M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|سائیں سچاکافوٹوفنش،ارون دھتی رائے اور خالدہ حسین

محمد حمید شاہد|سائیں سچاکافوٹوفنش،ارون دھتی رائے اور خالدہ حسین

jang 05_02
e.jang.com.pk/

سائیں سچا کے افسانے ’’ فوٹو فنش‘‘ پر بات کرتے ہوئے مجھے اُرون دھتی رائے کی وہ تقریر یاد آرہی ہے جو اس نے برازیل کے شہر پورتے الیگرو میں گلوبلائزیشن کے خلاف عالمی اجتماع ’’ورلڈ سوشل فورم‘‘ میں کی تھی اور ’’آج‘‘ کراچی کے ذریعے اردو والوں کے ہاں یوں پہنچی کہ عالمی سامراج کے خلاف لکھتے ہوئے انہیں بھی حوصلہ عطا کر گئی ۔ اُرون دھتی رائے نے اس تقریر میں سجھایا تھا :
’’ جب جارج بش یہ کہے کہ ’یاتو تم ہمارے ساتھ ہو یادہشت گردوں کے‘ تو ہم اس کو جواب دے سکتے ہیں کہ ’جی نہیں شکریہ !‘ ہم اسے بتا سکتے ہیں کہ دنیا کے لوگوں کو ایک شر انگیز مکی ماؤزر اور پاگل ملاؤں کے درمیان انتخاب کی کوئی ضرورت نہیں۔ ‘‘
صاحب! مجھے سائیں سچا کا افسانہ بیٹھے بٹھائے یوں یاد آ گیا ہے کہ میں نے امریکہ میں ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے صدارتی منصب کے حصول کی دوڑ میں شامل ایک اُمیدوار ارب پتی تاجرڈونالڈ ٹرمپ کا ایک چونکانے والا بیان پڑھ لیا ہے: یہ حضرت فرماتے ہیں:
’’اگر آج عراق میں صدام حسین اور لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت ہوتی ،تو دُنیا ایک بہتر جگہ ہوتی۔‘‘
آپ جانتے ہی ہیں کہ 2003میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا، صدام حسین معزول ہوا جسے بھگا بھگا کر آخر کار دبوچ لیا گیا تھا ۔ پھر اُسے 2006میں پھانسی دے کرعبرت کا نشان بنا دیا گیا ۔ معمر قذانی کے ساتھ میں ملتا جلتا سلوک ہوا ۔جی، معمر قذافی جو لگ بھگ چار دہائیں لیبیا کا حکمران رہا ،اُسے 2011میں باغی جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل کروا دیا گیا ۔ اچھا ، محض اور صرف امریکی صدارتی امیدوار کے بیان نے ہی مجھے نہیں چونکایا ، امریکی چینل سی این این سے انٹرویو کے دوران ، جو کچھ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئرنے بارہ سال بعد کہا ہے اس نے بھی مجھے چونکایا اور سائیں سچا کے افسانے کی جانب متوجہ کیا ہے۔ افسانے پر بات ذرا بعد میں، پہلے امریکہ کے قریبی حلیف برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا اعتراف اور معافی نامہ ملاحظہ ہو:
’’ جنگ سے قبل غلط جاسوسی کی اطلاعات اور جنگ کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ناقص حکمت عملی پر معافی مانگتا ہوں۔‘‘
یہاں کہنا یہ ہے کہ جس شرمناک خونی ہنگامے کو اُرون دھتی رائے نے’ ایک شر انگیز مکی ماؤزر‘ اور’ پاگل ملاؤں‘ کے بیچ کا معاملہ قرار دیا تھا‘ بہت جلدکُھل گیاہے کہ وہ تو یک طرفہ جنگ تھی دنیا بھر کو دہشت کی بھٹی میں جھونکنے والے خود شرانگیز مکی ماؤزر کے پالتو تھے جب کہ پاگل ملاؤں کا کردار اس کی مکارانہ چالوں کے ایسے مہروں کاسا ہے ‘ جو اس کے انسانیت کش جارحانہ اقدامات کا جواز فراہم کرتے تھے۔ اُرون دھتی رائے نے یہ بھی کہا تھا :
’’ ہماری حکمت عملی صرف سامراج کا مقابلہ کرنے کی نہیں بلکہ اس کا گھیراؤ کرنے کی ہونی چاہیے ۔ اپنے آرٹ‘اپنی موسیقی ‘ اپنے ادب کے ذریعے ‘ اپنی ضد‘ اپنی ذہانت‘ اپنے عزائم کے ذریعے اور اپنی کہانیاں ایجاد کرنے کی اہلیت کے ذریعے ۔ ایسی کہانیاں جو ان کہانیوں سے مختلف ہوں جن پر ہمیں برین واشنگ کے زور پر یقین کرنا سکھایا جارہا ہے۔‘‘
سائیں سچا کی کہانی ’’فوٹو فنش ‘‘ مجھے یوں اچھی لگی کہ یہ ویسی ہی مختلف کہانی ہوگئی ہے جس کی خواہش اُرون دھتی رائے نے کی تھی ۔ عالمی سامراج کی جانب سے چلائی جانے والی منظم اور یک طرفہ ذہن سازی کی مہم کو چکما دے ڈالنے والی مختلف کہانی ۔ افسانے میں پیٹر کا کردار بڑی مہارت اور فن کاری سے تراشا گیا ہے ۔ایک جنگی فوٹو گرافر جو خون کے کئی بہتے ہوئے دریا اپنے کیمرے کی آنکھ سے دیکھ چکا تھا ۔ اس نے اپنے کیرئیر کا آغاز ویت نام سے شروع کیا تھا اور وہیں اس کی ملاقات سرخ پوش موت سے ہوئی تھی ۔ گویا موت سے اس کا مکالمہ نیا نہ تھا۔۔۔ مگر عراق جانے کے لیے استرمالم سے ہوائی اڈے کے سفر کے دوران اسے محسوس ہوا تھا کہ کچھ نہ کچھ تو ایسا تھا جونیا تھا ۔ ایک اور طرح کی کیفیت۔ وہ اضمحلال تھا‘ بے چینی تھی یا پھرتردد تھا ‘ کچھ الگ سا کہ اسے رہ رہ کر ٹنڈرا یاد آنے لگی تھی ۔
ٹنڈرا اس کہانی کا دوسرا اہم کردار بنتا ہے۔ اور یہ ایک جھلک دکھا کر دلوں کے اندر گہرائی میں جگہ بنا لینے والا کردار ہے ۔ کہانی کے عین آغاز میں یہ ننھی منی بچی یوں داخل ہوتی ہے کہ اس کے ہاتھ آگے کو پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے ننھے منے ہاتھوں میں باپ کے لیے تین جانگیے ہیں ۔ ٹنڈرا نے معصومیت سے سوچا تھا کہ اس سفر کے دوران اس کے باپ کو پیراکی کے لیے ان کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔ ننھی ٹنڈرا نہیں جانتی تھی کہ جہاں اس کا باپ جا رہا تھا وہاں لہو بہہ رہا تھا‘گرم اور رقیق لہوجو بعد ازاں ٹھنڈا اور جیلی کی مانند گاڑھا ہو جاتا ہے۔ وہاں بھلاان جانگیوں کی ضرورت کیوں کر پڑ سکتی تھی۔یہ بات ننھی ٹنڈرا کے معصوم ذہن میں نہ آئی تھی مگر ساندرہ کو سوجھ گئی تھی ۔
پیٹر کی بیوی ساندرہ اس کہانی کا تیسرا بنیادی کردار ہے ۔ قاری کی ساندرہ سے بھی ٹنڈرا کی طرح کہانی کے عین آغاز میں ملاقات ہوجاتی ہے ‘تب جب پیٹر سفر کے لیے اسباب باندھ رہا تھا۔ کہانی کے متن میں وہ پیچھے گھر ہی میں رہ جاتی ہے مگر صاحب پیچھے کہاں رہتی ہے آخر تک قاری کے ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔ جب ٹنڈرا جانگیے اٹھا لائی تھی تو ساندرہ کا خیال تھا کہ ان کی بجائے وہاں پیٹر کو اپنی پیاری بیٹی کی تصویر کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔ اور اس نے مشورہ دیا تھا کہ پیٹر کو ٹنڈرا کی سکول والی تصویر ساتھ لے جانی چاہیے ۔
یہ تصویر بھی کہانی کا ایک کردار ہو گئی ہے ۔ پیٹر نے اگرچہ ساندرہ کا مشور ہ یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ
’’ تم اچھا بھلا جانتی ہو کہ جس جگہ میں جا رہا ہوں وہاں کسی قسم کی تصویر کا بھی ساتھ لے جانا مناسب نہیں‘‘
وہ عراق جا رہا تھا ۔ وہ عراق‘ جس کا ایک منظر خالدہ حسین نے اپنے افسانے ’’ابن آدم‘‘ میں کچھ یوں دکھایا ہے :
’’ ۔۔۔بڑا آہنی گیٹ کھلا اور اس میں سے وہ منظر ‘پورے کا پورا ‘ چلتا ہوا سامنے پنڈال میں آگیا ۔ وہ عورت ۔۔۔ سپاہنی فوجی وردی میں ملبوس ‘ پیٹی کے اوپر اس کا سینہ باہر کو ابلا پڑتا تھا اور فوجی ٹوپی کی اطراف بھورے بال جھانک رہے تھے ۔ اس کے ہاتھ میں ایک موٹا پٹا تھا اور پٹا ایک متحرک وجود کے گلے میں تھا اور وہ وجود معلوم نہیں کون تھا ۔ آدمی یا سنگ ‘ معلوم نہیں ۔ مگر وہ چار ہاتھ پاؤں سے چلتا تھا ۔ کتے سے بڑی جسامت ‘ بالکل برہنہ ۔ اس کی برہنگی چوپائے کی مانند عیاں تھی اور اس کا ہڈیوں بھرا ڈھانچا چوپایوں کی صورت چاروں ہاتھ پاؤں پر چل رہا تھاجب کہ اس کا منھ تھوتھنی کی طرح سامنے اٹھا تھااور جھاڑ داڑھی لٹکتی تھی۔۔۔ فوجن زور زور سے پٹکے کو جھٹکا مارتی تھی اور چوپائے کی گردن گھوم گھوم جاتی تھی ۔ پھر وہ زور دار ٹھڈا اپنے ایڑی دار فوجی بوٹوں کا اس کے پچھلے دھڑ کو رسید کرتی اور فاتحانہ نظروں سے مجمعے کی طرف دیکھ کر دوسرا ہاتھ لہراتی‘‘
خالدہ حسین نے اپنے افسانے میں یہ جو تصویر کھینچی ہے‘ یہ محض افسانوی تصویر نہیں ہے ۔ سچ مچ کی ایسی تصاویر ہم نے انٹر نیٹ پر دیکھ رکھی ہیں ۔ اس تصویر کا تعلق اسی عراق سے ہے جہاں سائیں سچا کے تراشے ہوئے کردار پیٹر کو جانا تھا اور جہاں وہ اپنی بچی کی تصویر لے کر نہیں جانا چاہتا تھا ۔یوں وہ ان اپنے جیسوں سے مختلف ہو جاتا ہے جنہوں نے اپنی بیٹوں کو وہاں بھیج دیا تھا ‘ ہاتھوں میں ہنٹر ‘ اسلحہ اور دلوں کو سیاہ کردینے والی مکروہ نفرت دے کر ۔ افسانہ نگار کا کہنا ہے کہ پیٹر نے عراق کی یہ مہم بہت بے دلی سے قبول کی تھی اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ:
’’ درحقیقت اس مرتبہ اُسے معلوم ہی نہیں تھاکہ اُسے وہاں کیوں جانا تھا‘‘
ایک جنگی فوٹو گرا فر ایسی جگہوں پر کیوں جاتا ہے ‘ ظاہر ہے انسانی بہیمت کی تصویریں بنانے مگر اس مرتبہ اسے وہاں جانے سے پہلے اس جنگ کے بے جواز ہونے کا اس قدر یقین تھا کہ وہ اس طرح سوچنے لگا تھا ۔ افسانہ نگار نے بتایا ہے :
’’غنڈوں کے ایک گروہ نے بدمعاشوں کے ایک دوسرے گروہ پر مارچ کے آخر میں حملہ آور ہونا تھا ‘‘
بات اگر اتنی ہی ہوتی تو یہ منظر دیدنی ہوتا ۔ وہ دونوں سے لاتعلق ہو کر بھیانک لمحوں کو عکس بند کرتا چلا جاتا ۔ مگر معاملہ اس سے بہت آگے بڑھ گیا تھا کہ اس حملے میں انسانیت پر کاری ضرب پڑنے والی تھی اور نیکی کے اُجلے لباس پر بھورے لہو کے بڑے بڑے پھول لے کر اٹھنے والی تھی‘یوں کہ اس کے وجود سے جلتے ماس اور بارود کی باس نے سارے میں پھیل جانا تھا۔ تب پیٹر کو ایسے ہزاروں بلبلاتے بچے یاد آنا تھے جنہوں نے ابھی ابھی اپنے ماں باپ کو جنگ میں کھو دیا تھا ۔
افسانہ نگار نے پیٹر کا جو کردار تراشا ہے وہ قاتل جابروں اور قاتل احمقوں کے بیچ معلق کراہت کا حصہ ہو گیا تھا ۔عراق کی اس مہم میں ویت نام پیٹر کے ساتھ ساتھ رہا ۔ ویت نام کا سب سے دردناک منظر جو اس نے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا اورجسے وہ کسی طور بھول نہ پاتا تھا وہ ایک عورت کے سامنے ایک چھوٹی سی بچی کے ہاتھ پھیلانے کا منظر تھا۔ افسانہ نگار نے اس منظر کو ٹنڈرا کے پھیلے ہوئے اس منظر سے جوڑا ہے جو پیٹر نے عراق آنے سے پہلے اپنی ننگی آنکھ پر ثبت کر لیا تھا۔ باقی کی کہانی انہی دو مناظر کے بیچ یوں سعی کرتی ہے کہ انسانیت کو اپنی ہوس سے کچلے چلے جانے والے سامراج کے مکروہ چہرے پرقاری نفرت سے تھوک دیتا ہے۔حسن عابدی نے ‘اپنی ایک نظم میں‘ اس منحوس چہرے پر کچھ اس طرح تھوکاہے کہ سائیں سچا کے افسانے پر بات کرتے ہوئے یہ نظم رہ رہ کر یاد آنے لگی ہے ۔ نظم کا عنوان ہے ’’ شہر اماں کے کتے‘‘ اور نظم یوں اٹھان پکڑتی ہے:
’’ کیا تم کو معلوم نہیں ؟
فوج میں کتے
سونگھنے والے ‘ غرانے والے‘
جبڑوں سے خوں ٹپکانے والے
زندانی کو نوچ نوچ کر کھانے والے کتے‘عہدیدار بھی ہوتے ہیں
فیتے والے ‘ بلے والے ‘ تمغے والے
منصب دار امریکی کتے
بھونک بھونک کے سینیٹ کی راہداری سے
پنٹا گن تک جا پہنچے ہیں
شرق اوسط کے چپے حپے پر گھوم رہے ہیں
انسانوں کی بو پا کر غرانے لگتے ہیں
ڈش ان کی غراہٹ لے کر ملکوں ملکوں جاتے ہیں
ٹی وی پر ان کے جبڑے خوں ٹپکاتے ہیں
آنکھیں شعلہ بار ریفل کی گولی بن جاتی ہے ۔۔۔‘‘
یوں لگتا ہے کہ اس افسانے کا کردار بھی وہی متعین ہوا تھا جوحسن عابدی کی نظم والی انفامیشن ٹیکنالوجی اور خونی جبڑوں والے کتوں ‘ خالدہ حسین کے افسانے میں ابلتی چھاتیوں اور ہنٹر والی فوجن یا پھر اس کے بو سونگھتے کتے کو تفویض ہوا تھا ۔ جنگ کی ان تصویروں کے ذریعے انسانیت پر یقین رکھنے والوں کے دلوں میں ایک جارح کی دھاک بٹھانا ہی مقصود ہو گا۔ افسانے میں اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا ہے تاہم سارا میڈیا ساری امن پسند دنیا کو یہی بتا رہاہے ۔ لیکن ہوتا یوں ہے کہ سارا معاملہ ایک تصویر اوندھا کر رکھ دیتی ہے ۔۔۔ایک ایسی تصویر‘ جس میں ایک بچی کے ہاتھ اس کی ماں کی طرف پھیلے ہوئے ہیں ۔ افسانہ بہت خوب صورتی سے اوربڑے قرینے سے اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے اور جب افسانہ نگار پیٹر کو عین راہ ہی سے لوٹا کر گھر پہنچا دیتا ہے ‘اس تصویر کو ساتھ لے جانے کے لیے‘ جو اس نے گزشتہ گرمیوں کی تعطیلات میں اتاری تھی۔۔۔ اس کی بیٹی ٹنڈرا اور اس کی بیوی ساندرہ کی مشترکہ تصویر۔۔۔ اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں کو آنسوؤں سے بھر دیتا ہے تو قاری کا انسانیت پر ایمان بھی پختہ تر ہو جاتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کے نائن الیون کے بعد انسانیت پر گزرنے والے سانحات کو گرفت میں لینے والی اہم کہانیوں میں اس کہانی کو بھی شمار کیا جانا چاہیے۔

++++

Untitled11

Untitle11d


About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *