M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / منشایاد کے افسانے اور ہماری نسائی تہذیب|محمد حمید شاہد

منشایاد کے افسانے اور ہماری نسائی تہذیب|محمد حمید شاہد

Mansha Yaad
فکشن میرے عہد کا|محمد حمید شاہد
میں منشایاد کے افسانے کی عورت پر بات کرنا چاہتا ہوں اور راجند سنگھ بیدی کی عورت یاد آنے لگی ہے ۔ بیدی کی عورت سے منشا کی عورت کا کیا سمبندھ؟ آپ حیران ہو کر حرف گیر ہورہے ہیں ‘ آپ کا متعجب ہونا یقیناًاس صورت واقعہ سے پھوٹا ہے کہ بیدی اور منٹو کے افسانوں میں عورتوں کے کردار بنیادی حوالے کے طور پر آتے ہیں‘ اس طرح کہ وہ ان دو فن کاروں کی شناخت بن جاتے ہیں ۔ منٹو کو اگر چکلے والی اور گناہ میں پڑی ہوئی عورت کے ذریعے تہذیب و تمدن کی چولی اتارنے والے کے طور پر پہچانا جاتا ہے تو بیدی کو اس گرہستن اور خاندان سے جڑی ہوئی عورت کے ذریعے جو اپنے صبر سے اپنا اور کٹھور معاشرے کا سر پھوڑتی ہے ۔ منشایاد کی شناخت بنانے میں اس کی دیہی عورت کاخاطر خواہ حصہ ہوکر بھی اس کی اپنی فکشن کے دیگرلوازم سے تناسب میں کم بنتا ہے ۔ وہ لوازم جو موضوعات ‘ فضابندی اور منظر نگاری سے شاخت ہوتے ہیں۔ کرداروں کی اٹھان اور باہمی کشاکش کے علاوہ متنی و تخلیقی خواص کے امتزاج سے جمالیاتی پیکر بناتے ہیں۔ ان سب نے اس کے افسانوں کوایک خاص سطح پر پہنچادیا ہے ۔ تجسس ‘کشش اور سحر‘آپ منشایاد کے افسانے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو یہ تینوں لفظ بھی کیفیت بن کر آپ کے تخیل کے اندر حلول کر رہے ہوتے ہیں ۔ وقت تیزی سے ماضی حال اور مستقبل کے بیچ سعی کرتا ہے اور دیہی دانش کہیں انہونی کو ہونی کا سا بنا دیتی ہے اور کہیں ہونی شدنی وہ شکنجہ بن جاتی ہے جس میں جکڑی ہوئی انسانیت کراہ رہی ہے ۔ منشایاد کے ہاں ایسے موضوعات کی کمی نہیں ہے جو زندگی کی عام شاہراہ سے اٹھائے گئے ہوں لیکن ہوتا یوں ہے کہ روزمرہ کا دیکھا بھالا موضوع اس کے قلم اور تخیل کا لمس پاکر بھیدوں بھرا فن پارہ ہو جاتا ہے ۔۔۔ مگر صاحب ابھی منشایاد کی شناخت کے نمایاں نشانات پر بات نہیں ہورہی کہ اس نشست میں مجھے صرف اس کے افسانوں کی عورت پر بات کرنا ہے ۔
منشایاد کے ہاں ’تصویر زن سے کائنات میں رنگ والی عورت ہو یاوہ جسے حالی نے ’’ماؤں ‘ بہنو ‘ بیٹیو‘‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا ‘ ہر دو صورتوں میں عورت زمین کے ساتھ جڑ کر آتی ہے ۔ حافظ شیرازی کا ایک شعر ہے :
اگر شراب خوری جرعہ ای فشاں بر خاک
ازاں گناہ کہ نفعی رسد بہ غیر چہ باک
یعنی شراب پیؤ تو گھونٹ بھر شراب زمین پر بھی ڈال دو کہ اس گناہ سے کیا باک جس میں کسی کا بھلا ہو رہا ہو ۔ اور منشایاد کا معاملہ یہ ہے کہ وہ سارا لطف اپنے حلقوم میں اور ساری کی ساری شراب زمین پر پھینکتا رہا ہے ۔ بدلے میں زمین یوں مست ہو کر مہکی کہ اس کے افسانوں کا دامن معنویت اور جمال کی مستی سے کناروں تک بھر گیا ۔ منشایا د کی عورت بھی اسی شراب میں گوندھی ہوئی مٹی سے معتبر ہے ۔
معاف کرنا صاحب ‘کہ میں باتوں ہی باتوں میں آپ کا سوال اپنے پہلو میں رکھ کر بھول گیا تھا ۔ آپ کا سوال کچھ ایسا ہی تھا نا۔۔۔ بیدی کا حوالہ کیوں آیا ؟۔۔۔ ہاں سوال مزے دار ہے ۔ دیکھئے جی ‘ یہ بات تو طے ہو چکی‘کہ جب جب کسی نے فکشن میں جنس اور عورت کا مطالعہ کرناچاہا تومنٹواس کے اعصاب پر سوار ہو گیا اور جس نے دیہی پس منظر کے افسانوں میں عورت کو حزن کے کیف کی جھمر جھمر میں جانچنا چاہا ‘ اس کی سب سے پہلے بیدی سے ملاقات ناگزیر ہوگئی ۔۔۔ اور ہاں‘اس سے کون انکاری ہوگا کہ یہ اس امر واقعی کے باوصف ہو رہا ہے کہ منٹو محض جنس نہیں ہے اور نہ ہی بیدی کو حکیم نے اس سے پر ہیز کی تلقین کر رکھی تھی ۔ اپنے موضوع کے تعین کے ساتھ ہی میرابیدی کا ذکر لے بیٹھنا ایک تو اسی مجبوری کا شاخسانہ تھا‘ کہ وہ خود ہی میرے سامنے آبیٹھا تھا ۔ اور دوسری وجہ جو میں جان پایا ہوں وہ یہ بنتی ہے کہ میں نے منشایاد کی عورت کو ایک ایسے حزن کے ابتلا میں پایا ہے جس کا سلسلہ احساس کی سطح پر اگر کسی کے نسوانی کرداروں سے جوڑا جاسکتا ہے تو وہ بیدی کے افسانوں کے نسوانی کردار ہیں ۔ یہاں یہ وضاحت لازم ہو گئی ہے کہ یہ بات میں اس تناظر میں قطعاّ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں نے اس معاملے میں منشایاد کو بیدی کے مقلد کے طور پر شناخت کیا ہے بلکہ یوں ہے کہ دونوں کا اپنا اپنا دیہی ماحول ‘ کرداروں کے نین نقش ‘قد کاٹھ چال ڈھال ‘زبان اور موضوعات میں اتنے رخنے ہیں کہ مناسبتیں اور مشابہتیں تلاش کرنے نکلو تو کچھ ہاتھ نہیں آتا تاہم دونوں کے افسانوں میں ایک چیز ہے جو میں نے بطور خاص محسوس کی ہے اور وہ ہے دکھ کی ایک شدید لہر۔ دونوں کے ہاں یہ دکھ ‘ جدائی اور تاہنگ والا گیت بن جاتا ہے ۔ بیدی نے جب ’’لاجونتی‘‘ لکھتے ہوئے یہ بھی لکھ دیا تھا کہ ’’ ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی دے بوٹے ‘ تو ہمارے دلوں کو ایک پاکیزہ اور روشن حزن سے بھر دیا تھا۔ منشایاد کے ہاں بھی یہی دکھ یوں ہی ہلورے دیتا ہے ’’ ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں ‘ مینوں لے چلے بابلا لے چلے ‘‘(افسانہ: تیرہواں کھمبا)۔ میں سمجھتا ہوں کہ دُکھ اور جدائی کے احساس کی یہ لہر ‘جو دونوں کے ہاں شدت سے ظاہر ہوئی ہے‘ اس کا سبب ان دونوں کا پنجاب کی لوک روایات سے آگاہ ہونا اور اس کی مٹی سے مانوس ہونا ہے ۔ صوفیانہ روایات کی امین اس دھرتی سے جو دل سے وابستہ ہوتا ہے حزن کا خزانہ اس کے ہاتھ آہی جاتا ہے ۔
بیدی اور منشا دونوں کے ہاں ایک اور بات جو میں نے بطور خاص شناخت کی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں نے اپنے اپنے تخلیقی عمل کے آغاز سے ہی عورت کو بٹر بٹر تکنا شروع نہیں کر دیا تھا ‘ دونوں جھجکے اور ٹھٹکے تھے اور دونوں نے اسے رشتوں اور روایات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ عورت کو لکھتے ہوئے ‘ دونوں کو اپنی تخلیقی زندگی کے شروع میں حسی کی بجائے فکری سطح پر زیادہ متحرک پایا گیا ہے تاہم بعد میں دونوں کے ہاں فکری دھارے ادراکی حسیات میں تحلیل ہو جاتے ہیں ۔ بیدی نے اپنے مضمون ’’ افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل ‘‘ میں خود بتایا تھا کہ منٹو نے اس پر گرفت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ بیدی ‘ تمہاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو ‘ معلوم ہوتا ہے لکھنے سے پہلے سوچتے ہو ‘ لکھتے ہوئے سوچتے ہو اورلکھنے کے بعد بھی سوچتے ہو‘‘۔ اور منشایاد نے اپنی پہلی کتاب ’’بند مٹھی میں جگنو‘‘ کی دوسری اشاعت پر اپنے افسانوں میں موجود شدت کوجذباتیت قرار دیا تھا۔ منشایاد کے اسی شدت پسندی والے رویے کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا دوسرا افسانہ’’ جڑیں ‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ تاہم اس سے پہلے کارل گسٹاویونگ کی وہ بات‘ جس کے مطابق ‘ لاشعور میں نہاں باتوں سے کلی طور پر کٹنا ممکن ہی نہیں ہے تاہم وہ یہ بھی کہتا تھا کہ شعوری سطح پران سے دامن کشاں ہوا جاسکتا ہے ‘ان سے پیچھا چھڑانے‘ ان کو اندر کہیں دبا لینے یا اپنے بدلے ہوئے تہذیبی مزاج سے کچھ اور معنی بھی پہنائے جا سکتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ ان کا حیلہ کیا جاسکتا ہے ۔ جوں جوں لکھنے والا آگے بڑھتا ہے شاطر ہوتا جاتا ہے ‘ بچپنے کی معصومیت اور بے ساختگی پر مہارت اور فن کارانہ ساختگی تہیں جمانے لگتی ہے ۔ میں ایک اچھے لکھنے والی کے لیے شاطر اور چالاک ہونا بہت ضروری گردانتا ہوں مگر اس ساری چالاکی کو اس کی معصومیت اوربچپنے جیسی لپک اور بے ساختگی کے اندر چھپا ہواہونا چاہئیے منشایاد کے لا شعور کی تشکیل میں یقیناّ اس کے بچپن اور گھر کے ماحول کا اثر اس وقت بہت گہرا تھا جب وہ افسانہ ’’جڑیں‘‘ لکھ رہا تھا ۔ یہ ماحول ‘ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ‘ کہ منشایاد کو منٹو والی عورت‘( جو چکلے والی اور ٹکھیائی رنڈی تو ہو سکتی تھی چکی پیسنے والی ابیات گانے اور اپنے خاندان کے دکھ جرنے والی نہیں ہو سکتی تھی) سے دور لے گیا جبکہ اس نے عورت کے وجود کو رشتوں کی پاکیزگی اور تعلق کے خلوص کی ’’شدت ‘‘میں دیکھا۔ اس کہانی میں تین عورتیں ایک ساتھ آئی ہیں جو دوسری تین عورتوں کے پیکروں میں ڈھل کر کہانی کے مرکزی کردار جاوید پر قیامت ڈھا گئی ہیں ۔ نیک نہاد نوجوان جاوید جو ہاسٹل میں آنے سے پہلے اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتا تھا مگر کالج میں پہنچ کر اس کا شمار رجعت پسندوں اور دقیانوسی خیالات والوں میں ہونے لگا تھا ۔ یہاں تک پہنچ کر افسانہ نگار بین السطور یہ بتا چکا ہے کہ جاوید دیہات کے مصفا اور تہذیبی ماحول سے نکل کرشہر کے اس آلودہ ماحول میں پہنچ گیا تھا جہاں عورت کے حوالوں سے رشتوں اور تعلق کی وہ تمیز تیزی سے دھندلا رہی تھی جو اس کی سرشت اور لا شعور کا حصہ تھی ۔ کہانی میں یوں ہوتاہے کہ جاوید کو اس کے دوست ’بندے کا پتر‘ بنانے کے لیے شراب پلاتے ہیں‘ چرس کے سوٹے لگواتے ہیں اور زبردستی تھیٹرلے جاتے ہیں۔ یہیں اس کے سامنے تین عورتیں لائی جاتی ہیں ۔ تھیٹر کی اسٹیچ پر آنے والی عورتوں کو آپ منٹو کی عورت کہہ لیں اور جس روپ میں جاوید نے انہیں شناخت کیا اسے منشایاد کے ہاں کی وہ عورت جان لیا جائے جس سے ‘اپنے جذباتی پن پر قابو پاکربھی ‘وہ دامن کشاں نہ ہو سکا۔ لگ بھگ یہی کچھ بیدی کے ساتھ ہوا تھا۔ یہی سبب ہے کہ بید ی جب ’’لاجونتی ‘‘ لکھ رہا تھا یا منشا نے’’سزا اور بڑھادی‘‘ لکھا تو اس کے پیچھے وہی تہذیبی شعور کا دھارا بہر حال کام کر رہا تھا تاہم یہاں تک آتے آتے فکری شدت کی جگہ احساس کی شدت نے جمالیاتی آہنگ میں چلنا سیکھ لیا تھا ۔ خیر اس پر بات آگے چل کر ہو گی کہ فی الحال تو ہم منشایاد کے افسانے ’’جڑیں‘‘ پر بات کرنا چاہ رہے تھے ۔
اوہ ‘ اب اس کا کیا کیا جائے کہ خدا خدا کر کے ’’جڑیں‘‘ پر بات کرنے کا ماحول بنا تھا کہ تہذیبی جڑوں نے اپنی مٹی سے مہکتی میری چھاتی کو جکڑنا شروع کر دیا ہے ۔ معاف کیجئے کہ منشایاد کے ہاں پائے جانے والے عورت کے تصور کو Crude صورت میں دیکھنے اوردکھانے سے پہلے مجھے اپنی چھاتی کی جکڑن سے نمٹنا ہے ۔صاحب کرم کیجئے اور اس عورت کی بابت سوچئے جواپنی ہی تہذیب کی جڑوں کو کھود ڈالنا چاہتی ہے ۔ جی ‘ آپ نے درست گمان باندھا ‘میری مراد اسی عورت سے ہے جو نئی اور مستعار تہذیب کی چکا چوند میں ہمارے ہاں کے جنس زدہ مرد کو محبوب اور مرغوب ہو گئی ہے ۔ اندھی روشن خیالی اور مغرب زدگی میں بپا کی گئی عورتوں کی آزادی کی نام نہاد تحریکیوں کے بارے میں Barbra Sheterman نے جو کہا ‘ صاحب وہ تو پلو میں باندھنے کے لائق ہے‘ تاہم یاد رکھنا چاہیئے کہ باربرا کی یہ بات تب پلے پڑے گی جب ہم لمحہ بھر کو پیروی افرنگ کی اندھی خواہش سے الگ ہو کر سوچنے کے لائق ہو پائیں گے۔۔۔ کاش کہ ہو پائیں ؟ ۔۔۔ مگرکیسے ؟۔۔۔ مجھے تو اب اس کی ہر صورت معدوم ہوتے دِکھنے لگی ہے ۔ عجب ہوا چلی ہے کہ تہذیب کی ساری امی جمی اکھڑ تی چلی جاتی ہے ۔ باربرا کی وہ بات جو میں ایک بار پھر نقل کر رہا ہوں محمد سلیم الرحمن کے ترجمہ مطبوعہ سویرا سے نقل در نقل ہوتے چلی آتی ہے اور سچ جانو تو ہے بھی اس لائق کہ اپنے ہاں کی بلا سوچے سمجھے feminism کا پھریرا سر بلند کرنے والیوں کو بار بار سناؤں ۔ باربرا شیٹرمین نے ایک فیمینسٹ بیٹی فرانڈن کی کتاب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے مغربی خواتین کو اصل سمت سے ہٹا کر آوارہ خرامی اور بے راہ روی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس کے مطابق‘ مغربی جمہوریت میں آزادی کے معنی حسن کی نمائش اور عورت کو رونق محفل بنائے رکھنا ہے۔ اس رویے نے پورے سماج کو Consumerism کا غلام بنا دیا ہے ۔ اور اسی رویے کے تحت عورت کا جسم اس کا اپنا نہیں رہا ‘نمائش کی شے ہو گیا ہے ۔ قصاب کی دکان پر لٹکے لذیذگوشت کے پارچوں اور زندہ تھرکتے نسوانی وجودوں کا منڈی میں ایک ہی طرح سے بھاؤتاؤ ہونے لگا ہے ۔ جی ‘ اب عورت نمائش کی شے ہے ‘ تسکین والی گولی ہے ‘ نشے والی بوتل ہے اور اس کی منڈی میں دیگر اجناس کی طرح قیمت لگتی ہے ۔ لہذا صاحبو خاندانی نظام معدوم ہو رہا ہے اور جدید عورت رشتوں سے آزاد ہو رہی ہے ۔ عورتوں کی آزادی زندہ باد ۔ مگر اس بے بصیرتی کی ارزانی پر داد کے ڈونگرے کیسے برساؤں کہ جس کی بدولت آزادئ نسواں کی/کے پرجوش حامیوں کو ‘ عورت کو اپنی جاگیر سمجھنے اور اِسے رشتوں سے لائق توقیر بنانے والوں کے بیچ تمیز کرنا نصیب ہی نہیں ہو رہا ہے ۔ خودمغرب والوں کو اتنی پرجوش خواتین کہاں میسر ہیں جو گھر پھونک تماشا دیکھنے اوردکھانے کو گلیوں اور سڑکوں میں کودتی پھرتی ہوں گی۔ لہذا اُدھر کی ساری این جی اوز ان پر بہت مہربان ہو گئی ہیں۔ جب سستے نعرے مہنگے داموں بک رہے ہوں تو جڑوں کی بات عجیب لگتی ہے۔ مگر صاحب ‘میں بتا چکا ہوں کہ جس ماحول سے منشایاد کی اپنی سائیکی تشکیل پائی تھی وہاں عورت کا وجود ’’شے ‘‘نہیں تھا‘اور اس وجود کا تصور رشتے ناطے کے بغیرممکن ہی نہ تھا ۔ اسی ماحول نے ان رشتوں کو اتنا خالص کر دیا ہے کہ عشق یا جنس کی بات بھی سچے جذبوں کے پانیوں سے دھل کر پاکیزہ اور محترم لگنے لگتی ہے ۔ منشایاد کے افسانوں نے بتایا ہے کہ خلوص‘ سچائی اور پھر جذبوں کی بے پناہ شدت کے ساتھ عورت کو اسی طرح محسوس کیا اور کرایا جا سکتا ہے ۔ اورہاں یہ جو منشایاد کے افسانوں کا مرد عورت کی ناموس کے لیے لڑنے مرنے اور مارنے کو تیار ہو جاتا ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ ان رشتوں اور تعلق کی ریشمیں ڈور میں بندھی عورت پر تسلط چاہتا ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی مثبت سماجی اقدار کو بچانا چاہتا اور ان پر اعتماد رکھتا ہے ۔
منشایاد کے افسانہ’’جڑیں‘‘کے جاوید نے تھیٹر کی اسٹیج پر لوگوں کی تالیوں اور سیٹیوں کے درمیان جس نوخیز لڑکی کو ناچتے گاتے دیکھا تھاوہ اسے ہو بہو زبیدہ لگی تھی۔ کرسیاں اور سیٹیاں بجانے والوں میں سے کسی نے کوئی جملہ کسا تو وہ ناچتے ناچتے ہنس دی تھی ۔ اس کا ہنسنا بھی زبیدہ جیسا تھا۔ جاوید نے زبیدہ کو تین سال سے نہیں دیکھا تھا ۔ تاہم یہ ہنسی جاوید کو تین سال پیچھے لے گئی اوراس نے اپنی آنکھوں سے اسے ہنستے دیکھا۔ یہ تب کی بات ہے جب وہ اپنے والدکی پشاور تبدیلی سے پہلے ان کے ہاں اکثر آتی جاتی تھی ۔ وہ اس کی چھوٹی بہن کی کلاس فیلو تھی ۔ وہ چھوٹے چھوٹے خوب صورت قہقہے لگاتی تھی ۔ اس کا جی چاہتا تھا وہ بہن کی بجائے اس سے باتیں کرے اور چھوٹے چھوٹے خوب صورت قہقہے لگائے لیکن وہ اس سے شرماتی تھی ۔ وہ بھی اس سے شرماتا تھا لیکن چھپ چھپ کر اس کے چھوٹے چھوٹے خوب صورت قہقہے سنتا اور ہمیشہ یہ آرزو کیا کرتا کہ وہ ایک لمبا خوب صورت قہقہہ لگائے جسے وہ اپنی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلے ۔ ایسا سوچتے ہوئے اسے یقین ہو چلا تھا کہ اگر آج اس کے ذہن میں وہ لمبا خوب صورت قہقہہ محفوظ ہوتاتو وہ اندر سے اس قدر کھوکھلا اور ویران نہ ہوتا۔ وہ کبھی فیصلہ نہ کر پایا تھا کہ زبیدہ کا حسن اس کے چھوٹے چھوٹے قہقہے تھے یا اس کے سیاہ گھنے بال۔ بہت جلد تالیوں اور سیٹیوں کے شور میں زبیدہ کے چھوٹے چھوٹے قہقہے دب جاتے ہیں ۔ پھر جاوید نے دھمال کے دوران جو منظر دیکھا وہ اس کے اوسان خطا کرنے کے لیے کافی تھا ۔ اس کے بال کھل چکے تھے۔ اس منظر میں محبت کے ابتدائی نقوش سے عورت کا وجود متشکل ہوتا ہے جو فوراً بعد ایک باقی رہ جانے والی تاہنگ اور حسرت کا حصہ ہو جاتا ہے۔
افسانہ نگار نے اپنی ہی تہذیب سے بر گشتہ ثقافتی مظاہر سے دل بستگی کو شعار کرنے والوں کے لیے ایک اور طمانچے کا یوں اہتمام کیا کہ پروین اختر کو اسٹیج پر لے آیا جسے جاوید نے اس بار رخشندہ کے طور پر شناخت کیا تھا۔ رخشندہ جاوید کی ماموں زاد تھی ۔ اس کے جسم سے ایسی مقناطیسی لہریں نکلتی تھیں کہ وہ دور چلے جانے کے بعد بھی اس سے دور نہیں رہ سکتا تھا ۔ اسے دیکھ کر جوئے شیر لانے ‘ زہر پھانکنے ‘ سانپوں سے ڈسوانے اور ران چیر کر کباب بنانے کی داستانیں سچی معلوم ہونے لگتی تھی ۔ مگر جاوید نے رخشندہ کو تھیٹر کی اسٹیج پر دیکھا اور وہ بھی یوں کہ وہ تماشائیوں سے نوٹ وصول کر رہی تھی ۔ اسے ویل دینے والوں میں سے ایک شخص نے جب اس کی کلائی پکڑ لی تو جاوید آپے سے باہر ہوگیا۔ اس کا جی چاہنے لگا تھا کہ وہ ہجوم پھلانگتا اس شخص تک پہنچے اور اس کے دانت توڑ کر رکھ دے۔مگر اسے پکڑ کر بٹھا لیا گیا تھا اور رخشندہ بڑی بے ہودگی سے ناچ رہی تھی ۔
پہلی عورت کے ساتھ جاوید کا محبت کا رشتہ تھا ‘ دوسری عورت محبت اور رشتے کے مخلوط تعلق سے سامنے آئی جب کہ تیسری عورت کو اسٹیج پر لاتے ہوئے افسانہ نگار نے ایک اور دھچکا دینے کا اہتمام کیا ۔ آنے کو تو اسٹیج پر چاند بی بی آئی تھی مگر وہ جاوید کو یوں لگ رہی تھی جیسے وہ چاند بی بی نہ تھی اس کی چھوٹی پھوپھی شازیہ تھی ۔ اس پھوپھی کی شادی چند ماہ پہلے ہی ہوئی تھی ۔ عورت کے پاؤں میں پڑے گھنگھرؤں کی آواز‘ سارنگی اور طبلے کی آواز میں گھلنے ملنے کے دورانئے میں جاوید نے گمان باندھا تھا کہ ہو نہ ہو تھیٹر والوں نے عجب چالاکی دکھائی ہے کہ تماشائیوں کو ناچنے والیاں اپنی ہی مائیں بہنیں نظر آتی ہے ۔تو صاحب کہانی کا خلاصہ تب تک لطف نہ دے گا جب تک میں یہ نہ بتا دوں کہ افسانہ نگار نے آخر تک پہنچتے پہنچتے جاوید کو لوگوں سے تھپڑ مروائے ‘ پاگل اور دیوانہ کہلوایا‘ پتھر پڑوائے مگر اس سے یہ بھی کہلوا دیا کہ کہ اسٹیج پر پیشہ ور گانے والیاں سب کو اپنی مائیں بہنیں نظر آتی ہیں مگر وہ ایسا ظاہر نہیں ہونے دیتے۔اس پوری کہانی کو علامتی سطح پر اٹھالیجئے اور تھیٹر کی تہذیب کو فرنگیوں کا ناٹک جان کر اپنے ہاں کے رشتوں سے معتبر ہونے والی اس عورت کا تصور کیجئے جو اس تماشے میں رشتوں اور تعلق سے محروم ہو رہی ہے تو منشایاد کی شدت پسندی کے جواز اور خلوص کو بہت سہولت سے سمجھا جا سکتا ہے ۔
میں نہیں جانتا کہ منشایاد نے جو پہلی کہانی سوچی ہو گی اس میں عورت کا کیا روپ ہوگا۔ تاہم اس کی پہلی کتاب کی پہلی کہانی یعنی ’’دل کا بوجھ‘‘ اور کئی دوسری کہانیوں مثلاً ’’ تیسرا شخص ‘‘’’ دوپہر اور جگنو‘‘ اور ’’سانپ اور خوشبو‘‘ وغیرہ میں بھی سگے رشتوں کے حوالے سے عورت موجود ہے ۔ اور یہ رشتے ہیں ‘ ماں‘ بیوییا بیٹی۔ تاہم بجا کہ یہ کہانیاں عورتوں سے زیادہ انسانی کے رویوں کی کہانی بنتی ہیں ۔ کہنے کو تو ’’کالک‘‘ بھی بدلتے مرد کی کہانی ہے مگر عورت کا اس تبدیلی سے کیا تعلق بنتا ہے اس کا مطالعہ بہت دلچسپ ہو جاتا ہے ۔
’’ آخری بار میں کب رویا تھامجھے اچھی طرح یاد نہیں مگر میرا خیال ہے کہ اس وقت میں ابھی شہرنہیں آیا تھا۔ گاؤں کی کسی لڑکی کا بیاہ تھا‘ ہاں مجھے یاد آگیا‘فتح دین تیلی کی بیٹی کی ڈولی نکلی تھی اور بینڈ باجے والوں نے بابل سے بچھڑنے سے متعلق کسی گیت کی دُھن بجائی تھی اور مجھے ایسا لگا تھا جیسے وہ فتح دین تیلی کی بیٹی نہیں میری سگی بہن ہے ۔۔۔‘‘
تو صاحب دیکھا آپ نے کہ دیہی معاشرت میں عورت محض عورت ہوتی ہی نہیں کوئی سگا رشتہ نہ ہو تو بھی کسی نہ کسی رشتے میں جڑ کر محترم ہو جاتی ہے ۔ یہیں منشایاد کے پنجابی ناول’’ٹانواں ٹانواں تارا ‘‘ کے عبدل کے آنسو یاد آتے ہیں ۔ ناول میں ایک مرحلے پر باراتی جب کھانا کھا چکتے ہیں اور دلہن کی رخصتی کا مرحلہ آجاتا ہے تو دلہن کی رشتہ دار عورتیں رو رو کراسے رخصت کر رہی ہوتی ہیں ۔ عبدل لڑکے والوں کے ساتھ آیا ہے مگر اس دیہاتی کے معصوم دل کا نقشہ منشایاد نے یوں کھینچا ہے:
’’ خالد دا دھیان پیا تے کیہہ ویکھدا اے‘میاں عبدل پنڈ دیاں اتھروپونجدیاں زنانیاں تے روندے پئے ماں پیؤ نیڑے کھلوتا روندا پیا اے ۔ اوہ سمجھیا‘اوہنوں کسے کجھ آکھ دتا اے ۔ انو ‘نوں گھلیوس‘پتہ کرے‘مئیں عبدل نوں کیہہ ہویااے۔انو تھلے اتر کے آیا۔
میاں کیہہ ہویا اے؟
کجھ نئیں ‘ میاں عبدل آکھیا ‘ ایہو جے ویلے اتے رون نے آای جاندا اے‘
پر توں نے جانجی ایں؟
جانجی آں پر بندا وی تاں آں‘‘
تو یوں ہے صاحب کہ دیہاتی ہر حال میں بندہ رہتا ہے مگر شہر آدمی کی نفسیات کو کس طرح مسخ کر دیتا ہے کالک‘ میں موجود عورت کے آئینے میں اسے بھی دیکھ لیجئے:
’’ پچھلے تیرہ برسوں میں(یعنی شہر میں آنے کے بعد) میں نے کتنے ہی نشیب وفراز دیکھے ہیں ‘ کتنے ہی دل چیر دینے والے مناظر آنکھوں کے سامنے آئے ہیں جنہیں دیکھ کر دل کو کچھ ہوتا بھی رہا ہے مگر آنکھ سے آنسو کبھی نہیں ٹپکا‘یہاں تک کہ ایک مرتبہ میری سگی خالہ فوت ہو گئیں ‘مجھے معلوم ہوا کہ خاندان کے لوگ مجھ سے رونے کی توقع رکھتے ہوں گے ‘اسی لیے میں نے کوشش بھی کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ میں نے دوسروں کو خالہ کی میت پر بین کرتے اور پچھاڑیں کھاتے دیکھ کر عبرت حاصل کرنے اور خالہ کو اپنی ماں فرض کرکے خود پر رقت طاری کرنے کی بہت کوشش کی مگر ایک بھی آنسو میری آنکھ سے نہ ٹپکا ۔۔۔‘‘
اور ہاں‘ یہ بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں کہ شہر بڑی تیزی سے نئی تہذیب میں ڈھل رہے ہیں اور اس کہانی میں گاؤں اس ہند مسلم تہذیب کی شناخت بن کر آیا ہے جس میں عورت اور مرد سچے رشتوں میں بندھ کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتے آئے ہیں جس کا اعلی انسانی قدروں پر پختہ ایمان ہے ۔ اسی افسانے کا ایک اور مقام:
’’ میں نے جس لڑکی سے پہلے پہل اظہار محبت کیا تھا مجھے اس سے سچ مچ محبت تھی۔ میں اُسے جو کچھ کہتا تھا سب سچ ہوتا تھا۔ مجھے اس کی آنکھیں اچھی لگتی تھیں ۔ اور میں صرف اس کی آنکھوں کی تعریف کرتا اور سوچتا تھا۔ مگر اب کسی شاعر لڑکی کا جسم اچھا لگے تو اس کی غزل کے مجموعی تاثر کی تعریف کرتا ہوں اور افسانہ نگار خاتون اچھی لگیں تو بات افسانے کے عنوان کی تعریف سے شروع ہوتی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ محض اس لیے ہے کہ مجھے روئے ہوئے بارہ تیرہ برس ہو گئے ہیں اور میرے اندر معصومیت اور سادگی کا قحط پڑ گیا ہے‘‘
صاحب یہی وہ سادگی اور معصومیت کا قحط ہے جو تیزی سے بدلتی ہوئی زندگی نے ہماری جھولی میں ڈال دیا ہے ۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے مردہ پلید اور قبر چونے گچ ‘ یہی معاملہ ہمارے دلوں کا ہوتا جارہا ہے اور دلوں کی اسی کالک میں عورت کے ساتھ رشتے بھی گم ہورہے ہیں ۔منشایاد نے ایک اور افسانے ’’دیمک کا گھروندہ‘‘ میں انہی معدوم ہوتے رشتوں کی محسوسات کی سطح پر تصویر کشی کی ہے۔ (یادرہے اوپر وہ ذہنی ساخت دکھائی جا چکی جس میں ایک کامی کی بیٹی کوئی رشتہ نہ ہوتے ہوئے بھی رشتوں میں جڑی ہوئی محسوس ہوتی تھی ):
’’میں قریبی مارکیٹ سے ارشد کی پسند کے بسکٹ لینے چلا گیا ۔ واپس آیا تو شکیلہ ڈرائنگ روم میں چائے کے برتن رکھنے گئی ہوئی تھی۔ میں اسے اندر بھیجنے پر امی سے خفگی کا اظہار کرنا چاہتا تھاکہ اندر سے اس کی چیخ سنائی دی ۔ میں بھاگ کر اندر پہنچا تو دیکھا چائے کے برتن ٹوٹے پڑے تھے ۔ شکیلہ منہ چھپائے ایک طرف کھڑی رو رہی تھی اور ارشد کہیں نہیں تھا۔ مگر اسی دَم میری نظر نالی میں غائب ہوتی سانپ کی دُم پر پڑی ۔ میں ہاکی لے کر اس کا سر کچلنے نکلا مگر وہ غائب ہو چکا تھا۔‘‘
مان لیجئے صاحب کہ تہذیب کی ساری رونق اور چہل پہل رشتوں اور تعلق کی محتاج ہوتی ہے۔ یہ رشتے ہند مسلم تہذیب کا امتیاز ہیں اور انہیں کے سبب خاندان کا انسٹی ٹیوشن مضبوط رہا ہے مگر جارح ثقافت کی چکا چوند میں سب کچھ بکھر رہا ہے ۔ اور اسی کا شاخسانہ ہے کہ اب انسان اشرف المخلوقات نہیں رہا ‘ رذیل سانپ بن گیا ہے ۔ وہ جو کہتے ہیں کہ رذالے کی جورو کو سدا طلاق ‘ تو صاحب سچ ہی کہتے ہیں‘ بھلاکمینوں اور سفلوں کو اپنے عہد کا اور اپنے رشتوں کا پاس کیوں ہوگا اور کیسے ہو گا ۔ منشا نے اس صورت کو گرفت میں یوں لیا ہے :
’’ میں خود بھی انسان کی جون میں کوئی سانپ ہوں ۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر کسی دن پتہ چلا کہ میں سچ مچ اصل میں سانپ ہوں تو مجھے مختلف لوگوں کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا ہوگا ۔ مثلاً وہ بڑھیا جو میری ماں کہلاتی ہے ۔۔۔ لیکن کیا خبر وہ بڑھیا یعنی میری ماں دراصل انسان کی جون میں کوئی ناگن ہو اور عورت بن کر اس نے میرے باپ سے شادی کر لی ہو ۔ اور کون جانے ایک روز اس نے اسے ڈس لیا ہو اور وہ مر گیا ہو لیکن یہ بھی تو نہیں کہا جاسکتا کہ میرا باپ سانپ نہیں تھا۔ ممکن ہے ماں سے اکتا کر اس نے مرنے کا بہانہ کیا ہو اور قبر سے نکل کر اپنے پرانے بل یا غار میں چلا گیا ہو‘‘
’’ میں نے ماں اور شکیلہ کو اپنے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور ان کا پہرہ دے رہا ہوں ۔ ماں میری شادی پر مصر ہے اس نے میرے لیے پہلے سے ایک لڑکی چُن رکھی ہے مگر میں نے ابھی تک اس لڑکی کو نہیں دیکھا اور نہیں کہہ سکتا کہ وہ لڑکی ہی ہوگی۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جب ڈولی کا پردہ سرکایا جائے تو وہ کنڈلی مارے بیٹھی ہو یا پھر میرے پہلو میں لیٹی لیٹی اچانک ناگن بن کر میرے سینے پر چڑھ جائے۔‘‘
رشتوں کی مکمل شکستگی کے بعد عورت اور مرد کا تعلق کتنا پست اور گھناؤنا ہو جائے گا منشایاد کے ہاں یہ موضوع پلٹ پلٹ کر آتا رہا ہے ۔کہیں کہیں تو یہ موضوع انسانی نفسیات کا انتہائی باریک بینی اور دردمندی سے کیا گیا مطالعہ ہو جاتا ہے۔ قومی اہمیت کے امور پر مرد اور عورت کے بیچ رشتوں سے تہی تعلق کس طرح اثر اندوز ہوتا ہے اس کا انتہائی سلیقے ‘مہارت اور بے دردی سے کیا گیا تجزیہ منشایاد کے افسانے ’’چھتیں اور ستون‘‘ میں ملتا ہے ۔ قومی اہمیت کی عمارت تعمیر ہورہی ہے اور جس کی نگرانی میں عمارت کو تعمیر ہونا ہے وہ چند شوخ اور حسین لڑکیوں کے تعاقب میں مری پہنچ گیا ہے ۔ اس کہانی میں مس نجمہ سمیت کئی اور لڑکیوں کی سمت اشارے بھی ہوتے ہیں ۔ ان لڑکیوں کی سمت جن میں رشتے مقدس نہیں رہتے لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اہلے گہلے پھرنے والی لڑکیوں کے ساتھ اٹکھیلیوں میں مکمل ہونے والی قومی اہمیت کی عمارت کی چھت ٹپکنے لگتی ہے ۔
رشتوں ‘ناطوں اور گہرے سماجی تعلقات کی تکرار سن سن کر جب آپ کے دھیان میں منشا کی کہانی ’’شجر بے سایہ ‘‘ آئی ہوگی تو آپ مجھ پر خوب ہنسے ہوں گے ۔ ہت تیرے کی ‘ کہتے آپ کے چہرے پر میں تمسخر کی جھلک دیکھ رہا ہوں ۔ آپ کا اصرار ہے کہ ’’شجر بے سایہ ‘‘ میں رشتوں کی اوقات ہے ہی کیا؟۔۔۔ ڈیڑھ بکائن میاں باغ میں‘ رشتوں کی اس پونجی پر اتنا بھی کیا اترانا۔ آپ کا کہا بلاسبب نہیں لہذا سر آنکھوں پر ‘ میں بھی تو شاید اس افسانے سے اسی وجہ سے کنی کاٹ رہا تھا ۔ مگر اب جو آپ کے ماتھے کی چنٹ دیکھی اور ایک بار پھر اس افسانے کے کرداروں پر غور کیا تو کھلا کہ میں اپنی سہولت کو عزیز جان کر پہلو بچا رہا تھا‘ جی صرف سہولت نہیں۔۔۔ بے پناہ سہولت‘ وہی جو اس افسانے کے باب میں ایک کلیشے سا تنقیدی جملہ لکھ کر آگے گزر جانے والے مظفر علی سید کو میسر آئی تھی ۔ ’’شجر بے سایہ ‘‘ کو ایک طرف رکھ کر اور اپنی اندر بے اعتنائی بھر کر میں نے جو سہولت ہتھیائی تھی‘ وہ مداری کا بخت بننے والی وہ سہولت نہیں تھی کہ جس میں وہ اپنی ٹوکر ی یا ٹوپی سے وہ چیزیں نکال دکھاتا ہے جو اس میں ہوتی ہی نہیں ‘یا پھر اس میں اوپر سے ڈال دی گئی ہوتی ہیں ۔ بلکہ یوں ہے کہ اب تک جن افسانوں کا تذکرہ ہوا ان میں سہولت یہ تھی کہ ان کا متن خود میری مدد کرتا رہا ہے ۔ مجھے نہ ان میں سے وہ چیز نکال دکھانے کا شعبدہ دکھانا پڑا جو اس میں نہیں تھا نہ اس میں اپنی طرف سے معنی ڈالنے پڑے۔ یہ افسانے تو اس عطر کی شیشی کی طرح تھے جو باہر سے بھی بھیگی ہوئی ہوتی ہے ۔ سطر سطر معنوں کی ایسی خوشبو امنڈتی رہی جو انسانی تہذیبی رشتوں سے معتبر ہوتی ۔۔۔ ’’شجر سایہ دار ‘‘ میں یہ سہولت نہ تھی‘ یہاں منہ بندشیشی کے باہر کچھ نہ تھا‘ کارک کھولنا ضروری تھا کہ اس کہانی کی عورتوں سے سیدھے سبھاؤ ملا ہی نہیں جاسکتاتھا۔۔۔ اور اگر ایسا کیا جاتا تو عین مین وہی ٹھوکر کھانے کا احتمال تھا جو مظفر علی سید نے یہاں کھائی ۔ اس کہانی کی ساری فضا سے سرسری گزر نے ا ور سطحی نتیجوں میں لپیٹنے کا یہی شاخسانہ نکلنا تھا ۔ مظفر علی سید کا کہنا ہے کہ اس کہانی میں عشق پر روایتی معاشرے کا جبر پوری شدت سے محسوس کرایا گیا ہے ۔ اور میرا کہنا ہے ‘ ہونہہ عشق؟ مگر کون سا عشق؟؟؟ وہ جو غفوراں نے کیا تھا یا وہ جو صغری نے کیا ؟ ۔۔۔اب رہی بات’’ روایتی معاشرے‘‘ اور اس کے ’’جبر‘‘کی‘ تو صاحب اس ضمن میں بھی مجھے مظفر علی سید کی بات تو بڑی اچٹی ہوئی لگی ہے۔ کیسے؟؟۔۔۔ پہلے افسانے کی جزیات پر بات ہولے تو اس پر بھی آؤں گااور جو توفیق ہوئی ضرور کہوں گا۔
’’شجر بے سایہ ‘‘ اس حویلی کی کہانی ہے جو گاؤں سے قصبے کو جانے والی کچی سڑک پرواقع تھی اور جسے کتوں والی حویلی کہا جاتا تھا۔ اس لئے کہ اس میں دو خونخوار قسم کے بولی کتے(بل ڈاگ) اور دو مرد گامو اور وریامو رہتے تھے ۔ کتوں کے نام بھی لوگوں نے مالکوں کے نام پر رکھ دیئے تھے ۔ دونوں بھائی نہایت اجڈ اور ظالم سمجھے جاتے کہ انہوں نے اپنی سگی بہن کو قتل کر دیا تھا اور گاؤں والوں سے ہر قسم کا تعلق توڑ کر اور گاؤں کی سکونت ترک کر کے یہاں سب سے الگ اس حویلی میں رہنے لگے۔ دیہی معاشرے میں یوں الگ تھلگ ہونے کی ایک اور وجہ بھی افسانے میں موجود ہے‘ لگتا ہے مظفر علی سید کا دھیان اس طرف گیا ہی نہیں ۔یہ سطر پڑھئے ‘حویلی کے مکین خود بخود کٹ کر گاؤں والوں سے الگ ہو جائیں گے:
’’گاؤں کے بڑے بوڑھوں کا کہنا ہے کہ یہ خاندان پرانے زمانے کے کسی غیر ملکی حملہ آور قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ‘‘
لیجئے صاحب وہ جو مظفر علی سید نے اوپر ’’روایتی معاشرے والے جبر‘‘ کا مصرعہ اٹھایا تھا وہ تو یہاں تک آتے آتے کلی طور پر ناموزوں ہو گیا ہے ۔ ہاں تو جب یہ طے ہو گیا کہ یہ دیہات سے الگ تھلگ واقع حویلی کی کہانی ہے اور ایسے مردوں کی‘ جو کتوں کی طرح خونخوار ‘ ظالم تھے‘ گاؤں میں ان کی کوئی برادری نہ تھی جس کے ناطے سے وہ اس روایتی معاشرے کے نمائندہ کردار کہے جا سکتے تو سوچا جانا چاہیئے کہ مظفر علی سید نے اوپر والا فتوی کیوں لگایا ؟ اجی کہہ لیجئے سہولت کی خاطر۔۔۔ مگروہ جو پنجابی میں کہتے ہیں کَہلی اَگے ٹوئے‘ تو ہوا یوں ہے کہ اس جلدی اور سہولت میں انہہیں آگے کا گڑھا نظر ہی نہیں آیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ منشایاد نے ان کرداروں کو نفسیاتی عارضے میں مبتلا اس محدودطبقے کا نمائندہ بنادیا ہے جو معاشرتی اقداری وجود کی روشن پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ مظفر علی سید کے اٹھائے ہوئے جھیڑے میں‘ میں بھول ہی گیا کہ بات منشایاد کے افسانوں کی عورتوں کی کرنا تھی ۔۔۔ تو یوں ہے کہ اس کہانی میں چار عورتیں ہیں۔ اور بتاتا چلوں کہ چاروں کا مطالعہ افسانہ نگار نے نہایت چابک دستی سے کیا ہے۔ دونوں ظالم بھائیوں نے اپنی بہن غفوراں کو قتل کر دیا تھا۔ جس حویلی میں وہ رہتے تھے وہ کسی زمانے میں مویشیوں کا باڑا تھی۔ وہاں کبھی ایک کنواں بھی ہوا کرتا تھا جس کے بارے میں لوگوں کا ایک گمان یہ بھی تھا کہ غفوراں کو قتل کرکے اس میں پھینک دیا گیا اور بعد میں اسے پاٹ دیا گیا ۔ اصل بات کوئی نہ جانتا تھا کہ غفوراں رو پوش ہوئی یا قتل کی گئی‘ کنوئیں ڈالی گئی ‘نہریادریامیں بہائی یا کسی کھیت میں دبا دی گئی ۔ افسانہ نگار نے بہت سے گمان باندھے ‘ اور یہ ثابت کیا کہ گامو اور وریامو اتنے شقی القلب تھے کہ بہن کو کھا گئے مگر منہ سے کچھ نہ پھوٹے ۔سارے گاؤں کو غفوراں کی روح کسی نہ کسی موقعے پر نظر آجاتی تھی مگر ان شیطانوں کے قریب بھی نہ پھٹکتی تھی ۔ یہ سب کچھ بتانے کے باوصف جس طرح اس کردار کو بنایا سنوارا گیا ہے وہ اپنی جگہ بہت اہم اور دلچسپ ہو جاتا ہے ۔ پڑھنے والا ہردم موت کی سرسراہٹ سنتا رہتا ہے :
’’وہ گھر میں رہتی تھی مگر گھر کا کوئی فرد اس سے بات نہ کرتا تھا اس نے ماں سے کئی مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر ماں جواب نہیں دیتی تھی۔ سوائے ننھی صغریٰ کی ہوں ہاں کے وہ بات کرنے کو ترس گئی تھی۔ ایک رات اس نے ماں کے پاؤں پکڑ لئے اور روتے ہوئے کہنے لگی۔
’’ماں مجھے مار، مجھ پر تھوک، مجھے گالیاں اور طعنے دے خدا کے لیے کچھ تو کہہ‘‘
’’میں تیری ماں نہیں ہوں تو کسی کتیا کی اولاد ہے‘‘
ماں نے گالی دی تو نا امیدی کے اندھیرے میں امید کا چمکتا ہوا جگنو دکھائی دیا۔۔۔ مگر دوسرے ہی لمحے ماں نے ایک ایسی بات کہہ دی جسے سن کر وہ سناٹے میں آ گئی۔
’’تو اس گھر میں مہمان ہے پتہ نہیں کتنے دن‘ کتنی گھڑیاں۔‘‘
’’نہیں ماں۔۔۔ خدا کے لیے ایسا نہ کہو۔‘‘
’’اپنی ناپاک زبان سے خدا رسول کا نام مت لے‘‘
’’میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں‘‘
’’کچھ فائدہ نہیں‘‘
’’تو کیا سچ مچ ماں؟‘‘
’’ہاں‘‘
’’کب؟‘‘
’’یہ مجھے نہیں پتہ۔‘‘
مارے خوف کے اس کا حلق خشک ہو گیا‘ ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔‘‘
گامو‘ وریامو اور ان کی ماں پر’’ روایتی معاشرے‘‘ نے کوئی اثر نہیں ڈالا تھا ۔ بیٹے شیطان تھے تو ان کی بوڑھی ماں چڑیل۔ یہ بات سارا گاؤں جانتا تھا مگر‘ حیرت ہے مظفر علی سید کا دھیان ادھر نہیں گیا: گاؤں کے لوگوں نے اس خاتون کی اپنے اپنے ذہنوں میں کیا تصویر بنا رکھی تھی اس کے لیے کہانی کی طرف رجوع کرتے ہیں :
’’وہ اپنی بیٹی کی حفاظت نہ کر سکی تھی اورماں ہو کر اسے بدسلوکی سے تنگ آ کر بھاگ جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ پھر اس کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے قتل ہو جانے دیا تھا۔ وہ گاؤں میں بہت کم آتی تھی مگر جب بھی آتی ،جدھر سے گزرتی سہاگنیں‘ حاملہ عورتیں اور نوجوان لڑکیاں اس کے سائے سے بچنے کے لئے راستہ بدل لیتیں۔ ان کا خیال تھا وہ جسے چھو لے گی یا جس سے بات کرے گی اس کی کوکھ کبھی ہری نہ ہو گی یا گود خالی ہو جائے گی۔ اس کے بارے میں مشہور ہو گیا تھا کہ وہ جس درخت کے نیچے بیٹھ جاتی تھی وہ بے سایہ ہو جاتا تھا۔ گاؤں میں جب بھی کوئی غیر معمولی واقعہ یا حادثہ رونما ہوتا بوڑھی سکینہ اور اس کے خاندان کو اس میں ضرور ملوث کر لیا جاتا۔ بڑی بوڑھیوں نے تو گامو کے ہاں نرینہ اولاد نہ ہونے کو بھی غفوراں کی روح کا انتقام ہی سمجھا تھا اور جب وریامو کا نوعمر بیٹا سانپ کے ڈسنے سے مر گیا تو اسے بھی اسی انتقامی کارروائی کا حصہ سمجھا گیا جو غفوراں اپنے گھر والوں سے لے رہی تھی۔‘‘
اب ذرا کہانی کے آغاز کی طرف چلتا ہوں کہ مظفر علی سید نے اپنی ہی دھن میں جو کہہ دیا تھااس نے میرا کام خاصا کٹھن کر دیا ہے ۔ افسانہ نگار نے اس افسانے کو یوں شروع کیا ہے:
’’ سہ پہر کا وقت تھا جب نمبردار کی بیوی ست بھرائی اسے اپنے ساتھ لے کر اس کے گھر پہنچانے نکلی۔‘‘
یہ کہانی ست بھرائی کی نہیں ہے ‘ غفوراں کی ہے ‘ میلے میں لٹ جانے اور خالی ہاتھ واپس آنے والے بچے کی طرح آنکھیں جھکائے کھوئی کھوئی پیچھے پیچھے چلی آنے والی غفواں کی ۔ اسے ست بھرائی بار بار تسلیاں دیتی ہے مگر وہ سوکھے پتے کی طرح لرزتی ہے کہ اس سے جو غلط فیصلہ ہوگیا تھا اس نے اسے اندر سے منہدم کر دیا ہے ۔ شاید یہی وہ غلط فیصلہ ہے جسے وہ عشق سمجھ لیا گیا ہے جس کے برتے پر رشتوں سے احترام پاتے معاشرت پر روایتی جبر کی پھبتی کس دی گئی ہے ۔ کہانی بہر صورت عشق کی نہیں بلکہ معاشرے سے کٹے ہوئے ان کرداروں کی ہے جو نفسیاتی کجی کے ابتلا میں ہیں ۔ اسی نفسیاتی کجی میں مبتلا ماں کا رویہ آپ ملاحظہ فرما چکے اب ذہن میں یہ نقشہ بھی جما لیجئے کہ ست بھرائی غفواں کو چھوڑ کر جا چکی یوں کہ کسی نے غفوراں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا۔ ماں صحن میں چارپائی پر بیٹھی چاول صاف کر رہی تھی وہ اسی طرح چپ چاپ چاول صاف کرتی رہی۔ چھوٹا بھائی لکڑیاں چیر رہا تھا وہ بدستور لکڑیاں چیرتا رہا‘ بڑا بھائی صحن کے ایک کونے میں چارپائی کی ادوائن ٹھیک کر رہا تھا وہ بھی اپنے کام میں لگا رہا۔ صرف بھابی نے اس پر ایک نظر ڈالی تھی مگر وہ بھی یوں کہ جیسے گھر میں گھس آنے والے پلے پر ڈالی جاتی ہے ۔اب آگے کی کہانی منشایاد ہی کے لفظوں میں:
’’وہ سیدھی پسار میں چلی گئی تھی اور دروازے کے ساتھ لگ کر ایسی جگہ بیٹھ گئی تھی جہاں سے سب کی حرکات و سکنات نظر آ سکیں وہ سب کچھ دیکھتے اور سنتے رہنا چاہتی تھی اسے ڈر تھا کہ لکڑیاں چیرتا ہوا بھائی کلہاڑا لے کر اس کی طرف بڑھے گا اور اسے سوکھی لکڑی کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔۔۔۔ اس کا دل بیٹھنے لگا اسے لگ رہا تھا۔۔۔کہ وہ اندر آ جائیں گے اور وہ ان سے اپنی زندگی کی بھیک بھی نہیں مانگ سکے گی۔ کچھ مانگنے اور بخشوانے کے لئے الفاظ ضروری تھے اور اس کے پاس پچھتاوے کے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مگر جب۔۔۔‘‘
اس اقتباس میں غفوراں کے ’’پچھتاوے کے آنسوؤں ‘‘نے عشق کی حقیقت کھول دی ہے یوں کہ کہانی کا اصل تنازع بھی کھل کر سامنے آگیا ہے ۔اب تک کہانی کی چار عورتیں سامنے آچکی ہیں
۱۔ دو ظالم بھائیوں کی بہن سہمی ہوئی غفوراں جسے اپنی غلطی کا اعتراف ہے ‘ جو اپنے کئے پر نادم ہے مگر جانتی ہے کہ اس کے ظالم بھائی اسے قتل کر دیں گے۔
۲۔ ڈائن جیسی ماں سکینہ ‘ جو بیٹی کی غلطی معاف کرنا جانتی ہی نہیں ۔ جس کے سینے میں شاید دل ہی نہیں ہے کہ دل ہوتا تو اس میں ممتا کا روایتی جذبہ بھی ہوتا ہے ۔
۳۔نمبردار کی ریاکار بیوی ست بھرائی‘ جو اپنا فرض اداکرکے اور جتا کر جا چکیہے۔
۴۔ گامو کی بیوی رابعہ یعنی غفوراں کی بھابی ‘ وہی جس نے اوپر والے اقتباس میں غفوراں پر یوں نظر ڈالی تھی جیسے کتیا کے پلے پر ڈالی جاتی ہے۔
تو صاحب کہانی کی ان چار عورتوں سے ست بھرائی کو یوں منہا کرلیا گیا ہے کہ اس کے بعد وہ کہانی میں پلٹ کر نہیں آئے گی۔ غفواں مار دی گئی یا غائب ہو گئی یوں کہ اس کا نام نشان تک نہ ملتا تھاتاہم وہ کہانی میں آخر تک موجود رہتی ہے ۔ باقی ایک ماں رہتی ہے اور ایک بھابی۔۔۔ نہیں صاحب نہیں‘ میں بہک گیا ہوں ۔ جب غفوراں ہی نہ رہی تو رابعہ کس کی بھابی ہوئی ؟ تو یوں ہے کہ بھابی کا کردار بھی تمام ہوا ۔ تو پھر رابعہ کی حیثیت باقی بچ جانے والی کہانی میں کیا رہ جاتی ہے ؟ ایک سوال ہے ۔۔۔ آپ کہہ سکتے ہیں ایک بیوی یا ایک بہو ۔ مگرصاحب کہانی کے متن میں ایک بیوی یا بہو کے طور پر اسے فعال نہیں دکھایا گیا ہے۔ تو پھر ایک عورت؟۔۔۔ محض ایک عورت ؟؟؟۔۔۔ یہ عورت والی بات بھی خوب پوچھی آپ نے ۔۔۔کہیئے ‘ وہ جو سکینہ ہے ‘ ڈائن سکینہ ۔۔۔ کیا وہ عورت نہیں تھی ۔ اور وہ جو غفوراں تھی ‘ سہمی ہوئی ‘ جس کی خطا معاف نہ کی گئی اور وہ غائب کر دی گئی‘ وہ بھی تو عورت تھی ۔ صرف ایک عورت ہونا یا مرد ہونا ایک تہذیبی معاشرے میں لایعنی سی بات لگتی ہے ۔ اس کا وجود رشتوں ہی سے معتبر ہوتا ہے ۔ سکینہ ڈائن نہ ہوتی ماں ہوتی تو اس کا دل تب ممتا کے جذبے سے بھر ہی جانا چاہیئے تھا‘ جب اس کے گربھ استھان سے جنم لینے اور اس کی چھاتی کا دودھ پینے والی اس کی اپنی بیٹی اس کی پائنتی پر بیٹھی زار و قطار روتی رہی تھی مگر وہ تو ضد کی پکی نکلی تھی‘ اس کا دل پگھل ہی نہیں رہا تھا۔
۔۔۔ اوہ صاحب‘ ایک لمحہ کو ٹھہرئیے کہ مجھے اپنی غلطی کی دست بستہ معافی طلب کرنا ہے ۔ یہ جو میں اوپر چار عورتوں کی گنتی کر آیا ہوں تو یوں ہے کہ افسانے کے اقتباس میں منشایاد نے پانچ عورتوں کی جانب اشارے کئے تھے میں رابعہ کی گودوالی ننھی صغریٰ کو بھول ہی گیا تھا۔ بھول چوک معاف صاحب کہ باقی کہانی تو اسی صغریٰ کی ہے جو جوان ہوکر وہی غلطی کرتی ہے جو غفوراں نے کی تھی اور اپنی جان گنواں بیٹھی تھی۔۔۔۔ہاں تویہ سچ ہے کہ اس بچی کے حوالے سے رابعہ ماں بھی ہے۔ کہانی کے آخر میں ایک نہیں دو مائیں ہو جاتی ہیں اور ایک باپ کو بھی ہم صاف صاف دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔ میرا تاولا پن دیکھئے کہ ایک ہی سانس میں وہ بات کہہ دی جو دم لے کر ‘ اور کہانی کے کچھ اور حصوں کی طرف آپ کی توجہ حاصل کرکے کہنی تھی۔
کہانی کے آخری حصے تک پہنچنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک تہذیبی معاشرے میں میل جول رویوں کو کتنا بدل دیتا ہے ۔ بہت سا وقت گزر چکا ہے۔ صغریٰ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ لیے ہیں اور اس کے حسن کی دھوم آس پاس کے دیہاتوں میں خوب مچی ہوئی ہے۔ وریامو اور گامو کا ایک دوسرے سے جھگڑا ہو گیا ہے اور وہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور ایک دوسرے سے بات تک کرنے کے روادار نہیں ۔ گامو کو نرینہ اولاد نہ ہونے کے صدمے نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔ سکینہ بوڑھی اور کمزور ہو گئی ہے اور اگرچہ وہ وریامو کے پاس رہتی ہے مگر وہ ماں سے زیادہ صغریٰ کا خیال رکھتی ہے۔ ان کے بولی کتے مر کھپ گئے ہیں ایک بیمار پڑ گیا تھا دوسرے کو کسی نے زہر دے دیا۔ کتے اب بھی حویلی کی رکھوالے کرتے ہیں مگر وہ بھونک کر چپ ہو جانے یا تھوڑی دور تک پیچھا کر کے ہانپ جانے والے عام سے کتے ہیں۔ ان لوگوں کے گاؤں والوں سے تعلقات بھی بہتر ہو رہے ہیں اور وہ شادی غمی کے موقعوں پر گاؤں میں آنے جانے لگے ہیں۔ صغریٰ اکیلی کہیں نہیں جاتی مگر ماں یا دادی کے ہمراہ کبھی کبھار گاؤں چلی جاتی ہے۔ یہی وہ زمانہ ہوتا ہے کہ ایک رات وہ اپنے بستر میں نہیں ہوتی اور اس کا باپ گامو بپھر کر کہتا ہے کہ اب وہ اس کتیا کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ رابعہ روتے روتے اپنی ساس سے لپٹ گئی‘ عورت‘ عورت کے لیے عورت کی مدد چاہتی ہے ۔
’’اب کیا ہو گا ماسی؟‘‘
مگر اس کی ساس عورت کہاں ہے ‘ عورت ہوتی تو ایک عورت پر بیتنے والے دکھ کو محسوس کرتی ‘ بغیر توقف کے جھٹ کہتی ہے:
’’وہی جو اس گھر میں ہوتا چلا آیا ہے۔‘‘
’’نہیں ماسی۔ خدا کے لئے ایسا نہ کہو۔۔۔ میری ایک ہی بیٹی ہے۔‘‘
’’میرے کہنے نہ کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے میری اس گھر میں کون سنتا ہے۔‘‘
یہ ایک ماں کا تڑپنا ہے جو اپنی ساس سے مسلسل کہہ رہی ہے کہ وہ اس کے پیچھے جائے کہ کہیں اس کا باپ اسے مار ہی نہ ڈالے۔ مگر وہ شقی القلب بات الٹا کر کہتی ہے کہ نہیں وہ نہیں جا سکتی کہ یہ غیرت کا معاملہ ہے اور یسے معاملے میں وہ اس کی بھی نہ سنے گا۔آگے کی کہانی ہو بہو نقل کرتا ہوں :
’’ وہ اسے ساتھ لئے آ پہنچا تھا۔ اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا اس کے بال الجھے ہوئے تھے معلوم ہوتا تھا اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا ہے وہ ڈری اور سہمی ہوئی تھی۔
حویلی کا صدر دروازہ بند کر کے گامو اس کے قریب آیا اور اسے لاتوں اور مکوں سے پیٹنے لگا وہ زمین پر گر گئی تو وہ دھاڑا۔
’’ٹوکا کہاں ہے میں اس کے ٹکڑے کر دوں گا۔‘‘
صغریٰ ماں کے پاؤں پڑ گئی۔
’’مجھے بچالو ماں ۔ابامجھے مارڈالے گا‘‘
’’ٹوکا تمہارے پاس پڑا ہے گامو۔‘‘ سکینہ نے جذبات سے عاری لہجے میں کہا۔
رابعہ نے غصے اور نفرت سے اور صغریٰ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ گامو ٹوکا اٹھانے کے لیے مڑا تو رابعہ نے اسے روک دیا اور بولی۔
’’ہوش کرو غصے میں تم پاگل ہو جاتے ہو۔‘‘
پھر اس نے ٹوکا پکڑ کر دور اندھیرے میں پھینک دیا اور زمین پر گری ہوئی صغریٰ کو سہارا دے کر اندر لے گئی۔
سکینہ اپنے کتے کی طرح چیرپھاڑ کر رکھ دینے والے اپنے بیٹے کو بے بس ہوتے دیکھ رہی تھی اسے اس پر طیش آرہا تھا‘اس پر برستے ہوئے کہا:
’’گامویا تو تم بوڑھے اور کمزور ہو گئے ہو یا بے غیرت‘‘
بوڑھا تو ہر ایک کو ہونا ہوتا ہے ‘ خود سکینہ بھی بوڑھی تھی مگر اس میں زہر ویسے کا ویسا تھا ۔ گامو کی بے بسی اور پھر نادم سا ہو کر اندر چلا جانا اس کی بے غیرتی کو بھی ظاہر نہیں کرتا ۔ افسانہ نگار نے یہ بات اگلے سطروں میں بتا دی ہے اور وہ کچھ یوں ہے :
’’جب وہ اپنے اپنے بستروں میں لیٹ گئے تو انہیں چبوترے کی طرف سے بلند آواز میں بین کرنے کی آواز سنائی دی۔
’’کرماں مارئیے غفورو۔۔۔ اس رات تیرا باپ بھی زندہ ہوتا تو تیری فریاد سن لیتا‘‘
پھر اس کے دو ہتڑوں سے چھاتی پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں جیسے غفوراں ابھی ابھی قتل ہوئی ہو۔‘‘
ہاں کہہ لیجئے ایک ماں کے لیے غفوراں عین اس وقت ہی قتل ہوئی ‘ عین اس وقت جب سکینہ کے اند ر ایک ماں نے کروٹ لی تھی اور اس کا دل ممتا کے جذبوں سے بھر گیا تھا ۔ صاحبو یہی تو وہ بات ہے جو افسانہ نگار بتانا چاہتا ہے ۔ عشق ‘ روایتی معاشرہ ‘ جبر ‘ غیرت اور قتل سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے اور رشتے جیت جاتے ہیں ۔ ایک تہذیبی معاشرے میں یہی تو وہ رشتے ہیں جو افسانہ نگار کے ہاں بہت اہم ہو جاتے ہیں ‘ یہی انسان کی پناہ گاہ ہیں اور انسانیت کی بقا بھی۔
عورت کے مختلف روپ منشا کی کہانیوں میں آئے چلے جاتے ہیں ۔ انہیں پڑھتے ہوئے اور پوری کہانی کے اندررکھ کر انہیں محسوس کرتے ہوئے کہیں بھی بدن میں سنسنی نہیں دوڑتی ‘ وہاں بھی جہاں وہ اپنے پورے بدن کے ساتھ آتی ہے ۔ یہ ’’پانی میں گھرا ہوا پانی ‘‘کی عورت ہو یا ’’بند مٹھی میں جگنو‘‘ ’’جیکو پچھے ‘‘‘،’’ ببول سے لپٹی بیل’‘،’ ’سارنگی‘‘ ’’ نظر آلباس مجاز میں‘‘’’ ساجھے کا کھیت ‘‘ ’’الف جمع ب کا مربع‘‘ اور ’’جھڑبیری‘‘ والی عورتیں کہیں بھی مردوں کے اندر لذت کے ابال کو بڑھانے اور عورت کی توقیر داؤ پر لگا کر انہیں مردوں کے لیے مرغوب نہیں بناتیں ۔ انتہائی خلوص سے اپنے سماجی تناظر میں عورتوں کے یہ کردار تخلیقی اور جمالیاتی سطح پر بہت کچھ سجھاتے ہیں ۔
اور اب موضوع کی مناسبت سے منشایاد کے دو افسانوں اور حسن عسکری کی ایک بات کا ذکر کہ یہ تینوں ایک ساتھ ذہن میں ککلی کھیلنے لگے ہیں۔ تاہم اپنی سہولت کے لیے حسن عسکری کی بات کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر رہا ہوں ۔ منشایاد کے جن افسانوں کی جانب میں‘ اب آپ کو لے چلا ہوں‘ ان کا ذکر یوں ضروری ہو گیا ہے کہ اوپر جن افسانوں کی بات آئی تھی ان میں وہ خاص تعلق جو خاندانی رشتوں کے مترداف ہوجاتا ہے یاپھر خودسگے رشتے ‘کسی نہ کسی صورت میں موجود تھے۔ کہیں کہیں ان دونوں صورتوں سے الگ ہو کر صورت احوال کی تفہیم بھی ملتی ہے مگر ان دو افسانوں میں انتہائی مضبوط اور انتہائی کمزور رشتے کے ساتھ ساتھ تھوڑی سی بے وفائی ‘ تھوڑی سی بے ایمانی ‘تھوڑا سا بہکاوا اور بے پناہ پچھتاوااور خوف در آیا ہے ۔ پھر یوں بھی ہے کہ اپنی تیکنیک اور ٹریٹمنٹ کے اعتبار سے بھی یہ دونوں افسانے منشایاد کی اہم ترین تخلیقات میں سے گردانے جاتے ہیں ۔ دونوں میں محبت کے انتہائی نازک معاملات کمال فنی مہارت سے نبھائے گئے ہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ یہ محض عورت کی کہانیاں نہیں ہیں مگر انہیں پڑھتے ہوئے دونوں افسانوں کے نسوانی کرداروں کے دلوں کو دھڑکتا ہوا صاف محسوس کیا جا سکتا ہے ‘ یوں کہ آخر تک پہنچتے ہوئے پڑھنے والے کا دل بھی زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے ‘ اور بھی اتنے زور سے کہ دوسرے ہی لمحے دھڑکنیں اچھل کر سینے سے باہر جا پڑ نے کا گمان ہوتا ہے ۔ اوہ صاحب ‘ میں افسانوں کی نشان دہی کئے بغیر بے تکان بولے چلا جاتا ہوں ۔ یہ نسیان نہیں ہے صاحب‘ سب عجلت کی کارستانی ہے ‘ ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ ڈالنے کی للک ۔ لیجئے ‘ دونوں کے نام ایک ساتھ لکھ رہا ہوں ’’ تیرہواں کھمبا‘‘ اور ’’ سزا اور بڑھا دی‘‘ ۔ ان دونوں کہانیوں کوصرف عورتوں کی کہانیاں نہیں کہا جاسکتا ہے مگر انہیں بار بار پڑھتے ہوئے میں نے خود کو ہر بار کہانی کی عورتوں کے قریب پایا ہے ۔ ان کہانیوں کاذکر بطور خاص اس لیے بھی لے آیا ہوں کہ ان میں بظاہر محبت کی روایتی مثلث بنتی ہے مگر ان کی بنت ہر گز روایتی نہیں ہے ۔ دونوں میں ایک ایک عورت اور ایک ایک شوہر ہے اور تیسرا وہ شخص ہے جو کوئی رشتہ نہ رکھتے ہوئے بھی نسوانی کرداروں کے دلوں میں بھونچال بر پا کر سکتا تھا اور یہ بھونچال اٹھا گیا ہے ۔ ’’ تیرہواں کھمبا ‘‘ ریل کار میں سوار نو بیاہتا جوڑے کی کہانی ہے۔ اور یہ کہانی گارڈ کے وسل دیتے ہی چستی اور سرعت سے آگے بڑھتی ہے ‘ غیر ضروری تفصیلات اور فالتو پن کو لائق اعتنا نہ جانتے ہوئے ۔ بالکل اسی طرح جیسے راہ میں آتے ہوئے چھوٹے چھوٹے اسٹیشن زن کر کے پیجھے رہ رہے تھے ۔ یہ کہانی صرف اس نوبیاہتا جوڑے کی نہیں ہے اس میں ایک تیسرا کردار بھی موجود ہے ‘ بلکہ مجھے یوں کہنا چاہیئے کہ وہ تو پہلے سے موجود تھا‘ گاڑی میں۔۔۔ اور انجی کی زندگی میں۔۔۔ مگر ریل کار میں اسے اپنے شوہر کے ساتھ اپنے سامنے والی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر اسے یوں لگا تھا جیسے وہ ریل کار کی سیٹ پر نہیں ‘ ریل کی پٹڑی پر اوندے منھ پڑا تھا۔عین اسی لمحے مشرقی تہذیب کا حسن کہانی پر پھوار کی صورت برس پڑتا ہے ۔ محبت جودلوں کے اندر خوشبو کی طرح بسی ہوئی تھی سطر سطر سے آشکار ہونے لگتی ہے مگر انجی تو شوہر کے ساتھ ہے ۔ ایک نئی زندگی کا آغاز کر چکی ہے ۔اب جو ماضی تھا وہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی ۔ وہ محبت جو اسے ہو گئی تھی اسے اس نے ایک ایسی محبت سے پچھاڑنا تھا جو اب وہ سیکھ رہی تھی ۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں انتہائی پرخلوص تھی ۔ سامنے مرد تھا ‘ پہلی محبت مگر غیر اور اجنبی ہو جانے والا مرد ‘ اپنی ران چیر کر کباب پیش کرنے والا مرد:
’’ چناب آگیا انجی‘‘ اس کے شوہر نے کہا۔ ’’اور چائے بھی‘ چکن سلائس اور شامی کباب۔‘‘
’’اونہہ یہ کیسی باس ہے ‘میں نہیں کھاتی ۔‘‘
’’بھئی مچھلی کے کباب ہیں ‘آج گوشت کا ناغہ ہے نا۔‘‘
’’ بڑی خراب سی بو ہے ‘شاید باسی مچھلی کے ہیں ‘‘
اس کی ران میں درد ہونے لگا۔ اس کا جی چاہا چیری ہوئی ران سے ساری پٹیاں اتار کر اسے دکھائے اور کہے:
’’ طوفان کی وجہ سے مجھے آج کوئی مچھلی نہ ملی اور میں نے اپنی ران چیر کر تمہارے لیے کباب تلے ‘مگر تمہیں بو آتی ہے ‘تم اسے باسی کہتی ہو۔‘‘
یہ اپنی ران چیرنے کی بات انجی کے شوہر نے نہیں کہی تھی یہ تو اس کے دل میں گونجی تھی جس سے اس کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ یا پھر شایداس مہینوال نے کہی تھی جس نے کچے گھڑے پر چناب کے پانیوں پر ٹھل جانے والی سوہنی کے لیے اپنی ران کی مچھلیاں چیر ڈالی تھیں ۔ مگر وہاں کوئی سوہنی تھی نہ مہینوال ‘ چناب کی لہریں تھیں نہ کچا گھڑا‘ بظاہر کسی نے ران چیری تھی اورنہ ہی کسی کا کلیجا حلقوم تک اچھلا تھا۔مگر اندر ہی اندر سوہنی مہینوال کا کہانی کے سارے مناظر اپنے بھید کھول رہے تھے ۔
جب انجی کا شوہر کسی اسٹیشن پر کچھ لینے اترا تو یہ وہ مرحلہ تھا جس پر وہ دونوں بہک کر ماضی میں کود سکتے تھے ‘ ایک دوسرے سے گلے شکوے کر سکتے تھے اور اس کا احتمال تو بہت زیادہ تھا کہ خود افسانہ نگار بہک جاتا اور سوچ سوچ کر رقت آمیز مکالمے لکھ تا اور اپنے قاری کو رقیق القلب بنا ڈالتا یوں ممکن ہے نرم دل والوں کے قوائے حیوانی پر خوب خوب چوٹ پڑتی اور ان رونی صورتوں سے اسے خوب داد بھی ملتی ۔ اگر ایسا ہوتا تو یقین جانئے یہ سستی قسم کی داد تو اس کے حصے میں آجاتی مگر یہ جو اب تک کہانی کا چست بہاؤ بنا ہے ‘اس کا ناس مارا جاتا ۔ منشایاد کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا اور لطف یہ ہے کہ اس نے ایسا کیا بھی نہیں ۔ ایک طرف تو اس نے اپنے موضوع اور کہانی کے فطری بہاؤ میں رخنے ڈالے سے اجتناب برتا اور دوسری طرف اس نے مشرقی تہذیب کے اس وصف خاص کو بھی اجاگر کر دیا جس میں شادی کے بعد اپنے مرد سے وفاداری سب سے مقدم ٹھہرتی ہے :
’’ اس کا شوہر آیا تو وہ الجھ پڑی ۔’’ اتنی دیر لگادی آپ نے ؟‘‘
’’اوہ انجی۔۔۔تم تو بچوں کی طرح پریشان ہو جاتی ہو ؟‘‘
وہ بچوں کی طرح پریشان نہیں وہ تو اپنے آپ سے اس سارے عرصے میں جنگ کرتی رہی تھی ۔ شوہر کو دیکھتے ہی اس کے اندر تانت بھرنے والے تناؤ کو پرے پھینک دینے کا لمحہ آیا تو اس کے ایک معصوم بچی کی طرح مچل کر بدن ڈھیلا چھوڑ دیا تھا ۔ مگر جس دھیان کو اس نے باہر دھکیلا تھا اور دھم سے پھر اس کے اندر کود گیا تھا ۔ افسانہ اپنی آخری سطروں میں عورت کا دل چیر کر دکھا دیتا ہے :
’’ ریل کار پوری تیزی سے اندھیرے کے عفریت کو کچلتی اور سیٹیاں بجاتی بڑھتی چلی جارہی تھی ۔ ڈبے میں شور اب بہت کم تھا۔ ہر شخص ہر بات سے اکتا کر اونگھ رہا تھا یا پھر تھکے تھکے لہجے میں ہمراہیوں سے باتیں کر رہا تھا۔ اچانک ریل کار ایک دھچکے کے ساتھ رک گئی‘ لوگ ایک دوسرے پر گر پڑے۔
’’ کیا ہوا؟‘‘
’’ سگنل نہیں ملا ہوگا؟‘‘
’’ کوئی نیچے تو نہیں آگیا؟؟؟‘‘
کسی کے نیچے آنے کی بات سن کر وہ لرز گئی۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔
’’ ہائے میں مر گئی۔۔۔ اس نے خود کشی کرلی۔‘‘
’’کس نے خود کشی کر لی ‘ اور تمہیں کیا ہوا ہے انجی‘‘
وہ تھر تھر کانپ رہی تھی ‘ دروازے کی طرف اشارہ کرکے اور سسک کر رہ گئی ۔ اس کے شوہر نے پلٹ کر دیکھا وہ دروازے میں کھڑا سگریٹ پی رہا تھااور ہوا کے جھونکوں سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔‘‘
منشایاد نے مرد اور عورت کی نفسیات کو جس خوبی سے آخری سطروں میں برتا ہے وہ اپنی جگہ اہم ہو جاتا ہے ۔ ’’سزا اور بڑھا دی جائے‘‘ میں یہ دوسرا مرد یوں اشارہ کرکے دکھایا نہیں جا سکتا ۔ وہ کہانی میں اس تواتر سے آیا ہی نہیں ہے تاہم واقعہ یہ ہے اس کہانی کا دوسرا مرد بہت سی حدیں پھلانگ چکا ہے ۔ ’’تیرہواں کھمبا‘‘ میں جوڑا نو بیاہتا تھا جب اس کہانی میں میاں بیوی ایک عمر گزار چکے ہیں ۔ بچے جوان ہو چکے بہوئیں آچکیں ‘ بیوی نڈھال اور شوہر موت کے بستر پر پہنچ چکا ہوتا ہے ۔
’’ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا اور صاف کہہ دیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے ۔ اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اسے ہسپتال میں رکھیں یا گھر لے جائیں‘‘
ہسپتال کی ایمبولینس اسے گھر چھوڑ گئی تھی اور ساتھ ہی اس کے بدن پر وہ تکان بھی چھوڑ گئی تھی جس سے علی احمد کی حالت بہت بگڑ گئی ۔ اس کی سانسیں اکھڑ گئیں اور سرہانے کلام پاک کی تلاوت ہونے لگی۔ تب کسی لمحے میں اس کی حالت کچھ سنبھل گئی تو روتے بلکتے بیٹے بیٹیاں اور تلاوت کرنے والے آنسو پونچھنے لگے تو اس کی بیوی صباحت کے دل میں غصے اور نفرت کی لہر سی اٹھی تھی اور اس کا جی چاہنے لگا تھا کہ چلا کر کہے :
’’ اب مر بھی چکو علی احمد۔‘‘
ایک مشرقی بیوی ایسا کہہ نہیں سکتی تھی ‘ لہذا اس نے ایساکہا نہیں تھا ۔ وہ کئی روز سے ہسپتال کے چکر لگاتے لگاتے‘مہمانوں کے لیے ڈھیر سارا کھانا پکاتے پکاتے اورعلی احمد کے لیے یخنیاں اور ساگودانہ بناتے بناتے تھک گئی تھی لیکن ایسا لگتا تھا وہ مرے گا نہیں ۔ کئی بار اس کی حالت غیر ہوئی مگر ہر بار سنبھل گیا۔ دنیا داری کے تقاضے تھے‘ اور بچوں سے بھی بہت کچھ چھپانا تھا‘ لہذا اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ہسپتال میں رکنا پڑتا تھا۔ دیکھئے صاحب افسانہ نگار کس طرح صباحت کے دل کے اندر اتر گیا ہے اور وہاں ابلی پڑتی شدید نفرت کو کتنی سفاکی سے بیان کر دیا ہے ۔ مشرق کی عورت کبھی یوں اپنے مرد کے مرنے کی خواہش نہیں کر تی مگر کچھ تھا کہ وہ اس بے پناہ نفرت میں ڈھل گیا تھا ۔ وہ کیا تھا بہت جلد کہانی میں اس کو بتانے کا موقع نکل آتا ہے ۔ اور یہ موقع تب نکلتا ہے جب علی احمد پر غنودگی کے دورے پڑتے ہیں ۔وہ بے جان سا پڑا رہتا ہے اور سب اس کی تیمارداری کرتے کرتے نڈھال ہو جاتے ہیں ‘ حتی کہ صباحت بھی حوصلہ چھوڑ بیٹھتی ہے اور سیدھا علی احمد کے سرھانے جا پہنچتی ہے ۔ سارے کمرے میں علی احمد کی اکھڑی اکھڑی سانسیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ وہ رشتہ دار اور عزیز جو اس وقت کمرے میں موجود تھے باہر نکل جاتے ہیں اور صباحت پھٹ پڑتی ہے :’’ تم آسانی سے نہیں مرو گے علی احمد۔ بڑی ڈھیٹ چیز ہو ۔ کیا ہم سب کو مار کر مرنے کا ارادہ ہے ۔‘‘ علی احمد گلا کٹے بیل کی طرح بجھی بجھی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہے اس میں اس بدلی ہوئی عورت کو دیکھنے کا حوصلہ نہیں ہوتا لہذا آنکھیں بند کر لیتا ہے‘ یوں کہ آنکھوں کے کنارے آنسوؤں سے بھیگ جاتے ہیں مگر عورت کے اندر سے ابلتی نفرت اسی طرح ابلتی رہتی ہے :
’’ میرے لیے تو تم پندرہ برس پہلے مر چکے تھے علی احمد۔ میری ایک چھوٹی سی بھول کی تم نے مجھے اتنی کڑی سزا دی ۔ اس سے اچھا تھا تم مجھے طلاق دے دیتے لیکن تم مجھے اذیت دینا چاہتے تھے۔ ‘‘
آگے چل کر افسانہ نگار نے صباحت سے اس کی اس چھوٹی سی بھول کا اعتراف کرایا جو پندرہ سال سے انہیں ایک دوسرے سے کا ٹے ہوئے تھا۔ صباحت ہی کے لفظوں میں :
’’ ٹھیک ہے یہ میری غلطی تھی ۔ میں نادان تھی۔ اس حرام زادے کی چکنی چپڑی باتوں کے سحر میں آگئی لیکن اس کے ذمہ دار بھی تم خود تھے ۔ تم نے اسے گھر میں کیوں رکھا۔ کیوں اس پر اعتبار کیا۔ کیوں مجھے آزمائش میں ڈالا ۔ تم نے خود ہمیں ڈھیل دی ۔ وہ میرے لیے نت نئے تحائف لاتا اور مجھے لمبی ڈرائیو پر لے جاتا مگر تمہاری پیشانی پر کبھی بل نہ آیا ۔ مجھے تو لگتا ہے تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا کہ مجھ سے کوئی خطا سرزد ہو جائے اور تم مجھے ایکسپلایٹ کر سکو۔ اور میں باقی ماندہ زندگی تمہاری اطاعت اور قید میں گزار دوں لیکن میں نے اگر یہ طویل عذاب جھیلا تو محض بچوں کی خاطر ۔ ورنہ مجھے تمہاری صورت سے نفرت ہوگئی تھی ۔‘‘
کہانی نے اس حصے میں مردوزن کے آزادانہ اور بے باکانہ اختلاط پر شدید گرفت کی ہے اوران حدوں اور فاصلوں کو برقرار رکھنے پر اصرارکیا ہے جو مشرقی تہذیب کا حسن ہیں ۔ عورت کا اپنے آپ پر اعتماد اپنی جگہ اور اس کی نشوونما بہت اہم سہی ‘ مگر جنس کی لپک کی بھی اپنی ایک حقیقت ہے جس نے مغرب کی پر اعتماد عورت کا اپنا گھر بکھیر کر رکھ دیا اور اسے ننگا کرکے رسوا بھی کیا ہے ۔ کہانی کا کہنا ہے کہ خاندان کے انسٹی ٹیوشن کی بقا اور استحکام ہی مشرقی عورت کو دلدل میں دھکیلنے سے بچاسکتا ہے۔
صاحب ‘ ایک بار پھر محبت اور قربانیوں کے پانی سے گندھی عورت کی اس نفرت کی طرف جس نے اس کے وجود کو جہنم بنا رکھا ہے ۔ ایک عورت ایسی صورت حال میں نہیں رہ سکتی ‘ صباحت بھی نہیں رہنا چاہتی تھی مگر خود پر جبر کرکے نبھارہی تھی ۔ اس نے اپنے نہ مر چکنے والے مرد کو بتایا کہ اگر وہ چاہتی تو اسے زہر بھی دے سکتی تھی مگر اس نے ایسا بچوں کی وجہ سے نہیں کیا تھا ۔ اور اسے زہر نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اگر اس کا مرد اسے بری عورت قرار دے کر تعلق توڑ سکتا تھا تو ایک عورت ہو کر اس میں بھی حوصلہ تھا کہ وہ اپنے مرد کے بغیر رہ سکے ۔سو وہ رہی اور یوں رہی جیسے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کر رہی ہو۔
آہ ایک مشرقی عورت؟ ۔۔۔ مگر مجھے کہنے دیجئے واہ مشرقی عورت ۔ مشرقی عورت کے ساتھ ’’آہ‘‘ کی آواز مجھے عورت کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتی وومن ایکٹی وسٹ کی کتاب ’’بری عورت‘‘ سے نکل کر آتی سنائی دی ہے ۔جس میں سب کچھ گڈ مڈ ہو جاتا ہے جب کہ’’ واہ‘‘ اس مشرقی عورت کے لیے دل سے نکلی ہے جو عمر قید جتنے اذیت والے دکھ میں بھی اپنا گھر بچانا چاہتی ہے ۔ ایک مرد کا ستم سہہ کر سارے مردوں پر نہیں چڑھ دوڑتی ان کے بیچ تمیز کرتی ہے ۔ اس کے بیٹے بھی تو اب تک مردبن چکے ہیں جن سے اسے محبت ہے ۔ یہ وہ محبت ہے جو اپنے خالص پن کے ساتھ جس طرح ہمارے سماج میں ملتی ہے اور کہیں نہیں ملتی ۔ لہذا مغرب سے عورت کی مادر پدر آزادی کا ایجنڈا لینے والی اور ’’ بری عورت‘ بری عورت‘‘ کی پکار سے چونکانے والیاں کیا جانیں کہ اپنی اولاد کے لیے بڑے بڑے دکھ سہہ لینے کے کیا معنی بنتے ہیں ۔
ہاں ‘ تو میں بتا رہا تھا کہ منشا کی کہانی کا ظالم مرد مر نہیں رہا تھا جب کہ اس کی عورت تہیہ کئے بیٹھی تھی کہ اسے مر جانے میں مدد دے گی لہذا وہ اپنی نفرت کے زہر کا ایک ایک قطرہ اس کے بدن میں اتار رہی تھی اور ہچکیاں لیتے اپنے مرد کو بتا رہی تھی کہ اسے اس سے کبھی محبت نہیں رہی تھی ۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ اس سے کبھی شادی بھی نہ کرتی۔ منشایاد نے اس مرحلے پر اپنے سماج کی اس قبیح روایت پر شدید چوٹ لگائی ہے جس میں عورت سے اس کی مرضی پوچھی ہی نہیں جاتی اور اسے ایک ایسے مرد سے نبھاہ پر مجبور کیا جاتا ہے جو جس سے وہ محبت نہیں کر سکتی۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سجھا دیا ہے کہ جوانی کے جوش میں ہم جسے محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں‘وہ فقط جنس کا زور ہوتا ہے اور ایسا منشا نے اس کردار کے ذریعے بتایا ہے جس کے ساتھ صباحت پھسل گئی تھی۔
صباحت نے پندرہ برس خود پر جبر کیا مگر اس کے مرد پر نزع کا عالم طاری ہوا تو صبر کا پیمانہ چھلک پڑا اور جب وہ ساری نفرت کا زہر اس کے جسم میں اتار چکی تو وہ کر مر گیا ۔مگر کہانی اس کے مرنے پر کہاں تمام ہوتی ہے ۔ منشایاد کے ہاں یہ وصف بطور خاص دیکھا جاسکتا ہے کہ کہانی کی ٹیل میں ایک ٹوسٹ ضرور ہوتا ہے ‘ ایک ایسا موڑ جو کہانی پر ایک نیا منظرنامہ کھول دیتا ہے ۔ اس کہانی میں یہ موڑ تب آیا جب صباحت نے اس پورٹ ایبل کیسٹ پلیئر کی طرف دھیان دیا تھا جو اس کا بیٹا یہ کہتے ہوئے دے گیا تھا :’’ابو کی آواز‘‘۔ مرنے کے بعد بھی اس کے مرد کی آواز اس کا پیچھا کر رہی تھی ۔ اس نے بوکھلا کر بیٹے کی بات کو دہرایا تھا۔ تو بیٹے نے بتایا تھا کہ اس میں اس کے لیے ایک میسج تھا ‘ریکارڈ کیا ہوا اور اس کا خیال تھا کہ جب ابو ہسپتال میں تھے ‘ آخری بار‘ تب انہوں نے کیسٹ پلیئر منگوایا تھا ‘شاید تب ہی پیغام ریکارڈ کیا گیا ہو۔ صباحت کا دل دھک سے رہ گیا ‘ پتہ نہیں اس نے کیا کہا تھا ‘ کہیں بچوں نے سن نہ لیا ہو ۔ مگر مہذب بچے نے بتایا کہ جونہی اس نے ابو کی آواز میں ماں کے نام پیغام سنا وہ کیسٹ پلیئر بند کرکے ماں کو دینے آگیا ۔ اور کہانی اسی ریکارڈ کئے گئے میسج کے ذریعے نیا بھید کھولتی ہے ۔ صباحت نے کیسٹ پلیئر آن کیا تو اس کا مرد جس سے وہ شدید نفرت کرتی آئی تھی اظہار تشکر کے الفاظ کہہ رہا تھا۔ جس طرح اس نے اس کی تیمارداری کی تھی ‘ اس کے احسان کے نیچے وہ دبا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا :
’’مجھے اندازہ نہیں تھا تمہیں مجھ سے اتنی محبت ہے۔ افسوس ہمارے درمیان غلط فہمیاں اور جھجک سی پیدا ہو گئی ۔ کاش میں اسے دور کر سکا ہوتا ۔ لیکن صباحت میں نے ہمیشہ تم سے محبت کی ۔ تم جب بھی آتی ہو کچھ کہنا چاہتی ہو میرارؤاں رؤاں ہمہ تن گوش رہتا ہے لیکن تم ہر بار نہیں کہہ پاتی ہو۔ تمہارے منہ سے محبت کے دو بول سننے کے لیے میری جان اٹکی ہوئی ہے ‘ورنہ میں کب کا مر چکا ہوتا۔‘‘
جسے عورت کی محبت کے بول سن کر مرنا تھا وہ اس کی ابلتی نفرت میں ڈوب کر مر گیا۔ جس نے اتنی شدید نفرت کی تھی وہ اس پر کھل کر رو بھی نہ سکی تھی مگر بعد از مرگ جوں ہی اس کا میسج تمام ہوتا ہے عورت تکئے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے جیسے اس کا مرد پہلے نہیں اب مرا تھا۔ یوں ہم پندرہ برس نفرت کرنے والی عورت کے دل سے محبت کو امنڈتا دیکھ سکتے ہیں اور اس کی شدت کو بھی محسوس کر سکتے ہیں ۔
اور آخر میں مجھے عسکری کی بات کی طرف آنا ہے مگر پہلے یہ تو یاد دلا دوں کہ منٹو کو عورت کی نفسیات سمجھانے کے لیے ایک خاص قسم کی عورت کی جانب رجوع کرنا پڑا تھا یہ احمد علی کے گھر میں پڑی ہوئی عورت نہیں ہو سکتی تھی ۔ ’’امتل جان‘ ‘ ’’بالاخانہ‘‘ اور ’’رام پیاری ‘‘والے رحمان مذنب کو بھی خوشبودار عورت سے رغبت رہی ۔آغا بابر کے ہاں زیادہ تر عورت جنس کی لذت دینے آتی ہے اور حسن عسکری ۔۔۔ رکئے صاحب خود عسکری ہی کی زبان سے سن لیتے ہیں:
’’مجھے خود پتا نہیں کہ کہ یہ خالص ہندوستانی عنصر ہے کیا چیز ‘ لیکن میں اس کا وجود تسلیم کرتا ہوں اور اس کا احترام کرتا ہوں ۔ میرے افسانوں میں یہ احترام اس شکل میں ظاہر ہوا ہے کہ میرے کرداروں کے نام عیسائی ہیں ‘‘
( اختتامیہ :جزیرے)
اس کا یہ قطعا مطلب نہیں ہے کہ ہندیا مسلم کریکٹرز کو قابل اعتنا نہ جان کر عسکری ہندوستانی عورت کے شعور کو سمجھنے میں ناکام ہوا ‘نہ ہی اس سے یہ معنی برآمد ہوتے ہیں کہ اس باب میں منٹو اور دوسروں کو ناکامی ہوئی بلکہ مجھے محض یہ بتانا ہے کہ منشایا کے ہاتھ وہ تیکنیک اور سینے میں حوصلہ آگیاہے کہ وہ عام گھر کی رشتوں سے عبارت عورت کو سبک دستی سے لکھ کر تہذیبی شعور کی پرتیں کھولتا چلا جائے اورکہیں بھی اسے جھجک محسوس نہ ہو۔ اسی بے باک سلیقے نے مجھے منشایاد کی عورت کی طرف راغب کیا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ منشا بھی بیدی کی طرح جنس کی تقدیس کا قائل ہے ۔ عورت کو جنسی اور سفلی جذبات کی تظہیر کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے معاشرے کی انتہائی ضروری اور اہم اکائی گردانتا ہے ۔ منشایاد نے عورت کو صرف خوش بودار اور لذیذ ہی نہیں بنایا ‘ اسے بیدی کی طرح باوقار بھی بنادیا ہے ۔یوں اپنی تہذیب کو عورت کے کرداروں سے سمجھنے کے لیے خاص قسم کی عورتوں کے علاقوں میں جانے کی ضرورت ہے کہ کوٹھے چڑھنے کی کہ منشایاد نے اس کا اہتمام آس پاس کی لپٹی لپٹائی ‘اپنی تہذیب میں رچی بسی اور اپنی معاشرت سے جڑی ہوئی عورت کو لکھ کر کر دیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ منشایاد کے یہ نسوانی کردار بہت سے مقامات پر انتہائی سفاک اور بے رحم ہو جاتے ہیں اور بظاہر صحت مند نظر آنے والے معاشرتی وجود کے اندر کی رسولیوں کو پھوڑکر متعفن مواد کو بہہ جانے پر مجبورکردیتے ہیں۔
***
کتابیات منشایاد
3
۱۔ بند مٹھی میں جگنو (اردو افسانے) ۱۹۷۵ء
۲۔ ماس اور مٹی (اردوافسانے) ۱۹۸۰ء
۳۔ خلا اند رخلا (اردوافسانے) ۱۹۸۳ء
۴۔ وقت سمندر(اردو افسانے) ۱۹۸۶ ء
۶۔ وگدا پانی(پنجابی افسانے) ۱۹۸۷ء
۸۔ درخت آدمی (اردو افسانے) ۱۹۹۰ء
۹۔ دور کی آواز(اردو افسانے) ۱۹۹۴ء
۷۔ ٹاواں ٹاواں تارا(پنجابی ناول) ۱۹۹۷ء
۱۰۔ تماشا(اردو افسانے ) ۱۹۹۸ء
۱۱۔ شہر افسانہ (انتخاب ، اردو افسانے ) ۲۰۰۳ء
۱۲۔ خواب سرائے(اردو افسانے) ۲۰۰۵
۱۳۔ اک کنکر ٹھہرے پانی میں(اردو افسانے) ۲۰۱۰ء
۱۴۔ راہیں (پنجابی ناول کا اُردو روپ ) ( اشاعت بعد از وفات) ۲۰۱۲ء

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد| احمدفراز کے عشق

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں احمد فراز کی یاد میں تقریب ہوئی تو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *