M. Hameed Shahid
Home / افسانے / سورگ میں سور|محمد حمید شاہد

سورگ میں سور|محمد حمید شاہد

sawarg main sour

جب سے تھوتھنیوں والے آئے ہیں‘ دکھ موت کی اَذِیّت سے بھی شدید اور سفاک ہو گئے ہیں۔
تاہم ایک زمانہ تھا …. اور وہ زمانہ بھی کیا خوب تھا کہ ہم دُکھ کے شدید تجربے سے زِندگی کی لذّت کشید کیا کرتے ۔ اس لذّت کا لپکا اور چسکا ایسا تھا کہ خالی بکھےوں کے بھاڑ میں بھوک کے بھڑ بھونجے چھولے تڑ تڑاتے بھنتے رہتے مگر ہم حیا ت افروز لطف سے سرشار ہوتے تھے۔ بجا کہ ہم بے بسی کے مقا بل رہتے تھے لیکن ہمیں اَپنی بے بسی کا اس شّدت سے احساس نہیں ہوتا تھا۔ ہمت بندھی رہتی اور ہم موت کا مقابلہ بھرپور زِندگی کے دلنواز حوصلے سے کرتے تھے۔
وہ پھِڑکی والا سال بھلا کوئی کیسے بھول پائے گا کہ جس میں بیتلیں ‘ کجلیاں‘کموریاں اور ناچیاں ایک ایک کرکے موت کی اوڑھ لے رہی تھیں ‘ بہ ظاہر قدرے سخت جان نظر آنے والی بربری نسل کی ٹیڈی ٹھگنیاں بھی اسی موت کی وادی میں کودنے کے بہانے تلاش کرنے لگی تھیں….تب جس طرح ہم نے اپنے ڈوبتے دلوں پر قابو پایا تھا وہ کچھ ہم ہی جانتے تھے۔اسی برس چھوٹی پتلی دُم اور بڑے حوانے والی وہ سرخ بیتل‘ کہ جسے ہم سب رَتی کہتے تھے‘پِھڑکی سے پَھڑک گئی تھی اور کچھ ہی گھنٹوں کے اندراندر موٹے سینگوں والی چِتری‘لٹکے ہوے کانوں والی بھوری اور تکون جیسے تھنوں والی لنگڑی پل کی پل میں بے سُدھ ہو گئی تھیں۔ تب ہم پے در پے صدمات کے کَلَکتے تیل میں تَلتے تھے مگر ہماری روحوں پر حیاتی اپنے من موہنے پھولوں کی کلیاں بناتی تھی۔ ایسے میں آوازوں کا میلہ سا لگ جاتا …. اوئے فضلو! دیکھ اس نمانی کا پِنڈا گرم ہے اسے اُدھر لے جا ….اوئے شریفے وہاں چتری ماں کو کیوں ٹوہے جاتا ہے ادھر آ اور اس بگّی کے کُھروں کو دیکھ‘ ان کے اندر ورم آگئے ہیں۔ میرو‘ نظاماں‘ خیرا‘ شوقی‘ ناماں‘چھونی….ہم سب بھاگ بھاگ کر ایک ایک کے پاس پہنچتے تھے‘ ہر ایک کا منھ کھول کھول کر دیکھتے‘ بَدن ٹٹولتے‘ حوانے ٹوہ کر اندازے لگاتے‘ ٹانگیں دہری کرکے کھروں کو کریدتے‘ دُمیںاُٹھاتے اور اُنگلیاں گھسیڑ گھسیڑ کر موت کی اُن علامتوں کو بھی تلاش کر لیا کرتے تھے جو بہ ظاہر نظرنہ آتی تھیں ….
پِھڑکی کی نشا نیاں ہمیں کبھی نہ ملتیں…. اِس موذی مرض کی علامتیں ہیں بھی کیا‘ہم کبھی نہجان پائے ….جب تک اندازے اس طرف جاتے پھِڑکی اپنا وار چل چکی ہوتی اور ہم پھڑکنے والی کو چھوڑ دوسریوں کو بچانے میں لگ جاتے تھے۔ جس کا تھوڑا سا جثہ گرم ہوتا ‘ جس کے اُٹھے کان ڈھلکنے لگتے یا پھر جو دانتوں کو باہم پیس رہی ہوتی‘ ہم اُسے الگ کر دیا کرتے تھے۔اُس برس ہمیں پھِڑکی کی موتوں نے لتاڑکر رکھ دیا تھا …. مگرہم اُس برس بھی اتنے بے بس نہیں ہوے تھے جتنا کہ بعد میں تھو تھنیوں والوں کے سبب ہو گئے تھے۔
پہلے بے بسی ضرور تھی لیکن ہمت ہی ٹوٹ جائے ایسی لاچاری اور بے کسی نہ تھی۔ نہ پھِڑکی والے سال نہ ہی آنے والے برسوں میں….ہم کوئی نہ کوئی سبیل کر ہی لیا کرتے تھے۔ جب بکریوں میں سے کسی کی چال بگڑ جاتی اور اگلے دن پہلے سے بھی زیادہ لنگڑانے لگتی‘ کوئی اپنے کُھر زمین پر جَھٹک جَھٹک کر مارتی یا کسی کا بَدن ڈھلکنے لگتا‘ کسی کے منھ میں سفید سفید چھالے نکل آتے یا تھنوں کے سفید دانے پھٹ کر سرخ ہو جاتے‘ کسی کے منھ سے جھاگ اور رالیں بہنے لگتیں یا کسی کے حوانے کے غدود سوج جاتے‘ دودھ کم نکلتا یا پھر دودھ کی پھٹکیاں بن جاتیں‘ منھ اور آنکھوں کی جھلیاں زرد ہونے لگتیں یا پھر ناک منھ اور پیچھے سے لیس دار مادہ نکلنے لگتا‘ کسی کا پھل گر جاتا یا اُن میں سے کسی کا پہلا میمنا اگلی ٹانگوں کے بہ جائے پہلے پیچھا نکالنے لگتا ‘ کوئی سوئے کی پِیڑوںسے چیخے جاتی یا جھلی پھٹ جاتی اور ہم ترکیبیں کر کر کے پھل چھوڑنے میں مدد دے رہے ہوتے یا تروہنے والی کی زِندگی بڑہانے کے کیکھن کر رہے ہوتے تو ہمیں دُکھ ‘موت اور زِندگی دونوں کے مقابل کرتا تھا۔مرنے والیاں مر جاتیں …. جنہیں زندہ رہنا ہوتا تھا اُنہیں ہم بچا لیتے تھے۔ اکثر بہت زیادہ نقصان ہو جاتا …. اتنا زیادہ کہ ہماری کمریں ٹوٹ جاتیںمگر یہی تو ہماری زِندگی تھی …. ہمیںیاد رہتا تھا کہ کس سال پِھڑکی کا حملہ ہوا تھا‘ کب منھ کُھرآیا‘ گل گھوٹو اور ماتا نے کب پھیرا ڈالا تھا‘ ±چاندنی سے چشمک کب ہوئی تھی‘ سنگ رھنی کے سبب کس کس نے چر نا چگنا چھوڑ دیا تھا‘ کسے خارش ہوئی تھی ‘ کون نمونئے سے مری تھی ‘ کِس کے پھیپھڑوں میں کِرم پَڑگئے تھے اور ناک مکّھی نے کسے اوندھایا تھا۔
سر دیوں کی یخ بستہ راتیں ہوتیں یا گرمیوں کی کھڑی دوپہریں ‘ہم ایک ایک لمحے کو …. ایک ایک واقعے کو …. اور ہرایک متاثر ہونے والی یا مر جا نے والی کو یاد کرتے تھے ….اور اسی موت کے کھیل میں سے زِندگی کا چہچہا برآمد ہو جایا کر تا تھا۔
یہ ٹھیک سے بتانا تو بہت مشکل ہے کہ بکریوں کے یہ اَجڑ اور ہم کب سے ساتھ ساتھ تھے تاہم چٹے دودھ جیسی اجلی داڑھی اور نورانی چہرے والے بابا جی ‘ جنہیں ہمیشہ بکریوں کے اجڑ کے درمیاں لرزتے ہاتھوں میں اَپنی کمر جیسا خم لیتی لاٹھی کے ساتھ ہی دیکھا گیا تھا ‘ نے بتایا تھا کہ ہمارے گاﺅں سورگ کی زمین اور ہمارے بَد نوں کی مٹی کے اجزاءکا مطالبہ ہی یہی تھا کہ ہم اس پاک فریضے میں مشغول رہتے۔ باباجی کا وجود اور ان کی باتیں ہمیں ایمان جیسی لگا کرتی تھیں لیکن جب انہوں نے یہ بتایا تھا تو اس وقت تک ہم خاصے ہوشمند ہو چکے تھے لہذا ہمیں پاک فریضے کے لفظوںنے چونکا دیا تھا اور ہم میں سے کئی ایک نے دہرایا تھا :
” باباجی پاک فریضہ؟ ….“
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ انہوںنے صرف اتنا کہا تھا:
”اُچیاں شاناں والے کے صدقے یہ دھندا پاک فریضہ ہی تو ہے “
پھر اُن کی آنکھیںمحبت کے پانیوں سے بھر گئی تھیں ۔انہوں نے دونوں ہاتھوں میں نہاںعقیدت کی کپکپاہٹ اور لرزتی اُنگلیوں کی ساری پوروں کو باہم ملا کر خیال ہی خیال میں بوسہ لیتے ہونٹوںپر تھراتی سسکاری کوچھو لیا اور ہم سے یوں بے نیاز ہو گئے کہ اُن کی چھاتی کے اندر گونجتی آواز ہم تک پہنچنے لگی تھی۔
بابا جی کے چل بسنے کے بعد ہم مونگ پھلی کی کاشت کی طرف راغب ہو گئے۔
یہ لگ بھگ وہی برس بنتا ہے جب اُدھر کی ایک بڑی بادشاہی میں ایک مونگ پھلی والے کو حکمرانی مل گئی تھی۔ یہ بات ہمیں شہر سے آنے والے بیوپاریوں نے بتائی تھی۔ اُنہوں نے ہمیں اُدھار بیج دیا تھااور یہ بھی بتایا تھا کہ مونگ پھلی تو سونے کی ڈلی ہوتی ہے۔ اُس سال ہم نے بے دلی سے تھوڑا سا بیج زمین میں دبا دیا تھا اور باقی بھون کر مزے لے لے کر گڑ کے ساتھ کھا گئے تھے ….تاہم جب فصل تیار ہوئی اور کھڑی فصل کا سودا کرنے بیوپاری پہنچ گئے تو ہمیں مونگ پھلی واقعی سونے کی ڈلی جیسی لگنے لگی تھی۔
سورگ کی زمین کی دو روپ تھے …. اوپر کے جنوب مشرقی حصّے کی ساری زمین ریتلی تھی ‘ ہم اُسے اُتاڑ کہتے۔ اُتاڑ کی زمین ایسی ریتلی بھی نہ تھی کہ مٹھی میں بھریں تو ذرّ ے پھسلنے لگیں….ریتلی میرا کَہ لیں….مگر اُسے میرا یوں نہیں کہا جا سکتا تھا کہ بارش کا جھبڑا پڑتا تو پانی سیدھا اُس کے اندر اُتر جاتا‘ اوپری تہوں میں ٹھہرتا ہی نہیں تھا۔ کئی دھوپیں جو لگاتار پڑ جاتیں تو وتر کا نشان تک نہ ملتا۔نیچے شمال مغربی حّصے کی زمین رکڑ تھی….رکڑ بھی نہیں ‘ شاید پتھریلی کہنا مناسب ہوگا….پتھریلی اور کھردری ۔ اس پر بھی پانی نہ ٹھہرتا‘فوراً پھسل کر گاﺅں کو دو لخت کر تے نمیلی کَس میں جا پڑتا تھا۔ اس حّصے کے ڈھلوانی علاقوں میں کہیںکہیں ایسے ٹکڑے تھے جن میں وَتر ٹھہر جاتا تھا اور زمیں بیج بھی قبول کر لیتی تھی۔ایسے قطعات اتنا اناج اور چار ا اُگا ہی لیتے تھے کہ گاﺅں والوں کے معدوں میں بھڑکتی آگ کے شعلے بجھتے تو نہ تھے تا ہم مدہم ضرور پڑ جاتے …. اور لہاریاں بھی بھوکی نہ رہتی تھیں۔
سارے اُتاڑ میں بکریاں خوب چرتی تھیں۔ یہاں ہر نسل اور ہر مزاج کی بکریوں کی بھوک مٹانے اور اُن کے بَد نوں کو فربہ بنانے کا سامان موجود تھا۔ اپنے کھروں کو درختوں کے تنوں پر جما کر اوپر کی شاخوں سے رزق نوچنے والیوں کے لیے لذت بھرے پتوں والے مختلف النوع درختوں کے جھنڈ تھے‘ تھوڑا سا گردن کو خم دے کر چرے جانے اور آگے ہی آگے بڑھے جانے والیوں کے لیے جھاڑیاں اور بیلیں تھیں۔ بچھی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نرم و شیریں گھاس بھی ہر کہیں تھی کہ جسے بربریاں شوق سے کھاتیں اور اَپنی نسل تیزی سے بڑھاتی تھیں …….. مگر جس تیزی سے تھوتھنیوں والے پلیدوں نے نسل بڑھائی تھی اُس نے سورگ والوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔
اُتاڑ سے پرے اُدھر جہاں ہموار زمین پر سرکاری رَکھ تھی‘ تھوتھنیوں والے وہاں سے غول در غول آتے تھے اور ہماری زمینوں پر تباہی مچا کر واپس رَکھ میں جا چھپتے تھے۔ جب تک بکریاں ہمارے التفا ت کا محور رہیں ‘تباہی مچا کر چھپ جانے والوں کی تعداد بھی محدود رہی …. یا پھر …. شاید اُن کا پھیرا ہی اِدھر کم کم لگتا ہو گا۔ تا ہم ہم احتیاط بھی تو کیا کر تے تھے ….بیری‘ کنیر اور کیکر کے درختوں کی خاردار ٹہنیوں کے چھاپوں کی کِھتیاں جوڑ کر ہم بکریوںکے باڑوں کو چاروں طرف سے محفوظ بنا لیا کرتے تھے ۔ جب کبھی تھوتھنیوں والے ادھر آ نکلتے اور اَپنی تھو تھنیوں کو ان چھاپوں پر مارتے تو کانٹوں کی چبھن اُنہیں اُلٹا بھاگنے پر مجبور کر دیتی تھی …. لیکن جب ہمیں مونگ پھلی کی فصل نے لگ بھگ بکریوں سے غافل ہی کر دیا تو وہ اندر تک گھس آتے۔ اُن کی تعداد اِس قدر بڑھ چکی تھی کہ ناچار ہم سورگ والوں کو اُنہیں بھگانے کے لیے پالتو کتو ں کی تعداد بڑھا دینا پڑی تھی۔
یوں نہیں تھا کہ پہلے سورگ والے کتے نہیں رَکھتے تھے…. گاﺅں کے مستقل مکینوں پر ہی کیا موقوف‘ وہاں مختصر عرصے کے لےے آنے والے خانہ بَد وشوں کی جھونپڑیوں میں بھی کتے ہوتے تھے۔خانہ بَد وشوں کے پاس عموماًگدی نسل کے کتے ہوتے جبکہ سورگ والوں میں سے جنہیں خرگوش کا شکار مرغوب تھا وہ جہازی اور تازی رکھا کرتے تھے۔ایک دو شوقین مزاجوں کے پاس السیشن تھے جبکہ گاﺅں کے کھوجیوں کے پاس پوائنٹر تھا….تاہم باقی سب گھروں میں وہ عام نسل کے کتے تھے جو اجنبیوں کو دیکھ کر اُچھل اُچھل کر بھونکتے تھے یا پھر بکریوں کو شام پڑنے پر دوڑ دوڑ کر اکٹھا کرتے تھے۔
سورگ والوں نے کتوں کی تعداد بڑھائی ضرور تھی مگر یہ تعداد کبھی کافی نہ ہو پاتی تھی کہ لائن لگانے والا یہ بے شرم جانور بڑھتا بھی بڑی سرعت سے تھا۔ ہر اڑھائی مہینے کے بعد ان کی حرام زادیوں کی بکھّیاں بھر جاتیں اور سال بعد پتہ چلتا کہ پچھلے برس کے مقابلے اس بار تین گنا زائد آئے اور مونگ پھلی کے کھیتوں کو کھود کر پلٹ گئے۔
شروع شروع میں اپنے ایمانوں کو بچانے کے لےے ہم اِس پلید نسل کا نام بھی زبان پر نہ لاتے تھے۔انہیں مارنے کو جی بھی نہ چاہتا کہ انہیں دیکھتے ہی کراہت ہونے لگتی تھی مگر جب یہ بہت زیادہ زیاں کرنے لگے تو ہم نے بندوقیں اُٹھالیں۔ خوب منصوبہ بندی کر کے ان کا شکار کرتے….اور پھر جب سرکار نے کسی سرکاری مصلحت کے تحت اسلحہ رکھنے پر پابندی لگادی تو ہمیںشکاری کتوں کی تعداد بڑھادینا پڑی۔
ہم ان کتوں کو لے کر شکار پر نکلتے تو ہمارے ہاتھوں میں کلہاڑیاں‘ برچھیاں اور بلم بھی ہوتے۔ کتے انہیں دوڑ دوڑ کر گھیرتے اور ہماری جانب دھکیلتے جاتے …. ہم اُن پر حملہ آور ہو جاتے اور اُن کی تکا بوٹی کر دیتے تھے۔ تاہم یہ ایسا موذی تھا کہ ہم میں سے کسی نہ کسی کو ہر بار ضرور زخمی کر دیتا تھا۔
ہم ا ن کا شکار کھیلتے تھے مگر ا ن کی تعداد روز بروز بڑھتی جاتی تھی ۔ جس تیزی سے وہ بڑھ رہے تھے ا س کے مقابلے میں ہمارے ہاتھ لگنے والوں کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر تھا۔لہذا تشویش ہمارے بَد نوں کے خُون کا حصہ ہو گئی تھی۔
تھوتھنیوں والوں کی بڑھتی تعداد ہمیں مونگ پھلی کی کاشت سے نہ روک پائی کہ اس فصل کے طفیل بھوک ہماری بکھےوں سے نکل کر اُنہیں فربہ بنا گئی تھی۔ بیوپاری کھڑی فصل کا اتنا عمدہ بھاﺅ لگاتے اور نقد رقم سے ہماری جھولیاں بھر دیتے کہ ہمارے دیدے حیرت سے باہر کو اُبلنے لگتے تھے۔ یہ حیرت تب بھی کم ہونے میں نہ آئی جب ہمیں یہ پتہ چلا تھا کہ بیوپاری تو ادھر شہر میں کارخا نے والوں سے کہ جو اس کا تیل نکالتے تھے یا اسے مزے مزے کے کھانوں کا حصہ بناتے تھے‘ ہمیں دیئے جانے والے بھاﺅ سے کئی گنا کماتے تھے ….کہ….کوئی اور جنس ہمیں اتنا بھاﺅ نہ دیتی تھی….شاید اسی بھاﺅ کی لشک نے ہمیں بکریوں سے بِدکا دِیا تھا۔
دِھیرے دِھیرے سارے اُتاڑ پرمونگ پھلی ہی کاشت ہونے لگی۔یہ علاقہ اس کی کاشت برداشت کے لیے خوب موزوں نکلا۔ اس فصل کو نسبتاً لمبا اور گرم موسم چاہئے ‘ تو وہ اس علاقے والوں کا ازلی مقّدر تھا۔ کم از کم جتنی بارش اس فصل کی طلب تھی اتنی خشک سالی کے موسم میں بھی ہوہی جایا کرتی تھی۔ زمین بھاری ہو تو بہت سا پھل وہی دبا ئے رَکھتی ہے ‘سار ا اُتاڑ ریتلا میرا تھا‘ اُدھر پودے پر ہاتھ رکھا جاتا اِدھر ہلکی پھلکی زمین پھلیوں کے گچھے اُگل دیتی ۔ ہم سر دیوں کے خاتمے سے پہلے پہلے ہل چلا کر مونگ پھلی کی کاشت کے لیے وتر محفو ظ کر لیا کر تے تھے۔ انگریزی حساب سے تیسرے مہینے کے آدھے میں اس کی گریاں بوئی جاتیں۔ یہ بوائی کبھی کبھار چوتھے کے آدھے تک چلتی تھی۔ جب پھلیاں بننے پر آتیں تو ہم ان کے بچاﺅ کے لیے جنگلی چوہوں کے بِل ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان میں زہر کی گولیاں ڈالا کر تے۔ چوہے اور سہہ پھلیوں کے خاص دشمن تھے مگر ہمیںشہر والے بیوپا ریوں نے سائنوگیس‘ کہ جسے ہم پہلے پہل سینو گیس کہتے تو شہر والے ہنسا کرتے تھے‘ اور زہر کی گولیاں لا دی تھیں یہ ان کے تدارک کے لیے خوب موثر تھیں اور ہم خُوِش تھے کہ ہم نے تقریباً ان پر قابو پا ہی لیا تھا….مگر تھوتھنیوں والوں نے ہمارے سارے حوصلے چھین لیے تھے۔ ایک ایک بکری کو بیماری سے….بگھیاڑوں سے….اور موت کے منھ سے بچانے والے ہم سب بے بس ہو چکے تھے ۔ کبھی ہم مستقل دکھوں سے مقابل ہونے میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے….اور اب بے بسی کی فرصت ساری مصروفیت پر غلبہ پا گئی تھی ۔
مونگ پھلی کی کاشت بہ جائے خود زیادہ مصروفیت کا مشغلہ نہ نکلا۔ پہلے برس جب اُتاڑ کو ہموار کرنا پڑا تھا‘ اپنے اپنے نام کھتوئے گئے خسروں کے حسا ب سے کھیتوں کے گرد حدیں بنائی تھیں ۔ کھیتوں کے اندر آ جانے والے کیکروں‘بیریوں‘ جھڑبیریوں اور کنیروں کو کاٹ کاٹ کر بالن بنا نے کے لےے اُن کے ٹوٹے ٹو ٹے کئے تھے۔ ہل چلا کرکھبل اور مروا کو جڑوں سے اکھیڑ ا گیا اور گھاڑا ایک جگہ اکٹھا کیا تھا …. بس وہ پہلا برس ہی شدید مصروفیت والا نکلا۔ یہی پہلا برس بکریوں کے پیٹ بھر کر چرنے کا آخر ی سال بن گیا تھا۔ وہ درختوں سے اترنے والے سبز پتوں سے لدی چھانگوں پر منھ مارتے ہوے یا اُکھڑی ہوئی نرم نرم جھاڑیوںکو جبڑوں میں چباتے اور ڈھیروں کی صورت پڑے گھاڑے کو چرتے ہوے ہمیں اس بات کا احساس تک نہ دلا پائی تھیںکہ آنے والے برسوں میں ان کی بکھیاں خالی بھبھان رہیں گی حتیٰ کہ وہ خود بھی نہ رہیں گی۔تاہم ہمارے پیٹ چربیلے ہونے شروع ہو گئے اور عجب طرح کی فرصت نے ہمارے وجودوں میں کاہلی کا بے لذّت پانی بھر دیا تھا۔
مونگ پھلی کی کاشت کے بعد سے لے کر زمین رنگ پھلیاں بننے تک ہم فارغ رہنے لگے ۔ پھلیاں بنتیں تو ہم بِلوںکو تلاش کرکے اُن میں زہریلی دوا ڈالتے ۔ یہ بھی کوئی ایسی مصروفیت نہ نکلی تھی کہ ہمارے وجودوں میں زِندگی کی ہمک بھر دیتی لہذا بہت جلد اُوب جایا کرتے‘ کھاٹیں لمبی کرتے اور اب تک پکّے ہو چکے گھروں کے دبیز سایوں میں دراز ہو جاتے۔
ہمیں کسالت نے جکڑے رکھا…. اور تھوتھنیوں والے اس قدر بڑھ گئے کہ کتوں کی خاطرخواہ تعداد بڑھا دینا پڑی۔
اور اب یہ ہو چکا ہے کہ کتے بہت زیادہ ہو گئے ہیں ….بہت زیادہ اور بہت قوی …. اتنے زیادہ کہ ہمارے حصے کا رزق بھی کھا جاتے ہیں …. اور اتنے قوی کہ اُن کی زنجیریں ہماری ہتھیلیوں کو چھیل کر ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں۔یہ کتے ہمارے کھیت اجاڑنے والوں کے عادی ہو گئے ہیں ….عادی ‘ خوفزدہ یا پھر ان ہی جیسے…. ممکن ہے ان پلیدوںکے بار بار بَد ن تان کر کھڑا ہو جانے کے سبب کوئی سہم ان کے دلوں میں سما گیا ہو ۔ معاملہ کچھ بھی ہو ‘ صورت احوال یہ ہے کہ تھو تھنیوں والوں کو غراہٹوں کی ا وٹ میسر آ گئی ہے۔ کتے دور کھڑے فقط غرائے جاتے ہیں۔ ہم سے زخمی ہتھیلیوں میں بلم‘ برچھیاں اور کلہاڑیاں تھامی ہی نہیں جا رہیں لہذا ہم خوف اور اندیشوں سے کانپے جاتے ہیں….اور کچھ یوں دِکھنے لگا ہے کہ جیسے اس با ر تھو تھنیوں والے‘ انہی کتوں کی غراہٹوں کی محافظت میں ہمارے سارے کھیت کھود کر ہی پلٹیں گے۔



کچھ اس افسانے کے باب میں

ڈاکٹر توصیف تبسم
ڈاکٹر توصیف تبسم

سورگ میں سور:انسانی تاریخ کی نئی اسطورہ
’’ سورگ میں سور‘‘ محمد حمید شاہد کا ایسا افسانہ ہے جس پر مصنف بجا طور فخر کرسکتا ہے۔ ہم اس افسانے کو منٹو‘ بیدی اور انتظار حسین کے ایسے ہی افسانوں کے مقابلے میں رکھ سکتے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے پس منظر میں لکھی جانے والی یہ کہانی سؤروں کی آمد ‘ کتوں کی بہتات ‘ بکریوں کی اموات اور مونگ پھلی کی کا شت جیسی علامتوں سے محمد حمید شاہد نے عالمی استعمار کی اس مکروہ سازش سے پردہ اٹھایا ہے جس میں موت ہمارے تہذیبی تشخص کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ اس کہانی کی کئی پرتیں ہیں۔ واقعاتی اورسامنے کی سطح پربھی اس کی ایک بھرپور معنویت ہے ۔ پھر کہانی جس طریقہ سے ایک علامتی موڑ کاٹتی ہے او ر ہمیں سیاسی جبرکی ایک نئی معنویت سے ہمکنارکراتی ہے وہ افسانہ نگار کی فنی ہنر مندی کاکمال ہے۔اس کہانی میں بڑی خوبصورتی سے جزیات نگاری سے کام لیا گیا ہے ۔ بنجرزمینوں کی ثقافت،وہاں کے معاملات ،بکریوں کی اقسام اوران کی بیماریوں کی تفصیلات سے‘ لکھنے والے کے وسیع تجربے ،مشاہدہ اورمعلومات کاپتا چلتاہے ۔ اس کہانی کا پورا منظر نامہ دیہی ہے۔ اس اعلان کے بعد کہ آج کی دنیا ایک گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے‘ عالمی استعمار کو پیش کرنے کے لیے دیہی استعارے زیادہ بامعنی ہو گئے ہیں۔ ’’سورگ میں سؤر‘‘ اپنے موضوع ‘اپنی تیکنیک اور فنی ہنر مندی کے حوالے سے محمد حمید شاہد کا بہترین اور اُردو ادب کا اہم ترین افسانہ ہے ۔ یہ افسانہ زندگی کا حسی ادراک کرنے اور ادراک کو کسی واحد مفہوم کی قطعیت سے آزاد رکھنے کی ایک قابل رشک مثال ہے۔ اسے تمثیلی پیرائے میں لکھا گیا ہے ۔ بالائی سطح پر یہ بارانی زمین پر آباد سورگ ایسے گاؤں اور اس کے محنت کش باسیوں کی جہد حیات کی داستان ہے ‘ مگر زیریں سطح پر یہ ایک طرف وطن عزیز کی سیاسی اور پھر ثقافتی تاریخ کا بیانیہ ہے تو دوسری طرف نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی عالمی صورت حال کا قصہ بھی ہے ۔ یہ افسانہ اپنے اندر محض ہنگامی واقعیت نہیں رکھتا ‘یہ ایک بڑی فوجی طاقت کی بے رحمانہ سرگرمیوں کو تمثیلی انداز میں ہی پیش نہیں کرتا ‘ بل کہ ایک ایسی علامتی جہت بھی رکھتا ہے ‘ جسے مجموعی انسانی تاریخ کے کئی ادوار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر اس افسانے کو انسانی تاریخ کی نئی اسطورہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔

ڈاکٹر توصیف تبسم 


فتح محمد ملک، محمد حمید شاہد
فتح محمد ملک، محمد حمید شاہد

نائن الیون کے پس منظر میں

نائن الیون کے پس منظر میں محمد حمید شاہد نے خوب صورت افسانے تخلیق کرکے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے ۔ میں ان کے افسانوں کا دیرینہ مداح ہوں اور ان کے افسانے محبت اور توجہ سے پڑھتا ہوں ۔ ان کے ہاں تہذیبی شناخت کا رویہ بہت نمایاں اور قابل قدر ہے ۔

پروفیسرفتح محمد ملک


پروفیسر جمیل آزر
پروفیسر جمیل آزر

بے شک اس افسانے کو ہم منٹو‘ بیدی اور انتظار حسین کے ایسے ہی افسانوں کے مقابلے میں رکھ سکتے ہیں

محمد حمید شاہدکے افسانے پڑھنے میں بہت دلچسپ ہوتے ہیں ۔ ان کے ہاں سیاسی ‘سماجی اور معاشرتی شعور بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے ۔ان کے افسانے کا سفر ” برف کا گھونسلا “ سے شروع ہوتاہے اور ”سورگ میں سور“ جیسے بڑے افسانے تک پہنچتا ہے۔ بے شک اس افسانے کو ہم منٹو‘ بیدی اور انتظار حسین کے ایسے ہی افسانوں کے مقابلے میں رکھ سکتے ہیں ۔اس افسانے میں بھیڑ بکریوں‘ کتوں اور سوروں کی کہانی جس طرح آخر میں ایک علامت کا روپ دھارتی ہے اس سے پڑھنے والے کے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے۔ واقعی حمید شاہد بڑا فن کار ہے ۔

 پروفیسر جمیل آذر


پرسنل اور کلوز مشاہدہ

قابیل کےZia Jalandhry ہاتھوں سے ہابیل کا قتل ہوا تھا۔ ہابیل تہذیب کے اولین حصے سے تعلق رکھتا تھا جب کہ قابیل ایڈوانس تھا ۔ وہ سبزیاں اگانے تک آگیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہابیل کی قربانی قبول کرلی ۔ ”سورگ میں سو ر “کا کمال یہ ہے کہ کہ اس میں ایک مقام پر آکر لوگوں کی ہڈیوں میں پانی پڑ گیا ہے۔  ٹالسٹائی اور داستوئفسکی کے لیے مشہور تھا کہ وہ جس چیز کو پکڑ لیتے تھے تفصیلات تک اور باریکیوں تک لے جاتے تھے۔ اس افسانے میں جس طرح زبان کا استعمال ہوا ہے اور جس طرح جزیات تک آئی ہیں‘ وہاں ہم خود موجود ہو جاتے ہیں ۔ مجھے ابوالفضل صدیقی یاد آگئے۔ اتنا پرسنل اور کلوز مشاہدہ ہے ۔ ان سب باتوں نے مل ملا کر اسے خوب صورت افسانہ بنا دیا ہے۔ بہت کا میاب اور دل آویز افسانہ ہے۔

ضیا ءجالندھری


Masood Mufti

مسعود مفتی

افسانہ زمین اور زندگی کے بہت قریب ہے ۔

 ”پہلے اس کا تعین کر لیا جانا چاہیئے کہ افسانہ ”سورگ میں سور“ کس کی علامت ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک پروسس کی علامت ہے ‘ یہ سیاسی علامت بھی ہے ‘ سماجی اور معاشی بھی۔ یہ اس بات کی علامت بھی بنتی ہے کہ پرسکون اور تہذیبی زندگی کو مادی ترجیحات درہم برہم کر رہی ہیں۔ دوسرے اینگل سے دیکھا جائے تو اس میں ایک حقیقت پسند اسلوب بھی سامنے آتا ہے ۔ یہاں ایک ماحول کو مقامی اصطلاحات کے ذریعے بیان کیا گیا ہے ۔ جملوں کی ساخت بہت عمدہ ہے الفاظ کا چناﺅ خوب ہے ۔ افسانہ زمین اور زندگی کے بہت قریب ہے ۔ افسانے میں علامت اور اس کے لیے جو ماحول بنایا گیا ہے میں اس سے بہت متاثر ہوا ہوں۔’سورگ میں سو ر“ کے حوالے سے کہوں گا کہ اس جنت کو تباہ سو روں نے نہیں کیا بلکہ اُن لوگوں کے رویوں نے کیا ہے جن کی وجہ سے مادی ترغیبات نے رحمدلی کے جذبے کو معدوم کر دیا ہے ۔

 مسعود مفتی 


ابلاغ کی ایک ایسی سطح بھی اخذ کی ہے جو ہر اعتبار سے قابل رشک ہے

نجیبہ عارف
نجیبہ عارف

”سورگ میں سور“، عالمی گاو ں آباد کرنے کی خواہش میں بستی ہوئی بستیاں اجاڑ دینے والی مرگ آثار تھوتھنیوں کی کہانی ہے۔معاصر صورت حال کے بیان کے لیے مصنف نے بکریوں ، کتوں اور سوروں کے استعارے جس خوبی سے بیان کیے ہیں وہ اس کی فنی پختگی اور اظہار کے وسیلوں پر قدرت کا مظہر ہیں۔ ’ ’سو رگ میں سور“ کا علامتی انداز اپنی جگہ نہایت مکمل اور بے ساختہ محسوس ہوتا ہے اور کہیں بھی تفہیم و ابلاغ میں رکاوٹ کھڑی نہیں کرتا۔ یہ ایک نسل کی کہانی ہے نہ ایک ملک یا قوم کی۔ یہ اس روئے زمین پر رونما ہونے والے ایک عہد ِ زیاں کی کہانی ہے۔ اس عہد کی جس میں:
”اور اب یہ ہو چکا ہے کہ کتے بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ ۔۔ بہت زیادہ اور بہت قوی۔۔۔ اتنے زیادہ کہ ہمارے حصے کا رزق بھی کھا جاتے ہیں۔ اور اتنے قوی کہ ان کی زنجیریں ہماری ہتھیلیوں کو چھیل کر ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں۔ یہ کتے ہمارے کھیت اجاڑنے والوں کے عادی ہو گئے ہیں۔ ۔۔ عادی، خوف زدہ یا پھر ان ہی جیسے۔ ممکن ہے ان پلیدوں کے بار بار بدن تان کر کھڑا ہونے کے سبب کوئی سہم ان کے دلوں میں سما گیا ہو۔ معاملہ کچھ بھی ہو صورت احوال یہ ہے کہ تھوتھنیوں والوں کو غراہٹوں کی اوٹ میسر آگئی ہے۔ کتے دور کھڑے فقط غرائے جاتے ہیں۔ ہم سے ذخمی ہتھیلیوں میں بلم، برچھیاں اور کلہاڑیاں تھامی ہی نہیں جا رہیں لہٰذا ہم خوف اور اندیشوں سے کانپے جاتے ہیں۔ ۔۔ اور کچھ یوں دکھنے لگا ہے کہ جیسے اس بار تھوتھنیوں والے ، انھی کتوں کی غراہٹوں کی محافظت میں ہمارے سارے کھیت کھود کر ہی پلٹیں گے۔ “
یہ اعتراف شکست ہے یا صور ت احوال واقعی، اس بات سے قطع نظر اس تمثیل کا اطلاق کہاں کہاں نہیں ہوتا۔ حمید شاہد نے اس کہانی میں علامت سے معنویت ہی نہیں بلکہ ابلاغ کی ایک ایسی سطح بھی اخذ کی ہے جو ہر اعتبار سے قابل رشک ہے۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف


 

محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …