M. Hameed Shahid
Home / حدیث دیگراں / غلام عباس|فاروقی صاحب کی افسانے کی حمایت اور محمد حمید شاہد

غلام عباس|فاروقی صاحب کی افسانے کی حمایت اور محمد حمید شاہد

غلام عباس
غلام عباس

شمس الرحمن فاروقی صاحب کے نقد افسانہ کے ردِ عمل کی تنقید میں محمد حمید شاہد کا نام بھی قابل توجہ ہے کہ جنہوں نے فاروقی صاحب کے تقریباًتمام مباحث کی وضاحت اپنے طورپر کرنے کی کوشش کی ہے اگرچہ ان کا مجموعی رویہ تو فاروقی صاحب کی ’’حمایت ‘‘ ہی نظر آتاہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنی بات اپنے ڈھنگ سے کرنے کی بھی کوشش کی ہے اورفاروقی صاحب کی کئی ایک باتوں کو رد کرتے ہوئے بھی دکھائی دیے ہیں ۔ بیانیہ کے سلسلے میں جہاں فاروقی صاحب نے ممتاز شیریں کی بحث کو ناکافی سمجھا ۔وہاں حمید شاہد بھی فاروقی صاحب کی اس ضمن میں بات کو ناکافی سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ فاروقی صاحب کے زور استدلال سے ہم سے سوچنا سمجھنا معطل ہوا اورجو فاروقی صاحب نے کہا اسے درست مانتے گئے ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’ہم بیانیہ کی ان صورتوں اوردیگر اسالیب کے ان امکانات کو بھی نظر انداز کرتے گئے جوفکشن میں کا م آتے ہیں ‘‘۔۵۵؂ اور اس کی مثالوں کے لیے انہوں نے کئی افسانوں کے اقتباسات پیش کیے جوبالکل اخباری بیان جیسے ہی ہیں ۔ اسی سبب سے وہ کہتے ہیں کہ اخباری بیانات بھی بیانیہ کے ذیل میں آتے ہیں جنہیں فاروقی صاحب باہرکی چیز سمجھتے ہیں ۔لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ بیانیہ کو سمجھنے اورسمجھانے کا یہ طریقہ (فاروقی صاحب والا) بنتاہی نہیں ہے ۔حمید شاہد کے الفاظ میں اس صورت حال کا تجزیہ کچھ یوں پیش کیاگیاہے:
’’۔۔۔۔افسانے کے بیانیہ پرجب بات کی گئی ،جملے کی ساخت پر کی گئی ۔ اس جملے کو افسانے کے پورے متن میں رکھ کر دیکھا ہی نہیں گیا اورجونہی شاعری کامعاملہ آیا معنی اورتاثر کے اس بہاؤ پربات ہونے لگی جومکمل فن پارے سے پھوٹتاتھا۔ ۔۔۔اوہ یہ تو میں نے ایک اور جھیڑا چھیڑ دیا ۔ خیر کہنایہ ہے کہ کوئی واقعہ بیان ہورہا ہو یامنظر نامہ کوئی مکالمہ ہو یا مختلف زمانوں کے بیچ یادو ں اوراحساسات کا سلسلہ جس میں زمانے آپس میں گڈ مڈ ہوجاتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ سب نامیاتی وحدت میں ڈھل کر ہی فکشن بن پاتے ہیں اورجونہی یہ فکشن بنتے ہیں ،سارا متن بیانیہ ہوجاتاہے‘‘۔۵۶؂
اس بحث کے ساتھ وہ یہ کہتے ہیں کہ اب وہ بات جو J Willis Millerنے کہی اورفاروقی صاحب نے بیانیہ سمجھانے کو نقل کی سمجھ آجاتی ہے ۔ فاروقی صاحب کے افسانے میں بیانیہ اورکردار کی کشمکش والے مضمون کو بڑی تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔لیکن شاہد صاحب فاروقی صاحب کی اس بحث کو جہاں انہوں نے ناول اور افسانے کی بحث غزل اوررباعی کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کی تھی اورافسانہ لکھنے والے عالمی ادیبو ں کی بھی اصلیت بطور ناول نگار تسلیم کی تھی،انہیں درست تسلیم نہیں کرتے اوراس کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں:
’’۔۔۔۔۔فاروقی کے ہاں یہ دعویٰ گونجتاسنائی دیتاہے کہ یہ جو ناول کے وسیلے سے نام کمانے والے ہیں ناول نہ لکھتے تو گم نامی کی موت مرجاتے ۔ ہائے کہ منٹو بے چارہ گم نامی کی موت مرگیا،ناول لکھ لیتا تو اتنا تومشہور ہوجاتاجتنا صادق صدیقی سردھنوی ’’ایران کی حسینہ ‘‘لکھ کر ہوگیا تھا اورمزے کی بات یہ کہ اس میں عقل کا خرچہ بھی کم تھا۔۔۔۔۔یہ جو طرز استدلال ہے اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا نکل سکتاتھا کہ دلوں پر ان مباحث کی دھاک بیٹھی رہے اور اذہان میں ایک دھول سی اڑتی رہے‘‘۔۵۷؂
افسانے میں وقت کے تصور پربھی شاہد صاحب نے بحث کی ہے کہ فاروقی صاحب کی بحث سے گمان ہوتاہے کہ واقعہ وقت سے بندھاہوا ہے ۔ معروف معنی میں لیا جانے والا وقت کا تصورکے علاوہ بھی ایک وقت ہوسکتاہے ۔اگرچہ ہم وقت کے اس محدود تصور کو اپنا کر تاریخ لکھ سکتے ہیں ۔اخبار کی خبر اوریاداشتوں کی کتاب مرتب ہوسکتی ہے مگر اس تصور کے زیراثر تحریر کو فکشن نہیں بنایا جاسکتااورشاہد صاحب کے مطابق فکشن کے باب میں Eventاوروقت کے اس خاص رشتے میں رخنے پڑجاتے ہیں یاپڑ سکتے ہیں اوریہاں وقت اپنی رفتار اوررُخ دونو ں کو بدلتارہتاہے ۔حتیٰ کہ ایسے لمحے بھی آجاتے ہیں جب وقت متحجر اورواقعہ منجمددکھتا ہے۔۵۸؂ لیکن فاروقی صاحب اس بحث کو صرف اس حد تک محدود رکھتے ہیں کہ چوں کہ افسانہ (فکشن) میں کچھ نہ کچھ واقع ہوتارہتا ہے اورجہاں کچھ وقوعہ ہوگا تو یقیناً وہ کسی زمان ومکان کی قید میں ہوگا اورشاعری میں یہ ضروری نہیں ہے کہ اس میں کچھ واقعہ ہو بلکہ یہاں کسی صورت حال ،کیفیت وغیرہ کابیاں بھی ہوسکتاہے اوریوں وہ وقت کی قید سے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ اس لحاظ سے فاروقی صاحب کی بات زیادہ واضح ہے ۔
فاروقی صاحب نے ’’افسانے کی حمایت میں‘‘ لکھا تھا کہ اَفسانے میں کہانی پن کا براہ راست تعلق واقعات کی تکثیر یا تقصیر سے نہیں ہے۔ یہ مسئلہ دراصل اِس بات سے متعلق ہے کہ اَفسانے میں اِنسانی عنصر کتنا ہے ؟ اگر اَفسانہ ہماری اِنسانیت کے کسی بھی پہلو کو متوجہ کر سکتا ہے تو اِس میں کہانی پن پیدا ہو جاتا ہے ۔ واقعہ چاہے چھوٹا ہے یا بڑا ‘ حیرت انگیز اور محیر العقول ہو یا روز مرہ کی عام زندگی سے لیا گیا ہو‘ اگر وہ انسانی سطح پر ہمیں متاثر کر سکتا ہے تو ہمیں اس میں دِلچسپی ہوتی ہے ۔ شاہد صاحب اسے زیر بحث لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ فاروقی صاحب نے بجا کہا ہے‘ واقعہ قائم ہونے کی ایک شرط یہی اِنسانی دلچسپی بھی ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ یہاں بات اَفسانے میں واقعے کی ہو رہی ہے جسے فاروقی صاحب نے اوپر کہانی پن کہاہے۔ لہذا یہ وضاحت بہت لازم ہو جاتی ہے کہ اَفسانے میں یہ واقعہ محض اِنسانی دلچسپی سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اسے قائم کرنے سے پہلے ایک فن کاراپنے تخیل ‘مشاہدے‘ حسی تجربے اور تجسس کی چھاننیوں سے اُس سارے مواد کو اَلگ کر دیتا ہے جو اُس کے جمالیاتی پہلو کو مجروح کرتا ہے۔ یہ الگ کیے جانے والا مواد بھی اِنسانی دِلچسپی کا حامل ہو سکتا ہے مگر اس کو الگ نہ کرنے سے واقعہ میں بکھراؤ کا اِحتمال ہوتا ہے اور قاری کی دِلچسپی کہانی کے مرکزی دَھارے سے کٹ کر اُس کے ضمنی سروکاروں کی اسیر ہو سکتی ہے ۔ یہ لگ بھگ مجسمے سے فالتو پتھر کو اَلگ کرنے والی بات ہو جاتی ہے۔ یاد رَکھا جانا چاہیے کہ جو فالتو پتھر اَلگ کیا جارہا ہوتا ہے اُس میں سے بھی کوئی نہ کوئی چہرہ نکالا جا سکتا ہے ‘ فن کار کا دھیان اُدھر گیا بھی ہو گا اور ممکن ہے ایک مجسمہ مکمل کرنے کے دورانیے میں ہی اُس نے اس فالتو پتھر میں سے اَپنی دلچسپی سے کچھ نکال بھی لیا ہو مگر فن پارے کی تکمیل میں وہ سارے ضمنی سروکار اور دلچسپیاں الگ کر دی جاتی ہیں یا پھر اُنہیں مرکزی دَھارے کے اَندر دَبا دِیا جاتا ہے۔‘‘ٌ ۵۹؂
فاروقی صاحب نے فکشن کی کہانی کا واقعہ قائم ہونے کے حوالے سے’’ اردو افسانے کی حمایت‘‘ میں جو مثالیں دی تھیں شاہد صاحب انہیں زیر بحث لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ فکشن میں بظاہرعام واقعہ ہو کر بھی عام نہیں رہتا اِس کی کیمسٹری بدل جاتی ہے ۔انہوں نے فاروقی صاحب کے درج ذیل بیانات کو مقتبس کیا :
’’ ۔۔۔وُہ بیان جس میں کسی قسم کی تبدیلی کا ذِکر ہو (اسے )‘ eventیعنی واقعہ کہا جائے گا۔ ‘‘
اور اب ان مثالوں کو دیکھیں جنہیں واقعہ کہا گیا ہے :
’’ ۱۔ اُس نے دَروازہ کھول دیا ۔
۲۔ دروازہ کھلتے ہی کتا اَندر آگیا۔
۳۔ کتا اُس کو کا ٹنے دَوڑا۔
۴۔ وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ ‘‘
فاروقی صاحب کی نظر میں دَرج ذیل بیانات سے واقعہ قائم نہیں ہوتا:
’’۱۔ کتے بھونکتے ہیں ۔
۲۔ اِنسان کتوں سے ڈرتا ہے
۳۔ ہر کتے کے جبڑے مضبوط ہوتے ہیں ۔
۴۔ کتے کے نوکدار دانتوں کو داندانِ کلبی کہا جاتا ہے‘‘
شاہد صاحب کاکہنا ہے کہ
’’اوپر کے چاروں بیانات جنہیں فاروقی نے دلچسپ تو تسلیم کیا ہے مگر اُن سے واقعے کے قیام کے امکانات کو رد کیا ہے ‘ عمومی واقعے اور فکشن کے واقعے میں حدِ فاصل قائم نہ کرنے کا شاخسانہ ہیں۔ ایک لمحے کو تصور باندھیئے کہ کتوں کے بارے یہ معلومات کہانی میں محض کتے کے حوالے سے نہیں آرہی ہیں۔ کہانی ایک ایسے مسلح آدمی کی بیان ہورہی ہے جو آدمیت کے منصب کو جھٹک چکا ہے۔ اَب آپ دیکھیں گے کہ اُوپر کے سارے بیانات سے واقعہ قائم ہونے لگا ہے۔ آدمیت کے منصب کو جھٹکنے والا آدمی بول رہا ہے اور قاری ایک کتے کو بھونکتے ہوئے دیکھ رہا ہے ۔ آدمی کے سامنے سہمے ہوئے لو گ گم صم کھڑے ہیں جبکہ پڑھنے ولاایک کتے کے منھ سے ٹپکتی دہشت کی جھاگ کا تصور باندھ رہا ہے۔ مسلح آدمی کے اسلحے پر قاری کی نظر پڑتی ہے تو وہ تصور میں ایسے کتے کو لاتا ہے جس کے جبڑے مضبوط ہیں۔ مسلح آدمی کے تیز دھار خنجر کا کوئی بھی نام ہو مگر قاری کتے کے داندانِ کلبی کا تصور باندھتا ہے ۔۔۔ تو صاحب ایک آدمی عین چار جملوں میں چیرتا پھاڑتا کتا ہو گیا اور آپ کہتے ہے کہ کوئی واقعہ قائم نہیں ہوا ؟ واقعہ یہ ہے کہ ہر جملے کے ساتھ ہی قاری کے ذہن میں اس آدمی کے بارے میں تصور تبدیل ہوتا رہا ہے۔ یوں چار واقعات باہم مل کر ایک ایسی کہانی بناتے ہیں جو اِحساس کی سطح پر تو حرکی ہے مگر خارج میں فقط بیان ہے۔ ‘‘ٌ ۶۰؂
اپنے ایک مضمون ٌ ۶۱؂ میں محمد حمید شاہد ، شمس الرحمن فاروقی کے اس متنازعہ بیان کوزیر بحث لاتے ہیں جس میں بڑی صنف سخن کی نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ’ہمہ وقت تبدیلیوں کی متحمل ہو سکتی ہے ‘۔ وہ افسانے کی حمایت سے فاروقی صاحب کے اسی طرح کے متنازع بیانات کی درج ذیل فہرست مرتب کرتے ہیں :
’’236 افسانے کی چھوٹائی یہی ہے کہ اس میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ نئے تجربات ہو سکیں، ایک آدھ بار تھوڑا سا طلاطم ہوا اور بس ۔
236افسانے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کا بیانیہ کردار پوری طرح بدلا نہیں جا سکتا ۔
236افسانہ ایک معمولی صنف سخن ہے اور علی الخصوص شاعری کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا ۔
236تاریخ کم بخت تو یہی بتاتی ہے کہ کوئی شخص صرف و محض افسانہ نگاری کے بانس پر چڑھ کر بڑا ادیب نہیں بن سکا۔ ‘‘
محمد حمید شاہد نے اس نقطہ نظر کو رد کرتے ہوئے لکھا :
’’کم بخت تاریخ‘‘ واقعی بڑی عیار اور چالباز ہے ، بہ ظاہر کچھ کہتی ہے بباطن کچھ اور فیصلے صادر کردیتی ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ہے کہہ مکرنی، جو ظاہر کرتی ہے اس کے اندر ہی کہیں اس پہیلی کا جواب بھی چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اسی’’کم بخت تاریخ‘‘ کا فیصلہ ہے کہ شاعر ، نثّار اور نقاد فاروقی کے ہم پلہ فکشن نگار فاروقی کب کا ہو چکا اب تو وہ قدم آگے نکالتا ہے اور اپنی شاعری سے بڑھ کر تو قیر‘ برتری اور قبولیت اسی ناس مارے افسانے کے سبب پاتا ہے ۔ اور اب تو نظریں اس کے ناول پر لگی ہوئی ہیں جو قسطوں میں منظر عام پر آرہا ہے ۔ صاحب جسے عمر بھر آپ اصناف پر حکمرانی کے لائق گردانتے رہے ‘ اسے سب اصناف سے اعلی واولی قرار دیتے رہے ‘ اس میں حوصلہ تھا‘ نہ تڑ‘ کہُ ان تخلیقی تجربوں کو سہار سکتی جو اس کمزور‘ معمولی اور نہ بدلنے والی صنف نے کمال ہمت سے اور اپنے بھیتر کے دائروں اور بھنوروں کو بدل کر سہار لیے ہیں۔‘‘ٌ ۶۲؂
انہوں نے فاروقی صاحب سے اپنی ایک ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہو کہا:
’’ گزشتہ دنوں فاروقی صاحب اسلام آباد آئے تو میں نے نہایت ادب سے گزارش کی تھی کہ اصل قضیہ تخلیقیت ہے‘ شاعری یا نثر کی اصناف میں درجے بندی نہیں ۔ اور یہاں بھی یہی دہرانا ہے کہ ہر صنف کا اپنا پنا علاقہ ہوتا ہے ۔ اس علاقے کے اند ر رہ کر تخلیقی تجربے کی خوبی یا خامی کے اندازے لگائے جا سکتے ہیں اور لگانے بھی چاہیءں۔ نثر اور شاعری کی اصناف کے بیچ تفریق تو الگ رہی میں تو شاعری کے مختلف اصناف میں اس قسم کا موازنہ بھی موزوں نہیں سمجھتا۔ ‘‘ٌ ۶۳؂
یہیں انہوں نے کئی شاعروں اور شاعرات کے فکشن کی جانب لپکنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اضافہ کیا کہ:
’’ اس بات کا لطف لیجئے کہ گزشتہ قریب ترین زمانے میں کئی معروف شاعروں اور شاعرات نے شاعری کو اپنے تخلیقی اظہار کا وسیلہ ناکافی جانتے ہوئے ‘اس کوچے میں پوری سنجیدگی اور اخلاص سے قدم رکھ دیئے ہیں ۔ اوہ کم بخت تاریخ تیرے یہ عجیب و غریب فیصلے۔‘‘ ٌ ۶۴؂
محمد حمید شاہد نے شمس الرحمن فاروقی کی عملی تنقید کو بھی موضوع بحث بنایا ہے ۔ اپنے ایک مضمون ’’بیدی کی عورت اور فاروقی کا غصہ‘‘ ۶۴؂ میں انہوں نے الفریڈی جیلینک کے حوالے سے بات شروع کی اور لکھا کہ اس نے اپنی تخلیقات میں اس بات کو موضوع بنایا ہے کہ ادب کی نئی دنیا میں مرد کاپلڑا بھاری ہے ‘اس کا زورچلتا ہے جب کہ زندہ گوشت پوست والی مکمل اور بھر پور عورت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اور یہ کہ لکھنے والوں کے ہاں عورت کی پیش کش کا تصورپہلے سے ساختہ یعنی stereotype ہے ۔ بنا بنایا اور گھڑا گھڑایا۔ یہیں وہ فاروقی صاحب کے نقطہ نظر زیر بحث لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ
’’ لگ بھگ اسی عنوان سے شمس الرحمن فاروقی نے راجندر سنگھ بیدی کے نام بھی چاج شیٹ جاری کی ہے ۔ بیدی پر الگ سے اور جم کر شمس الرحمن فاروقی نے کچھ نہیں لکھا اور اس کا اسے اعتراف بھی ہے ‘ تاہم شہزاد منظر کو دیئے گئے انٹرویو( مطبوعہ روشنائی کراچی: شمارہ۔۱۴) میں اس نے بیدی کی عورت کا امیج اسٹیریو ٹائپ قسم کا قرار دے دیا۔ اس مکالمے میں پہلے توشمس الرحمن فاروقی نے ان خواص کی گنتی کی ‘جن سے ناقدین بیدی کی فکشن کام مقام متعین کرتے آئے ہیں اور پھر اس تناظر میں بیدی کی بڑائی کو معرض شک میں ڈال دیا ۔ شمس الرحمن فاروقی کی بیدی سے شکایت کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ یہ جو ہندوستان اور پاکستان میں عام طور پرعورت کے بارے میں تصورات پائے جاتے ہیں کہ عورت گھریلو جانور ہوتی ہے ۔ عورت میں مامتا ہوتی ہے ‘ وہ نرم دل ہوتی ہے ‘ لوگ اس پر بہت ظلم کرتے ہیں‘ وہ سخت دُکھ اٹھاتی ہے ‘ تکلیفیں برداشت کرتی ہے ‘ وہ محبت کی دیوی ہوتی ہے ۔ یہ سب بیدی کے ہاں در آئے ہیں ۔ اور یہ کہ بیدی نے عورت کے موضوع پر جو کچھ لکھا ہے اس سے اس کے افسانوں میں عورت کا امیج خاصا اسٹریو ٹائپ قسم کابنتا ہے ۔ شمس الرحمن فاروقی کے نزدیک بیدی نے عورت کی زبوں حالی کواپنے افسانوں میں approveکیا ،بجائے اس کے کہ اس صورت حال کو ظاہر کرکے وہ عورت کے بارے میں کوئی alternative image پیش کرتا کہ عورت ایسی ہونی چاہیے یا عورت ایسی ہے یا وہ اندر سے ایسی ہے لیکن ہم لو گوں نے اور اس نظام اقدار نے عورت کو اتنا مظلوم بنادیا ہے۔ اس قصور کی نشاندھی کرکے شمس الرحمن فاروقی بیدی ‘اس کے افسانے اور اس کے افسانوں کے کرداروں اور خاص طور پر اس کی عورتوں پر خوب برسا۔ پھر کئی کرداروں کے نام لیے اور کہا ان اسے غصہ آتا ہے۔ طرفہ دیکھئے کہ یہی بیدی کے تخلیق کردہ عورت کے وہ کردار ہیں جنہوں نے اردو فکشن کو باثروت بنایا اور اب یہ بیدی کی کہانیوں سے نکل کر ہمارے دلوں میں بسنے لگے ہیں ۔‘20150413-080407_p0۶۵؂
محمد حمید شاہد کا کہنا ہے کہ بیدی کی جن عورتوں پر شمس الرحمن فاروقی برہم ہیں ان میں ’’لاجونتی‘‘ بھی شامل ہے اور یہ کہ جب وہ سارک ممالک کے تخلیقی ادب کا انتخاب کر رہے تھے تو بیدی کے بارے میں سوچتے ہی ان کا دھیان فوراً ’’لاجونتی ‘‘کی طرف گیا تھا ۔ اب شمس الرحمن فاروقی کو بیدی پر یوں برہم ہوتے پایا تو انہوں نے اپنے تئیں اردو فکشن کو اس کے بغیر دیکھنا چاہا۔ اس کا جو نتیجہ نکلا شاہد صاحب کے الفاظ میں:
’’اب کیا بتاؤں صاحب ‘ جہاں سے ’’لاجونتی ‘‘ کو نکال پھینکا گیا تھا ‘وہاں ایک بہت بڑا کھانچا پڑ ا میں صاف دیکھ رہا تھا۔ اور یہ کھانچا ایسا تھا کہ کسی اور حیلے سے پاٹا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ دیکھئے جی ‘ اگرمغویہ لاجونتی‘ غیر مردوں کے بیچ دن گزار کر پلٹی تھی ‘یوں کہ وہ خالص اسلامی طرز کا لال دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھی ‘ بائیں کو بکل مارے ہوئے‘ اور عین ایسے دنوں میں سے کچھ دن ادھر گزارے تھے جن میں کئی کئی عورتیں فسادیوں کی ہوسناکیوں کا شکار ہورہی تھیں ‘ اپنی عصمت اور عفت کو بچانے کے لیے زہر پھانک رہی تھیں‘ کوٹھوں سے چھلانگ مار رہی تھیں یا پھر کنوؤں میں کود رہیں تھیں۔۔۔ اور وہ آئی تھی ۔۔۔یوں‘ کہ سامنے اس کا مرد بالکل بدلا ہوا تھا ‘ اسے لاجو نہیں ‘ دیوی کی طرح دیکھ رہا تھا۔ اسے دھنک ڈالنے والا مرد‘ بچھ بچھ رہا تھا اور جو اس پر بیت چکی تھی وہ سننا ہی نہ چاہ رہا تھا ۔ تو صاحب‘ یہ سندر لال تو وہ نہ ہوا جسے لاجو جانتی تھی۔۔۔ جانتی تھی اور دل سے مانتی تھی ۔ اس کا اپنا مرد جو پہلے اس کے ساتھ وہ کچھ کرتا تھا کہ بس وہی جانتی تھی مگر یوں کہ وہ اس شباہت کے ساتھ اس کی نفسیات کا حصہ ہو گیا تھا۔۔۔ تو لاجونتی کے اس طرز عمل کے اس کے سوا اور کیا معنی نکل سکتے ہیں کہ وہ اپنی توہین برداشت نہیں کر پارہی ۔ ’ ’شی فیل ویری اِن ہیلیٹڈ‘‘ یہ بات امریکہ سے بیدی پر کام کرنے ہندوستان آنے والی ماڈرن قسم کی عورت جمیلہ رفیلمین کو فوراً سمجھ آگئی تھی۔ اور ‘ میں نہیں جانتا میرے محترم اور میرے پیارے شمس الرحمن فاروقی کو اس پر کیوں طیش آیا۔‘‘‘۶۶؂
محمد حمید شاہد نے لکھا ہے کہ بیدی کے افسانہ’’ متھن‘‘ کے ایک کردار ’’کیرتی‘‘ کوپر بھی شمس الرحمن فاروقی بہت برہم ہیں ۔ انہیں شکوہ ہے کہ بیدی نے زبردستی اسے اس صورتحال میں ڈال دیا ہے‘ حالاں کہ اسے گرنے سے بچایا جا سکتا تھا اور شمس الرحمن فاروقی کو کیرتی پر غصہ اس لیے آیا ہے کہ اس نے مورتیاں بنانے کی بجائے کوئی اور ذریعہ کیوں نہ اپنالیا ؟۔۔۔محمد حمیدشاہد کا استدلال اس باب میں یوں ہے کہ:
’’ واہ صاحب واہ‘ یہ بھی خوب کہی ‘ انسانی نفسیات کی وہ گرہ جو بیدی نے چٹکی میں کھول دکھائی ہے ‘ وہی بیدی کی نااہلی ٹھہری اور جو اَب ایک انوکھے مطالبے کے ساتھ ہاتھوں سے لگائی جا رہی ہے دانتوں سے بھی نہیں کھل پا رہی۔ اس نئی منطق کو مان لیں تو ہمارے لیے ادبی سرمائے کا غالب حصہ لائق اعتنا نہیں رہے گا۔ میں شمس الرحمن فاروقی کر تحریر کا گرویدہ ہوں ۔ نیا زاویہ نکالنا‘ بات کو بڑے اعتماد اور سلیقے سے آگے بڑھانا اسے آتا ہے ۔ یہ اوصاف اس کی دلیل میں زور پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی لیے ممکن ہے ‘جس کی نگاہ میں اس افسانے کی خوب صورتیاں ‘ باریکیاں ‘نفاستیں اور نزاکتیں نہ ہوں وہ اس کی یہ دلیل مان بھی چکا ہو مگر میں کیا کروں کہ شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی شعور کا گرویدہ ہو کر بھی اور کئی معاملات میں اس سے مرعوب ہوتے ہوئے بھی یہ منطق ہضم نہیں کر پایا ہوں۔‘‘ ‘۶۷؂
محمد حمید شاہد نے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ منٹو بڑا افسانہ نگار ہے اور اردو فکشن پر اس کے بڑے احسان ہیں‘ اس نے کہانی کو چست کیا اور اس کی Pace میں اضافہ کرکے اس کی اثر انگیزی میں جادو بھر دیا‘مگر جب بیدی کی کردارنگاری پر نگاہ پڑتی ہے تو بہت سے مقامات ایسے بھی آتے ہیں کہ وہ منٹو سے کہیں آگے نکلتا صاف دکھائی دیتا ہے ۔ شاہد صاحب کے نزدیک ’’ متھن ‘‘ کی کیرتی بھی ایسے ہی کرداروں کی ذیل میں رکھی جا سکتی ہے۔ بیدی نے ان کرداروں کو زندگی کی عام شاہراہ سے اٹھایا ہے۔۔۔ انہیں‘ جیسے وہ تھے اور جس صورت حال میں وہ پڑے ہوئے تھے ‘ ویسے ہی اور وہیں پڑے ہوئے دکھایا ہے سہارے دے دے کر وہاں اٹھایا نہیں اور اپنی طے شدہ فکری ہَلاس میں ہشکارے مار مار کر انہیں وہاں سے نکالا بھی نہیں تاہم اس کا اہتمام ہو گیا ہے کہ وہ کردار گرا پڑا ہو کر بھی ہمیں ساتھ ملا لے اور ان سارے سماجی عوامل پر ازسر نو سوچنے پر مائل کر دے جس نے ان کرداروں کو بقول شمس الرحمن فاروقی ’’اسٹیریو ٹائپ‘‘ بنادیا ہے ۔ صاحب اگر اسے’ کچھ اور suggest کرنا‘ نہیں کہتے تو اور کسے کہتے ہیں؟۔وہ اس باب میں مزید لکھتے ہیں:
’’مجھے بیدی سے‘ اگر کوئی شکایت ہو سکتی تھی تو اس افسانے کے عنوان کے حوالے سے ہو سکتی تھی۔ ’’کیرتی‘‘ کے بجائے ’’متھن ‘‘کیوں؟ ۔ ہاں کیرتی ہی اس کا عنوان سجتا اور پھبتا بھی‘ مگر اب جو شمس الرحمن فاروقی نے جھاڑ پچھوڑ کے بعد بیدی کی عورتوں کے عیب گنوائے ہیں تو سوچتا ہوں میں افسانہ ’’متھن ‘‘ پڑھتے ہوئے کیرتی کے ساتھ اتنا وابستہ ہو کر بیدی سے کیوں گلہ گزار ہوا ۔چلو اس لہذا سے اچھا ہی ہوا کہ وہ اس کا نام ایک خام‘ غصہ دلانے اور جانجھ میں لانے والے واجب القطع کردار کے نام پر افسانے کا عنوان رکھنے سے بچ گیا۔ مگر اجازت ہو تودست بستہ عرض کرنا ہے کہ جس صورت حال میں کیرتی پڑی ہوئی ہے کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ پہلے اس کو دیکھ لیا جائے اور ان امکانات پر سوچ لیا جائے کہ کیا افسانہ نگار کے مصنوعی سہارے کے بغیر کیرتی وہاں سے نکل سکتی تھی؟۔ صرف اٹھارہ‘ انیس سالہ خوب صورت کیرتی۔۔۔ جس کا باپ شلپ بناتا فن کی خدمت کرتا دو روٹیوں کے بیچ مر گیا تھا۔ٹیٹنس سے اور کتے کی موت۔ کیرتی کو وراثت میں بھوک ملی یا وہ بیمار ماں ‘ جسے مقعد کا سرطان تھا۔۔۔ اور ہاں اسے شلپ بنانے کا فن بھی تو باپ نے مرتے مرتے دیا تھا۔ گھر میں اوزار پڑے تھے ‘ شلپ بنانے کا ہنر ہاتھ میں تھا‘ ماں چھاونی کے ہسپتال میں پڑی تھی‘ اس کے پیٹ میں سوراخ کر کے بول و براز خارج کرنے کو جو بوتل لگائی گئی تھی وہ خراب ہو گئی تھی ۔ فوری بوتل بدلنا اور پھر اس کا آپریشن بہت ضروری ہو گیا تھا۔ ایسے میں کیرتی کوشلپ بنانے والے اوزاروں اور وراثت میں ملے ہنر پر تین حرف بھیجنے کا مشورہ ؟۔۔۔
تو بس یوں ہے کہ میں کیرتی کے ساتھ ہوں جو اس نے کیا ‘اسے ویسا ہی کرنا چاہیئے تھا ۔ تاہم میں جب بھی اس کہانی کو پڑھتا ہوں مجھے غصہ کیرتی پر نہیں آتا اس سماج پر آتا ہے جس میں کیرتیاں متھ بھری مورتیاں بنانے کی بجائے نیوڈ بنانے لگتی ہیں ۔یہ جو شمس الرحمن فاروقی نے نتیجہ نکالا ہے کہ بیدی ظلم سہنے ا ور مار کھانے والی عورت‘ یعنی فیملی کریکٹر بناتے ہوئے ایسا manipulate کرتا ہے گویا کہ وہ اسے approveکر رہا ہے‘ مجھے بجا معلوم نہیں ہوتا اس باب میں محمد عمر میمن ہی کا کہا دل کو بھاتا ہے کہ بیدی بظاہر جس کریکٹر کو approveکر رہا ہوتاہے دراصل اسے dis-approve کررہا ہوتا ہے ۔ میں اس میں طرف اتنا اضافہ کروں گا کہ ایسا ‘ صورت حال کی اسی manipulation سے ممکن ہوا ہے جس پر شمس الرحمن فاروقی کو اعتراض ہے ۔‘‘‘۶۸؂
اسی کے ساتھ ہی شمس الرحمن کی افسانے کی تنقید پر اہم لکھنے والوں کے رد عمل کا باب ختم ہوتا ہے ۔ اس باب میں ہم نے بڑی حد تک یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ فاروقی صاحب اس صنف کے حوالے سے اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں جس سے ان کے ہم عصروں نے اصولی طور پر اختلاف کیا ۔ اس اختلاف کی عطاہے کہ افسانے پر بہتر مباحث قائم ہوئے ۔
(غلام عباس کی کتاب :اردو افسانے کی تنقید اورشمس الرحمن فاروقی سے مقتبس)

غلام عباس|”منٹو صاحب‘‘ شمس الرحمن فاروقی اور محمد حمید شاہد


جنگ کے سنڈے میگزین میں انور سن رائے کا غلام عباس کی کتاب پر تبصرہ

12495055_654510671354403_7226839455198712337_n944990_654510701354400_8005385185969549158_n

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *