M. Hameed Shahid
Home / حدیث دیگراں / جلیل عالی|’’ لمحوں کا لمس‘‘ کی نثمیں

جلیل عالی|’’ لمحوں کا لمس‘‘ کی نثمیں

jalil aali
جلیل عالی

یہ 1969کی سرمائی بارشوں میں بھیگی ہوئی ایک پر اسرار رات کی بات ہے۔پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور سے ذرا فاصلے پر نہر کنارے خالی کھیتوں میں’ خان ‘کے قہوہ خانے کے ناہموار چھپر تلے لالٹین کی مدھم روشنی میں تین آوارہ روحیں ایک دوسرے سے ہٹ کر کھرّی چارپائیوں پر خاموش بیٹھی تھیں ۔اچانک ان میں سے ایک نے خلیل جبران کے چند جملوں کے بلبلے فضا میں چھوڑے ۔کچھ ہی دیر بعد دوسرا سایہ چونکا اور اس نے بھی خلیل جبران کے چند جملے ہوا میں اچھال دیئے۔پھر تیسرے ہیولے(اس خاکسار) نے بھی اپنے اندرکی ویرانی کو اسی صاحبِ طرز اور منفرد قلمکارکے الفاظ میں تصویر کیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے تین جزیرے آپس میں یوں مل گئے کہ ہمارے درمیان بے نام اور ان کہی شرکتوں کا ایک جہان آباد ہو گیا۔
اس واقعے کو ربع صدی بیت گئی ہے مگر ذہن و فکر اور جذبہ و احساس کا یہ سہ رکنی رفاقتی تاثر آج بھی مری ذات کے نہاں خانے میں اسی طرح تر و تازہ ہے ۔ماہ و سال کے اس فاصلے پر آج کی نئی نسل کے ایک نمائندہ قلمکار حمید شاہد کی کتاب ’’ لمحوں کا لمس ‘‘کے مطالعے سے محسوس ہوا کہ ہو نہ ہو یہ نوجوان بھی فکر و احساس کی کسی ایسی ہی مختلف دنیا کا باشندہ ہے۔حیرت و استعجاب کی دھند میں لپٹا جب بھی کوئی ایسا تحریری اظہار نظر سے گزرتا ہے مجھے بے اختیار خلیل جبران یاد آنے لگتا ہے۔
ہمارے ہاں جب نثری نظم کے شاعری ہونے یا نہ ہونے کی بحث زوروں پر تھی تو فیصل آ باد میں مقیم اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر ریاض مجیدنے نثر اور نظم کے سنگھم پر جنم لینے والے ایسے اظہاریوں کے لئے اپنی خلاق ذہنی اپج سے کام لے کر ’’ نثم‘‘ کا نام تجویز کیا تھا ۔حمید شاہد نے بھی ریاض مجید کی تائید کرتے ہوئے مجموعے کے دیباچے میں لکھا کہ

میں اسے شاعری نہیں کہتا
اور نہ ہی اسے مروجہ نثر کی اصناف میں سے ایک سمجھتا ہوں
ریاض مجید نے بہت پہلے کہا تھا
نثر اور نظم کے جھگڑے میں پڑنے کی بجائے اسے ’’ نثم ‘‘ کا نام دے لو
مجھے اس کا کہنا پسند آیا
اب وہ جو نثری شاعری کو شاعری نہیں مانتے
اور جو اسے شاعری ہی تسلیم کرانے پر بضد ہیں
انہیں اس جھگڑے کو ایک طرف رکھنے کا موقع ضرور مل جانا چاہئے
مجھے یقین ہے کہ اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر
یہ ’’نثمیں‘‘ پڑھنے والوں کے دل میں اترنے کی کوشش کریں گی۔

میرا تاثر یہ ہے کہ حمید شاہد اپنی کوشش میں بڑی حد تک کامیاب رہاہے۔حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی اظہار ادب کی صوری و اصنافی حدود و قیودکا پابند نہیں ہوتا ۔وہ جس صورت یا ہیئت میں بھی ہو اپنا آپ منوا لیتا ہے۔یوں سمجھئے کہ تخلیقی ادب کی بھی اپنی ایک طریقت ہوتی ہے جو بعض اوقات ادب کی مروجہ’ شرعی‘ شرائط کو خاطر میں نہیں لاتی۔
نثموں کے اس مجموعے کا آغازحمد و نعت سے ہوتا ہے۔اور پہلی نظم جو دو حصوں پر مشتمل ہے ،اس کا عنوان ہی ابتدائی قرآنی آیت’’ الحمد للہ رب العالمین‘‘ کو بنایا گیا ہے۔یہ اہتمام محض رسم نبھانے کی خاطر نہیں کیاگیا۔مجموعے میں شامل کئی دوسری نثمیں بھی حمید شاہد کے روحانی و مذہبی سرو کار کا سراغ دیتی ہیں ۔ادبی دنیا میں دانش و حکمت کے ایک برتر سر چشمے سے بے تعلقی یا معذرت خواہی کی عمومی فضامیں فکر و نظر کی صلابت کا یہ پہلو بہر طورمتوجہ کرتا ہے،ورنہ اگر ایک طرف لوگ ایمانوں کی گٹھریاں سروں پر اٹھائے پھرتے ہیں تو دوسری طرف ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو بنیاد پرستی کا لیبل لگ جانے کے خوف سے اپنی سچی اور بامعنی مذہبیت کو بھی دوسروں سے چھپاتے پھرتے ہیں اور یوں ایک تہذیبی جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔حالانکہ وہ اتنے سادہ تو نہیں کہ سامراجی ہتھکنڈوں کے حوالے سے حسرت موہانی کے اس شعر کے تاریخی پس منظر اور سیاسی رخ سے آگاہ نہ ہوں ۔

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

حمید شاہد کی مذہبیت بے توفیق عقیدہ پرستی سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ۔یہ تو اسے معلوم و نامعلوم،معروض و موضوعاورمحدود و لا محدودکے رشتوں کی روشن بصیرتوں سے بہرہ ور کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ’’ لمحوں کا لمس‘‘ کی نثموں کا معنیاتی دائرہ زندگی سے کائنات اورموجود سے ما ورا تک پھیلا ہوا ہے۔حمید شاہد نے فکر و احساس کی کوئی کھڑکی اپنے اوپر بند نہیں کی۔اس کا زندہ و متحرک روحانی شعوراسے خود احتسابی کا حوصلہ دیتا ہے۔چنانچہ وہ اپنی ذات کی گہرائیوں میں ابھرنے والی حقیقت گریز لہروں پر کڑی نگاہ رکھتا ہے۔وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ بے فیض اور مجہول تجریدیت انسانی فعالیت کو کیسے بے جان کر کے رکھ دیتی ہے۔

’’ بدن کے شہر کی ہر اینٹ پر
میرے خارج کی روداد لکھی ہے
اور جسم سے باہر
شہرِ ہوس کے ہر ذرے پر
میرے اندر کی تصویر بنی ہوئی ہے
میں خود کو ماورائیت کی ٹکٹکی میں باندھے
دونوں سے آنکھیں چرا رہا ہوں‘‘
(گریز پا رویے کی لذت)

مگر وہ اس جہانِ اضداد میں رہتے ہوئے اس سے اوپر اٹھ کر ارتفاعی سطح پرجینے کا جتن کرنے کو ایک تہذیبی عمل تصور کرتا ہے کہ اسی سے انسانی معاشرے میں اعلیٰ اخلاقی قدریں فروغ پاتی اورخیر و فلاح کی راہیں روشن ہوتی ہیں ۔

پیٹ کی کی آنکھوں سے دیکھنے والے
روشن پگڈنڈیوں پر کیسے چل سکتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج سے بچھڑنے والی چند کرنیں
میرے باطن میں پناہ لیتی ہیں
اور میرے لہو میں نہا کر پاکیزہ ہو جاتی ہیں
خالی انتڑیاں
قدموں کو مکروہ آنکھیں دینا چاہتی ہیں
تو پاکیزہ کرنین راستہ روک لیتی ہیں
ٹھہر جا
جرم تیری جبلت نہیں
(جرم تیری جبلت نہیں)

آفاقی ویژن اورفکر و احساس نے حمید شاہد کونہ صرف درونِ ذات جاری خیر و شر کی کشمکش کے محاذ پر سُرخرو کیا ہے بلکہ اس جنگ کی خارجی رزم گاہ میں بھی پامردی کے ساتھ زندگی کرنے کا درس دیا ہے۔اس کی روحانیت کسی مجہول ہمہ اوستی اندازِ نظر کی پُر فریب رومانوی دھند کے سائے میں سب اچھا کی نفیری نہیں بجاتی ۔وہ معاشرے کی منفی قوتوں کے انسانیت سوز اور تہذیب دشمن مظاہروں کا گہرا شعور بھی رکھتا ہے اور ان کو للکارنے کا حوصلہ بھی۔

وہ پیتل کی بوسیدہ سوئیوں میں
سرخ دھاگہ ڈالے
سفید روشن لباس بنانے میں مصروف ہیں
نیکی کے معصوم
چوکھٹ کے پیچھے سہمے تھر تھر کانپ رہے ہیں
شرافت کی دوشیزہ
چلمن سے ہٹ کر پردے گرا چکی ہے
اور اندھیرا
بھگائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگابھاگ رہا ہے
(آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی)

تم زمانے بھر کی ہوا کو
اپنی دہلیز پر باندھنا چاہتے ہو
ہوا سگِ آوارہ نہیں ہے
جو تمہاری دہلیز کے ٹکڑوں پر پلے
اور تمہارے لئے ہی بھونکے
اسے تو میٹھے سُروں میں گزرنا ہے
سب کو چھو کر
سب کو چوم کر
(کسلمندی)

حمید شاہد مثبت سوچ رکھنے والے ہر درد مند صاحبِ فکر کی طرح امن و خوش حالی،عدل و مساوات،حسن و توازن اور حقیقی مسرت و شادمانی کا خواب دیکھتا ہے۔وہ راہِ راست سے بھٹکے ہوئے،اپنے نفسوں کے غلام اور عقل کے اندھے دشمنوں کو بھی صلح و محبت اور خیر سگالی کا پیغام دیتا ہے۔

جن لفظوں کے پتھر
تمہاری منجنیقیں
میرے قلعےپر برسا رہی ہیں
ان کا خمیر
تمہاری ذات کے گندے جوہڑکی
متعفن مٹی سے اٹھا ہے
ہاں مگر
تم چاہو تو
اپنے ہونٹوں کی شاخوں پر
کھِلنے والے پھول کی مہک سے
مجھے فتح کر سکتے ہو
(تمہارے نام)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سید محمد علی|داستان محمد حمید شاہد

بظاہر اس داستان کا آغاز ۳۰ مئی ۲۰۱۵ء کو ہوا جب ہم محمد حمید شاہد …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *