M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|نثر میں شاعری: نثم

محمد حمید شاہد|نثر میں شاعری: نثم

(کچھ اضافوں کے ساتھ)

ادبی حلقوں میں پھر سے نثر میں شاعری کے لیے مناسب نام کا مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اسے’’ نثری نظم‘‘ کہا جائے، یا پھر جس طرح آزاد نظم کو اب محض نظم کہا جانے لگا ہے، اس کا بھی سابقہ اُڑا لیا جائے؟ بحث چل رہی تھی کہ ایک صاحب نے کہا ؛ مانیں نہ مانیں،نثرمیں شاعری کے لیے سب سے مناسب نام ہے ’’نثم‘‘۔ یہیں غزل کے ایک بے مثال شاعرریاض مجید کا ذکر ہوا اور اس خاکسار کا بھی ۔ ریاض مجید کا حوالہ یوں بنیادی ہے کہ اس خوب صورت شاعر ہی نے’’ نثر+نظم ‘‘ سے یہ نام اخذ کے تجویز کیا تھا ، اس نے خود نثمیں لکھیں اور اپنا ایک مجموعہ نثم کے نام سے مرتب کرکے اس کا دیباچہ لکھنے مجھے بھیج دیا تھا۔ میرے نام کے ساتھ نثم کے حوالے سے میری کئی تنقیدی تحریروں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان نثموں کا بھی جو میں نے ایک زمانے میں لکھی تھیں اور جوازاں بعد ’’لمحوں کا لمس ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئیں ۔ یہ وہی نثمیں ہیں جو علامہ بشیر حسین ناظم اور پروفیسر شوکت واسطی جیسے سینئر شعرا نے انگریزی میں ترجمہ کردی تھیں اور “دی ٹچ آف مومنٹس” کے نام سے چھپی تھیں۔ ایسے میں میرے اس مضمون کاحوالہ بھی آیا جو جنگ راولپنڈی کی سولہ مارچ 2001 کی ادبی اشاعت میں چھپا تھا ۔ اس مضمون کے ساتھ میں نے ’’نثم کی ایک لغت ‘‘ بھی مرتب کی تھی ۔ جنگ نے اسے مضمون کے ساتھ ایک باکس میں بہت نمایاں کرکے چھاپا اور ادبی حلقوں میں موضوع بنا دیا تھا ۔ انہی دنوں مجھے ڈاکٹر ریاض مجید نے مبارک باد دی تھی کہ فارسی کی معروف لغت میں اسے ایک جدید اندراج کے طور پر قبول کر لیا گیا تھا ۔ ریاض مجید نے لغت کا متعلقہ صفحہ فوٹو اسٹیٹ کیا اور مجھے بھیج دیا ۔میں اسے کہیں رکھ کر بھول گیا ۔ تاہم یہ جو اس صنف کے حوالے سے نیا ہنگامہ برپا دیکھا تو میں نے انٹر نیٹ پر جاکر’’ نثم‘‘ کا لفظ لکھا ، ایک فارسی لغت کا صفحہ میرے سامنے تھا جس کا اندراج یوں ہے

dehkhuda  
یہ اندراج ایسا ہے کہ کم از کم اب ان لوگوں کو اپنے سوال کا جواب مل ہی گیا ہو گا جو ایک اعتراض کی صورت میں پوچھتے آرہے تھے کہ نثم کس زبان کا لفظ ہے ؟، یہ کوئی لفظ ہے بھی یا نہیں ؟۔۔۔ خیر’’نثم ‘‘ نام کی قبولیت کا ذکر ہوا تو جی چاہتا ہے ، اس مضمون کے مندرجات سے بھی کچھ نقل کرتا چلوں ، جو جنگ کی وساطت سے ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کر گیا تھا ۔ مجھے یاد آتا ہے ،میں نے اپنی بات کو آغاز دینے کے لیے اپنے محبوب افسانہ نگار منٹو کو یاد کیا تھا ۔ نثر میں شاعری کے باب میں منٹو کا ذکر یوں آگیا تھا کہ کوئی اسی سال پہلے منظر صدیقی اکبر آبادی اور مہرلال ضیا آبادی کی ادارت میں آگرہ سے چھپنے والے ماہنامہ’’کنول‘‘ میں معروف جاپانی شاعربونی لیو گوشی کی پانچ نظموں کا ترجمہ چھپا تھا، وہ ترجمہ منٹو نے کیا تھا۔منٹو نے ان نظموں کے لیے عنوان قائم کیا تھا’’نثر میں نظمیں‘‘۔ دسمبر 1935 کے اس شمارے میں عنوان کے نیچے ایک نوٹ بھی جمایا گیا تھا

بعض حضرات کے نزدیک نثر کی شاعری کا مخترع ترگنیف،مشہور روسی مفکر ہے،مگر ہمیں مسٹر ایکمرڈ کی تصنیف “لائف آف تالسطائی” سے پتہ چلتا ہے  کہ منثور اشعار لکھنے کا خیال سب سے پہلے تالسطائی کے دماغ میں آیا تھا ۔ تالسطائی نے اس قسم کی ایک نظم لکھی اور اپنے بوڑھے خادم کے نام سے ایک اخبار میں اشاعت کے لیے بھیجی مگر وہ ناقص ہونے کی وجہ سے واپس آگئی۔ یہ ناکامی دیکھ کر تالسطائی نے اپنے خیال سے ترگنیف کو مطلع کیا۔ موخر الذکر کی مشہور تصنیف ’’نثر میں نظمیں‘‘دراصل تالسطائی کے صناعانہ دماغ کی رہین منت ہے۔ اس تصنیف کی غیر معمولی قبولیت دیکھ کر جاپان کے اکثر شعرا اس میدان میں طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ مسٹر بونی لیو گوشی کانام ان میں خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ وہ بہت بلند تخیلات کے مالک ہیں اور ان کی مندرجہ ذیل نظمیں اس کی زندہ مثال ہیں ۔ وہ حضرات جو آج کل اردو میں ’’نثر کی شاعری‘‘جیسی پاکیزہ و لطیف صنف سخن کو اپنی جہالت اور بے ہودگی سے مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ ہ ان نظموں کا بہ غور مطالعہ کریں۔

کوئی اڑتالیس سال بعد یعنی 1983 میں افتخار امام صدیقی کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ’’شاعر ‘‘ بمبئی شمارہ نمبر6،7،8 میں مدیر نے بونی لیوگوشی کی انہی نظموں کی طرف اپنے قارئین کی توجہ چاہی، جنہیں منٹو نے اُردو میں منتقل کیا تھا اورنثر میں شاعری کا مقدمہ پھر سے پیش کر دیا۔ مدیر کا کہنا تھا

’’نثر میں نظمیں ،شعر منثور، انشائے لطیف، ادب لطیف،نثر میں شاعری کے عنوان سے ’’کنول‘‘ اور ’’شاعر‘‘ کے شماروں میں بہت کچھ شائع ہوتا رہا ہے۔ نظم کی مروجہ ہئیتوں میں تبدیلی کا تصور اور اس کے ماخذات کی بازیافت کرنے والے نقاد حضرات نوٹ فرمائیں،نثری نظم یاآزاد غزل کے ہئیتی تجربے کوئی آج کی بات نہیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کے رسائل کو کھنگالا جائے اور اپنے علمی ادبی اور تحقیقی سرمائے کو ازسرنو ترتیب دیا جائے۔‘‘

صاحب، فرصت کس کے پاس تھی کہ وہ اپنے علمی و ادبی سرمائے کو کھنگالتا، ہاں اس کی فرصت ہی فرصت تھی کہ چند گنجلک یا بے معنی سطروں کو بہ طرز نظم لکھ کر اسے نثری نظم کے دعویٰ کے ساتھ کسی بھی پرچے میں چھپوا لیں اوراس کے شاعری ہونے پر اتراتے پھریں ، حالاں کہ جو کچھ ہمیں پڑھنے کو فراہم کر رہے ہوتے ہیں،اس میں نہ خیال کی تنظیم ہوتی ہے نہ نثر کی اپنی خوبی۔ ایسے سہل پسندوں نے بہ قول سعادت حسن منٹو ’’اپنی جہالت اور بے ہودگی‘‘سے اس ’’پاکیزہ صنف کو مسخ‘‘ کردیا ہے اور مسلسل مسخ کر رہے ہیں۔
نثر میں شاعری کو نظم کے ساتھ رکھنے والوں کو یا پھر اسے آزاد نظم جیسا سمجھنے والوں کو یہ دن تو دیکھنا ہی تھا ، سو دیکھ رہے ہیں ۔ آزاد یعنی نظم کی جدید صورت چاہے ہماری شعری روایت میں بہت بڑا انحراف سہی مگر یہ فنی سطح پر کلی انحراف نہ تھاکہ اس باب میں ہماری روایت مدد کو موجود تھی۔ طرفہ دیکھیے کہ اپنی روایت کا ایک حد تک ہی سہی پاس کرنے والی اس نظم کو بھی اپنے آپ کو منوانے کے لیے بہت کھیکھن کرنے پڑے تھے ۔یہیں راشد کی یگانہ سے ایک ملاقات کا دلچسپ مکالمہ یاد آتا ہے۔ یہ تب کی بات ہے جب ن م راشد دلی میں تھا۔ یگانہ کا دلی آنا ہوا تو آل انڈیا ریڈیو کی ریکارڈنگ کے دوران جدید شاعری پر گفتگو چل پڑی ۔ جی جدید شاعری، جس کے بارے میں یگانہ نے کہیں لکھ رکھا تھا کہ ’’جس کاغذ پر یہ جدید شاعری چھپتی ہے میں اسے اپنے ساتھ پیخانے میں بھی لے جانا گوارا نہیں کرتا،،۔ جدید شاعری پر یگانہ کسی طوربات کرنے پر راضی نہ ہورہاتھا۔ کسی نے وہیں راشد کو جدید شاعری کے علم بردارکہہ کر اس کی شاعری سننے کی تجویز دی تو ےگانہ نے کہا ’’ بھئی میں بوڑھا آدمی ۔ میں یہ کلام سن کر کیا کروں گا۔اور پھر راشد تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں اہل پنجاب نے رشوت دے رکھی ہے تاکہ اردو شاعری کو خراب کریں۔ ‘‘ راشد نے اس واقعہ کو خود روایت کیا اور بتایا تھا کہ یگانہ اس سے نظمیں سننے پر آمادہ ہو گیا تھا اور اس نے جب اپنی نظم ’’بے کراں رات کے سناٹے میں‘‘ سنائی تو اسے یگانہ نے تین بار یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اس میں قافیہ نہیں تھا۔ پھر یہ کہتے ہوئے گلے لگالیا تھا کہ’’میاں اگریہی جدیدشاعری ہے تو سبحان اللہ۔ تمہیں حق پہنچتا ہے کہ شعر کہو‘‘
لگ بھگ یہی کچھ ’’نثم‘‘ کے باب میں بھی ہوتا رہا ہے؛ نام کے حوالے سے اور نثر میں اس شعری تجربے کے حوالے سے بھی ۔ پھر یوں ہوا کہ اس صنف میں بہت اعلی سطح پر تخلیقی اظہار کے نمونوں کے فراہمی ہونے لگی اور ’’میں نہ مانوں‘‘ والے ہٹ دھرم مات کھانے لگے تو تخلیق کاروں کے ہاںاس کی قبولیت کے دروازے کھلتے چلے گئے ۔ ایسے میں سے ایک اور مشکل سے واسطہ پڑا۔ وہ لوگ جن کا مزاج اس صنف کے لیے موزوں تھا ہی نہیں ، وہ بھی ادھر کو لپکے اور’’نثری نظم‘‘ کے نام پر سطحی تحریروں کے ڈھیر لگا دیے۔ یہ لگ بھگ ویسا ہی منظر نامہ ہے جیسا علامتی افسانے کی مقبولیت کے زمانے میں، اس فیشن میں لکھنے والوں کے سبب بن گیا تھا ۔ تب کئی ’’علامت نگار‘‘ فرمایا کرتے تھے کہ ان کا افسانہ نثری نظم ہو گیا ہے حالاں کہ وہ نظم تو کجا اچھی نثر بھی نہ ہوا کرتا تھا ۔
کون نہیں جانتا کہ شاعری اور فکشن زندگی کی لغت ہیں۔ زندگی کی عین عنایت یہ ہے کہ یہ دَم بہ دَم بدل کر ہمارے سامنے آتی ہے، تبھی تو بھلی لگتی ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ،نئی کہانی گڑ سے میٹھی، تو اپنے نئے پن ہی کی وجہ سے یہ زندگی نئے نئے ستم ڈھائے چلے جانے کے باوجود نہ صرف گوارا ہوتی ہے ، ہمیں اپنے حسن کا لوبھی اور اپنے اسرار کا اسیر بنائے رکھتی ہے۔ورنہ جو کہیں ٹھہر گئی ہوتی یا پھر ٹھہری رہتی تو اس میں سے سڑاند اُٹھ رہی ہوتی۔ متلون مزاج زندگی کے اسرار اپنے اظہار کے لیے نئے تخلیقی سانچوں کا تقاضا کرتے ہیں اور نثم اسی ضرورت کو پورا کرنے کی ایک صورت ہو گئی ہے ۔ یہیں مجھے یاد آتا ہے، کوئی بتیس سال پہلے شمس الرحمن فاروقی کچھ سوالات کے مقابل ہوتے ہوئے توبورگس کو یاد کرکے ایک دلچسپ بات کہی تھی۔ یاد رہے تب فاروقی نے نثری نظم کی اصطلاح کو رد کیا تھا اور کہہ رکھاتھا کہ’’نظم محض نظم ہوتی ہے اور نثر صرف نثر‘‘، مگر جب بورگس کا یہ کہا مقتبس کیا کہ’’میں نظم اور نثر میں کوئی خاص فرق نہیں کرتا ۔ میں دیکھتا ہوں کہ کوئی فن پارہ کس طرح پڑھا جارہا ہے۔ اگر نثر کی طرح تو نثر اور نظم کی طرح تو نظم ہے‘‘، تو فاروقی نے اپنے کہے پر یہ کہہ کر بھی شک کا اظہار کردیا تھا کہ:’’بورگس کی یہ بات سو فی صد درست نہ سہی لیکن یہ نہ بھولنا چاہیے کہ اس وقت اس سے بڑا شاعر روئے زمین پر شاید کوئی نہیں ہے۔ اس لیے اس کی بات میں کچھ نہ کچھ وزن تو ہوگا ۔یعنی ہم اسے اس حد تک تو مان بھی سکتے ہیں کہ محض منضبط آہنگ کے موجود نہ ہونے کی بنا پر کسی تحریر کو نظم کے دائرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔یاد رہے یہ بات فاروقی نے 1983 میں کہی تھی ۔ تب بورگسزندہ تھا ، وہ تو بعد میں ،جون 1986میں فوت ہوا تھا۔
اچھا ، اس صنف کے لیے نام کا تنازع اتنا بڑا نہ تھا کہ طے نہ ہو پاتا مگر نیا نام تسلیم کرنے میں ایک وقت لگتا ہے ، سو وہ تو لگے گا ۔ میرا اب بھی یہ اصرار ہے کہ اس صنف کو جب تک اپنے الگ نام سے اور الگ صنف کے طور پر نہیں چھاپا جانے لگے گا ، اس صنف میں اچھے برے کی پہچان میں مشکلات کا سہارا لے کر شاعری کے نام پر بُری نثر لکھنے والے’’ متناثموں‘‘ کا ایک گروہ اس میں گھسا رہے گا ، بالکل ان متشاعروں کی طرح جو محض وزن میں مصرع کہہ لینے کو ہی شاعری سمجھتے رہے ہیں۔


nasmlughat


05_02 (1)
http://e.jang.com.pk/12-09-2015/karachi/pic.asp?picname=05_02.jpg

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *