M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|روایت اور تنقید

محمد حمید شاہد|روایت اور تنقید

4ترقی پسند تحریک کے لگ بھگ وہ سار ے طرف دار جو کل تک اپنی پسندیدہ تحریک کو کائنات میں جاری وساری عمل ارتقا سے بتاتے تھے ‘اُدھر سے وقوف (enlighten)پکڑ نے اوراعتدال پسند (moderate) ہوجانے کا ’نیا عالمی ایجنڈا‘ عطا ہوتے ہی جون بدل کر روشن خیال ہو گئے ہیں ۔ اب تو یہ بھلے لوگ اپنے تئیں خود کو یورپ کی سترھویں اوراٹھارویں صدی کی زور پکڑنے والی enlightenment تحریک کا کارندہ جان کر مذ ہب کو پچھاڑنے کے لیے یہ مضامین سنانے میں جتے ہوئے ہیں کہ مابعدالطبیعیات کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی‘ یہ سب فسانہ ہے اور اگر کچھ ہے تو بس مادہ ہے۔ اور یہ کہ اگر کوئی حقیقتِ مطلق ہے تو وہ بھی مادہ ہی ہے ۔ ایسوں ہی کی بابت تواگلے کہہ گئے ہیں:کافیہ کا بھاگا بَن کو جا لاگا۔
جی چاہتا ہے کہ لنڈورے تعقل کے ان ڈھنڈورچیوں کو عقل کا ناخن لینے کا کہوں اور پوچھوں کہ صاحب جسے تم مادہ کہتے ہواس کا سب سے چھوٹا ذرہ ایٹم ہی توہے!۔ میں ان کے سر اثبات میں حرکت کرتے دیکھ رہاہوں کہ لیبارٹریوں میں تجربوں کے سہارے پھونک پھونک کر قدم رکھنے والی مجرد عقل کا یہی ابتدائی علم ہے ۔ اب میں ان سے تصدیق چاہتا ہوں کہ‘ اس ایٹم کا ایک جسم بھی ہوتا ہے جسے nucleolus کہتے ہیں ۔ جواب پھر اثبات میں آتا ہے ‘۔ مثبت چارج اس جسم کے اندر ہے اور منفی نیوکلیس کے باہر۔ منفی چارج کا جمگھٹا الیکٹران کی ساخت میں اُسے گھیرے ہوئے ہے ۔‘ مسلسل آگے پیچھے حرکت کر تے سر میری نگاہ میں ہیں ۔ یہیں میں اپنا اصل سوال ٹکا دیتا ہوں کہ’ ایٹم کے اس مجموعہ کے اندر اور باہر کیا اس کی روح نہیں ہوتی جو ان قوانین فطرت کو جانتی ہے جن کا مادہ پرست انکار کرتے ہیں؟‘۔
حیف کہ اس مقام پر عقل پرستوں کی عقل چرخے چڑھ‘ کَتنے کو نکل جاتی ہے اور بھاری بھرکم سر ساکت ہو جاتے ہیں ۔ کسی ذرے سے دوسرے ذرے کو کس طرح ملنا ہے ‘ تجربات کرنے والے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس باب میں ایک روح ان کی رہنمائی کرتی رہتی ہے ۔ ایٹم ہلکے سے ہلکا ہو یعنی ہائیڈروجن کا ‘یا پھر بھاری سی بھاری ہو جیسے پلوٹونیم کا‘ ان کے الیکٹران یا پروٹون پر چارج ایک سا رہتا ہے۔ اور یہ کہ مجموعی حیثیت میں ایٹم neutral ہے لیکن اپنے اجزا میں اس کی برقی خاصیت سے ہی ایٹم کی زندگی کا تعلق ہے جو اس کے جسم کو فعال رکھے ہوئے ہے۔
تعقل پرستوں کا شعور ششدر رہتا ہے ۔ ایسے میں اگر کوئی یہ کہہ دے کہ عقل کو ہاتھ مارو ‘تم تجربے سے ثابت کرچکے ہو کہ قوانین قدرت کا شعور نہ تو مادہ میں ہے اور نہ ہی برق میں ‘یہ تو ایٹم کی روح میں ہے جو سب پر محتوی ہے ۔ اور یہ بھی کہ یہ وہی روح جس کا علاقہ مابعدالطبیعیات میں پڑتا ہے تو وہ کیا بات ہے جو تمہیں تسلیم ورضا کے راستے سے روکتی ہے ‘ تو بھی ایسوں کے ساکت ہو جانے والے سروں میں کوئی حرکت نظر نہ آئے گی کہ یہی وہ توہیں جن کی بابت فرما دیا گیا ہے‘ صم بکم عم فہم لا یرجعون ۔
مادہ اور مادہ پرستوں کا ذکر میں یوں لے بیٹھا ہوں کہ میں نے اپنی روایت سے صدق دل سے جڑے ہوئے ناقد جمال پانی پتی کی دو اہم کتب ’’ اختلاف کے پہلو‘‘ اور ’’نفی سے اثبات تک ‘‘ کو اوپر تلے پڑھ لیا ہے ۔ اب رہ رہ کر دھیان مادیت پسندوں کی فکری بے چارگی کی سمت ہورہا ہے اور شدت سے چاہنے لگا ہوں کہ ان جامد سروں والے مادہ پرستوں کو ان اہم کتب کے مطالعے کا مشورہ دے ڈالوں۔
میں جمال پانی پتی کی دو کتابیں ایسے عرصے میں پڑھنے کا مشورہ دے رہا ہوں جب تنقید پربہت کڑا وقت آیا ہوا ہے۔ اتنا کڑا کہ یار لوگ ناقد وں اور گِدھوں کے ایک ساتھ غائب ہونے کی ناروا پھبتی کسنے کو بھی روا جاننے لگے ہیں ۔ ( محل نہیں ہے‘ مگر پھر بھی پابلو نرودا کی نظم Black Vultureیاد آگئی۔ اس میں اُس نے گدھوں کو’’ God’s spy‘‘ کہا تھا ‘ یہ وہی پرندہ ہے جو solemnly settles on the ground, and folds up like an umbrella. اور ان گدھوں کا معاملہ یہ ہے کہ وسط ستمبر سے وسط اکتوبر میں مسلسل کئی برس کی جانے والی تحقیق کے مطابق یہ اوسطاً 1586 کی تعداد میں Salt Creek County Park, Washington میں جمع ہوتے ہیں ) ۔ تھوک کے حساب سے لاشیں گرانے والے امریکہ کی ایک این جی او اگر مردے نوچنے والی گدھوں کی نسل بچانے کے لیے hatcheries قائم کر رہی ہے تو اس کی وجہ سمجھ میں آنے والی ہے مگر ایک ادیب کا ایسے ناقدوں کی نسل ختم ہونے پر تاسف کرنا‘ جس کا ذکر گدھوں کی نسل کے ساتھ کیا جاسکتا ہو ‘میرے لیے اچھنبے کا باعث ہو گیا ہے ۔ اگرہمارے اس بھائی کے ذہن میں مردہ فن پاروں‘ مردہ افکار اور مردہ مباحث کومرغوب رکھنے والے ناقدین کی نسل ہے ‘تو مجھے کہنا ہے کہ اے بھائی صاحب‘ اس کے ختم ہونے پر ناحق رنجور ہوتے ہو‘ اسے ختم ہو ہی جانا چاہیے تھا۔ افسوس کہ ختم نہیں ہو رہی ہے بلکہ ناقدین کی ایک اور نسل کے ساتھ ہنسی خوشی پھل پھول رہی ہے جو بقول مشفق خواجہ سماجی تعلقات کی اُستواری میں رسمی تعریف و توصیف سے کام نکالنے کو ہی تنقید گردانتی ہے۔ تو نے کی رام جنی میں نے کیا رام جنا‘ کا نعرہ لگا ان دو گروہوں کے ساتھ مل جانے والی نئی تنقید نے تخلیقات اور زندگی کی تفہیم کے بارے میں مباحث اٹھاتے سوالات حتی کہ خود تخلیق کار سے موڑ کر صورت حال کو اور بھی گھمبیر بنا دیا ہے ۔
یوں تو آٹھ نو برس پہلے جمال پانی پتی کی کتاب ’’ادب اور روایت‘‘ سنجیدہ فکر ادبی حلقوں میں مقام پا چکی تھی اور ان تازہ کتابوں میں شامل مضامین جب جب ادبی جرائد شائع ہوئے توجہ پاتے رہے تاہم کچھ عرصہ پہلے لکھے گئے مضامین کا ایک ساتھ ایسی صورت حال میں آنا‘ جس کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے‘ایک پر لطف تجربہ ہو گیا ہے ۔
دونوں کتابوں میں کل ملا کر سولہ مضامین ہیں اور سولہ کے سولہ ایسے کہ پڑھنے والا ہر جملے پر چوکنا رہتا ہے ۔ کہیں عین نشانے پر لگنے والی چوٹ کا لطف‘ اور کہیں دلیل ایسی کہ دل ٹھکانے ہوتا ہے ۔ تاہم ایسے بھی مقامات آتے رہتے ہیں کہ آپ شدید اختلاف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے مقامات آئے تو میرا قلم بے قابو ہوا اور بہت کچھ لکھتا چلا گیامگر مجھے اپنے آپ کو بہت کچھ کہنے سے اس لیے روک دینا پڑا ہے کہ یہ دونوں کتابیں جان دار کتابوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہے ۔ ایسی کتابیں جو آپ کو انگیخت کریں ‘ آپ سے سوال کریں ‘آپ کو اپنے ساتھ ملا لیں یا پھر اپنا دشمن بنا لیں ‘ آپ کے بنے بنائے نظریات کو چیریں پھاڑیں اور جب آپ پڑھ کر انہیں ایک طرف رکھ دیں توآپ کے دل میں جگہ بنا لیں ۔واقعہ یہ ہے کہ جمال پانی پتی کی یہ دونوں کتابیں اب میرے دل میں جگہ بنا چکی ہیں ۔
*:*
’’اختلاف کے پہلو ‘‘ کے کم و بیش ساتوں مضامین کے تانے بانے میں فکری ردعمل ہمک رہا ہے ۔ ’تغیرو حرکت سے ارتقا تک‘‘ کا عنوان پانے والے پہلے مضمون میں مصنف نے طبیعیات اور مابعد الطبیعیات کے اس معاملے پر بڑی خوبی سے بحث کی ہے جوعصری صورت حال میں ایک بار پھر اہم ہو گیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں :
’’اصولاً ہر شے کی وجہِ جواز اُس شے سے ماوراکسی بلند تر سطحِ وجود ہی سے وابستہ ہوتی ہے ‘ نہ کہ خود اُس کی اپنی سطح وجود سے۔ سو ظاہر ہے کہ یہ جواب ہمیں مادیّات اور طبیعیات کی عالم سے اوپر اُٹھا کر مابعدالطبیعیات کی عالم میں لے جاتا ہے‘ ‘۔
مادے کی یہ بحث روایت کے بارے میں پائی جانے والی اس عام غلط فہمی کو دور کرتے کرتے پھوٹی ہے کہ روایت حرکت کی نفی کرتی ہے ۔ مجھے یہاں بتا دینا چاہیے کہ یہ مضمون مشہور ترقی پسند نقاداحمد ہمدانی کے خیالات پر جمال پانی پتی کا اختلافی رد عمل ہے جنہوں نے ترقی پسند تحریک کو کائنات میں جاری وساری عملِ ارتقا سے متعلق بتایا تھا جب کہ روایتی فکر اورسائینسی عہد کی جدید فکران کے ہاں ایک دوسرے کی ضد ہو گئی تھیں ۔ ترقی پسندی کے اس مبلغ نے تغیر و حرکت اور ترقی و ارتقا کے بارے میں روایت اور سائنسی فکر کے تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ یہ کا ئنات مسلسل حرکت میں ہے اور حرکت کا لازمی نتیجہ تغیریا تبدیلی ہے لہذا جدید سائنسی عہد میں حرکت کو حقیقت اور کائنات کا اصل الاصول سمجھا جاتا ہے ۔ ‘‘ اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’ روایتی فکر حرکت کی بجائے سکون کو کائنات کا اصل الاصول قرار دیتی ہے اور حرکت کو التباس سمجھتی ہے ‘‘ جمال پانی پتی نے پہلے تو ’التباس‘ کے بے محل استعمال پر شدید گرفت کی اور پھر حرکت وسکون اور تغیر و ثبات کے بارے میں سلیم احمد کے موقف کا سہارا لے کر واضح کیا کہ مابعدالطبیعیات کے نقطہ ء نظر سے سکون و ثبات کا مقام تغیرو حرکت سے بلند ہے کیوں کہ حرکت اور تغیر مادے کی صفت ہے اور مادے کا تعلق طبیعیات سے ہے ۔ جب کہ مابعدالطبیعیات اس عالم سے متعلق ہے جو ورائے مادہ ہے ۔ سکون و ثبات بھی چوں کہ اسی عالم ما بعد الطبیعیات سے ہے ‘ اس لیے ان کا درجہ حرکت و تغیر سے بلند ہے ۔ یہیں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ وہ تمام جدید فلسفے جو حرکت وتغیر ہی کو زندگی کی حقیقت اور کائنات کا اصلِ اصول مانتے ہیں اور کسی ایسی حقیقت تک نہیں پہنچتے جو حرکت و تغیر سے ماورا ہو۔ انہوں نے اقبال کا یہ شعردرج کیا :
فریب نظر ہے سکون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرۂِ کائنات
اور گرفت فرمائی کہ اقبال بھی اس شعر میں مابعد الطبیعیاتی فکر سے دور اور طبیعیات کے نقطۂ نظر کے قریب ہو کر مادہ پر ستوں سے آملے ہیں ۔
جس نتیجے پر جمال پانی پتی ‘جناب سلیم احمد کے وسیلے سے پہنچنا چاہتے ہیں ‘پہلے تو گرہ میں باندھ رکھیے کہ وہاں میں پہلے سے ہوں مگر جس طرح وہ پہنچتے ہیں اس پر دل ٹھکتا نہیں ہے ۔ میری استدعا ہے کہ اقبال کے شعر کو ایک مرتبہ پھر پڑھ لیا جائے اور میری ان گزارشات کو بھی ذہن میں تازہ رکھا جائے جو ایٹم اور اس کی روح کے باب میں عین آغاز میں کر آیا ہوں۔ یہی تو وہ روح ہے جو ہر ساکت وثابت ذرے کو تڑپ عطا کر رہی ہے یوں حرکت و تغیر کا تعلق بھی سکون و ثبات کی طرح مابعد الطبیعیات سے جڑ جاتا ہے ۔ اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تواقبال کے مادہ پرستوں سے آملنے کا طعنہ بھی ہاتھ پر ہاتھ مارتی عورتوں کی سٹھنی کا سا ہو جاتا ہے۔ خیر یہاں روایت سے متعلقین کا اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ آغاز میں جس منھاج علمی کو وسیلہ بنایا گیا ہے وہ روایتی فکرسے جڑتا نہیں ہے ۔ اس باب میں مجھے اعتراف کرنا ہے کہ یہ حوصلہ میں نے جناب جمال پانی پتی کی تحریر سے پایا ہے ۔ روایت سے متعلق اس ناقد کے ہاں علم کلام کے اصول تطبیق کو آپ دونوں کتابوں کے کئی صفحات پر متحرک دیکھ سکتے ہیں۔
جمال پانی پتی نے یہ جو کہا ہے کہ اسلام کی روایتی تہذیب جس اصلِ اصول پر قائم ہے ‘وہ ہے الآن کما کان‘ یعنی ایک ایسی غیر متغیر اور قائم و دائم حقیقت جس کا ظہور زمان ومکان میں ہر آن ایک نئی شان کے ساتھ ہوتا ہے‘ بہت بجا فرمایا ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ روایتی تہذیبیں اپنے اصلِ اصول سے وابستہ رہنے کے لیے ثبات ودوام پر اس لیے زور دیتی ہیں کہ ان کے نزدیک زندگی کے دونوں اصولوں یعنی تغیر اور ثبات میں توازن ہونا چاہیے۔ تاہم یہاں جمال پانی پتی نے وضاحت کر دی ہے کہ یہ توازن مطلق اور بے قید حرکت سے نہیں ‘ سکون کو حرکت اور تغیر کو ثبات کے تابع رکھنے ہی سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس وضاحت کے بعد وہ جو توازن کے باب میں ترازو کے پلڑوں کے برابر ہونے کا تصور ابھرا تھا کافور ہو جاتا ہے اور وہ سائنس دان آسامنے کھڑا ہوتا ہے جس نے کرہ ارض سے باہر قدم جما کر لیور کی مدد سے زمین کا گولا اُٹھا لینے کی بات کی تھی ۔ اب ذرا مادے کو کرہ ارض کی جگہ رکھ کر اس روح کو لیو ر بنالیں جو قوانین قدرت کا شعور نہ رکھنے والے مادے کوحرکت و تغیر عطا کررہی ہے توجمال پانی پتی کی بات فوراً سمجھ میں آجائے گی ۔
اقبال کی فکر میں دانش افرنگ کے کرشمے تلاش کرنے کا مشغلہ جمال پانی پتی کو مر غوب دِکھتا ہے اور اس کے لیے جہاں جہاں انہیں شاعر اقبال اور مفکر اقبال کو دو لخت کرنا پڑا ہے‘ انہوں نے بے درنگ کر دیا ہے ۔ حالاں کہ وہ جانتے ہیں کہ اقبال The Reconstruction of Religious Thought in Islamمیں اسلام کے تصور حقیقت کے بارے میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ:
’’اسلام کے نزدیک حیات کی روحانی اساس ایک قائم و دائم وجود ہے جسے ہم اختلاف اور تغیر میں جلوہ گر دیکھتے ہیں ‘‘
اور یہ بھی کہ:
’’ اسلامی معاشرہ حقیقتِ مطلقہ کے اس تصور پر مبنی ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ثبات اور تغیر دونوں خصوصیات کا لحاظ رکھے ۔ اس کے پاس کچھ تو دوامی اصول ہونے چاہییں جو حیاتِ اجتماعیہ میں نظم و ضبط قائم رکھیں ۔ کیوں کہ مسلسل تغیر کی اس بدلتی ہو ئی دنیا میں ہم اپنا قدم مضبوطی کے ساتھ جما سکتے ہیں تو دوامی اصولوں ہی کی بدولت۔‘‘
مجھے تو اپنے خطبات اور اپنی شاعری میں دانش افرنگ کی جلوہ فرمائی کی بجائے ہر کہیں مدینہ ونجف کو آنکھوں کا سرمہ بنا لینے والا اقبال ہی نظر آیا ہے ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرے پاس جو عینک ہے اس میں اقبال کا پورا قد دِکھتا ہے جو مجموعی سراپے میں قابل قبول اور بہت سے مقامات پر قابل رشک ہو گیا ہے مگر جمال پانی پتی کا معاملہ الگ ہے وہ فکرِاقبال کومختلف پہلوؤں سے دیکھتے ہیں اور ہر پہلو کو الگ کر کے دیکھتے ہیں ۔ مثلاً دیکھئے کہ اقبال کے ہاں جو اصول حرکت کام کرتا ہے وہ ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ میں نے سارے اختلافی معاملے کو بڑی ہمدردی اور اخلاص نیت سے جانچا ہے اور یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ فی الاصل دونوں نتائج کے اعتبار سے ایک ہی منزل پر پہنچتے ہیں۔ کیسے ؟ اس کااحوال لکھنے بیٹھ گیا تو بات طول پکڑ لے گی لہذا اسے کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں تاہم یہیں محمد سہیل عمر وہ تجریر یاد آتی ہے جس میں انہوں نے عسکری اور سلیم احمد کے ہاں پائے جانے والے اصول حرکت و تغیر کے فرق کو واضح کیا تھا ۔ محمدسہیل عمر کے مطابق انسان اپنی ذات میں جسم ‘ نفس اور روح کا مجموعہ ہے ۔ جسم جمود‘ نفس حرکت و تغیر اور اور روح سکون ۔ نفس کے روح یا پھر جسم پر تصرف سے خرد یا عقل پیدا ہوتی ہے ۔ یہیں روح کو امرِمحض اور جسم کو خلقِ محض کہہ کر نفس کو دونوں کے بیچ پُل بتایا گیا اور ثابت کیا گیا کہ سلیم احمد کے تصور انسان میں تدریج کا رُخ روح سے نفس اور نفس سے جسم کی طرف تھا جب کہ عسکری صاحب کے ہاں یہ تدریج بر عکس تھی ۔ محمد سہیل عمر کے ہاں بر عکس ہو جانے والے عسکری اور سلیم احمد ‘جس اصول کے تحت جمال پانی پتی کے ہاں ہم عکس ہو جاتے ہیں ‘کم و بیش اُسی اصول کے تحت یہ دونوں اور خود جمال پانی پتی بھی مجھے اقبال سے زیادہ دور نظرنہیں آتے اور مجموعی اعتبار سے اسی سلسلے سے جڑے نظر آتے ہیں۔
اقبال اور تصوف کے حوالے سے اگلے تینوں مضامین بھی بہت دلچسپ اور معلومات افزا ہیں ۔ ان مضامین میں بہت سے مقامات پر میں نے خود کو جمال پانی پتی کے ساتھ کھڑے پایا ہے ۔ سوامی تیرتھ کی صحبت میں ویدانت کے فلسفے کا مطالعہ کرنے والے اقبال نے مثنوی ’’اسرار خودی‘‘ کے دیباچے میں کہا تھا کہ ’’ مسئلہ ء انا کی تحقیق وتدقیق میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی ذہنی تاریخ میں ایک عجیب وغریب مماثلت پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ جس نقطۂ خیال سے سری شنکر نے گیتا کی تفسیر کی اُسی نقطۂ خیال سے محی الدین ابن عربی اندلسی نے قرآن شریف کی تفسیر کی‘‘ لیکن ہوتا یہ ہے کہ مثنوی ’’گلشنِ راز جدید‘‘ میں شنکر اور منصور حلاج کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے دونوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں تاہم بعض شارحین کے مطابق اقبال ’’اپنی زندگی کے آخری دور میں پھر سے وحدت الوجود کے حامی بن گئے تھے۔‘‘ اقبال کے ہاں فکر ونظر کی یہ تبدیلی ؟ جمال پانی پتی کے تین مضامین کا جواز بنتی ہے ۔ ان مضامین میں شنکر کے ویدانتی فلسفے پر اقبال کے تصور خودی کے حوالے سے پر مغز بحث کی گئی ہے ۔ اور اس خیال کی تردید کی گئی ہے کہ ؛
۔ شنکر کے نزدیک جیو آتما(انسانی انا) فریب کا ایک پھندا ہے جسے گلے سے اُتار پھینکنا نجات کے لیے ضروری ہے
۔ شنکر نے اُپنشندوں کے فلسفہ ترک عمل کو ایک بار پھر زندہ کرکے اپنے منطقی طلسم سے اُس عروسِ معنی کو پھر محجوب کر دیا ہے جسے سری شنکر بے نقاب کرنا چاہتے تھے
اسی بحث کے بعد وہ ان ناقدین ادب سے خبردار کرتے ہیں جو عہد جدید کے مادی فلسفوں کے زیر اثر روح کا استعمال بھی جذبے کے معنی میں کر دیتے ہیں ۔ ان کے مطابق اقبال کے ہاں شنکر کی طرح روح اور جسم یا تن وجاں دو مختلف الحقیقت یا متضاد چیزیں نہیں بلکہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں ‘ اندر سے دیکھو تو روح ‘باہر سے دیکھو تو جسم ۔ یوں وہ بجا طور پر اقبال اور شنکر کے باہم متضاد مؤقف کی شناخت کرتے ہیں۔ تاہم آگے چل کر وہ عملی ‘حقیقی اور ماورائی پہلوؤں سے اقبال کی خودی کوجیو آتما یاآتما(پرش) جیسا قرار دینے کے بعد رویوں کے فرق کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اقبال نے حقیقی پہلو کی بجائے سارا زور اس کے عملی پہلو پر لگایا جب کہ شنکر خودی کے عملی پہلو کی بجائے آتما کو مکتی دلانے کی طرف راغب رہے ۔
جمال پانی پتی نے بتانے کی سعی کی ہے کہ اقبال عشق کو اس باعث علم پر ترجیح دیتے ہیں کہ علم میں دولت‘قدرت اور لذت تو ہوتی ہے ‘اپنا سراغ ہاتھ نہیں آتا ۔ جب کہ بقول اُن کے شنکر کو اپنی حقیقت کا سراغ اپنے علم ہی سے ملتا ہے ۔ ایسے میں جمال پانی پتی کو سلیم احمد مرحوم اور اقبال کا یہ شعر ایک ساتھ یاد آتاہے :
مرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافی
ترا نصیب فلاطون کی تیزیِ ادراک
میں نہیں سمجھتا اس شعر میں اس معنی کے اشتباہ کی کوئی گنجائش نکل سکتی تھی کہ زورِ حیدری کو باب العلم کی مجموعی شخصیت پر فوقیت دی گئی ہے ۔ پہلے اقبال پر یہ تہمت لگی کہ انہوں نے عشق کو علم پر ترجیح دی اور اب کہا جارہا ہے کہ طاقت ‘علم پر فوقیت پا گئی۔ اور وہ بھی عین وہاں سے یہ معنی برآمد کئے گئے ہیں جہاں حیدر کرار کا تذکرہ ہی اس امر کا ضامن بن جاتاہے کہ اقبال کو علم اور طاقت کا امتزاج دکھانا مقصود تھا ۔ اقبال کے زاویہ ء نظر کو بجا طور پر سمجھنے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک نظر ’’The Reconstruction of Religious Thought in Islam‘‘ کی اس عبارت پر ڈال لی جائے :
“What is the character general structure of universe in which we live? Is there a permanent element in the constitution of this universe? How are we related to it? What place do we occupy in it, and what is the kind of conduct that benefits the place we occupy? These questions are common to religion, philosophy, and
higher poetry”
ایک شخص جو حیات اور کائنات کے بارے میں اس نوع کے سوالات اُٹھا کر انہیں مذہب ‘فلسفے اور اعلی درجے کی شاعری کا مشترکہ مسئلہ قرار دے رہا ہو اس کے ہاں سے ان نتائج کا استخراج کم از کم مجھے تو ہضم نہیں ہو پارہا۔ اقبال نے اگر زور دے کریہ کہا ہے کہ :
“Quran,…..regards the hearing and sight as the most valuable Divine gifts and declares them to be
accountable to God for their activity in this world.”
تو سوچا جانا چاہیے کہ اقبال کے ہاں ’’سمع‘‘ اور ’’بصر‘‘ کی اس پذیرائی کے لگ بھگ کیاوہی معنی نہیں بنتے جو جمال پانی پتی نے اقبال کے ہاں روح اور جسم کے ارتباط باہمی کا سوال شناخت ہونے پر برآمد فرمائے تھے ۔
اگلے دو مضامین بھی انہی فکری مباحث کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ پہلے تو وہ جناب احمد ہمدانی کے ’’وحدت الوجود ‘‘اور’’ تصوف ‘‘کو مترادف المعنی الفاظ کے طور پر استعمال کرنے سے پیدا ہونے والی الجھنوں کو سلجھاتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ پینتھی ازم (Pantheism) کا صحیح ترجمہ ’’ وحدت الوجود‘‘ کی بجائے ’’ ہمہ الہیت‘‘ ہے ‘ یعنی’’ خدا کائنات سے ماورا نہیں بلکہ خدا اور کائنات دونوں ہم وجود ہیں‘‘۔ جمال پانی پتی ’’ فصوص الحکم ‘‘ کے بارے میں اقبال کا یہ کہنا’’ جہاں تک مجھے علم ہے فصوص میں سوائے الحاد اور زندقہ کے اور کچھ نہیں ‘‘ کو بھی زیر بحث لاتے ہیں ۔ مسئلہ قدم ارواح کملا اور مسئلہ تنزلات ستہ پر بھی اسی حصے میں بھر پور بحث ملتی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس سارے مباحثے میں وہ ہمدانی صاحب کی فکر پر پٹڑا ہی پھیر دیتے ہیں ۔
’’غالب اور تصوف‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل مضمون ‘نواب مصطفی خان شیفتہ کے پڑپوتے افتخار احمد عدنی کی کتاب ’’غالب شناسی کے کرشمے‘‘ کی فکر کورد کرنے کا کرشمہ ہے ۔ جمال پانی پتی اس مضمون میں اصرار کرتے ہیں کہ غالب کو تصوف اور مسائل تصوف سے شغف توضرور تھا مگر تصوف ان کے ہاں بغرض شعر گفتن آیا‘ یہ ان کا طبعی میلان نہ تھا۔ اس ضمن میں وہ غالب کے ان اشعار کو بطور دلیل لاتے ہیں جن میں منصور کی تنک ظرفی کے مقابلے میں غالب کی انانیت اور انفرادیت آجاتی ہے ۔ یہ وہی انانیت ہے جو غالب کو اپنی ’’انا‘‘ کسی بھی قیمت پر انائے حقیقی کے سپرد کرنے نہیں دیتی ۔ جمال پانی پتی غالب کو حقیقی معنوں میں اُردو کے پہلے شاعر قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں روح عصر نے اپنی ترجمانی کے لیے منتخب کیا تھا اور یہ کہ اپنے بعد آنے والے سو سوا سو سال تک کے زمانے کے اہم ترین رجحانات بھی ان کی شاعری میں سے منعکس ہوتے چلے گئے ہیں۔ تاہم تصوف کے معاملے میں وہ غالب کی بجائے مولانا فضل حق کے طرف دار نکلے جنہوں نے غالب کو تصوف کی مبادیات سے بھی ناواقف قرار دیا تھا۔
ایک بار پھر اقبال ‘ اور اس بار سلیم احمد کی کتاب ’’اقبال : ایک شاعر‘‘ کے حوالے سے۔ جمال پانی پتی نے اسے زندہ کتاب قرار دیتے ہوئے ان اعتراضات کو رد کیا ہے جو اس کتاب کے مندرجات پر وارد ہوئے ہیں۔ اس دفاع میں وہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ دراصل ’’ اقبال: ایک شاعر‘‘ لکھتے وقت سلیم احمد کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ اقبال شاعر ہیں یا ناظم ؟ اورسلیم احمد چوں کہ اس نوع کے سوالات کو المیہ سمجھتے تھے لہذا وہ اپنے محبوب شاعر اقبال کے لیے آگے بڑھے ۔ سلیم احمد میرے بھی محبوب ہیں مگر اس کا کیا کیجئے کہ سلیم احمد کے استاد مکرم پروفیسر کرار حسین کی اس بات نے دل میں جگہ بنالی ہے کہ’’ موت کو اقبال کی شاعری کا مرکزی مسئلہ قرار دینے کے لیے اسے ان کے بطون ذات سے وابستہ کرنا ضروری نہ تھا۔‘‘ ہم دیکھتے ہیں کہ جمال پانی پتی کا سارا وزن سلیم احمد کے پلڑے میں ہے مگر پھر بھی حیات و موت کو التفات کے قابل نہ سمجھنے والے اقبال کی خودی اتنی باوزن نکلتی ہے کہ اس باب میں اُن کی ساری بحث کا پلڑا اوپر ہی کو اُٹھا رہتا ہے۔
’’سرسید کا نظام تعلیم اور ہم ‘‘ اس کتاب کا آخری مضمون ہے جس میں بجا طور پر سرسید کی تعلیمی پالیسی کے مایوس کن اور مضر اثرات کو نمایاں کرکے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تعلیم کا عام ہونا‘ جمہوریت کا آنا‘ علوم جدیدہ کی ترویج‘ سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف توجہ‘ یہ سب پیروئ مغرب کی برکات سہی مگر مغربی مرعوبیت کے سبب بابائے اردو مولوی عبدالحق کے بقول ’’ نقالوں کا طائفہ‘‘ پیدا ہو گیا تھا ۔ آپ کی تشخیص بجا ہے جمال پانی پتی صاحب ! افسوس کہ نقالوں کا یہی طائفہ اب قومی شناخت کو بھی مسخ کر چکا ہے ۔
’’اختلاف کے پہلو‘‘ میں شامل مضامین کا مطالعہ ہمیں جناب مشفق خواجہ کا ہم نوا بنا دیتا ہے کہ ’’جمال پانی پتی کی اُفتاد طبع نہ تو عام قسم کے سکہ ء رائج الوقت حوالوں اور سوالوں کو قبول کرتی ہے اور نہ ہی ان کے تنقیدی منظر نامے میں غیر سنجیدہ موضوعات و مسائل کی کوئی گنجائش نکلتی ہے ۔ ‘‘ یہی سبب ہے کہ ان سے بہت سے مقامات پر اختلاف تو کیا جا سکتا ہے مگر انہیں در گزر نہیں کیا جا سکتا ۔
۲
مشفق خواجہ کی رائے‘ جس سے میں اوپر اتفاق کر آیا ہوں‘ جمال پانی پتی کی دوسری زیر نظر کتاب’’نفی سے اثبات تک‘‘ کے آغاز میں موجود ’’حرف اول ‘‘ کا حصہ ہے۔ مشفق خواجہ صاحب کی باتوں کو’’اختلاف کے پہلو‘‘کے تناظر میں زیادہ سہولت سے سمجھا اور مانا جا سکتا ہے جو فکری مباحث کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ نفی اور اثبات والی کتاب یوں مختلف ہو گئی ہے کہ اس میں زیادہ تر مضامین کا تعلق بقول مصنف ’’معاصر تخلیقی یا تنقیدی ادب کے مسائل و معاملات سے ہے ۔‘‘ جمال پانی پتی کی اس بات سے اِس اشتباہ کو شہہ ملی ہے کہ ’’اختلاف کے پہلو‘‘ کا کوئی تعلق معاصر تخلیقی یا تنقیدی ادب کے مسائل و معاملات سے نہیں بنتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ’’ اختلاف کے پہلو‘‘ میں اقبال کی شاعری اور خطبات کوزیر بحث لا کر نفی اور اثبات والی کتاب( کہ جس میں اولین اور نمایاں عنصرمحمد حسن عسکری کی فکرہو جاتی ہے)سے کہیں زیادہ عصری ادب اور جدید احساس سے جوڑ دیا گیا ہے۔ زیر نظرکتاب کے دوسرے حصے میں محب عارفی‘ ساقی فاروقی‘نصیر ترابی‘ احسن سلیم اور فرید جاوید کی شاعری پر لکھے گئے مضامین کو شامل کر کے جمال پانی پتی نے ادبی تخلیقات کے حوالے سے لکھی جانے والی تنقیدہی سے مانوس قاری کے لیے بھی کچھ سہولتیں فراہم کردی ہیں تاہم یہ مضامین بھی عمومی ڈگر سے ہٹ کر لکھے گئے ہیں ۔ جب کہ تیسرے حصے میں ایک بنیادی مسئلے کو چھیڑ کر ہماری فکر ی رو کو ایک سمت عطا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
عہد جدید میں مغربی اثرات کے تحت جو نیا تصور پروان چڑھا ہے اس میں عقائد اور عبادات ثانوی ہو گئے ہیں اور اخلاق کی درستی کا مرتبہ بلند ٹھہرا ہے ۔ اخلاق کے ہوتے ہوئے عقائد اور عبادات یعنی مذہب کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ؟ یہ وہ منطقی سوال ہے جو اہمیت و اعتبار سے ایمان‘عقائد‘عبادات اور اخلاقیات و احکام کی فطری ترتیب بدلنے سے پھوٹ پڑا ہے۔ ’’نعت گوئی کے تصور انسان‘‘میں جمال پانی پتی بنیادی اہمیت ایمان کو دیتے ہیں ۔ سرسید احمد خان ‘جو رسالہ ’’ تہذیب الاخلاق ‘‘ کے ذریعے اخلاق کے مرتبے عالی کرتے رہے اور مولانا الطاف حسین حالی‘ جو تمام ادیان کا مقصد تہذیب الاخلاق کے سوا کچھ اور ماننے سے انکار کرتے تھے یا پھر مسدس مدوجزرِ اسلام والے مولانا حالی اسی باعث جمال پانی پتی کے ہاں لائق گرفت ٹھہرتے ہیں ۔ یہیں محمد حسن عسکری کے اس جملے سی حظ اُٹھایا گیا ہے جو انہوں نے مسدس کےِ ان خوب صورت نعتیہ مصروں پر کسا تھا‘ ’’خطا کار سے در گزر کرنے والا‘‘ اور’’ اپنے پرائے کا غم کھانے والا‘‘۔ عسکری نے اُشغلا چھوڑا تھا کہ ’’خیر اتنا کام تو حالی خود بھی کر لیتے ہوں گے ‘‘۔ تاہم جمال پانی پتی ‘ایمان کی بات کرتے ہوئے تسلیم کرتے ہیں کہ حالی اخلاقی آدمی ضرور تھے مگر ان کا مذہب اخلاق کے سائے میں نہ تھا۔ جمال پانی پتی نے عسکری کی فکر کی ترجمانی کرتے کرتے ان کے جملے کے لیے گنجائش نکالی اور اس سے حظ بھی اُٹھا لیا تاہم میرا معاملہ یہ ہے کہ میرے دل پر ملال کی بدلی سایہ فگن ہو گئی ہے ۔ میں سمجھتا ہو کہ یہ قضیہ اُس طرزِ احساس کے سبب زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے جس میں ہم خلق عظیم کے مرتبہ عالیہ پر متمکن آقا ﷺ کی ذات کو ایک کُل میں دیکھنے کی بجائے ایمان وعقائد‘ عبادات اور اخلاقیات کے حوالوں سے اجزاء میں دیکھنے لگیں۔ حالی جب یہ نعتیہ اشعار کہہ رہے تھے تو اسی خلق عظیم کی طرف رفتہ رفتہ اور نہایت ادب سے بڑھ رہے تھے جو ایمان ‘ عقائد‘عبادات اوراعلی اخلاق کا امتزاجی شاہکار تھے۔ حالی کا غم کھانا اور درگزر کرنا خلق عظیم کے تصور سے وابستہ غم کھانے اور در گزر کرنے سے کیسے مماثل ہو سکتا ہے‘ صاحبومیں تو سمجھنے سے قاصر ہوں اور شاید یہی سبب ہے کہ میں اداس ہو گیا ہوں ۔ تاہم جب جمال پانی پتی‘ عسکری کے ‘ انسانی خوبیوں کا بہی کھاتا لکھنے والے حالی کو دیئے گئے طعنے کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تو وہاں حوصلہ بڑھتا ہے ۔ وہ حالی کے دیوان میں شامل دونعتیہ قصائد اورایک نعت کے حوالے سے تسلیم کرتے ہیں کہ ’’حالی کی نظر دونوں جہات پر تھی‘‘ ۔ یاد رہے اب بات نعت کے تصور انسان کی طرف نکل آئی ہے اور یہاں نوری اور بشری یا پھر طبیعیاتی اور مابعد الطبیعیاتی دونوں جہتوں کا تذکرہ ہو رہا ہے ۔
یہیں جمال پانی پتی نے سلیم احمد کی وساطت سے بتایا ہے کہ عسکری جب ’’آدمی اور انسان‘‘ کے مسئلے سے اُلجھ رہے تھے تو محسن کاکوری کی نعت کا تصور انسان ان کی مدد کو آیا تھا ۔ بات بجا ہو گی مگر اس مقام پر کراچی والے قمر جمیل مرحوم اوراسپین والے اونامونوایک ساتھ میرے ذہن میں گُھسے آتے ہیں ۔ قمر جمیل نے اپنے مضمون ’’اونامونو اور ادب ‘‘ مشمولہ ’’جدید ادب کی سرحدیں ‘‘ جلد اول میں رائے دی تھی کہ عسکری صاحب نے اونامونو کی کتاب ’’زندگی کے المیہ مفہوم ‘‘ سے متاثر ہو کر ’’انسان اور آدمی‘‘ والا مضمون لکھا تھا اور بات سے بات نکالتے چلے گئے تھے۔ اوہ بات کسی اور طرف کونکلے جاتی ہے ‘ واپس پلٹتے ہیں کہ ادھر جمال پانی پتی ولی‘ سودا‘ غالب‘ اقبال‘مولاناظفر علی خان‘ احسان دانش ‘ حفیظ ہوشیار پوری اور حفیظ جالندھری کے خوب صورت نعتیہ اشعار نقل کرنے بعد ہمیں بتا رہے ہیں کہ: ’’حالی سے شروع ہونے والے نعت گوئی کے دور جدید میں غالباً حفیظ جالندھری وہ آخری شاعر تھے جن کے ہاں حقیقت محمدیہ کے عقیدے کا بھرپور اظہار ملتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کل کی نعت میں زیادہ زور آپ کے پہلوئے بشریت پر دیا جاتا ہے ۔ تاہم اس حوالے سے مستثنیات کو نمایاں کیا گیا ہے اور اس باب میں ستار وارثی‘ شاہ انصار الہ آبادی‘ سلیم احمد اور حنیف اسعدی کے نعتیہ اشعار کو حوالے کے طور پر نقل کیا گیا ہے ۔ حقیقت محمدیہ اور ذات محمد کی بحث میں مصنف کا موقف ہے کہ ان دونوں میں سے صرف اول الذکر ہی حقیقت ہے اور مؤخرالذکر اس حقیقت کی مظہر۔ جمال پانی پتی کی یہ بات ذہن نشین رکھنے کے لائق ہے کہ نعتِ رسول کا موضوع بہت نازک ہے ‘ ذرا سی بے احتیاطی سے بات بگڑ سکتی ہے ۔
’’محمد حسن عسکری: نفی سے اثبات تک‘‘ اس کتاب کا دوسرا مضمون ہے جو کتاب کا عنوان بھی ہو گیا ہے ۔ فی الاصل دیکھا جائے تو جمال پانی پتی ہر دم اسی فکری علاقے ہی میں رہتے ہیں جو عسکری اور سلیم احمد کا مفتوحہ ہے ۔ ان کی تحریروں میں ان دونوں سے اختلاف کے مواقع نہ ہونے کی برابر ہیں جبکہ اتفاق اور تصدیق کے مقامات برابر نکلتے ہی رہتے ہیں۔ اس کے باوصف تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کی وجہ مرعوبیت نہیں ‘فکری ہم آہنگی ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اس فکری علاقے میں رہتے ہو ئے بھی تنقیدی حوالوں سے انہوں نے جس سنجیدگی سے کام کیا ہے اس نے انہیں اس سلسلے کا ایک قابل قدر نام بنا دیا ہے۔
زیر نظرمضمون کے تیور آغاز ہی میں بتا دیتے ہیں کہ وہ عسکری صاحب کے دفاع کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عسکری صاحب کی زندگی میں ہی ایک بار مظفر علی سید نے کہہ دیا تھا کہ انہیں فرانسیسی آتی ہی نہیں تھی۔ اس جملے نے جمال پانی پتی کو یاددلایا ہے کہ’’ فنون‘‘ کے کسی شمارے میں ’’ستارہ اور بادبان‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے سجاد باقر رضوی نے انکشاف فرمایا تھا کہ’’ مظفر علی سید نے عسکری سے تھوڑی سی فرانسیسی پڑھ ڈالی ۔ اس کے بعد یہ دعوی کرتے پھرے کہ میں عسکری کا شاگرد ہوں۔ عسکری صاحب کو خبر لگی تو وہ اس حقیقت سے انکاری ہو ئے۔ اب جب سید صاحب سے کچھ نہ بن پڑا تو انہوں نے نعرہ لگایا کہ عسکری صاحب کو فرانسیسی آتی ہی نہیں ‘‘
پہلے تو ‘اس باب میں شہزاد منظر نے جو کہا اسے انہوں نے ’بے پر کی اڑائی ‘کے کھاتے میں ڈالا اور بتایا کہ اس پر تو شمیم احمد نے ’’برشِ قلم‘‘ پھیر دیا تھا اور بعد ازاں واضح کیا کہ عسکری صاحب پر ہونے والے اعتراضات ‘ خواہ ان کی زندگی میں ہوئے یا پھر موت کے بعد اسی قبیل کے تھے ۔ اعتراضات کا جواب دیتے دیتے عسکری کی فکر کے شارح جمال پانی پتی کے قلم سے عسکری صاحب کی جو تصویر بنتی ہے اسکا دھندلا سا عکس اُن کے اِن بیانات میں دیکھا جا سکتا ہے :
۔ عسکری کاتصور روایت ’’جھلکیاں‘‘ سے ’’جدیدیت‘‘ تک آتے آتے متضاد نہیں ہوا تبدیل ہوا تھا۔
۔’’جھلکیاں‘‘میں انہوں نے روایت کا وہی تصور پیش کیا جو مغرب میں سمجھا جاتا تھا اور ’’جدیدیت‘‘ میں وہ جسے مغرب بھول چکا تھا۔
۔ عسکری کا تصورروایت ایلیٹ کا تصور روایت نہیں رینے گینوں کا تصور روایت ہے ۔
۔ جس وقت فرانس کے زوال پسندوں اور جمال پرستوں سے عسکری کے متاثر ہونے کا الزام لگا‘ عین اس وقت راں بو جیسے فن کاروں کے حوالے سے ہمیں بتا رہے تھے کہ اخلاقیات اور مذہب یا ایک ہمہ گیر نظامِ حیات کی اجازت کے بغیر حسن کو گھٹنوں پر بٹھانے کاانجام کس قدر ہول ناک ہو سکتا ہے ۔
۔عسکری کے ہاں ایک مرکزی روایت کا تصور ابتدا ہی سے موجود تھا۔
۔یہ اعتراض درست سہی کہ عسکری ایک رائے پر قائم نہیں رہتے تھے ‘لیکن کیا زندگی بھر ایک ہی رائے پر قائم رہنا ادب یا زندگی میں کوئی بہت قابل قدر بات ہے؟
۔عسکری ترقی پسندوں سے اس لیے الگ ہوئے کہ وہ ادب کو سیاسی اور معاشی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھارہے تھے اور ہمارے ہاں کے جدیدیوں سے اس لیے اتفاق نہ کر سکے کہ یہ لوگ انحراف و انکار کی ذہنیت ہی کو جدیدیت کے مترادف سمجھتے ہوئے انحراف و انکار یا نفی کے رویے ہی میں بند ہو کر رہ جاتے تھے ۔
۔ عسکری صاحب کے ہاں مغرب کو رد کرنے کا مطلب مغرب سے بے تعلق یا بے خبر ہو جانا نہیں ‘ بلکہ اس کا مطلب ہے مغرب کو اپنے اندر جذب کرکے اس سے اوپر اٹھنا یا آگے جانا ہے ۔
۔ دراصل عسکری صاحب کا المیہ یہ ہے کہ انہیں نقاد بھی ملے تو ان گنوں کے جو ان کی سیدھی بات بھی ٹھیک سے نہیں سمجھ پاتے ۔ کہو آم کی تو سنتے ہیں املی کی ۔
۔ وہ جو عسکری صاحب نے کہا تھا کہ مغربی ادب کو سمجھنے کے لیے بھی مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو یہ بات سیدھی سی تھی کہ مغرب میں ایسی کتابیں ناپید ہیں جن سے مغرب کے روایتی فکر وادب کو سمجھا جا سکتا تھااور مسئلہ مذکورہ کا حل مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں ہی میں مل سکتا تھا۔
۔ سوال یہ تھا کہ کیا مشرق اور مغرب کی روحانیت ایک ہی چیز ہے ؟ عسکری صاحب نے ابن عربی کی ’’فصوص الحکم‘‘ اور کیرکے گورکی ’’خوف اور لرزہ‘‘ کے تقابلی مطالعے کے ذریعے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی۔
۔ مرکزی روایت کے تصور تک پہنچنے سے پہلے عسکری صاحب کے ذہنی اور روحانی سفر کا تعلق مغرب سے تھا‘اس کے بعد مشرق سے ہو گیا۔ پہلے وہ مشرق کو مغرب کی آنکھ سے دیکھتے تھے ‘اب مغرب کو مشرق کی آنکھ سے دیکھنے لگے۔
۔رینے گینوں سے متاثر ہونے کے بعد عسکری صاحب کے ذہن و فکر میں جو انقلابی تبدیلی واقع ہوئی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ادب کے تنقیدی معیارات مغربی ادب اور فکرو فلسفہ سے اخذ کرنے کی بجائے مشرق کے روایتی معیاراتِ تنقید سے ادب کا جائزہ لینے لگے تھے۔
’’ محمد حسن عسکری کا تصور روایت:ایک سوال‘‘ ڈاکٹر جمیل جالبی کے’’مکالمہ۔۱‘‘ میں شائع ہونے والے مضمون ’’حسن عسکری کا تصور روایت‘‘ کا ردعمل ہے ۔ جمال پانی پتی کا اس مضمون پر اعتراض یہ ہے کہ عسکری کے تصور روایت اور ایلیٹ کے تصور روایت کے درمیان جو بنیادی فرق ہے اسے اِس میں زیادہ در خور اعتنا نہیں سمجھا گیاجب کہ عسکری صاحب نے آخری دور کے مضامین میں اپنے تصور روایت کی وضاحت کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ اس کا ایلیٹ سے کوئی تعلق نہیں ۔یہاں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ایلیٹ نے تاریخی شعور کوروایتی ادب کی بنیاد قرار دیا تھا جب کہ عسکری صاحب کے نزدیک روایتی ادب کی بنیاد مابعدالطبعیاتی تصورِحقیقت پر ہے ۔ جمال پانی پتی اس مضمون میں جدید ادب پر روایتی معیار تنقید کے اطلاق کی گنجائشیں اور جواز نکالتے ہیں۔ اس باب میں عسکری صاحب کے حوالے سے ادبی تنقید کا ایک معیارشاہ وہاج الدین کی تصنیف’’الکہف و الرقیم‘‘ کو قرار دیتے ہیں ۔ مصنف کے نزدیک عسکری صاحب اگر ہمیں فلوبئیراور بودلیئر سے شروع ہو کر جوائس‘ پاؤنڈ اور لارنس تک آنے والی مغربی روایت کو جذب کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو اس لیے کہ وہ ہمارے ادب کو مہملیت اور بے معنویت کے گرداب سے نکال کر بامعنی ادب کی تخلیق کا راستہ بتا سکیں ۔
اب جن چار مضامین کا میں ذکر کرنے جا رہاہوں وہ سب کی نوعیت فکری سے زیادہ ادبی بنتی ہے تاہم ان میں سے فکر کے عنصر کو بھی متحرک رکھا گیا ۔ اس سلسلے کا پہلا مضمون ’’محب عارفی کا معنوی سفر ‘‘ کا عنوان لیے ہوئے ہے ۔ محب عارفی بقول جمال پانی پتی‘ روایتی طریقہ کار کے حوالے سے کسی سلسلے یا طریقت کے کسی ڈسپلن سے وابستہ نہیں تاہم وہ اپنی تربیت کے لحاظ سے روایتی اور اپنی تعلیم کے لحاظ سے جدید اور غیر روایتی آدمی ہیں۔ محب عارفی نے اپنی کتاب کا نام ’’ مسلک معقولیت ‘‘ رکھا تو جمال پانی پتی کے نزدیک اس کی معقولیت یہ ٹھہری کہ عقلیت کی تعلیم پانے والے محب عارفی کو انہوں نے عقل کی محدودیت کا واقف جانا۔ جمال پانی پتی نے محب عارفی کی اس معقولیت کے تصور کو فوراً بعد دھندلا دیا ہے کہ ان کے نزدیک مفہوم کی توسیع کے لیے انہوں نے عقلیت کی بجائے معقولیت کو اختیار کیا تھا مگر اپنی تمام تر کوشش کے باوجود عقلیت ہی کے محدود دائرے میں رہتے ہوئے احساس نارسائی کا شکار ہو گئے اوریہی احساسِ نارسائی ان کی شاعری میں در آیا۔ طرفہ تماشا دیکھئے کہ محب عارفی کے جن خوب صورت اشعار میں انہیں نارسائی کے سوا کچھ نہیں ملتا وہی میرے اندر اتھل پتھل مچا کر میرے وجود پر عجب کنائیوں کی پھوار برسادیتے ہیں۔ محب عارفی کی معقول باتیں جمال پانی پتی کے لیے اس لیے مقبول نہیں ہوئی ہیں کہ وہ موجودات کی تحت المظاہری اصلیت معلوم کرنے کی شدید فطری طلب میں قرآن کے وسیلے سے عقل کی طرف نکل جاتے ہیں۔ جمال پانی پتی آخر کار تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن عقل کو بھی وسیلہ ء معرفت کے طور پر تسلیم کرتا ہے مگر اس راندہ درگاہ عقل کا راستہ روکنے کے لیے سائنسی علوم کو مغرب کی شے قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مغرب کے سائنسی علوم علم کے ذرائع کو صرف حسی ‘ عقلی اور عملی تجربے تک محدود کر کے رکھ دیتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اپنی میراث کے اس محدود استعمال پر کیا ہمیں اپنی میراث ہی سی منھ موڑ لینا چاہئے؟ جمال پانی پتی یقیناً ایسا نہیں چاہیں گے تبھی تو آخری جملے میں وہ محب عارفی کو قبول کرتے ہوئے یہ لکھ رہے ہیں کہ ان کا عقل سے کشف والہام اور کشف والہام سے وحی تک آنا ذرائع علم کی جامعیت کے حوالے سے نیک فال کی حیثیت رکھتا ہے ۔
’’دہری تلاش کا شاعر‘‘ کا عنوان پانے والا مضمون جدید شاعر ساقی فاروقی کے حوالے سے ہے۔ جمال پانی پتی درست شناخت کرتے ہیں کہ ساقی فاروقی اپنی سوچ اور طرز احساس ہی کے اعتبار سے جدید نہیں بلکہ اپنے طرز اظہاراور جمالیاتی وجدان کے اعتبار سے بھی جدید حسیت کے ایک اہم اور نمائندہ شاعر ہیں۔ انہوں نے ساقی فاروقی کے ادبی مسلک کو ان کی شخصیت کی طرح خاصا پیچیدہ قرار دیا تاہم اس جدید شاعر کے ہاں انہوں نے اس ناپسندیدگی کو ڈھونڈ نکالا ہے جوجدیدیت کے تنگنائے سے ساقی کو ہے ۔ اس کی دلیل میں وہ ساقی کے اس بیان کو لاتے ہیں جس میں انہوں نے خود کو کمیٹڈ سوشلسٹ قرار دیا تھا پھر اپنے میلان طبع کو بائیں بازو والاکہا اور ساتھ ہی وضاحت کی تھی: یہ اس لیے نہیں ہے کہ Left to Right بلکہ اس لیے ہے کہ اسے گفتگو عوام سے ہے ۔ جمال پانی پتی کو داد دی جانی چاہیے کہ انہوں نے ساقی فاروقی کے اس بیان سے وہ کچھ برآمد کر لیا جو ساقی ‘چاہے جتنے جتن کرتے ‘خودبھی برآمد نہ کر سکتے تھے کہ اس بیان معطوف میں انہوں نے کچھ ڈالا ہی نہیں ہوتا ۔ جب ایک شاعر سب سے زیادہ یہ قرینہ رکھے کہ اس کی شاعری میں کسی خاص نظریے یا فلسفے کی ترجمانی کی بجائے شخصی بصیرت کا اظہار ہو اس کے ہاں سے کسی مسلک کی تلاش کیسے سودمند ثابت ہو سکتی ہے ۔ ہم ساقی فاروقی کواُن کے اِس وصف کی داد دینے کے لیے جمال پانی پتی کے ساتھ ہیں کہ وہ ایک مدت سے مغربی معاشرے میں بودوباش رکھنے کے باوجود اپنی ادبی اور ثقافتی روایات سے رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ کہ ساقی فاوقی اپنے ادب‘ اپنی زبان اور اپنے کلچر کے حوالے سے کسی احساس کمتری کا شکار بھی نہیں ہیں ۔ اس مضمون میں ساقی کی نظموں اور غزلوں سے جدید طرز احساس کے پہلو بہ پہلو ماضی کی یادیں‘ مستقبل کے خواب اور موت کی اٹل حقیقت کا اعتراف دریافت کرتے کرتے جھوٹ اور خوف کا وہ دریا بھی ڈھونڈ نکالتے ہیں جس میں ہمارا شاعر ڈوب رہا ہے ۔ جمال پانی پتی کا سوال ہے کہ کہیں یہ مغرب کا وہی معاشرہ تو نہیں جو اس کی ذات میں منعکس ہو رہا ہے ۔ اس ساقی کے ہاں کہ جس نے خدا سمیت ہر اتھارٹی کو تسلیم کیا تھا ‘ عرفان وآگہی کا حوالہ اس شعر سے بجا طور پر برآمد کرتے ہیں:
جس نے عرفان کی قندیل جلائی دِل میں
شک نہ کرنے کا حوالہ اسی رب سے آئے
جمال پانی پتی اسے شعورواحساس کی معنی خیز تبدیلی قرار دیتے ہیں کہ یہ انہیں خوئے انکار سے خوئے تسلیم کو لے آئی ہے ۔ ساقی کے مزید اشعار سے اس خوئے تسلیم کی جھلکیاں دیکھ کر بھی ہم یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ عین آغاز میں انہیں پیچیدہ آدمی تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اور سچ پوچھئے توآخر میں جھلک دینے والی خوئے تسلیم نہیں بلکہ مستقل نوعیت کی پیچیدگی ہی ان کی اصل شناخت بنتی ہے ۔
نصیر ترابی کے اولین شعری مجموعے ’’عکس فریادی‘‘ کے حوالے سے جمال پانی پتی کا مضمون ’’غزل کی تہذیب کا شاعر‘‘ بھی اس کتاب کا حصہ ہے ۔ جمال پانی پتی نے رنجیدہ ہو کر کہا ہے کہ غزل کی روایت‘ غزل کی تہذیب اور غزل کے تہذیبی مزاج کی باتیں بہت سوں کی سمجھ میں اس لیے نہیں آرہی ہیں کہ تہذیبی شکست وریخت کے اس زمانے میں غزل کا رشتہ اس تہذیب اور تہذیبی اقدار کے اس نظام سے برائے نام رہ گیا ہے جس نے غزل کو پیدا کیا اور پروان چڑھایا۔ جب غزل کی تہذیب ہی نہیں ہے تو غزل کو اپنی بقا کے لیے نیا پن پیدا کرنے کے لیے روایت سے انحراف کی راہ اختیار کرنا پڑی جس کی حدیں بالعموم بھونڈے پن اور بوالعجبی سے جاملیں یا پھر واقعیت نگاری پر اصرار سے غزل کے رمزی اور ایمائی تقاضوں کی نفی ہونے لگی ۔ اپنی تہذیبی روایت پر اصرار کرنے والی غزل کے بارے میں جو سوال جمال پانی پتی کے ہاں در آیا ہے‘ یہ آج کا اہم ترین سوال ہے ۔ اگر اردوکی سب سے مقبول صنف سخن ‘غزل کو اپنے تخلیقی وقار کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو اس سوال کا معقول جواب تخلیقی اور جمالیاتی سطح پر نئے حسیاتی حوالوں سے جڑ کر تلاش کرنا ہوگا۔ جمال پانی پتی نے ناصر کاظمی اور عزیز حامد مدنی جیسے شعرا کے کام کو تخلیقی اور تہذیبی جہاد قرار دیتے ہوئے نصیر ترابی کو اسی کڑی سے بجا طور پر جوڑا ہے مگر کیا ایسا تخلیقی جہاد غزل کو تہذیبی روایت سے جوڑے رکھے گا یا پھر محض جدید منظر نامے میں چند انفرادی مثالوں کی صورت الگ تھلگ دیکھا جاتا رہے گا یہ سوال بھی اس لائق ہے کہ اس پر غور کیا جائے۔
’’احسن سلیم اور جدیدیت کا اثباتی رخ‘‘ میں مصنف نے نثم گو احسن سلیم کو ایسا لکھنے والا قرار دیا ہے جو روایتی گلی سٹری لاش گھسیٹے پھرنے کے قائل نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ روایت کا شعور ‘ جدید حسیت کے نو بہ نو رنگوں میں لپٹا ہوا ایک عجب انداز اور عجب شان سے ظاہر ہوتا ہے۔ احسن سلیم کی جدیدیت مصنف کو اس لیے قابل قبول ہے کہ ان کی جدیدیت انکار کی منزل سے گزرنے کے بعد اثبات کی طرف بڑھتی ہے اور یہ کہ اس کے ہاں صرف اس کا اپنا چہرہ ہی نہیں ‘اپنی تاریخ کا چہرہ بھی صاف نظر آتا ہے ۔ فرید جاوید کی شاعری کا محاکمہ کرتے ہوئے انہوں نے اسے ایسا شاعر قرار دیا ہے جس کے الفاظ اور تجربات کی طرح اس کی دنیا بھی محدود تھی ۔اس کی کل کائنات چند دوست‘ چند راتیں ‘ نغمہ اور مے کی چند صحبتیں تھیں ۔ اجنبیت‘ تنہائی‘محرومی‘ ناآسودگی ‘ طمانیت سے محروم گھریلو زندگی‘ غریب الوطنی‘ رنج و آلام اور مصائب فرید جاوید کی کل کائنات تھے۔ اسے اس نے اپنی تقدیر جان کر قبول کر لیا تھا۔ اور یہی سب کچھ اس کی شاعری کا حصہ ہوا۔ ایک بار پھر وہی سوال جو غزل کی بقا اور ارتقا کے سوال کے ساتھ جڑا ہوا ہے‘ پھرہمارے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔ غزل کے لیے یہ بہت اعلی مواد سہی مگرکیا اس مواد سے جدید حسیاتی حوالوں اور سوالوں سے وابستہ انسان کو تخلیقی اور فکری سطح پر مطمئن کیا جا سکتا ہے۔
اور آخر میں ’ایک بنیادی مسئلہ ‘۔ اور یہ بنیادی مسئلہ سائنس اور مذہب کی وہ کشمکش ہے جو مغرب میں انتہا کو پہنچی تو عیسائیت کے خاتمے کا باعث بنی اور ہمارے ہاں آئی تو ہمیں مضطرب کر دیا ۔ جمال پانی پتی اس مضمون میں اضطراب میں مبتلا لوگوں کو دو طبقوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔
۔ سائنس کے ایسے طرف داروں کا طبقہ جو طرف دار ہوتے ہوئے بھی اس سے خوف کھاتا ہے ۔
۔ سائنس کے ایسے مخالفین کا طبقہ جو مخالف ہو کر بھی اس کی جانب للچائی ہو نظروں سے دیکھتا ہے ۔
جمال پانی پتی کا کہنا ہے کہ ہم اس کے حق میں ہوں یا خلاف ‘ ہمارا رویہ اس کے ردوقبول کی کشمکش سے خالی نہیں ہوتا اور انجام کارپلڑا سائنس ہی کا بھاری نکلتا ہے ۔ یہاں تک مسئلہ پوری طرح سمجھ میںآتا ہے ۔ سرسید کی بابت جس نتیجے پر وہ اس مضمون میں پہنچے ہیں بالکل اسی نتیجے پر ’’اختلاف کے پہلو‘‘ کے آخری مضمون میں بھی پہنچے تھے جو ہمیں بجا معلوم ہوا تھا مگر جب وہ مغربی تہذیب اور سائنس کی بارے میں اقبال کے رویے میں تضاد نکالنا/ڈالنا چاہتے ہیں تو ان سے اختلاف کے شدید مواقع نکل آتے ہیں ۔ اقبال جو علم اور سائنس کو مسلمانوں ہی کے اسلاف کی متاع گم گشتہ قرار دے کر اسے واپس حاصل کرنے پر اصرار کرتے تھے ‘جمال پانی پتی کو کیوں قابل قبول نہیں ہے میں اسے انتہائی درد مندی اور بے پناہ ہمدردی سے جاننا چاہتا ہوں ۔ اگر اقبال اپنی شاعری میں مغربی تہذیب کو ’’فساد قلب ونظر‘‘ قرار دے رہے ہیں اور یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ :
آہ از افرنگ و از آئینِ او
آہ از اندیشہ ء لا دین ِ او
اے کہ جاں را بازمی دانی زتن
سحرِ ایں تہذیبِ لا دینی شکن
تواقبال کا یہ رویہ جمال پانی پتی کو قبول ہوتا ہے مگر جب وہ اپنی متاع کوواپس لینے کی بات کرتے ہیں تو یہ بات تسلیم کرلینے میں کیا رخنے آجاتے ہیں ۔ کیا یہ بات واضح نہیں کہ اقبال ان کی جدید تہذیب کو الگ کرکے صرف علم اور سائنس کو ترقی یافتہ صورت میں واپس لینے کی بات کررہے ہیں۔ جب یہ بات نہیں سمجھی جاتی تو وہ مولوی بہت یادآتے ہیں جنہیں شروع شروع میں مغربی سائنسی آلے لاؤڈ سپیکر سے ابلیس کی صدا سنائی دیتی تھی اور اب صبح و شام کھانستے بھی اسی میں ہیں ۔
مان لیا کہ اقبال کے خطبات کے مخاطب وہ مسلمان تھے جو مغربی سائنس اور فلسفے سے متاثر ہوکر ’’محسوس کے خوگر‘‘ ہو چلے تھے ۔ مگر کیا یہ رویہ درست ہوگا کہ محسوسات کے ان بندوں کو بے حسی اور لاتعلقی کے جہنم کا ایندھن بننے دیا جائے ۔ یا یہ طرز عمل درست ہے کہ انہی کی محسوسات کو مابعدالطبیعیات سے جوڑ دیا جائے۔ آخر اقبال کے معاملے میں آپ اتنی گنجائش پیدا کرنے کو کیوں تیار نہیں جتنی گنجائش محب عارفی والے مضمون میں صفحہ ۱۲۱ پر یہ تسلیم کرکے پیدا فرما چکے ہیں کہ:
’’خود قرآن بھی ہم سے کہتا ہے کہ ہم نے تمہیں آنکھیں ‘ کان اور دل عطا کئے تاکہ تم ان کی ذریعے حق کو پہچانو ‘ یعنی کشف و الہام تو رہے الگ ‘ قرآن تو حواسِ ظاہری کو معرفت کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ کائنات پر غور کرو۔ اس میں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ یعنی قرآن کو بھی وسیلہ معرفت کے طور پر تسلیم کرتا ہے‘‘
قرآن کی تعلیمات کے پیش نظر اگر یہی اقبال غوروفکر اور علم و نظر حتی کہ تحقیق اور تدبر کی زائیدہ سائنس سے اسی مابعد الطبیعیات کی تصدیق تک جا پہنچتے ہیں جس کی تصدیق کے لیے آپ روایت پراکتفا کرتے ہیں تو ان کا رویہ کیوں کر باطل ٹھہرتاہے ۔ کون نہیں جانتا کہ مابعد الطبیعیات کا علم اقبال کی ہاں اس لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ بظاہر دوئی سے دوچار موجودومعقول‘ ناظرومنظور اور موضوع و معروض کسی بالاتر سطح وجود یا مرتبہ وجود پر وحدت میں ڈھل جاتے ہیں۔ صاحب ‘اگر اقبال اپنے خطبات میں صرف یہ کہنے پر اکتفا کرتے کہ عالم اسلام کے تیزی مغرب کی طرف بڑھنے میں کوئی خرابی نہیں تو اعتراض کی گنجائش نکل سکتی تھی مگر جب وہ ساتھ ہی خبردار کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کرتے ہیں کہ کہیں اس تہذیب کی ظاہری چمک دمک راہ کی رکاوٹ نہ بن جائے اور ہم اس کے حقیقی جو ہر ‘ ضمیر اور باطن تک پہنچنے سے قاصر رہیں تو جان لینا چاہیے کہ یہ حقیقی جو ہر ‘ضمیر اور باطن بھی ایک بالاتر سطح وجود پر وحدت میں ڈھل جاتا ہے ۔
اور اب جب کہ میں یہ دونوں کتابیں بند کرکے ایک طرف رکھ رہا ہوں تومجھے ایک اعتراف کرنا ہے ۔ اور اعتراف یہ ہے صاحبو! کہ یہ مجھے پچھاڑ کرمیرے سینے پر آبیٹھی ہیں۔ ان کے مطالعہ مکمل ہوتے ہی میرے دل سے اِن کے لیے بے پناہ اُنس اُبل پڑا ہے ۔ میں جتنا وقت جمال پانی پتی کی فکر و نظر کے ساتھ رہاہوں ‘ لفظ لفظ اور سطر سطر سے کلام کرتا رہاہوں ‘ اُلجھتا جھگڑتا یا پھر مرعوب ہوتا اور تسلیم کرتا رہاہوں۔ زباں رواں ‘ دلیل مضبوط ‘ بات گہری۔ اپنے موضوعات سے کامل وابستگی ‘ یوں کہ سارے مسائل ان کی اپنی زندگی کا مسئلہ لگنے لگے ہیں ‘ ایک تہذیبی شخص کے زندہ وجود کا زندہ مسئلہ۔ مان لینا چاہیے کہ جہاں جہاں انہوں نے اختلاف کیا ہے ذاتیات کی بنیاد پر نہیں فکروخیال کی بنیاد پر کیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی تو وہ چلن ہے جو آج کی اردوتنقید کو درکار ہے ۔ اب اگر میں ناقدین اور تخلیق کاروں کو مشورہ دوں کہ انہیں جمال پانی پتی کو پہلی فرصت میں یہ کتابیں پڑھ ڈالنا چاہییں‘ بلکہ فرصت نکال کر فوراً ہی پڑھ لیناچاہییں تو یقین کیجئے گا کہ یہ میرے دل کی آواز ہے ۔ شاید اس طرح ہم اپنی تنقید کو تخلقیت سے جوڑ سکیں ‘ تخلیقات کے مغز سے کلام کر سکیں اور اپنے تخلیقی رویوں کو بھی باوقار بنا سکیں ۔
*:*:*

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *