M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / جمیل احمد عدیل|ا ور منٹو كوحمید شاہد مل گئے

جمیل احمد عدیل|ا ور منٹو كوحمید شاہد مل گئے

میڈیا کی جادو نگری منہا کر کے خالص، سنجیدہ، معتبر اور باوقار ادیبوں کی فہرست بنائی جائے تو وہ حیران کن حد تک مختصر ہو گی۔ انڈو پاک سے متعلق ان چند قلم کاروں کے اہم تر ناموں میں محمد حمید شاہد کا اسم گرامی یقیناًشامل ہے۔ افسانہ نویسی، ناول نگاری اور تنقید ان کے خاص میدان ہیں۔ بند آنکھوں سے پرے، جنم جہنم، پارو، مرگ زار، پچاس افسانے، آدمی، مٹی آدم کھاتی ہے، ادبی تنازعات، اُردو افسانہ: صورت و معنی، کہانی اور یوسا سے معاملہ، لمحوں کا لمس، The Touch of Moments، الف سے اٹھکیلیاں، سمندر اور سمندر، اشفاق احمد: شخصیت اور فن، اُردو افسانہ: کہانی، زبان اور تخلیقی آہنگ ، دہشت میں محبت، راشد، میراجی، فیض۔۔۔ نایاب ہیں ہم، پیکر جمیل۔۔۔ ایسی ان کی وقیع کتب اُردو و ادب کی آبرو ہیں۔ ہم نے ایک موتی کو مالا سے اس لیے جدا رکھا ہے کہ اس کا اجمالی تعارف آج کا موضوع ہے۔ عنوان ہے اس تصنیف کا:
سعادت حسن منٹو: جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ
منٹو۔۔۔ اس کے تسمیہ پر وہ خود گویا ہوا: منٹ کشمیری زبان میں ترازو کو کہا جاتا ہے، سو اس نسبت سے وہ منٹو ہے کہ اس کے کشمیری اجداد کی دولت ترازو میں تلا کرتی تھی۔ ایک جج کی دوسری بیوی کو منٹو کی ماں بنا کر قدرت نے اس معمول سے تھوڑا سا ہٹایا، باقی بگاڑ کا وہ خود موجد تھا۔ میٹرک، انٹر میں بار بار ناکام ہو کر اس نے عزت نفس مجروح ہونے کا کسیلا مزا چکھا۔ بہ طور خاص اُردو میں فیل ہونے کا مقصد یہی ہو گا کہ اسی زبان کا سب سے بڑا افسانہ نگار کہلانا دنیا کو چونکا دے! قاری کو ششدر کرنا اسے ہمیشہ مرغوب رہا۔ اپنی زندگانی کی کہانی کو محض بیالیس برس کی عمر میں ختم کر کے اس نے ایک مرتبہ پھر ہر شخص کو نقش حیرت بننے پر مجبور کر دیا۔
منٹو نے جتنا لکھا، اس سے کئی گنا زیادہ منٹو پر لکھا گیا، اسی لیے فراواں مقدار اپنا اعتبار گم کر بیٹھی۔ لذت تو بس جدت میں ہے تکرار تو سراسر بے لطفی کا مترادف ہے۔ محمد حمید شاہد نے منٹو کو چنا تو اعادے کے عیب سے اوراق کو آلودہ نہیں ہونے دیا وگرنہ اسی مواد کو ایک پیشہ ور نقاد کم محقق حوالوں سے اس طرح لاد دیتا کہ پانچ چھ صد صفحات سیاہی میں پناہ ڈھونڈتے۔ یہی وہ تحقیق کی بازی ہے جس میں شرکت نام کو سابقے کی علت نما عزت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ محمد حمید شاہد کے اعلا افسانہ نگار ہونے کی آدھی گواہی ان کے افسانے ہیں اور پوری گواہی مذکورہ کتاب ہے۔ تخلیقی نثر کی ایسی پرکشش نظیر انتقادیات کے باب میں کم از کم میری نظر سے نہیں گزری حالانکہ یہ رومانی تنقید کا نمونہ بالکل نہیں ہے۔ کیا معروضیت کے اکل کھرے تقاضے اس درجہ جمالیاتی اسلوب سے ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں؟ امکان اگر مثال کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ ایک سو ساٹھ صفحے پورے اعتماد کے ساتھ پیش کیے جا سکتے ہیں۔ یوں ہی دو چار جھلکیاں دیکھیے اور روح کو وجود کرنے دیجیے: ’’اس کی انوکھی لذت پھوار سے بدن بھیگنے لگتا اور تصور تیکھے جملوں سے خود بخود تصویریں بنانے لگتا؛ ایسی تصویریں، جن میں اجلے بدنوں سے لبادے ڈھلکنے لگتے تھے‘‘۔
* ’’افسانہ تو بنتا ہی تب ہے جب کہانی زقند لگاتی ہے۔۔۔ پلٹا کھاتی ہے‘‘۔
* ’’تخلیقی عمل میں اخلاص تحریر کو سادہ اور اتھلا نہیں رہنے دیتا اسے گہرایا پیچیدہ بنا دیتا ہے۔۔۔ یہی سبب ہے کہ ادب بار بار پڑھا جاتا ہے جب کہ نا ادب بار دگر پڑھنے پر کھلنے لگتا ہے‘‘۔
* ’’جنس کو شناخت کرنے والے سارے الفاظ ہمارے ہاں فحش ہیں‘‘۔
* ’’اب افسانہ نثر میں شاعری ہوتا ہے نہ انشائیہ مگر اس کابیانیہ ایک کہانی کو بیان کرتے ہوئے اتنا لطیف ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ معنی کی گنجائش پیدا ہو جائیں‘‘۔
کتاب ایسے مزین جملوں سے پوری طرح آراستہ ہے مگر یہ ہنر لفظوں کی تتلیوں کو محو پرواز دکھانے کے چمتکار تک محدود نہیں ہے بلکہ گہری تنقیدی بصیرت کا بھی آئینہ دار ہے۔ وگرنہ سچی بات ہے تنقید کے انگش بنگش طرز نگارش نے اس قدر بے زار کیا ہے کہ جی پکار اٹھتا ہے: لگا ہے نثر کا بازار دیکھو! اغلاق اور اہمال میں غرق!!! دراصل حسن انتخاب ایک آرٹ ہے، ادیب کی پرکھ لفظوں کی چناوٹ سے ہوتی ہے، جب وہ ہمسفر ایسا گداز لفظ چھوڑ کر داروغہ لائے گا تو رفاقت سے دلبری رخصت لے لے گی اور پیچھے بس وظیفہ زوجیت رہ جائے گا۔۔۔ محمد حمید شاہد چوں کہ خود صف اول کے افسانہ نگار ہیں اس لیے افسانے پر ان کی تنقید کی معنویت نظرا نداز نہیں ہو سکتی۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ حس ذائقہ سے محروم ماہر شیف (chef) نہیں ہو سکتا۔
سو اپنے حمید شاہد نے منٹو کی تعبیر براہ راست زیست کے تناظر میں پیش کر کے وہ سعادت حاصل کی ہے جو منٹو فہمی کے سلسلے میں ایک حد تک نایاب تھی۔ کتاب کا ابتدائی حصہ سرحد پار کے ممتاز نقاد اور ناول نگار جناب شمس الرحمن فاروقی کی تالیف ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ کا محاکمہ کرتا ہے۔ فاروقی صاحب سے اختلاف پر مبنی استدلال نے منٹو کی ان جہتوں کو متعارف کرایا ہے، جو اس عظیم فکشن رائیٹر کو ’جنس اور تقسیم‘ کے نصابی کلیشے سے آگے نکل کر دیکھنے سمجھنے کی توفیق بخشی ہیں۔ یہاں محمد عمر میمن سے سفر مینا کا، کام جس عمدگی سے لیا گیا ہے، وہ علیحدہ سے تحسین کا متقاضی ہے۔ اور اس فریضے کو اُن سے بڑھ کر کوئی اور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ عہد موجود میں وہ فکشن کا محدب عدسہ ہیں۔
محمد حمید شاہد نے جذبات کی اساس پر منٹو کا دفاع نہیں کیا بلکہ وہ منٹو کے متن کی تخلیقیت سے مربوط ہو کر تفہیم کے نئے پرت سامنے لائے ہیں۔ اس حوالے سے ’’کھول دو‘‘ ایسا ماسٹر پیس جس نوع کی تنقید کی سان پر فاروقی صاحب چڑھا رہے تھے، اسے صحیح اور حقیقی تناظر مہیا کرنے کی ذمہ داری جس طرح ادا کی گئی ہے وہ منٹو ہی کے نہیں فکشن کے قاری پر بھی احسان سے کم نہیں۔ حالانکہ کہا جاتا ہے کہ منٹو کا بیانیہ سادہ اور اکہرا ہے۔ ہو گا متعدد افسانوں میں لیکن اس کے مقبول عام افسانے بھی جن لطیف اور نازک تر پہلوؤں کے ترجمان ہیں، وہ تنقیح اور توضیح کا تقاضا کرتے ہیں۔ متذکرہ کتاب میں ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کو جس نئے تجزیاتی عمل کا جزو بنایا گیا ہے وہ تفحص کو دعوت دیتا ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک کے مؤقف کہ منٹو کا یہ افسانہ تقسیم کے موضوع کی مرکزیت کو پیش نہیں کرتا۔ اس مضمون کو مزید لط

p13_04
Nai Naat : August 6, 2015

افت آشنا کر کے حمید شاہد جس طرح براہین کا منظرنامہ تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؛ اس نے کتاب کو دستاویز بنا دیا ہے۔ منٹو شناسی کے اعتبار سے ایک مؤقر دستاویز!!!
علاوہ ازیں جو باب غیر معمولی جاندار قرار دیا جا سکتا ہے وہ ہے ’’منٹو کی ننگی زبان‘‘! یہ دس گیارہ صفحے ادب اور فحاشی ایسے حساس مدعا کی تفاصیل کا، فشردہ ہیں۔ محمد حمید شاہد نے منٹو پر جنس کے متبذل مضامین بیان کرنے کے الزام کو دھو ڈالا ہے۔ واقعتا منٹو عریاں نگار یا فحش نویس نہیں تھا۔ اس نے اگر عورت پر لکھا ہے تو ہونی شدنی کی سفاکی کوایسی مشاقی سے کہانی بنا دیا ہے جس کی جانب اک نگاہ ڈالنے کا گناہ پارساؤں سے تو کیا ترقی پسندوں سے بھی سر زد نہ ہو سکا۔ یوں تو جنس کی ترغیب بھی کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے لیکن ادب کے آئینے میں یہ موضوع بہت پست ہے، منٹو ایسا مہمان کلا کار ایسی سطحیت کا مظاہرہ نہیں کر سکتا تھا۔ حمید شاہد نے رشید احمد صدیقی پر درست گرفت کی ہے کہ میں اس بہتان کو ماننے پر تیار نہیں ہوں کہ منٹو مشتبہ متاع چور بازار میں بیچنا چاہتا تھا۔۔۔ اس تعلق سے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اور دیگر ’بدنام‘ افسانوں کی اہمیت علوم و فنون کے وسیع تناظرات میں نئی تعبیروں کے ساتھ اجاگر کی گئی ہے۔۔۔ فاروقی صاحب نے تنقیدی فتویٰ صادر فرما دیا کہ منٹو کو نقاد کی ضرورت نہیں اور محمد حمید شاہد نے منٹو کے کام کو معروضی تصریحات کے ساتھ سامنے لا کر وہ طلسم سکھا دیا ہے کہ متن از سر نو زندہ کیسے ہوتا ہے!!!۔۔۔ آصف فرخی کی پر مغز تقریظ نے مصنف کے قلب القلوب تک رسائی آسان کر دی ہے۔ آخر میں بس یہ کہنا ہے کہ منٹو نے خدا سے دعا کی تھی: ’’دیکھو اسے (منٹو کو) ادائیں بہت آتی ہیں۔ ایسا نہ ہو اس کی کوئی ادا تجھے پسند آ جائے!‘‘ واقعی خدا کو منٹو کی کوئی ادا پسند آگئی ہے جو اسے محمد حمید شاہد مل گئے ہیں۔۔۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *