M. Hameed Shahid
Home / افسانے / آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہد

آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہد

authoon ganth kumait

یوں نہیں ہے کہ میری بیوی میرا دِھیان نہیں رَکھتی بل کہ واقعہ تو یہ ہے کہ اس کم بخت کا دِھیان میری ہی طرف رہتا ہے ۔ اَجی یہ کم بخت جو میری جیبھ سے پھسل پڑاہے تواس سے یہ تخمینے مت لگا بیٹھنا کہ خدانخواستہ ہم دونوں میں محبت نہیں ہے۔ میں اس خُوشبو بھرے جذبے سے دست کش ہو سکتا ہوں ‘ نہ میری بیوی‘ کہ یہ سالی محبت ہی تو ہے جس کی آڑ میں کئی جھلاہٹوںکو جھاڑنے کا موقع مل جاتا ہے اور زِندگی گواراہو جاتی ہے ۔
یہ جو میں نے محبت کو سالی کہا ہے تو خاطر جمع رکھو کہ سالی کی محبت میں نہیں کہا بل کہ سالی کی بہن کی محبت میں کہا ہے‘ جو اِتفاق سے میری جورو بھی ہے۔ یہ غریب کی جورو کی طرح نہیں کہ ہر ایک کی بھابی ہو جائے‘ ساری محبت مجھ پہ لٹاتی ہے اور مجھے دِھیان میں رَکھتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ سارے‘ جو شادی سے پہلے اس کے اَپنے تھے‘ فاصلوں پر بیٹھے ہیں اور ہم دونوں کے بیچ کوئی فصل نہیں ہے…. مگرمجھ پر یہ افتاد آ پڑی ہے کہ میں اس کے بہت زِیادہ دِھیان سے بہت زِیادہ اُلجھنے لگا ہوں۔
میں کئی کا م اَپنی مرضی اور اَپنی سہولت سے کرناچاہتا ہوں‘ مزے لے لے کر‘ اور ہونے والے کام کے ایک ایک مرحلے سے لطف اُٹھا کر۔ وہ ہر بارمیری اِس عادت کو سُست روی سے تعبیر کرتے ہوے طعنہ زَن ہو جاتی ہے کہ میں کچھوا ہو گیا ہوں۔ اِسی طرح میں کئی ایسے امور کو‘ جنہیں وہ اَہم سمجھتی ہے‘ جیسے تیسے نمٹا کر ایک طرف ہو جانا چاہتا ہوں۔ وہ اڑنگا لگا کر مجھے عین بیچ میںگرالیتی ہے؛کہتی ہے :
”یہ چھلانگیں لگا کر کہاںنکلے جاتے ہیں آپ؟“
ایسے میں ‘میں سمجھتا ہوں کہ میرا اُلجھنا بنتا ہے ۔
مجھ سے اُلجھتے رہنے میں اُسے لطف آتا ہے ۔ کبھی کبھی تو اس اُلجھا اُلجھی میں وہ ایسے لذّت لیتے محسوس ہوتی ہے جیسے میں اَپنی چھاتی کے بالوں میں اُس کی اُنگلیاں اُلجھنے پر لیا کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ یہ سب کچھ خلوص نیت اور میری محبت میں کر رہی ہوتی ہے۔ محبت میں جو کچھ وہ کر سکتی ہے کرتی ہے ….او….ر….ر …. میں ٹھس آدمی نہیں ہوں‘ مجھ سے بھی جو بن پڑتاہے کرتا ہوں مگر یوں ہے کہ میں اِظہار نہیں کرتا ۔ جب اُس سے محبت کرتا ہوں ‘ تو اُسے خود جان لینا چاہیے کہ محبت کرتا ہوں۔ کہنا تو جتانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ بدلے میں ویسے ہی جذبوں کے مطالبے کے ساتھ۔ کتنا چھچھورا پن ہے یہ ؟ مگروہ اِس معاملے میںحد درجہ چھچھوری ہے۔ چھچھوری بھی اور لالچی بھی۔ جتنا کہتی اور کرتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ کا مطالبہ سامنے رکھ دیتی ہے۔ وہ مجھے محبت کے سلسلے میں گُھناکہتی ہے ۔ میں نہیں جانتا اس سے اُس کی مراد کیا ہوتی ہے تاہم جب وہ ایسا کہتی ہے تو میں آدھا مطمئن اور آدھا مضطرب ہو جاتا ہوں ۔ یہ جو آدھا آدھا تقسیم ہوناہے ‘یہ مجھے حد درجہ لطف اَندوز کرتا ہے ۔
مگر…. اور یہ مگر میں نے اِس لیے کہا ہے کہ اَب میں اِس مزے کے غارت ہونے کی بات دہرانے لگا ہوں۔ میں نے کہا نا‘ یہ سارا مزہ تب غارت ہو تاہے جب اُس کا دِھیان مسلسل میری ہی طرف ر ہنے لگتا ہے۔ اور سنو‘ میں ایسے میں مشتعل ہو جایا کرتا ہوں ۔ مشتعل بھی اور اَندر سے باغی بھی ۔ اس کھدر وجود سے باغی جو وہ اَپنے نہ ٹوٹنے والے دِھیان دَھاگے سے بُنتی رہتی ہے۔
بس یوں جان لو کہ میںگھر میں وہ نہیں ہوں ‘جو باہر ہوتا ہوں ۔ گھر میں بس وہ ہی وہ ہوتی ہے ۔ یا اس کی محبت میں ڈھلا ڈھلایا میر اوہ وجود جس سے میں بغاوت کر چکا ہوں۔
”آج آپ بتائیں نا کیا پکا ﺅں۔“
”زین‘ نومی کیا کرتے ہو ڈیڈی کو سب آوازیں جا رہی ہیں ۔“
”اے بہن کیسے وقت آ گئی ہو ‘ وہ گھر پر ہیں ‘ ابھی اُن کے لیے مجھے شاہی ٹکڑے بنانے ہیں۔“
”واش روم اچھی طرح صاف کرنا نگوڑی ‘زین کے ڈیڈی صبح شیو کرتے ہوے بُو سے بچنے کو ناک سکیڑ رہے تھے۔“
”اِدھر کچن ہی میں آ جائیں نا‘ اُدھر اکیلے میں پڑے کیا چھت کو گُھورے جاتے ہیں۔“
”بہن میں یہی سوٹ سلواﺅں گی ‘زین کے ڈیڈی کو یہ رنگ توبہت پسند ہے۔“
”اوہ آپ اِدھر کہاں گھسے آتے ہیں‘ پیاز کاٹ رہی ہوں ‘آنکھوں میں چبھن ہوگی۔“
”کیا کہا قورمہ بنا لوں ‘ …. بنا تو لوں…. مگر آپ کھانے کو بیٹھتے ہیں توہاتھ کھینچتے ہی نہیں…. پہلے ہی ڈِھڈی نکل آئی ہے “
”اے ہے‘ دودھ لاتے ہو کہ نل کے نیچے سے ڈبا اُچک لاتے ہو۔ زین کے ڈیڈی کو اِس کی چائے ذرا نہیں بھاتی۔“
غرض بات بات میں وہ مجھے ڈال لیتی ہے کہیں چٹکی میں لے کر…. یوں ‘جیسے آٹے میں نمک ڈالتے ہیں ‘کہیں قلاوہ بھر کر….کچھ اِس وَالہانہ پن سے کہ اُسے کوئی اور نظر ہی نہیں آتا ۔ نہ بچوں کے اَندر ‘ نہ اُس خاتون میں جو اُسے ملنے آئی ہوتی ہے۔ کام کاج میں ہاتھ بٹانے والی‘ سائیکل کے کیرئیر پر میلے کپڑوں کی گٹھڑی لے جانے والا دھوبی‘گیٹ کھٹکھٹا کر کچرا وصول کرنے والا ‘ دُودھ والا‘ اخبار والا‘ باہر سے گھنٹیاں بجا بجا کر بھیک طلب کرنے والا‘ گلی گلی پھر کر ” سپارے‘ قاعدے ‘ نور نامے‘ جنتریاں“ کی آوازیں لگانے والا‘ گھرکے اَندرگُھس آنے والی نوجوان سیلزگرل جو اِمپورٹیڈ پیڈز‘ اَنڈر گارمنٹس‘ میک اَپ کا سامان اور نہ جانے کیا کچھ بیچتی پِھرتی ہے….سب کے اَندر سے میں نکل آتا ہوں ۔
”یہ اخبار اُنہیں پسند نہیں بدل دو‘ وہ کہتے ہیں کوئی خبر ہی نہیں ہوتی اس میں۔“
”ذرا دیکھنا بھائی‘ کچرے میں ان کا کوئی ضروری کاغذ نہ چلا جائے۔“
”ذرا دَم بھی لیا کرو با با زین کے ڈیڈی آرام کررہے ہیں اور تم گھنٹی پر گھنٹی بجائے جاتے ہو۔“
”میں یہ جنتریاں لے کر کیا کروں گی ان کی اَپنی کتابیں سنبھالے نہیں سنبھلتیں۔“
”رہنے دے یہ ساوی گچار ‘اُنہیں تو بلیک اَنڈر گارمنٹس ہی اَچھے لگتے ہیں۔“
”اے ہے اس کی تو ہُک ہی نہیں کھلتی ‘وُہ اِسی میں اُلجھے رہیں گے۔“
باتیں کرتے کرتے وہ ہنستی ہے‘ کبھی تو بے اِرادہ ‘ جیسے بند ٹوٹنے پر سارا پانی ایک ہی ہلے میں بہہ نکلے….اور کبھی طے کر کے‘ہنسی کو روک روک کر چھوڑتے ہوے ‘یوں جیسے پائپ ٹونٹی پر چڑھا ہو اور سرے پر انگوٹھا دَھرا ہو۔ جب چاہا دَبا لیا ‘ جب چاہا چُس چُس کرکے گرتے پانی کی تیز دَھاربنالی۔ اُس کی ہنسی میں ایک خمار ہے…. اور ایک چٹکی بھی۔ یہ خمار وہ خود رَکھ لیتی ہے اور چٹکی میری سمت اُچھال دیتی ہے ۔ میں اسٹڈی میں ہوں یا بیڈ روم میں ‘ لاونج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہوں یا ٹیرس پر دُھوپ سینکوں‘مجھے اُس کی آوازیں مسلسل آتی رہتی ہیں اور پتہ چلتا رہتا ہے کہ کب اُس نے آنکھیں شرارت سے نچائی ہیں ‘ کب سرکو میری سمت جنبش دِی ہے اور کب فقط ایک جملہ اَدا کرتے ہوے پورے بدن کویوں جھول جانے دیا گیاہے جیسے رنگ دی ہوئی چنری کو جھلارادیتے ہیں ۔
اتوار چوں کہ چھٹی کا روز ہوتا ہے لہذا میں دیر سے اٹھتا ہوں۔
میں بھی اور وہ بھی۔
بل کہ سچ تو یہ ہے کہ وہ جب تک لیٹنا چاہتی ہے‘ مجھے اُٹھنے ہی نہیں دیتی ۔ میں جانتا ہوں کہ جب وہ سچ مچ سوئی ہوتی ہے تو اس کے سانسوں کے آہنگ اور بدن کی خُوشبو میں عجب سا اَلھڑپنا اُتر آتا ہے۔ اور جب وہ جاگنے کے بعد بھی مکر مار کر پڑی رہتی ہے‘ خود کو سوتا ظاہر کرنے کے لیے‘ تو سانسیں ہموار ہو جاتی ہیں اورمہک میں رخنے پڑنے لگتے ہیں ۔
تووہ اتوار کی صبح تھی۔ اُس کی سانسیں ہموار ہوے آدھ گھنٹے سے بھی زیادہ کا وقت گزر چکا تھا۔
اور وہ لمحہ آگیا تھا کہ جب میں نے سوچا تھا کہ سارا دن میں وہ بن کر نہ رہوں گا جواس نے مجھے بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کہیں نکل بھاگوں گا۔ کہیں بھی ۔ مفرور لمحوں کا ساتھ دینے کے لیے۔ جی ‘یہ میں نے پہلے سے سوچ رکھا تھا۔
اس کا بازو میرے اُوپر تھا ‘ پھول سا بازو۔ مگر جب میںنے فیصلہ کرلیا تواس کابازو‘ وزن میںپہاڑ سا لگ رہا تھا اور اس کے تلے میری چھاتی دبنے لگی تھی۔
میں نے سوچا اگر میں تھوڑا سا دائیں کو کھسکتا ہوں اور دائیں ہی کو پہلو بدلتا ہوں تو وہ اپنے بازو سمیت پوری کی پوری وہیں پڑی رہ جائے گی اور میں بہ سہولت نکل جاﺅں گا۔ میں نے کھسکنے سے پہلے اُس کے چہرے کو دیکھا‘ ہونٹوں پر تھوڑا سا دباﺅ تھا۔ ننھّی مُنّی ناک کے نتھنوں کے دونوںطرف گال قدرے پھول رہے تھے۔ بند آنکھوںکے تلے خفیف سے لرزے کا شائبہ سا ہوتا تھا۔ نظریں چہرے سے پھسلتی نیچی آئیں۔ شفاف گردن میں دونوں طرف کی رَگوں میں کچھ کھچاﺅ تھا۔ نرخرہ سوتے وقت جہاںپڑا ہوناچا ہیے‘ وہاں نہیں تھا‘ ذرا اوپر کو تیر رہا تھا ۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ سچ مچ سو نہیں رہی تھی‘ سونے کا ڈرامہ کر رہی تھی۔ میں مزید محتاط ہو گیا اورسارے بدن کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا ۔ مگر یہ اِحتیاط اُلٹی پڑی کہ ایک تناﺅ سا خلیے خلیے میں تیر گیا تھا۔ اس کا بدن ایسا کایاں ہے کہ اِدھر کی معمولی سی لرزش کو بھی فورا گرفت میں لے لیتا ہے ۔ مےں ایسا نہیں چاہتاتھا مگر ایسا ہو گیا تھا تاہم مجھے ہمت تو کرنا ہی تھی ۔ ہمت کی بھی ۔ مگر اس سے پہلے کہ کھسک کر پہلو بدلتا اور اٹھ جاتا‘ اس کے بازو میں تناﺅ آگیا ۔ وزن بڑھتا گیا ۔ اتنا زیادہ کہ میری چھاتی چٹخ گئی ۔
لو‘مزے کی بات سنو….اِس چٹخی ہوئی چھاتی کو سہلانے میں اُس لڑکی کو بہت مزا آتا ہے جس سے میں محبت نہیں کرسکتا۔ تم ہی کہو بھلاایک شوہر ایک محبت کرنے والی بیوی کے ہوتے ہوے ایک ایسی لڑکی سے کیسے محبت کر سکتا ہے جس کا بازوکسی بھی اَچھی لگنے والی لڑکی کے لیے بہ سہولت جھٹکا جا سکتا ہو۔

(یہ کہانی پہلے پنجابی میں لکھی گئی تھی)

to read in English

The Saddled Horse

authoon


کچھ اس افسانے کے باب میں

توصیف تبسم
توصیف تبسم

 آٹھوں جوڑوں سے مضبوط نسلی گھوڑے کی طرح صحت مند مگر بے وفا شوہر کی کہانی

افسانہ ”آٹھوں گانٹھ کمیت“ میں ایک ایسے شوہر کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اپنی بیوی کی بے پناہ محبت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ وہ آٹھوں جوڑوں سے مضبوط نسلی گھوڑے کی طرح صحت مند ہے اور اندر ہی اندر اس کا جی بے وفائی کرنے کو چاہتاہے ۔ یہ افسانہ مرد کے دل میں چھپی خباثت کی کہانی ہے مگر سارے ماحول پر عورت کی محبت چھائی ہوئی ہے۔ یہ مختلف ذائقے کی کہانی ہے جو انسانی رشتوں میں شکست و ریخت کو ایک نئے رخ ‘ نئے پہلو‘ نئے واقعاتی و حسی ماجرائیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ اس کہانی میں بچی کھچی، ٹوٹی پھوٹی ، ادھ پچدّی زندگی کو تھامنے کے لیے ہاتھ پاو ¿ں مارنے کے منظر ہیں۔ بیوی کے گردگھومتی اس کہانی میں کشش اور گریز کی ساری قوتیں باہم دست وگریباں دکھائی دیتی ہیں۔ کھلی ہوئی آنکھیںجب سامنے کے روح فرسا مناظر سے تھک جائیں تو پل بھر کو پلکیں موند لینے سے راحت ملتی

ہے اور دوبارہ دیکھنے کی اہلیت تازہ دم ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر توصیف تبسم


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *