M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|ادب ،صحافت اور سیاست

محمد حمید شاہد|ادب ،صحافت اور سیاست

11800210_1187382444611396_2178024297453063157_n

پہلے ایک عجیب و غریب صحافتی کہانی، اس کا عنوان ہے؛’’ خوابیدہ گاؤں‘‘ ؛ جی ہاں نیوز ویک نے اپنی ایک رپورٹ (3/4/15) میں قازغستان کے گاؤں کالاچی کو اسی نام سے پکارا ہے۔ رپورٹ کے متن میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں بھر کے لوگ انتہائی تکلیف دہ اور حیرت ناک عارضے میں مبتلا ہورہے ہیں۔ یہ عارضہ ہے بھی یا نہیں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ طبی تحقیق اور مشاہدوں کے بعد بھی مرض کی ڈھنگ سے تشخیص ہو سکی ہے نہ اس کی وجہ سامنے آئی ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ سالوں سے کالاچی کے لوگوں کی نیند یں طویل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اچھا، جسے نیند آتی ہے ، یوں نہیں کہ وہ دھیرے اس کی آغوش میں جائے اور نیند پوری ہونے پر انگڑائی لے اور اٹھ کھڑا ہو ، ہو یہ رہا ہے کہ نیند ایک تیندوے کی طرح حملہ آور ہوتی ہے؛کہیں بھی کسی بھی وقت، دن اور رات کی تمیز کیے بغیر، اور اکثر یہ ہوتا ہے کہ سونے والوں کو چند روز تک جگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اذیت ناک بات یہ ہے کہ جاگنے کے بعد بھی نیند کی سی کیفیت بڑی مشکل سے جاتی ہے اور اسی عرصے میں وہ اپنی یادوں کے ایک حصے سے محروم ہو جاتے ہیں۔
خوابیدہ گاؤں کا ذکر میں یوں لے بیٹھا ہوں کہ کبھی کبھی مجھے کچھ امور کے حوالے سے سیاست اور صحافت کے اپنے مقتدر لوگوں کا رویہ بھی انہی نیند کے مارے ہوئے لوگوں کا سا لگتا ہے ۔ زبان کا معاملہ ہو یا ادب کا ثقافت کی بات ہو یا تہذیبی مظاہر کی ، وہ اس کی طرف اول تو دیکھتے ہی نہیں ہیں؛ دیکھنا پڑ بھی جائے توآنکھوں کے غلاف یوں ڈھیلے چھوڑ دیتے ہیں جیسے خوابیدہ گاؤں کے لوگ اچانک نیند کے حملہ آور ہونے پر اپنے ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ ان امور سے وابستہ ادارے لگتا ہی نہیں کہ حکومت کے یا اس ریاست کے ادارے ہیں ، سب کچھ بس خدا کے سہارے چل رہا ہے ۔ تاہم بھلا ہو 23مارچ اور14 اگست کا ، یا پھر قومی شخصیات کا کہ ہم انہیں یاد کرنے کے بہانے پلکیں جھپکتے جاگتے ہیں، انگڑائی لے کر اٹھتے ہیں اور اس قومی درد کو شناخت کرتے ہیں جوہمارے دلوں میں کہیں دفن ہے ، اگست آ رہا ہے، اور آج مجید نظامی کی برسی بھی ہے لہذا اسی کے طفیل ہمارا یہ قومی درد جاگ گیاہے ۔
ہمارا یہ درد ایسے زمانے میں جاگ رہا ہے جسے معنی کی تالیف اور تجسیم کا زمانہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تو تہذیب کے بکھرنے اور تہذیبی وجود کے ادھڑنے کا زمانہ ہے ۔ تخلیق کے نسب نامہ سے اس کے محرک اور مصنف کے تخلیقی شعور اور لاشعور کو کاٹ پھینکنے کا زمانہ ، دہشت کی ایک اپنی تہذیب ہوتی ہے ،اس میں خوف اوپر سے برستا ہے جیسے ڈورون نے نشانے باندھ کر بارود پھینکا ہو یا ہمارے بیچ میں پھٹ پڑتا ہے جیسے کسی نے کمر بندھی جیکٹ سے خود کو اڑا لیا ہو ، تو اس دہشت میں جو زبان ترتیب پاتی ہے وہ ہماری زبان ہو گئی ہے، معنویت کے انتشار کی زبان۔ مفہوم کیfragmentationاور disintegration میں شہادت جیسے مذہبی تہذیب وIMG_20150807_184401الے لفظ کی معنیاتی روح خطا ہو گئی ہے۔ عجب معنوی انارکی کازمانہ ہے کہ دہشت مارے وجودوں میں اندر تک گھسی اتھل پتھل مچارہی ہے مگر ہم اس کا ڈھنگ سے چہرہ پہچاننے میں ناکام ہیں ۔ ہماری وہ زبان جس میں ہماری صدیوں کی تہذیب بو لنے لگی تھی ؛جی یہی زبان مثبت اظہار کے منصب سے دستبردار ہو گئی ہے۔ ایسے میں نئی تنقید بتا رہی ہے کہ ایسا ہوتا ، ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کی طرف سے مسلسل مشورہ رہا کہ ان معنی کو چھوڑو جو لفظ کے اندر ہمکتے ہیں اور معنی کے ان امکانات کو بھی چھوڑ دو جو گزرتے وقت کا تجربہ نمو کی صورت اس سے وابستہ کر دیتا ہے۔ کہ اس مابعد زمانے میں معنویت صرف نفی اور افتراک کی دین ہوا کرتی ہے۔ سو ایسے زمانے میں کہ کلچر کی گہرائیوں میں جھانکنے کا دستور فرسودہ ہو چکا ، ثقافتی لہریں ہمیں چھو کر گزرتی ہیں تو بدن میں کوئی جھرجھری نہیں ہوتی۔وجود اور جوہر کے درمیان اگر کوئی تعلق تھاتو وہ کچے دھاگے کی طرح یا تو ٹوٹ گیا ہے یا ٹوٹا ہوا لگتا ہے۔موت کی دہشت ہمارے وجودوں میں اُتری ہوئی تھی۔ یہ دہشت اکیلی نہیں ہے اس کے ساتھ بے پناہ مایوسی اور بوریت کی اطالت بھی ہے۔ عین ایسے زمانے میں ہم ادب صحافت اور سیاست کے بیچ تعلق دریافت کر رہے ہیں میں اسے خوش آئند بات سمجھتا ہوں۔
کچھ صحافت کی بات:یہاں تسلیم کرنا ہوگا کہ اردو زبان کی ترویج اور ترقی میں صحافت کا نمایاں حصہ رہا ہے ۔ جی جب میں زبان کی ترقی و ترویج کی بات کرتا ہوں تو میری نظر میں زبان کا پھیلاؤ ، اس کی داخلی قوت میں اضافہ اور مقامی زبانوں اور بولیوں کے باطن تک رسوخ ہے ۔ اور اس باب میں اردو زبان کو عام آدمی کی زبان کی اور سماعت لذت بنانے میں صحافت کا بڑا اور نمایاں حصہ ہے ۔ اب یہ کہنا کہ صحافت کے باب میں سب اچھا رہا یہ بھی خلاف حقیقت بات ہوگی ۔ کہتے ہیں ۱۸۲۲ میں کلکتہ سے اردو کا پہلا اخبار ’’جام جہاں نما‘‘ نکلا تھا ۔ ہری دت جس کا مالک تھا اور لالہ سد اسکھ ایڈیٹر ، اس اخبار کی کہانی یہ ہے کہ وہ عوام کا نہیں ایسٹ انڈیا کمپنی کا ترجمان ہوگیا تھا ، ایک اور بات جو اس اخبار کے بارے میں کہی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں آدھا مواد اردو کا ہوتا اور آدھا فارسی کا تو وہاں سے لے کر آج کے زمانے تک زبان کو آدھ موا کرنے والے اور عوام کی بجائے ’’کمپنی‘‘ کی مشہوری کرنے اور حق نمک ادا کرنے والی صحافت کے منفی کردار کو آپ نظر انداز کیسے کر سکتے ہیں ۔
خیر ، اس سب کے باوجود صحافت کا روشن پہلو ہمیشہ غالب اور لائق توجہ رہا ہے ۔ یاد کیجئے ’’اخبار دہلی‘‘ کو جو خالص اُردو کا اخبار تھا اور جس کے ایڈیٹر مولوی محمد باقر حسین تھے ، جی محمد حسین آزاد کے والد مولوی باقر حسین ، تحریک آزادی کے پہلے شہید،اور اس اخبار میں تب سامراجیت کے خلاف مضامین چھپا کرتے تھے ، سرکار کی اقتصادی پالیسیوں کا تجزیہ ہوتا ۔ ثقافت کو زیر بحث لایا جاتا،تہذیب اور قومی تقاضے تجزیوں کا موضوع بنتے ، خبر کے اس طرح کے مباحث جیسی سنجیدہ سرگرمی ہی صحافت تھی۔ جب ’’سید الاخبار‘‘ ، سرسید احمد خان کے بھائی سید محمد نے شروع کیا تھا تو سرسید کے مضامین اس میں چھپنے لگے تھے ۔ آثار الصنادید پر غالب کی لکھی ہوئی تقریظ بھی اس اخبار میں شائع ہوئی تھی ۔ یادرہے غالب نے اس تحریر میں سرسید کو کہا تھا :’’ماضی کی اپنی یادگاروں کا ذکر بجا مگر ماضی پرستی سے احتراز ضروری ہے، اس پرغور کیا جانا چاہیے کہ انگریزوں کی ترقی کے اسباب کیا ہیں اور سجھانا چاہیے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ مولاناظفر علی خان،مولاناابولکلام آزاد،مولانامحمد علی جوہر ، حسرت موہانی ، عبد المجید سالک، یہ سب لوگ صحافت کے ذریعے سیاسی سماجی اور فکری بیداری کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے ۔ سو ہمارے ہاں چھاپہ خانے کے آنے سے لے کرمجید نظامی تک اورہری دت کے جام جہاں نما سے لے کر آج کے بریکنگ نیوز کے کلچر تک صحافت کے یہ دونوں دھارے کام کرتے آئے ہیں ۔
صحافت کے ہری دت اور لالہ سد ا کی پیروی میں چلنے والے دوغلے، صافی اور صحافت کو جام جہاں نما کا چلن دینے والوں نے پورے منظر نامے کو گدلا دیا ہے ۔ اس طبقے نے صحافت کو ، کہ جو پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک وسیلوں کو بھی اپنا چکی ہے ، قومی اہمیت کے امور کو بھی انٹرٹینمنٹ کی شے بنا گئی ہے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں صحافی مسخروں کی مصاحبت میں ہر معاملہ قہقہوں میں اڑا دینا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں ادب اور ادیب خود ان اداروں سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔جب کہ سیاست دان اور سیاست کی ایسی کی تیسی کچھ اس تواتر سے ہو رہی ہے کہ ہمارا سیاست سے ایمان اٹھ گیا ہے ۔
سیاست کی بھی سن لیجئے ، اس نے ہماری زندگیوں کو اندر تک متاثر کیا ہے۔ ہماری گفتگو اور توجہ کا یہ مرکز ہو گئی ہے ، ہمارا اس پر ایمان نہیں ہے مگر ہم اس کے کافر اور منکر بھی نہیں ہیں ۔ سب سے زیادہ اسی پر گفتگو کرتے ہیں ، کھیت میں کھلیان میں، گھر میں بازار میں، حتی کہ سکولوں اور مساجد میں اس کا چرچا ہے ، اس نے ہماری زندگیوں میں زہر گھولا ہے ، مذہب کو آلودہ کیا ہے ، تعلیم اور تربیت کا ناس مارا ہے کہ یہ بے ہنروں کی رکھیل ہو گئی ہے۔ ہم تو اس سیاست کے طالب تھے جس میں اقبال ایک خواب دیتے تھے یا قائداعظم اس کی تعبیر اجالتے تھے ۔ مگر اب سیاست عوامی خدمت نہ رہی ، مال بٹورنے ، قوی تر ہونے اور غیر ملکی اکاؤنٹس بھرنے کا وسیلہ ہوگئی ہے ، جھوٹ، ہنگامہ آرائی ، ملکی وسائل کو بے جا استعمال ، عام آدمی کا استحصال ، اس سب نے سیاست کے قیادت ، امانت اور دیانت والے تصور کو دھندلا دیا ہے۔ جب سیاست کا چلن یہ ہو جائے تو ادب اس سے الگ تھلگ کیوں کر رہ سکتا تھا ، یہ ادب کا موضوع بھی بنی ہے۔ یہ محض فرد کی ذاتی ڈائری نہیں رہا انسانیت اور اس کی اکائیوں کی بیچ رشتوں کو کھوجنے لگا ہے ۔جس مثبت صحافت کا ذکر میں اوپر کر آیا ہوں اسے ہمیشہ ادب اور ادب کی ہمرہی پر ناز رہاکہ وہ سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے مثبت اور منفی اثرات کو اندر تک کھنگال سکتا تھا ، کہ دونوں کی عملیات کا ایک ہی علاقہ تھا سماجی اور اس سماج کو بنانے والے انسان۔
اب اگر میں صاف لفظوں میں کہوں تویوں ہے کہ صحافی کی طرح ادیب بھی انسانی اور سماجی صورت حال سے الگ تھلگ ہو کر نہیں لکھ سکتا ۔ حال ہی میں آصف فرخی نے تقسیم پر لکھے جانے والے افسانوں کے انتخاب کو، جو ممتاز شریں نے کیا تھا ، از سر نو مرتب کرکے چھاپا ہے ، میں اسے دیکھ رہا تھا، ’’ظلمت نیم روز‘‘ کو، تو اس میں شامل افسانوں کے علاوہ کئی اور افسانے یا آرہے تھے جس میں ہماری قومی زندگی کے المیے سامنے آتے ہیں ، عزیز احمد کے ’’ کالی رات‘‘،منٹو کے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘،’’ کھول دو‘‘،’’ نیا قانون‘‘،’’ یزید‘‘، احمد ندیم قاسمی کے’’پرمیشر سنگھ‘‘ ، راجندر سنگھ بیدی کے ’’ لاجونتی، عصمت چغتائی کے ’’جڑیں‘‘ ، انتظار حسین کے ’’ بن لکھی رزمیہ‘‘، زاہدہ حنا کے’’ کراہ چی‘‘، اے خیام کے ’’ خالی ہاتھ‘‘، آصف فرخی’’ بن کے رہے گا‘‘،طاہر اقبال کے ’’ دیسوں میں‘‘، نیلو فر اقبال کے’’ برف‘‘ ،مبین مرزا کے ’’ خوف کے آسمان تلے‘‘ سے لے کر اس خاکسار کے دہشت کے موسم میں لکھے ہوئے افسانوں تک اقبال کی شاعری ، جو ہماری خودی کو بیدا ر کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہی سے لے کر فیض احمد فیض کے داغ داغ اجالا، اور کشور ناہید کی ہم گنگار تیں اور ان شاعروں تک بھی جو نظریے کو شاعری سے دور رکھنے کے جتن کرتے ہیں ، سب کے ہاں اس زندگی کو دیکھا جا سکتا ہے جو سیاست اور صحافت سے متاثر ہو رہی ہے ۔ آخر میں مجھے یہی کہنا ہے کہ ادب وہ ایسا جادوئی عنصر ہے جو جس کے چند قطرے سیاست اور صحافت کے گدلے پانیوں کو صاف کر سکتا ہے ، سو اسے اس کا مقام دیجئے، اس سے مطالبے کرنے کی بہ جائے اس نے زندگی کو جس طرح لکھا ہے اور جس طرح گہرائی میں جاکر اس پر کوئی ذاتی ،فروعی ، متعصابانہ نقطہ نظر دینے کے بجائے ایک صورت حال کو سجھایا ہے اس پر مکالمہ قائم کیجئے ، اسے بھی صحافت اور سیاست کا حصہ ہونے دیجئے ، اور پھر اس کا جادو دیکھئے ۔ اپنے مباحث میں ادیب کو ، شاعر کو اور دانشور کو حصہ بنائیے ، بجا کہ یہ آپ کی سکرین پر تماشا نہیں کرے گا، اس کے منھ سے گفتگو کرتے ہوئے کف نہیں اڑے گی مگر جو کچھ وہ کہے گا ، اپنے دھیمے مزاج کی لاج رکھتے ہوئے ، اس سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھے نہ بڑھے ، صحافت کا وقار بڑھے گا اور صحافت سماجی تطہیر ، تہذیب اور مستقبل کے خوابوں کی تعمیر اجالانے کا منصب ادا کرنے لگے گی۔


About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *