M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / محمد حمید شاہد سے دس سوالات|تصنیف حیدر

محمد حمید شاہد سے دس سوالات|تصنیف حیدر

محمد حمید شاہد سے دس سوالات
محمد حمید شاہد سے دس سوالات

(یہ انٹرویو تصنیف حیدر کے بلاگ “ادبی دنیا” کے شکریہ کے ساتھ یہاں فراہم کیا جا رہا ہے)

محمد حمید شاہد صاحب سے میری بات چیت سب سے پہلے ظفر سید کے قائم کیے ہوئے ادبی فورم’حاشیہ’کے ذریعے ہوئی تھی،پھر انہوں نے مجھے سب سے پہلے میری خواہش پر اپنی کتاب’اردو افسانہ:صورت و معنی ‘پڑھنے کے لیے بھیجی۔بعد میں ان کی دوسری بھی اہم کتابیں میں نے پڑھیں، جن میں شمس الرحمٰن فاروقی کے جواب میں لکھی گئی منٹو پر ان کی کتاب اوردوسری بہت سی تصانیف شامل ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد حمید شاہد ایک کثیر المطالعہ ادیب ہیں،میں نے جب بھی ان سے بات کی ہے، اس بات کا احساس ہوتا رہا ہے۔ اردو افسانے اور شاعری دونوں کی تاریخ کو وہ نہیں روتے، کیونکہ حال سے بھی بڑی اچھی طرح باخبر ہیں۔میرے ان انٹرویوز کا ایک مقصد ادیب کی اصل شناخت تک پہنچنا بھی ہے، چنانچہ اس میں کچھ سوال ذاتی نوعیت کے بھی ہوتے ہیں، خوشی ہے کہ میرے بلاگ کے لیے شاہد صاحب نے تمام سوالوں کے جوابات لکھ بھیجے۔جنہیں اب میں آپ کی نذر کررہا ہوں۔

تصنیف حیدر: آپ ہر بات پر اتنی آہستگی، محبت اور خلوص سے ری ایکٹ کرتے ہیں۔ اتنا ٹھنڈا مزاج اور ایسا نرم رویہ برقرار رکھنے میں کیا آپ کو دشواری پیش نہیں آتی۔یہ آپ کے مزاج کا حصہ ہے یا مصلحت اندیشی؟

محمد حمید شاہد: تصنیف پہلے تو مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ آپ کچھ سوالات لے کر ایک “زوردار”مکالمہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ مکالمہ زوردار ہوگا یا نہیں ، میں نہیں جانتا ، تاہم اتنا جانتا ہوں کہ ادیب اپنی کائنات میں رہتے ہوئے ، اسے حیرت سے دیکھتا ہے ، قدم قدم پر چونکتا ہے ، اس سے الجھتا ہے اور اپنے باطن میں ایک اُبال کو اُٹھنے دیتا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ  یہی باطنی ردعمل اس کے ہاں تخلیقی عمل کو مہمیز لگاتا ہے ۔ اب اگر کوئی  شخص ایسے میں اس ساری تندی اور تانت کو ،جس نے اس  کے باطن میں معجزہ دکھانا تھا ، اُسے اپنے خارج میں برت لیتا ہے،مشتعل ہوکر شدید ردعمل کا اظہار کر دیتا ہے ،تو یہ استفراغ اس کے باطن میں موجودتخلیقی عمل کے رواں ہونے کے امکانات کو تلف کر دیتا ہے ۔ صاحب !رہا میرا معاملہ تو اس باب میں صاف صاف کہہ دوں،کہ  میں شروع سے ایسا نہیں ہوں۔ میری محبوب صنف افسانے نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ میں اپنی بات کو ، اپنے رد عمل کو ، اپنے غصے کو اپنے اندر روک  لوں، ‘کنٹے ین’ کر لوں، ‘ہولڈ’ کروں  اوراسے ایک کیمیائی عمل سے گزرنے دوں ۔ فکشن لکھنے والے جانتے ہیں کہ کہ محض اور صرف واقعہ لکھتے چلے جانے سے فکشن کا بیانیہ  نہیں بنتا، لکھتے ہوئے اس صورت حال ، اس کردار، اس منظر اور اس فضا میں پوری طرح اترنا ہوتا ہے؛ یوں کہ سب  کچھ لکھنے والے کے اپنے وجود پر بیتنے لگتا ہے۔  اپنے مشاہدے،تجربے اور معلومات کو محض قلم کی  نوک سے سیاہی کے ساتھ  اُگل دینے والے نہیں سمجھ سکتے ۔ محض وقائع نویسی فکشن نہیں ہے  کہ یہاں تو ٹھہر ٹھہر کرلکھنا ہوتا، رک رک کرلکھنا ہوتاہے؛ آوازوں کو،جذبوں کو ، چھوٹی چھوٹی لہروں کو ، لفظوں کے اندر یا سطروں کے درمیان رکھتے ہوئے ، سنبھالتے ہوئے اور سہتے ہو ئے لکھنا ہوتا ہے ۔ رولومے نے کہا تھا، “تشویش کوئی بھی شکل اختیار کر سکتی ہے اور کسی بھی شدت سے ظاہر ہو سکتی ہے ” شدید ردعمل بھی دراصل کسی نہ کسی تشویش کا زائیدہ ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے وجود پر زد پڑتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ پورے وجود پر نہیں وجود کے کسی نہ کسی پہلو پر ، اور جہاں یہ زد پڑ رہی ہوتی ہے ہمارے وجود کی فصیل کا شاید وہ کمزورترین علاقہ ہوتا ہے۔ ہم اس کے ڈھے جانے کے خوف  میں مبتلا ہو کرفوری ردعمل کے ذریعے حملہ آور ہو جاتے ہیں  ۔ تو گویا “شدید ردعمل” ایک تخلیق کارکے ہاں شخصیت کی کجی ہے اور کچھ نہیں  ۔ اس کجی کو دور کرنے کے میں نے بہت جتن کیے ہیں ۔  کسی مصلحت کے تحت نہیں؛ تخلیقی عمل سے بہت ہی گہرائی میں جاکر جڑنے کے لیے۔ یہیں مجھے میلان کنڈیرا کی ایک بات یاد آتی ہے، اس نے  جورڈن  ایل گرابلی کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا؛ ۔لکھنے کا عمل ایک طرح کی تھیراپی  ہے۔ اور یہ کہ ۔آدمی اپنے باطن میں کسی چیز کو آزاد کرنے کے لیے لکھتا ہے ۔ وہ رولاں باروت کی اس بات کو خطرناک قرار دیتا تھا کہ۔ ہر چیز نگارش ہوتی ہے۔  یہ ہر چیز، میلان کنڈیرا کے نزدیک متن نہیں ، گرافومینیا ہے۔  فوری ردعمل ، جذباتی رد عمل ، بھڑک جانا اور اپنے نقطہ نظر کو ہی  حرف آخر سمجھنا ؛ فقط جذباتی ابکائی ہوتا ہے اور کچھ نہیں ۔ میں مزاج کا اتنا یخ بھی نہیں ہوں مگر میں نے ایسی  جذباتی ابکائیوں کوقضا کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے ۔

تصنیف حیدر:ہندوستان کی افسانہ نگاری پر آپ کی رائے جاننا چاہوں گا، خاص طور پر سید محمد اشرف، خالد جاوید، صدیق عالم اور ذکیہ مشہدی کے علاوہ جو لوگ افسانے لکھ رہے ہیں، آپ ان میں سے کتنوں کو جانتے اور پسند کرتے ہیں۔

محمد حمید شاہد: ہندوستان میں لکھے جانے والے افسانے کو ہم کوشش سے اور جستجو سے ڈھونڈ کر پڑھتے ہیں ۔ تقسیم کے بعد اردو میں افسانہ کتنا بدلا ہے، بہ طور خاص میری نظر اس جانب اٹھتی رہتی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اس طرف پریم چند،کرشن چندر، دیوندر سیتھارتھی، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، بلونت سنگھ، سید رفیق حسین،قرۃالعین حیدر، انور عظیم، رتن سنگھ، کنور سن ، دیویندر اسر، سریندر پرکاش، بلراج مین را وغیرہ کے بعد وہاں کوئی اچھا لکھنے والا نہیں رہا یا یہ کہ جیلانی بانو، جوگندر پال ، انل ٹھکر، انورخان،انور قمر،سلام بن رزاق، غیاث احمد گدی ، اکرام باگ وغیرہ کے بعد جو کچھ لکھا جارہا ہے وہ توجہ کھینچنے  والا نہیں ہے ۔ میں اپنی کتاب ،اردو افسانہ:صورت و معنی ،میں سید محمد اشرف  کے افسانے کا اعتراف کر چکا ہوں ۔ انہوں نے اپنے افسانے کی تعمیر کے لیے جس خوبی سے جمالیاتی اور تخلیقی  فضا بنائی ہے اس کا اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔ ڈار سے بچھڑے، لگڑ بگڑ ہنسا، کعبہ کا ہرن،دُعا،تلاش رنگ اور آخری بن باس جیسے  افسانے اوران کا ناول  ،نمبردار کا نیلا،آپ  کیسے  ایک طرف رکھ کر فکشن کی تاریخ مرتب کر سکتے ہیں ۔ پھر اقبال متین کو لیجئے کہ کس طرح کہانی میں ایک نفسیاتی جہت رکھ دیتے ہیں ۔ سماج اور معاشرے کے پرت در پرت اور گنجلک رویے انہوں نے اپنے افسانوں میں لکھے ہیں اور خوب لکھے ہیں۔ ملبا،اجنبی، ذہن کا مارا ہوا  وغیرہ جیسی کہانیاں نہ جانے کب پڑھی تھیں ابھی تک بدن میں ایک گونج سی بھر رہی ہیں ۔  اسی طرح اقبال مجید کے منتخب افسانے،قصہ رنگ شکستہ، کے نام سے آصف فرخی نے کراچی سے چھاپا تو میں نے توجہ سے ایک ساتھ ان کے بیس اکیس افسانے پڑھے ۔ ایک ایک افسانہ پڑھنا اور طرح کا عمل ہے اور کسی کو یکمشت پڑھ کر قبول کرلینا الگ نوع کا تجربہ ۔ اقبال مجیدنے اپنے قاری کے ساتھ اس کتاب کے ذریعے جو مکالمہ کیا ہے  وہ کئی لحاط سے اہم ہو جاتا ہے۔  اقبال مجید کے افسانے پڑھ کرہم اپنے سماج سے اپنے ماحول سے قائم رشتوں کے بارے میں پھر سے سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔جی یقین نہیں آتا تو وہ افسانہ جس پر اس کتاب کا نام رکھا گیا ہے یعنی قصہ رنگ شکستہ، سوئیوں والی بی، ایک حلفیہ بیان وغیرہ جیسے افسانے پڑھ کر دیکھ لیجئے ،آپ وہاں نہیں ہوں گے جہاں اب ہیں۔یہاں اپنے بچھڑ جانے والے دوست ساجد رشید کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہاں اسلام آباد میں اس سے ملاقات رہی ، اور یہ ملاقات ابھی تک چل رہی ہے۔ ایک خاص مزاج ، اپنی فکریات کے ایک دائرے میں کہانی کا بہائو اسے عزیز رہا ،نخلستان میں کھلنے والی کھڑکی اور ایک چھوٹا سا جہنم ، اگرچہ اس کے دو افسانوں کے نام ہیں مگر سچ پوچھیں تو اس کے باطن کا کیفیت نامہ بھی ہیں ۔ آپ نے خالد جاوید کا نام بجا طور پر لیا ۔ انہوں نے واقعی اپنے بیانیے کو نیا کیا ہے اور انسانی وجود کی تہوں میں چھپے ہوئے تعفن ، وسوسوں اور اندیشوں کو یوں نکال کر متن کی اور طرح کی جمالیات مرتب کی ہیں ۔  تفریح کی ایک دوپہر  جیسا افسانہ ہو یا موت کی کتاب جیسا ناول ، آپ کو ماننا پڑھتا ہے کہ ایسا لکھنا پہلے ممکن نہ تھا ۔ جوہ اپنے فکشن میں برتے جانے والے واقعات کے باب میں جہاں جرات  اور بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں ان واقعات میں نفسیاتی سطح پرپیچیدہ  رشتے اور معنیاتی انسلاکات پیدا کرتے ہوئے عمومی تجربے میں آنے والی ،دیکھی بھالی اور برتی ہوئی صورت کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ تصنیف یہاں آپ نے مشرف عالم ذوقی کو بھلا دیا ، حالاں کہ جس تسلسل سے وہ لکھ رہے ہیں ،ہر آن آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں ۔ ماننا ہوگا کہ کہ وہ اپنے فکشن کا مواد رواں عصری منظر نامے سے لیتے ہیں ، یوں جیسے کوئی خبر ہو اور کہانی بنا لی گئی ہو ۔ یہ کام واقعی بہت کٹھن ہے ۔ واقعات پرانے ہو جائیں تو ان میں گزرا ہوا وقت کی دھند ایک مہین پردے کی طرح تن جاتی ہے ۔ ایسے میں لکھنے والے کا تخیل بہت کچھ کہانی سے جوڑ کر اسے کامیاب کر سکتا ہے مگر گزرتے وقت کو لکھتا اور اس اسلوب میں لکھنا جس میں ذوقی لکھ رہے ہیں بہت لائق اعتنا ہے ۔بھوکا ایتھوپیا، غلام بخش، منڈی، لینڈ اسکیپ کے گھوڑے، فزکس کیمسٹری الجبرا، جیسے افسانے پڑھ کر میں اپنے عصر کے ساتھ جڑا رہتا ہوں اور اس معنیاتی تعبیر  کو بھی صاف شناخت کرتا رہتا ہوں جو مصنف نے متن سے  اپنے تئیں وابستہ کی ہوتی ہے ۔ بلند آہنگ میں بیان ہونے والی یہ تعبیر لگ بھگ ہر بار ہمیں چونکاتی ہے، جی چونکاتی ہے اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔  حال ہی میں انیس اشفاق کا افسانہ ایک پرانی بیاض میں لکھا ہوا قصہ ،میں نے دنیازاد میں پڑھا، عبد الصمد کا بھی نیا افسانہ ،لوح میں پڑھنے کو ملا۔ ذکیہ مشہدی کا آپ نے بہ طور خاص پوچھا مجھے ان کے افسانے کی زبان نے متوجہ کیا اور بیانے میں یہ جو ایک خاص لطف کا بہاو اآجاتا ہے،اس نے۔ حساب،پرائے چہرے اور صدائے بازگشت کے علاوہ  نقش نا تماممیں عورتوں کی نفسیات کو سمجھنے سمجھانے ، اور دوسرے سماجی موضوعات کے نفسیاتی پہلووں کو آنکنے کے جتن ملتے ہیں ۔ یہ اپنے عہد کی لکھنے والیوں اور اپنے سے پہلے والیوں سے کیسے مختلف ہوتی ہیں اس کے لیے مجھے انہیں  اور بھی پڑھنا  ہوگا۔ موقع ملا تو ضرور پڑھوں گا۔ صدیق عالم کو میں نے بہت جم کر پڑھا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ آپ صدیق عالم کو پڑھنے بیٹھیں تو آپ کو پڑھنا پڑھتا ہے ،پوری توجہ سے پڑھنا پڑھتا ہے۔ پہلی بار میں نے اس افسانہ نگار کی کہانی ،فورسیپس ،پڑھی تھی آج تک نہیں بھول پایا ہوں۔اس کہانی میں قوسین میں صدیق عالم نے ایک جملہ لکھا تھا ،جو غالباً یوں تھا۔تم دیکھتے ہو، صدیق عالم کہ ایک احمق لکھنے والا وقت کو کبھی اتنے سلیقے سے بیان نہ کر پاتا۔ معاف کیجئے جملہ لفظ بہ ؛فظ یاد نہیں رہا ، تاہم مفہوم یہی تھا۔ اور یہی کمال صدیق عالم کا ہے کہ وہ وقت کو بہت سلیقے اور بہت مہارت سے کہانی میں برتتے ہیں ۔ فوارے، اور ناگر بئولی جیسے افسانے صدیق عالم ہی لکھ سکتا ہے ۔ اچھا آپ معاصر افسانے کی بات کر رہے ہیں اور نیر مسعود کو بھول رہے ہیں اور شمس الرحمن فاروقی کو بھی۔ آپ کہیں گے یہ تو سینئر نسل ہے ۔ بجا صاحب، مگر کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ یہ دونوں ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے فکشن لکھنے کی طرف متوجہ ہوئے اور لائق توجہ ہو گئے۔ نیر مسعود پر میں نے مفصل مضمون لکھا ہے ، ہیت کو جس طرح وہ عظیم بناتے ہیں اور اس کے اندر عجب رکھتے ہوئے بیانیہ متشکل کرتے ہیں ؛یوں کہ اس میں سے  تہذیبی رچائو بھی موجود رہتا ہے اور ایک حیرت کے عنصر کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ طائوس چمن کی مینا، عطر کافور ،محض افسانوں کے نام نہیں نیر مسعود کی نثر پڑھ کر جس طرح کا منظر آنکھوں کے آگے رواں ہوتا ہے یا جس طرح کی خوشبو سانسوں میں رچ بس جاتی ہے اس کا علامتی اظہار بھی ہیں ۔ نیر مسعود کی کہانیاں پڑھ کر یہ مسئلہ کبھی اہم نہیں رہتا کہ ان کے افسانوں میں مضمون کیا تھا بلکہ خود کہانی اور اس کے بیانیے ا سلوب   اہم ہوجاتاہے۔ اپنے اسلوب کے اعتبار سے شمس الرحمن فاروقی کے افسانے بھی الگ ذائقہ بناتے ہیں ۔ ان کا ناول، کئی چاند تھے سرآسمان، اگرایک خاص وقفہ زماں کا تہذیبی مرقع ہے تو ان کے افسانے،سوارٗ، سے لیکر قبض زماں، تک زندگی کو ایک تہذیبی تناظر دینے سے عبارت ہیں۔ میں نے کہیں لکھا تھا کہ فاروقی صاحب نے ان افسانوں میں تہذیبی ماضی کے متروک جسد میں دھڑکتا ہوا دل رکھ دیا ہے ۔ لہذا تصنیف ،آج کے افسانے میں ان کے افسانوں کا ذکر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ بات طول پکڑ رہی ہے کئی اور نام بھی یاد آتے ہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی کی دہائی میں نمایاں ہونے والے ان افسانہ نگاروں پر مکالمہ ضرور قائم ہونا چاہیے جو اب تک لائق اعتنا تخلیقی سرمایہ منظر عام پر لاچکے ہیں ۔ یہ  کام آپ کے ہاں ہونے والا ہے اور ہمارے ہاں بھی۔

تصینف حیدر:آپ اچھے افسانہ نگار ہیں یا تنقید نگار؟

محمد حمید شاہد: اگر آپ نے یہ جو سوالنامہ بھیجا ہے اس میں ایک سوال  کے جواب نہ دینے کا اختیار بھی دے دیتے تو میں اس سوال کو گول کر جاتا۔ دیکھئے صاحب مجھے اس میں  مجھے جو لفظ سب سے زیادہ کَھلتا ہے ،وہ ہے ،اچھے،۔ یہ اچھے میاں کیا ہوتے ہیں ۔  سنا ہے یہ برے کی ضد ہوتے ہیں ، مناسب کہہ لیں ، گوارا، جو بے ڈھب ہو وہ بھی اچھے میاں ، وہ بے عیب ہو وہ بھی اچھا۔ جو اللہ میاں کی گائے ہو وہ بھی اچھا اور جو بیمار نہ ہو وہ بھی اچھا۔ خیر یہ اچھا کچھ بھی ہو اس کا علاقہ ادب نہیں ہے ۔  ایک مثل ہے اچھے برے میں چار انگل کا فاصلہ ؛ تو یوں ہے کہ ادب میں اس طرح کا اچھا ہونا نہیں چلتا ۔ یہ تو تخلیق کا بھیدوں بھرا علاقہ ہے ۔ یہاں اگر  میں افسانہ نگار ہوں تو  مجھ میں تخلیقی صلاحیت کا ہونا سب سے پہلی شرط ہے  ۔ افسانہ  لکھنا محض واقعات کے ایک سلسلے کو ترتیب دے کر ایک کہانی کا دائرہ بنا لینا نہیں ہے ۔ یہ مکھی پر مکھی مارتے  چلے جانے کا نام بھی نہیں ہے  ؛نہ ہی یہ چار انگل کا فاصلہ پیدا کرنے کی شعبدہ بازی ہے۔  جیسا پہلوں نے لکھا انہی جیسا گھسیٹے چلے جانے والا عمل تو یہ بالکل نہیں ہے۔  یہاں اہم یہ ہے کہ اندر سے کچھ ابلتا ہے یا نہیں ،  کچھ ٹہوکے  لگاتا ہے یا نہیں ۔ اور وہ  میلان کنڈیرا  نے  تخلیقی سطح پرلکھنے کواپنے باطن میں کسی چیز کو آزاد کرنے کے مترادف کہا تھا تو میرے اندر آزاد  کرنے کے لیے کچھ ہے یا نہیں ، کہیں ایسا تو نہیں کہ سب اوپر سے لادا ہوا ہے ؛  تخلیق نہیں محض تقلید ۔ اگر ایسا ہے تو اچھا تو ہوا جا سکتا ہے ، ایک تخلیق کار ہونا ممکن نہیں ہے ۔لہذا میں اچھا افسانہ نگار نہیں ہوں ؛ تخلیقی عمل سے جڑا ہواافسانہ نگار ہوں۔  میں محض کہانی لکھنے کے لیے افسانہ نہیں لکھتا زندگی کو ازسر نو تخلیق کرنے اور اس کے بھیدوں کو سمجھنے کے لیے افسانہ لکھتا ہوں ۔مبین مرزا نے  میرے افسانوں کے تیسرے مجموعے ، مرگ زار، پر جو بات  کہی وہ مقتبس کرنا چاہتا ہوں ۔ ہو بہ ہو نقل کر رہا ہوں : جی ہاں، افسانہ نگاری محمد حمید شاہد کا مسئلہ ہے ، بنیادی مسئلہ، جینے مرنے جیسا بالکل بنیادی مسئلہ وہ افسانے کو زندگی کی ویولینتھ پر سوچتا ہے اور اسی ویو لینتھ پر قلم بند کرکے پیش کرتا ہے ۔مبین مرزا جسے زندگی اور موت کا مسئلہ کہہ رہے ہیں سچ یہ ہے کہ یہی میری زندگی ہے ۔ افسانہ لکھ لینے کے بعد مجھے لگتا ہے ، میں نے ایک اور سطح وجود پر زندگی کو دریافت کر لیا ۔ تنقید کے بخت میں ایسا تجربہ کہاں؟ میری تنقید تو تخلیقی عمل کو سمجھنے کے جتن ہیں  ۔  اس میں اوروں کے بنائے ہوئے تنقیدی سانچے چل جاتے ہیں ۔ دوسروں کی دی ہوئی تھیوریاں اپنا کر اچھا ہوا جا سکتا ہے مگر وہ جو تخلیقی عمل سے حاصل ہونے والی سرشاری ہے  اور اچھا ہے ورا الورا ہو جانے کی دھن ہے وہ علاقہ تنقید کا نہیں ہے۔ اس سب کے باوجود تنقید کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے ۔  یہی تخلیقی عمل کو سمجھنے اور فن پارے کی تعبیر کے معاملے میں ہماری مدد کرتی ہے ۔ یہ میڈیم اور مواد کے درمیان موجود رشتوں کو شناخت دیتی ہے، زبان کے سیال پن سے معنیاتی دھارے کشید کرتی ہے۔ کسی بھی فن پارے میں موجود خیال اور جمال کی زقندوں میں تخلیقی منطق کو دریافت کرکے اسے ایک نامیاتی کل کے طور پر تعبیر دیتی ہے ۔ جب تنقید کلی طور پر تخلیق کے ہالے میں اپنی کارکردگی دکھا رہی ہوتی ہے تو اس عمل سے وہی روشن ہالہ اور وسیع ہوتا چلا جاتا ہے ۔ تو تنقید کا عمل میرے لیے اسی روشن ہالے کے اندر رہ کر کچھ وسعتوں کی تلاش کانام  ہے ۔

تصنیف حیدر: علامتی افسانہ بے وقوف بنانے کا دھندہ ہے، کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا؟کیوں؟

محمد حمید شاہد : آپ کا سوال  پڑھا اور جی چاہا کہ اس پر  قہقہہ لگائوں ۔ ایک زمانے میں علامتی افسانہ ہی افسانہ تھا اور اب آپ فرماتے ہیں کہ وہ تو بے وقوف بنانے کا دھندہ تھا ۔  خیر اب وہ جو علامت کو فیشن کے طور پر لکھنے کا زمانہ تھا وہ تو لد چکا اور ایسا ہے کہ ہم اس باب میں سنجیدگی سے سوچ سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اور واقعتاً ایسا ہے کہ علامت نگاری ادب کےمحبوب قرینوں میں سے ایک قرینہ ہے ۔  تخلیق کار کے ہاں در آنے والے تجربے کی پیچیدگی اور کثیر الجہتی کو سادہ بیانیے میں گرفت لینا لگ بھگ ممکن نہیں رہتا تو علامت نہ صرف اسے گرفت میں لیتی ہے ،اس کی معنویت میں اضافہ کرسکتی ہے۔ تاہم یہ کام ہے بڑے سلیقے اور حکمت کا ۔ کیوں کہ اس میں تخلیق کار کا تجربہ داخلی سطح پر متعدد اور متضاد عناصر کو بہم کرتا ہے توکہیں علامت بنتی ہے ۔ گویا یہ جملے یا شعر کی آرائش نہیں بلکہ ڈیپ اسٹریکچر میں موضوعاتی وسعت اورامکانات پیدا کرنے کانام ہے ۔ مثلاً میرا جی کو اپنے محبوب موضوع جنس سے معاملہ تھا ۔ وہ اسے سیدھے سبھاﺅ بیان کر دیتے  تو لذت اور چٹخارہ ان کے شعری تخلیقی تجربے کی ناس مار دیتا لہذا انہوں نے علامت کا سہارا لیا اور خوب خوب لیا۔ ان کے ہاں چاند محبت کی علامت ہو گیا ، اور رات جنسی جذبہ۔رات کے مقابل جب دن کا سایہ پیدا ہوتا ہے تو جنس معدوم ہوجاتی ہے ۔ میرا جی کا کہنا تھا :رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں/رات اک بات ہے صدیوں کی، کئی صدیوں کی/یا کسی پچھلے جنم کی ہوگی۔ اسی طرح میراجی نے ساڑھی ، روزن اور اس طرح کے دوسرے مظاہر سے جنسی علامتیں بُن  کر شاعری میں داخلی سطح پر معنویت اور خارجی سطح پر جمالیات کا اہتمام کیا  ۔ آپ ن م راشد، مجید امجد اور فیض احمد فیض کو اٹھا کر دیکھیں گے توہر ایک کے ہاں علامت کا کوئی نہ کوئی قرینہ جھلک دے جائے گا۔ حتی کہ مجھے تو یہ غزل میں بھی بہت سے مقامات پر لطف دے جاتی ہے ۔ تاہم جہاں بھی اور جس نے بھی اپنے تخلیقی تجربے میں علامت کی مصنوعی پیوندکاری کی، وہ خود بھی اُوندھے منھ گرا اور اپنی تخلیق کو بھی گورکھ دھندا بنالیا ۔ میں سمجھتا ہوں ہمارے ہاں علامت چاہے شاعری میں ہو یا فکشن میں اسے اپنے تہذیبی اورثقافتی ورثے سے اٹھایا جانا چاہیے تھا اور جہاں جہاں ایسا نہ ہوا ہمارے تخلیق کار بری طرح ناکام رہا ہے ۔ ہمارے ہاں علامت نگاری کو ایک فیشن کی صورت اپنا لینے کا چلن بادلیئر،ملارمے،ولیری،ورلین ،رامبو ، ٹی ایس ایلیٹ ،ایذرا پاﺅنڈ وغیرہ کے تتبع میں ہوا۔ فرانس میں علامت نگاری کا رجحان رومان پسندوں کے لذیذ بیانئے اورعبارتی آرائش کے لیے لفظوں کے اصراف کا ردعمل تھا تو ہمارے ہاں علامت ترقی پسندوں کے اُتھلے پن سے اوبنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی اور فیشن پرستوں کی عجلت پسندی کے ہاتھوں ایک دہائی کے اندر اندر مات کھا گئی۔                افسانہ نگاروں کا ایک جتھا ایسا بھی ہے جس نے علامتیں جمع کرنے کے شوق میں فکشن کے بیانیے کا ناس مار کر رکھ دیا تھا حالاں کہ اس کے تخلیقی استعمال سے افسانے کومعنوی دبازت عطا کی جاسکتی تھی اور ایسا بہت سے مقامات پر ہوا بھی۔ مگر جب کہانی کے بہاﺅ میں جا بے جا رخنے پڑنے لگے تو قاری اس سے بدک گیا تھا۔ خیرعلامت نگاری کے نام پر فریب کاری اور جعل نگاری کا چلن اپنے انجام کو پہنچا تو ایک بار پھر اسے ایک تخلیقی ضرورت کے طور پر برتا جانے لگاہے اور گزشتہ صدی کی آخری ڈیڑھ دو دہائیوں کے افسانے میں علامت کے اس کے تخلیقی استعمال کی عمدہ اور قابل قدر مثالیں سامنے آئی ہیں۔ جس کی وجہ سے افسانہ جس سے قاری بدک گیا تھا، اب ایک بار پھر مقبول اور بھر پور تخلیقی صنف بن گیاہے۔

تصنیف حیدر:ادب، سماج کا آئنہ ہو، کیا یہ ضروری ہے؟کیوں؟

محمد حمید شاہد: ادب اور سماج  یہ بہت اہم موضوع ہے ۔ ادیب بہت کچھ سماج سے لیتا ہے اور بہت کچھ سماج کو دیتا ہے تاہم ادب کو محض سماج کا آئنہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا ۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جو تحریر محض اور صرف آئنے کا فریضہ نبھائے اسے ادب نہیں کہا جا سکتا ہے ۔ جو لوگ ادب کا سماج سے آئنے  والا تعلق قائم کرتے ہیں وہ اسے آئنے جیسا محض حقیقت کا ظاہری عکس اچھالنے والا سمجھنے کے ساتھ ساتھ ،اسے افادی بھی بنانا چاہتے ہیں ، آئینے جیسا افادی کہ اس میں دیکھنے والا حلیہ درست کر سکے کنکھی  کرکے بال بنا سکے ،سرمہ سکہ کر لے ۔ گویا  سماج کی صورت سدھارنے کی ذمہ داری ادب پر ٹھہرائی جاتی ہے ۔ یوں ادب تخلیقی عمل سے کٹ کر ایسے ہانکا لگانے والوں کے آگےآ گے ہو لیتا ہے۔ صاحب واقعہ یہ ہے کہ یہ موضوع ہی بنیادی طور پر ایک مغالطہ انگیز ہے ۔ اس موضوع میں خرابی یہ ہے کہ یہ ادب کے تخلیقی میکانزم کو جانے بغیر اس پر سماج اور سماجی افادیت کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے ۔ اچھا ہم جوش جذبے والے لوگ ہیں اور اپنے ادیب کو ایک سیاستدان ، ایک پارچہ باف اور ایک شتربان کی طرح سماج کا ایک کار آمد فرد ثابت کرنے کے لیے غیر ادبی حیلے کرتے رہتے ہیں ۔ شاید اس طرح ہم ادب کو بھی محض ایک پراڈکٹ کی سطح پرکھینچ لاتے ہیں۔  ادب محض سماج کی تصویر نہیں اچھا لتا زندگی کو از سر نو تخلیق کرتا ، ادب کے تخلیقی میکانزم میں شامل ہے کہ یہ موجود پر عدم اطمینان سے تحریک لیتا ہے اور تشکیل نو پر جاکر فن پارے کو وجود میں لاتا ہے لہذا یہ اآئنہ تو کسی صورت میں نہیں ہے۔ اچھا یہ محض ایسی لسانی کارکردگی بھی نہیں ہے جو لفظوں سے صورت حال کی تصویر بنائے ۔ جب سے ہمارے ہاں تھیوریوں کا چلن ہوا ہے ہمیں ”دال“ اور”مدلول“ کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے۔”مہا بیانیہ“ گالی ہوگیا ہے اور تخلیق( بغیر کسی تعیین قدر کے) ”متن “ ہو گئی ہے۔ صاحب ! اس باب میں اگر کوئی جز بز ہو تو”لسان“ اور”کلام“ یا”لینگ“ اور”پارول“ کے بیچ امتیازات سمجھائے جانے لگتے ہیں یا ”رائٹرلی“ اور”ریڈرلی“ والی تفریق کھول کھول کر بتائی جاتی ہے حالاں کہ یہ انگیا تو پہلے  ہی اندر سے خالی ہوتی ہے۔ گویا ادب بس یہی ہے بہت سا”ریفرنشل“ اور کچھ کچھ”جمالیاتی“ مگروہ بھی”کنونشنز“ کے ہاتھوں میں مدھولا ہوا ہو۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ دونوں رویے ادب کو سمجھنے کے باب میں کچھ زیادہ کارگر نہیں ہیں۔ محض معاشرے کی سطح پر اٹھنے والے ابال ادب  کا مسئلہ نہیں ہوتے ۔ یہ بہت گہرائی میں بن چکے اس مزاج سے عبارت ہے جو کہیں صدیوں میں جاکر زمین، زبان ، روایات اور عقائد سب مل کرمرتب کرتے ہیں۔ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ادب بنیادی طور پر تہذہبی مظہر ہی ہوتا ہے اور ادیب اسی تہذیب کا نمائندہ۔ لکھنے والا جب کوئی افسانہ ، ناول یا نظم لکھ رہا ہوتا ہے تو اس کی روح عین اسی لمحے میں اپنی تمام تر لطافت کے ساتھ، اس تہذیبی معبد میں موجود ہوتی ہے۔ اوہ ، میں یہاں ،روح، اور،معبد،کا لفظ بول گیا، جب کہ نئی تنقید کا پالا ہوا ذہن ایسے الفاظ سے بدک کر،مہا بیانیہ، مہابیانیہ، پکارنے لگتا ہے۔ حیرت ہے تھیوری کے تحت اپنے ذہنی کارکردگی کی طرف اس کا دھیان نہیں جاتا جس نے تھیوری کو بھی خود انہی کی طرف سے ہر کہیں منطبق کیے چلے جانے کے جذبے کے تحت ایک مہابیانیہ بنا دیا ہے۔ جس کو بھی آنکنا ہو اسی کی نظر سے آنکتے ہیں اور اچھے برے کو بس ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ لگ بھگ ایسا ہی وتیرہ اس موضوع کے باب میں اختیار کیا گیا۔ اچھا کیا لسانی حوالے سے ادب پارے کو پرکھا جا سکتا ہے ؟ یقیناً آپ بھی اتفاق کریں گے کہ ایسا نہیں ہے ہماری روایت میں علم بیان نے اس باب میں ہماری خوب خوب راہنمائی کی تھی۔ علم البیان کے وسیلے سے بتایا جاتا تھا کہ دلالت دو طرح کی ہوتی ہے، دلات عقلی اور دلالت التزامی۔ دلالت خود کیا تھی ،علامت، نشان اورسراغ۔ پھر دلالت وضعی سے لے کردلالت طبعی ، دلالت مطابقی، دلالت تضمینی اور دلات التزامی کے بھی کچھ معنی تھے مگر جب ہم اپنی روایت اور اپنے تجربے کو ہی دھیلے کا نہ سمجھ رہے ہوں توہم اس بارے میں کیوں سوچیں گے۔ خیر نہ سوچیے کہ میں نے کہا نا محض ادب یہ نہیں ہے ، تخلیق پارے کو صرف اور صرف ہمارے استعارے، علامت، تشبیہ ،تذبیح وغیرہ سے سمجھا جا سکتا ہے نہ سوسیئر کے سگنی فائیر اور سگنی فائیڈ سے ، کہ اس کی نامیاتی وحدت ہی میں اس کے سارے بھید بھنور مضمر ہیں۔اس بات کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ تخلیق کے دورانیے میں ادیب کا ذاتی جوہر ہمیشہ مقدم رہتا ہے اس میدان میں اسے اکیلا ہی اترنا ہوتا ہے۔ فرد کی فکری اساس سوچنے سمجھنے کی راہ تو متعین کر سکتی ہے مگر تخلیقی عمل شروع ہونے پر جو راستہ اختیار کرتا ہے، اس میں باقی چیزیں اور خارجی سہارے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں کوئی تحریک، کوئی نعرے لگانے والا،کوئی تقاضے کرنے والا، کوئی لسانی حیلہ، ساتھ نہیں ہوتا۔ اور جو اپنے تخلیقی عمل سے مخلص ہونے کے بجائے ان مطالبہ کرنے والوں کے پیچھے ہولیتا ہے وہ کبھی بھی اول درجے کا ادیب ہونے کا حق دار نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اپنے اندر بپا تخلیقی عمل سے وفادار ہونے کی بجائے دوسروں کے ساتھ نعرے لگانے کا راستہ اختیار کرنے سے تخلیق کے نفیس اور پراسرار عمل میں رخنے پڑنے لگتے ہیں۔ ادب میں یہ تقاضوں اور سماج کا آئینہ ہونے والی خرابی ترقی پسندوں کی وجہ سے رواج پا گئی تھی اور اب اسے تھیوری والے شعار کیے ہوئے ہیں۔ ترقی پسندوں کی طرف دیکھیں تو راجندر سنگھ بیدی سے منٹو تک اور فیض سے قاسمی تک سب اپنے ذاتی تخلیقی جوہر کی وجہ سے ہمارے لیے قابل قدر ہیں ورنہ خود ترقی پسندوں نے تو منٹو کو الگ کردیا تھا اور بیدی کیا، فیض نے بھی ترقی پسندی کے تقاضوں پر تخلیقی عمل اور ادبی تقاضوں کو فوقیت دی تھی۔ میرا جی چاہنے لگا ہے کہ میں یہاں فیض کا ایک جملہ درج کر دوں۔” شاعر کی قدر” مشمولہ”میزان” میں فیض نے لکھا تھا:”آرٹ کی قطعی اور واحد قدر محض جمالیاتی قدر ہے” فیض ہی کا اس سے متصل ایک اور جملہ” شاعر خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اور اس کی قدریں کچھ ہی کیوں نہ ہوں اگر اس کا کلام جمالیاتی نقطہ نظر سے کامیاب ہے تو ہمیں اس پر حرف گیری کا حق حاصل نہیں ” تو یوں ہے صاحب، کہ یہ تو ترقی پسند بھی جانتے تھے کہ “سماجی آئنہ ” ہو کر کوئی ادبی قدر قائم نہیں کی جا سکتی حالاں کہ ان کا ادب تھیوری والوں سے کہیں زیادہ اور حقیقی معنوں میں سماج سے جڑا ہوا تھا۔ادیب اور تخلیق کار کی اپنی ترکیب میں یہ وصف موجود ہوتا ہے کہ وہ فکری جبر کو توڑتا ہے۔ دانش کے دائروں کو وسعت دیتا ہے۔ سٹیٹس کو تسلیم نہیں کرتا۔ ظلم اور ظالم دونوں نے نفرت کرتا ہے اور ہر بار مظلوم کے ساتھ جاکھڑاہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کے لکھنے والےاپنے فن پاروں میں اسرار اور گہرائی اس لیے پیدا کر لیتے ہیں کہ وہ اپنی تہذیبی مظاہر سے بہت گہرائی میں جاکر مکالمہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ میرا اصرار ہے کہ ادب کی تخلیق کاا پنا ایک میکانزم ہوتاہے۔ ادب کی تخلیق تاریخ لکھنے کی طرح نہیں ہوتی کہ تاریخ تو بالادست طبقے کے جاہ و حشم کی روداد کے سوا کچھ اور نہیں ہوتی۔ یہ تاریخ بالعموم مکار ہوتی ہے اور صرف جیتنے والوں /قوت حاصل کرلینے والوں (اس قوت میں منڈی کی قوت کو بھی شامل جانیے اور میڈیائی ڈکٹیشن والی قوت کو جو ہمارے جیسے کمزور سماج کے اپنے سیاق سے کٹے ہوئے دانش وروں کی ذہنی آزادی بھی ہتھیا لیتی ہے ) کے گن گاتی ہے۔ ادب معاشرتی اور سماجی سطح پر ہونے والے سانحات کی محض ایسی خبر بھی نہیں ہوتا جو اگلے روز باسی ہوجاتی ہے۔ نہ ایسی تعبیر جو قوت کی زبان میں کی جاتی ہے یہ تو زمینوں اور زمانوں میں سفر کرنے والے تجربے کا وہ جوہر ہوتا جس کا جمالیاتی وار دیر تک اور دور تک رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی آواز بہت دھیمی ، ٹھہری ہوئی، مدہم اور روح میں اترنے والی ہوتی ہے۔ تاہم جمالیاتی سطح پر ادب بالا دست طبقہ سے کہیں زیادہ عام آدمی سے مکالمہ کرتا ہے اور سچ کو اپنے دامن میں بھر لیا کرتا ہے۔ یہ سچ اس مکر کا پردہ بھی چاک کر دیا کرتا ہے جو ڈکٹیٹ کرائی گئی تاریخ اور میڈیا کی متشکلہ لسانی ترکیب کے لیے “ادبی اوڑھ” بنا ہوا ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ تخلیقی عمل کی نعمت صرف اسی فرد کے مقدر اور طینت کا حصہ بنتی ہے جو اپنی تہذیب اور اپنے سماج سے جڑا ہوا ہوتا ہے اپنے لوگوں اور اپنی زمین سے وابستہ ہوتا ہے تاہم اس کا ضمیر چوکنا اور اس کی حسیات پورے منظر نامے کو جذب کر رہی ہوتی ہیں۔ ادب لکھنے کا قرینہ کسی اتھلے اور سطحی شخص کے ہاتھ نہیں آتا۔

تصنیف حیدر: پاکستان میں ہونے والی شاعری بالخصوص غزل کے تعلق سے آپ کا کیا خیال ہے؟

محمد حمید شاہد:پاکستان میں ہونے والی شاعری ، کسی بھی عہد میں ہونے والی شاعری سے ہیٹی  نہیں ہے ، جی میں غزل اور نظم ،دونوں حوالوں سے بات کررہا ہوں ۔ اب آپ نے غزل کے خصوص  کے شرط عاید کردی ہے تو یوں ہے ،میرے سامنے آج کے لکھنے والوں میں سے دو کی کتابیں سامنے پڑی ہیں؛ شاہین عباس اور ادریس بابر ۔ اب میں ان کے ہوتے ہوئے کیسے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں  کی غزل توجہ نہیں کھینچتی،آج کے مشاہدے اور تجربے  کو اور روح عصر کو سمیٹ نہیں پاتی ۔ بجا کہ غزل کے حوالے سے لگ بھگ ہر زمانے میں  یہ کہا جاتا رہا کہ لو جی یہ آخری دموں پر ہے، دم لبوں پر ہے ۔ عابد سیال کے  لفظوں میں  ” اک آخری سفر کی کہانی ہوا میں ہے۔ بکھرے ہوئے پروں کی نشانی ہوا میں ہے” مگر یہ عجب واقعہ ہے کہ  پَر، کا پرندہ بنتا ہے اور ایسا ققنس ہے کہ اپنی ہی راکھ سے پھر اڑان بھرتا ہے۔ اس ایک زمانے میں ، دوتین نسلیں ایک ساتھ غزل کہہ رہی ہیں ۔ ظفر اقبال، احمد مشتاق،افتخار عارف، جلیل عالی، اظہار الحق، سحر انصاری، خورشید رضوی،غلام حسین ساجد ، احسان اکبر ،ریاض مجیدجیسے  شاعروں  کی بزرگ نسل ،  اور ہر ایک   غزل میں مسلسل  نئےامکانات کی خبر دیتے ہوئے ، پھر  اگلی پیڑھی میں عباس تابش سے لے کر شاہد ذکی،شمشیر حیدر،دانیال طریر،سجاد بلوچ اور سرفراز زاہد جیسے، انتظار حسین کی اصطلاح میں ۔نوخیزیے ۔ جب یہ عالم ہو تو ایسے میں مایوسی کیسی ۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ لوگ اب شاعری اور ناشاعری میں تفریق کرنے لگے ہیں ۔ محض اچھا شعر کہنا اب کمال نہیں رہاہے ، طبع کا موزوں ہوناایک نعمت سہی مگر اب غزل میں محض موزوں گوئی نہیں چلتی۔ ایسی فضا میں کہ جب بہت سی غزل لکھی جا رہی ہے، ہر قسم کی شاعری لکھی جارہی ہے ،خالص شاعری کو تلاش کیا جا سکتا ہے ،جی میں اس شاعری کی بات کررہا ہوں جو محض کلاسیک کے تجربے کا فنکارانہ اظہار ہے نہ ظفر اقبال کے لفظوں میں ان کے ان گھڑ شاگردوں کی ایسی مسلسل مشق، جو نئے نئے لفظوں سے فقط چونکانے کو ہنر کیے ہوئے ہو۔   جو کام ظفر اقبال کر رہے ہیں اس کا ان کے پاس جواز ہے اور حق بھی کہ وہ اس باب میں کچھ تعمیر کرنے کے بعد ڈھاتے ہیں اور اسی ملبے سے ایک نئی عمارت کو اُسار لینے کا سلیقہ اور حوصلہ  بھی  رکھتے ہیں مگر یاد رکھیں ظفر اقبال کی  آواز ، میں اپنی آواز ملانے سے ان ان گڑھ مقلدین کے ہاتھ خسارے کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا۔ تخلیقی تجربے میں ہر تخلیق کار کا اپنا تجربہ بہت اہم ہوتا ہے اور ایسے نوجوان شاعر ہمارے ہاں ہیں کہ جن کا اپنا تخلیقی تجربہ ان کی غزل کو لائق توجہ بنارہا ہے۔

تصنیف حیدر:سیمیناروں میں کوئی کام کی بات نہیں ہوتی اور نہ اس سے ذہنوں کو کچھ خاص فائدہ ہوتا ہے، تو پھر ہم اس روایت کو بند کرکے کچھ دوسرا ایسا کام کیوں نہیں شروع کرسکتے، جس سے کچھ مثبت ادبی فوائد حاصل ہوسکیں۔

 محمد حمید شاہد: بھئی اب تو بات سیمیناروں سے آگے نکل کر ادبی میلوں  تک جا پہنچی ہے ۔   چلیے میں وہ کہہ دیتا ہوں جو آپ اپنے سوال کے ذریعے مجھ سے کہلوانا چاہتے ہیں ؛یہی کہ اس میں کام کی بات نہیں ہوتی، مگر یہ مطالبہ کہ انہیں بند کردیں ،اس کی حمایت نہیں کر سکتا ۔ انہیں ڈھنگ سے کیا جانا چاہئے ۔ اس بری حالت میں بھی ، کہ جب آپ انہیں ایک سنجیدہ ادبی سرگرمی نہیں مان رہے، یہ سیمینار اور میلے نوجوان نسل کو ادب کی طرف متوجہ کرنے کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ایک ایسے زمانے میں کہ جب ادیب معاشرے کا متروک آدمی ہو رہا  ہے ، ادب سے باہر کی اس  سرگرمی نے اسے قدرے لائق توجہ بنا دیا ہے۔ اس فضا سے فائدہ اٹھا کر سنجیدہ ادبی حلقوں کو چاہیئے کہ وہ ان سیمیناروں اور ادبی میلوں کو بامعنی ادبی سرگرمی بنا دیں۔

تصنیف حیدر:آپ نے شاعری ابتدا میں کی تھی، پھر چھوڑ دی، آپ شاعری سے ڈر گئے یا اوب گئے؟

محمد حمید شاہد: جی، میں شاعر تھا ہی نہیں ، اس کا مجھے آغاز ہی میں احساس ہو گیا تھا ۔ جب میں جان گیا تھا کہ یہ میرا میدان نہیں ہے تو  میں خود کو دھوکے میں کیوں رکھتا ۔ میں شاعری کی طرف لپکا تھا کہ اس میں کھڑکیوں اور پروں سے چھنتی چاندنی کو پوروں پر محسوس کیا جا سکتا تھا، لچکتی ہوئی شاخ پر ہوا کارقص دیکھا جاسکتا تھا، اور پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹا جاسکتا تھا مگر جو میں کہنا چاہتا تھا وہ میری انگلیوں کی پوروں پر اترتا ہی نہیں تھا، جسے میں محسوس کرتا تھا وہ مصرعے کی اوٹ ہی میں رہ جاتا ، میری روح ایک عجب طرح کی اذیت کے رقص سے لطف لیتی تھی مگر وہ میں کاغذ پر دیکھ ہی نہ پاتا تھا ، ہر بار کچھ نہ کچھ کٹ کر اُدھر رہ جاتا ۔ جو کام میرے اندر اطمینان  نہیں اتار سکتا تھامیں  اس سے الگ ہو گیا ۔  آغاز ہی میں، میں نثم کی طرف چلا گیا تھا ۔ وہاں بھی قرار نہ ملا تو افسانے کی طرف آگیا ۔ اس نے مجھے بانہوں میں  بھر لیا  اور میری سانسوں میں اپنی سانسیں پیوست کر رکھی ہیں ۔

تصنیف حیدر:پاکستان ایک سخت مذہبی اور متشدد رویے کا شکار ہے۔ ایسے میں ادب ودب کی بات کرنا کس حد تک درست ہے اور کیوں؟

محمد حمید شاہد:آپ سرحد کے ادھر ہیں یا ادھر ،آپ کو ایک محدود مذہبی انتہا پسند گروہ سے واسطہ ضرور پڑے گا ۔ مگر یہ لوگ ہمارے سماج کا مجموعی مزاج نہیں بناتے ۔ میرا خیال ہے ادب  اور فنون کی مثبت سرگرمیوں نے ہی اس محدود گروہ کے سفاک چہرے سے پردہ نوچا ہے، اور اسے اس حد تک ننگا کر دیا ہے کہ وہ بپھر کر یہاں وہاں حملہ آور ہوتا نظر آتا ہے، ایسے میں تخلیقی سرگرمیوں سے اور زیادہ اخلاص سے جڑنے  کی ضرورت ہے۔

تصنیف حیدر:پاکستان کی نئی نسل کیسا افسانہ لکھ رہی ہے؟

محمد حمید شاہد: نئی نسل سے اگر آپ کی مراد وہ تخلیق کار ہیں جو اردو افسانے کے منظر نامے پر انتظار حسین ، عبداللہ حسین ، انور سجاد ، خالدہ حسین، مسعود اشعر،منشایاد، رشید امجد اور اسد محمد خان  کے بعد طلوع ہوئے تو اس باب میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس نسل کے لیے حالات ایسے موافق نہ تھے جیسے پہلوں کے بخت میں آئے ۔ جس نئی نسل کی بابت آپ پوچھنا چاہتے ہیں افسانہ نگاروں کی اس نسل کا  زمانہ ایسا ہے کہ اس  میں ادب ،شاعری اور دوسرے  فنون کو  بریکنگ نیوز کے تعاقب میں  بولائے بولائے پھرنے والے  میڈیا نے پس منظر میں دھکیل دیا ہے ۔یہ نیا زمانہ ہے ، یہاں خبر اہم ہے ۔ کتنی لاشیں گریں ، کتنے دھماکے ہوئے ،کتنے لوتھڑے اڑے  ۔ یہاں ظالم اور مظلوم کی پہچان مٹ گئی ہے ۔ یہ پہچان تو کہانی دے سکتی تھی ۔ کہا گیا کہانی سے ، شاعری سے ، ادب سے ریٹنگ بلند نہیں ہوتی ،  ادیب ایک دوسرے کو سناتے رہیں ، یہاں تو خبر چلے گی ۔ اور خبر بھی ایسے عالم کی کہ ہم غیرکی قبر میں اپنا قومی مردہ گھسیڑنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ اوروں کی اس نہ ختم ہونے والی جنگ نے ہمیں اندر سے سفاک بنا دیا ہے ۔ اب اس ماحول میں نئے افسانہ نگار کواپنی  کہانی کہنا پڑتی ہے  ۔ اس سے پہلے والوں نے علامت اور تجرید کا ایسا غیر تخلیقی استعمال کیا تھا کہ افسانے کا قاری اس سے منھ موڑ گیا ۔ نئے افسانہ نگار کو اسے بھی واپس لانا تھا ۔ کام بڑا تھا ، ذمہ داری والا کام ، اور لطف یہ ہے کہ  اس نئی نسل نے یہ کیا۔  اس نے فکشن کا بیانیہ بدلا، اس کے موضوعات اور اس کے سروکاروں کو بدلا۔ یہ بدل جانے والا فکشن کا تخلیقی بیانیہ بہ ہر حال ، اس چلتر بنانیے سے الگ اور ممتاز ہے ، جسے آج کا میڈیا تشکیل دے رہا ہے۔ عین ایسے زمانے میں کہ جب سنسنی پھیلانا ہو تو نور جیسی اُجلی چادر پر مرے ہوئے مچھر کو زوم ان کرکے پوری سکرین پر لاش کی طرح پھیلا لیا جاتا ہے اور انسانیت کو بے وقعت دکھانا ہو تو لہو میں لتھڑے انسان کو زوم آﺅٹ کرکے مچھر بنا دینے کا چلن عام ہوجائے تو تخلیقی عمل سے اپنے وجود کا قیام اور مراتب وجود کی تعیین بہت کٹھن کام ہو جایاکرتا ہے ، سو آج کے تناظر میں بات کریں گے تو ہمیں ہم عصر افسانہ نگار کی مشکلات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ آج کا افسانہ نگار گزشتہ عہد کے افسانے سے جڑا ہوا ہے اور اس تخلیقی عمل سے بھی کہ جس میں افسانہ لکھنا امکانات کا لامختتم سلسلے کا نام ہو جاتا ہے۔سو یوں ہے کہ افسانے پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی جاننا ہو گا کہ معنی کے انتشار کے زمانے میں یہ مربوط معنویت کی تشکیل کا قرینہ ہے۔مرکزیت، کلیت اور مسلمات سے انحراف کے عہد میں تخلیقیت کی کل سے جڑکر تخلیقی سلامتی اور بقا کی راہ کی تلاش ہے۔ بجا کہ تخلیق سے باہر افتراق ہے، لامرکزیت ہے، اضافیت اور تکثیریت ہے ، مادر پدر آزاد ذہنی رویہ ہے، ایسا رویہ کہ جس میں کچھ بھی حتمی نہیں ہے ؛ اگر حتمی ہے توروایت سے تصادم ہے ، مابعدا لطبعیات سے تصادم ہے، تاریخ کے دھارے میں یقینی اکھاڑ پچھاڑ ہے ؛انہیں اوبر کھابڑ راہوں پر آج کی تخلیق کو شعور سے جڑنا ہے اور لاشعور سے بھی ، اسے اپنا بیانیہ تشکیل دینے کے لیے اس تہذیبی دانش کے حوالے سے چوکس رہنا ہے کہ جس کے روشن چہرے پر آج کی نام نہاد قوت کی میڈیائی دانش کی سیاہی پوتی جا رہی ہے۔ یہ آج کی حقیقت ہے گزرے ہوئے کل کی نہیں ۔ یادرہے حقیقت اس لیے حقیقت ہوتی ہے کہ وہ کہیں نہ کہیں بیانیہ میں ڈھل رہی ہوتی ہے ۔ نئے عہد کی حقیقت فطرت کے تابع نہیں ہے، اس کے پاس کوئی کتاب کوئی مہا بیانیہ نہیں ہے، جو کچھ ہے وہ سب ہمارے وجود سے الگ ہے ، بلکہ اس سے متصادم ہے۔ ہمارے وجود سے کیا خود فطرت سے متصادم ہے۔ ایسے میں افسانہ اور اس کا تخلیقی عمل ہی ہے جو صورت حال کی تفہیم نہ کر پانے والے انسانی شعور اور لا شعور کو ایک ناروا بوجھ بننے سے روک سکتا ہے ۔ کہ تخلیقی عمل امکانات کی پوشیدہ جہتوں کوکھول کر اس بوجھ کو توانائی میں بدل دینے کا نام ہوا کرتا ہے۔ آج کے افسانے کا تناظراس زمانے سے جڑ کر مکمل ہوتا ہے جس میں جب سور سورگ کے اندر گھس کر سارے کھیت کھود ڈالیں تو ”سورگ میں سور“ لکھنا پڑتا ہے، ادھر ٹوئن ٹاور میں طیارے ٹکرائیں تو ادھر ہمارا صحن ”مرگ زار“ ہو جاتا ہے اور ہماری ٹانگوں کے ٹوٹنے اور بدنوں کے ”لوتھ“ ہونے کی کہانی قرطاس پر اپنی شباہت مکمل کرتی ہے۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں فہمیدہ ریاض سے لے کر شبنم شکیل اور وحید احمد تک کے لیے شاعری کے ساتھ ساتھ فکشن کا تخلیقی تجربہ لائق اعتنا ہو جاتا ہے۔اسلم سراج الدین، خالد طور، سید راشد اشرف سب اسی عرصہ میں فکشن کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ یہی زمانہ ہے کہ آصف فرخی کو” بن کے رہے گا“ لکھ کر پاکستان بننے کے تناظر میں آج کے سوالات اٹھانا پڑتے ہیں۔ نیلوفراقبال کو ”برف“ کے ذریعہ اس بے حسی کو نشان زد کرنا پڑتا ہے جو طاقت اور قوت کا نشان ہو جانے والوں کا وتیرہ ہو گیا ہے۔ طاہرہ اقبال نے ”دیسوں میں“ لکھا، امجد طفیل نے ”کھینچے ہے مجھے کفر “ اور نیلم احمد بشیر نے”قیمتی“ توتقسیم کا زمانہ ایک اور رنگ سے نظروں کے سامنے پھر گیا ۔ مبین مرزا کا افسانہ ”قید سے بھاگتے ہوئے “ محض قید سے بھاگنے والے کی کہانی نہیں رہتا، طاقت ور کے حیلوں ،چال بازیوں، اور اس باب میں سفاکیت کی بارودی باڑ ھ بچھالینے والوں کی باطنی کیمسٹری کھول کر رکھ دیتا ہے۔ اے خیام نے ”خالی ہاتھ“ لکھا تو دہشت زدگی اور حسرت زدگی کو بہم کر دیا ، رفاقت حیات کا ”چریا ملک“ ملک اور ملت کے لیے دی جانی والی قربانیوں کی بے توقیری کا نوحہ ہے، شمیم منظر کا” مسدود راستہ“ ہو یا اور حامد سراج کا” برائے فروخت “، یعقوب شاہ غرشین کا”سب مر گئے“، اخلاق احمد کا”مارٹن کواٹرز کا ماسٹر“،آمنہ مفتی کا ”خدا سے پیار کرو“،عرفان جاوید کا “انتظار” زین سالک  کا“کاجوفینی کی بوتل”  سب آج کاتخلیقی بیانیہ مرتب کرتے ہیں ۔یہ سلسلہ رکا نہیں ہے ،مسلسل ایک سے بڑھ کر ایک سامنے آتا ہے اور نئے ڈھنگ سے کہانی کہنے کو شعار کرتا ہے ۔   یہ نئے  لکھنے والے اس حد تک اپنے تخلیقی تجربے کے ساتھ جڑ گئے کہ سب اپنے رنگ میں لکھتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ  اسے قاری کی توجہ بھی مل گئی   ہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

معاصر اردو افسانہ:حرف کدہ میں محمد حمید شاہد سے مکالمہ

23 اکتوبر 2017 کی شام حرف کدہ راولپنڈی میں محمد حمید شاہد سے معاصر اردو …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *