M. Hameed Shahid
Home / کتابیں / ادبی تنازعات

ادبی تنازعات

محمد حمید شاہدtanaziat

(تنقید)

  مرتبہ ڈاکٹر روف امیر

۲۰۰۰

 حرف اکادمی راول پنڈی

  حمید شاہد کا وجود غنیمت ہے کہ ان کے ہاں ساری صورت حال کو جرا ¿ت سے دیکھنے اور مزاحمت سے تخلیقی سطح پر برتنے کا رویہ ملتا ہے ۔ ان کے ہاں زبان وبیان کے بہت سے تجربات بھی ملتے ہیں۔

جلیل عالی


….اور محمد حمید شاہد کے مضامین میں کچھ موڑ تو ایسے آتے ہیں کہ وقار عظیم اور ممتاز حسین بے حد یاد آتے ہیں ۔ ان نکات پہ پہنچنے کے بعد جی کرتا ہے تھوڑا سا توقف کیا جائے ….مبارک باد دی جائے ….محمد حمید شاہد نے تو کمال کردیا ہے ….افسانہ لکھیں یا مضمون ‘خوب جانتے ہیں کیا لکھنا ہے کیسے لکھنا ہے ۔

 علی امام نقوی‘ ممبئی


شاہدمطالعے اور ادبی مسائل پر غوروخوض کے عادی ہیں ۔ ان میں اپنے خیالات کو لگی لپٹی رکھے بغیرصاف گوئی سے بیان کرنے کا حوصلہ بھی ہے ۔ جہاں تک طرز تحریر کا تعلق ہے وہ صاف ستھری اور رواں نثر لکھنے پر قدرت رکھتے ہیں۔

علی حیدر ملک


حمید شاہد کی نظر گہری اور گرفت مضبوط ہے۔ مضامین پڑھتے ہوئے میںمسلسل سوچتا رہا ہوں کہ وہ کہاں کہاں اور کیسے کیسے مختلف ہوا۔ میری نظر میں وہ کسی بھی موضوع کوجداگانہ زاویے سے دیکھنے کی بصارت اور بصیرت رکھتا ہے۔

 ڈاکٹرروف امیر


اس تنقید کو اٹھا کر دیکھ لیجیے جو خود حمید شاہد نے لکھی ہے۔آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گاکہ اس یار عزیز نے اپنے دوستوں کے کام کو ئی مارجن نہیں دیا۔ اچھا لگا تواچھا کہا وگرنہ خبر لی اور ذرا ٹھیک سے لی۔آپ اس رائے سے، اپروچ سے اور نظریے سے اختلاف کرسکتے ہیںجو حمید شاہد نے اختیار کیالیکن اس کی معروضیت اور ذمہ داری کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔

مبین مرزا


محمد حمید شاہد کا رویہ ایک ایسے تخلیق کار کا رویہ ہے جو اپنے تخلیقی جوہر کو مختلف اصناف‘ اسالیب اور موضوعات کی کٹھالی میں ڈال کر پرکھتا ہے اور خود کو کسی تنگ دائرے میں قید کرنے سے اجتناب کرتا ہے ۔ اس بات نے اسے ایک طرف تو مختلف تناظر میں خود کو پرکھنے کی سہولت دی ہے ‘ دوسرا اس کے ہاں فنی اور فکری کشادگی بھی در آئی ہے جو میرے خیال میں آج کے لکھنے والوں کے لیے نہایت ضروری بات ہے ۔

امجد طفیل


راقم پورے وثوق کے ساتھ‘تاثریت کو منہا کرتے ہوئے مصنف کی انتقادی فراست کو حجلہ تنویرسے موسوم کرنے میں اس لیے حق بجانب ہے کہ اس مردِ حُر نے غالباً نہیں یقیناً یہ حلف اُٹھا کر نقدو نظر کی وادی میں قدم رکھا ہے ‘ رعایت کسی سے نہیں کرنی ‘بنا کر کسی سے نہیں رکھنی۔ ایسی یگانہ روز بسالت کا وہی مظاہرہ کر سکتا ہے جس کے پاس اِعتماد کی ثروتِ عظمی موجود ہو‘ جسے اپنے کام کی اوریجنلٹی پر یقین محکم ہو‘ جو خود کو کسی بھی ادبی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی پوزیشن میں ہو۔

جمیل احمد عدیل

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد کا مران شہزاد|فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب

کتاب : فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب مصنف : محمدکامران شہزاد صفحات: 352 قیمت …