M. Hameed Shahid
Home / افسانے / آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہد

آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہد

aadmi ka bikhrao

سی سی یو میں کامران سرور کو کئی گھنٹے قبل لایا گیا تھا مگر اَبھی تک اُس کے دِل کی اُکھڑی ہوئی دھڑکنیں واپس اَپنے معمول پر بیٹھ نہ پائی تھیں۔ وہ اَپنے حواس میں نہیں تھا تاہم ڈاکٹر قدرے مطمئن ہو کر یا پھر اُکتا کر دوسرے مریضوں کی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر کے ایک طرف ہو جانے کے بعدعالیہ نے اُس کے نتھنوں پر ایک جنبش کو سرسراتے پایا۔ صدمے کی وہ دبیز تہ جو اس کے اَندر دھول کی طرح جم چکی تھی ‘اسے جھاڑنے کی خواہش نے اُس کے دِل میں انگڑائی لی تو وہ فوری صدمے کے اثر سے نکل آئی ۔ ایک ہی لمحے میں وہ اِس قابل ہو گئی تھی کہ ذہنی تناﺅ کو جھٹک کر پہلے تو پھیپھڑوں میں محبوس ساری ہوا کو ایک ہی ہلے میں کھینچ کر باہر پھینک دے اور پھر لمبا سانس لے کر نئی ہوا کو اس کی جگہ لینے بھیج دے ۔ سانس کے اس اَدل بدل سے اعصابی تناﺅ ٹوٹ گیا اورتعطل میں پڑا کسل اس پر چڑھ دوڑاتو اُس کے اندر جھپکی لے لےنے کی خوہش جاگ اُٹھی۔ وقفے وقفے سے اُس کی آنکھیں مندنے لگیں اور وہ بینچ پر بیٹھے بیٹھے ایک طرف کو لڑھکنے لگی۔ اسی کیفیت میں عین اس وقت کہ جب اس کا گرنا یقینی ہو رہا ہوتا وہ جھٹکا کھا کر سنبھلتی اورجم کر بیٹھ جاتی تھی۔ جب وہ کئی بار جھٹکے کھا چکی تو اُس نے اس کے بیڈ کے قریب کھڑے ہو کر اپنے بازﺅوں کو فضا میں اُچھالا ‘ ٹانگوں کو تان کر سیدھا کیا ‘ کمان کی طرح جھول کھا چکی کمر کے بل نکالے اور ایک بار پھر ایک لمبی مگر بے روک سانس کو بھر لینے کی پوری گنجائش پیدا کرنے کے لیے اس نے کونوں کھدروں میں اُلجھی ہوئی سانسوں کو بھی کھینچ کھانچ کر باہر نکال پھینکا ۔
عین اس لمحہ کہ جب دوسری بار اُس کے پھیپھڑے سانسوں کی تازگی سے آباد ہو رہے تھے‘ ایک لطیف گداز اس کے سینے سے پورے منظر نامے میں بھر گیا….یوں ‘کہ مرتے ہوے مریضوں نے بھی اس لمحے میں مرنا معطل کر دیا تھا ۔ عالیہ ابھی لمبی سانس کی تانت کا لطف پوری طرح نہ لے پائی تھی کہ اسے اپنے بدن کو چھیدتی بہت ساری نگاہوں کی جانب متوجہ ہونا پڑا۔ اُس کے جسم کا گداز کس قدر حشر اُٹھا سکتا تھا ‘اس کا وہ اندازہ لگا سکتی تھی لہٰذا جھینپ کر اُس نے ایک جھٹکے سے بازو ¿ وں کونیچے گرادیا۔ کھسیانی ہو کر چور نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا ‘ چھاتیوں پرچڑھ آئی قمیض کی تہ کو کھینچ کر سیدھا کیا‘ ان پر آنچل کو جمانے کی کوشش میں انھیں مزید نمایاں کر دیا اور پوری کوشش کرکے اپنے آپ کو اِدھر اُدھر کے دھیان سے الگ کیا۔ اِحساس اور توجہ کی حاضری کے ساتھ کا مران کو دِیکھنے کے قابل ہوئی تو اندر کی جھینپ سے چھٹکارا پاچکی تھی لہٰذاکامران کے پاﺅں کی جانب بیڈ پر ہی بیٹھ گئی ۔
اگرچہ ابھی تک کامران اِسی طرح بے سدھ پڑا ہوا تھا تاہم زِندگی کے ننھے منے آثار اس کے نتھنوں سے اُس کے پپوٹوں پر منتقل ہونا شروع ہو گئے تھے ۔ خو د کامران کو اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کتنی دیرگہری تاریکی میں ڈوبا رہا تھا۔ تاہم اب اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ ایک نامعلوم سی سرسراہٹ ‘دبیزتاریکی کے ٹھہرے ہوے پانیوں کو چھو کر گزررہی تھی‘ یوں کہ اس گاڑھے اندھیرے میں جا بہ جا لہریں اُٹھنے لگی تھیں۔ یہ لہریں‘ بیربہوٹی کی طرح مکر مار کر بے سدھ پڑے اس کے دل میں ایک اٹھان سی بھر رہی تھےں ۔ چھاتی کی گہری کھائی میں لڑھکا ہوا اس کا دِل اب واپس اپنے ٹھکانے پر آنے کے جتن کر رہا تھا۔ لگ بھگ یہی وہ دورانیہ بنتا ہے جب کامران کے پورے وجود پر زِندگی سے اس کی محبت ایک تھرتھری کی صورت تیر گئی ۔ اس حیات اَفزا تھرتھری کو اُس کے قدموں کی سمت بیٹھی عالیہ کے نا زک دِل نے بھی بھانپ لیا تھا۔ اس نے بدلے ہوے اس شخص سے اُنس محسوس کیا اور اِطمینان کی ایک نظر اُس کے بدن پر ڈالی ‘ ٹانگوں کو سکیڑ کر اوپر کیا اور وہیں قدموں میں گچھ مچھی ہو کر آنکھیں بند کر لیں ۔
ٍ
اُس کے دماغ میں یوں گونج دار شور پیدا ہورہا تھا جیسے کوئی بڑااِنجن گڑ گڑا کر چل رہا ہو۔ اس گڑ گڑاہٹ اور شور کو اس نے ایک بہت بڑے خالی کنٹینر سے جوڑ لیا جسے وہ خود کھلی طویل اور خالی سڑک کے بیچوں بیچ مسلسل دوڑا رہا تھا۔ اس نے اپنے پہلو میں دیکھا سیٹ خالی تھی ۔ پلٹ کر اَپنی سیٹ کے پیچھے جھانکا وہاںایک دیوار اُگ آئی تھی۔ اسی دیوار کے چورس روزن سے کنٹینر پر لدااُچھلتا کودتا خالی پن اُس کے چہرے پر تیز بوچھاڑ کی طرح پڑنے لگا۔ اس نے پیچھے دیکھنا موقوف کر دیا۔ جوں ہی اُس کی بل کھاتی گردن سیدھی ہوئی اور وہ سامنے دیکھنے کے لائق ہوا تواس کے حواس جاتے رہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے کے اِس قلیل دورانیے میں سڑک نعرے لگاتے اور چیختے چلاتے لوگوں سے بھر چکی تھی اور اس نے نہ جانے کتنوں کو روندڈالا تھا۔ سڑک کا کھلاپن سمٹ گیا تھا۔ کامران نے بوکھلاکر اپنا پورا زور بریک پر ڈال دیا۔ پاﺅں بریک پیڈل پر جھول کر رہ گیا تھا کہ بریک کام ہی نہیں کر رہے تھے۔ لوگ مسلسل کنٹینر کے نیچے یوں گھسے چلے آتے تھے جیسے انھیں پیچھے سے دھکیلا جا رہا تھا۔ اُس نے بے بسی سے ایک بار پھر چورس شگاف میں دیکھا؛ وہاں سڑک کے درمیان دور تک کچلی ہوئی لاشیں بچھی ہوئی تھیں۔ اُس سے یہ منظر دیکھا نہ گیا گردن سیدھی کرلی۔ سامنے کی سڑک ایک دم خالی ہو گئی تھی ۔ وہاں کچھ بھی نہ تھا‘ لوگ نہ نعرے۔ اگر وہاں کچھ تھا تو ایک خالی پن تھا جو اس کے بدن کے عین وسط میں گونج رہا تھا۔ کامران کو اپنا دِل ایک بار پھر ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا دینے کی کوشش کی تو اس کا وجود جھٹکے کھانے لگا۔ عالیہ نے تو جیسے اس کی بگڑتی حالت کو خواب میں دیکھ لیا تھا ‘ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھی ‘ ایک نظر کامران پر ڈالی جس کی سانسیں اُکھڑ ی ہوئی تھیں اور بدحواس ہو کر ڈاکڑ کو بلانے جانا ہی چاہتی تھی کہ وہ مانیٹر پر اُچھلتی لکیر دیکھ کر خود ہی چلا آیا ۔ بہت دیر تک کامران ڈاکٹر اور نرسوں کے گھیرے میں رہا ۔ عالیہ کا دِل بھی ڈوبنے لگا تھا۔ ڈاکٹر کی نگاہ عالیہ کے زرد ہوتے چہرے پر پڑی تو اُس نے اسے باہر بھجوانے کی ہدایت کی ۔
کامران کی حالت کو اِس بار سنبھلنے میں بھی کچھ زیادہ وقت لگ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے جاتے جاتے خود سی سی یو سے باہر کاری ڈور میں جھانکا اور عالیہ کو حوصلہ دیا کہ سب کچھ ٹھیک تھااور یہ بھی کہ وہ چاہے تو اندر آسکتی تھی ۔ وہ اندر آئی تو کامران کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی نہیں تھیں تاہم اس نے دھند میں بھی عالیہ کی موجودگی کا اندازہ لگالیا تھا۔ اَپنی جواں سال بیوی کی طرف دھیان کا یوں جانا اسے اچھا لگا تھا۔
عالیہ کی طرف دِھیان جاتے ہی وہ اَپنی سوچ کو ایک ربط میں لانے پر قادر بھی ہو گیا۔ وہ صاف صاف محسوس کر رہا تھا کہ یہ گھر کا بستر نہ تھا‘ وہ ہسپتال میں پڑا تھا۔ کندھوں کا عقبی علاقہ ‘ ریڑھ کی ہڈی کا نچلا حصہ ‘ چوتڑوں کی گولائیاں اور پنڈلیاں وہیں پڑے پڑے سن ہو گئی تھیں۔ وقفے وقفے سے ایک نئے اور الگ سے میٹھے سے درد کی لہر اُٹھتی جو بدن کے ایک سرے سے دوسرے سرے میں دوڑ جاتی۔ اُس نے پہلو بدلنا چاہا مگر جسم نے اس کا کہنا ماننے سے اِنکار کر دیا۔
بدن نے انکار نہیں کیا تھا‘وہ تو کوئی حکم ماننے کی سکت ہی نہیں رَکھتا تھا ۔ ایسے میں عالیہ کے دِھیان نے گرفت سے نکل جانا چاہا۔ اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ وہ ایک بار پھر اپنے وجود کو یوں دِیکھ رہا تھا جیسا کہ وہ محض ایک لاش تھا۔
بہت ساری لاشوں کے نیچے دبی ہوئی ایک لا ش ۔
اس کی سوچ بہک رہی تھی لہٰذا اُس نے دِھیان کے بکھراﺅ کو سمیٹنے کے لیے اپنے دِن بھر کی مصروفیات کو ایک ترتیب میں لانا چاہا ۔ صبح وہ اپنے معمول کے مطابق جاگا تھا ۔ ٹیکسلا یونی ورسٹی میں ایک تقریب تھی ‘وہ وہاں گیا تھا ۔ وہاں بھی سب کچھ معمول کے مطابق جارہا تھا کہ ساتھ بیٹھے شخص کو اَپنے سیل فون پر ایک ایس ایم ایس موصول ہوا ۔ اس نے اِن باکس میں جاکر اس میسج کو پڑھا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔ کامران کو تشویش ہوئی عادتاً اس سے خیریت دریافت کی تو اس نے میسج سامنے کر دیا۔ جبراًاَپنی ذمہ داریوں سے الگ ہونے والے عدالتی نظام کے چیف کے کراچی پہنچنے پر گولی چلنے سے کئی لوگ مارے گئے تھے ۔ یہ پیغام پڑھنے کے بعد وہ وہاں نہیں ٹھہر سکا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ فوراً گھر پہنچ جائے مگر واپسی پر حکومتی ریلی میں پھنس گیا۔ وہ آگے نکلنا چاہتا تھا مگر ریلی کے آگے آگے چلنے والی پولیس کی گاڑیاں کچھ یوںساری سڑک کو روک کر دِھیرے دِھیرے بڑھ رہی تھیں جیسے ساری ریلی کو انہی کی قیادت میں چلنا تھا۔ کئی بار کی کوشش کے بعد وہ اگلی گاڑیوں کو غچہ دینے میں کام یاب ہو گیا اور گھر پہنچا تو نجی ٹی وی چینل کراچی کی سڑکوں پر لاشیں گرانے کا منظر دِکھارہے تھے۔ اس نے چینل بدل دیا ۔ سرکاری ٹی وی پر اس ریلی کا منظر دِکھایا جارہا تھا جس میں وہ پھنس گیا تھا۔
ٍ
وہ ایک مُدّت سے شہری زِندگی کے ہنگاموں میں کچھ اِس طرح مشغول تھا کہ اسے ٹھیک طرح سے اندازہ نہیں تھا کہ دیہات کتنی تیزی سے بدل گئے تھے اور مسلسل بدل رہے تھے ۔ گندم کٹنے کا جو منظر اُس کے دِھیان میں چل رہا تھا‘ کٹائی اور گہائی کی مشینوں کے آنے کے بعد اُس میں بہت زیادہ ترمیم ہو چکی تھی۔ تاہم اس کی اپنے گاﺅں کے حوالے سے ٹھہری ہوئی نفسیات کا شاخسانہ تھا کہ اُس نے کسانوں کے دائیں ہاتھوں میں چمکتی ہوئی درانتیاں دیکھی تھیں ۔ یہ درانتیاں ایک ترتیب سے اُوپر کو اُٹھتی تھیں ‘ عین ایسے لمحے میں جب وہ اَپنی چھاتیوں کا سارا زور لگا کر ’شاوا بھئی شاوا‘ کا نعرہ لگاتے ہوے بائیں ہاتھوںکی مٹھیاں کھڑی فصل کے اگلے ردّے پر جمالیتے تھے ۔ درانتاں کوندے اُچھالتی فصل کی جڑوں کے قریب جمی ہوئی مٹھیوں اورسطح ِزمین کے درمیان بہنے لگتیں اور اس کے ساتھ ہی فصل اپنے ہی کھیت میں ڈِھیر ہوتی جاتی ‘ وہی کھیت جس میں ابھی ابھی وہ لہرا رہی تھی ۔
کیا وہ کھیت میں بچھتی فصل تھی؟ اور کیا وہ لاشیں نہیں تھیں؟؟…. وہ مخمصے میں پڑ گیا ۔ خالی طویل سڑک….کئی ٹائروںوالا لمباچوڑا کنٹینر….دھڑا دھڑگرتی ہوئی لاشیں ….اور آدمیوں کا سیلاب جو موت سے نہیں ڈرتا تھا …. وہ سب کیا تھا؟؟؟…. اس نے کبھی کوئی کنٹینر نہیں چلایا تھا‘ بل کہ یوں تھا کہ جب وہ اَپنی کار میں کہیں جا رہا ہوتا اور اس طرح کے کسی کنٹینر کو اوور ٹیک کرنا ہوتا تو اس لمحے جب وہ نصف کے لگ بھگ اوور ٹیک کر چکا ہوتا ‘ بو کھلا جایا کرتا تھا۔ ایسے میں نہ جانے کیوں‘اسے یہ وہم ہونے لگتا تھا کہ کنٹینر کبھی ختم نہ ہوگا ۔ اس کی انگلیاں اسٹیئرنگ پر اور مضبوطی سے جم جاتیں اور بغیر کسی ارادے کے پاﺅں ایکسیلیٹر پر اپنا دباﺅ بڑھا دیتا ۔ اس کے پاس نئے ماڈل کی ایسی کار تھی جس کے شاک بہت اچھے تھے ۔ اتنے اچھے کہ کار سڑک پر بچھ کر اور جم کر چلتی تھی اور آدمی کے دھیان کو بھی جھٹکا نہیں لگتا تھا۔
اس نے دِھیان جھٹک کر ایک نئی ترتیب میں لانا چاہا ۔ اب وہ اس قابل ہو گیا تھا کہ اَپنی یادداشت میں اس کنٹینر کے چلے آنے کو اس منظر کے ساتھ جوڑ سکے جو اس نے ایک ٹی وی چینل پر رات ہی کو دیکھا تھا ۔ ایک سنسان سڑک کو بند کرنے کے لیے یہی کنٹینرکچھ اس طورکھڑا کیا گیا تھا کہ کوئی بھی سڑک عبور نہ کر پائے ۔اس کے سارے ٹائروں سے ہوابری طرح نکال دی گئی تھی اور اب اس کے ساتھ چلنے کا تصور باندھنا ممکن نہیں رہا تھا …. مگر …. کامران نے جو دیکھا تھا وہ کنٹینر تو اپنے پاور فل انجن کے زور پر پوری رفتار سے کھلی سڑک پر ‘ بل کہ لوگوں کے بدنوں پر بھاگ رہا تھا اور اس کی پشت میں ‘چورس روزن‘ اور کنٹینر کے عقبی اچھال سے پرے کچلی ہوئی لاشیں بچھ رہی تھی۔ دفعتاً ایک نیا منظر پہلے فریم کے اندر سے اُبھرا ۔ اسی ٹرک کی اگلی نشست پر ایک شخص جھول رہا تھا ۔ گولی اس کی گردن میں پیوست ہوگئی تھی ۔ جہاں گولی کا چھید تھا وہاں سے خُون دھار بنا کر بہ رہا تھا۔ کامران نے اسے پہچاننا چاہا تویہ دیکھ کر بوکھلا گیا کہ بری طرح مضروب شخص کوئی اور نہیں وہ خود تھا ۔
اَپنی گردن میں دھنسی گولی کے خیال نے اس کی بوکھلاہٹ کے ساتھ اس الجھن کو بھی نتھی کر رکھا تھاکہ وہ اس گولی کو کیسے نکالے گا؟ اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے گردن کے چھید سے اُبلتے لہو میں راستہ بنایا اور اُسے اندر تک گھسیڑتا چلا گیا ۔ اُسے اس پر بھی حیرت نہیں ہو رہی تھی کہ ایسا کرتے ہوے اسے کوئی درد کیوں نہیں ہو رہا تھا۔ زخم ٹٹولتے ٹٹولتے اس کی شہادت والی انگلی کا ناخن گولی کے چپٹے سرے سے ٹکرایا۔ اس نے ہمت کر کے ساتھ والی دوسری انگلی بھی زخم میں ٹھونس لی ۔ دوسرے ہی لمحے میں گولی اس کے ہاتھوں میں ناچ رہی تھی ۔ خون اُبلنے لگا تھا۔ گولی اس کی انگلیوں کی گرفت سے نکل گئی۔ اس کے ساتھ ہی لاشیں گرنے اور مدد مدد پکارنے کے وہ سارے مناظرجو اس نے رات بھر اپنے ٹی وی پر دیکھے تھے‘ ایک ترتیب میں ڈھل گئے ۔
ٍ
عالیہ نے کامران کی ہتھیلی کی پشت میںکُھبّے ہوے کینولا کو دیکھا۔ اس سے جڑی پلاسٹک کی نالی میںکچھ وقت پہلے تک قطرہ قطرہ گلوکوز بہ رہی تھی ۔ اسی پلاسٹک کی تھیلی میں ڈاکٹر نے کئی قسم کی دوائیاں انجیکٹ کر دی تھیں جو‘ اب کامران کے خُون کا جزہو چکی تھیں۔ اڑنے کے لیے پر تولتی تتلی کی طرح کینولا کے دونوں پر پھیلے ہوے تھے اور عین وہاں جہاں تتلی کا سر ہونا چاہئے ‘وہاں گلو کوزختم ہونے کے بعدایک ڈھکن لگا کر خُون کو بہنے سے روک دیا گیا تھا ۔ اس نے ڈھکن کی تمام اطراف سے خُون کو جمے ہوے دیکھا تو بے چین ہو گئی۔ نہ جانے اسے یہ کیوں لگنے لگا تھا کہ کامران کے بدن میں بس اتنا ہی خُون تھا جو باہر ابل کر جم گیا تھا…. اور…. اب اس کے زرد ہو چکے وجود میں خُون نہیں خالی پن دوڑتا تھا۔
جس خالی پن کو وہ ساری عمر پرے دھکیلتی رہی تھی وہ کسی نہ کسی بہانے اس کے اپنے وجود کا حصہ ہو جاتا تھا۔ وہ اپنے باپ کے ہاں تھی تو وہیں سے اس خالی پن کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیا تھا۔ اس کی ماں جب تک زندہ رہی ایک عجب طرح کے خاندانی زعم میں مبتلا رہی۔ وہ شہر میں پلی بڑھی اور اس ماحول میں جوان ہوئی تھی جس میں آسائشیں مزاج کا حصہ ہو جاتی ہیں۔ اس ترنگ میںاحساس کی سطح پر جڑنے سے کہیں زیادہ یہ اَہم ہوتا کہ وقت کے ایک ایک لمحے کو پھلجھڑی کیسے بنایا جاسکتا ہے ۔ جل کر تماشا دکھانے ‘بجھنے اور پھر معدوم ہو جانے والی پھلجھڑی۔ ماں مر کر معدوم ہو گئی۔ عالیہ اَپنی ماں کے جتنا قریب ہو جانا چاہتی تھی اس کی کسک دل میں پالتی جوان ہو گئی تو گھر خالی پن سے گونج رہا تھا۔ کامران جو اس کے سامنے پڑا تھا اس کے باپ کا دوست تھاجو اَپنی پہلی بیوی سے الگ ہوگیا تھا۔ کیوں ؟ یہ سوال اس کے باپ کے لیے اَہم نہ تھا ۔ اس کے لیے سب سے اَہم بات یہ تھی کہ اپنے اثاثوں کے اعتبار سے وہ بہت مستحکم تھا ۔
استحکام آدمی کے اندر کہاں سے آتا ہے ؟ …. کامران نے اپنے کانپتے دل کو تھا ما اور سوچا مگر یہ سوال اس کے اندر چکراتا اور بدن کی باطنی دیواروں سے دیر تک ٹکراتا رہا ۔ وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا ۔ اسے ایسا تہذیبی آدمی کہا جا سکتا تھا جسے ثقافتی بارشوں کی بوچھاڑ نے پس پا کر دیا تھا ۔ اس کی پہلی بیوی فائزہ کو ہمیشہ شکایت رہی تھی کہ اس کے اندر گاﺅں کا ضدی اور اکھڑ کسان دھرنا مارے بیٹھا ہوا تھا۔ زمین سے اگا ہوا اور اپنے ایمان کے ساتھ جڑا ہوا آدمی ۔ زمین پیچھے گاﺅں میں رہ گئی تھی اور وہ ایمان ساتھ لیے پھرتا رہا۔ فائزہ چاہتی تھی کہ وہ تیزی سے ترقی کرکے سوسائٹی میں مَقام بنالے مگر جس بوجھ کو وہ اٹھائے پھرتا تھا وہ اس کی چال میں رخنے ڈال رہا تھا ۔ وہ اس پر مسلسل کام کرتی رہی حتیٰ کہ اسے بدلنا پڑا ۔ اس نئی دنیا اور نئی چال کا اپنا ہی آہنگ تھا۔ پہلا قدم طعنے سن سن کرطے کیا تھا۔ پھر یوں بدلا کہ فائزہ بھی اسے‘ بالکل بدل جانے سے نہ روک پائی تھی۔
کامران جیسے دیہاتی آدمی کا بے ہنگم بدلنا کہ جس کی زِندگی ایک خاص آہنگ میں چل رہی ہوتی ہے اَپنی جگہ ایک واقعہ تھا مگر اس سریع تبدیلی نے اس کے اندر خلا پیدا کر دیا تھا۔ ایک ایسا خلا جو اس کی پچھلی زِندگی کو اندر سے کاٹ کر پھینک دینے سے بن گیا تھا ۔ فائزہ میں اتنی ہمت‘فراست اور صلاحیت نہ تھی کو وہ اس خالی پن کو کسی اور ادا سے پاٹ سکتی کہ وہ تو ڈھنگ سے نہ وہ لطف دے پاتی جو اس کا وجود مانگتا تھا اور نہ ہی اس رفتار سے چل پارہی تھی جس سے اب اس کا شوہر چل رہا تھا۔ وہ راستے کی دھول ہو گئی تو عالیہ اس کی زِندگی میں آگئی جو اس نے پہلے تو نئے پن کے جوش میں اسے بہت قریب کر لیا۔ اس نے بھی اس عرصے میںکئی رخنے پاٹ دیے ہو ںگئے مگروہ ایک اور ہی طرح کا خالی پن ساتھ لے کر آئی تھی جو سارے میں دندناتا پھرتا تھا۔
گوشت پوست کے آدمی کے اندر کیا کچھ سما سکتا تھا اس کا اندازہ کامران کوصحیح طور پر تب بھی نہ ہو سکا جب وہ اس میں بہت کچھ گھسیڑ چکا تھا کہ اب بھی وہ خالی کنستر کی طرح بجتا تھا۔ وہ ڈھنگ سے اس خاموشی اور خلا کی اس گونج کا تجزیہ کرنے میں ناکام رہتا کہ وہ مسلسل ایک کیفیت میں رہنے سے احساس کی اس سطح سے بھی محروم ہو گیا تھا۔ ایسے میں اس پر جھلاہٹ طاری ہو جاتی۔ اس نے اس جھلاہٹ سے چھٹکارے کے لیے خود کو خوب تھکانے اورمسلسل مصروف رکھنے کا حیلہ کیا اور اس حیلے ہی کو اَپنی عادت بنالیا۔ شروع شروع کا وہ زمانہ جو اس نے اڑیل بیل کی طرح ٹھہر ٹھہر کر گزارا تھا اس کے تمام ہوتے ہی وہ محسوس کی دنیا سے جست لگا کر طلب کی دنیا میں داخل ہو گیا تھا۔ احساس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ اس کے ناتے رشتوں کے ساتھ جڑ جاتا اور روحانی طہارت کے دریچے بدن پر کھول لیا کرتا تھا جب کہ طلب کے تقاضے کچھ اور تھے کہ یہ پہلے توضرورت بنتی اور پھرہوس ہو کر حواس پر چھا جاتی گئی تھی۔ کامران کے جسم میں ہوس ہی ہوس بولنے لگی تواس کے مطالبے فائزہ پورا کر سکنے کی سکت نہ رَکھتی تھی ۔ اگرچہ اس خلا کو عالیہ نے بھر دیا تھامگر جو خالی پن وہ اپنے بدن میں چھپاکر لائی تھی اسے کامران کے بدن کا ضعف پاٹنے سے قاصر تھا۔ اس کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ وہ احساس کی وہ سطح چھونے کا جھنجھٹ ہی نہ پال سکتا تھا جس میں تعلق گہرا ہو کر روحانی چھب دینے لگتا ہے۔ پہلے پہل آسائشوں اور بدنوں کی تندی تیزی نے معاملے کی نزاکت کو پرے دھکیلے رکھا پھر عالیہ خود ہی اپنے اندر سمٹ گئی اورکامران کی طنابیں ڈھیلی چھوڑ دیں وہ تو جیسے یہی کچھ چاہتا تھا جلد ہی اپنے آہنگ پر لوٹ گیا۔
ٍ
جب تک اسے فرصت میسر آتی تب تک عالیہ اپنا بدن توڑ کر ایک پہلو پر یوں ڈھے جاتی کہ اگلے صبح ہی اٹھا کرتی ۔ کامران ریموٹ ہاتھ میں لیے ٹیلی وژن کے چینل بدلتا رہتا ۔ کبھی تو وہ اتنی تیزی سے چینل بدلتا کہ پورا بیڈ روم پلکیں جھپکتا ہوا محسوس ہوتا ۔ ایسے میں اس کا ہاتھ ان ہاٹ چینلز پر بھی نہ رکتا جو ایک عرصہ تک اسے بہت مرغوب رہے تھے ‘ ننگی رانیں اور کھلے سینے دکھانے والے ان چینلز کو دیکھتے دیکھتے وہ فائزہ سے اُوب گیا تھا اور اب جب کہ عالیہ اس کے بالکل پاس تھی اسے نیلے پانی میں نہاتی ‘ ریت پر دوڑ دوڑ کر اپنے اعضا نمایاں کرتی عورتوں والے مناظر دیکھتے ہی اَپنی چھاتی بیٹھتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ وہ جب تک آسائشوں کے لیے ترستا اور فائزہ کے طعنے سنتا رہا تھا اسے خبروں والے چینلز میںدل چسپی رہا کرتی تھی۔ دنیا جس طرف جا رہی تھی اس پر وہ کڑھتا تھا ۔ مگر جب وہ دنیا کی رفتار کے آہنگ میں آیا تو وہاں پہنچ گیا جہاں فائزہ کاساتھ نہیں دی سکتی۔
جن دنوں اسے معمول کی خبروں سے کوفت ہونے لگی تھی ان دنوں اس نے ایسے چینلز ٹیون کرلیے تھے جن کے ذریعے وہ بریکنگ نیوز کی تھرل سے جڑے ہوے تھے ۔ ٹکڑوں میں آنے والی خبروں میں بہت کچھ ٹوٹ رہا تھا۔ حتیٰ کہ وہ لاشیں گرائے جانے والے مناظر سے لطف لینے لگا‘ بالکل یوں کہ جیسے عالیہ مضبوط جسم والے ریسلرز کی ان کشتیوں سے لطف اٹھاتی تھی جن میں کوئی قانون اور ضابطہ کام نہ کرتا تھا۔ کچھ عرصے سے آدمیوں کے گم ہونے یا پھر ان کے مارے جانے ‘دھماکے ہونے اور بدنوں کے چیتھڑے اڑنے کی خبروں کا تانتا بندھ گیا تھا ۔ اس تسلسل نے اس کی نفسیات کو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا۔ ہاٹ چینلز سے اس کے دل کے اوبنے کی وجہ عورت کے وجود سے وابستہ اگر چٹ پٹے اور لذیذ مناظر کی بہتات تھی تو دھماکوں میں بدنوں کے اڑتے چیتھڑوں کی متواتر خبروں نے اس کے اندر سے انسانی وجود کی وقعت ہی ختم کر دی تھی ۔
جس روز ٹےکسلا سے آتے ہوے وہ سرکاری جلوس میں پھنس گیا تھا اسی روز وہ دیر تک وہ کراچی میں گرائی جانے والے لاشوں کے مناظر بہت دل چسپی سے دیکھتا رہا تھا۔ اس کا دل معمول کے مطابق دھڑکتا رہا ۔ عالیہ اس کی توجہ پانے کے لیے کوئی نہ کوئی بات چھڑتی رہی۔ یہ باتیں ”ہاں ‘ہوں“ سے زیادہ پر اسے مائل نہیں کر پارہی تھیں۔ ایک چینل جس کے لوگ اَپنی عمارت میں پھنس کر رہ گئے تھے اس کی خاص توجہ پا گیا۔ اس چینل کی عمارت کے دونوں طرف گولیاں چل رہی تھی لہٰذا وہ تھرل سے بھرے ہوے مناظر فراہم کرنے کے قابل ہو گیا تھا ۔ ایک گروہ نے نیچے پارک کی گئی گاڑیوں کو توڑنا شروع کردیاتھا۔ جیسے جیسے ہجوم گاڑیوں کی چھتوں پر لوہے کی سلاخیں برساتا یا ونڈسکرین کے ٹکڑے فضا میں اچھلتے تو اسے اپنے خُون میں عجب طرح کی تیزی محسوس ہوتی۔ اس چینل کاکیمرہ مین بڑا جی دار نکلا۔ وہ عمارت کے اوپر کہیں پاﺅں ٹکائے سارا منظر براہ راست دکھانے کے قابل ہو گیا تھا۔ اسے یہ دیکھ کر حیرت ہورہی تھی کہ پولیس والے وہاں ہونے کے باوجود کچھ بھی نہ کر رہے تھے ۔ جب سے سیاسی کارکنوں کو پولیس میں بھرتی کرنے اور مخالفین کو دبانے کے لیے سرکاری وسائل کے بے دریغ اِستعمال کی ریت چلی تھی ایسے مناظر تواتر سے نظر آنے لگے تھے ۔ بھاگ بھاگ کر آگے آنے اور گولیا ں برساکر عمارتوں کی آڑ لے لینے والے ان کی پروا تک نہ کرتے تھے ۔ گویا ان کے لیے سب کچھ ٹھیک ہورہا تھا ۔ اس نے پلٹ کر کمرے میں پھیلے خلا کو ماپا اور پھر اپنے پہلو میں پڑے جوان سال خوب صورت جسم کو دیکھا۔دہشت کے ان لمحات نے اس کی کشش قضا کر دی تھی ۔ عالیہ نے اپنے مرد کو متوجہ پا کر جلدی میں کچھ کہا ۔اس نے جو کچھ کہا تھا اس میں کامران کے لیے کوئی دل چسپی کا سامان نہیں تھا ۔ عالیہ اپنے تئیں جس پہلو سے نیم دراز تھی اس میں اس کے ابھار نمایاں ہوکر اسے متوجہ کر سکتے تھے مگر اس ادا نے بھی اس کی توجہ کو گرفت میں نہ لیا کہ اس نے دل ہی دل میں اس منظر کو بھی ایسے معمولی مناظرسے مماثل سمجھ لیا تھا جو انگلش میوزک نشر کرنے والے چینلزپر ہر دوسرے فریم میں دکھاتے تھے۔ کامران نے اَپنی نظریں پھر ٹی وی کی اسکرین پر مرکوز کردیں ۔ وہاں اب ایسی لاش دکھائی جارہی تھی جس کی چھاتی سے خُون ابلتا تھا ۔ چھاتی …. وہ بوکھلا گیا اور پلٹ کراس چھاتی کو دیکھنا چاہا جس سے خُون نہیں ابل رہا تھا۔ وہاں منظر بدل گیا تھا۔ عالیہ نے کامران کی توجہ پانے میں ناکام ہو پورے بدن کو اوندھایااور آنکھیں موند لیں تھیں۔
ٍ
جب کامران کی سماعتوں میں باہر کی سرسراہٹیں بھی رسنے لگےں تب تک عالیہ کی سانسوں کی پھوار نیند کے غلبے سے آہنگ پاکر اس کے دائیں پاﺅں کے ٹخنے پر پڑ نے لگی تھی ۔ اسے پہلے پہل سمجھ نہیں آیا کہ اس کے ٹخنے پر کیا ہو رہا تھا تاہم عالیہ کے سینے کا گداز اور گرمی لیے سانس کے ان جھونکوں نے اس کے حواس کی طرف پلٹنے کے عمل میں سرعت پیدا کر دی ۔
کامران کا اپنے وجود میں اپنے آپ کو ریزہ ریزہ ڈالنے کے باقاعدہ جتن کرنا اور عالیہ کا سانسوں کے آہنگ کی تاثیر سے اپنے بدن کو ڈھیلا چھوڑتے ہوے ٹانگوں کو پھیلائے چلے جانا‘ ایک ساتھ شروع ہوا تھا۔ جب ایک ہی رخ پڑے رہنے کی وجہ سے عالیہ کاایک پہلو دکھنے لگا تھا اور اس نے چِت لیٹ جانے کے لیے نیند ہی نیند میں اپنے پورے وجود کو حرکت دی ‘ تب ایک نوجوان ڈاکٹر ‘جو اس کے قریب سے گزررہا تھا‘ وہاں ٹھہر جانے پر مجبور ہو گیا ۔ ڈاکٹر تب تک وہاں رکا رہا جب تک عالیہ کا جسم پشت پر جم کر جھولتا رہا ۔ اس نے پیشہ ورانہ احساس کے تحت قصداً ایک اچٹتی ہوئی نگاہ مریض پر ڈالی اور اس مانیٹر پر بھی جس میں سے کوئی فوری خطرہ نہیں جھانک رہا تھا۔ مریض کے جسم میں حرکت پاکر ڈاکٹر بلاسبب کھسیانا ہو ا‘ منھ سیدھا کیا اور وہاں سے کھسک گیا۔
سی سی یو کے وسط میں شیشے کی دیواروں والے احاطے میں ڈاکٹر اور نرسیں ڈیوٹی کے لیے موجود رہتیں ۔ چاروں طرف دیوار کے ساتھ ساتھ لکڑی کے تختوں سے آڑ بنا کر کیبن بنا لیے گئے تھے ۔ یہ سارے کیبن سامنے سے کھلے تھے ۔ہر کیبن میں ایک بیڈ اور ایک ہی بینچ تھا جس پر دو آدمی بہ مشکل بیٹھ سکتے تھے ۔ کیبن کے اندر سامنے والی دیوار پر اوپر سے آنے والی آکسیجن کی نالی اور ایک چوکور باکس میں نصب سبز لکیر اچھالتا مانیٹر نمایاں تھا ۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر وہیں شیشے کی دیوار سے پرے کھڑے وقفے وقفے سے انھی مانیٹرز پر اچھلتی لکیروں کو دیکھ لیتے تھے ۔ جس وقت ڈاکٹر کھسیانا ہو کر واپس ہو رہا تھا غالباً یہ وہی وقت تھا جب گھنٹوں بے سدھ پڑے رہنے کے بعد پہلی بارکامران کواپنے ٹخنے پر پڑنے والی عالیہ کے سانسوں کی پھوار کا خُوِش گوار احساس ہوا تھا۔ نرم ‘ملائم اور بھیگی بھیگی پھوار جو اس کے اندر اس کے لہو کا حصہ ہوکر اس میں آنچ بھر رہی تھی ۔
جب وہ پوری طرح ہوش میں آگیااور اسے اندزاہ ہو گیا کہ وہ گھر کی بہ جائے ہسپتال میں تھا اور عالیہ عین اس کے قدموں میں نہ جانے کب سے پڑی تھی تو اسے عالیہ کے وجود نے گرفت میں لے لیا جو اس کی نظر میں پوری طرح نہ آرہا تھا ۔ اس نے سر اچک کر دیکھنا چاہا مگرناکام رہا۔ اسے گردن اٹھانے کے لیے ٹانگوں کو قدرے دہرا کرکے زور لگانا پڑا تھا جس سے نہ صرف اس کا چہرہ اس کے گھٹنوں کی اوٹ میں آگیا تھا ‘سانسوں کی پھوار کا وہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیاجو اس کے اندر توانائی بھر رہا تھا۔ اس ذرا سی کوشش میںنقاہت نے اس پر ہلہ بول دیا ۔ وہ اتنی ہمت والا تھا کہ ایک اور کوشش کرتا مگر سانسوں کی پھوار کا یوں ٹوٹنا اسے اچھا نہ لگا تھا۔ اس ایک لمحے میں اس نے ہمکتی سانسوں سے معمورچھاتیوں والی ایسی عورتوں کو بھی دیکھا تھا جو کبھی اسے پچھاڑ دینے اور اوندھا کر رکھ دینے والی لذت کا باعث ہو جاتی تھیںمگر اب وہ اوپر سے گرتی ہوئی لاشوںمیں کہیں گم ہورہی تھیں ۔ انھی لاشوں کے ڈھیر میں اس نے اپنے آپ کو بھی دیکھا اور یقین کرنا چاہا کہ وہ زندہ تھا۔ کنٹینرز ‘…. لوگوں پر اس کا دوڑنا‘ ….گولی کا اس کے بدن میں پیوست ہونا ‘…. عالیہ کا منھ موڑ کر لاش کی طرح پرے ڈھے جانا ‘سب جھوٹ تھا۔ سچ یہ تھا کہ اس کا دل دھڑک رہا تھا اس آہنگ میں جس سے اس کا تہذیبی وجود مانوس تھا ۔ اس کے پاﺅں پر پڑتی سانسوں کی پھوار اس کے اندر کٹ چکے احساس کی پنیری پھر سے کاشت کررہی تھی ۔ یہ کیفیت ایسا اعلامیہ تھی کہ وہ نئے سرے سے زِندگی کو آغاز دے سکتا تھا۔ اس نے سکون سے آنکھیں موند لیں اور ہاتھ کھسکا کرعالیہ کے گورے چٹے پاﺅں پر رکھ دیا جو اس نے نیند میں ابھی ابھی اس کی بغل میں گھسیڑدیاتھا۔


کچھ جنم جہنم سلسلے کے افسانوں کے بارے میں

متن در متن یعنی  فریم نیریٹو کی صورت گری

توصیف تبسم
توصیف تبسم

محمد حمید شاہد کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے ‘ دنیا سے متعلق ہمارے سابق یا بھولے بسرے علم کا احیا ہی نہیں ہوتا‘ بلکہ ہمیں باہر کی دنیا کا نیا ادراک حاصل ہوتا ہے‘ یعنی ہم محض بازیافت ہی نہیں کرتے بلکہ نئی یافت سے ہم کنار بھی ہوتے ہیں۔ بقول مبین مرزا فکشن محمد حمید شاہد کا مشغلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ فن سے سچی اور کھری وابستگی نے افسانہ نگار کو ایک ایسی راہ پر گامزن کر دیا ہے جہاں خارجی حقیقت نگاری اور باطنی صداقت پسندی مل کر ایک ہو گئی ہیں ۔ انسانی زندگی کاا لمیہ ہویا سیاسی وسماجی حالات کا دھارا‘ محبت کے کومل جذبے ہوں یا رشتوں کی مہک‘ ریاستی گروہی جبر ہو یا عالمی دہشت گردی یا پھر تہذیبی حوالوں کو نگلتی بازاری ثقافت ‘محمد حمید شاہد کا قلم یکساں روانی اور تخلیقی وقار کے ساتھ سب کو سمیٹتا چلا جاتا ہے۔
فن کار کا ایک منصب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو انسانی فطرت سے ہم آہنگ کرے۔ محمدحمیدشاہد نے اپنے بیانیے کو ایک سے زائد سطحوں پر یوں متحرک کرلیا ہے کہ وہ مطلق طور پر انسانی آہنگ میں ڈھل گیا ہے۔ اسی لیے تو احمد ندیم قاسمی کو کہنا پڑا کہ” محمد حمید شاہد کے افسانوں کا ایک ایک کردار ‘ایک ایک لاکھ انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔“ خود شعوریت سے جہاں افسانہ نگار نے متن در متن یعنی  فریم نیریٹو کی صورت گری کی ہے وہاں انہوں نے اپنے افسانوں کو ایک نئی قسم کی حقیقت نگاری کی راہ بھی سجھا دی ہے ۔ محمد حمید شاہد کے ہاں نوحقیقت پسندی کے حوالے سے عمدہ مثال بن جانے والے افسانوں میں” برف کا گھونسلا“ ” برشور“ ” لوتھتکلے کا گھاﺅ“ ” ملبا سانس لیتا ہے“ ” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ ”جنم جہنم“”چٹاکا شاخ اشتہا کا“ ” آدمی کا بکھراﺅ“ ”پارہ دوز“ اور ” مرگ زار“ جیسے افسانے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بقول ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی دراصل زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے جسے جدیدیت پسندوں کی نافہمی اور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کر دیا تھا۔ محمد حمید شاہد کےافسانے سورگ میں سور“”گانٹھ “ اور مرگ زار“  پاکستان اور اردو ادب کے شاہکار تسلیم کیے جائیں گے

ڈاکٹر توصیف تبسم 



محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

34 تعليق

  1. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » ناہنجار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » ماسٹر پیس|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » ڈاکٹر توصیف تبسم|اثباتM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » کفن کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » آدمیM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  33. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  34. Pingback: برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *