M. Hameed Shahid
Home / افسانے / ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہد

ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہد

adara aur aadmi

جب کوئی ادارہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ دو سو نوکریاں چھانٹ رہا ہے تو اس کے
حصص کی قیمت جست لگا کر بڑھ جاتی ہے ۔ یہ دیوانگی ہے ……..گنتر گراث

جب بھی مسٹر کے ایم رضوانی چھوٹی صنعتوں کے اِس بڑے اَدارے کو ماں کی مثل قرار دِیتے ‘ریاض کو زمین کے بارے میں اَپنی ماں کی کہی ہوئی بات یاد آجایا کرتی کہ
یٹا زمین بھی ماں کی طرح ہوتی ہے ۔ اپنے بیٹوں کی رگوں میں دودھ کے نور جیسا پاک رزق اُتارنے والی ۔
اُس کی ماں نے یہ بات تب کہی تھی جب اُس نے اَپنے باپ دادا سے وراثت میں ملی ہوئی زمین کا وہ اکلوتا ٹکڑا بیچنے کا فیصلہ کیا تھا جو اُنہیں رزق دِیتا تھا۔ اِتنا رزق‘ کہ گزر بسر ہو ہی جاتی تھی۔ تب ریاض کی بہن جوان تھی اور اُس کی جوانی دِیکھ دِیکھ کراُسے وحشت ہونے لگی تھی۔ اُس کی ماں کو بھی ہول آتے تھے‘ تبھی تو زمین بیچنے کی بات آخر کا ر اُس نے مان لی تھی۔
مسٹر رضوانی‘ ریاض کے باس تھے۔ اُن کے منھ سے ”لائک مدّر“ والی بات نکلا کرتی تواُس کی رَگوں کے اَندر لہو کی گردش تیز ہو جایا کرتی تھی۔ مگر اب یہ بات قدرے پرانی ہو چکی تھی۔ پرانی بھی اور بوسیدہ بھی۔ اِتنی بوسیدہ کہ مُدّت ہوئی مسٹر رضوانی یہ بات دُہرانا بھول چکے تھے ۔ شاید اِس کی وجہ وہ بوکھلاہٹ تھی جو اُنہیں سنبھلنے اور کچھ اور سوچنے ہی نہ دِیتی تھی۔
یہ بُوکھلاہٹ اُنہیں اُوپر سے ملتی تھی ۔
اُوپر سے مراد ایم ڈی صاحب ہیں۔ جب بھی مسٹر رضوانی ادھر سے ہوکر آتے ‘بوکھلاہٹ ان کی سانسیں برابر نہ ہونے دیتی۔ ہﺅں ہﺅںکرتے آدھی بات چھاتی میں دباتے اورآدھی باہر پھینکتے۔ رِیاض بھی کئی طرح کی اَسائین منٹس پا کر بوکھلاجایا کرتا۔ اور اُس سب پر مستزاد یہ کہ بَاس کی طرف سے خود ہی اَندازے لگانے کا حکم صادرہو جاتا:
” یہ کر لو۔ اِسے یوں کر لو۔ یا…. یا کوئی اور صورت نکالو۔ بھئی خود بھی دِماغ لڑاﺅ نا۔“
ریاض کُند ذِہن نہیں تھا۔ تاہم اِیسا بھی نہیں تھا کہ فوری فیصلہ کر پاتا۔ اس کا ذِہن رَفتہ رَفتہ کُھلتا تھا‘ بِیس پچیس مِنٹ مِل جاتے تو یقینی طور پر قابلِ عمل پروپوزل بنا لیا کرتا۔ اُس کے باس کو اکثر فوری فیصلے کی طلب ہوتی اور جب اُنہیں کچھ نہ سوجھ رہا ہوتا کہ کیا اور کیسے کرنا ہے ؟تو بات بے بات اُلجھنے لگتے۔ اُوپر کی طرف دیکھتے اور سر جھٹک کر تاسف سے ہاتھ ملتے ہوے کہتے:
” کامپلی کیٹیڈ ڈَاٹا ایم ڈِی صاحب کو سمجھ ہی نہیں آتا۔ بیک گراﺅنڈ نہیںہے نا۔ یہ ڈیپارٹمنٹ والے تو ہر ایک کو ”علامہ“ سمجھتے ہیں‘ تم یوں بنا لاﺅ کہ ساری پکچر واضح ہو‘ سارا معاملہ اُنہیں بھی سمجھ آجائے۔“
اُوپر والے صاحب کیسے سمجھ پائیںگے؟ متعلقہ ڈیپارٹمنٹس والوں کو پتا چلا ‘نہ کبھی ریاض جان پایا تھا ۔ تاہم وہ اَپنے طور پر کوشش کرتا رہا اور ہر معاملے کو یوں ایکسپلین کرنے کی صورت نکال لیا کرتا تھاکہ اُس سارے سسٹم سے ناواقف شخص کو بھی زیرِ تصفیہ معاملہ سمجھ آ جاتا۔
شروع میں مسٹر رضوانی‘ رِیاض کی رِیاضت پر خُوش ہو جایا کرتے‘ایک ایک ٹیبل کو دیکھتے ‘تو اُن کے منھ سے ”واہ واہ“کی آوازیں نکلتیں‘کبھی مکا میز پر مارتے اور کبھی اُس کے کندھے کوتھپتھپاکر کہتے:
”یہ ڈاٹا تو اب جاہل سے جاہل کو بھی سمجھ آ جائے گا ‘اُسے ضرور سمجھ آجاناچاہیے۔ “
ساتھ ہی وہ ماتھے کواپنی اُنگلیوں کی گرفت میں لے کر ہا تھ زور سے جھٹک کر الگ کرتے ہوے کہتے :
”چلیں کوئی اِشو تو سیٹل ہوگا۔“
مگر واقعہ یہ تھا کہ اوپر والا جا ہل نہ تھا لہذا جاہلوں کے لیے کی گئی محنت اُس پر کچھ اثر نہ کرتی تھی۔ جب ایم ڈی صاحب نئے نئے اس اَہم ادارے میں آئے تھے تو اُن کا زبردست سی وی بھی سرکولیٹ ہوا تھا۔ اس سی وی کے مطابق موصوف کئی بین الاقوامی اداروں میں کام کر چکے تھے۔ اسی سرکلر سے ان فیملی کے جوکوائف نمایاں کیے گئے وہ بھی دلچسپ تھے۔ مثلا ًیہی کہ وہ شادی شدہ تھے۔ دوبیٹوں ایک بیٹی کے علاوہ دو درجن مختلف نسل کے کتے بھی رَکھتے تھے ۔ سی وی میں اس طرح کی معلومات دینے کی میرے باس کے پاس یہ تو جیہہ تھی کہ اُدھر باہر کتوں کا الاﺅنس بھی مل جاتا ہوگا۔ تا ہم اس کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ آخر کوئی بات ڈھنگ سے ان کے پلے کیوں نہ پڑتی تھی۔
کوئی وجہ تو ہوگی ؟ مسٹر رضوانی سوچتے مگر اُن کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا ۔ ایک بار اُنہوں نے اپنے تئیں تجزیہ کرتے ہوے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس طرح کے بڑے ادارے کا ذمہ دار ہوکر فیصلے دینا ایک الگ ماحول میں کام کرتے آنے والے کے لیے واقعی بہت کٹھن بات تھی۔ انہی کٹھن مرحلوں کو آسان کرنے کے لیے وہ پھونک پھونک کر قدم رکھنے لگے اور ایسی حکمت عملی کو وظیفہ بنا لیا کہ بڑے صاحب کانفیڈنس سے فیصلے کر سکیں۔ مگر جب ایم ڈی صاحب نہایت اِعتماد سے اور اپنے دستخطوں سے بڑے بڑے فیصلے کرکے بھیجنے لگے تو پہلے پہل تو مسٹر رضوانی چکرا سے گئے اور آخرکار اُنہیں بھی سارا معاملہ سمجھ آ گیا۔
لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
وہ اَفسوس سے ہاتھ ملا کرتے کہ پہلے روز ہی معاملات اُن کی سمجھ میں کیوں نہ آئے تھے۔ کم از کم تب ہی اَندازہ لگا لیا ہوتا جب مختلف ایجنسیوں کی طرف سے ملکی ترقی میں قابل قدر حصہ ڈالنے والی اس آرگنائزیشن کو ’ناکام ادارہ‘ کہا جا رہا تھااور اس گھناﺅنے الزام کو سچ ثابت کرنے کے لیے جھوٹی اور گمراہ کُن فگرز دِی جا رہی تھیںجس کی وجہ سے ساری سکسیس سٹوری نااہلیوں کی داستان ہو کر رہ گئی تھی۔
ّّاِس سارے پروپیگنڈے کے لیے اخبارات کو خوب خوب اِستعمال کیا جارہا تھا۔ جب چٹ پٹی خبریں کوٹے سے دُگنے رنگین اِشتہارات کے ساتھ میسر آرہی تھیں تو وہ یہ سب کچھ کیوں نہ چھاپتے۔ اگربروقت اصل صورتِ احوال میڈیا کوجاری کر دِی جاتی تویہ پروپیگنڈادم توڑ سکتاتھا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ایسا ہونے ہی نہیں دِیا گیا حالاں کہ ریاض ساری فگرز کو اینالائیز کرکے ایک مو ¿ثر وضاحت نامے کاڈرافٹ بنا کر اپنے باس کے پاس لے گیا تھا۔ مسڑ رضوانی اس ڈرافٹ کی عبارت سے نہ صرف پوری طرح مطمئن تھے‘ خُوش بھی تھے کہ اس وضاحت نامہ سے اِلزامات کا ساراملبہ صاف ہو جائے گا۔ وہ اُسے لے کر اُوپر گئے مگر منھ لٹکا کر واپس آ گئے۔ ایم ڈی صاحب کو یہ ڈرافٹ پسند نہیں آیا تھا۔ رِیاض نے اَسلوب بدل بدل کر مزید تین ڈرافٹس بنائے۔ جب تک ڈرافٹنگ ہوتی رہی مسڑ رضوانی اُس کے سر پر سوار رہے۔ کچھ وقت کے لیے اپنے روم میں گئے بھی تو انٹر کوم بجا بجا کراُسے ہری اَپ کے کا شن دِیتے رہے۔ اِس دوران اُنہوں نے ایک بار تو ریاض کو پرفیکشنسٹ ہونے جب کہ دوسری بارڈےڈ سلو لائیک ٹور ٹائز ہونے کے طعنے بھی دیئے ۔ جب وہ تینوں پروپوزلزفئر کرکے لے گیا تو وہ مطمئن ہو گئے۔ اُنہیں یقین تھا کہ کوئی نہ کوئی ڈرافٹ فائنل ہو جائے گا۔
مسڑ رضوانی اُوپر جاتے ہوے بہت پُرجوش تھے مگر کھوٹے سکّے کی طرح پلٹ آئے۔ اَپنی ریوالنگ چیئر پر ڈھیر ہونے کے اَنداز سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ سارا جوش اُوپر ہی کہیں بھول آئے تھے۔ ریاض کو حوصلہ نہیں ہو رہا تھا کہ کچھ پوچھے‘ تاہم میں اِس بارے میں متجسس تھا اور رہا بھی۔ حتّٰی کہ اُس کے باس چیئر آگے پیچھے جھولانے سے اُکتا کر اُسے دائیں بائیں گھمانے لگے اور خود پر ضبط نہ پاکر ہاتھ ہوا میں نچاتے ہوے کہنے لگے:
”حضرت کہتے ہیں ‘چھوڑ جائیں‘ میں ذرا سکون سے دیکھوں گا ‘ میڈیا کا معاملہ ہے۔“
انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اُوپر‘ جس معاملے کو لاءیالاجک سے رد نہیں کیا جاسکتا تھااور اُسے کرنا مقصود بھی نہیں ہوتا تھاتو یوں معرض ِاِلتوا میں ڈال دیا جاتا تھا۔ تا ہم ادارے کے امیج کا سوال تھا اور مسٹر رضوانی نیک نیتی سے چا ہتے تھے کہ اس کی نیک نامی پر اُچھالے گئے گند کو وضاحت کے اجراءسے صاف کیا جاسکتا تھا۔ لہذا اُنہوں نے اُس وقت تک اَپنی سیٹ نہ چھو ڑی جب تک اوپر ایم ڈی صاحب بیٹھے رہے۔ ریاض کو کہا:
”پی آر والوں کو بھی بٹھائے رکھو‘ شاید کوئی ڈرافٹ اوکے ہو کے آ جائے‘ پریس اسٹیٹمنٹ ریلیز کرانے کے لیے پی آر والوں کو کہاں ڈھونڈتے پھریں گے۔“
جب ایم ڈی صاحب اُٹھ کرچلے گئے اور یہ بھی تسلی ہو گئی کہ فائل بغیر کسی فیصلے کے اَندر ہی پڑی ہوئی ہے تو وہ بڑ بڑاتے ہوئے اُٹھے اور باہر نکل گئے۔
اگلے دو روز تک مسٹر رضوانی یاد دہانی کے لیے کسی نہ کسی اور اِشو کے بہانے اُوپر جاتے رہے۔ چوتھے روز وہ کسی بھی فیصلے کے بغیر فائل اٹھائے واپس آگئے ۔ مسٹر رضوانی کے نتھنوں سے دُھواں نکل رہا تھا ۔ اَپنی نشست پر بیٹھتے بیٹھتے فائل ریاض کی طرف اُچھالی اور کہا :
”دیر ….ہونہہ….‘دیر ہو گئی ہے۔ حضرت کہتے ہیں ‘اب اِس کی ضرورت نہیں رہی‘بہت دیر ہو چکی ہے۔“
ایم ڈی صاحب کوئی بھی اِشو سیٹل نہ کر رہے تھے۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسٹر رضوانی بات بے بات اُلجھنا شروع ہو گئے۔ وہ اس قدر مایوس ہو گئے تھے کہ اُنہوں نے ریاض کو ڈاٹا سہل بنانے کی اسائیںمنٹس دِینا چھوڑ دِی تھیں ۔ متعلقہ ڈیپارٹمنٹس والے جو بھی اور جیسا بھی پُٹ اَپ کرتے ‘وہ اسے بعینہ اِن ڈورس کر کے اُوپر بھجوا دیتے۔ اُوپر والے نے فائلز نہ نکالنے کی قسم اُٹھا رَکھی تھی لہذا معاملات لٹکتے چلے گئے۔ اَچھے بھلے رَواں دَواں ادارے کو بریکیں لگ گئی تھیں۔
یہی جبری فراغت کے وہ دِن تھے جب مسٹر رضوانی کو چھاتی میں عین دِل کے مَقام پر شدیدچبھن ہوئی۔ رِیاض اُنہیں کار ڈیالو جسٹ کے پاس لے گیا تھا۔ یہیں اُس نے اُن کی دونوں بیٹیوں کو دیکھا تھا جن میں سے ایک بالکل مُنّی جیسی تھی۔
مُنّی‘ریاض کی وہ بہن تھی جو مایوس ہوکر یوں بھاگی تھی کہ وہ اُسے پھر نہ دِیکھ پایا تھا۔
مکمل چیک اَپ کے بعدمسٹر رضوانی کو پہلی بار پتا چلا کہ اُن کے دِل کے دو والو وبند تھے۔ ڈاکٹروں نے فوری آپریشن سجیسٹ کیا ۔ اُنہیںاپنے دِل سے کہیں زیادہ اِدارے کی فکر لا حق تھی۔ کہتے ‘ ادھر معاملات سدھریں تو آپریشن کی ڈیٹ لوں۔
مگر معالات تھے کہ بگڑتے ہی جا رہے تھے۔
جب بہت ہی بنیادی نوعیت کی فائلز بھی اُوپر ڈَمپ ہونے لگیں تو اُن کی پارٹ فائلز کُھل گئیں اور اُن پر نیچے سے ’ارجنٹ‘اور’امپارٹنٹ‘ کے فلیگ لگ کر آنے لگے۔ اوپر اِس کا بھی توڑ تھا۔ ہر ارجنٹ فائل ’سپیک‘ لکھ کر واپس کر دی جاتی۔ وہ سپیک کرکے آتے تو اُنہیں سمجھ ہی نہ آتا کہ فائل کا کیا کِیاجائے۔ جب کمپیٹنٹ اَتھارٹی نے اُوپر کچھ لکھا ہی نہیں تھا تو اس کی ڈسپوزل کیسے ہو سکتی تھی۔ حتّٰی کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اوپر سے آتے ہی مسٹر رضوانی پہلے تو ریاض پر برہم ہوتے‘ کِسی بھی وجہ سے ۔ ریاض اُن کا اِنتظار کر رہا ہوتا‘ تو جھڑک کراُسے کمرے سے نکال دیتے کہ وہ شاید اُس کا تَماشادیکھنے کا منتظر تھا….اور وہ اَپنی سیٹ پر بیٹھ کر کوئی اور اسائین منٹ مکمل کر رہا ہوتا تواُسے بلا کر سوالیہ لہجے میںطعنہ زَن ہوتے کہ اُسے اَپنی سیٹ پر بھاگنے کی کیا جلدی ہوتی تھی؟….اور بعد ازاں کئی کئی گھنٹوں کے لیے گم صُم ہو جاتے۔
ریاض سبجیکٹ سپیشلسٹ ہوتے ہوے بھی گذشتہ کئی برسوں سے پرسنل سٹاف کی طرح اُن کے ساتھ تھا۔ اس کا کہیں بھی تبادلہ ہوا‘ باس نے رُکوا لیا۔ مسٹر رضوانی اس پر بہت اعتماد کرتے تھے اور اس نے بھی حتی الوسع کو شش کی کہ اُن کے اِعتماد کو ٹھیس نہ لگنے دِے۔ دو تین مزید اَفسران ایسے تھے جنہیں اُنہوں نے اَپنے ساتھ رکھ کر ایک ٹیم سی بنا لی تھی۔ یہ سارے محنتی اور پروفیشنل لوگ تھے لہذا سب کو ٹیم ورک میں بڑا مزا آتا تھا۔ مشکل سے مشکل معاملات وہ مل جُل کر سُلجھا لیا کرتے۔
مگر کچھ عرصے سے جیسے کِسی کو کِسی پر اِعتماد نہ رہا تھا۔
اُنہوں نے اَپنے ادارے کو پھلتے پھولتے دیکھا تھا۔ ابھی دوچار برس پہلے تک انہیں اِس پَرسٹی جِیئس اِدارے سے منسلک ہونے پر فخر کا احساس بھی ہوتا تھا۔ مگر اَب تو جیسے سب کچھ جھوٹ تھا۔ ان کا اِخلاص‘ ان کی محنت‘ ان کی اچیو منٹس۔ سب کچھ۔ ایسے میں تو اَپنی صلاحیتوں پر بھی شک ہونے لگتا ہے….اور….سچ تو یہ ہے کہ وہ واقعی اپنا کانفیڈنس لُوز کر چکے تھے۔
ریاض کے باس کووہ وقت بہت یاد آتا تھا‘ جب سرکاری اداروں کی ملازمت عزت اور وقار کی بات تھی۔ تب کلرکی کی بھی ایک دَھج ہوا کرتی تھی جب کہ اُنہیں سولہویں سکیل کا افسر لیا گیا تھا۔ اس نے خوب محنت کی۔ ان دنوں محنت اور خدمت ایمان کے ہم پلہ لگتے تھے۔ ڈیوٹی اور فرض کے ایک سے معنی تھے۔ اس کا اُنہیں یہ انعام ملا کہ انہوںنے نہ صرف خوب عزت کمائی‘ مسلسل ترقی پاتے پاتے موجودہ عہدے تک پہنچ گئے۔ ریاض اُن سے دَس بارہ برس بعداِ س ادارے میں آیا اور مختلف شعبوں میں کام کرنے کے بعد براہِ راست اُن کی ماتحتی میں آگیا تھا۔ حتّٰی کہ وہ زمانہ آپڑا جب ایک منصوبے کے تحت سرکاری ملازمت کو گالی بنا دیا گیا۔
اچانک سب سے اوپر تبدیلی آئی تھی۔
تبدیلی چوں کہ غیر جمہوری تھی لہذا اُس کو باہر والوں سے تسلیم کروانے کے لیے بہت کچھ تسلیم کر لیا گیا۔ یوں سب اداروں پر ایسے صاحبان آکر بیٹھ گئے کہ ان اداروں میں کام کرنے والوں کی خود اِعتمادی بھی ٹھس کرکے بیٹھ گئی۔ ہر کہیں معاملات پینڈنگ ہونے لگے ۔ اخبارات جھوٹی سچی خبریں مصالحے لگا لگا کر چھاپنے لگے۔ چِہ مگوئیوں اور افواہوں نے زور پکڑا تو اچھا بھلا کام کرنے والے بھی بیٹھ گئے۔ لگن سے کام کرنے والے ہمت ہار بیٹھے تو وہ ادارہ خود بخود بیٹھنے لگا جس میں ریاض کام کرتا تھا‘ یہاں تک کہ ایم ڈی صاحب نے بھی کہنا شروع کر دیا :
”میں نہ کہتا تھا یہ ادارہ دیمک زدہ ہے ‘ باہر سے ٹھیک ٹھاک مگر اندر سے کھوکھلا۔ لمبی گڑ بڑ ہے۔ تب ہی تو خبریں چھپتی رہتی ہیں۔“
عین ایسے عالم میں‘ عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندے‘ پرائیویٹائزیشن کے پراسس کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے مسلسل دوروں پر آنے لگے۔ اُن کے ساتھ انویسٹرز بھی آ رہے تھے لہذا سرکاری اداروں کی یوں منڈی سی لگی کہ جو بھی آتا وہ ایسٹس اور لائیبیلٹیز کی سٹیٹ مِنٹس اور بیلنس شیٹس کوکچھ ایسے ٹٹولتا تھا جیسے منڈی میں قصاب بکروں اور دُنبوں کی پسلیاں ٹوہ ٹوہ کر دیکھتے ہیں۔ اخبارات میں سرکاری اَداروں کی بداِنتظامیوں‘ انتظامیہ کی نا اہلیوں‘ پالیسیز کی خامیوں‘ حتّٰی کہ خود اسٹیٹ کی ناکامی کی بارے میں ایسی ایسی خبریں چھپنے لگیں کہ سب کچھ دُھندلا گیا۔
ایسے میں جو کچھ کہا جا رہا تھا وہ بہت جلد سچ لگنے لگا۔
ایسی ہی افواہوں سے لبالب بھرے ہوے دنوں میں سے ایک دِن تھا جب مسٹر رضوانی نے ایم ڈی کی ڈائریکشن پر ریاض سے ایس ایس سی یعنی ”سبجیکٹ سپیلسٹ کور “ کی اِنڈیکشن کے لیے پروپوزل بنوائی۔ رِیاض نے دَبے دَبے لفظوں میں کہا :
’ ’ادارے کے پاس ایسے ایکسپرٹس کی کمی تو نہیں ہے سر۔“
باس اس سے متفق تھے مگر اُن کا خیال تھا کہ اِسی بہانے لوئر سٹاف کی جو کمی ہے ‘ اُسے بھی نوٹس میں لے آتے ہیں۔ لہذا نوٹ بناتے ہوے ریاض نے اَفرادی قوّت کا چارٹ بنایا‘ ریکوائرمنٹس کا تخمینہ لگایا اور”ایس ایس سی“ کے ساتھ اُسے نتھی کر کے فائل کے اُوپر چڑھا دیا۔ فائل پر اُسی روز فیصلہ ہو گیا۔ صرف نوٹ کے پہلے حصے کی اَپرووَل ہوئی تھی جب کہ دوسرے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اُسے الگ سے پُٹ اَپ کیا جائے۔ وہ اِشو الگ سے موو ہوا بھی ‘ مگر فائل اوپر ہی کہیں ڈمپ ہو گئی۔
جب ایس ایس سی کے نام پر اناڑی مگر ڈِگنَا ٹِیز سے کلوز کا نٹیکٹ رکھنے والے لوگ یکے بعد دیگرے مراعات کے خصوصی پیکج پر رکھے جانے لگے تو مسٹر رضوانی پر مایوسی کے شدید دورے پڑے۔ ذِہنی دباﺅ کے اِسی دورانئے میں اُنہیں شدّت سے یہ فکر دامن گیر ہونے لگی تھی کہ اُن کی دونوں بیٹیاں تو کب کی شادی کی عمر کو پہنچ چُکی تھیں۔ اُن کے پاس اِس سے پہلے اپنے بارے میں ‘ اَپنی صحت کے بارے میں ‘ اَپنی وائف اور بے بیز کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں تھی۔ وہ صبح آتے تھے تو رات گئے پلٹتے تھے ۔ مسٹر رضوانی اَب بھی لیٹ سٹنگ کرتے تھے مگر اب اُن کے پاس سوچتے رہنے اور فکر مندی سے ہلکا ن ہونے کی فرصت ہی فرصت تھی۔ بِیچ بِیچ میں ایسے وقفے ضرور آتے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالا دیتے اور ادارے کے پوٹینشل کی وجہ سے اُمید بھری باتیں کرتے ہوے کہتے :
” یہ ٹائی ٹَے نِک ان سے ڈوبتے ڈوبتے ہی ڈوبے گا۔“
مسٹر رضوانی سنیئر موسٹ تھے مگر” ایس سی سی“ ایسے آئی کہ اس نے پہلے والوں کی ایسی کی تیسی کردِی۔ اُنہیں کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ مسٹر رضوانی اُوپر سے نہ آنے والے بلاوے کا اِنتظار کرتے رہتے ۔ اِس عرصے میں کچھ فیصلے ایسے بھی ہوے جن کے ‘ بہ قول مسٹر رضوانی‘ ادارے پر منفی اثرات پڑ سکتے تھے ۔ اُن کا یہ بھی خیال تھا کہ ا نہیں کانسلٹ کر لیا جاتا تو درست سمت میں سٹیپ لیا جا سکتا تھا۔ اِسی طرح کے مختلف فیصلوں کی خبریں جب تسلسل سے آنے لگیں تو اُنہیں یوں اِگنور کیا جانا نڈھال کرنے لگا۔ اس ادارے کو بنانے میں ‘ مسٹر رضوانی کا خیال تھا‘ کہ ان کا بڑا حصہ تھا۔ اور یہ بہت حد تک ٹھیک بھی تھا۔ یہ بھی درست تھا کہ وہ کبھی بھی اتنا غیر اَہم نہیں رہے تھے‘ جتناکہ اب ہو گئے تھے۔
جب اُنہیں بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیاتو انہوںنے ایسے معاملات تلاش کیے جن سے ایم ڈی صاحب کو دِل چسپی ہو سکتی تھی۔ اُن پررِیاض سے مائیلڈ سی پروپوزلز بنوائی گئیں۔ ایم ڈی صاحب کے پی ایس کو معاملے کے اِمپارٹنٹ اور اَرجنٹ ہونے کی یقین دِہانی کرائی گئی اور موقع ملتے ہی ملاقات کر آئے۔
اُن دنوں ریاض کو پہلی بار محسوس ہوا کہ اُس کے باس کو ایم ڈی کی نظروں میں رہنے کی عادت سی ہو گئی تھی ۔ اِس ملاقات سے پہلے وہ ماہیِ بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے۔ ملاقات میں نہ جانے اُن پر کیا جادو ہوا کہ وہ سارے اشوز جو پہلے ادارے کے حوالے سے اَرجنٹ نیچر کے تھے ‘ سکینڈری ہو گئے ۔ اَب سب سے اَہم مسئلہ یہ تھا کہ اوور سٹافنگ کے کرانک معاملے سے کیسے نمٹا جائے؟ اُوپر پچیس/پچاس کی تجویز چل رہی تھی یعنی جس نے سروس کے پچیس برس مکمل کر لےے یا اُس کی عمر پچاس برس ہو چکی ‘ اُسے پری میچور رےٹائر منٹ پر بھیج دِیا جائے۔ وہ نیچے آئے اور آتے ہی ریاض کو کال کرلیا۔
بعد کے کئی گھنٹے وہ پریشان ہو کر کمرے میں اِدھر اُدھر گھومتے رہے اور ریاض اِس تناﺅ کے ماحول میں مسلسل سوچ کر ایک پروپوزل بناتا رہا۔ مسٹر رضوانی پچیس میں آتے تھے اور پچاس میں بھی۔ فوری طورپر گولڈن ہینڈ شیک سکیم کی چالو سکیم اُس کے ذِہن میں آئی کہ یہی نسخہ ہر ادارے میں آزمایا جارہا تھا۔ وہ کوئی نئی تجویز نہ دے پانے کی وجہ سے ریاض پر بہت برہم ہوے۔ مگر اسے کچھ اور سوجھ ہی نہ رہا تھا۔ ریاض کو چپ پا کرکہنے لگے :
”چلو اسی کو موو کرتے ہیں مگر اس کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟“
پھر خود ہی اُن کا دھیان ایمپلائیز کے بی ایف کی صرف چلا گیا۔ ریاض نے ڈرتے ڈرتے کہا:
’ یہ تو سب ایمپلائیز کی امانت ہوتا ہے۔‘ ‘
کہنے لگے:
”اِس سے صرف برج فنانسنگ ہوگی ‘ بعد میں ڈونر ایجنسیز سے معاملات طے پا سکتے ہیںاور بنکوں سے اُدھار بھی تو لیا جا سکتا ہے۔“
اِدھر سے مطمئن ہو کر ریاض کے باس نے پچیس/پچاس والی متوقع سکیم کی زد میں آنے والے افراد کی ڈیٹیلز منگوائیں ۔ کل مین پاور کا نئے سرے سے یوں تخمینہ لگوایا کہ سرپلس سٹاف پہلے سے بھی دُگنا نظر آئے ۔ اِس طرح وہ یہ ثابت کرنے کی پوزیشن میں ہوگئے کہ پچیس/پچاس والی سکیم سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکتے تھے ۔ نوٹ کے آخر میں گولڈن ہینڈ شیک سکیم کو مناسب ثابت کرنے کے پرزور دلائل تھے۔ مسٹر رضوانی اوپر گئے اور خُوِشی خُوِشی پلٹے کہ ایم ڈی صاحب نے اِس سکیم کو بہت پسند کیا تھا ۔ اس کے باس کا کہنا تھا کہ صاحب تو اِس تجویز کو ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ بوجھ اُتارنے کی سبیل قرار دے رہے تھے۔ کل تک جو افرادی قوت اثاثہ تھی‘ وہ بوجھ بن گئی ۔ گولڈن ہینڈ شیک کی تجویز کو مفید قرار دیتے ہوے اپروول دے دی گئی۔ مسٹر رضوانی ایک بار پھر اَہم ہو گئے تھے کہ ساری سکیم کی امپلی منٹیشن انہیں سونپ دی گئی تھی۔
سکیم اگرچہ اختیاری تھی تاہم اِمپلی منٹیشن کے دورانئے میںریاض کے باس کی حتّی ا لوسع کوشش رہی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اِس سکیم کو آپٹ کرلیں ۔ جن کے خلاف جھوٹی سچی کمپلینٹس تھیں انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ جو کچھ مل رہا ہے لے لو‘ کہیں اُس سے بھی ہاتھ نہ دھو نا پڑیں۔ کچھ کے ذہنوں پر دور دراز تبادلوں کی تلوار لٹکادِی گئی ۔ کام سے لگن رَکھنے والے افراد ادارے کے جمود کی وجہ سے مایوس ہو گئے تھے۔ لہذا ہوا یوں کہ اندازے سے زیادہ لوگ چلے گئے۔ سکیم کام یابی سے اِمپلی منٹ ہوگئی توریاض کے باس کے پاﺅں زمین پر نہ ٹکتے تھے ۔ وہ خُوش کیوں نہ ہوتے کہ جو اَسائین منٹ اُنہیں دی گئی تھی ‘ وہ بڑی خوبی سے نبھ گئی تھی۔ اور یوں اُنہیں پھر سے ادارے میں اَہم رہے چلے جانے کا قوی یقین ہو چلا تھا۔
ریاض کے نوٹس میں تھا کہ جب مسٹر رضوانی پری میچور ریٹائرمنٹ سے بچنے کے لیے یہ سکیم بنوا رہے تھے تو دراصل یہ سب کچھ وہ اَپنے لیے کر رہے تھے ۔ اُنہوںنے واضح لفظوں میں کہا تھا:
” سکیم تھرو ہو گئی تو وہ بھی چلے جائیں گے۔“
مسٹر رضوانی سکیم آپٹ کر لیتے تو اُنہیں ٹھیک ٹھاک مالی فائدہ بھی ہوتا۔ مگر اس سکیم کو اِمپلی منٹ کرانے کے عرصے میں اُنہیں ایک مرتبہ پھر اہمیت مل گئی تو وہ گذشتہ کچھ عرصے کے لیے غیر اَہم ہو جانے والے اَذِیّت ناک دورانئے کو بھول گئے تھے۔ اِس سکیم کے لانچ ہونے پر ریاض نے بھی ادارے سے الگ ہونے میں عافیت جانی تھی کہ اس کی ماں کواس کی سخت ضرورت تھی ۔ اس کے خیال کے مطابق اسے اس سکیم کے تحت جو کچھ مل رہا تھا وہ اتنا کافی تھا کہ وہ گھر کی بیٹھک میں منیاری کی دُکان کھول سکتا تھا اور جب بھی اسے ماں بلاتی وہ اُس تک پہنچ جاتا۔ جب کہ اَب تو وہ اُس کے لیے نہ ہونے کے برابر تھا۔ ریاض کو مسٹر رضوانی نے روک لیا۔ اس نے آپشن پیپرزاپنے باس کے سامنے رکھے۔ باس نے اُسے سنے بغیرپیپرز چاک کرکے ٹوکری میں پھینک دِیے۔ اُن کا خیال تھا کہ ریاض جیسے لوگوں کو اِس اِدارے میں ضرور رہنا چاہیے۔
اُسے اپنے باس کے اِس طرزِ عمل پر حیرت ہوئی تھی کیوں کہ اب تک وہ بہت بدل چکے تھے۔ نہ صرف بدل چکے تھے ان کا دِل بھی بہت مضبوط ہو گیا تھا ۔ مضبوط نہیں کٹھور۔ وہ ریاض کو ایسے عرصے میں روک رہے تھے جس میں انہیں ایم ڈی صاحب کی خو شنودی کے حصول کے سوا سب کچھ بھول گیا تھا۔ ادارہ‘ ادارے کے لوگ‘ حتّٰی کہ اَپنی گذشتہ عبادت کی ادائیگی کی طرح سر انجام دی گئی خدمات اور اپنے ذاتی مفادات پر ادارے کو ترجیح دینے کا وتیرہ بھی …. سب کچھ …. سب ہی کچھ۔
جب وہ ریاض کے اَہم ہونے کی بات کر رہے تھے تو اگرچہ وہ خود کو بہت ایلی ویٹڈ محسوس کر رہا تھا مگر یقین سے نہیں کَہ سکتا تھا کہ اَب کوئی بھی کسی ادارے میں اَہم ہو سکتا تھا۔ اَب تو ادارے اَہم ہو گئے تھے ‘ لوگ اَہم نہیں رہے تھے۔ نہیں ‘یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا‘ ہائر ڈگناٹیز سے تعلق کے سبب اہمیت اختیار کر جانے والی ایس ایس سی بھی تو آدمیوں ہی کی تھی ۔ خود ایم ڈی صاحب بھی تو آدمی ہی تھے‘جو حکم دیتے یا پھر کوئی بھی حکم نہ دینے کا فیصلہ کرتے ‘پورا اِدارہ دیمک لگے درخت کی طرح کھوکھلا ہونے لگتا تھا۔
کیا یہ لوگ ادارے سے کہیں زیادہ اَہم نہیں ہو گئے تھے؟
جب ریاض کے باس کے بہ جائے خود اسے اوپر بلالیا گیا تواُسے تعجب ہوا تھا۔ تاہم تعجب کا مرحلہ جلد ہی گزر کر اُسے ایک نئی آزمائش میں ڈال چکا تھا۔ اُسے بتایا گیا کہ ادارے کی بیٹرمنٹ کے لیے ایک مشکل مگر ضروری فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی روشنی میںاُسے مسڑ رضوانی کو فوراً ریلیو کرنا تھا۔ ریاض کی مجبوری دیکھیے کہ جس طرح اسے مسٹر رضوانی نے روکا تھا ‘ وہ انہیں نہیں روک سکتا تھا۔ سیکنڈ فیز کے طور پر پچیس/پچاس والوں کے لیے کمپلسری سیپریشن سکیم متعارف ہو چکی تھی۔ اور اسے صاف صاف بتا دیا گیا تھا کہ کوئی بھی ہمیشہ کے لیے ناگزیر نہیں ہوتا۔
اور ہاں یہ بات تو رہے جاتی ہے کہ ریاض پینتالیس کے پیٹے میں تھا۔
اُس کی ماں سولہویں میں تھی کہ بیاہی گئی تھی۔ اَٹھارویں میںوہ پیدا ہوا ۔ ساڑھے تین برس کا ہونے تک وہ دو بہنوں کا بھائی ہو چکا تھا۔ اگلے ہی سال یہ بھائی بہنوں سمیت یتیم اوران کی ماں بیوہ ہو چکی تھی۔ ریاض نے ہو ش سنبھالا تو اُس نے ماں کو مشقت ہی کرتے پایا۔ جتنی ماں کی برداشت تھی ‘ریاض اُتنا پڑھ گیا۔ بڑی جوان ہو گئی تو اُس کی ہمت جواب دے گئی۔ ابھی نوکری نہ ملی تھی کہ بڑی کو رخصت کرنا پڑا۔ پھر ریاض کو نوکری بھی مل گئی مگر اس کی جمع پونجی اتنی نہ تھی کہ منّی کو بیاہ پاتا۔ ماں کڑھتی تھی کہ اُس کی عمر نکلی جا رہی تھی۔ اور جب منّی اس گھر سے مایوس ہو کر خود ہی نکل بھاگی تو ماںایک اور روگ لے کر مکمل طور پر بستر کی ہو رہی ۔ ڈاکٹروں اور لیبارٹریوں کے پھیرے لگے تو پتہ چلا کہ اُسے تو ملٹی پل مائیلوما ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا‘ اس کا علاج اس ایڈوانس سٹیج پر ممکن نہیں‘بس اِس کی اِذیت کم کی جا سکتی تھی۔
اوہ‘ میں ریاض کے ذِکر کو کیوں طول دِے بیٹھا کہ یہ کہانی تو ریاض کی ہے ہی نہیں۔ یہ کہانی ریاض جیسے غیر اَہم آدمی کی ہو ہی نہیں سکتی۔ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ شاید یہ اس کی ماں کی کہانی ہوگی۔ جب ریاض غیر ضروری آدمی ٹھہرا تو اس کی ماں کیسے اَہم ہو سکتی ہے ۔ رہی وہ زمین جو کبھی ماں جیسی ہوتی تھی اب پیسے اور آسائش کے عوض بکنے لگی ہے تو پھراس کہانی کواس کا کیسے کہا جا سکتا ہے؟ نہ اس کی ‘نہ اس جیسا ظرف رکھنے والے کسی ادارے کی ۔ میں نہیں جانتا یہ کہانی کس کی ہے؟ اور شاید مجھے اس الجھیڑے میں پڑنا ہی نہیں چاہےے۔ میں تو یہ بتاناچاہ رہا تھا کہ اگر ریاض مسٹر رضوانی کو ریلیو کردِیتا تو اُسے یقینی طور پر دِل کا دورہ پڑسکتا تھا۔ اور وہ مر بھی سکتا تھا۔ مر جاتا تو ممکن تھا کہ اُس کی شادی کی عمر کو پہنچی بیٹیاں…. منّی بھی تو….
آہ کیا اس کی ماں کی اَذیت مرے بغیر کم ہو سکتی تھی؟
ریاض کوسوچتے سوچتے آدھا گھنٹہ گزر گیا ۔ اگلے دَس پندرہ منٹ ایک فائل بنانے میں لگے۔ وہ اَپنی نشست سے اُٹھا تو مسٹر رضوانی اُٹھ کراوپر چلے گئے ۔ لگ بھگ تین گھنٹوں کے بعد وہ واپس پلٹے تو ایک لیگل لکونا کے باعث ساری سکیم ڈراپ ہو چکی تھی اور وہ اس لیگل لکونا کے آفٹر افیکٹس سے ادارے کو محفوظ رکھنے کی اسائین منٹ بھی لے چکے تھے جوریاض کی نااہلی کے سبب اس اکلوتے ڈاکو منٹ میں رہ گیا تھا جس پر ایم ڈی صاحب کے دَست خط تھے۔ اس ڈاکو منٹ کو عدالت میں لے جایا جاتا یا اِسے میڈیا ہی کے حوالے کر دِیا جاتا تو ایم ڈی صاحب بلاوجہ کئی ماہ تک رُسوا ہو سکتے تھے ۔
ایم ڈی صاحب کو یقین تھا کہ دَست خط اُن کے نہ تھے مگر ہو بہو اُن ہی کے لگتے تھے ۔ وہ شک میں پڑ گئے۔ اُنہیںیاد نہیں آتا تھا کہ کبھی اُنہوںنے اِس ڈاکو منٹ پر دَست خط کیے تھے۔ مگر حیران کُن حد تک اُنہی کے لگتے تھے۔ اور خدشہ تھا کہ وہ آسانی سے ثابت نہیں کر سکےں گے کہ یہ دست خط انہوں نے نہیں کئے تھے۔ پھر فائل موومنٹ کا ریکارڈ بھی ایسا تھا کہ اس نے انکار کے سارے راستے مسدود کر دِیے تھے۔ اِسی بند راستے کی نشاندہی کرکے مسڑرضوانی نے اپنے بچاﺅ کا راستہ نکال لیا تھا۔ خود کو بھی اور پچیس/پچاس والوں کو بھی۔ تاہم ایم ڈی صاحب کا وثوق تھا کہ مسٹر رضوانی نے ادارے سے وفاداری کا ثبوت دیا تھا۔ یوں وہ ادارے کے لیے پھر ناگزیر ہو گئے تھے۔ اور فوراً بعد اَہم ہو جا نے والے ریاض کے باس نے اس کی نا اہلی پراسے ٹرمینیٹ کر دیا۔ اَپنی ٹرمینیشن کے بعدریاض باس کو ملنے گیا تو وہ سارا وقت اس سے بھیگی نظریں چھپاتے رہے۔ وقت تھا بھی کتنا؟ وہ بہ مشکل ایک آدھ منٹ ہی تو وہاں کھڑا رہ پایا تھا۔
کئی دِن اُس پرسکتہ سا طاری رہا۔ وُہ کیا کر سکتا تھا؟اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ شایدوہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ کیوں کہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ جو جمع پونجی تھی‘ ماں کی مہنگی دواﺅں کی نذر ہو گئی تھی ۔ حتّٰی کہ دوائیں بھی ختم ہو گئیں اور وہ مرنے کی بہ جائے سارا سارادِن اور ساری ساری رات چیخیں مارنے لگی۔
آہ‘ مرے بغیر کیا اس کی ماں کی اَذِیّت کم ہو سکتی تھی؟
وہ سوچتا تھا ۔ اور ہر بار ایک نتیجے پر پہنچتا تھا ۔ شاید نہیں ۔ بل کہ یقینانہیں۔ مگر حیلہ تو کیا جا سکتا تھا ۔
بس یہ ایک حیلہ ہی تھا کہ وہ مسٹر رضوانی کی طرف نکل کھڑا ہوا۔ اُسے اتنی مدد چاہیے تھی کہ اَذِیّت کم کرنے والی کچھ دوائیں لے آتا۔ وہ رات اُن کے گھر گیا تھا مگر کچھ مانگے بغیر ہی پلٹ آیا کہ ان کا گھر تو برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔
اس نے اَپنی ماں کو یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ رات کہاں گیا تھا۔ اور ظاہر ہے یہ بتانے کا بھی اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا کہ رات اس کے سابق باس کی دونوں بیٹیوں کی ڈولی دھوم دَھام سے اُٹھی تھی۔ یہ بات وہ ماں کو بتاتا تو اُسے تکلیف ہوتی ۔ تکلیف میں تو وہ پہلے سے تھی مگر اُس کی تکلیف…. بس اُس نے نہیں بتایا۔ ایسا اُس نے شاید قصدا ً نہیں کیا تھا ۔ وہ تو مسٹر رضوانی کی دو بیٹیوں کی باراتیں دِیکھ کر اَپنی ماں کی اَذِیّت بھول گیا تھا ۔ اگرچہ وہ باہر گلی ہی سے پلٹ آیا تھا مگر اس کے اَندر قمقموں کی روشنیوں کے سارے رنگ بھر گئے تھے۔
اور اب جب کہ اُس کی ماں درد سے کچھ زیادہ ہی چیخنے لگی ہے تو نہ جانے کیوں اسے یوں لگتا ہے جیسے کوئی آتش بازی کے پٹا خے اور اَنار چھوڑ رہا ہو۔ ماں کی ہرچیخ پرایک اور قمقمہ روشن ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ صاف صاف دیکھنے لگا ہے کہ باہر دروازے پر ایک بارات پہنچ چکی ہے۔ اس کی ماں موت کے شکنجے میں کراہتی ہے۔ وہ ماں کو دیکھتا ہے۔ دیکھتا رہتا ہے۔ پہلے وہ اُس کی اَذِیّت پر کڑھتا تھامگر اَب اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ وہ خالی الذہن ہو جاتاہے۔ کوئی ادارہ‘ کوئی ماں جیسی زمین‘ بھاگ جانے والی منّی ‘ چیختی چلاتی ماں۔ کچھ بھی تو اس کے ذہن میںنہیں رہا۔ وہ سب چیخیں سن سکتا ہے۔ سن رہا ہے۔ مگر اس کے بدن کے اندر عین دِل کے بیچ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس کی ماں کی آواز بدل رہی ہے۔ یوں‘ جیسے قوی ُالجثہ موت اُس کے نحیف بدن پرچڑھ بیٹھی ہو ۔ مگروہ بڑی سہولت سے اَپنا منھ پھیر لیتا ہے کہ اَب اُس کا وجود اس سارے ماحول سے ہم آہنگ ہو گیا ہے اوراُسے موت کے بوجھ تلے ماں کی چٹختی ہڈیوں کی آوازیں چلتی سانسوں کی سی لگنے لگی ہیں۔

(مرگ زار)


 کچھ اس افسانے کے بارے میں 

حمید شاہد نے اس کام کو فرض کفایہ سمجھ کر ادا کیا ہے۔

نجیبہ عارف
نجیبہ عارف

”ادارہ اور آدمی“ ایک مرتے ہوئے ادارے، اور کچلی ہوئی کمزور قوموں کی آخری رسومات کی تقریب کا قصہ ہے۔ اقتصادیات کے جال میں پھڑکتے ہوئے ناصبور کبوتروں کی کہانی۔ پتلیوں کی مانند کہیں اور سے ہلائی جانے والی ڈوروں میں بندھے انسانوں کے رقصِ غلامی کی ایک جھلک۔ وہ دن گئے جب غاصب لاو لشکر لے کر ، تیر وتفنگ سے لیس ہو کر، کمزور ملکوں اور قوموں پر چڑھائی کرتے تھے۔ اب تو وہ عالمی تجارتی کمپنیوں اور آزاد تجارت کے ہتھیار لے کر ایکسپرٹ اور کنسلٹنٹ بن کر آتے ہیں اور اداروں کو اندر سے کھا جاتے ہیں۔ قومیں اپنے قدموں پر کھڑی کھڑی ، دیمک زدہ عصا کی طرح اچانک زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔ وسائل اور اختیارات تک سود میں ادا کرنے پڑ تے ہیں۔ جیسے کوئی گھنا پیڑ گرتا ہے تو کتنی ہی چیونٹیاں، گلہریاں اور چڑیاں بے گھر ہوجاتی ہیں، اسی طرح ایک ادارے کی تباہی سے کتنے گھروں میں بھوک اور مایوسی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔کتنے آدمیوں کی زندگیاں رہن رکھی جاتی ہیں۔ ان باتوں کا حساب رکھنے کی کس کو فرصت ہے ۔ حمید شاہد نے اس کام کو فرض کفایہ سمجھ کر ادا کیا ہے۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف



محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

32 comments

  1. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » کفن کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » منجھلی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *