M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|منٹو، فاروقی اور آج کا افسانہ

محمد حمید شاہد|منٹو، فاروقی اور آج کا افسانہ

روزنامہ جنگ، کراچی۔09۔09۔2015

سہولت سے پڑھنے کے لیے اخبار کا لنک کلک کریں

e.jang.com.pk

page5 (jang)

 

مکمل مضمون ذیل میں دیا جارہا ہے

میرے سامنے اوکسفرڈکے سلسلہ مطبوعات’’اُردو افسانہ‘‘کی پہلی کتاب ’’انتخاب: سعادت حسن منٹو‘‘ پڑی ہوئی ہے ۔ اس کے آغاز میں ’’افسانہ‘‘ کا عنوان جما کر کتاب کے مرتب اور آج کے افسانہ نگار آصف فرخی نے افسانے کو زندگی کی ایک نئی ترتیب کہہ رکھا ہے؛ مہارت ،مناسبت اورحسن کو شعار کرنے والی نئی ترتیب ۔اور مرتب کا کہنا ہے، بعض جگہ تو یہ کام اتنے سلیقے سے ہوا ہے کہ اُردو افسانے کی پوری دُنیا آباد نظر آنے لگتی ہے ۔ منٹو کے جن افسانوں کو اس دنیا کی چہل پہل اور زندگی کی ہماہمی کے حوالے سے منتخب کر کے نمایاں کیا گیا ہے پہلے ان کی فہرست ملاحظہ ہو:
’’۱۔ نیا قانون، ۲۔ خوشیا، ۳۔ ہتک، ۴۔ دھواں، ۵۔ کالی شلوار، ۶۔سجدہ، ۷۔ پڑھیے کلمہ، ۸۔ بابو گوپی ناتھ، ۹۔بو، ۱۰۔ننگی آوازیں، ۱۱۔ممی، ۱۲۔ممد بھائی، ۱۳۔موذیل، ۱۴۔ٹھنڈا گوشت، ۱۵۔کھول دو، ۱۶۔شہید ساز، ۱۷۔سوراج کے لیے، ۱۸۔ سڑک کے کنارے، ۱۹۔ پھندنے، ۲۰ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ۲۱ ۔ فرشتہ‘‘
میں نے منٹو کے اِکیس افسانوں کےِ اس اِنتخاب میں، ’’فرشتہ‘‘ کو شامل دیکھا تو چونکا تھا؛اچھا اسے بھی منٹو کے شاہکار افسانوں میں شامل کیا جاسکتا تھا ؟ کچھ دن پہلے شمس الرحمن فاروقی کی مرتب کی ہوئی منٹو کے قدرے ضخیم افسانوں کی فہرست نظر سے گزری تھی ، جن میں سے بہ قول اُن کے سارے نہیں تو اَکثر افسانے شاہکار کہے جا سکتے تھے؛ اُن میں ’’فرشتہ ‘‘ نہیں تھا ۔مجھے یادپڑتا ہے کہ وارث علوی نے منٹو پرجو پوری کتاب لکھی اُسے پڑھتے ہوئے شاید ہی کہیں احساس بھی ہوپاتاہوکہ منٹو کے کریڈٹ پر فرشتہ جیسا ’’افسانہ‘‘ بھی تھا جس پر الگ سے بات ہونی چاہیے تھی ؛اگر علوی صاحب کے ہاں اس کی کوئی اہمیت ہوتی تو جہاں وہ ’’بابو گوپی ناتھ‘‘،’’بو‘‘،’’ ہتک‘‘،’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘ جیسے افسانوں کے لیے الگ سے تجزیہ کا اہتمام کر رہے تھے ’’فرشتہ ‘‘ کو بھی موضوع بنا سکتے تھے ۔ مگر ایسا نہیں ہوا؛ اور اگر ایسا نہیں ہوا تھا تو میں متعجب بھی نہیں تھا کہ لگ بھگ ایسا ہی اوروں کے ہاں بھی ہوتاآیاتھااورہو رہا ہے۔ اس باب کی تازہ ترین مثال خالد اشرف کی کتاب’’فسانے منٹو کے:اور پھر بیاں اپنا‘‘ ہے جس کے چوتھے حصے میں بیس افسانوں کے مفصل تجزیے کیے گئے ہیں؛ ’’فرشتہ‘‘ان میں نہیں ہے ۔ آصف فرخی نے اگرچہ ’’ فرشتہ‘‘ کو انتخاب میں شامل کرکے مجھے چونکایا تھا تاہم میں نے اپنے تئیں اس کا جواز ڈھونڈا تو مجھے اچھا لگنے لگاتھا۔
اچھا ، اس باب میں مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ اگر مجھے منٹو کے افسانوں کاایسا ہی اِنتخاب کرنا ہوتا تو میں ’’فرشتہ‘‘ کو شامل نہ کر پاتا۔ اِس لیے نہیں کہ اوروں نے اسے منتخب نہیں کیا بل کہ میں سمجھتا ہوں میرے پاس اس کا ایک جواز بھی ہوتا ، جی اس میں موجود عدم توازن ۔ دیکھئے یہ افسانہ لگ بھگ سوا نو صفحات پر مشتمل ہے ۔ منٹو نے اس کے پہلے ساڑھے سات صفحوں میں خواب درخواب کے جس مواد کو برتا ہے اس نے کہانی کی رفتار کو روکے رکھا، جب کہ آخر میں بچ رہے صفحات میں بیانیہ میں کہانی کو سرعت سے رواں کردیا۔ جب بھی میں یہ افسانہ پڑھتا یہ عدم توازن مجھے کَھلنے لگتا تھا ۔ اور شاید اس افسانے کے حوالے سے میں اُلجھتا رہا ہوں ۔ اب آپ کا سوال ہوگا، اور ہونا بھی چاہیے کہ اگر ایسا ہمیشہ سے تھا تو اب ’’فرشتہ‘‘ کو منٹو کے انتخاب میں دیکھ کر مجھے اچھا کیوں لگا؟ اس باب میں میرا جواب ہے یہ نہیں ہے کہ آصف فرخی نے اس انتخاب میں شامل کیا اور آصف ’’آج‘‘ کا افسانہ نگار ہے اس لیے ۔ اگرچہ اس کا سبب کوئی اور ہے تاہم اس کا تعلق اور حوالہ’’آج‘‘ کا افسانہ ہی ہے۔ سیدھے لفظوں میں کہے دیتا ہوں کہ میرے لیے ’’فرشتہ‘‘ کی بہ طور افسانہ کامیابی سے کہیں زیادہ اہم یہ ہوگیا ہے کہ یہ منٹو کا ایسا کامیاب تخلیقی تجربہ تھا جس نے ہمارے ’’آج‘‘کے افسانہ نگار کو ایک الگ طرح سے لکھنا سجھا دیا تھا ۔ کیا اس نہج سے سوچنے اورمنٹو کے بعد اُردو افسانے کی کہانی کو پھر سے دیکھنے سے ایک نئی معنویت کا جھرنا نہیں پھوٹ بہتا؟
یاد کیجئے کہ فاروقی صاحب نے ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ کے باب ’’گفتار چار دہم‘‘ میں ’’فرشتہ‘‘ کو زیر بحث لاتے ہوئے میرے ہم عصروں کو یاد کرنے کے لیے اُنہیں ’’آج‘‘ سے جوڑ کر دِیکھا تھا۔ اور جہاں تک میں سمجھا ہوں اس ’’آج ‘‘ سے اَفسانہ نگاروں کی وہ نسل متعلق ہے جس نے گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں شناخت پانا شروع کی تھی اور جس کا وتیرہ علامت نگاروں اور تجرید کاروں سے بہت مختلف ہو گیا تھا؛ مختلف بھی اور تیکنیکی کی بہ جائے تخلیقی بھی۔ نشان زد ہو چکا کہ فاروقی صاحب نے(سوا نو صفحات والے ) ’’فرشتہ‘‘ کو منٹو کے منتخب افسانوں کی اپنی مرتبہ اُس فہرست میں شامل نہیں کیا جن کی ضخامت نو صفحات سے زیادہ تھی اور جن میں سے اکثر شاہکار کہے جا سکتے تھے مگریہ بھی واقعہ ہے کہ اَپنی اِسی کتاب میں انہوں نے اس افسانے کو بہت اہمیت دی اوراس پر کتاب کے آخرپر پہنچ کر مفصل لکھا؛ جی وہیں جہاں سے منٹو کے بعد کے افسانے کی کہانی شروع ہو جاتی ہے۔ کتاب کے اس حصہ میں انہوں نے ’’ آج‘‘ کے افسانہ نگار اور منٹو کے بعد کے شروع کے زمانے کے افسانہ نگاروں کو ایک ساتھ یاد کیا تھا اور اِسی بات نے مجھے اُلجھایا تھا۔ اُنہوں نے اِس اَفسانے کو’’تجریدی‘‘ قرار دیا اور ایسا افسانہ بھی کہا جس میں ’’جادوئی حقیقت نگاری(Magic Realism)‘‘ کو جھلک دیتے دیکھا جا سکتا تھا۔ لیجئے یہاں اُن کی بات مقتبس کررہا ہوں:
’’اس افسانے کی علامتی فضا اور اس کی زبان کا گٹھاؤ ، نثری نظم کا سا انداز ۔۔۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ انور سجاد کاجدِاعلٰی تمھارے سامنے موجود ہے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ خالدہ حسین(اصغر) اور احمد ہمیش سے لے کر شرون کمار ورما، قمر احسن ، انور خان، حسین الحق، سلام بن رزاق، اکرام باگ۔ عوض سعید ، پھر(شروع کے زمانے کے)منشایاد اور رشید امجد، اور آج کے محمد حمید شاہد نے نثر لکھنا کس سے سیکھا ؟ حتیٰ کہ ضمیر الدین احمد(’’گلبیا‘‘) بھی منٹو کے سحر سے نہ بچ سکے۔‘‘ (گفتار چار دہم:ص۔ ۱۰۶)
میں نے کہا ہے نا، کہ یہ ایسا بیان تھا جس سے’’ آج ‘‘ کے افسانے کے حوالے سے بہت سی اُلجھنیں پیدا ہو سکتی تھیں لہذا میں نے لگ بھگ وہی باتیں دہرا دیں جو ایسے مواقع پر پہلے بھی کہتا آیا تھا۔ جی اُن مواقع پر کہ جب کسی کو علامت نگاروں اور تجریدکاروں کی ’’پرانی ناقابل فہم تیکنیک اور اسلوب‘‘ والے افسانے اور تخلیقی سطح پر کہانی سے معاملہ کرنے والے’’ آج کے افسانے‘‘ کو ایک ہی سانس میں بھگتا تے دیکھتا تھا ۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی بات ، جو فاروقی صاحب کو لکھ بھیجی تھی اُسے یہاں نقل کروں؛ وضاحت کیے دیتا ہوں کہ گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی کے افسانہ کی عمومی شناخت کے لیے جو اصطلاح اوپر قلم سے ٹپک پڑی ہے وہ میری وضع کردہ نہیں ہے ایسا کس نے کہا یہ آپ آگے جا کر خود بہ خود جان جائیں گے ۔ ہاں تو میں لکھا تھا :
’’ مجھے شکریہ ادا کرنے دیجئے کہ آپ نے اوروں کے ساتھ آج کے محمد حمید شاہد کو بھی یاد رکھا ؛ تاہم یہیں مجھے یہ کہنا ہے کہ آج کے اَفسانہ نگارنے منٹو کی اس کہانی کو بھی رد نہیں کیا ہے جو’’ فرشتہ‘‘ ، ’’پھندنے ‘‘ اور ’’باردہ شمالی‘‘جیسی ہوجانے سے انکاری ہے ۔آج کے افسانہ نگاروں نے کہانی کے خارجی ٹھوس پن کو جدید اَفسانے کا نعرہ لگانے والوں کی طرح ٹھینگا نہیں دکھایا اور نہ ہی جدید اَفسانے کی حقیقی باطنی پیچ داری کو زِر غَل اور اَرذَل قرار دے کر منھ موڑ ا ہے۔ بلکہ ہوا یہ ہے کہ کہانی کا خارج سالم ہو گیا ہے‘ جملے بالکل سادہ نہیں رہے کہ ساری رات ممیائی اور ایک بچہ بیائی کی مثل فقط ایک معنی کو کافی جانیں‘یہ کچھ کچھ پرزم کا وصف اپنانے لگے ہیں۔ کہانیاں مجرد ذات کی ناقابل شناخت لاشیں نہیں رہیں‘ ان میں زندگی اور عصر کی توانائی روح بن کر دوڑنے لگی ہے۔‘‘(ہمارے منٹو صاحب)
کہتا چلوں کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا تھا کہ بات منٹو کے افسانے کی چلے اور اس کے اثرات دور تک بلکہ ہمارے زمانے تک جھلک دے جائیں اور یہ بھی تو ہوتا آیا ہے کہ ذکر آج بات کے افسانے کا مقصود ہوتا مگر منٹو کی یاد مہک بن کر اس میں سما جاتی ۔ پہلی صورت تو آپ نے فاروقی صاحب کے بیان میں دیکھی اور دوسری مثال کے لیے مجھے آگے چل کر ظفر اقبال کی طرف دیکھنا ہوگا ۔ فاروقی صاحب نے جس تناظر میں اور جن بنیادوں پر ہمارے ، یعنی’’ آج ‘‘کے افسانے کو منٹو کے افسانے کے ساتھ جوڑا ہے وہ ہے زبان میں ایک خاص نوع کی شدت اور موسیقیائی تناؤ۔ فاروقی صاحب کے مطابق یہ وہ قرینہ ہے جو سنسی خیزی اور میلو ڈرامے کو بیانیے سے منہا کر دیتاہے ۔ ظفر اقبال کو جب میں نے اپنا ناول ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ بھیجا تھا تو انہوں نے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے کالم کو آغاز دینے کے لیے میرے ایک افسانے کو یاد کیا اور منٹو کو بھی ۔ مجھے یقین ہے کہ جب ظفر اقبال ہمارے افسانے کا رِشتہ منٹو کے اَفسانے سے بنا رہے تھے تو اُن کے ذہن میں ’’فرشتہ‘‘ تو کسی طور نہ رہا ہوگا ۔ظفر اقبال کی بات بھی میں ہو بہ ہو نقل کر رہا ہوں :
’’پچھلے دنوں محمد حمید شاہد کا افسانہ ’’برشور‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں کردار سازی کا ہنر دیکھتے ہوئے مجھے منٹو یاد آ گیا کہ یہ کام اس سے خاص ہو کر رہ گیا تھا، اور، آپ کو کوئی تحریر پڑھ کر منٹو یاد آجائے تو بلاشبہ یہ کریڈٹ کی بات ہے۔‘‘(محمد حمید شاہد کا ناول :’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘:ظفر اقبال)
صاحب ،یہاں جس ’اتفاق‘ کا ذکر ہو رہا ہے اُس کا اہتمام آج کے ایک اور افسانہ نگار مبین مرزا نے اپنے جریدے’’مکالمہ‘‘ کے ’’ہم عصرافسانہ‘‘ نمبر کے لیے کیا تھا ۔ اس خاص شمارے میں چھاپنے کے لیے کچھ افسانے ظفر اقبال کو مہیا کیے گئے(کاش کچھ اور افسانے بھی انہیں دیے گئے ہوتے ) اور اُن کی اس باب میں رائے چاہی گئی تھی ۔ اُنہوں نے بہ اصرار اپنے آپ کو فکشن کا’’ بے قاعدہ قاری‘‘ کہا اور ساتھ ہی تنقیدی فیصلہ بھی دے دیاتھا :
’’ان افسانوں کے مطالعے کے بعد میرا پہلا تاثر تو یہ ہے کہ ان میں اچھے بل کہ عمدہ افسانے بھی ہیں لیکن دو کے علاوہ کوئی غیر معمولی افسانہ نہیں ہے اور یہی بات میں شاعری کے بارے میں کہاکرتا ہوں اور جس سے بالعموم اتفاق نہیں کیا جاتا کہ شاعری کو غیر معمولی ہونا چاہیے ورنہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اور یہ بات میں بہ تکرار اس لیے بھی کہا کرتا ہوں کہ یہ مشین میرے لیے اجنبی نہیں ہے اور صنف افسانہ کے برعکس مجھے اس کا تھوڑا بہت پتا ضرور ہے کہ یہ کس چڑیا کا نام ہے ، یا یہ کس چیز کے ساتھ کھائی جا سکتی ہے ۔تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ محمد حمید شاہد کا افسانہ مجھے ہر لحاظ سے مکمل اور اچھا لگا ۔ اگرچہ شعر کے ہر لحاظ سے مکمل ہونے کو میں ہرگز مستحسن خیال نہیں کرتا ہرں بلکہ یہ اس کی خامی ہے ،خیر یہ الگ بحث ہے‘‘(جڑی ہوئی کہانیاں اور کٹا ہوا ہاتھ:ظفر اقبال)
بات ’’فرشتہ‘‘ اور آج کے افسانے‘‘ پر ہونی ہے مگر فاروقی صاحب سے ہوتی ہوئی ظفر اقبال صاحب تک آگئی ہے تو ایسا اس لیے نہیں ہو رہا کہ غزل کے باب میں چوں کہ اَپنے اُٹھائے ہوئے تنازعات کے سلسلہ میں ظفر اقبال صاحب کا نام فاروقی صاحب کے ساتھ آتارہا ہے اس لیے فکشن کے حوالے سے بھی آجانا چاہیے بل کہ اِس لیے کہ’’ فرشتہ‘‘ اور ’’آج کے افسانے‘‘ کے درمیان جیسا تعلق فاروقی صاحب نے قائم کیا؛ بہ طور خاص جادوئی حقیقت نگاری کے حوالے سے، لگ بھگ ویسا ہی تعلق ظفر اقبال نے منٹو کی کردار سازی کی توفیقات کو اور’’ آج‘‘ کے افسانے کے ساتھ جوڑ کربنایا ہے ۔ مجھے تو ان دونوں کے بیچ ایک ربط دِکھتا ہے۔ کو شش ہو گی کہ اس ربط کو نشان زد کیا جائے جو تینیک کی سطح پردونوں باتوں بہم کر دیتا ہے۔
اور ہاں کیاہم کہہ سکتے ہیں کہ ظفر اقبال کا ہمارے عہد کے افسانے کا مطالعہ ایک قاری یا ناقد کا مطالعہ نہیں بلکہ محض ایک شاعر کا مطالعہ ہے ؟ اگرچہ پہلے ہی ہلے میں جس طرح ان کے اندر کا شاعر باہر نکل کر فکشن کے بے قاعدہ قاری کو پٹخنی دِے دِیتا ہے اس سے لگتا یہی ہے مگر لطف کی بات دیکھیے کہ یہ شاعرصاحب ’’آج‘‘ کے افسانے کی نثر میں سے کسی ’’نثری نظم ‘‘ کو ڈھونڈھ نکالنے کی بہ جائے بہ اصراراس میں موجزن کہانی اور کردار نگاری پر بات کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسا فاروقی صاحب کے ہاں نہیں ہو اتھا ۔ اُنہیں’’فرشتہ‘‘ پر بات کرتے ہوئے منٹو کے کردارتو یاد رہے مگروہ اُن کے لیے کچھ زیادہ اہم نہ رہے تھے، حتی کہ لگ بھگ انہوں نے اس کی کہانی کو بھی ایک طرف رَکھ دِیا تھا لہذااُنہوں نے منٹو کی جادوئی حقیقت نگاری(Magic Realism) کو دیکھا اور اُسے آج کے اَفسانے سے جوڑ دیاتھا۔
اور ہاں پروفیسر سحر انصاری کا بھی خیال ہے کہ ظفر اقبال کی بات محض شاعر کی بات نہیں تھی؛ ایسا ’’تنقیدی اِشارہ‘‘ ہو گئی تھی جس میں ہمارے لیے بہت سے معنی ہیں ۔ سحر انصاری کے لیے ظفر اقبال کی یہ باتیں بہت دِل چسپی کا سامان لیے ہوئے تھیں اور اُنہوں نے اِسے بہ طورخاص نوٹ کیا کہ ظفر اقبال آج کے اَفسانے کو منٹو کے حوالے سے یاد کر رہے تھے ۔
’’ظفر اقبال نے دوٹوک الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ ان تمام افسانوں میں انھیں صرف دو افسانے’’ غیر معمولی‘‘ معلوم ہوتے ہیں۔ ظفر اقبال نے افسانے کے فنی تقاضوں کے دوش بہ دوش شاعری کے تخلیقی عمل اور معیارات پر بھی بات کی ہے ۔ محمد حمید شاہد کو ظفر اقبال نے ان الفاظ میں سراہا ہے کہ انھوں نے منٹو کے بند کیے ہوئے راستوں کو توڑ کر اپنے لیے راستہ نکال لیا ہے ۔ اس ضمن میں دو افسانوں کو سراہتے ہو ئے ظفر اقبال نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ’یہ دونوں افسانے ایسے ہیں کہ جن سے افسانے پر قاری کا کھویا ہوا ایمان پھر سے تازہ ہو گیا ہے‘‘ (تجزیوں کا تجزیہ:پروفیسر سحر انصاری)
’’جڑی ہوئی کہانیاں اور کٹا ہاتھ ‘‘والا شاعر ظفر اقبال بھی میرے سامنے ہے اور ظفر اقبال کے بیان کو ہمارے لیے اہم تنقیدی اِشارے قرار دینے والا سحر انصاری کا بیان بھی۔ مجھے ان بیانات کو توجہ سے دیکھنا ہے جہاں ہمارے عہد کے افسانے کو منٹو سے جوڑ کر دیکھا گیا مگر میرے لیے ان مقامات کو نقل کیے چلے جانے میں ایک حجاب مانع آ رہا ہے کہ بار بار میرا نام بیچ میں آ جاتا ہے ؛ اگرچہ میں جانتا ہوں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ہوں یا ظفر اقبال ، دونوں دراصل میرا نام لے کر ، میرے افسانے سے کہیں زیادہ ’’آج‘‘ کے افسانے کی بات کر رہے ہوتے ہیں لہذا گزارش ہو گی کہ میرے حوالے کو بھی اسی’’آج‘‘ اور اس عہد کے افسانے کے تناظر میں دیکھا جائے۔ جی ہاں، اس افسانے کے تناظر میں جو ترقی پسندوں اور علامت نگاروں کی بہ جائے منٹو کے تخلیقی تجربے اور قرینے سے جڑنا زیادہ پسند کرنے لگا ہے۔
ہاں تو میں شاعر ظفر اقبال کے افسانے کے باب میں ’’ تنقیدی اشارات‘‘ کی بات کر رہا تھااور اُن مقامات کو نشان زَد کرنے جارہا تھا جہاں اُنہوں نے ہمارے عہد کے اَفسانے کو منٹو سے یا پیچھے مڑ کر پریم چند سے بھی جوڑ کر دیکھا تھا ۔ طاہرہ اقبال کے افسانے’’پرایا ہاتھ‘‘ میں دیہاتی وسیب اور اس کی باریکیوں اور نزاکتوں کو جس مشاقی سے پیش کیاگیا اُس کے باب میں ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ اس طرح تو شاید دیہاتی زندگی کو پریم چند بھی پیش نہ کر سکے ہوں گے۔(تاہم اگر طاہرہ اقبال کا افسانہ’’دیسوں میں‘‘ ظفر اقبال کو دیا جاتا تو وہ منٹو کی کردار نگاری کو ضرور یاد کرتے۔) ہم سے پہلے کی افسانہ نگارخالدہ حسین کے’’ابن آدم‘‘ کو انہوں نے حالیہ عراق جنگ کے پس منظر میں ایک موثر افسانہ قرار دیا اور تنقیدی اشارہ یہ دیا کہ اس افسانے میں معنی کے حوالے سے مصنف کے ساتھ ساتھ قاری کا کردار اور اختیار بھی تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اُسی زمانے میں شناخت مستحکم کرنے والے اسد محمد خان اور ہمارے زمانے میں آکر فکشن میں بھی بہت نام کمانے والے شمس الرحمن فاروقی کی تخلیق کو ظفر اقبال نے ایسی خاصے کی چیز کہا جسے لکھنا تاریخ کے گہرے مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ہمارے لیے بہت محترم ہو جانے والے سینئر افسانہ نگارانتظار حسین کا ذکر بھی ظفر اقبال نے کیا اور اُن کے افسانے کو دیو مالا سے مواد کشید کرنے کے علاوہ بے مثال نثر کو اہمیت دی ۔ پھر وہ ہمارے زمانے کی طرف آئے تو عاصم بٹ کے افسانے کے’’ بھنبل بھوسے‘‘ نے اُنہیں اُلجھایا تاہم اس باب میں یہ تنقیدی اشارہ ہاتھ لگتا ہے کہ ’’مصنف کی نسبت قاری کے پاس زیادہ آپشن ہوتا ہے کہ وہ افسانے کو کیسے سمجھے یا اس سے کس طرح لطف اندوز ہو کیوں کہ اکثر اوقات شاعری کی طرح افسانہ بھی قاری کے اندر پہلے سے موجود ہوتا ہے۔‘‘ مبین مرزا کا افسانہ’’دہری سزا‘‘ زیر بحث آیا تو ظفر اقبال نے یہ تنقیدی نکتہ دیا کہ افسانے کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ قاری کی دل چسپی آخر تک برقرار رہے۔ یہیں ظفر اقبال نے علامت اور تجرید کے حوالے سے بہت نمایاں ہونے والے افسانہ نگار رشید امجد کے’’پژمردہ کا تبسم‘‘ کو یاد کیا جو’’ سمبل ۔۲‘‘ میں چھپا تھااورجو بہ قول اُن کے رشید امجد نے اپنی ’’پرانی ناقابل فہم تیکنیک اور اسلوب‘‘ میں لکھا تھا اورجس میں ایسے جملے بھی دستیاب تھے جن میں ’’اعلی درجے کی شاعری کا سراغ ‘‘ملتا تھا مگر ظفر اقبال کا تنقیدی فیصلہ یہ رہا کہ بے شک شعر میں بھی کچھ بتایا اور کچھ چھپایا جاتا ہے لیکن فکشن میں یہ تیکنیک اس طرح استعمال نہیں کی جاسکتی اور یہ کہ اسلوب بہت عرصہ پہلے متروک ہو چکا ہے۔
جس اسلوب کو ظفر اقبال نے ’’متروک‘‘ کہا اور جس تیکنیک کو انہوں نے ’’پرانی ‘‘ اور’’ناقابل فہم‘‘ قرار دیا کبھی اُس کا بہت چلن تھا اور اسی کے حوالے سے افسانہ’’نیا‘‘ قرار دیا جاتا تھا ۔ جی یہی وہ پرانا ہو جانے والا ’’نیا افسانہ‘‘ ہے جس کی جانب ’’فرشتہ‘‘ کے حوالے سے فاروقی نے بات کرنا چاہی تومنٹو کو انور سجاد کا ’’جد اعلیٰ‘‘ لکھ دیا۔ ظفر اقبال کے تنقیدی اشارات ابھی مکمل نہیں ہوئے ۔ یوں کرتے ہیں کہ آگے بڑھنے سے پہلے انہیں مکمل کر لیتے ہیں ۔ امجد طفیل کی’’ایک جدید حکایت‘‘ انہیں سیدھا سادہ بیانیہ والا افسانہ لگا لہذا وہ کوئی تنقیدی نکتہ دیے بغیر آگے بڑھ گئے(اگر ان کے سامنے اسی افسانہ نگار کا افسانہ’’مچھلیاں شکار کرتی ہیں ‘‘ ہوتا تو کیا وہ کچھ کہے بغیر آگے نکل سکتے تھے؟) تاہم نگہت سلیم کے افسانے’’ جشن مرگ‘‘ کو نک سک سے درست ہونے کے باوجود ایسا افسانہ قرار دیا جو تہلکہ خیزی پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا۔ یوں اس باب میں یہ تنقیدی اشارہ سامنے آتا ہے کہ شاعرانہ بیان سے قاری کی دلچسپی کو تو آخر تک برقرار رکھا جا سکتا ہے مگر اس حیلے سے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ قاری پر دیر پا اثر چھوڑے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قاری بیان کیے گئے واقعات کے بارے میں قائل بھی ہو۔رشید امجد پر ظفر اقبال کا پہلے والا کمنٹ اس کے ’’پرانے اسلوب‘‘ کے حوالے سے تھا مگر جب وہ ’’بگل والا ‘‘ پر بات کرنے لگے تویہ کہنا ضروری سمجھا کہ رشید امجد کے علامتی افسانوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرح تو اُس دور کا پورا افسانہ مسترد ہو جاتا ہے۔ ’’بگل والا‘‘ کو ظفر اقبال نے ’’بلاشبہ منٹو کے معیار والا افسانہ‘‘ قرار دیا اور اضافہ کیا کہ ’’اگر وہ کچھ ایسے مزید افسانے مزید لکھ ماریں تو قاری کی توقعات ہی پوری کریں گے‘‘۔
رشید امجد کے افسانے ’’بگل والا‘‘ اور اپنے افسانے ’’برشور‘‘ پر ظفر اقبال کی تنقیدی رائے دینے سے پہلے میں اپنے اس ’’کاش‘‘ کی طرف توجہ چاہوں گا جو میں نے وہاں ڈال دیا تھا جہاں ظفر اقبال اور دوسرے ناقدین کو تجزیہ کے لیے افسانے فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی ۔ وہاں میرے ذہن میں آصف فرخی کا’’بن کے رہے گا‘‘، اے خیام کا’’خالی ہاتھ‘‘ ، نجم الحسن رضوی کا’’برڈ فلو‘‘ اور اس نوع کے دوسرے قابل ذکر افسانے آ رہے تھے ۔ مبین مرزا نے اپنے ایک مضمون’’اکیسویں صدی میں جدید اردو افسانے کے تخلیقی نقوش‘‘(مطبوعہ:اسالیب۔۴) میں آصف فرخی کے مذکورہ افسانہ کا بھرپور تجزیہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگراس کا آخری فقرہ نہ لکھا جاتا تو سماجی حقیقت نگاری والا افسانہ رہ جاتا اور بہ قول ان کے آخر میں رکھے گئے اس قرینے نے پورے افسانے کو علامتی رُخ دے دیا ہے۔ یہ بیان بہت اہم ہے ؛ پورے افسانے کا علامت بن جانا ۔ سماجی حقیقت کی کہانی کا ایک اور علامت بن جانا ؛ ٹکڑوں میں نہیں ، محض چند علامتوں کے استعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ بیانیہ میں ایسے قرینے سے کہ پورا افسانہ پڑھنے والے کو منقلب ہوتا دکھائی دے۔ یہ قرینہ ہی بیانیہ کا وہ جادو ہے ، جو فاروقی صاحب کو ’’فرشتہ ‘‘ میں نظر آیا اور منٹو کے بعد کے افسانوں میں جہاں جہاں انہوں نے دیکھا اسے نشان زد کر دیا۔ اچھا ،یہاں میرا دِل چاہنے لگا ہے کہ میں آصف فرخی کے افسانے کے بارے میں صاف صاف کہہ دوں کہ اس میں منٹو کا قرینہ پوری طرح سانس لے رہا ہے۔ اور ایسا کہہ دیا ہے تو یہ بے جا بھی نہیں ہے ۔ میں اسے اس افسانے کی خرابی نہیں ، خوبی کے طور پر لے رہا ہوں ۔ منٹو کے ساتھ اسے جوڑنے کی ایک وجہ تو وہی اس کا آخری جملہ ہے۔ اور یہ قرینہ بہ ہر حال منٹو سے مخصوص تھا اور شاید ہم نے بھی انہیں سے سیکھا کہ آخری سطرکیسے ایک عام سے واقعہ کو نہ صرف افسانہ بنا دیتی ہے اسے گہری علامت میں تبدیل بھی کر سکتی ہے ۔ یہیں مجھے منٹو کے افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کا حوالہ دینا ہے اور اس کے کلیدی کردار بشن سنگھ کی طرف آپ کی توجہ چاہیے ؛ پاگل خانے میں موجود ایک پاگل کا کردار ۔ بشن سنگھ کے لیے وقت جیسے تقسیم سے پہلے کہیں رُک گیا تھا۔ آصف فرخی کے افسانے میں کوئی پاگل نہیں ہے کہ اسے ایک ہوش مندگھرانے اور اس کے فرد یعنی ’’اباجان‘‘ کی کہانی لکھنا تھااور یوں ہے کہ اس کردار کے لیے بھی وقت تقسیم کے زمانے میں کہیں ٹھہر ا ہوا ہے ۔بش سنگھ کی ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کئی زمینیں تھی وہاں کا کھاتا پیتا زمین دار تھا کہ پندرہ سال پہلے اُس کا دماغ اُلٹ گیا؛ جی تقسیم سے بہت پہلے۔تاہم پاگل خانے میں کچھ عرصہ کے لیے تو وقت اسے چلتا ہوا محسوس ہوتا رہا۔ ملاقات آنے پر وہ اچھی طرح نہاتا ،تیل کنگھی کرتا اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر ملاقات کا اہتمام کیا کرتا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹوبہ ٹیک سنگھ( اُس کی اپنی زمینوں والا) تو اس کے اندر موجود رہا، وقت نے چلنا چھوڑ دیا ۔ لگ بھگ یہی سانحہ آصف فرخی کے افسانے ’’بن کے رہے گا‘‘ میں ابا جان پر گزرتا ہے۔ان کے لیے بھی وقت وہاں تک چلتا ہوا محسوس ہوتا جہاں تک امی جان کے آواز دینے کے ساتھ ہی ان کی چپلوں کے گھسٹنے کی آواز آنے لگتی تھی ۔ مگر جب انہیں کمرے کی بتی جلانے کا دِھیان ہی نہیں رہتا ،وہ اندھیرے میں بیٹھے رہتے ہیں ،پاس بیٹھے بیٹا شانے پر ہاتھ رکھ دے تو بھی اُن کے ہونٹھ بھنچے رہتے ہیں یا پھر کچھ عرصہ بعد کہ جب اُن کے ہونٹوں پر ایک نعرہ گونجنے لگا تھا’’بن کے رہے گا پاکستان‘‘ تب پتہ چلتا ہے کہ تقسیم کے بعد والا وقت ان کی یادداشت سے منہا ہو گیاہے ۔ منٹو نے آخری سطروں میں ایک پاگل کی کہانی کو افسانہ بنا دیا تھا ایک بڑا افسانہ، جی تب جب سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے فلک شگاف چیخ نکلی تھی اور وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خاردار تاروں کے ڈھے گیا تھا ، اور آصف فرخی نے بھی ایک حواس کھوبیٹھنے والے شخص کی کہانی کو افسانہ بنا دیا ہے ، جی ایک بڑا افسانہ؛ تب کہ جب اباجان نے بہت نحیف آواز میں پوچھا تھا:’’بن کے رہے گا نا پاکستان؟‘‘ بھیا نے انہیں کمر میں ہاتھ ڈال کر اٹھایا ہوا تھا جبکہ ابا جان کی آنکھیں خشک تھیں اور ٹانگوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ منٹو کے افسانے کی نئی نئی تعبیریں ہو رہی ہیں اور آصف کا افسانہ بھی کسی ایک تعبیر کے ساتھ نتھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایسے افراد کی کہانی ہے جو کہیں پیچھے اٹک گئے ہیں اور اس سماج کی بھی کہ جس کے لیے خواب اور طرح کے دیکھے گئے تھے مگر وہ اور طرح کا بن گیا ہے ؛ اذیت دینے والا اور حواس کا ناس مار کر رَکھ دینے والا۔ اسی طرح کے تقابلی مطالعے اے خیام کے افسانے ’’خالی ہاتھ‘‘ مشرف عالم ذوقی کے افسانے’’ایک انجانے خوف کی ریہرسل‘‘ ، نجم الحسن رضوی کے افسانے’’برڈ فلو ‘‘ جیسے کئی افسانوں کے کیے جا سکتے ہیں ۔ کاش اس طرح کے کچھ اور افسانے ظفر اقبال کو تجزیہ کے لیے دیے جاتے تو نہ صرف ہم منٹو کی عطا کے کچھ اور مظاہرے دیکھتے ہمیں ظفر اقبال مزید تنقیدی اشارات دے سکتے تھے ۔ خیر، جو کچھ دستیاب ہے اور اُوپر درج ہونے سے رہ گیا ہے اُس کی طرف آتا ہوں ۔
رشید امجد نے افسانہ ’’ بگل والا‘‘ ایسے زمانے میں لکھا کہ جب وہ خود افسانے میں کہانی کی واپسی کا تواتر سے اِعلان کرنے لگے تھے ۔ واپس آنے والی اِسی مربوط کہانی نے اُن کے اس افسانے کو بڑا بنایا ہے۔ اس افسانے کو بھی اور اس سے پہلے’’ست رنگے پرندے کے تعاقب میں‘‘ کو بھی ۔ ظفر اقبال اس دوسرے افسانے کو دیکھتے اور اس میں موجود مکمل کہانی کو اور’’ میں‘‘ کے کردار کو بھی؛ تومجھے یقین ہے وہ اسی طرح منٹو کی کردار نگاری کو یاد کرتے جس طرح’’بگل والا‘‘ کے مطالعہ کے بعدیاد کیا ہے۔سب سے آخر میں میرے افسانے’’برشور‘‘ کی باری آئی اور اس کے کرداروں کو دیکھتے ہوئے ظفر اقبال نے ایک بار پھر منٹو کو یاد کیا اور وہی جملہ لکھا جسے سحر انصاری نے بہ طور خاص نوٹ کیا تھا۔ لیجئے صاحب یہاں ظفر اقبال کا بیان اور آج کے حوالے سے منٹو کو یاد کرنے کا جواز سب کچھ سامنے آگیا ہے ۔ اب ہم سہولت سے کہہ سکتے ہیں کہ آج کے افسانے کے حوالے سے شمس الرحمن فاروقی کا منٹو کو یاد کرنا اور ہے اور ظفر اقبال کا یاد کرنا اور۔تاہم کیا یہ لطف کی بات نہیں ہے کہ ظفر اقبال تو نثر کو شاعرانہ بنانے اور فکشن کی زبان نہ برتنے پر افسانہ نگاروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں مگر فاروقی صاحب اس زبان کے وسیلے سے بیانیہ کے اندر ایک جادوئی تہ داری کے امکانات کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ خیر بات کردار نگاری کی ہو یا افسانے کی زبان میں شدت اور موسیقیاتی تناؤ سے اس کے بیانیہ کو جادوئی بنالینے کی ، اس حوالے سے آج کے افسانے پر بات کرتے ہوئے منٹو کو یا د کرنا سمجھ میں آتا ہے۔
صاحب، اب مناسب یہی ہے کہ منٹو کے افسانہ’’فرشتہ‘‘ کا مطالعہ توجہ سے دیکھ لیا جائے تاکہ اس باب میں اگر کوئی ہمارے اندر پہلے سے تعصبات موجود ہیں تو انہیں جھاڑ جھٹک کر الگ کیا جا سکے ۔ میں دِیکھ رہا ہوں کہ اس افسانہ کو، اس کی خوبناک فضا کی وجہ سے پرانے ہو جانے والے ’’جدید افسانے ‘‘سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے حالاں کہ اس میں ایک مربوط کہانی موجود ہے ؛ایسی مربوط کہانی، جو علامتی یا تجریدی افسانے کو مرغوب نہ تھی ۔ میں نے کہا نا کہ افسانے کی فضا خواب کی سی دھند بناتی ہے اور بہ ظاہر اس ربط میں راخنے ڈالتی ہے جو کہانی کو مربوط کر سکتے ہیں مگر منٹو نے کہانی کے آخر میں اس قرینے کا اہتمام کر دیا ہے کہ ہم پلٹ کر ساری کہانی کو دیکھیں اورکہانی کا رخنہ ہوجانے والی فضا کو الگ کرکے اُسے مکمل ہو جانے دیں ۔
فاروقی صاحب نے جب اس افسانے پر بات کرنا چاہی تھی تو ان کی توجہ کا مرکز عطااللہ کا خواب بن گیا تھا جو افسانے کے آغاز میں ہی مفصل بیان ہوا ہے ۔ جی وہی خواب جو افسانہ مکمل ہوتے ہی یوں معدوم جاتا ہے جیسے ہم جاگتے ہوئے اپنے خواب کو روزمرہ سے منہا کر دیا کرتے ہیں ۔ ہم خوابوں سے وابستہ رہتے ہیں، ان سے قوت کشید کرتے ہیں ،وہ کبھی کبھی ہمارادِل لرزا بھی دیتے ہیں لیکن خواب ہوں یا اتفاقات اور انہونیاں کہانی کے ربط میں ہمیشہ ایک عارضی پڑاؤ کی صورت آئیں تب ہی ایک خوبی بن پاتے ہیں ؛ افسانے کی حقیقت اور مستقل واقعہ ہو جائیں تو کہانی ان سے توانائی پانے کی بہ جائے کمزور ہو جایا کرتی ہے ۔ منٹو یہ جانتے تھے ۔ لہذا افسانہ کی آخری سطر پر پہنچتے ہی خواب والی ساری حقیقت منہا ہو جاتی ہے اور عطا اللہ کی کہانی مکمل ہو جاتی ہے ۔ سرخ کھردرے کمبل میں لپٹے ، خواب در خواب سے گزرنے والے عطااللہ کے کنبے کی مکمل کہانی ۔ اس افسانے کے آٹھ صفحے لکھ کر منٹو نے خواب لپیٹنا اور کہانی کو مربوط کرنا شروع کر دیا تھا ۔ جی وہاں سے جہاں سرخ کھردرے کمبل میں عطا اللہ نے بڑی مشکل سے کروٹ بدلی تھی اور اپنی مندی ہوئی آنکھیں آہستہ آہستہ کھول لی تھیں ۔
’’دور بہت دور ایک فرشتہ کھڑا تھا ۔ جب وہ آگے بڑھا تو چھوٹا ہوتاگیا ۔ عطااللہ کی چار پائی کے پاس پہنچ کر وہ ڈاکٹر بن گیا ۔ وہی ڈاکٹر جو اس کی بیوی سے ہر وقت ہمدردی کا اظہار کیا کرتا تھا اور اسے بڑے پیار سے دلا سا دیتا تھا۔‘‘(افسانہ : فرشتہ)
فرشتے کا علامتی یا تجریدی کردار محض تین چار سطروں میں ہی کافور ہو جاتا ہے۔ ساری دھند ایک ہی لمحے میں چھٹ جاتی ہے اور ہم کہانی کو ایک ربط میں آگے بہتا ہوا دیکھ سکتے ہیں ۔ اگرچہ ڈاکٹر کو یوں دیکھنا بھی اس مرحلے میں ایک خواب تھا مگر وقفے وقفے سے جس طرح عطاللہ خواب سے نکل رہا تھا کہانی کی حقیقت بھی مربوط ہو رہی تھی وارڈ میں بلندہونے والی زینب کی چیخ ہو یا اس کا اپنے شوہر کو جھنجھوڑتے ہوئے دیوانوں کی سی حرکتیں کرنا اور اس کا اقرار کرنا کہ اس نے ڈاکٹر کو مار ڈالا تھا؛ اسی ڈاکٹر کو جو اس سے ہمدردی کیا کرتا تھا۔ سب کچھ خوابوں اور دھند کو ایک طرف دھکیل کرکہانی کو مربوط کرتا جا رہا ہے۔ جب عطاللہ خواب کی کیفیت میں تھا تو اس نے اپنے دونوں بچوں رحیم اور کریم کو مار ڈالا تھا اور اپنی بیوی زینب کی طرف دیکھ کر کہا تھا ’’اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں ‘‘۔ عطاللہ نے اپنی بیوی کو یقین دلایا تھا کہ مرتے ہوئے اسے بھی تکلیف نہیں ہوگی پھر ڈاکٹر سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کی بیوی کو ایسا انجکشن دے دے کہ وہ فوراً مر جائے۔ ایسا خواب میں ہی ہو سکتا تھا؛ حقیقی کہانی میں نہیں ۔ کہانی کے اصل بہاؤ میں توزینب سے اسی ڈاکٹر کو بہت ہمدردی تھی ۔ خواب والے حصے میں ڈاکٹر نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنا بیگ کھولا تھا اس میں سے سرنج نکال کر اسے زہر سے بھرا اور زینب عرف جیناں کو لگا دیا تھا جو اپنے مرنے والے بچوں کو یاد کرکے فوراً مر گئی تھی۔ مگر وہ کہانی جو اس خواب کو جھاڑ جھٹک کر آخری حصے میں مکمل ہونے کو آتی ہے تو عطا اللہ کے ساتھ ساتھ قاری کے ذہن سے بھی دھند چھٹنے لگتی ہے :
’’تھوڑی دیر کے بعد زینب آئی ۔ اس کی حالت دیوانوں کی سی ہو رہی تھی ۔ دونوں ہاتھوں سے اس نے عطااللہ کو جھنجھوڑنا شروع کیا :’’ میں نے اُسے مارڈالاہے۔ میں نے اُس حرام زادے کو مارڈالا ہے۔ ‘‘
’’کس کو؟‘‘
’’اسی کو جو مجھ سے اتنی ہم دردی جتاتا تھا۔۔۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ تمہیں بچا لے گا۔۔۔۔وہ جھوٹا تھا۔۔۔۔دغا باز اس کا دل تو توے کی کالک سے بھی زیادہ کالاتھا ۔۔۔ اس نے مجھے ۔۔۔ اس نے مجھے ۔۔۔‘‘
اس کے آگے زینب کچھ نہ کہہ سکی ۔
عطاللہ کے دماغ میں بے شمار خیالات آئے اور آپس میں گڈ مڈ ہوگئے ’’تمہیں تو اس نے مار ڈالا تھا ؟‘‘
زینب چیخی :’’نہیں ۔۔۔ میں نے اُسے مارڈالا ہے۔‘‘(افسانہ:’’فرشتہ‘‘)
یہیں ایک بار پھر عطاللہ پر خواب کا جھپاکا حملہ آور ہوتا ہے ۔ وہ دور خلا میں دیکھتا ہے اور اپنی بیوی کو ایک طرف کرکے ڈاکٹر یعنی فرشتے کو دیکھتا ہے ۔
’’فرشتہ آہستہ آہستہ اس کی چارپائی کے پاس آیا ۔ اس کے ہاتھ میں زہر بھری سرنج تھی۔ عطاللہ مسکرایا :’’لے آئے!‘‘
فرشتے نے اثبات میں سر ہلایا ’’ہاں لے آیا۔‘‘
عطاللہ نے اپنا لرزاں بازو اُس کی طرف بڑھایا :’’تو لگادو۔‘‘
فرشتے نے سوئی اس کے بازو میں گھونپ دی ۔
عطااللہ مر گیا۔‘‘ (افسانہ:’’فرشتہ‘‘)
اب ذرا اسی افسانے کی آخری سطریں ملاحظہ ہو جہاں کہانی ایک جست لگاتی ہے اور ایک جادو سے حقیقت کی دنیا میں اپنا وجود مکمل کر تے ہوئے تجرید اور اس کی دھند کو جھاڑجھٹک کر الگ کر دیتی ہے ۔
’’زینب اسے جھنجھوڑنے لگی:’’اُٹھو ۔۔اُٹھو؛کریم ،رحیم کے ابا ، اُٹھو ۔۔ یہ ہسپتال بہت بُری جگہ ہے۔ ۔۔ چلو گھر چلیں ۔‘‘
تھوڑی دیر کے بعد پولیس آئی اور زینب کو اس کے خاوند کی لاش پر سے ہٹا کر اپنے ساتھ لے گئی۔‘‘ (افسانہ:’’فرشتہ‘‘)
افسانہ ختم ہوتے ہی مکمل ہونے والی کہانی کا یہ سوال ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ آخر پولیس ہسپتال میں مر جانے والے عطاللہ کی لاش سے اُٹھا کر اس کی بیوی کو کیوں لے گئی تھی تو ہم یہ بھی سوچنے پر مجبور ہو تے ہیں، مقتول عبداللہ کی بیوی سے ہمدردی جتانے والا ڈاکٹر اتنا فرشتہ بھی نہیں تھا۔
کہیے صاحب اس ساری کہانی سے وہ تجرید کہاں گئی جس کو بنیاد بنا کر فاروقی صاحب نے ’’فرشتہ‘‘ کا رشتہ علامت نگاروں اور تجرید نگاروں سے جوڑا تھا ۔ کہرے کی دبیز چادر میں لپٹی ہوئی چیزیں کہانی کی اس تکمیل کے بیانیہ میں دب جاتی ہیں ۔ مجھے لگتا ہے فاروقی صاحب نے افسانے کے آغازکی زبان کو دیکھا ٹھٹک ٹھہر کر؛ یوں کہ وہ اس کے انجام سے پھوٹتی مربوط کہانی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی جو انور سجاد کے پیرو کاروں کا اُس زمانے میں مسئلہ نہ رہی تھی جن دنوں فاروقی صاحب پرانے ہو جانے والے نئے افسانے کو عام کر رہے تھے ۔ منٹو صاحب کی کہانی کا اوپر والا اسٹریکچر جس طرح مکمل ہو جاتا ہے اسے نظر میں رکھا جانا چاہیے تھا اور جس طرح اس افسانے میں علامتی امکانات پیدا ہوئے ہیں ان سے بھی یوں ہی گزر نہیں جانا چاہیے ۔ مثلاً دیکھیے کہ افسانے میں عطاللہ کا کردار محض گوشت پوست والا ہی نہیں ہے ؛وہ بھی ہے جومنبر کے ادھر ہے ۔ جی،بے جوڑ خواب میں بڑی بارعب آواز میں پکارنے والا مگر اپنے ہی وجود میں برہنہ ہو جانے والا ، آدمی کے اپنے وجود سے پرے کا یہ مادر زاد ننگا پن بارعب آواز کو منہا کر دیتا ہے اور وہاں ایسے ہونٹھ اُگا دیتا ہے جوساکت رہتے ہیں مگر پھر بھی ایک آواز سارے میں گونج رہی ہوتی ہے ۔ یہ دوسرا وجود جو دراصل نہیں ہے یا جو ہے اور عطاللہ نہیں ہے یا پھر وہ سب ہیں کہ جن سے ایک بھیڑ سی بن گئی ہے؛ اس بھیڑ میں چوٹ لگانے والا بھی وہی ہے چوٹ کھانے والا بھی کہ ایک کو چوٹ لگتی ہے اور سب کے ماتھوں سے لہو پھوٹتا ہے ۔ آدمی اپنے وجود کے اندر اور وجود کے باہر کیا کچھ ہو سکتا ہے اس کے امکانات خواب در خواب ہوکر ایک دھند سی بناتے ہیں جس میں موت کے دیوتا کی ہیبت مگر ساتھ ہی ساتھ وہ آدمی بھی ہے جو خدا بن کر موت عطا کر سکتاتھا ۔ آدمی جب موت تقسیم کرنے والا خدا بنتا ہے تو اپنی ہی خدائی صفات ؛ یعنی رحیم اور کریم ہونے والی، انہیں بھی مار دیا اور اپنی ہستی کی شریک کوبھی زندہ نہیں رہنے دیتا۔
’’معلوم نہیں کتنی دیر بعد اسے ہوش آیا مگر جب اس نے آنکھیں کھولیں تو کہرا غائب تھا ۔وہ دیو ہیکل بت بھی [جو موت کا دیوتا تھا]۔ اس کا ساراجسم پسینے میں شرابور تھا اور برف کی طرح ٹھنڈا ۔ مگر جہاں اس کا دل تھا ، ایک آگ سی لگی ہوئی تھی ۔ اس آگ میں کئی چیزیں جل رہی تھیں، بے شمار چیزیں ۔ اس کی بیوی اور بچوں کی ہڈیاں تو چٹخ رہی تھیں ، مگر اس کے گوشت پوست اور اس کی ہڈیوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔ جھلسا دینے والی تپش میں بھی وہ یخ بستہ تھا ‘‘ (افسانہ:’’فرشتہ‘‘)
اس ساری فضا کے اندر رہ کر دھندلی فضا ، اَن گنت دُموں کے لہرانے اور ایک مرتبان میں جمع ہو جانے یا پھر ان کے عطا اللہ کے دل سے بدل جانے کو تعبیر دی جا سکتی ہے اور اسی سے کہانی کا باطنی اسٹریکچربنتا ہے ، کہانی کے اندر ایک اور معنویت جگانے کے لیے ۔ اس افسانے میں منٹو نے بتادیا ہے کہ کہانی کے خارج کو بہ ہر حال مکمل ہونا چاہیے اور یہ کہ اس کے داخلی ڈھانچے میں علامتی نظام قائم کیا جا سکتا ہے مگر یہ بھی ماننا ہوگا کہ یہ اس تجربے کی ابتدائی صورت تھی اس کے باوجود اس کے اُردو فکشن پر بہت گہرے اثرات پڑے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی اس بات کی وضاحت کروں ، اب تک جو بات ہو چکی اُسے دہرانا چاہوں گا ۔
۔ فاروقی صاحب نے ’’فرشتہ ‘‘ پر بات کرتے ہوئے اس افسانے کے پہلے حصہ کی علامتی فضا اور اس کی زبان کا گٹھاؤ اور نثری نظم کے سے انداز سے نتائج اخذکرتے ہوئے منٹو کو علامتی اور تجریدی افسانے کو فروغ دینے والے انور سجاد کا جد اعلیٰ قرار دیا تھا جب کہ درست درست نتائج اخذ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس افسانے میں عطااللہ، زینب، کریم، رحیم ، ڈاکٹر اور پولیس کی صورت میں موجود کرداروں اور ان کرداروں کے تفاعل سے مکمل ہونے والی کہانی کو بھی مد نظر رکھا جاتا۔
۔ ظفر اقبال نے منٹو کی کہانی اور کرداروں پر بات کرتے ہوئے لگ بھگ زبان کے استعمال کے ان قرینوں کو ایک طرف رکھ دیا جن سے منٹو نے خوب خوب کام لیا ہے اور بیانیہ پر بات کرتے ہوئے اسے لائق اعتنا ہی نہ جانا کہ منٹو نے غیر ضروری تفاصیل سے احتراز کرکے بنانیہ کو چست کیااور کیا سے کیا بنا دیا تھا۔ اسی تخلیقی قرینے سے کردار بھی نکھر کر سامنے آتے ہیں اور ان کا تفاعل بھی بڑھ جاتا ہے۔
صاحب ! اب میں آتا ہوں، اس طرف کہ ’’فرشتہ‘‘ کا تجربہ اردو افسانے میں کہاں کہاں کام آیا۔ ایک بار پھر منشایاد کا وہی بیان ؛ جو ایک اعتبار سے وعدہ معاف کی گواہی بھی ہے، اس طرف دھیان چلا گیا ہے ۔ منشایاد نے علامت نگاروں اور تجرید نگاروں کے ساتھ ان جیسا افسانہ بھی لکھا مگر یہ ان کا غالب رجحان نہیں تھا۔ اچھا ایسا بھی ہوا کہ اُنہوں نے اس سے تائب ہونے کا اعلان کیا ۔ میرے افسانوں کے دوسرے مجموعہ’’ جنم جہنم ‘‘ پر لکھتے ہوئے تو وہ اس علامتی اور تجریدی افسانے پر لگ بھگ برس پڑے تھے جس کا رشتہ فاروقی نے افسانہ’’ فرشتہ‘‘ کے وسیلے سے منٹو کے ساتھ جوڑا ہے ۔ منشا یاد کے مطابق افسانے سے کہانی کے برگشتہ ہونے کا یہ وہ زمانہ تھا جب ’ زوال آمادہ لکھنوی شاعری کی یاد پھر سے تازہ ہونے لگی تھی‘ داستانوی صنائع بدائع کی جگہ صفت در صفت اور لفظی بازی گری کا احیاء ہو گیا تھا اور نئے افسانے کے نام پر اتنی لفظی پتنگ بازی ہوئی کہ آسمان ڈھک گیا۔ تب پلٹ کر دیکھا گیا تو وہاں نقاد تھا نہ قاری۔‘
یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گزشتہ صدی میں پڑنے والی بہ طور خاص ستر کی دہائی کے افسانہ نگار نے علامت اور تجرید کو عزیز رکھا تو اس کے سامنے منٹو کے ’’فرشتہ ‘‘ کا پورا حصہ نہیں تھا ۔ جی وہ تو پہلے والے آٹھ صفحات والے تتبع میں اپنے کئی سال بہ قول منشایاد نئے افسانے کے نام پر لفظی پتنگ بازی کرنے لگا تھا ۔ ایسے میں کہانی اور اس کا قاری دونوں اس کے ساتھ ساتھ چل سکتے تھے اگر انہوں نے منٹو سے یہ سیکھا ہوتا کہ افسانے کے خارج میں ایک کہانی کو کیسے مکمل کیا جا سکتا ہے ۔ اسی کی دہائی میں لکھنا آغاز کرنے اور بعد میں اپنی شناخت مستحکم کرنے والے افسانہ نگار نے منٹو کے اس افسانے کو آخر تک دیکھا اور اس تجربے میں ایک توازن پیدا کیا خواب کو حقیقت میں اور حقیقت کو خواب سے جوڑ ا اور کہانی کے خارجی ڈھانچے میں ایسا بیانیہ رواں کردیا جو آخر میں بہ قول ظفر اقبال تہلکہ خیز ہو جاتا تھا۔ اس آج کے افسانہ نگار نے شاعرانہ بیان سے قاری کی دلچسپی اینٹھنے کی کوشش نہیں کی ؛ کہانی کو یوں مربوط کیا کہ قاری اس پر یقین کرے اور یوں دیر پا اثر سمیٹے کے قرینے متن پر کھول کر رکھ دیے۔ ظاہر ہے ایسا کرداروں کے تفاعل کے بغیر ممکن نہ تھا، لہذا اس کی توجہ کردار نگاری پر بھی رہی۔ اچھا محض واقعات کے ایک سلسلہ کا بیان اور اتنا مربوط کہ وہ آپس میں گندھ کر ایک کہانی بن جائے ؛افسانہ بنانے کے لیے کافی نہیں تھا لہذا آج کے افسانہ نگار نے منٹو سے سیکھا کہ کہانی کی زیریں سطح میں علامت کو کیسے برتا جا سکتا ہے؛ یوں کہ کہانی کا خارج بھی مکمل رہے ۔ اس بابت’’فرشتہ ‘‘ والا منٹو کا تجربہ سامنے تھا لہذامجرد علامت نگاروں اور تجرید نگاروں کی طرح انہوں نے افسانے کے خارجی اسٹریکچر کو توڑ کر اس میں جا بہ جا شاعرانہ زبان کے گوند سے علامتوں کی چیپیاں لگائے چلے جانے کی بہ جائے اس کے خارج کو مربوط رہنے دیا اور اس کے اندر باطنی سطح پر ایک علامتی نظام تعمیر کرنے کی گنجائشیں پیدا کیں ۔ یہ ایک لحاظ سے بیانیہ کا جادو ہی تھا کہ وہ جسے محض کہانی پڑھنا ہوتی ہے وہ اُسے کسی رخنے کے بغیر پڑھے جاتا ہے اور اس کی مربوط سطح سے حظ اُٹھاتا ہے اور جسے اس سے کوئی گہرے معنی اخذ کرنا ہوتے ہیں اسی ڈیپ اسٹریکچر میں موجود ایک اور کہانی کا بہاؤاُ س کی جھولی میں یہ معنی ڈال دیتا ہے ۔ خیر، ایسا بھی نہیں ہے کہ ہر بار افسانے کے آخر میں اس کے داخل سے کوئی الگ معنی چھلک پڑیں یہ کہانی کی حقیقت کے متوازی بہتے ہوئے بھی قاری کو مل سکتے ہیں یہی سبب ہے کہ جب فاروقی صاحب نے جادوئی حقیقت نگاری کی بات کی اور آج کے افسانے کو یاد کیا تو میں نے بہ اصرار کہا تھا کہ آج کا اَفسانہ منٹو کی اس کہانی سے بھی وابستہ رہنا چاہتا ہے جو’’ فرشتہ‘‘ ، ’’پھندنے ‘‘ اور ’’باردہ شمالی‘‘جیسی نہیں ہے۔ ہمارے افسانے نے تو کہانی کے اس خارجی ٹھوس پن کو ایک حد تک عزیز جانا ہے۔ جی یہ وہی کہانی ہے جسے ایک زمانہ تک جدید اَفسانے والے رد کرتے اور پھرادبدا کر اُس کی واپسی کا اعلان کرتے رہے ہیں تاہم آج کے جادوئی حقیقت نگاری والے افسانے نے پرانے ہو چکے جدید اَفسانے کی حقیقی باطنی پیچ داری کو بھی نہیں ٹھکرایا ہے۔ اسے ایک حد تک ہی عزیز رکھا جا سکتا تھا تاکہ وہ متن کے خارج میں رواں کہانی کو کاٹ پیٹ نہ سکے ۔اس قرینے سے آج کے افسانے کا خارج سالم ہو گیا ہے بالکل اسی طرح جس طرح منٹو کی کہانی کا خارج سالم ہوا کرتا تھا تاہم اس میں اس میں منٹو کے’’ فرشتہ ‘‘ والے تجربے کا حاصل بھی رَچ بس گیا ہے جو علامتیوں اور تجریدیوں کے ہاں جزوی طور پر لائق اعتنا ہواکرتا تھا۔ اب افسانہ نثرمیں شاعری ہوتا ہے نہ انشائیہ مگر اس کا بیانیہ ایک کہانی کو بیان کرتے ہوئے اتنا لطیف ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ معنی کی گنجائش پیدا ہو جائیں ۔ یہی وہ جادو ہے جو آج کے افسانہ نگار نے منٹو سے سیکھا ہے؛ اسی لیے تو ہمارئی نسل منٹو کو اپنا کہتی اور اس کے تخلیقی تجربے سے جڑنے فخر محسوس کرتی ہے۔
ٌٌ۔۔۔۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *