M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / حسن کوزہ گر- اے حسن کوزہ گر| محمد حمید شاہد

حسن کوزہ گر- اے حسن کوزہ گر| محمد حمید شاہد

صدارتی خطبہ :حاشیہ

احباب حاشیہ !

جاوید انور کی یاد کے نام منعقد ہونے والا یہ اہم اجلاس اختتامی مرحلے میں ہے اور مجھے اپنے صدارتی کلمات آپ تک پہنچانے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ اس سارے عرصہ میں، مجھے جاوید انور کی یاد نے واقعی بہت ستایا ہے ۔ گزشتہ ایک اجلاس کے دوران ، جب کہ میں نےشاید ناحق دل برداشتہ ہو کر بحث سے الگ ہونے کا ارداہ ظاہر کیا تھا تو جاوید انور نے مجھے میسیج بھیجا” او بھائی کیا کرنے لگے ہو ، یہ ظلم نہ کرنا، میں پاکستان میں ہوتا تو تمہارے ہاں آتا ، ناشتے پر، ناشتہ اڑاتا اور تمہیں مناتا۔۔۔ ” تو یوں ہے کہ وہ پاکستان آیا، اسلام آباد پہنچا، میں نے اس کے اعزاز میں ناشتے پر نظم نشست کا اہتمام کیا ، شہر بھر کے نظم نگار/شاعر جمع کیے، افتخار عارف، جلیل عالی، یاسمین حمید، علی محمد فرشی، نصیراحمد ناصر، پروین طاہر، ظفر سید، سعید احمد ، خلیق الرحمن ؛ سب نے نظمیں سنائیں ،جاویدانور سے نظمیں سنی گئیں ۔ وہ اتوار تھا۔ کئی گھنٹے ہم ساتھ رہے ۔ پھر وہ لاہور چلا گیا اور جمعہ کے روز اس کے مر جانے کی خبر آگئی ۔ سوموار ہم اس کی میت کو کندھا دینے لاہور پہنچے تھے ۔ تو یوں ہے کہ میری اتنی ہی اس سے ملاقات تھی مگرہم اتنا قریب آگئے تھے کہ یہ بچھڑنا مجھے سنبھلنے نہیں دے رہا۔ منشایاد میرے بہت قریب تھا وہ چل بسا ، جاوید انور قریب آکر بچھڑ گیا ایسی کیفیت میں یہ اجلاس شروع ہوا اور شاید ایک 11295597_850883975000947_9100742764118825288_nاداسی سی ہم سب محسوس کر رہے تھے یا پھر شاید میں ہی اتنا بجھا ہوا تھا کہ جو گرم جوشی اس طرح کے مباحث کے لیے درکار تھی اس کے لیے فضا بنانے میں ناکام ہوگیا تھا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر اس اجلاس میں ستیہ پال آنند کی نظم پر اہم مکالمہ قائم ہوا ہےجس کے لیے ابتدائیہ نگار علی محمد فرشی نے بنیادیں فراہم کر دی تھیں ۔ محمد یامین، رفیق سندیلوی،ظفرسید، ابرار احمد، علی ارمان، پروین طاہر، عارفہ شہزاد، صدف مرزا نے گفتگو میں بھرپور حصہ لیا ، خود شاعر کا نوٹ بھی اس باب میں بہت اہم ہے یوں یہ اجلاس کامیابی سے ہمکنار ہوا جس کے لیے میں آپ احباب کا یہیں شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔

خواتین وحضرات!

ستیہ پال آنند نے میری مشکل یہ کہہ کر آسان کر دی ہے کہ ‘ کاش”حاشیہ” کی یہ تنگ کالم۔بائی۔کالم” گلی نہ ہوتی اوران پاس جامعہ میں ایک کمرہ ء جماعت ہوتا اور وہ دو عد د “فلو چارٹ” بنا کر، راشد کی نظم کو ایک طرف اور اپنی نظم کو دوسری طرف، سامنے دیوار پر ” اوور ہیڈ پروجیکٹر” کی مد د سے یا “سلائڈ چینجر” کے ذریعے باری باری سےمنعکس کر سکتے۔ (یعنی صرف دو نظمیں نہیں، بلکہ ان کا “فلو چارٹ)’۔۔۔۔یہی “کاش” میرے پاس بھی ہے ۔ میں بھی دو نظموں کا فلو چارٹ اس طرح تو نہیں دکھا سکتا ، ان دونوں نظموں پر باری باری گفتگو تو کر سکتا ہوں ۔ تو یوں ہے کہ ستیہ پال آنند کی نظم پر بات کرنے سے پہلے / اور ساتھ ساتھ ہم راشد کو بھی یاد کر رہے ہیں اور کریں گے، اس لیے کہ خود نظم نگار نے پوری نظم کی تخلیقی فضا ہی راشد کی “حسن کوزہ گر” کو سامنے رکھ کر بنائی ہے۔ اچھا، ستیہ پال آنند کے ہاں یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے، یہ تو ان کے محبوب قرینوں میں سے ایک قرینہ ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ لوک روایات، دیو مالائوں، قصوں کہانیوں، حکایتوں اور ماقبل دانش وروں کے اقوال اور شاعروں کے کلام سے کچھ نہ کچھ اخذ کرتے ہیں، ایک مکالمے قائم کرنے کے لیے ، اور اپنے نظم کی تخلیقی فضا ڈھال لیا کرتے ہیں ۔ مثلاً دیکھئے ان کی نظم “کل کا نستعلیق بچہ” کے نیچے نوٹ درج ہے “ہانس اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی کے تناظر میں لکھی گئی” اور نظم “آدھا بھائی جاگ رہا ہے” کا پاورقی نوٹ ہے” مرکزی خیال پنجاب کی ایک لوک کہانی سے ماخوذ” اسی طرح “عالم ارواح کی باتیں ۔ نطشے، برگساں اور اقبال” کو پڑھتے ہوئے اقبال ان کے سامنے رہا جب کہ “مجھے نہ کر وداع”، “انتقام ” اور زیر نظر نظم “اے حسن کوزہ گر” لکھتے ہوئے ن م راشد ۔

احباب حاشیہ!”اے حسن کوزہ گر” کے تخلیقی لمحوں میں جب ستیہ پال آنند ، ن م راشد کی نظم”حسن کوزہ” کے مرکزی کردار حسن کوزہ گر،جہان زاد، لبیب، شہر حلب حتی کہ عطار یوسف اور خود ن م راشد کو خود سے جدا کرنے پر ایک لمحہ کے لیے بھی تیار نہیں ہورہا ہے تو یہ کیوں کر ممکن ہے کہ اس پر بات نظم پر بات کرتے ہوئے اتنی ہی شدت سے راشد یاد نہ آئے جتنی شدت سے وہ آنند جی کی نظم سے ابل رہا ہے۔ میں نے کہا نا کہ راشد سے آنند جی کا یہ پہلا مکالمہ نہیں ہے مثلاً ان کی ایک کتاب ” مجھے نہ کر وداع ” ہی لے لیں، اس کا نام پڑھتے ہی آپ کو راشد یاد آئے گا ۔ شاعر خود اعلان کر کرکے آپ کو یاد دلاتا ہے کہ مکالمہ راشد سے ہورہا ہے اور معاملہ لو اور ہیٹ کا ہے۔
راشد نے “مجھے وداع کر” میں کہا تھا :
“مجھے وداع کر/بہت ہی دیر،دیر جیسی ہوگئی/کہ اب گھڑی میں بیسویں صدی کی رات بج چکی/شجر حجر، وہ جانور، وہ طائران خستہ پر/ہزار سال سے جو نیچے ہال میں زمین پر/مکالمے میں جمع ہیں/ وہ کیا کہیں گے ۔ ۔ ۔ میں خدائوں کی طرح / ازل کے بے وفائوں کی طرح۔ ۔ ۔ / پھر اپنے عہد منصبی سے پھر گیا / مجھے وداع کر ، اے میری ذات۔ ۔ ۔/”
جب آنند نے “مجھے وداع کر” کو اوندھا کر ” مجھے نہ کر وداع ” کر لیا اور”ن م راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ” فکری اختلاف کے لیے گنجائشیں بنانے کے جتن کیے:
“مجھے نہ کر وداع/ مجھے نہ کر وداع پھر/شجر حجر، وہ جانور، وہ طائران خستہ پر/ جو میرے حلفیہ بیان کے لیے / کھڑے ہیں نیچے ‘ہال’ میں / میں کیا مکالمہ کروں گا ان سے ‘میری ذات’ بول / ۔ ۔ ۔ / سماع ہوں ، نہ صوت ہوں/ تواتر حیات میں ہوں منجمد/ نہ زندگی ، نہ موت ہوں!/ مجھے نہ کر وداع/۔ ۔ ۔ “

راشد کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ خدا سے، تصوف سے ، مذہبی علامتوں سے، ماضی سے اور روایت سے شعوری طور پر بچ نکلنے کے کھیکھن کرتا رہا اوراپنی نثری تحریروں میں اس کا اعلان بھی کرتا رہا مگر جب ہم اس کی نظموں کا جم کر مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا تخلیقی باطن، اس کی خواہش اور کوشش کے باوجودان سب سے کچھ نہ کچھ کشید کرتا رہا ہے ۔ مثلاً اسی نظم کو دیکھئے جس کے معنی کو ایک “نہ” لگا کر آنند جی نے اوندھانا چاہا ہے اس میں تخلیقی وفور نے پہلے سے راشد کی شعوری فکریات سے کٹ کر اس کے تخلیقی وفور سے معاملہ کر رکھا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آنند جی نے راشد کی اس نظم سے مکالمہ کرتے ہوئے “ذات” جیسی صوفیانہ اصطلاح سے معنی کیوں نہ اخذ کیے ،اس کی مابعد الطبعیاتی فضا کو کیوں نہیں پرکھا اور اس بابت کیوں نہیں سوچا کہ “ذات” سے جدائی کا یہ مطالبہ پہلی بار نہیں ہورہا تھا ۔ یہ واقعہ پہلے بھی ہو چکا ، اور انسان جب اپنے وجود میں قائم ہونے میں ناکام ہو گیا ہے اور اسی”ذات” میں پھر پناہ گزیں ہو گیا ہے تو ایک بار پھر اس “ذات” سے “وداع” ہونے کے معنی “شہود” کے بھی ہیں تخلیق کائنات کے مقصد کی تکمیل اور آدمی کی “انا” کا قیام بھی ۔ صاحب، یوں دیکھیں تو کیا “ذات” سے “مجھے نہ کروداع” والا آنندجی کا مطالبہ ، کیا راشد کی نظم کی سطح پر چند خراشوں کا سا نہیں ہوگیا؟۔

ن م راشد کی نظم ” انتقام ” پر آنند جی کا ہاتھ درست پڑا ہے۔ یہاں واقعی ایک فکری انحراف نظر آتا ہے :

“۔/ ۔ ۔ ۔/کہ شاید “رات بھر” میں/ “اپنے ہونٹوں سے” برابر صبح تک لیتا رہوں گا/”اس سے اس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام”/وہ “برہنہ جسم” وہ “چہرہ” وہ “خدوخال” سب کچھ/بن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے / اور یہ مکافاتی طریقہ / مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا!”

جی صاحب ، میں نے کہا کہ آنند جی نے راشد کی فکر پر خوب گرفت کی مگر یوں ہے کہ یہاں بھی وہ کچھ کچھ الجھا رہے ہیں ۔ مثلاً راشد کا جنسی تشدد والا رویہ محض “بودا” ہے نہ”بچکانہ” اور پھر “خدوخال” کے ساتھ “بن چھوئے” کے الفاظ لطف نہیں دے رہے۔ خیر میں آنند جی کی نظم “اے حسن کوزہ گر” کی طرف آنا چاہوں گا جو راشد، اس کے تراشے ہوئے کرداروں اور اس کے ڈھالے ہوئے ماحول سے مکالمہ کرنے کے جتن کر رہی ہے ۔

پہلے کچھ ن م راشد کی نظم” حسن کوزہ گر ” کے حوالے سے:

“حسن کوزہ گر” کے حوالے سے یہ جو کہا گیا ہے کہ اس “نظم کا ذہنی خاکہ’’وزیرِ چنیں‘‘ کی طرز پر تیار ہوا تھا”(“۔ ۔ ۔/ تو جب سات سو آٹھویں رات آئی / تو کہنے لگی شہرزاد/ ۔ ۔ ۔ ۔”)، مجھے بہت حد تک درست معلوم ہوتا ہے ۔ اور اس بات پر بھی دل ٹھکتا ہے کہ” تخلیقی عمل کے دوران میں شاعر کے لاشعور نے ایسی زقند بھری کہ نظم شاعر کی گرفت سے آزاد ہو کر نامعلوم بلندیوں کی طرف پرواز کرگئی۔” تاہم مجھے یہ مان لینے میں تامل ہے کہ ان نظموں میں کوئی معنوی بعد پیدا ہو گیا ہے یا یہ کہ اس کے تخلیقی خاکے میں راوی کے اعتبار سے اتھل پتھل ہو گئی ہے ۔ مجھے اپنی بات دلیل سے اور متن کے اندر سے ثابت کرنا ہو گی لہذا تھوڑا سا توقف کیجئے کہ ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے مجھے ابھی اس نظم کے مجموعی مزاج پر ایک دو باتیں عرض کرنا ہیں۔ مگر اس سے پہلے ایک وضاحت : ایک معزز رکن نے لکھ دیا تھا کہ یعنی راشد اور آنند جی کی نظمیں ایک ہی بحر میں ہیں۔تاہم اب ان کی طرف سے معذرت آگئی ہے کہ ایسا درست نہ تھا ۔ آنند جی نے ہی درست کہا ہے کہ ان نظم بحر متدارک میں ہے یعنی” فاعلن فاعلن” کی تکرار میں،جب کہ راشد کی حسن کوزہ گرکی پہلی اور چوتھی نظم ” فعولن فعولن” کی تکرار میں ، دوسری “فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ اور تیسری ” مفاعلن مفاعلن کی تکرار میں ہے ۔۔۔۔ معذرت ہو چکی ، مگر مجھے اپنی طرف سے یہ اضافہ کرنا ہے کہ بجا کہ راشد کی چاروں نظموں کے مزاج، آہنگ اور معیار میں فرق سہی ، بعد کی نظمیں اثر انگیزی میں کم سہی مگر واقعہ یہ ہے زمانی وقفوں سے تخلیق ہونے والی یہ سب نظمیں معنیاتی سطح پر ایک د وسرے سے مربوط ہیں ۔

خواتین و حضرات !

ن م راشد نے اپنی نظم “حسن کوزہ گر” کے چار حصوں میں بہ ظاہر ایک کہانی کہی ہے ۔ کہانی کا مرکزی کردار ، جو بہ ظاہر راوی ہونے کا سوانگ بھر رہا ہے وہ بغداد کا حسن نامی ایک کوزہ گر ہے ۔ جب وہ ایک روز بازار سے گزر رہا ہوتا ہے کہ اس کی نظر عطار یوسف کی دکان کے سامنے سے موجود “جہاں زاد” پر پڑتی ہے :۔۔۔۔/تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف/کی دکّان پر میں نے دیکھا/تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی/تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں/جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں/۔۔۔”یہ بات نوٹ کرنے کی ہے احباب حاشیہ کہ نظم عین آغاز میں ہی واقعاتی ترتیب میں اکھاڑ پچھاڑ لاتی ہے ، دیکھئے نظم وہاں سے شروع نہیں ہو رہی جہاں سے حسن کوزہ گر کی نظر جہاں زاد پر پڑی تھی بلکہ اس کے بیچ بہت سا زمانی عرصہ گزر چکا ہے جس میں نو سال کی دیوانگی کا زمانہ بھی شامل ہے۔ راوی کا بہروپ بھرنے والا (میں یہ وضاحت آگے چل کر کروں گا کہ میں حسن کوزہ گر کو راوی کیوں نہیں کہہ رہا راوی کا سوانگ بھرنے والا کیوں کہہ رہا ہوں )حسن کوزہ گر سوختہ سر ہے اور نیچے گلی میں کھڑا جہاں زاد سے مخاطب ہے اور اسے بتانا پڑ رہا ہے کہ وہ حسن کوزہ گر ہے: “جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے/یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!”۔ یہاں بظاہر راشد کا تراشا ہوا یہ کردار ہماری اپنی عشقیہ روایت سے مستعار لیا ہوا کردار لگتا ہے ۔ ایک ایسا شخص ، دل جس کے قابو میں نہ رہا، جو عشق میں مبتلا ہوا اور اپناآپ بھول بیٹھا : ” ۔ ۔ ۔ ۔/یہ وہ دور تھا جس میں میں نے/کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب/پلٹ کر نہ دیکھا۔۔۔ /وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے/گل و رنگ و روغن کی/مخلوق بے جاں/وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے/حسن کوزہ گر اب کہاں ہے/وہ ہم سے خود اپنے عمل سے/خداوند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں” یہیں اس نظم کا وہ ٹکڑا بھی دھیان میں رہے جس میں اپنی وفا شعار بیوی کوحسن نے سوختہ بخت کہا تھا ، جو اسے چاک پر پا بہ گِل سر بزانو دیکھتی تو اسے اس کیفیت سے نکل آنے کو کہتی اور سمجھاتی کہ اسے اپنی خستہ معیشت اور جینے کے سہارے چاک سے دل لگانا چاہیئے۔”۔۔۔/تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی ۔۔۔/وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا/وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی/حسن کوزہ گر ہوش میں آ/حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر/یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے/حسن، اے محبّت کے مارے/محبّت امیروں کی بازی/حسن اپنے دیوار و در پر نظر کر”
حسن اس ساری صورت حال سے آگاہ تھا اور اپنی وفا شعار بیوی کی پکار کو ایسی نوائے حزیں گردانتا جیسےکسی ڈوبتے شخص کو زیرگرداب پکارا جارہا ہو ۔ تو یوں ہے صاحب کہ اپنے آپ سے، اپنے بال بچوں اور کام کاج سے بے نیاز کر دینے والےعشق کی روایتی کہانی ، نظم کے پہلے حصے کی حد تک یہاں تمام ہو جاتی ہے۔ مگر جناب نظم محض اتنی تو نہیں ہے اس میں بغداد کی ایک خواب گوں رات کا بھی تو ذکر ہے: ۔۔۔/جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات/وہ رود دجلہ کا ساحل/وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں/کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے/ایک ہی رات وہ کہربا تھی/کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجود/اس کی جاں اس کا پیکر/مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا/حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے/۔۔۔۔” تو گویا صاحب، یہ محض جہاں زادکی قاف کی سی افق تاب آنکھوں کی تابناکی نہ تھی کہ جس سےحسن کوزہ گرکےجسم و جاں، ابرو مہتاب کارہگزر بن گئے تھے، بیچ میں لذت بھرا جسم بھی آگیا تھا ۔ لیجئے یہیں کہیں شاعر نے حسن کوزہ گر کی زبان سے اس کردار کے لیے “شہراوہام کے خرابوں کا مجذوب “کی شناخت بھی قائم کی ہے اور نظم کا یہ حصہ یوں مکمل کیا ہے: “تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن/تو چاہے تو بن جاؤں میں پھر/وہی کوزہ گر جس کے کوزے/تھے ہر کاخ و کو اور ہر شہر و قریہ کی نازش/تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں/تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن/تو چاہے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب/گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب/معیشت کے اظہار ِ فن کے سہاروں کی جانب/کہ میں اس گل و لا سے ، اس رنگ و روغن/سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے/دلوں کے خرابے ہوں روشن۔ ” تو ایساے صاحب کہ یہ شہر اوہام وہی ہے جو ہمارے تجربے کی روایت میں ہے، اگر میں آنند جی کی زبان میں بات کروں تو جہاں زاد اس فاحشہ کی سی ہے جو ہمیں اپنے جلوے دکھاتی لبھاتی اور پہلی نظر میں نادان نظر آنے والی ، مگرآخر کار اپنی لذتوں کا اسیر کرکے خاندان، معیشت اور تخلیقی مزاج اور امکانات کو تباہ کر دینے والی ہے۔ یہ جو دنیا کو فاحشہ سے تعبیر دی جاتی ہے لبھانے والی ، لذت دینے والی اور گم راہ کر ڈالنے والی ، تو کیا یوں نہیں ہے کہ راشد نے بھی جہاں زاد کو اسی دنیا کا نمائندہ بنایا ۔ اس طرح دیکھیں گے تو یہ کرداراور خود حسن کوزہ گر کا کردار محض کہانی کے کردار نہیں رہیں گے ان کی علامتی جہت بھی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گی اور آپ جانتے ہی ہیں کہ علامتی کہانی کا ایک وتیرہ یہ بھی ہے کہ اس کا خارجی اسٹریکچر اتنا مربوط نہیں ہوتا جتنا کہ اس کے داخل میں موجود معنیاتی نظام ۔

“حسن کوزہ گر ” کے دوسرے حصے کو بھی میں پہلے حصے سے مربوط پاتا ہوں کہ اس میں بات اسی شب بے راہ روی کے نشاط کو یاد کرکے شروع کی جاتی ہے اور یہ انکشاف ہوتا ہے کہ جہاں زادی کی بے باکی کی وجہ سے اس کی بے راہ روی کی حقیقت حسن پر اس روز ہی کھل گئی تھی :”اے جہاں زاد،/نشاط اس شبِ بے راہ روی کی/میں کہاں تک بھولوں؟/زور ِ مَے تھا، کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی/کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا۔۔۔ /تجھے حیرت نہ ہوئی/کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئ شیشوں پر/اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت۔ ۔ ۔ /” یہ جو راشد نے یہاں شیشوں میں درزیں بنا ڈالیں تو یوں لگتا ہے ، جام ٹوٹے ، دریچوں کے شیشوں پر ، اور انہیں بھی توڑ کر یوں دولخت کرتے رہے کہ محض خراشیں نہ رہیں وہ درزیں بن گئیں ۔ خیر اس کے فاحشہ ہونے کی ،اسے اس رات ہی خبر تھی جس کا چرچا ہم نے آنند جی کی نظم میں دیکھاہے ۔ اس حصے میں اس رات کے علاوہ اس اپنا جھونپڑا ہے محرومیوں کی مکڑی کے جالوں والا ، افلاس کے مارے ہوئے اجداد کی نشانی معیشت کا نشان چاک ہے، اور وہ وفاشعار بیوی ہے جسے اب بھی حسن سوختہ بخت کہتا ہے ، سادہ محبت، جس میں شب وروز کا بڑھتا ہوا کھوکھلا پن ہے اور ایسی تنہائی جس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔ یہیں حسن ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے:۔ ۔ ۔ / تجھے جس عشق کی خو ہے/مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں/تو ہنسے گی، اے جہاں زاد، عجب بات/کہ جذبات کا حاتم بھی مَیں/اور اشیا کا پرستار بھی مَیں/اور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی مَیں!/تو جو ہنستی رہی اس رات تذبذب پہ مرے/میری دو رنگی پہ پھر سے ہنس دے!/عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟” اس ٹکڑے کو تعبیر دیے بغیر ہم محض اس نظم کی خارجی سطح پر تیرتے رہیں گے ۔ تاہم اگر میری ابتدائی معروضات آپ کے ذہن میں تازہ ہیں تو مجھے کچھ دہرانے کی حاجت نہیں رہے گی اور یہ ٹکڑا اپنی تفسیر آپ ہو جائے گا ۔ نظم کا یہ حصہ بھی یہ سجھانے پر تمام ہوتا ہے کہ ہر عشق ایسا سوال ہوتا ہے جس کا جواب عشق کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا اور یہ بات تو پہلے ہی کہی جا چکی کہ حسن جس عشق کی بات کر رہا ہے وہ اپنے آپ کو پہچاننے کا نام ہے۔ اسی سے ذات کا سمندر آئینہ ہوتا ہے ، اور یہی کسی بھی فن کی انتہا ہوسکتا ہے۔

خیر مجھے تو اس نظم کے خارجی اسٹریکچر میں بھی کوئی رخنہ نظر نہیں آتا ، اب تمنا کی وسعت کے معنی بھی طے ہو جاتے ہیں۔ اور اس بات کے بھی کہ اگر اپنے ایسے عشق کی فرمائش پر ایک تخلیق کار اپنے فن کی طرف لوٹ بھی جائے گا تو ممکن ہے وہ ایک خاص حد تک آگے بڑھے ، اپنے فن سے ایسے شرارے نکالے جس سے دلوں کے خرابے روشن ہوں مگر یہ امکان شاعر نے “لیکن” لکھ کر شروع کیا ہے کہ وہ جانتا ہے تمنا کی وسعت یہاں پہنچ کر تمام نہیں ہوتی ہے۔ خواتین و حضرات ! میں نے اس ابتدائی حصہ پر ذرا تفصیل سے اس لیے بات کی کہ جسے محض ماضی کا قصہ سمجھا جارہا ہے اس کی علامتی اورمتصوفانہ جہت بھی نمایاں ہو جائے۔ اب آپ بہ سہولت فیصلہ دے پائیں گے کہ:

۔ زندگی محض ایک خاندان کو پالنا اور اپنے معیشت کے چاک کو چلانے کا نام نہیں ہے

۔ عشق محض کسی کی نگاہ کا اسیر ہونے اور اس کے جسم کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں ہے

۔ فن محض ذریعہ معاش نہیں ہوتا، سچی لگن اور تمنا کی بے پناہ وسعت ہی اس میں ایسے شرارے بھرسکتی ہے جس سے دلوں کے خرابے روشن ہوتے ہیں

۔ عشق وہی سچا ہے عاشق کو ذات کی معرفت دے ، تمنا کی اس وسعت کے ساتھ جس کا کوئی کنارا نہیں ہوتا

ن م راشد کی نظم ” انتقام ” پر آنند جی کا ہاتھ درست پڑا ہے۔ یہاں واقعی ایک فکری انحراف نظر آتا ہے :

“۔/ ۔ ۔ ۔/کہ شاید “رات بھر” میں/ “اپنے ہونٹوں سے” برابر صبح تک لیتا رہوں گا/”اس سے اس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام”/وہ “برہنہ جسم” وہ “چہرہ” وہ “خدوخال” سب کچھ/بن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے / اور یہ مکافاتی طریقہ / مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا!”

جی صاحب ، میں نے کہا کہ آنند جی نے راشد کی فکر پر خوب گرفت کی مگر یوں ہے کہ یہاں بھی وہ کچھ کچھ الجھا رہے ہیں ۔ مثلاً راشد کا جنسی تشدد والا رویہ محض “بودا” ہے نہ”بچکانہ” اور پھر “خدوخال” کے ساتھ “بن چھوئے” کے الفاظ لطف نہیں دے رہے۔ خیر میں آنند جی کی نظم “اے حسن کوزہ گر” کی طرف آنا چاہوں گا جو راشد، اس کے تراشے ہوئے کرداروں اور اس کے ڈھالے ہوئے ماحول سے مکالمہ کرنے کے جتن کر رہی ہے ۔

پہلے کچھ ن م راشد کی نظم” حسن کوزہ گر ” کے حوالے سے:

“حسن کوزہ گر” کے حوالے سے یہ جو کہا گیا ہے کہ اس “نظم کا ذہنی خاکہ’’وزیرِ چنیں‘‘ کی طرز پر تیار ہوا تھا”(“۔ ۔ ۔/ تو جب سات سو آٹھویں رات آئی / تو کہنے لگی شہرزاد/ ۔ ۔ ۔ ۔”)، مجھے بہت حد تک درست معلوم ہوتا ہے ۔ اور اس بات پر بھی دل ٹھکتا ہے کہ” تخلیقی عمل کے دوران میں شاعر کے لاشعور نے ایسی زقند بھری کہ نظم شاعر کی گرفت سے آزاد ہو کر نامعلوم بلندیوں کی طرف پرواز کرگئی۔” تاہم مجھے یہ مان لینے میں تامل ہے کہ ان نظموں میں کوئی معنوی بعد پیدا ہو گیا ہے یا یہ کہ اس کے تخلیقی خاکے میں راوی کے اعتبار سے اتھل پتھل ہو گئی ہے ۔ مجھے اپنی بات دلیل سے اور متن کے اندر سے ثابت کرنا ہو گی لہذا تھوڑا سا توقف کیجئے کہ ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے مجھے ابھی اس نظم کے مجموعی مزاج پر ایک دو باتیں عرض کرنا ہیں۔ مگر اس سے پہلے ایک وضاحت : ایک معزز رکن نے لکھ دیا تھا کہ یعنی راشد اور آنند جی کی نظمیں ایک ہی بحر میں ہیں۔تاہم اب ان کی طرف سے معذرت آگئی ہے کہ ایسا درست نہ تھا ۔ آنند جی نے ہی درست کہا ہے کہ ان نظم بحر متدارک میں ہے یعنی” فاعلن فاعلن” کی تکرار میں،جب کہ راشد کی حسن کوزہ گرکی پہلی اور چوتھی نظم ” فعولن فعولن” کی تکرار میں ، دوسری “فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ اور تیسری ” مفاعلن مفاعلن کی تکرار میں ہے ۔۔۔۔ معذرت ہو چکی ، مگر مجھے اپنی طرف سے یہ اضافہ کرنا ہے کہ بجا کہ راشد کی چاروں نظموں کے مزاج، آہنگ اور معیار میں فرق سہی ، بعد کی نظمیں اثر انگیزی میں کم سہی مگر واقعہ یہ ہے زمانی وقفوں سے تخلیق ہونے والی یہ سب نظمیں معنیاتی سطح پر ایک د وسرے سے مربوط ہیں ۔

“حسن کوزہ گر ” کے دوسرے حصے کو بھی میں پہلے حصے سے مربوط پاتا ہوں کہ اس میں بات اسی شب بے راہ روی کے نشاط کو یاد کرکے شروع کی جاتی ہے اور یہ انکشاف ہوتا ہے کہ جہاں زادی کی بے باکی کی وجہ سے اس کی بے راہ روی کی حقیقت حسن پر اس روز ہی کھل گئی تھی :”اے جہاں زاد،/نشاط اس شبِ بے راہ روی کی/میں کہاں تک بھولوں؟/زور ِ مَے تھا، کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی/کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا۔۔۔ /تجھے حیرت نہ ہوئی/کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئ شیشوں پر/اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت۔ ۔ ۔ /” یہ جو راشد نے یہاں شیشوں میں درزیں بنا ڈالیں تو یوں لگتا ہے ، جام ٹوٹے ، دریچوں کے شیشوں پر ، اور انہیں بھی توڑ کر یوں دولخت کرتے رہے کہ محض خراشیں نہ رہیں وہ درزیں بن گئیں ۔ خیر اس کے فاحشہ ہونے کی ،اسے اس رات ہی خبر تھی جس کا چرچا ہم نے آنند جی کی نظم میں دیکھاہے ۔ اس حصے میں اس رات کے علاوہ اس اپنا جھونپڑا ہے محرومیوں کی مکڑی کے جالوں والا ، افلاس کے مارے ہوئے اجداد کی نشانی معیشت کا نشان چاک ہے، اور وہ وفاشعار بیوی ہے جسے اب بھی حسن سوختہ بخت کہتا ہے ، سادہ محبت، جس میں شب وروز کا بڑھتا ہوا کھوکھلا پن ہے اور ایسی تنہائی جس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔ یہیں حسن ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے:۔ ۔ ۔ / تجھے جس عشق کی خو ہے/مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں/تو ہنسے گی، اے جہاں زاد، عجب بات/کہ جذبات کا حاتم بھی مَیں/اور اشیا کا پرستار بھی مَیں/اور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی مَیں!/تو جو ہنستی رہی اس رات تذبذب پہ مرے/میری دو رنگی پہ پھر سے ہنس دے!/عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟” اس ٹکڑے کو تعبیر دیے بغیر ہم محض اس نظم کی خارجی سطح پر تیرتے رہیں گے ۔ تاہم اگر میری ابتدائی معروضات آپ کے ذہن میں تازہ ہیں تو مجھے کچھ دہرانے کی حاجت نہیں رہے گی اور یہ ٹکڑا اپنی تفسیر آپ ہو جائے گا ۔ نظم کا یہ حصہ بھی یہ سجھانے پر تمام ہوتا ہے کہ ہر عشق ایسا سوال ہوتا ہے جس کا جواب عشق کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا اور یہ بات تو پہلے ہی کہی جا چکی کہ حسن جس عشق کی بات کر رہا ہے وہ اپنے آپ کو پہچاننے کا نام ہے۔ اسی سے ذات کا سمندر آئینہ ہوتا ہے ، اور یہی کسی بھی فن کی انتہا ہوسکتا ہے۔

احباب حاشیہ : نظم کا تیسرےحصے اور پہلے دوحصوں کے بیچ بھی مجھے کوئی رخنہ نظر نہیں آیا۔ یہاں بھی حسن کوزہ گر ہی راوی کا سوانگ بھرے ہوئے ہے۔ اس حصے میں بھی حلب کی کارواں سرا کا حوض ہے اور رات وہ سکوت،جس میں حسن اور جہاں زاد تمام رات ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے۔ حتی کہ وہ وہاں سے لوٹا تو یہ وہم بھی اس کے دل میں تَیرنے لگا تھاکہ ہو نہ ہو اس کا بدن وہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیاتھا۔ خیر یہ حسن کو جلد ہی خبر ہو گئی کہ ؛۔۔۔/”مَیں سب سے پہلے “آپ“ ہُوں/اگر ہمیں ہوں۔۔۔ تُو ہو او مَیں ہوں ۔۔۔۔ پھر بھی مَیں/ہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں/اگر مَیں زندہ ہوں تو کیسے “آپ“ سے دغا کروں/کہ تیری جیسی عورتیں، جہاں زاد/ایسی الجھنیں ہیں/جن کو آج تک کوئی نہیں “سلجھ“ سکا/جو مَیں کہوں کہ مَیں “سلجھ“ سکا تو سر بسر/فریب اپنے آپ سے” اب وہی زمانہ کے فاحشہ ہونے والی بات دھیان میں رہے تو جس گوں کا علامتی کردار ن م راشد نے حس کوزہ گر کی صورت میں تراشا ہے وہ ، جہاں زاد(زمانے کی جنی ہوئی) کی قربت کے لطف اورلذتوں سے کیسے اپنے آپ کی نفی کر سکتا ہے ۔ معنیاتی سطح پر دیکھیں تو یہاں شاعر کسی صنفی تعصب کا مرتکب بھی نہیں ہوا کہ اس نے دنیا کو فاحشہ کے روپ میں دیکھا ہے، عورت کو نہیں۔ اچھا نظم میں دنیا کے ایک بیٹے کا کردار بھی آتا ہے لبیب ، یوں تعصب کا شائبہ سا بھی ، جو پڑھتے ہوئے قاری کو بدمزا کرتا ہے لبیب کے آنے سے کافور ہو جاتا ہے ۔ اس لبیب کا ذکرتمام رات جہاں زاد کےلب پر رہا تھا ، اس کے گیسوؤں کو کھینچنے اور لبوں کو نوچنے والے لبیب کا ذکر اپنی معشوق کے لبوں سے سن کر بھی اس کی طرف متوجہ رہنا ، زن فاحشہ ہوجانے والی اس دنیا کی طرف ہمارے اس قدر متوجہ رہنے سے عبارت ہے جس میں تخلیقی سطح پر وجود فنا ہوجایا کرتا ہے۔ اس تعلق کی بنیاد پر جو مثلث بنتی ہے اس کا قصہ نظم یوں کہتی ہے ۔ “جہاں زاد/ایک تو اور ایک وہ اور ایک مَیں/یہ تین زاویے کسی مثلثِ قدیم کے/ہمیشہ گھومتے رہے/کہ جیسے میرا چاک گھومتا رہا/مگر نہ اپنے آپ کا کوئی سراغ پا سکے۔۔۔/مثلثِ قدیم کو مَیں توڑ دوں، جو تو کہے، مگر نہیں/جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اِس مثلثِ قدیم کا”۔ اسی حصے میں کوزے بنتے بنتے “تو” بھی بنتے ہیں اِس وصالِ رہ گزر کی نشاط حسن کوزہ گر کو ناگہاں نگل بھی جاتی ہے ۔ راشد نے حسن کوزہ گر کے علامتی کردار کی زبان سےعشق کو انتہائے معرفت کا نام دیا ۔ ۔۔۔”/مَیں ایک غریب کوزہ گر/یہ انتہائے معرفت/یہ ہر پیالہ و صراحی و سبو کی انتہائے معرفت۔” اس معرفت کے باوجود آدمی کا پھسلے چلے جانا ایک واقعہ ہے اور حسن کوزہ گر اس کی علامت۔ تاہم نظم کے اس حصہ کے آخر میں حسن کا باطن یوں جاگ اٹھتاہے جیسے خدا کے لاشعور میں بہشت جاگ اٹھتی ہے ، یہیں اس نے اپنے تخلیقی باطن کو ریت پر پڑے غنودہ کوزوں کے جاگنے سے تعبیر دی ہے ۔ ۔۔۔”/مِرے دروں میں جاگ اُٹھے/مرے دروں میں اِک جہانِ بازیافتہ کی ریل پیل جاگ اُٹھی/بہشت جیسے جاگ اُٹھے خدا کے لا شعور میں/مَیں جاگ اٹھا غنودگی کی ریت پر پڑا ہُوا/غنودگی کی ریت پر پڑے ہوئے وہ کوزے جو/۔ ۔ ۔مرے وجود سے بروں ۔۔۔/تمام ریزہ ریزہ ہو کے رہ گئے تھے/میرے اپنے آپ سے فراق میں،/وہ پھر سے ایک کُل بنے (کسی نوائے ساز گار کی طرح)/وہ پھر سے ایک رقص ِ بے زماں بنے/وہ روئتِ ازل بنے!

اب آئیے خواتین و حضرات ، نظم کے چوتھے اور آخری حصہ کی جانب ، جس کے بارے میں میرا ماننا ہے کہ یہاں راوی دو ہو گئے ہیں ۔ تاہم یہیں میں اسے نظم کی خامی نہیں مانوں گا کہ نظم میں باقاعدہ اس کا جواز موجود ہے ۔ میں اوپر حسن کوزہ گر کو راوی نہیں بلکہ ایسا کردار کہتا آیا ہوں جس نے روای کا سوانگ بھرا ہوا ہے ؛ ایسا کہنے کا جواز اب میں آپ کے سامنے رکھ سکتا ہوں ۔ نظم کے چوتھے حصہ میں اعلان ہورہا ہے کہ فی الاصل اس نظم کہانی کا راوی خود شاعر ہے ، جو پہلے حسن کوزہ گر کے وجود میں بیٹھا ہوا تھا۔ : “جہاں زاد، کیسے ہزاروں برس بعد/اِک شہرِ مدفون کی ہرگلی میں/مرے جام و مینا و گُلداں کے ریزے ملے ہیں/کہ جیسے وہ اِس شہرِ برباد کا حافظہ ہوں/حَسَن نام کا اِک جواں کوزہ گر ۔۔۔ اِک نئے شہر میں ۔۔۔/اپنے کوزے بناتا ہوا، عشق کرتا ہوا/اپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہے/ہمیں میں (کہ جیسے ہمیں ہوں) سمویا گیا ہے/کہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سے/(ہزاروں برس رینگتی رات بھر)/اِک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریں/بناتے رہے ہیں/اور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلے/یہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گر/ایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیں۔،،

احباب حاشیہ ! اس چوتھے حصہ میں اور درج بالا ٹکڑے میں راشد ماضی کے اپنے تراشے ہوئے کردار حسن کوزہ گر کا کہانی کے راوی سے معزول کرتا ہے تاہم اس کا قرینہ موجود ہے اور اس کا جواز بھی ۔ اب وہ اپنے زمانے کے ساتھ جڑتا ہے ، ہزاروں سالوں بعد، کہنہ پرستوں کے انبوہ کو دیکھتا ہے یہ ماضی پرست تہذیبی اقدار اور اس کی علامتوں کی روح سے آگاہ نہیں ہیں ۔ صاحب یہی وہ مقام ہے جہاں راشد کو ماضی بامعنی نظر آتا ہے۔ یہیں راشد نے اس درد رسالت کے روز بشارت کو یاد دلایا،جسے بہ ہر حال جام و مینا کے تشنہ لب تک پہنچناہے ۔ ایک سچے تخلیقی آدمی کے مقدر میں ہے کہ وہ اس درد رسالت کو سہے جو راشد نے سہا ہے اور اس سے ایک نتیجہ اخذ کرکے اس نظم کو اردو ادب کی بڑی نظموں میں رکھ دینے کے قابل بنا دیا ہے۔” یہ کوزوں کے لاشے، جو اِن کے لئے ہیں/کسی داستانِ فنا کے وغیرہ وغیرہ/ہماری اذاں ہیں، ہماری طلب کا نشاں ہیں/یہ اپنے سکوتِ اجل میں بھی یہ کہہ رہے ہیں/وہ آنکھیں ہمیں ہیں جو اندر کھُلی ہیں/تمہیں دیکھتی ہیں، ہر ایک درد کو بھانپتی ہیں/ہر اِک حُسن کے راز کو جانتی ہیں/کہ ہم ایک سنسان حجرے کی اُس رات کی آرزو ہیں/جہاں ایک چہرہ، درختوں کی شاخوں کی مانند/اِک اور چہرے پہ جھُک کر، ہر انسان کے سینے میں/اِک برگِ گُل رکھ گیا تھا/اُسی شب کا دزدیدہ بوسہ ہمیں ہیں” لیجئے صاحب نظم یہاں تمام ہوئی معنوی لحاظ سے پوری طرح مربوط اور مکمل ، میں مانتا ہوں کہ عورت کے بارے میں راشد کے خیالات میں ایک طرح کی کجی پائی جاتی ہے مگر اس نظم میں وہ اس تہمت سے بھی بچ گیا ۔ یہ بھی مانتا ہوں کہ نظم جو معنیاتی نظام بناتی ہے وہ راشد کی اس فکر سے انحراف سے عبارت ہے جس کا شعوری سطح پر وہ پرچار کرتے رہےتاہم میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظم تخلیقی سطح پر راشد کے باطن سے منحرف نہیں ہوئی ہے ۔ راشد نے اس نظم میں ماضی، روایت اور تہذیب سے ایک بامعنی تعلق قائم کیا ہے ۔ ایسا تعلق کہ جو مستقبل گیر ہو سکتا ہے ۔

ستیہ پال آنند کی نظم “اے حسن کوزہ گر” کے باب میں:

احباب حاشیہ ، یہ میں پہلے ہی کہہ آیا ہوں کہ اس نظم کی تیکنیک بھی لگ بھگ وہی بنتی ہے جو ، آنند جی نے “مجھے نہ کر وداع” میں برتی ہے ۔ وہاں اس کا اعلان نہ کیا گیا تھا کہ ان کی نظم میں” رید کتیو اید ابسرد م” والی تکنیک استعمال ہوئی تھی ۔ تاہم یہ اطلاع اس نظم کےپڑھنے والوں کو فراہم کر دی گئی ہے۔ نظم کے علاوہ اگر کوئی متن نظم کے ساتھ نتھی کردیا جائے تو یقیناً اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے اور جہاں تک میں سمجھا ہوں یہاں اس نوٹ کا مطلب اس نظم کو ایک خاص تناظر دینے کا ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ “اے حسن کوزہ گر” لکھتے ہوئے نظم سے وہ معنی اخذ کیے گئے ہیں جو راشد کے ہاں ہوں گے ، یا جو اس فن پارے سے پھوٹے پڑ رہے ہیں اور شاید اس تیکنیک کے تحت آنند جی اس کے مکلف بھی نہیں رہے ، لہذا ہم آنند جی کی نظم پر بات کرتے ہوئے راشد کی نظم کے صرف ان علاقوں کی طرف اشارہ کریں گے جو آنند جی کی نظم کے تصرف میں رہے ہیں ۔ “اے حسن کوزہ گر” میں عین آغاز میں ہی راشد کی نظم کے اس راوی کی شناخت کا سوال اٹھایا گیا ہے :”اے حَسن کوزہ گر/کون ہے تو؟ بتا/اور” تُو“ میں بھی شامل ہے، ”ہاں“ اور ”نہیں”/تُو جو خود کوزہ گر بھی ہے، کوزہ بھی ہے/اورشہر حلب کے گڑھوں سے نکالے ہوئے/آب وگل کا ہی گوندھا ہوا ایک تودہ بھی ہے/جو کبھی چاک پر تو چڑھایا گیا تھا، مگر/خشک کیچڑ سا اب سوکھتے سوکھتے/اپنی صورت گری کی توقع بھی از یادِ رفتہ کیے/چاہ نیساں کی گہرائی میں/خواب آلودہ ہے” یہ نظم کا آغاز ہے ، اور عین آغاز سےیوں لگتا ہے کہ اس تیکنیک کے حوالے سے وہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر نے راشد کی نظم کے سامنے آئینہ رکھا ، عام آئینہ نہیں بلکہ میلوں ٹھیلوں والا چہرے کے چوکھٹے کو گڈمڈ کر دینے والا آئینہ، تو ایک لحاظ سے درست ہی کہا گیا تھا ۔ وہ یوں کہ ایک تو آنند جی نے اس کردار کوراشد کی نظم کے مجموعی تناظر میں نہیں دیکھا ، بس اتنا دیکھا ہے جتنا کہ اس آئینے کے فریم کے اندر سما گیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس کے باطن میں موجود معنیاتی نظام کو مدنظر رکھنے کی بہ جائے صرف اس کے خارج میں موجود واقعاتی سطح سے معاملہ رکھا ہے ۔ آئینہ بھی باطن سےسروکار نہیں رکھتا وہ دکھاتا جو سطح سے اخذ کرتا ہے۔ اور اب چوں کہ یہ آئینہ ” رید کتیو اید ابسرد م” کی تیکنیکی زنگار والا ہے لہذا مبالغہ کی حد تک تضادات کو اخذ کیا گیا ہے ۔ جس طرح پکاسو کو حق تھا کہ وہ تصویر بناتے ہوئے چہرہ گڈمڈ کر دیے ، اتنا کہ اصل کہیں پس منظر میں چلا جائے اورتھامس ناسٹ کو حق تھا کہ وہ کیری کیچر بناتے ہوئے نقل بہ مطابق اصل نہ بنانے، اسے مضحک بنادے ، آنند جی کو بھی حق ہے کہ ” رید کتیو اید ابسرد م”کے وسیلے وہ تضادات جو وہ متن کے اوپر سے اپنی صواب دید کے مطابق اٹھائیں اور معنی اوندھا دیں ۔ تو یوں ہے کہ انہوں نے نظم کےخارج میں موجود شواہد کو لے کر باطنی معنوں کو اوندھا کر رکھ دیا ہے۔

احباب گرامی، کیا اس پوری نظم میں جنس کو اس سطح پر برتا گیا ہے جس سطح پر آنند جی کی نظم اسے زیر بحث لاتی ہے ، شاید نہیں بلکہ یقیناً اس کا جواب ہوگا نہیں، بالکل نہیں۔ میں نہیں کہتا کہ راشد کا مسئلہ کبھی جنس نہیں رہا، ضرور رہا ہے اور شاید مریضانہ حد تک یہ رویہ اس کی نظموں میں بھی ظاہر ہوا ہے مگر بات اس نظم کی ہو رہی ہے ایک ایسی نظم جس کے تخلیقی وفور نے اس کے صنفی تعصب کو بھی پچھاڑ دیا ہے ، وہاں ایک رات ، صرف ایک رات والی جنس جو آخر تک عورت کے وجود سےمحض ایک الجھن سے زیادہ شاعر کو کچھ نہیں دے پاتی ، کیسے اس سارے مکالمے کا جواز ہو سکتی ہے جو “اے حسن کوزہ گر” میں انتہائی مشاقی سے آنند جی نے قائم کر دیا ہے کہ پڑھتے ہوئے مفہوم کا یوں اوندھایا جانا ہی اس تخلیق پارے کو الگ دھج کافن پارہ بنا دیتا ہے ۔خود آنند جی ہی کے مطابق:

“جس میں حسن کوزہ گر کومیری نظم میں براہ راست مخاطب کیا گیا ہے، وہ ان سطور کے بارے میں ہے جو اس کے “مردانہ پن” پر دلالت کرتی تھیں۔ یعنی “ریڈکتیو اید ابسردم” کے طریق کار کے الٹ طریق کار “ایکزیجریشن اید ابسردم” کو بروئے کار لاتے ہوءے “مردانہ پن کے نہ ہونے” پر دلالت کرتی تھیں۔ یہ سطریں دیکھیں۔اے حَسن کوزہ گر/ بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہم زاد سے / اور ڈر مت حقیقت سے اپنے بدن کی /کہ ڈر ہی ترے جسم و جاں کو ہے جکڑے ہوئے /تشنگی جاں “کی، یعنی خود اپنی ہی مٹھی میں پکڑی ہوئی / ادھ مری خشک جاں / العطش العطش ہی پکارے گی اب آخری سانس تک /کیوںکہ تو جسم اپنا تو اس ’حوض بستر‘ میں ہی چھوڑ آیا تھا / جس میں جہاں زاد کے جسم کی/گرم ، مرطوب دل داریوں کی تمازت/ابھی تک تڑپتی ہے لیٹی ہوئی //اور جنّت کے موذی سی بل کھاتی چادر کے بد رنگ دھبوں میں/۔۔۔ لپٹی ہوئ
اس سے آگے کی سطریں تو حقیقت کو بیان کرنے کے فرض کی ادائی کچھ زیادہ ہی صراحت سے کرتی ہیں۔ ایک شب ہی حسن صرف کافی تھی تیرے / ہنر کی نمائش کی یا امتحان کی، مگر / تیری پسپائی تیرا مقدر بنی / اور کرتا بھی کیا ؟ / سب بنے، ادھ بنے / “سارے مینا و جام و سبو اور فانوس و گلدان” تو / بس وہیں چاک پر “ان جنی اپنی مخلوق کو ترک کر کے / حلب چھوڑ کر / سوئے بغداد کیوں گامزن ہو گیا؟۔۔۔۔۔اب سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا حسن کوزہ گرکا یہ روپ نون میم راشد کا وہ مخفی روپ ہے جسے وہ چھپائے ہویے پہلے ایران اور پھر لنڈن، نیو یارک، میں پھرتا رہا۔ لیکن اس نے اسے چین نہیں لینے دیا، اور تخلیق کے دھارے میں بہتے ہوءے اس نظم میں سطح پر ابھر آیا۔”

اس طویل اقتباس سے آپ احباب نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ آنند جی راشد کے حسن کوزہ گر سے مکالمہ کرتے کرتے، اپنی تخلیق سے پھوٹنے والے اوراپنی نظر سے دیکھے ہوئے راشد کو کم کم جب کہ ساقی فاروقی اور دوسروں کی زبان سے سنے ہوئے راشد کو یہاں زیادہ برتا ہے ۔ ن م راشد کا حسن کوزہ گر اپنے “آپ” کی طرف پلٹتا ہے اس کے یوں پلٹنے کو بہ سہولت مثبت معنی بھی دے جاسکتے تھے مگر جس راشد سے آنند جی کا اس تیکنیک کے توسل سے معاملہ ہو رہا ہے، اس کے سطح پر سے اخذ کیے گئے معانی کو ہی متحرک کیا جاسکتا تھا ۔

اچھا’ ماقبل شاعر کو، اس کی فکر اور کردار کو اس طرح دیکھنا کہ اچھا بھلا چہرہ کچھ کا کچھ ہو جائے خود راشد کو بھی عزیز رہا ہے ، اس نے اقبال سے لگ بھگ ایسا ہی معاملہ کر رکھا ہے ۔ اقبال نے یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم کو جہاد زندگانی میں مردوں کی شمشیر قرار دیا تو راشد نے کہا تھا :

اے فلسفہ گو/ کہاں وہ رویائے آسمانی /کہاں یہ نمرود کی خدائی/ تو جال بنتا رہا ،جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کے/ہم اس یقیں سے،ہم اس عمل سے، ہم اس محبت سے/آج مایوس ہو چکے ہیں” ۔

یا پھر “نیادور”میں چھپنے والی نظم “پریڈ” سے برآمد ہونے والا اقبال وہ نہیں ہے ، جو اپنی تحریروں میں نظر آتا ہے بلکہ وہ ہے جسے راشد نے اپنے تئیں اخذ کیا ہے:

“کرسمس کے دن/اقبال/اپنے گھر کے چبوترے پر کھڑا/روحوں کی پریڈ سے/ سلامی لے رہا تھا/ سب کے پائوں اکھڑے ہوئے تھے/ سوائے رومی کے/سوائے نیٹشے اور برگساں کے/ سوائےچند نیک دل بادشاہوں کے/ اقبال غصے میں بھرا ہوا /گھر کے اندرچلا گیا/اور دوبارہ/اپنی مومن بتیاں بنانے لگا/میری مومن بتی کیوں بجھ گئی ؟/ اسے پھر سے کیسے روشن کروں؟۔”

جس طرح راشد نے اقبال کے ہاں سے “مومن بتیاں” برآمد کر لی تھیں اسی طرح آنند جی نے راشد کے جہاں زاد جیسی عورتوں کو نہ” سلجھ” سکنے پر جھن جھنانے کو اور اپنے آپ کی طرف پلٹنے سے”مردانہ پن کے نہ ہونے” کو برآمد کر لیا ہے۔آنند جی نے” ریدکتییو اید ابسردم” کی تھیوری کے اطلاق سے راشد کو جس نہج سے عریاں کرنا چاہا تھا کر دیا اور میں اسے بھی مانتا ہوں کہ شاعر نے اپنےذہنی تجربہ سے اپنے ذہن میں عیاں ہو نے والے منظر سے چلتے ہوئے اور اپنے مفروضات کو تخیل کے خاکے میں ڈھالتے ہوئے اس عریانی سے الفاظ کے ملبوس کی طرف سفر کیا تو لائق توجہ فن پارے میں ڈھال لیا ہے ۔

احباب نظم میں راشد کی “تشنگی جاں ہو”یا “نو برس “بھٹکنے کا حوالہ ، عشق کے استعارے نہیں بنتے ایسا عکس بنتے ہیں جس میں جنسی تشنگی کا شاخسانہ ہو جاتے ہیں :”ہاں، ترا اس سفر پر نکلنا ضروری تھا/بغداد تھی جس کی منزل، (سکونت فقط نو برس کے لیے)/ہندسہ ’نو‘ کا گنتی میں اک رکن ہے، اک مفرد عدد/اے حَسن کوزہ گر/تو بھی ”الجھن“ ہے ان عورتوں کی طرح/جن کو سلجھا کے کہنا کہ ہم نے انھیں پا لیا/واہمہ ہے فقط/کیوں کہ میرا بدن جو کہ تیرا بھی تھا اور کوزوں کا بھی/تو وہیں حوض میں ڈوب کررہ گیا تھا اسی رات/جب ہم بچھڑنے سے پہلے ملے اور گم ہو گئے/تجھ کو اتنا توشاید پتا ہے کہ شب جوترے ذہن میں/ڈائنوں سی کھڑی ایک عشرے سے اک سال کم/تجھ کو کیوں، اے حسن، پورے نو سال دھوکے میں رکھ کر/بلاتی رہی ہے حلب کی طرف/وہ تو اب ایک”لب خند“ عورت ہے، لڑکی نہیں/۔۔۔”

یہ جو کہا جا رہا ہے کہ آنند جی نے اس نظم کے ذریعہ راشد کی نظم کے حوالے سے تنقیدی سوالات قائم کیے ہیں ۔ اچھاآنند جی نے اپنی نظم پر بات کرتے ہوئے بہت سے تنقیدی مباحث کو چھیڑا ایک ایک کرکے کئی تھیوریوں کو گنوادیا مگر نظم کے اوپر قائم کیے گئے نوٹ ، اور نظم کے قرینے کو دھیان میں رکھا جائے تو ہم اپنے آپ کواپنے آپ کو راشد کی نظم سے برآمد ہونے والے کسی اور معنیاتی نظام کی بہ جائے ان ہی معنوں سے معاملہ کرنے کے پابند ہو جاتے ہیں ، جو اس تیکنیک کے خاص وسیلے سےآنند جی کی نظم کےمتن سے برآمد ہو رہے ہیں ۔ تو یوں ہے آنند جی نے اسے خوب رواں دواں بنا ہے ، قصے کی طرح دلچسپ بنایا ہے اور اس میں راشد کی جنس کی متھ سے نہ صرف خوب خوب لذت برآمد کی ہے ، انسانی رشتوں کے حوالوں سے اور عورت مرد کے حوالوں سے ایک نقطہ نظر بھی قاری تک منتقل کیا ہے جو راشد کے حوالے سے بنائی ہوئی متھ کو رد کرتا ہے ایک مقدمہ قائم کرتا ہے اور راشد کو مجرم بنا ڈالتا ہے۔ اسی جہاں زاد سے شاعر اپنی رسم و راہ کی صورت دکھاتا ہے تو راشد کی نظم کی فضا واقعی پس منظر میں چلی جاتی ہے: ۔۔۔/ہاں، جہاں زاد سے میری بھی رسم و رہ ایک مدّت سے ہے/اور فن کے تجاذب کی تحریک بھی مجھ کو دی ہے کسی ایک ”نادان“ نے/اپنی کچی جوانی کی نا پختہ پہلی بلوغت کے دن/جب وہ ”نادان“ تھی/میں بھی نادان تھا/نا رسا آس تھی/بے طلب پیاس تھی/چار سو یاس تھی/اس زمانے میں تو/بس ”گماں“ ہی ”گماں“ تھی مری زندگی/کچھ بھی ”ممکن“ نہ تھا/ما سوا اک گزرتی ہوئی رات کے/صبح آئی تو پھر یوں لگا/جیسے خورشید اپنے افق سے فقط ایک لمحہ اٹھا/اورسارے ”طلوعوں“ کی دیرینہ تاریخ کو بھول کر/پھر افق میں وہیں غوطہ زن ہو گیا/۔۔۔”

جی ،زبان کا مواد اور فضا بے شک راشد کی سہی مگر جس طرح آنند نے اسے اپنے وجود اور اپنی ذات سے جوڑ ا ہے ، سب کچھ مختلف اور نیا نیا ہوگیا ہے۔ آخر میں آنند جی کا یہ سوال، ایک فیصلہ کی صورت سامنے آتا ہے کہ غالباً راشد کا “حسن کوزہ گر” کی تخلیق کا مقصد یہ تھا کہ کوزے پکانے والی بھٹی کی سوئی ہوئی راکھ سے چند سلگتےہوئے انگار ے تلاش کیے جائیں اور ایک کہانی گھڑلی جائے ۔ راشد نے کہانی تو گھڑ لی مگر اسے وہ پذیرائی نہ ملی پائی جو اس طرح کے قصوں کا مقدر ہو جایا کرتی ہے ۔ ۔۔/ہاں، حسن کوزہ گر کی جہاں زاد کو/وہ رسائی نہ مل پائی جس کی وہ حق دار تھی/اور راشد کا فن/لوک قصّوں، اساطیر یاعشق کی/داستانوں کے فن سے بہت دور تھا/یہ بھی سچ ہے کہ راشد کی یہ چار نظمیں بہت خوب ہیں/پر مورخ کی یا قصّہ گو کی نہیں”

تو یوں ہے کہ وہ تفہیم جو میں نے راشد کی “حسن کوزہ گر” کے باب میں کی، اسے بھول جائیں اور آنند جی کی” ریدکتییو اید ابسردم” کی تھیوری کے اطلاق سے تخلیق ہونے والی “اے حسن کوزہ گر” کی روشنی میں اسے دیکھیں تو یہ نظم وہ رسائی پانے میں ناکام نظر آتی ہے ۔ وہ تو ہم سب کا اس کی طرف توجہ سے دیکھنا کو ئی کم اہم واقعہ نہیں ہے۔

احباب حاشیہ! ضروری نہیں ہوتا کہ ہم اس فکری نظام کو کہ جو کسی فن پارے میں سے چھلک رہا ہوتا ہے اسے مان لیاجائے ، اس منظق کو بھی تسلیم کرلیں جو اس فن پارے کو تخلیق کرنے والے کو عزیز ہوگئی تھی مگر جس قرینے کا وہ فن پارہ بنا ہے اپنے فضا کے اعتبار سے اور اپنی جمالیات کے اعتبار سے ، اسی سے اسے آنکنا چاہیئے ۔ “اے حسن کوزہ گر” اس اعتبار سے ایک کامیاب اور نمایاں نظم ہے کہ وہ اردو کی ایک نمایاں اور کامیاب اور بڑی نظم سے مکالمہ کرتی ہے ، اس کی تخلیقی فضا سے جڑتی بھی ہے اور اس کے آفاق وسیع بھی کرتی ہے ، اس کے معانی کی ایک جہت میں” اضافہ” کرکے نئے معنی ڈھالتی ہے اور اتنی اہم ہو جاتی ہے کہ جب بھی “حسن کوزہ گر” کا حوالہ آئے گا ، اس ” اے حسن کوزہ گر” کو بھی یاد کیا جائے گا ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

معاصر اردو افسانہ:حرف کدہ میں محمد حمید شاہد سے مکالمہ

23 اکتوبر 2017 کی شام حرف کدہ راولپنڈی میں محمد حمید شاہد سے معاصر اردو …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *