے لے کر اب تک ہم ان سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔ وہ بنک آفیسر ہیں اور ادیب ۔ مگر کبھی دونوں کے تقاضوں کو بھلایا نہیں ۔ دفتر میں بھی ذمے داری سے پہنچتے ۔اور ہم نے گھر میں کئی کئی گھنٹے انہیں لکھتے پڑھتے پایا ہے ۔ ‘‘(۲۵)
ادبی زندگی
حمید شاہدکے ہاں ادبی ماحول نہ تھا ۔ ان کے خاندان میں کوئی بھی لکھتا لکھاتا نہیں تھا تاہم اُن کے والد غلام محمد کو مطالعہ کتب کا شو ق تھا۔ اُن کے پاس تاریخ ، سیاست ،سوانح عمریوں اور اسلامی موضوعات پر کتب کا ذخیرہ تھا ۔ حمید شاہد اپنے والد کی دیکھا دیکھی مطالعہ کتب کی طرف راغب ہو گئے اور یہی شوق انہیں ادب کی طرف لے گیا۔ حمید شاہد بتاتے ہیں کہ میڑک کے امتحان کے بعد فارغ تھے تو انھوں نے اپنی پہلی تحریر لکھی تھی۔ نظام تعلیم پر کئی تحریریں پڑھنے کے بعد انہوں نے ایک تحریر لکھی تھی ۔ نوائے وقت راولپنڈی ان کے گھر مستقل آیا کرتا تھا لہذا یہ تحریر اس اخبار کو بھیج دی۔ نوائے وقت نے اپنے میگزین میں یہ تحریر شائع کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ تحریر قابل ذکر نہ تھی تاہم اس زمانے میں بہت کامیابی لگتی تھی :
’’میں لوگو ں کو دکھاتا پھرتا تھا۔ لو گ واقعی حیران بھی ہوتے تھے اور باربار سوال کیا کرتے تھے کہ ’’یہ تم نے لکھا ہے ؟‘‘ یہ بات میرے حوصلوں کو تقویت دینے کا باعث بنی ‘‘۔(۲۶)
زرعی یونی ورسٹی فیصل آباد کے زمانے میں وہ ٹٹوریل گروپ سے سٹوڈنٹس یونین کے الیکشن تک اورہم نصابی سرگرمیوں سے ادبی مباحث تک تما م مہمات میں حصہ لیتے رہے ۔ اسی دوران یونی ورسٹی کے ادبی مجلہ ’’کشتِ نو‘‘ کے مدیراعلی بنے۔ یہی وہ زمانہ بنتا ہے جب حمید شاہد نے پہلا انشائیہ ،پہلا افسانہ اور پہلی کتاب ’’پیکرِ جمیل ‘‘مکمل کی ۔گویا یہ وہ ابتدائی ادبی ماحول تھاجس نے حمید شاہد کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجا گر کیا ۔ اس دوران انہوں نے مختلف افسانہ نگاروں کو توجہ سے پڑھا فکشن سے تخلیقی سطح پر رشتہ مستحکم کیا ۔
حمید شاہد کا اصل میدان افسانہ اور تنقید ہے تاہم ان کی طرف وہ بعد میں یکسوئی سے متوجہ ہوئے تھے۔ افسانہ لکھنے سے قبل صنف انشائیہ میں طبع آزمائی کی اور بہت سارے انشایئے لکھے ان کا پہلا انشائیہ ’’کنفیوز ہونا ‘‘ کے عنوان سے تھا جو کہ امروز اخبارکے ادبی صفحہ میں چھپا تھا بعد کے انشائیے ہفت روزہ ’’چٹان ‘‘ لاہور میں چھپتے رہے مگر جلد ہی وہ انشائیہ لکھنے سے اُکتا گئے۔ اس کاسبب وہ یہ بتاتے ہیں:
’’میں انشائیہ لکھنے سے ا س لیے اکتا گیا کہ اس میں آپ موضوع کے ساتھ جڑتے ہیں مگر تخلیقی طور پر نہیں۔ کسی موضوع کو دیکھنے کے لیے آپ اپنا رخ بدلتے رہتے ہیں ‘‘(۲۷)
اُن کاپہلا افسانہ ’’ماسٹر پیس‘‘ کے عنوان سے ’’سیارہ ‘‘ ڈائجسٹ میں چھپا ان کی پہلی نثر ی نظم جسے وہ نثم کہتے ہیں ’’نثر لطیف ‘‘ کے عنوان سے ’’اوراق‘‘ میں شائع ہوئی ۔پہلا ادبی کالم ’’برسیبل تذکرہ ‘‘ کے نام سے یونی ورسٹی کے زمانے میں ہفت روزہ ’’چٹان ‘‘میں چھپا اس کے علاوہ حمید شاہد نے تراجم کیے ،کئی جرائد مرتب کیے اور پی۔ ٹی ۔وی کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔ ٹی وی ڈراموں کے ایک سلسلے کا نام ’’سب دوست ہمارے ‘‘ تھا جس میں چھ ڈرامے ان کے لکھے ہوئے تھے۔ انہیں فرخندہ شاہین نے پروڈیوس کیا تھا۔ حمید شاہد کے ہاں لکھنے لکھانے کا شوق تو شروع سے تھا تاہم خالص ادبی اصناف کی طرف وہ تدریجی مراحل طے کرتے ہوئے گزرے۔ اس کا اندازہ ذیل میں دیئے گئے مضامین سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ان میں سے کثیر تعداد ایسے مضامین کی ہے جنہیں کسی بھی کتاب کا حصہ نہیں بنایا گیا تاہم اس فہرست سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ افسانہ لکھنے کے ساتھ ساتھ تنقید کی طرف بھی سنجیدگی سے اپنا مزاج بنا رہے تھے ۔
۱۔ ۱۹ستمبر۱۹۷۴ء موجودہ تعلیم نظام(مضمون) روزنامہ نوائے وقت، راولپنڈی
۲۔ ۳۱جولائی ۱۹۸۰ء وہ سونے والے (مضمون) روزنامہ جسارت ،کراچی
۳۔ ۰۳جولائی ۱۹۸۱ء حضرت مصعب بن عمیر(مضمون) روزنامہ جسارت ،کراچی
۴۔ ۱۹۸۱ء میرے جنوں کی داستان ( ادرایہ ) مجلہ کشتِ نو ،زرعی یو نی ورسٹی فیصل آباد
۵۔ ۱۹۸۱ء معرکہ خندق میں ایضا
۶۔ ۱۹۸۱ء ڈاکٹر اسرارا لحق ( سابق شیخ الجامع ):انٹرویو ایضا
۷۔ ۱۹۸۱ء اور ڈاکٹر امیر محمد خان ( شیخ الجامعہ ):انٹرویو ایضا
۸۔ ۱۹۸۱ء نکلے اسرار کی تلاش میں( سفر نامہ) ایضا
۹۔ ۰۳ستمبر۱۹۸۲ء کچھ نثری نظم کے بارے میں روزنامہ جسارت ،کراچی
۱۰۔ ۱۱فروری ۱۹۸۳ء ادب اور معاشرے میں مغائرت کا مسئلہ۔۱ روزنامہ جسارت ،کراچی
۱۱۔ ۱۸ فروری ۱۹۸۳ء ادب اور معاشرے میں مغائرت کا مسئلہ۔۲ روزنامہ جسارت ،کراچی
۱۲۔ ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء ادب اور معاشرے میں مغائرت کا مسئلہ۔۳ روزنامہ جسارت ،کراچی
۱۳۔ ۳۰ستمبر۱۹۸۷ء تالا (انشائیہ) روزنامہ نوائے وقت ،راولپنڈی
۱۴۔ ۱۹۹۲ء گل بکف (مدیران : شوکت واسطی /محمدحمید شاہد) بزم علم و فن، اسلام آباد
۱۵۔ ۰۹مئی ۱۹۹۳ء روشن صبح کا متلاشی شاعر: جاوید شاہیں(مضمون) ہفت روزہ مسلمان ،اسلام آباد
۱۶۔ ۱۹۹۴ء گل بکف خصوصی شمارہ(مدیران محمد حمید شاہد، فرزانہ سعید الرحمن)بزم علم و فن ،اسلام آباد
۱۷۔ ۱۹۹۴ء عزم محکم کی چٹان (مضمون) مشمولہ’’ گلِ بکف ‘‘ ، بزم علم و فن اسلام آباد
۱۸۔ ۱۹۹۴ء خلدخیال: نگہہ باز گشت برہست مشمولہ’’ گل بکف ‘‘ ، بزم علم و فن اسلام آباد
۱۹۔ ۱۴فروری ۱۹۹۴ء گہر کی تلاش میں (مضمون ) روزنامہ جنگ ،راولپنڈی
۲۰۔ ۲۲جولائی ۱۹۹۵ء پلکیں بھیگی بھیگی سی(مضمون) روزنامہ جنگ، راولپنڈی
۲۱۔ ۱۹اکتوبر ۱۹۹۵ء تصانیف کے حوالے سے ادبی تقریب کی روداد نوائے وقت ،راولپنڈی
۲۲۔ جون ۱۹۹۶ء افسانہ نگار محمد حمید شاہد مکالمہ /تحر یر مظہر شہزاد خان اوورسیز انٹرنیشنل ،اسلام آباد
۲۳۔ اگست ۱۹۹۶ء فلیپ :کتاب’’ میں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘ کرنل حامد محمودالقلم، اسلام آباد
۲۴۔ جولائی ۱۹۹۶ء ملنسار(افسانہ) ماہنامہ رابطہ، کراچی
۲۵۔ جنوری ۱۹۹۶ء تیز ہوا میں جنگل کیسے بلائے گا۔(مضمون) سہ ماہی ابلاغ ،پشاور
۲۶۔ ۲۷دسمبر ۱۹۹۷ء نوجوان ادیب اور ادب کا مستقبل(شریک مذاکرہ) روزنامہ خبریں ،راولپنڈی
۲۷۔ ۲۹دسمبر ۱۹۹۷ء نثری نظم (شریک مذاکرہ) روزنامہ اوصاف،اسلام آباد
۲۸۔ ۱۱اکتوبر ۱۹۹۷ء نظم اور اس کا لب و لہجہ ۱(مضمون) روزنامہ پاکستان ،اسلام آباد
۲۹۔ ۲۰اکتوبر ۱۹۹۷ء نظم اور اس کا لب و لہجہ ۲(مضمون) روزنامہ پاکستان ،اسلام آباد
۳۰۔ جنوری ۱۹۹۷ء فلیپ’’چھوٹا منہ بڑی بات‘‘ از امتیاز علی گلیانوی القلم ، اسلام آباد
۳۱۔ ۲۷اکتوبر ۱۹۹۷ء دل اک بند کلی(مضمون) روزنامہ پاکستان ،اسلام آباد
۳۲۔ ۳۱۔۱۵اگست ۱۹۹۷ء گورا کی درفنتیاں : باز گشت (مضمون) سلسلہ، اسلام آباد
۳۳۔ ۳۱۔۱۵اگست ۱۹۹۷ء شناخت کیسے ہو ؟(مضمون) سلسلہ، اسلام آباد
۳۴۔ ۱۵اکتوبر ۱۹۹۷ء کیا یوں بھی لکھا جاسکتا ہے ۔ ؟(مضمون) سلسلہ؍مبصر اسلام آباد ؍فیصل آباد
۳۵۔ ۱۴۔۱ستمبر ۱۹۹۷ء جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم(مضمون)سلسلہ /مبصر اسلام آباد /فیصل آباد
۳۶۔ یکم نومبر ۱۹۹۷ء آصف فرخی کراچی اور انول نال(مضمون) سلسلہ /مبصر اسلام آباد /فیصل آباد
۳۷۔ ۱۴جولائی ۱۹۹۷ء زبان بدلی لحن بد لا(مضمون) سلسلہ /مبصر اسلام آباد /فیصل آباد
۳۸۔ ۱۵دسمبر ۱۹۹۷ء رندرا اور دعا سے لبالب تھیلیوں کے کا سے سلسلہ /مبصر اسلام آباد /فیصل آباد
۳۹۔ ۳۱۔۱۶جولائی ۱۹۹۷ء گورا کی درفنتنیاں سلسلہ /مبصر اسلام آباد /فیصل آباد
۴۰۔ ۱۴اکتوبر۱۹۹۷ء افتخار،باعث افتخار سلسلہ /مبصر اسلام آباد /فیصل آباد
۴۱۔ جنوری ۱۹۹۸ء محسن میرا محسن(مضمون) مشمولہ ’’فرصت ملے نہ ملے ‘‘(محسن نقوی شخصیت و فن )،استعارہ اسلام آباد
۴۲۔ ۹جنوری ۱۹۹۸ء ۹۷کا اردو ادب( مذاکرہ) روزنامہ پاکستان ،راولپنڈی
۴۳۔ ۱۷فروری ۱۹۹۸ء یہ پاگل پاگل دل میرا کون بجھ گیا آوارگی روزنامہ پاکستان ،راولپنڈی
۴۴۔ دسمبر ۱۹۹۸ء ایک کتاب جسے محبت نے لکھا :دیباچہ کتاب ’’ یا اللہ میں حاضر ہوں ‘‘ /محمد اعجاز تبسم
۴۵۔ یکم مارچ ۱۹۹۸ء ڈاکٹر انور زاہدی کی کہانیاں اورسٹیتھو سکوپ سلسلہ /مبصر اسلام آباد /فیصل آباد
۴۶۔ ۱۱اگست ۱۹۹۸ء عاصم بٹ کا اشتہار آدمی اور کہانیوں کاپر سی فونی روزنامہ مرکز ،اسلام آباد
۴۷۔ ۳۰دسمبر ۱۹۹۸ء کتابیں اور ادب ۱۹۹۸ء(جائزہ) روزنامہ آج ،پشاور
۴۸۔ دسمبر ۱۹۹۸ء کہانیوں کا جبر اور شاعری(مضمون) ماہنامہ افتخار ایشیا ،راولپنڈی
۴۹۔ دسمبر ۱۹۹۸ء اشفاق احمد سے مکالمہ (انٹرویو) ماہنامہ افتخار ایشیا ،راولپنڈی
۵۰۔ ۰۳جنوری ۱۹۹۹ء ممتاز نثر نگار مشتاق احمد یوسفی سے ہوائی مکالمہ(انٹرویو) روزنامہ آج ،پشاور
۵۱۔ ۲۰۰۰ء دو پانی اور گوراب کے ہم محنت کردار ماہنامہ دریافت ،الہ آباد، بھارت
۵۲۔ ۱۴اکتوبر ۲۰۰۰ء پچھلی نسل کے ادیب نے ہمیں محرومی کے سوا کچھ نہیں دیا(شریک مذاکرہ)روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
۵۳۔ ۱۱اکتوبر ۲۰۰۰ء نئی نسل کے فکشن نگار ۱۹۸۰۔۲۰۰۰ ء( شریک مذاکرہ) روزنامہ اوصاف ،اسلام آباد
۵۴۔ ۱۱اکتوبر۲۰۰۰ء افسانہ نگار محمود واجد سے مکالمہ(انٹرویو) روزنامہ جنگ ،راولپنڈی
۵۵۔ ۲۳جون ۲۰۰۰ء پانی کو پتوار کیا(مضمون) روزنامہ جنگ ،راولپنڈی
۵۶۔ ۱۰ مارچ ۲۰۰۰ء رشید امجد کا’’ میں‘‘ روزنامہ جنگ ،راولپنڈی
۵۷۔ ۱۰ مارچ ۲۰۰۰ء نئی صدی میں ادب کے موضوعات کیا ہوں گے؟(شریک مذاکرہ) روزنامہ جنگ ،راولپنڈی
۵۸۔ ۱۷مئی ۲۰۰۰ء سیدے چلو تو ہیروالٹے چلو تو اُچکے (ادبی کالم) روزنامہ پاکستان ،راولپنڈی
۵۹۔ ۲۸اپریل۲۰۰۰ء احتساب اور نیا کھاتہ (ادبی کالم) روزنامہ پاکستان ،راولپنڈی
۶۰۔ مارچ۲۰۰۲ء نئی نظم کے اہم نشانات(مضمون) آفاق ۔۱،راولپنڈی
۶۱۔ مارچ۲۰۰۲ء زندگی میں موت(مضمون) آفاق۔ ۱،راولپنڈی
۶۲۔ مارچ۲۰۰۲ء آدمی کی زندگی(مضمون) آفاق۔۱۔،راولپنڈی
۶۳۔ مارچ۲۰۰۲ء سنگ بستہ(مضمون) آفاق ۔۱،راولپنڈی
۶۴۔ مارچ۲۰۰۲ء نئی پاکستانی اردو و غزل(مضمون) آفاق ۔۱،راولپنڈی
۶۵۔ مارچ۲۰۰۲ء کہانیاں گم ہو جاتی ہیں(مضمون) آفاق۔ ۱،راولپنڈی
۶۶۔ مارچ۲۰۰۲ء علینہ: نئی اوڑیسی (مضمون) آفاق۔ ۱،راولپنڈی
۶۷ جون ۲۰۰۲ء نثم: مگر کیوں ؟(مضمون) آفاق۔۲، راولپنڈی
۶۸۔ جون ۲۰۰۲ء ۶۰ء کے افسانے نے چہرے غائب کر دیے(شریک مذاکرہ)آفاق۔۲، راولپنڈی
۶۹۔ جون ۲۰۰۲ء شہاب نامہ کی حقیقت(مضمون) آفاق۔۲ ،راولپنڈی
۷۰۔ جون ۲۰۰۲ء تمنابے تاب(مضمون) آفاق۔۲ ،راولپنڈی
۷۱۔ جون ۲۰۰۲ء اک سفر اور سہی(مضمون) آفاق ۔۲،راولپنڈی
۷۲۔ جون ۲۰۰۲ء گمشدہ(مضمون) آفاق۔۲ ،راولپنڈی
۷۳۔ نومبر دسمبر۲۰۰۲ء غزل ، نظم اور نثم ماہنامہ آئندہ، کراچی
۷۴۔ ستمبر۲۰۰۲ء منٹو گزشتہ ربع صدی میں(مضمون) آفاق۔۳ ،راولپنڈی
۷۵۔ ستمبر۲۰۰۲ء آشوب سندھ اور اردوفکشن (مضمون) آفاق۔۳ ،راولپنڈی
۷۶۔ ستمبر۲۰۰۲ء آئینے میں چراغ جلتا ہے (مضمون) آفاق۔۳ ،راولپنڈی
۷۷۔ ستمبر۲۰۰۲ء خواب ساتھ رہنے دو (مضمون) آفاق۔۳ ،راولپنڈی
۷۸۔ ۰۹جولائی ۲۰۰۲ء ہمسفر(مضمون) آفاق۔۳ ،راولپنڈی
۷۹۔ ۰۹جولائی ۲۰۰۲ء نئی صدی کے ادبی موضوعات(مضمون) روزنامہ نوائے ادب، راولپنڈی
۸۰۔ ۱۴فروری ۲۰۰۲ء میر تنہا یو سفی کی لکنت(مضمون) رو زنامہ پاکستان ،اسلام آباد
۸۱۔ ۳۰فروری ۲۰۰۲ء گمشدہ: اسلم کمال(مضمون) روزنامہ پاکستان، اسلام آباد
۸۲۔ ۲۵جنوری ۲۰۰۲ء داؤد طاہر کے سفر نامے (مضمون) روزنامہ پاکستان، اسلام آباد
۸۳۔ دسمبر ۲۰۰۲ء حفیظ خان کے افسانے(مضمون) کتاب، نیشنل بک فاؤ نڈیشن
۸۴۔ جنوری ۲۰۰۲ء رضوانہ سید علی کی سچی کہانیاں۔نوک قلم از رضوانہ سید کا دیباچہ جادواں پبلی کیشنز، اسلام آباد
۸۵۔ جون ، جولائی ۲۰۰۳ء ڈرامہ جسم اور اشتہاء آئندہ ،کراچی
۸۶۔ جولائی ستمبر۲۰۰۳ء منٹو روں گزشتہ صدی میں سہ ماہی ادب عالیہ، وہاڑی
۸۷۔ جنوری ۲۰۰۳ء تخلیق کے اسرار اور گزشتہ ربع صدی آفاق (سالنامہ ) راولپنڈی
۸۸۔ جنوری ۲۰۰۳ء باقیات بیدی(مضمون) آفاق (سالنامہ ) راولپنڈی
۸۹۔ جنوری ۲۰۰۳ء شوق ستارہ(مضمون) آفاق (سالنامہ ) راولپنڈی
۹۰۔ جنوری۲۰۰۳ء برعکس(مضمون) آفاق (سالنامہ ) راولپنڈی
۹۱۔ جنوری ۲۰۰۳ء حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی(۰۲۔۲۰۰۱) مضمون آفاق (سالنامہ ) راولپنڈی
۹۲۔ جون دسمبر ۲۰۰۳ء غزل کا الجھیڑا ارتقاء، کراچی
۹۳۔ ۲۵ جولائی ۲۰۰۳ء محمد حمید شاہدسے مکالمہ (انٹرویورز:رابعہ سرفراز، شبیر قادری)روزنامہ پاکستان ،اسلام آباد
۹۴۔ ۲۸جولائی ۲۰۰۳ء عو ر ت ،مخمصہ اور طاہرہ اقبال کی ریخت روزنامہ پاکستان ،اسلام آباد
۹۵۔ ۰۷اگست ۲۰۰۳ء بہ خدامیں شاعر نہیں ہوں ، الحمدللہ کہ نہیں ہوں(ادبی کالم)روزنامہ پاکستان ،اسلام آباد
۹۶۔ ۲۰۰۳ء آخری آنسو ا ور دوسر افسانے ، دیباچہ کتاب قلات پبلی کیشنز، کوئٹہ
اوپر دی گئی فہرست سے حمید شاہد کے حوالے سے ہم درج ذیل نتائج بہ سہولت اخذ کر سکتے ہیں:
ایک : حمید شاہد کے ہاں مطالعے کا ذوق انہیں والد صاحب کی طرف سے ملا ، جو رفتہ رفتہ لکھنے کے شوق کا سبب بنا
دو: شروع شروع میں ان کے موضوعات عمومی نوعیت کے تھے ، رفتہ رفتہ وہ خالص ادبی موضوعات اور ادبی اصناف کی طرف آئے
تین: حمید شاہدکا یونی ورسٹی کا زمانہ ہنگامہ خیز رہا ۔ انہوں نے وہاں الیکشن بھی لڑا مگر اپنے گھر سے جو وہ مطالعے کا شوق لے کر گئے تھے آخرکار اس کی طرف متوجہ ہوئے اور طلبہ سیاست سے کنارہ کش ہو کر پڑھنے لکھنے کی طرف راغب ہوگئے۔
چار: مطالعے کا شوق ہی تھا جس نے ان سے یونی ورسٹی کے زمانے میں’’ پیکرِ جمیل ‘‘لکھوائی ۔ اسی زمانے میں یونی ورسٹی کے مجلے ’’کشتِ نو‘‘ کے مدیر بنے تو ادبی اصناف کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔
پانچ: شروع شروع میں انشائیے لکھے اور نثمیں( نثری نظمیں )بھی تاہم بعدافسانے اور تنقید کے لیے خود کو وقف کر لیا اس کا اندازہ تصانیف کی ذیل میں دی گئی فہرست سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
تصانیف
افسانوی مجموعے
۱۔ بندآنکھوں سے پرے
حمید شاہد کے پہلے افسانوی مجموعے کا نام ’’بند آنکھوں سے پرے ‘‘ ہے ۔ یہ مجموعہ ۱۹۹۴ء میں الحمد پبلی کیشنز نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے شائع کیا ۔ اس مجموعے میں کل ۱۳ کہانیاں ہیں ان کہانیوں کا بیانیہ رواں ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حمید شاہد نے اپنے قاری کوحقیقی زندگی کے قریب رکھ کر اس پر زندگی کی حقیقت کو منکشف کرنا چاہا ہے۔ کتاب کا انتساب مصنف نے اپنی بیگم ’’یاسمین کے نام ‘‘ کیا ہے دیباچہ منشا یا دکا لکھا ہوا ہے اور فلیپ احمد ندیم قاسمی اور ممتاز مفتی نے لکھے ہیں ۔
۲۔ جنم جہنم
دوسرے افسانوی مجموعے کا نام ’’جنم جہنم ‘‘ ہے۔ یہ ۱۹۹۸ء میں استعارہ پبلی کیشنز اسلام آباد نے اے آر پرنٹرز سے شائع کیا اس مجموعے میں (جنم جہنم کے عنوان سے تین کہانیوں سمیت )کل ۱۴ کہانیاں ہیں ان کہانیوں میں علامتی تہ داری کا عنصر نمایاں ہے ۔ حمید شاہد ظاہر کے ساتھ ساتھ انسان کے باطن کی بھی سیر کرواتے نظر آتے ہیں۔ اپنی نثرکاجوالگ مزاج انہوں نے اپنی پہلی کتاب میں متعین کیا تھا وہ اس کتاب میں نہ صرف اسے مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ، افسانہ لکھنے کے حوالے سے کئی تجربات بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔ مصنف نے اس کتاب کا انتساب اپنے بھائیوں کے نام کیا ہے۔جب کہ دیباچہ فتح محمدملک نے تحریر کیا ہے۔
۳۔مرگ زار
حمید شاہد کے افسانوں کے تیسرے مجموعے کا نام ’’مرگ زار‘‘ ہے۔ جو ۲۰۰۴ء میں اکا دمی بازیافت کراچی نے لیزر پلس سے شائع کیا۔ اس میں کل۱۵ افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ ان کہانیوں میں زیادہ تر ۱۱/۹ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال موضوع بنی ہے ۔ اس کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے بیٹے سعد حمید کے نام کیا ہے۔ دیباچہ مبین مرزا نے تحریر کیا ہے ۔ جب کہ سرورق کی پشت پرممتاز مفتی،احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر اسلم فرخی،فتح محمد ملک، ستیہ پال آنند،منشایاد اور رشید امجد کی آرا موجود ہیں۔
۴:۔آدمی
چوتھے افسانوی مجموعے کا نام ’’آدمی ‘‘ ہے جو ۲۰۱۳ء میں مثال پبلی کیشنز فیصل آباد نے بی پی ایچ پر نٹر لاہو ر سے شائع کیا۔ اس مجموعے میں کل ۱۷ افسانے ہیں۔ان افسانوں کی اشاعت تک محمد حمید شاہد اپنے الگ اسلوب اور موضوعات کی ٹریٹمنٹ کے حوالے سے اپنی شناخت مستحکم کر چکے ہیں۔ اس کتاب کا انتساب محمد شعیب یونس ، محمد حامد اویس اور ریان شعیب کے نام ہے اس کا دیباچہ مصنف نے خود ہی تحریر کیا ہے۔جب کہ فلیپ پر افسانوں سے اقتباسات دیئے گئے ہیں ۔
ناول
۵۔ مٹی آدم کھاتی ہے
محمدحمید شاہد کے ناول کا نام ’’مٹی آدم کھاتی ہے ‘‘ اس کو ۲۰۰۷ء میں اکادمی بازیافت نے شائع کیا ۔ ناول مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے علاوہ جاگیر دارنہ نظام کی خرابیوں کو موضوع بناتا ہے۔ ناول کا انتساب ’’ آدمی کے نام ہے جو زمین کی محبت میں دیوانہ ہوگیاہے‘‘ دیباچہ شمس الرحمن فاروقی نے تحریر کیا ہے ۔
تنقیدی کتب
۶۔ ادبی تنازعات
تنقید پر پہلی کتاب کا عنوان ’’ ادبی تنازعات ‘‘ ہے جس کو پروفیسر رؤف امیر نے مرتب کیا ہے۔ کتاب کو حرف اکادمی اسلام آباد نے ۲۰۰۰ء میں اے ۔ ار پر نٹر ز سے شائع کیا۔ ۴۹۶ صفحات پر مشتمل کتاب کا دیباچہ مرتب نے تحریر کیا ہے۔
۷۔اُردو افسانہ صورت و معنی
تنقیدپرد وسری کتاب ۔ ’’اردوافسانہ صورت و معنی ‘‘ کو نیشنل بک فائڈونشن اسلام آباد نے ۲۰۰۰ء میں شائع کیا۔ اس کو یٰسین آفاقی نے مرتب کیاہے۔ ۳۰۴ صفحات پر مشتمل کتاب کا انتساب حسن عسکری ، ممتاز شیریں اور شمس الرحمن فاروقی کے نام ہے۔ دیباچہ کتاب کے مرتب یسٰین آفاقی نے تحریر کیاہے۔
۸۔ کہانی اور یوسا سے معاملہ
’’کہانی اور یوسا سے معاملہ ‘‘محمد حمید شاہد اورمحمد عمر میمن کے درمیان ’’ای مکالمہ ‘‘پر مشتمل تنقیدی کتاب ہے۔اسے ۲۰۱۱ء میں مثال پبلی کیشنزفیصل آباد نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہورسے شائع کیا۔ ۱۷۶ صفحات پر مشتمل کتاب کا انتساب ’’ماریو برگس یوسا ‘‘ کے نام ہے اس کادیباچہ اور پشت فلیپ محمدعمرمیمن کے تحریر کردہ ہیں ۔
۹۔ سعادت حسن منٹو : جادوئی حقیقت نگاری اور آ ج کا افسانہ
محمد حمید شاہد کی کتاب’’سعادت حسن منٹو ، جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ ‘‘ شہرزاد ، کراچی نے ۲۰۱۳ء میں اے جی پرنٹنگ سروسز کراچی سے شائع کی ۔ ۱۶۰ صفحات پر مشتمل کتاب کا دیباچہ منٹو کی سو گندھی کے نام ہے۔ دیباچہ مصنف کا اپنا لکھا ہوا ہے اور پشت فلیپ آصف فرخی نے تحریر کیا ہے۔
۱۰۔ راشد میراجی ، فیض نایاب ہیں ہم
محمد حمید شاہد کی جدید نظم پر تنقید کی کتاب’’ راشد میراجی ۔ فیض: نایا ب ہیں ہم ‘‘ کو مثال پبلی کیشنز نے ۲۰۱۴ ء میں بی ۔ایچ پرنٹر لاہور سے شائع کیا۔ ۴۵۶ صفحات پر مشتمل کتاب کا انتساب’’ راشد، میرا جی اور فیض ‘‘کے نام ہے۔ کتاب کا مفصل دیباچہ حمیدشاہد نے خود تحریر کیا ہے جس میں اردو نظم کی تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا فلیپ اشاعتی ادارے کا لکھا ہوا ہے ۔
دیگر کتابیں
۱۱۔ پیکرِ جمیل
حمید شاہد کی پہلی کتاب کا نام ’’پیکر جمیل ‘‘ ہے’’ پیکر جمیل ‘‘کے اب تک چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں پہلا ایڈیشن ۱۹۸۳ ء میں ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور ، دوسرا ایڈیشن بھارت سے مرکزی مکتبۂ اسلامی پبلی کیشنز نیو دہلی سے ۱۹۸۵ء میں شائع ہوا۔ تیسرا القلم اسلام آباد ۱۹۹۵ء سے شائع ہو ا اور چوتھا ایڈیشن ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور سے ۔ ۴۰۰ صفحات پر مشتمل کتا ب کا انتساب ’’امی اور ابو کے نام کیاگیا ہے ۔ کتاب کے فلیپ پر پروفیسر شوکت واسطی کی تحریرشامل کی گئی ہے ۔
۱۲۔ سمندر اور سمندر
بین الاقوامی شاعری کے تراجم اور تنقید پر مشتمل محمد حمید شاہدکی اس کتاب کوارشد چہال نے مرتب کیا ۔ کتاب ۲۰۰۱ء میں ’دستاویز‘ لاہورنے خادم پر نٹرز سے شائع کی ۔۱۵۳ صفحات پر مشتمل کتاب کا دیباچہ اور پشت فلیپ ارشد چہال کے تحریرکردہ ہیں ۔
۱۳۔ الف سے اٹکھیلیاں
انشائی تحریروں پر مبنی کتاب’’الف سے اٹکھیلیاں‘‘ کو محمد حمید شاہد نے بچوں کا ایسا قاعدہ کہا ہے جسے بڑے ہی پڑھ سکتے ہیں۔ اسے ’القلم‘ اسلام آباد نے ۱۹۹۵ء میں عبدالرحمن پر نٹرز سے شائع کیا۔ ۱۲۷ صفحات پر مشتمل کتاب کا انتساب اُن کے نام ہے جو ان تحریروں میں اپنا عکس دیکھ کر بھی مصنف پرنفرین نہ بھیجیں ۔ کتاب کا آغاز انور مسعود کی تقریظ سے ہوتا ہے اور کتاب کی پشت فلیپ سید ضمیر جعفری اورسرفراز شاہد کی تحریریں ہیں ۔
۱۴۔ لمحوں کا لمس
لمحوں کا لمس، حمید شاہد کی نثموں کی کتاب ہے۔ وہ نثری نظم کے لیے ڈاکٹر ریاض مجید کے تتبع میں نثم کا نام تجویز کرتے ہیں اور اسی نام سے انہوں نے یہ کتاب دی ۱۹۹۵ء میں القلم اسلام آباد نے عبد الرحمن پرنٹرز شائع کی۔یہ کتاب ۱۴۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ انتساب کی عبارت یوں ہے’’اس کے نام؛جس کا مسکن نجابت کا سفاک ہالہ ہے‘‘ کتاب میں ۴۸ نثمیں شامل ہیں ۔ کتاب کا آغاز احمد عقیل روبی کی تقریظ ’’ایک نئی کتاب‘‘ سے شروع ہوتا ہے جب کہ پسِ سرورق پر ان نثموں کے حوالے سے محسن احسان کی رائے شائع کی گئی ہے۔
۱۵۔ اشفاق احمد شخصیت و فن:سلسلہ پاکستانی ادب کے معمار
اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلہ ’’پاکستانی ادب کے معمار‘‘ کی ایک کتاب ’’اشفاق احمد شخصیت و فن‘‘ محمد حمید شاہدبہ اشتراک اے حمید مرتب کی جسے اکادمی نے ۱۹۹۹ء میں اسلام آباد سے شائع کیا تھا۔ اس کتاب کی خاص بات اشفاق احمد کے ساتھ محمد حمید شاہد کے ان کے فن اور فکر کے حوالے سے دو اہم مکالمے ہیں، جن میں بہت سے اختلافی مباحث کو چھیڑا گیا ہے ۔
۱۶۔پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت اور فن:سلسلہ پاکستانی ادب کے معمار
پاکستانی ادب کے معمارکے سلسلہ کی ایک اور کتاب’’پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت اور فن ‘‘ ہے جو حمید شاہد نے مرتب کی ۔ اسے اکادمی ادیبات نے ۲۰۰۸ء میں پوسٹ آفس فاونڈیشن پریس سے شائع کیا ۔ ۱۸۲ء صفحات پر مشتمل کتاب کا دیباچہ افتخار عارف نے تحریر کیا ہے ۔
اس کے علاوہ حمید شاہد نے مختلف موضوعات پر مضا مین بھی تحریر کیے ہیں و ہ مضامین جن جرائد میں شائع ہوئے ہیں ان میں شب خون ، فنون ، اوراق، اثبات، دنیا زاد، مکالمہ ‘سمبل ، آفاق ، نقاط ، مخزن ، آئندہ اور صریر وغیرہ شامل ہیں ۔
محمد حمید شاہد کو جن افسانوں کی بابت عوامی حلقوں میں پذیر ائی ملی ان میں برف کا گھونسلا ، جنم جہنم ، مرگ زار ، سورگ میں سور، لوتھ ، گندی بوٹی کا شوربا ، ملبا سانس لیتا ہے اور ناول مٹی آدم کھاتی ہے وغیرہ شامل ہیں۔ فکشن پر ان کا خاص نقطہ نظر ہے ۔وہ اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ فکشن لکھنے اور پڑھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنے ہیں ۔ ان کی تحریروں کی پذیرائی ہر سطح پر ہوئی ۔ ان کا افسانہ’ لوتھ‘ بھارت کی وزارت ترقی انسانی وسائل کے ادارے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے نئی دہلی سے ۲۰۰۸ء میں شائع ہونے والے’’ انتخاب نثر اردو‘‘ کا حصہ بنایا ، جو ایک نصابی کتاب کے طور پر شائع ہوا ہے ۔
محمد حمید شاہد جن ادبی مجلو ں کے مدیررہے یا ان کی مجلس مشاورت کا حصہ ہیں ان میں کشتِ نو (۸۱،۱۹۸۰ء) فیصل آباد ، گلِ بکف (۱۹۹۴ء) اسلام آباد ، ’’پاکستانی ادب (انتخاب برائے ۲۰۰۲ ء )‘‘اکادمی ادیبات، اسلام آباد،’’ آٹھ اکتوبر ‘‘۲۰۰۵ء کے زلزلے کے حوالے سے تخلیقات کا انتخاب (دوسرے ادیبوں کی شراکت سے )(۲۰۰۶ء) اکادمی ادیبات، اسلام آباد شامل ہیں ۔
محمد حمید شاہدکے کام کی نہ صرف ہر سطح پر پذیرائی ہوئی ، ان کی کتب کے تراجم بھی ہو چکے ہیں ۔ اسی سلسلہ کی ایک کتاب ان کی نثموں کے تراجم The Touch of Moments ہے ۔ نثموں کے انگریزی میں یہ تراجم علامہ بشیر حسین ناظم اور پروفیسر شوکت واسطی نے کیے تھے ۔ یہ کتاب القلم اسلام آبادنے ۱۹۹۵ء میں اے ار پر نٹرز سے شائع کی۔ کتاب کا دیباچہ کرنل(ر)غلام سرور نے تحریر کیا ہے ۔ اسی طرح ’’پارو‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی کتاب میں محمد حمید شاہد کے افسانوں کے سرائیکی تراجم شامل ہیں جو اصغر عابد کے قلم کا نتیجہ ہیں ۔ ۱۷۶صفحات پر مشتمل اس کتاب کو ڈاکٹر طاہر تونسوی نے سرائیکی ادبی بورڈ ملتان سے ۱۹۹۹ء میں شائع کیا ہے۔
محمد حمید شاہد ’’ مجلس تحقیق و تنقید ‘‘ فیصل آباد ،فکری تحریک اسلام آباد، بزم علم و فن اورحلقہ اربا.ب ذوق اسلام آباد سے وابستہ رہے۔ حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے سیکرٹری رہے اب کئی برسوں سے اسی حلقہ کی مجلس عاملہ کے رکن ہیں ۔

حوالہ جا ت

۱۔ حمید شاہد ، محمد، انٹر ویو ازراقم الحروف ، بمقام جی ۱۴اسلام آباد ،۲۸اکتوبر ۲۰۱۴
۲۔ حمید شا ہد ، محمد ، وراثت میں ملنے والی نا کردہ نیکی،’’ بند آنکھوں سے پر ے‘‘ لا ہور ، الحمد پبلی کیشنز‘۱۹۹۴‘ ص:۱۴۷
۳۔ انٹرو یو ، حمید شاہد، محمد،محولہ بالا
۴۔ ایضاً
۵۔ حمید شاہد، محمد’’جنم جہنم‘‘ اسلا م آباد، استعارہ پبلی کیشنز، ۱۹۹۸،ص:۳
۶۔ انٹرویو، حمید شاہد، محمد،محولہ بالا
۷۔ ایضاً
۸۔ زوار طالب ، ’’ محمد حمید شاہد کی افسانہ نگاری‘‘ مقالہ برائے ایم۔ اے (غیر مطبوعہ ) نیشل یو نی ورسٹی آف ماڈرن لینگو یجر، اسلام آباد، ۲۰۰۲۔۲۰۰۱،ص:۹
۹۔ حمید شاہد، محمد، ککلی کلیر دی، ’’ آدمی‘‘، فیصل آباد، مثال پبلی کیشنز، ۲۰۱۳،ص:۶۸‘۶۹
۱۰۔ ایضاً ،ص:۷۰
۱۱۔ انٹر ویو، حمید شاہد، محمد،محولہ بالا
۱۲۔ ایضاً
۱۳۔ حمید شاہد، محمد ’’ بقلم خود‘‘ ’’ بحوالہ محمد حمید شاہد کی تخلیقی جہات ‘‘ (مرتب)اظہر سلیم مجوکہ، ملتان‘ بیکن بکس ‘۲۰۰۲،ص:۱۹۰
۱۴۔ انٹر ویو ، حمید شا ہد ، محمد ،،محولہ بالا
۱۵۔ حمید شا ہد ،محمد ، ’’پیکرِجمیل‘‘ اسلام آباد ‘ القلم پبلی کیشنز ، ۱۹۹۵، ص : ۰۵
۱۶۔ انٹر ویو ، حمید شاہد، محمد ،محولہ بالا
۱۷۔ ایضاً
۱۸ ۔ ایضاً
۱۹۔ حمید شاہد ، محمد، منجھلی، مشمولہ’’ جنم جہنم ‘‘ ص :۳
۲۰۔ حمید شاہد، محمد’’ مر گ زار ‘‘ کراچی، اکادمی باز یا فت ، ۲۰۰۴، ص:۵
۲۱۔ انٹرویو،یاسمین حمید،بمقام جی ۱۴اسلام آباد ،۲۸اکتوبر ۲۰۱۴
۲۲۔ انٹرویو،سعد حمید،محولہ بالا
۲۳۔ ثناشعیب،انٹرویو،از راقم الحروف بمقام جی۱/۱۰،اسلام آباد، ۲۸اکتوبر ۲۰۱۴ء
۲۴۔ انٹرویو،رمشا حمید،محولہ بالا
۲۵۔ انٹرویو،ناعمہ حمید،،محولہ بالا
۲۶۔ انٹر ویو حمید شاہد، محمد،محولہ بالا
۲۷۔ ایضاً

*****

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *